ہفتہ، 16 نومبر، 2024

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ابتدائی مراحل میں جگر کی بیماری کی تشخیص ممکن

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جگر کی خطرناک بیماری مَیٹابولک-ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کے ابتدائی مراحل میں تشخیص اب ممکن ہوچکی ہے۔ یہ بات ایک امریکی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ یہ بیماری جگر میں چربی کے درست انداز میں نہ جم سکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ایم اے ایس ایل ڈی جگر کی دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دائمی بیماریوں میں سے ایک ہے، جو اکثر موٹاپے، ذیابیطس اور غیرمعمولی کولیسٹرول جیسی دیگر بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ بیماری اکثر بغیر کسی ظاہری علامت کے شروع ہوتی ہے، جس کے باعث اس کا ابتدائی مرحلے میں پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے ذریعے اے آئی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے 834 مریضوں میں اس بیماری کے نشانات کا پتہ چلایا گیا۔ تاہم، ان میں سے صرف 137 مریضوں کے ریکارڈ ہی مکمل طور پر دستیاب تھے، اور 83 فیصد کیسز میں بیماری کی بروقت تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جگر کے دیگر مسائل مثلاً فائبروسس، نان-الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی)، اور ہیپاٹوسیلولر کینسر کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق لِیور میٹنگ کے دوران پیش کی جائے گی، جس کا انعقاد امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے تحت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں ایک نیا انقلابی قدم ہے، جو مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OSdUbpy

جمعہ، 15 نومبر، 2024

اسرو نے مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ملایا ہاتھ، امریکہ سے لانچ ہوگا ہندوستانی سیٹلائٹ جی سیٹ-20

ہندوستانی خلائی ایجنسی 'اسرو' نے مشہور صنعت کار ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خاص دوست اور دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اگلے ہفتہ کی شروعات میں فالکن 9 راکیٹ سے ہندوستان کے سب سے جدید مواصلاتی سیٹلائٹ جی سیٹ-20 (جی سیٹ این-2) کو خلا میں لے جائے گی۔

اسرو اور اسپیس ایکس کے درمیان کئی سودے ہوئے ہیں۔ جی سیٹ-این2 کو امریکہ کے کیپ کینا ویرل سے لانچ کیا جائے گا۔ یہ 4700 کلوگرام کا سیٹلائٹ ہندوستانی راکیٹوں کے لیے بہت وزنی تھا، اس لیے اسے غیر ملکی کمرشیل لانچ کے لیے بھیجا گیا۔ ہندوستان کا اپنا راکیٹ 'دی باہو بلی' یا لانچ وہیکل مارک-3 زیادہ سے زیادہ 4000 سے 4100 کلو گرام تک کے وزن کو خلائی مدار میں لے جا سکتا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان اب تک اپنے زیادہ وزنی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کے لیے ایرین اسپیس پر منحصر تھا، لیکن حال میں اس کے پاس کوئی بھی چالو راکیٹ نہیں ہے اور ہندوستان کے پاس واحد قابل اعتماد متبادل اسپیس ایکس کے ساتھ جانا تھا کیونکہ یوکرین جنگ کے سبب روس بھی اپنے راکیٹ کو کاروباری طور پر لانچ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس سے اپنا سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے انہیں اچھی ڈیل ملی ہے۔ اسپیس ایکس اپنے طاقتور راکیٹ فالکن سے ہندوستانی سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجے گا۔

اسرو کے ذریعہ تیار جی سیٹ این-2 سیٹلائٹ 14 سال تک کام کرے گا۔ یہ ایک تجارتی لانچ ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے ہندوستان میں نیٹ ورک بہتر ہوگا اور ہوائی خدمات کے دوران بھی انٹرنیٹ کنکٹیویٹی مل سکے گی۔ ایسا اندازہ ہے کہ جی سیٹ این-2 کی لانچنگ میں فالکن 9 راکیٹ کے اس کمرشیل لانچ پر 6 سے 7 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایلن مسک کے سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ خدمات میں اسٹار لنک کو لائسنس دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IBFkCra

منگل، 12 نومبر، 2024

کمزور نظر آنے والی تصویر وائرل ہونے پر سنیتا ولیمس کی صحت کے بارے میں وضاحت

خلا میں کئی مہینوں سے پھنسی ہند نژاد امریکی خؒلا باز سنیتا ولیمس کی صحت کو لے کر کافی باتیں ہونے لگی ہیں۔ جب سے ایک تصویر جاری ہوئی ہے جس میں ان کے گال دھنسے ہوئے ہیں اور وہ کافی کمزور دکھائی دے رہی ہیں، تب سے ہی ان کے تئیں لوگوں کی فکر بڑھ گئی ہے۔ اس درمیان خبر ہے کہ خود سنیتا ولیمس نے اپنی صحت کے سلسلے میں اَپڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی ایسی تصویر کی وجہ بھی بتائی ہے۔

ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ولیمس نے اپنی تازہ صحت کی وجہ فلوئڈ شفٹس کو بتایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

منگل کو نیو انگلینڈ اسپورٹس نیٹ ورک کلب ہاؤس کڈس شو سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا "ساتھیوں! خلا میں آپ جانتے ہیں کہ ان کے سر تھوڑے بڑے لگنے لگتے ہیں، کیونکہ فلوئڈس جسم کے ساتھ یکساں طور سے پھیل جاتے ہیں"۔ انہوں نے آگے کہا کہ وہ پہلے کی طرح ہی صحت مند ہیں اور وزن میں بھی کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں طویل وقت تک رہنے کے بعد ان کا وزن بڑھ گیا ہے اور ساتھ ہی جانگھیں بھی تھوڑی بڑھ گئی ہیں۔

ناسا کے ترجمان جمی رسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ "ناسا کے سبھی خلاباز کی مستقل طبی جانچ ہوتی ہے، ان کے پاس فلائٹ سرجن ہوتے ہیں جو ان کی نگرانی کرتے ہیں اور ان سبھی کی صحت بہتر ہے۔" حالانکہ ولیمس کے مشن میں سیدھے طور پر شامل رہے ناسا کے ایک ملازم نے دعویٰ کیا تھا کہ خلاباز مسافر کا وزن کافی کم ہو گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9H1SpCA

بدھ، 23 اکتوبر، 2024

حکومت کا نیا اسپیم ٹریکنگ سسٹم، فرضی بین الاقوامی کالز کو کرے گا بلاک

نئی دہلی: حکومت ہند نے ایک نیا اسپیم ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے جو ہندوستانی نمبروں کے طور پر ظاہر ہونے والی ان کمینگ بین الاقوامی کالز کی شناخت کر کے انہیں بلاک کر سکتا ہے۔ اس سسٹم کا نام 'انٹرنیشنل ان کمینگ اسپوفڈ کالز پریوینشن سسٹم' ہے، جسے ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے پیش کیا ہے۔

سائبر مجرم ایک نئے طریقۂ واردات میں بین الاقوامی کالز کو ہندوستان کے مقامی نمبر (+91 سے شروع ہونے والا) کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ کالنگ لائن آئیڈینٹیٹی (سی ایل آئی) کے تحت فون نمبر کا ظاہر ہونا ضروری ہے، مگر مجرم سی ایل آئی میں ہیر پھیر کر کے کال کو ہندوستان سے آئی ہوئی کال کی شکل میں دکھاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ کال ہندوستان کے باہر سے کی جا رہی ہوتی ہے۔

سائبر مجرم اس طرح کے فرضی مقامی نمبر سے متاثرہ شخص کا اعتماد جیتتے ہیں اور پھر مالی دھوکہ دہی یا دوسرے خطرناک مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سرکاری اہلکار، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر یا متاثرہ شخص کے خاندان کا رکن بن کر پیسہ یا ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کئی مرتبہ یہ مجرم متاثرہ شخص پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ اسے گرفتار ہونے کے خوف سے مالی ادائیگی پر مجبور کیا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فرضی کالوں کا استعمال مالی فراڈ، سرکاری اہلکاروں کے طور پر دھمکانے اور مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کر کے متاثرہ افراد کو لوٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں مجرم فرضی موبائل نمبروں کے ذریعے سیکس ریکٹ میں گرفتاری، ڈرگ اسمگلنگ اور پولیس کی طرف سے دھمکیاں دے کر لوگوں سے پیسے نکلوا چکے ہیں۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نیا سسٹم ایسے جعلی نمبروں کی شناخت کر کے انہیں بلاک کرتا ہے، اس سے پہلے کہ سائبر مجرم متاثرہ شخص تک پہنچ پائیں۔ نئے سسٹم نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 1.35 کروڑ کالوں کی اسپوف کالز کے طور پر شناخت کی اور بلاک کیا، جو آنے والی بین الاقوامی کالوں کا 90 فیصد ہے۔ اس سسٹم کے نفاذ سے انڈین ٹیلی کمیونیکیشن صارفین کو +91 نمبر والی فرضی کالوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8xtgd1l

اتوار، 20 اکتوبر، 2024

عالمی آبی چکر میں عدم توازن

زمین پر زندگی کے لیے پانی ایک لازمی ضرورت ہے اور پانی ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے۔ واٹر سائیکل یا آبی چکر زمین کےاندر اور ماحول میں پانی کی حرکت ہے اور اس میں پانی کے بخارات اور ورن (بارش) جیسے عمل شامل ہیں۔ آج ہونے والی بارش شاید دنوں پہلے کسی دور دراز سمندر کاپانی رہی ہو ۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی دریا کا پانی کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی پر برف کی شکل میں رہا ہو۔ پانی فضا میں، زمین پر، سمندر میں اور زیر زمین ہے۔ یہ واٹر سائیکل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بدل رہا ہے۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے بخارات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ بخارات اوسطاً زیادہ بارش کا سبب بنتے ہیں، اور اس صدی کے دوران آب و ہوا کے گرم ہونے پر ان کے اثرات میں اضافہ متوقع ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مطلب دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کا بدلنا ہے۔ یہ زیادہ شدید موسمی واقعات کا باعث بن رہا ہے جس کے اثرات انسانی صحت پر پڑ سکتے ہیں، پینے کے صاف پانی، خوراک اور پناہ گاہ تک رسائی اور گرمی، خشک سالی یا سیلاب سے نمٹنے کی لوگوں کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

زیادہ بخارات کی وجہ سے ہوا میں زیادہ پانی ہوتا ہے لہذا طوفان کچھ علاقوں میں زیادہ شدید بارشیں پیدا کر سکتے ہیں اور سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ زیادہ بخارات پانی کو بھاپ میں بدل دیتے ہیں اور کچھ علاقوں میں خشک سالی کا سبب بنتے ہیں۔ خشک سالی کا شکار جگہوں کے اگلی صدی میں مزید خشک ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح، سمندر کی سطح کا گرم پانی سمندری طوفانوں کو تیز کر سکتا ہے، جس سے مزید خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ یہ طوفان مستقبل میں مزید طاقتور اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔

دنیا کے زیادہ علاقوں میں گرمی کی لہریں عام ہو گئی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2020 کی دہائی تک، سمندر کی سطح ایک صدی پہلے کی نسبت 0.1- 0.2 میٹر (0.30-0.75 فٹ) زیادہ ہو گئی ہے۔ 21ویں صدی میں، اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج متوقع سطح پر جاری رہا تو سطح سمندر میں 1.1 میٹر (3.6 فٹ) تک اضافے کی توقع ہے۔

سطح سمندر میں اضافہ دو طریقوں یا وجوہات سے ہوتا ہے۔ پہلا، پگھلتے ہوئے گلیشیئرز سے پانی دریاؤں میں بہتا ہے اور سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔ پچھلے 100 سالوں میں پہاڑی گلیشیئرز، آرکٹک گلیشیرز اور گرین لینڈ کی برف کے سائز میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔ دوسرا، سمندر کا پانی گرم ہونے کے ساتھ پھیلتا ہے، اس کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے سمندر میں پانی زیادہ جگہ لیتا ہے اور سطح سمندر بلند ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، سمندر کا پانی گرم ہو رہا ہے اور اس میں تیزابیت بڑھ رہی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں اتھلے سمندروں میں گرم پانی دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی مرجان کی چٹانوں کی موت کا سبب بنا ہے۔ سمندری برف کا سکڑنا ایک اور عنصر ہے جو زیادہ گرمی کا باعث بنتا ہے۔ ہر سال، سمندری برف کی مقدار جو آرکٹک اوقیانوس کا احاطہ کرتی ہے سردیوں میں بڑھتی ہے اور پھر گرمیوں میں اس کے کناروں پر پگھل جاتی ہے۔ لیکن حال ہی میں، گرم درجہ حرارت کی وجہ سے گرمیوں میں زیادہ برف پگھلی ہے اور سردیوں میں برف کم جمی ہے۔

16 اکتوبر 2024 کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا کا آبی چکر انسانی تاریخ میں پہلی بار توازن سے باہر ہوا ہے، جو پانی کی بڑھتی ہوئی تباہی کو ہوا دے رہا ہے جو معیشتوں، خوراک کی پیداوار اور زندگیوں کو تباہ کر دے گا۔ گلوبل کمیشن آن دی اکنامکس آف واٹر یا پانی کی اقتصادیات پر عالمی کمیشن کے ماہرین نے اس عدم توازن کی وجہ کئی دہائیوں کی اجتماعی بدانتظامی اور پانی کی کم قدر کو قرار دیا۔ یہ کمیشن نیدرلینڈز کی حکومت سے وابستہ ہے اور اسے آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ یا اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے سہولت فراہم کی ہے، جو دنیا کے امیر ترین ممالک کا ایک گروپ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے اجتماعی مستقبل کے لیے میٹھے پانی کی دستیابی پر مزید اعتماد نہیں کر سکتے۔ آبی چکر میں رکاوٹیں پہلے ہی مصائب کا باعث بن رہی ہیں۔ تقریباً 3 ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 1,000 بچے روزانہ غیر محفوظ پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق بیماریوں سے مرتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ کھانے پینے کے نظام میں تازہ پانی ختم ہو رہا ہے اور شہر دھس رہے ہیں کیونکہ ان کے نیچے موجود پانی خشک ہو رہا ہے۔ اور یہ مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا کی خوراک کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ ایسے علاقے میں ہے جہاں پانی کی سپلائی میں کمی متوقع ہے۔ فوری کارروائی کے بغیر اس کے نتائج اور بھی تباہ کن ہوں گے۔ رپورٹ میں موجودہ طرز عمل میں تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں شدید اقتصادی اثرات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان مسائل کے مشترکہ اثرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زیادہ آمدنی والے ممالک کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح 2050 میں اوسطاً 8 فیصد اور کم آمدنی والے ممالک میں 10 سے 15 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے شریک مصنف جوہان راکسٹروم نے کہا کہ بارش تمام میٹھے پانی کا ذریعہ ہے اور اس پر مزید بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں 'نیلے پانی'، جیسے جھیلوں، دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی اور 'سبز پانی' یا مٹی اور پودوں میں موجود نمی کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ سبز پانی کی فراہمی کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے لیکن یہ آبی چکر کے لیے اہم ہے کیونکہ جب پودے پانی کے بخارات چھوڑتے ہیں تو یہ فضا میں واپس آجاتا ہے، جو زمین پر ہونے والی تمام بارشوں کا نصف حصہ پیدا کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آبی چکر میں رکاوٹیں موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ سبز پانی کی فراہمی پودوں کی مدد کے لیے ضروری ہے جو زمین کو گرم کرنے والے کاربن کو ذخیرہ کر سکتی ہے۔ لیکن گیلی زمینوں اور جنگلات کو تباہ کرکے انسان اسے نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے سبب یہ کاربن سنکس ختم ہو رہے ہیں اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجے میں ، موسمیاتی تبدیلی سے خشکی بڑھ رہی ہے، نمی کم کر رہی ہے اور آگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

انگلینڈ کی ریڈنگ یونیورسٹی میں کلائمیٹ سائنس کے پروفیسر رچرڈ ایلن نے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی آبی چکر میں انسانی وجہ سے ہونے والی رکاوٹ کی ایک سنگین تصویر پیش کرتی ہے، یہ سب سے قیمتی قدرتی وسیلہ ہے جو بالآخر ہماری روزی روٹی کو برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے سی این این کو بتایا، قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور سیارے کو گرم کرنے والی آلودگی میں بڑے پیمانے پر کمی کے ذریعے ہی بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبی چکر کو ایک 'مشترکہ بھلائی' کے طور پر تسلیم کریں اور اسے اجتماعی طور پر حل کریں۔ ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، نہ صرف سرحدوں پر پھیلی جھیلوں اور دریاؤں کے ذریعے، بلکہ فضا میں موجود پانی کی وجہ سے بھی، جو بہت زیادہ فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ملک میں کیے گئے فیصلے دوسرے ملک میں بارش میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر جنرل اور رپورٹ شائع کرنے والے کمیشن کی شریک چیئرمین، نگوزی اوکونجو-ایویلا نے کہا کہ پانی کا عالمی بحران ایک المیہ ہے لیکن یہ پانی کی معاشیات کو تبدیل کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ پانی کی صحیح قدر کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کی کمی اور اس کے بہت سے فوائد کو پہچانا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UrtRgiD

جمعرات، 10 اکتوبر، 2024

زمین سے ٹکرایا شمسی طوفان، امریکی ایجنسیاں پریشان، بلیک آؤٹ کا خطرہ

لاس اینجلس: یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق جمعرات کو ایک طاقتور شمسی طوفان زمین سے ٹکرا گیا۔ ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ سمندری طوفان ہیلن اور ملٹن سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر (ایس ڈبلیو پی سی) کے مطابق، منگل کی شام کو سورج سے کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) پھوٹ پڑا اور جمعرات کی صبح 11:15 (ای ایس ٹی) پر تقریباً 1.5 ملین میل فی گھنٹہ (2.4 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے زمین پر پہنچا۔

نیوز ایجنسی نے ایس ڈبلیو پی سی کے حوالے سے بتایا کہ طوفان جی-4 (شدید) سطح پر پہنچ گیا۔ اسے جی-4 جیو میگنیٹک اسٹارم واچ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو جی-4 یا اس سے زیادہ جیو میگنیٹک اسٹارم واچ فعال رہا۔ ایس ڈبلیو پی سی جیو میگنیٹک طوفان کے حالات کے بارے میں انتباہات جاری کرتا ہے۔

این او اے اے کے مطابق، یہ طوفان ہیلن اور ملٹن سمندری طوفانوں کے لیے جاری بحالی کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس میں ریڈیو بلیک آؤٹ، پاور گرڈ پر دباؤ، اور جی پی ایس سروسز کی تنزلی شامل ہیں۔

سی ایم ای سورج کے کورونا سے مقناطیسی میدانوں اور پلازما ماس کے بڑے پیمانے پر اخراج ہیں۔ جب یہ زمین کی طرف آتا ہے تو یہ زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے خلل پیدا کرتا ہے جسے جیو میگنیٹک طوفان کہا جاتا ہے۔ اس سے ریڈیو بلیک آؤٹ اور بجلی کی کٹوتی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/y25fRve

منگل، 1 اکتوبر، 2024

بیرون ملک جانے کے بعد 30 ہزار ہندوستانی ’سائبر غلامی‘ کا شکار، زیادہ تر کا پنجاب، مہاراشٹر اور تمل ناڈو سے تعلق

نئی دہلی: سائبر فراڈ کے حوالے سے ایک بڑی معلومات سامنے آئی ہے، سیاحتی ویزا پر گئے تقریباً 30 ہزار ہندوستانی واپس نہیں آئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو ’سائبر غلام‘ بنایا گیا ہے اور ان پر دباؤ ڈال کر سائبر جرائم کیے جا رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے بیورو آف امیگریشن (بی او آئی) نے ایک ڈیٹا تیار کیا، جس کے مطابق جنوری 2022 سے مئی 2024 کے درمیان 73138 لوگوں نے ہندوستان سے وزیٹر ویزے پر کمبوڈیا، تھائی لینڈ، میانمار اور ویتنام کا سفر کیا۔ ان میں سے 29466 ابھی تک ہندوستانی واپس نہیں آئے ہیں۔ اس میں 20-39 سال کی عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً نصف یعنی 17115 ہے۔ یہ اطلاع انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے ملی ہے۔ اس میں 90 فیصد لوگ مرد ہیں۔

ہندوستان واپس نہ آنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب (3667)، مہاراشٹر (3233) اور تمل ناڈو ریاست (3124) سے ہے۔ دوسری ریاستوں سے جانے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔ اطلاعات کے مطابق شبہ ہے کہ ان لوگوں پر ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کو نوکریوں کا لالچ دے کر سائبر غلام بنایا گیا ہے۔

سائبر غلامی کے تحت کام کرنے والے لوگوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ پر دستیاب پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ہندی اور مقامی زبان بول سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اب تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان لوگوں کی تفصیلات کی تصدیق اور جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں ہندوستان میں سائبر فراڈ کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں، جہاں لوگوں کو مختلف دھوکے دے کر لوٹا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5nTtpvL

اتوار، 29 ستمبر، 2024

سنیتا ولیمز کی زمین پر واپسی: ناسا اور اسپیس ایکس کا مشن خلا کی جانب روانہ

امریکہ کی نیشنل ایرو ناٹکس اور اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) اور اسپیس ایکس نے اپنے جدید مشن کے تحت ہندوستانی نژاد خلاباز سنیتا ولیمز اور ان کے ساتھی بوچ وِلْمور کو زمین پر واپس لانے کے لیے کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا۔ یہ مشن 29 ستمبر 2024 کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد دونوں خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے واپس لانا ہے۔

خیال رہے کہ سنیتا ولیمز کو خلا میں جانے والی ہندوستانی نژاد دوسری امریکی خلاباز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ہندوستانی ثقافت کو اپنے مشنز میں شامل کیا ہے۔ 2006 میں جب وہ آئی ایس ایس گئیں تو ان کے ساتھ بھگوت گیتا کا ایک نسخہ بھی تھا۔

مشن کے دوران، ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اسپیس ایکس ڈریگن خلا بازوں کو آئی ایس کی طرف لے جا رہا ہے۔ نیا عملہ پانچ ماہ کے سائنسی مشن کے لیے وہاں پہنچے گا۔‘‘ اس مشن میں ناسا کے خلاباز نک ہیگ اور روس کے خلا باز الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں، جو کہ اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پہلے، سنیتا اور بوچ وِلْمور کا سفر ایک اور خلا بازوں کی ٹیم کے ساتھ ہوا تھا، جس کا سامان بوئنگ کے اسٹار لائنر کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا۔ مگر اس کے ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے ان کا سفر طویل ہوا۔ لیکن اب وہ محفوظ طریقے سے آئی ایس ایس پر پہنچ چکے ہیں۔ ناسا نے اسٹار لائنر کو انسانی سفر کے لیے غیر موزوں قرار دیا، مگر اس کی واپسی محفوظ رہی۔

اس مشن کی کامیابی نہ صرف ناسا اور اسپیس ایکس کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ یہ ہندوستانی نژاد امریکیوں کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے۔ سنیتا کی کامیابی نے ہر شعبے میں ہندوستانیوں کی قابلیت کو اجاگر کیا ہے۔ سنیتا ولیمز اور بوچ وِلْمور کی زمین پر واپسی کے بعد ان کی تجربات اور علم کی روشنی میں مزید ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ اس مشن کی کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کی قابلیت اور محنت ہمیشہ اس کے خوابوں کی تعبیر کر سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/AFClqS4

جمعہ، 27 ستمبر، 2024

حساس ڈیٹا افشا کرنے پر حکومت کی کارروائی، متعدد ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں

مرکزی حکومت نے شہریوں کا حساس ڈیٹا جیسے آدھار اور پین کی تفصیلات ظاہر کرنے پر متعدد ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بلاک کر دیا ہے۔ آئی ٹی کی وزارت نے اس اقدام کی تصدیق کی ہے کہ کچھ پورٹلز نے شہریوں کا نجی ڈیٹا عام کر دیا تھا، جس پر کاروائی کے طور پر ان ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا۔ حساس معلومات کا افشا ایک سنگین مسئلہ ہے جو ڈیٹا کی حفاظت اور شہریوں کی پرائیویسی کے خلاف ہے۔

یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں آدھار ایکٹ 2016 کی دفعہ 29(4) کے تحت ان ویب سائٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، کسی بھی شخص کی آدھار معلومات کو عام طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کہا ہے کہ ان ویب سائٹس کی سیکورٹی خامیوں کا انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ-ان) نے تجزیہ کیا اور نشاندہی کی کہ ان ویب سائٹس میں سیکورٹی کی کئی خامیاں ہیں۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ویب سائٹس کے مالکان کو رہنمائی فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنے انفراسٹرکچر میں بہتری لائیں۔ ساتھ ہی سائبر ایجنسیز کی طرف سے تمام اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی آئی ٹی ایپلی کیشنز کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں حساس ڈیٹا کی حفاظت کسی بھی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے۔ شہریوں کا حساس ڈیٹا جیسے آدھار اور پین کی تفصیلات کا لیک ہونا نہ صرف ان کی پرائیویسی کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ مالی نقصان کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت کو سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا کی حفاظت کے معاملے میں انتہائی چوکنا رہنا چاہیے لیکن اس معاملے میں حکومت کی طرف سے بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی ذاتی معلومات لیک ہونے کا خطرہ پیدا ہوا، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت، ہندوستان میں حساس معلومات کی حفاظت اور ان کے غیر قانونی افشا کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ ان قوانین کو سختی سے نافذ کرے اور ایسے واقعات کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کرے۔

وزارت نے یہ بھی بتایا کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے اور اس ایکٹ کے تحت قوانین کا مسودہ تیار ہونے کے آخری مرحلے میں ہے۔ مزید یہ کہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت اگر کوئی فرد متاثر ہوتا ہے تو وہ شکایت درج کر کے معاوضہ بھی طلب کر سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HpRirlX

ٹراپیکل طوفان کی وجہ سے ناسا کے اسپیس ایکس کرو 9 مشن کی لانچنگ میں تاخیر

امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا اور اسپیس ایکس نے اپنے نئے ’کرو 9‘ مشن کی لانچنگ میں تاخیر کا اعلان کیا ہے، جس کی اصل تاریخ 26 ستمبر تھی۔ یہ تاخیر ٹراپیکل طوفان ’ہیلین‘ کے پیش نظر کی گئی ہے، جو فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور بارش کا سبب بن سکتا ہے۔ ناسا اور اسپیس ایکس کی جانب سے یہ لانچ اب ہفتہ، 28 ستمبر کو دوپہر 1:17 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اس مشن میں ناسا کے خلاباز نک ہیگ اور روسکوسموس کے الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں، جو اسپیس ایکس کے ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے پانچ ماہ کے سفر پر روانہ ہوں گے۔ یہ پرواز ناسا کے کمرشل کرو پروگرام کے تحت اسپیس ایکس کے ساتھ نویں روٹیشن فلائٹ ہے، جس کا مقصد خلا میں انسانی مشن کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

طوفان ’ہیلین‘ جو خلیج میکسیکو سے گزر رہا ہے، فلوریڈا کے مشرقی ساحل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس طوفان کے باعث وہاں تیز ہوائیں اور شدید بارشوں کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے لانچنگ کے دوران محفوظ حالات کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

ناسا اور اسپیس ایکس کے مطابق لانچنگ کی مکمل تیاری پہلے ہی کر لی گئی تھی لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ایجنسیاں طوفان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتی رہیں گی۔

اس مشن میں خلائی اسٹیشن پر نئے آلات اور سائنسی تجربات بھیجے جائیں گے، جس کا مقصد خلا میں انسانی موجودگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اسپیس ایکس اور ناسا نے اس مشن کے لیے کئی ماہ کی تیاری کی ہے اور اب اسے طوفان کے گزرنے کے بعد لانچ کیا جائے گا۔

یہ تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلا میں جانے والے مشنوں کی منصوبہ بندی نہایت محتاط انداز میں کی جاتی ہے اور موسم جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ عملے کی حفاظت اور مشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید تازہ کاری ناسا اور اسپیس ایکس کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/SOG3g1j

جمعرات، 19 ستمبر، 2024

ہندوستان میں آئی فون 16 سیریز کی فروخت کا آغاز، ایپل اسٹوروں کے باہر خریداروں کا ہجوم

ممبئی: مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آج سے ہندوستان میں اپنی نئی آئی فون 16 سیریز کی فروخت شروع کر دی ہے۔ یہ سیریز 9 ستمبر 2024 کو کمپنی کے سالانہ ایونٹ ’اِٹس گلو ٹائم‘ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی خصوصیات کے ساتھ متعارف کروائی گئی تھی۔ ممبئی کے بی کے سی (باندرا کرلا کمپلیکس) میں واقع اسٹور پر فروخت کے آغاز سے پہلے ہی خریداروں کی لمبی قطاریں لگ چکی تھیں اور کئی لوگ اسٹور کے کھلنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی لوگ آئی فون 16 کے لیے پرجوش ہیں اور اسے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسٹور کھلنے سے قبل لوگ قطاروں میں کھڑے تھے اور کچھ دوڑتے ہوئے بھی دیکھے گئے، جیسا کہ پچھلے سال آئی فون 15 کی لانچنگ کے وقت ہوا تھا۔ ایک صارف، اُجول شاہ، نے کہا، ’’میں گزشتہ 21 گھنٹوں سے قطار میں کھڑا ہوں۔ میں کل صبح 11 بجے یہاں پہنچا تھا اور آج صبح 8 بجے اسٹور میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوں گا۔ میں اس فون کے لیے بہت پرجوش ہوں اور اس کے لیے ممبئی کا ماحول بھی بالکل نیا ہے۔‘‘

ایپل نے اس بار آئی فون 16 سیریز میں چار نئے فونز لانچ کیے ہیں، جن میں ڈیزائن اور خصوصیات کے لحاظ سے کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمپنی نے پہلی بار پچھلے ماڈلز کی نسبت نئے آئی فون کو کم قیمت میں متعارف کروایا ہے۔ ہندوستان میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ آئی فون کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ پچھلے سال قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

چار نئے ماڈلز کی قیمتیں:

آئی فون 16 اور آئی فون 16 پلس کو پانچ رنگوں الٹرامرین، ٹیل، پنک، سفید اور سیاہ میں پیش کیا گیا ہے۔ ان ماڈلز میں 128GB، 256GB، اور 512GB اسٹوریج کے اختیارات موجود ہیں۔ آئی فون 16 کی ابتدائی قیمت 79,900 روپے اور آئی فون 16 پلس کی ابتدائی قیمت 89,900 روپے مقرر کی گئی ہے۔

آئی فون 16 پرو (128GB) کی ابتدائی قیمت 1,19,900 روپے ہے، جبکہ آئی فون 16 پرو میکس (256GB) کی قیمت 1,44,900 روپے ہے۔

خصوصیات کے لحاظ سے آئی فون 16 میں 6.1 انچ اور آئی فون 16 پلس میں 6.7 انچ کا ڈسپلے دیا گیا ہے، جس کی برائٹنس 2000 نٹس تک ہے۔ اس کے علاوہ، کیمرہ کیپچر بٹن دیا گیا ہے جس کی مدد سے صارف ایک کلک میں کیمرہ کو کھول سکتے ہیں اور تصاویر لے سکتے ہیں۔

نئے آئی فون 16 سیریز میں A18 چپ سیٹ دیا گیا ہے، جو نہ صرف اسمارٹ فونز بلکہ کچھ ڈیسک ٹاپس کو بھی مقابلہ دے سکتا ہے۔ اس میں ایپل انٹیلی جنس کا فیچر شامل ہے جو صارفین کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8tqpEPj

اتوار، 15 ستمبر، 2024

تجارتی خلائی صنعت: کامیاب نجی اسپیس واک

اسپیس ایکس کے پولارس ڈان مشن نے 12 ستمبر کو پہلی نجی اسپیس واک کے ساتھ تاریخ رقم کی جب دو خلابازوں نے اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول سے باہر نکل کر دنیا کی پہلی نجی اسپیس واک کی۔ ٹیک صنعتکار جیرڈ آئزاک مین اور اسپیس ایکس انجینئر سارہ گیلس نے اسپیس واک کرنے والی پہلی شہری جوڑی بن کر تاریخ رقم کی۔ آئزاک مین نے اسپیس ایکس کے بالکل نئے اسپیس سوٹ کی جانچ کرنے کے لیے ایلون مسک کی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ناسا نے اسے تجارتی خلائی صنعت کے لیے 'ایک بڑی چھلانگ' کے طور پر سراہا ہے۔ کمرشل اسپیس واک اس پانچ روزہ پرواز کا بنیادی مرکز تھا جس کی مالی اعانت جیرڈ آئزاک مین اور ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے کی ہے، اور سالوں کی ترقیاتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو مریخ اور دیگر سیاروں کو آباد کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

زمین سے سیکڑوں میل کی بلندی پر اس جرات مندانہ کوشش کے دوران آئزاک مین اور ان کا عملہ اس وقت تک انتظار کرتا رہا جب تک کہ ان کا کیپسول ہیچ (دروازہ) کھولنے سے پہلے ڈی پریشرائز نہ ہو جائے۔ اس طرح، آئزاک مین اسپیس واکرز کے ایک چھوٹے سے ایلیٹ گروپ میں شامل ہونے والے پہلے شخص بن گئے جس میں اب تک درجن بھر ممالک کے صرف پیشہ ور خلاباز شامل تھے۔ یہ خلائی چہل قدمی آسان اور تیز تھی۔ ناسا کے طویل دورانیہ کے مقابلے اس مشن میں ہیچ بمشکل آدھا گھنٹہ کھلا تھا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے خلابازوں کو مرمت کے لیے اکثر اسٹیشن کے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ جوڑے میں اور سامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ان کی خلائی چہل قدمی سات سے آٹھ گھنٹے تک ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ مشن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو گیا۔

اسپیس ایکس پولارس ڈان مشن 10 ستمبر کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے شروع کیا گیا تھا جو 1970 کی دہائی میں اپولو پروگرام کے بعد نصف صدی میں سب سے زیادہ گہرائی میں چلا گیا تھا۔ ڈریگن خلائی جہاز 1400 کلومیٹر (870 میل) کی بلندی پر پہنچ گیا تھا۔ خلائی چہل قدمی کے لیے مدار نصف کم کر کے 700 کلومیٹر (435 میل) کر دیا گیا۔ عملے کے چاروں ارکان نے اپنے آپ کو سخت خلا (ویکیم) سے بچانے کے لیے نئے اسپیس واکنگ سوٹ پہن لیے اور 12 ستمبر کی صبح، خالص آکسیجن ان کے سوٹوں میں بھرنا شروع ہو گئی جو ان کی خلائی چہل قدمی کے آغاز کی نشاندہی کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد، آئزاک مین نے ہیچ کھولا اور ہاتھ اور پیروں سے پکڑ کر 'اسکائی واکر' نامی ڈھانچے پر چڑھ گیا، نیچے زمین کا ایک دلفریب منظر تھا۔ اس نے کیلیفورنیا میں مشن کنٹرول کو بتایا کہ یہ بہت خوبصورت ہے۔ تقریباً 10 منٹ باہر رہنے کے بعد، آئزاک مین کو گلیس نے تبدیل کر دیا۔ وہ بے وزنی میں کیپسول سے باہر اوپر نیچے ہو رہی تھیں، لیکن گھٹنوں سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے اپنے بازو گھمائے اور مشن کنٹرول کو رپورٹس بھیج دیں۔ ان دونوں کے پاس 3.6-میٹر (12 فٹ) ٹیتھرز (رسی) تھے لیکن انہوں نے ان کو نہیں کھولا یا لٹکایا جیسا کہ خلائی اسٹیشن پر ہوتا ہے، جہاں خلاباز معمول کے مطابق بہت کم مدار میں تیرتے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہیں۔

ہیچ کھلنے سے پہلے، عملہ اپنے خون سے نائٹروجن کو نکالنے کے لیے 'پری بریتھ' کے طریقہ کار سے گزرا تاکہ 'ڈی کمپریشن' کو روکا جا سکے۔ اس کے بعد کیبن کے دباؤ کو خلا کے ویکیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے آہستہ آہستہ کم کیا گیا۔ کیپسول کے اندر واپس آنے سے پہلے، آئزاک مین اور سارہ گیلس نے اسپیس ایکس کے اگلی نسل کے سوٹ پر حرکت کے ٹیسٹ کرنے میں چند منٹ گزارے جن میں ہیڈز اپ ڈسپلے، ہیلمٹ کیمروں اور بہتر مشترکہ نقل و حرکت کا نظام شامل ہیں۔ خلائی چہل قدمی ایک گھنٹہ 46 منٹ بعد کیبن میں دوبارہ دباؤ بننے کے بعد ختم ہوئی۔

نجی طور پر فنڈڈ پولارس ڈان مشن میں عملے کے چار ارکان تھے – جیرڈ آئزاک مین، سابق ایئر فورس تھنڈر برڈ پائلٹ اسکاٹ پوٹیٹ، اور اسپیس ایکس کی انجینئرز سارہ گیلس اور اینا مینن۔ آپریشن کی منصوبہ بندی میں غلطی کی بہت کم گنجائش تھی۔ تاہم، کچھ خرابیاں تھیں۔ آئزاک مین کو بٹن دبانے کے بجائے دستی طور پر ہیچ کو کھولنا پڑا۔ باہر جانے سے پہلے، گیلس نے ہیچ سیل میں خرابی کی اطلاع دی۔ اسکاٹ پوٹیٹ اور اینا مینن کیپسول کے اندر سے نگرانی کے لیے اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ عملے کے ان چاروں ارکان نے سفر سے پہلے سخت تربیت حاصل کی تھی۔ اسپیس ایکس کے تبصرہ نگار نے کہا کہ یہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ اسپیس واک کے اختتام کے بعد مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے X کے ذریعے کہا، آج کی کامیابی تجارتی خلائی صنعت کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔

یہ اسپیس ایکس کے لیے ایک اور اہم سنگ میل تھا، جس کی بنیاد ایلون مسک نے 2002 میں رکھی تھی۔ ابتدائی طور پر صنعت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد، اسپیس ایکس ایک پاور ہاؤس بن گیا ہے جس نے 2020 میں ناسا کے خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک سواری فراہم کرنے کے لیے ایک اسپیس شپ فراہم کرنے میں ایرو اسپیس دیوقامت بوئنگ کو شکست دی۔ حالانکہ یہ تجارتی شعبے کے لیے پہلی ہے، لیکن یہ اسپیس واک ابتدائی خلائی دور کے کارناموں سے کمتر تھی۔ ابتدائی خلائی مسافر جیسے سوویت خلاباز الیکسی لیونوف ٹیتھرز پر اپنے خلائی جہاز سے دور چلے گئے تھے، اور کچھ منتخب خلائی شٹل خلابازوں نے مکمل طور پر غیر منسلک پرواز کے لیے جیٹ پیکس کا استعمال کیا تھا۔

دولت مند مسافر چند منٹوں کے بے وزن ہونے کا تجربہ کرنے کے لیے نجی راکٹوں پر سوار ہونے کے لیے بھاری رقم دے رہے ہیں۔ دوسروں نے کئی دن یا ہفتوں تک خلا میں رہنے کے لیے لاکھوں خرچ کیے ہیں۔ خلائی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ناگزیر ہے کہ کچھ لوگ خلائی چہل قدمی میں سنسنی کی تلاش کریں گے، جسے لانچ اور مدار میں دوبارہ داخلے کے بعد خلائی پرواز میں سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ سب سے زیادہ روح کو ہلا دینے والا بھی ہے۔

آئزاک مین کی عمر 41 سال ہے۔ وہ شفٹ4 کریڈٹ کارڈ پروسیسنگ کمپنی کے بانی اور سی ای او ہیں۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ اس فلائٹ میں انہوں نے کتنی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پولارس نامی پروگرام کے تحت تین پروازوں میں سے پہلی تھی اور اسے پولارس ڈان کہا جاتا ہے۔ 12 ستمبر تک صرف 263 افراد نے 12 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اسپیس واک کی تھی۔ سوویت یونین کے الیکسی لیونوف نے اسے 1965 میں شروع کیا تھا اور اس کے چند ماہ بعد ناسا کے ایڈ وائٹ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sRgKoPr