پیر، 3 فروری، 2025

مشکل میں اسرو کا 100واں مشن، آئیے ڈالتے ہیں اسرو کے 5 کامیاب اور 5 ناکام مشن پر ایک نظر

انڈین اسپیس ریسرچ آرگانئزیشن (اسرو) اب تک خلا میں کئی دفعہ اپنی کامیابی کا پرچم لہرا چکا ہے۔ چند روز قبل اسرو کا 100 واں راکٹ مشن بھی کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا تھا، لیکن اب یہ مشن مشکل میں نظر آ رہا ہے۔ اس مشن کے تحت لانچ کیا گیا نیویگیشن سیٹلائٹ تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا ہے۔ اسرو نے اپنی ویب سائٹ پر اس حوالے سے کہا کہ سیٹلائٹ کو آربٹ میں رکھنے کا عمل مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ تھرسٹر کو فائر کرنے کے لیے ضروری آکسیڈائزر کے داخلے کی اجازت دینے والے وَالو کھلے ہی نہیں۔ واضح ہو کہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے جب اسرو کے سامنے مشکل آئی ہو۔ اس سے قبل بھی ایسی مشکلات آتی رہی ہیں، وہیں کئی بڑے بڑے مشن میں کامیابی بھی ملی ہے۔

آئیے ذیل میں اسرو کے 5 کامیاب اور 5 ناکام مشن کے بارے میں جانتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ذکر کرتے ہیں اسرو کے 5 کامیاب مشن کا:

1- سال 1975 میں آریہ بھٹ سیٹلائٹ سے کی شروعات: عظیم ہندوستانی ماہر فلکیات آریہ بھٹ کے نام پر اسرو نے آریہ بھٹ نام کا پہلا سیٹلائٹ تیار کیا تھا۔ اس کی مینوفیکچرنگ سے لے کر ڈیزائننگ اور اسمبلی تک کا کام، مکمل طور پر ہندوستان میں ہی کیا گیا تھا۔ 360 کلوگرام سے زیادہ وزنی اس سیٹلائٹ کو 19 اپریل 1975 کو روس کی مدد سے وولگوگراڈ لانچ اسٹیشن سے لانچ کیا گیا تھا۔ اسے سوویت کوسموس-3ایم سے لانچ کیا گیا تھا۔ اسی سے اسرو کی کامیاب مشنوں کی راہ کھلی تھی۔

2- انڈین نیشنل سیٹلائٹ سسٹم (انسَیٹ): آج ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں سب سے بڑا گھریلو مواصلاتی سیٹلائٹ سسٹم ہے۔ اس کی شروعات 1983 میں کی گئی تھی۔ یہ ٹی وی نشریات، سماجی ایپلی کیشنز، موسم کی پیشین گوئی، آفات کے انتباہ، تلاش اور بچاؤ کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔

3- چاند پر رکھا ہندوستان نے قدم: اسرو نے ہندوستان کو چاند پر پہنچانے کے لیے 22 اکتوبر 2008 کو چندریان-1 مشن لانچ کیا تھا۔ چندریان-1 8 نومبر 2008 کو کامیابی کے ساتھ چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ چندریان-1 چاند کی سطح سے 100 کلومیٹر کی اونچائی پر اس کے گِرد چکر لگانے کے ساتھ ہی کیمیائی، معدنی اور تصویری ارضیاتی نقشہ سازی کی۔

4- مریخ پر پہنچا ہندوستان: ہندوستان کو اپنی پہلی ہی کوشش میں مریخ پر پہنچانے میں بھی اسرو نے کامیابی حاصل کی تھی۔ منگل آربٹ مشن (ایم او ایم) ہندوستان کا پہلا بین سیاروں کا مشن تھا۔ اس کے لیے 5 نومبر 2013 کو منگلیان کو سری ہری کوٹا سے پی ایس ایل وی-سی25 راکٹ سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس میں کامیابی ملنے کے ساتھ ہی مریخ کے مدار میں کامیابی کے ساتھ  خلائی جہاز لانچ کرنے والا اسرو چوتھی خلائی ایجنسی بن گئی تھی۔ اس مشن کی مدت 6 ماہ ہی تھی لیکن اس کے بعد بھی سالوں تک ایم او ایم مدار میں نصب رہی اور کام کرتی رہی۔

5- چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ: 23 اگست 2023 کو اسرو نے چاند پر ایک اور تاریخ رقم کی۔ چندریان-3 کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان چاند کے جنوبی قطب پر کامیبای کے ساتھ چندریان کو اتارنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ، روس اور چین کے بعد کامیابی کے ساتھ چاند پر ’روور‘ اتارنے والا ہندوستان چوتھا ملک بن گیا۔

اسرو کے 5 ناکام مشن:

1- روہنی ٹیکنالوجی پے لوڈ: 10 اگست 1979 کو لانچ کیا گیا روہنی ٹیکنالوجی پے لوڈ حقیقت میں اسرو کے ناکام مشن کی فہرست میں شامل ہے۔ 35 کلوگرام کے اس سیٹلائٹ کو اسرو کے سائنسداں مدار میں نہیں رکھ پائے تھے۔ روہنی ٹیکنالوجی پے لوڈ لے جانے کے لیے ایس ایل وی 3 کا استعمال کیا گیا تھا اور یہ ایس ایل وی 3 کی پہلی پرواز تھی۔ اس ناکامی کے بعد سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام نے کہا تھا کہ اس نے سکھایا کہ جب بھی آپ ناکام ہوتے ہیں ذمہ داری ٹیم لیڈر لیتا ہے۔ آپ جب کامیاب ہوتے ہیں تو پوری ٹیم کو کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

2- چندریان-2 سے رابطہ منقطع ہوا: چندریان 3 سے قبل ہندوستان نے ایک اور مشن کو انجام دیا تھا جس میں جزوی طور پر کامیابی ملی تھی۔ چندریان-1 سے رابطہ منقطع ہونے کے 10 سال بعد اسرو نے سری ہری کوٹا سے چندریان-2 لانچ کیا تھا۔ اسرو کے سائنسدانوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ چندریان-2 کے لینڈر کو جنوبی قطب پر اترنا تھا۔ 7 ستمبر 2019 کو آخری وقت میں لینڈر وکرم کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ حالانکہ یہ مشن مکمل طور پر ناکام نہیں تھا۔ پھر اس کے بعد ہی ہندوستان نے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے میں کامیابی حاصل کی اور ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا۔

3- اے ایس ایل وی-ڈی1 مشن بھی فیل: اسرو کا آگمینٹیڈ سیٹلائٹ لانچ وہیکل اے ایس ایل وی-ڈی1 مشن بھی ناکام ہو گیا تھا۔ یہ مارچ 1987 کو سائنسی آلات کے ساتھ ساتھ ایس آر او اے اے-1 سیٹلائٹ لے جانے والی پہلی ڈیولپمنٹ فلائٹ تھی۔ حالانکہ اس میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

4- پی ایس ایل وی-سی 3 کی ناکام پرواز: پی ایس ایل وی-سی 3 کی پرواز بھی ناکام رہی تھی۔ یہ 41ویں پرواز 31 اگست 2017 کی شام کو ستیش دھون خلائی مرکز سے شروع کی گئی تھی۔ حالانکہ اس مشن میں طے شدہ منصوبہ کے مطابق ہیٹ شیلڈ سیپریشن میں کامیابی نہیں مل پائی تھی۔ اسی وجہ سے یہ مشن ناکام ہو گیا تھا۔

5- جی ایس ایل وی-ایف 2 نہیں مکمل کر سکا مشن: جی ایس ایل وی-ایف2 کو بھی سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔ یہ لانچ وہیکل اپنا مشن مکمل نہیں کر سکا تھا جس کی وجہ سے انسَیٹ 4 سی مشن ناکام رہا تھا۔ اسی طرح سے جی ایس ایل وی-ڈی-3 حقیقت میں جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی چھٹی اور تیسری ڈیولپمنٹ فلائٹ تھی۔ اس میں جی ایس ایل وی کو 2220 کلوگرام کا ایک تجرباتی ٹیکنالوجی کمیونیکیشن سیٹلائٹ جی ایس اے ٹی-4 لانچ کرنا تھا۔ حالانکہ یہ مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XQJEAPz

اتوار، 2 فروری، 2025

علاءدین کا چراغ اور ہمارا سورج

نیوٹن کی پیدائش سے کئی سو سال پہلے، گرمیوں کے ایک دن علاالدین اپنے اونٹ پر چراغ کے ساتھ عرب کے ریگستان میں گھومنے کے بعد ایک کھجور کے درخت کے سائے میں آرام کرنے لگا۔ دھوپ تیز تھی اور گرمی زیادہ، جس سے علاالدین کو لو لگ گئی اور طبیعت خراب ہو گئی۔ جب طبیعت سنبھلی تو اس نے چراغ رگڑ کر جن کو بلایا اور حکم دیا کہ سورج کے ہر ذرّے کو بکھیر دو تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

جن نے اسے سمجھایا کہ سورج کے بغیر زمین پر زندگی ناممکن ہو جائے گی، مگر علاالدین اپنی ضد پر قائم رہا۔ فرض کریں کہ جن کے پاس بے پناہ طاقت ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورج کو ختم کرنے کے لیے اسے کتنی توانائی درکار ہوگی؟

سورج ایک گیسوں کا گولہ ہے جس نصف قطر تقریباً سات لاکھ کلومیٹر ہے اور وزن 2 کے بعد 30 صفر کلوگرام۔ سورج زمین سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا بھاری ہے اور پورے نظام شمسی کے وزن کا 99 فیصد ہے۔ سورج کے ہر ذرّے کو بکھیرنے کے لیے جن کو کشش ثقل کے خلاف کام کرنا ہوگا۔ سائنس دانوں کے مطابق، اس کے لیے جن کو 2 کے بعد 41 صفر جول توانائی خرچ کرنا ہوگی۔

یہ توانائی اتنی زیادہ ہے کہ اسے انسانی پیمانے پر تصور کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم زمین پر موجود تمام جوہری بموں کی طاقت کو اکٹھا کریں، تب بھی وہ توانائی سورج کو بکھیرنے کے لیے ناکافی ہوگی۔ یہ توانائی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سورج کتنا مستحکم اور طاقتور ہے۔

جن نے جیسے ہی سورج کو بکھیرنے کا کام مکمل کیا، دنیا میں اندھیرا چھا گیا، ٹھنڈ بڑھ گئی اور پودے مرجھا گئے۔ سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لیتی ہے، لہٰذا اثرات فوراً نظر نہیں آئے۔ آٹھ منٹ کے بعد زمین پر مکمل تاریکی چھا گئی، درجہ حرارت تیزی سے نیچے گرنے لگا، سمندر جمنا شروع ہو گئے اور ہواؤں کی گردش رک گئی۔

علاالدین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے جن کو حکم دیا کہ سورج کے ذرّات دوبارہ اکٹھے کر دے۔ جب جن نے سورج کے ذرّات کو جمع کرنا شروع کیا، تو اس نے دیکھا کہ کشش ثقل کی وجہ سے یہ ذرّات خود بخود ایک مرکز کی طرف واپس اکٹھے ہو رہے تھے۔ نیوٹن کے قوانین حرکت اور کشش ثقل کے مطابق، کسی بھی چیز پر قوت لگنے سے اس کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے۔ یہی قوت سورج کے بکھرے ہوئے ذرّات کو واپس اکٹھا کر رہی تھی۔

سائنس دانوں کے مشاہدات کے مطابق، یہی عمل ستاروں کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورج کے ذرّات کو اکٹھا کرنے میں کشش ثقل نے جو کام کیا، وہ توانائی کہاں گئی؟ اٹھارویں صدی کے سائنس دانوں لارڈ کیلون اور ہیلمہولٹز نے تجویز پیش کی کہ سورج کی گرمی اور روشنی، دراصل کشش ثقل کے کام کی توانائی ہے۔

یہ عمل یوں ہوتا ہے کہ بکھرے ہوئے ذرّات کشش ثقل کی وجہ سے اکٹھے ہوتے ہیں، ان کی رفتار بڑھتی ہے اور وہ گرم اور روشن ہو جاتے ہیں۔ درجہ حرارت کا تعلق ذرّات کی رفتار سے ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کا مطلب زیادہ رفتار۔ جب ہم پانی گرم کرتے ہیں تو اصل میں اس کے مالیکیولز کی رفتار بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

سورج کے اندرونی حصے کا درجہ حرارت تقریباً 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے جبکہ سطح پر یہ 5500 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اتنی گرمی کے دو اثرات ہوتے ہیں: ایک تو یہ کہ ذرّات باہر کی طرف پھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کشش ثقل انہیں اندر کی طرف کھینچتی ہے۔ جب تک یہ قوتیں برابر رہتی ہیں، سورج مستحکم رہتا ہے۔

دوسرا اثر یہ ہے کہ سورج کی توانائی روشنی اور گرمی کی صورت میں خارج ہوتی ہے، جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتی ہے۔ کیلون اور ہیلمہولٹز کی تجویز کے مطابق، سورج کی چمک کشش ثقل کی توانائی کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اس نظریے کی جانچ کے لیے سائنس دانوں نے سورج سے نکلنے والی توانائی کی مقدار ناپی اور سورج کی عمر کا اندازہ لگایا۔

اس حساب سے سورج کی عمر صرف 3 کروڑ سال بنتی تھی، جبکہ زمین کی عمر تقریباً 4.54 ارب سال ہے۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ سورج کی توانائی کا ذریعہ صرف کشش ثقل نہیں ہے۔ بیسویں صدی میں نیوکلیئر فزکس کی ترقی نے ثابت کیا کہ سورج کی توانائی کا اصل راز نیوکلیئر فیوژن ہے۔

سورج کے مرکز میں، انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ کے باعث ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم بناتے ہیں، جس سے بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ یہی عمل سورج اور دیگر ستاروں کی روشنی اور گرمی کا ذریعہ ہے۔

نیوکلیئر فیوژن کے اس عمل میں توانائی کا ایک حصہ روشنی اور حرارت کی صورت میں خارج ہوتا ہے، جبکہ باقی توانائی سورج کے اندرونی دباؤ کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ سورج کی سطح سے نکلنے والی روشنی کا ہر فوٹون ایک طویل سفر طے کرتا ہے، جو لاکھوں سالوں پر محیط ہوتا ہے، تب جا کر وہ زمین تک پہنچتا ہے۔

یوں علاالدین اور اس کے جن کی کہانی ہمیں نہ صرف کشش ثقل اور توانائی کے اصول سمجھاتی ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ قدرت کے نظام کو سمجھنے کے لیے سائنسی تحقیق اور تجربات کتنے ضروری ہیں۔ سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کائنات کے ہر عمل کے پیچھے ایک منطقی وجہ ہوتی ہے، جسے سمجھنے کے لیے علم اور تحقیق کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

یہ کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ فطرت کے نظام میں توازن کی کتنی اہمیت ہے۔ ایک چھوٹا سا بگاڑ پوری زمین کو متاثر کر سکتا ہے۔ سورج نہ صرف روشنی اور گرمی کا ذریعہ ہے بلکہ زمین پر زندگی کے تسلسل کا ضامن بھی ہے۔ لہٰذا، سائنس اور فطرت کے اصولوں کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ہماری بقا کے لیے ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XiED95C

اتوار، 19 جنوری، 2025

امبر کی کہانی اور بجلی کا نام الیکٹریسٹی کیسے پڑا؟

بجلی کا زیور سے کیا تعلق ہے؟ میرے ساتھ اس سفر پر چلیں، تو آپ بہت کچھ نیا دیکھیں گے۔ دیوتا، بھیڑ، کڑکتی بجلی، وہ لڑکی جو پیڑ بن گئی، اپنی صحت کے لیے خون بہانا، بڑے ہیرے اور مقناطیسی کمپاس، یہ سب آپ کو اس سفر میں ملیں گے۔

اگر آپ امبر سے بنے زیور کو کسی اونی کپڑے یا بھیڑ کی کھال سے رگڑیں، تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اب امبر کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ تو بالکل جادو سا لگتا ہے۔ اسی کو اسٹیٹک الیکٹریسٹی ( کہتے ہیں۔

ڈھائی ہزار سال پہلے امبر کی اسی خصوصیت کی طرف ایک یونانی فلسفی کا دھیان گیا۔ یہ فلسفی مائلیٹس کا تھالز تھا اور اس نے امبر کو دیکھ کر کہا کہ ہر چیز میں دیوتا موجود ہیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اسے امبر کے بارے میں کیسے پتا چلا، کیونکہ اس کی لکھی ہوئی کوئی بھی کتاب نہیں بچی۔ تھالز کے بارے میں کچھ باتیں صرف ارسطو سے ہی معلوم ہوئیں لیکن خود ارسطو کی بھی بہت کم کتابیں باقی ہیں، اس لیے ہم زیادہ تر صرف قیاس آرائیاں ہی کر سکتے ہیں۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ تھالز شاید ایک ہلکا پھلکا سائنسدان تھا جو اپنے چاروں طرف کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ میں نے تو ایک کارٹون دیکھا تھا جس میں تھالز دیہاتوں میں گھوم گھوم کر امبر کو بھیڑ کے گھنے بالوں میں رگڑ رہا ہے، مگر اب ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ سائنسدان نہیں بلکہ ایک فلسفی تھا۔ تو آئیے، اس کے اعزاز میں ہم نیچے دیا ہوا تجربہ کریں۔

فرض کیجئے کہ امبر سے بنا زیور ایک جوہری بہت احتیاط سے فر میں لپیٹ کر رکھتا ہے۔ کچھ دنوں بعد اس نے زیور نکال کر دیکھا کہ وہ کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور یہی ایک یونانی کہانی بن جاتی ہے۔ امبر کہاں سے آیا؟ اس کہانی کو یونانی شاعر اوویڈ نے اپنی نظم میں کچھ اس طرح لکھا ہے:

ایک دن سورج کے بچوں میں سے فیتھیان نے اپنے باپ کا اڑن کھٹولا چوری کیا اور اسے بہت دیوانے پن سے سارے آسمان میں گھمایا۔ اسے دیکھ کر بڑے دیوتا جوپیٹر کو بہت غصہ آیا اور اس نے بادلوں کی کڑکتی بجلی سے اڑن کھٹولے پر وار کیا تو فیتھیان اڑن کھٹولے سے گر کر دریا میں ڈوب کر مر گیا۔

اس خبر پر اس کی سبھی بہنوں نے دریا کے کنارے کھڑے ہو کر بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ اس شور و غل سے سارے دیوتا بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے ان بہنوں کو پیڑ اور ان کے آنسوؤں کو امبر میں بدل دیا۔ یہ کہانی فیتھیان اور اس کی بہنوں کے لیے اچھی نہیں تھی لیکن جوہری دوکاندار کے لیے بہت فائدے مند ثابت ہوئی کیونکہ یہ مشہور ہوا کہ امبر میں دیوتاؤں کا حصہ شامل ہے، اس لیے امبر کے زیور بہت مہنگے ہو گئے اور دوکاندار کو خوب منافع ہوا۔

امبر کی اس کہانی کے بعد الیکٹریسٹی کی سمجھ کے بارے میں اگلے 2500 سال تک کچھ خاص نہیں ہوا۔ وقت کا پہیہ رفتہ رفتہ آگے بڑھتا رہا اور اب ہماری کہانی کا اگلا اہم موڑ سن 1600 کے انگلستان میں ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں ایک عجیب و غریب شخصیت والے ڈاکٹر ولیم گلبرٹ تک پہنچا۔

گلبرٹ نے مقناطیس کی خصوصیات پر ایک کتاب لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ گلبرٹ کی شہرت اور کامیابی بھی بہت عجیب ہے کیونکہ نہ وہ کچھ خاص خوش شکل تھا اور نہ ہی خوشگوار خصلت کا مالک تھا۔ مثال کے طور پر اس نے اپنے زمانے کے ہر مشہور شخص کا ذکر بہت برے الفاظ میں کیا اور وہ اپنے علاوہ سب کو بالکل جاہل سمجھتا تھا۔ اس کی شہرت شروع میں ایک کامیاب ڈاکٹر کے طور پر ہوئی، لیکن وہ بھی عجیب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں زیادہ تر علاج دو طرح سے کیا جاتا تھا، پہلا طریقہ بیمار کا تھوڑا خون بہا کر اور دوسرا اس کو تھوڑی مقدار میں زہر پلا کر۔ لگتا ہے کہ گلبرٹ ان دونوں کاموں میں ماہر ہوگا، جبھی وہ اتنا مقبول ہوا کہ اسے ملکہ الزبیتھ کا خاص ڈاکٹر مقرر کیا گیا۔ لیکن الزبیتھ اتنی سمجھدار تھیں کہ انہوں نے اس طرح کے کسی ڈاکٹر کو کبھی ہاتھ نہیں لگانے دیا۔

یورپ میں اس زمانے کو رینیسانس کہتے ہیں، یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’دوبارہ جنم لینا‘ ہے۔ وہ زمانہ تھا جب یورپ میں آرٹ، سائنس اور کلچر میں ایک نئی تازگی آئی اور پرانے عقیدوں اور پابندیوں کو کھلے عام بدلنے کی خواہش کا خیرمقدم کیا گیا۔گلبرٹ کو مقناطیس کی خصوصیات سمجھنے کا بہت شوق تھا اور وہ اس کے مختلف تجربات کرتا رہتا تھا۔

مقناطیسی کا سب سے پرانا ذکر چوتھی صدی قبل مسیح کے چین کے گویگوزی کا ہے۔ میگنٹ (مقناطیس) لفظ کا یونانی زبان سے تعلق ہے۔ یہ بھی ایک کہانی ہے کہ یونان میں ایک مگنیس نامی چرواہے نے یہ دیکھا کہ ان کے ڈنڈے کا لوہا اور جوتے کی کیلیں ایک پتھر سے چپک گئی تھیں۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے اس پتھر کو مقناطیسی پتھر یا لوڈسٹون کا نام دیا گیا۔ مصر میں مقناطیس کا استعمال کر کے مندروں میں پوجا کی چیزوں کو ہوا میں لٹکا کر کرشمہ دکھایا جاتا تھا۔ چین میں ایک بادشاہ نے اپنے محل کی حفاظت کے لیے اس کے دروازوں کو مقناطیس سے بنوایا تاکہ اس سے کوئی ہتھیار لے کر اندر نہ آ سکے۔

ہمیں اب تحقیق سے معلوم ہے کہ ہر چیز تھوڑی بہت مقناطیسی ہوتی ہے کیونکہ سب چیزیں ایٹم سے بنی ہیں اور اس خصوصیت کا بجلی سے گہرا تعلق ہے۔ ہر ایٹم میں الیکٹران نیوکلیس کے چاروں طرف چکر لگاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک بجلی بہتی ہے اور اس سے ایٹم ایک چھوٹا مقناطیس بن جاتا ہے۔ اگر ایٹم کے زیادہ تر الیکٹران ایک ہی سمت میں چکر لگائیں تو وہ ایٹم ایک طاقتور مقناطیس بن جاتا ہے۔ اب اگر اس چیز کے زیادہ تر ایٹم کے مقناطیس ایک ہی سمت ہوں تو وہ چیز ایک طاقتور مقناطیس بن جاتی ہے۔ مقناطیس کی تفصیلی کہانی کا کہیں اور ذکر ہوگا، ہم فی الحال گلبرٹ کی کہانی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔

گلبرٹ نے دیکھا کہ اگر ایک چھوٹا مقناطیس کسی نوکیلی چیز پر ایسا رکھا جائے کہ وہ آسانی سے گھوم سکے تو وہ ہمیشہ زمین کے شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مقناطیس کی یہ خصوصیت پرانے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھی لیکن شاید گلبرٹ وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ لکھا کہ چھوٹا مقناطیس اس لیے شمال کی طرف رہتا ہے کیونکہ ہماری زمین خود ایک بڑا مقناطیس ہے۔

اپنی ڈاکٹری کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اٹھارہ سال مقناطیس کے ساتھ کھیلتے ہوئے، گلبرٹ نے امبر کو رگڑنے کے بعد کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو کھینچنے پر بھی غور کیا۔ اس نے یہ سوچا کہ امبر بھی مقناطیس کی طرح ہو جاتا ہے۔ باریکی سے تجربہ کرنے پر اس نے پایا کہ حالانکہ امبر کی ’اسٹیک الیکٹریسٹی‘ مقناطیس کی طرح چھوٹی چیزوں کو کھینچتی ہے لیکن وہ کئی معنوں میں الگ ہے۔ پہلی تو یہ کہ مقناطیس مستقل ہوتا ہے، جبکہ امبر کو رگڑنا پڑتا ہے۔ دوسرا فرق یہ کہ مقناطیس ہر موسم میں کام کرتا ہے، جب کہ امبر صرف سوکھے دنوں میں اور اگر ہوا میں نمی ہو یا پانی ہو تو امبر بالکل کام نہیں کرتا۔ تیسرا اور بہت اہم فرق یہ کہ مقناطیس صرف کچھ خاص چیزوں کو کھینچتا ہے، جبکہ رگڑا ہوا امبر تقریباً ہر چیز کو کھینچتا ہے۔

ان دریافتوں کے بعد، اس نے مختلف چیزوں پر رگڑ کر تجربات کیے اور یہ دیکھا کہ صرف امبر ہی نہیں، بلکہ بہت سی چیزیں رگڑنے کے بعد امبر کی طرح کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں اور فر کو کھینچتی ہیں۔ چونکہ یہ خصوصیت سب سے پہلے امبر میں دریافت ہوئی تھی، اس لیے گلبرٹ نے اسے امبر کے یونانی نام ’الیکٹران‘ اور لاطینی میں ’الیکٹریئس فورس‘ کا نام دیا، جو پھر انگریزی میں ’الیکٹرک فورس‘ بن گیا۔ اس طرح ’الیکٹریسٹی‘ کو اس کا نام ملا۔

باوجود بہت دھیان سے تجربات کرنے کے گلبرٹ سے ایک بڑی غلطی ہوئی۔ اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ مقناطیس اپنی طرف کھینچتا (attract) اور دور بھی بھگاتا (repel) ہے۔ مخالف پولز ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں اور ایک جیسے پولز کے بیچ ریپلشن ہوتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ الیکٹریکس بھی ایسی ہو سکتی ہے جو ریپل کرے۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ الیکٹریکس میں صرف کشش ہوتی ہے۔ اس بات کا علم ہونے میں 70 سال اور لگے لیکن وہ کہانی پھر کبھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LDsCotB

جمعہ، 17 جنوری، 2025

اسرو کا اسپیس ڈاکنگ تجربہ کامیاب، تاریخی ویڈیو جاری؛ انڈوکنگ کی تیاری شروع

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی تنظیم (اسرو) نے 16 جنوری کو اپنا پہلا اسپیس ڈاکنگ تجربہ (SpaDeX) کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ تاریخی کامیابی اسرو کو پہلی ہی کوشش میں حاصل ہوئی، جس میں دو سیٹلائٹ کو خلا میں آپس میں جوڑ دیا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ بھارت روس، امریکہ، اور چین کے بعد چوتھا ملک بن گیا ہے جو اسپیس ڈاکنگ میں مہارت رکھتا ہے۔

اسرو کی جانب سے حالیہ تجربے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح خلا میں دو سیٹلائٹس کو ڈاکنگ کے ذریعے جوڑا گیا۔ ویڈیو میں اسرو کے سائنسدانوں کو مشن کی کامیابی پر خوشی اور تجسس سے بھرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ اسرو کے سربراہ وی نارائن اپنی ٹیم کو کامیاب مشن پر مبارکباد دیتے بھی نظر آئے۔

اسرو کے اس تاریخی اقدام کی دنیا بھر میں ستائش کی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے ہندوستانی خلائی مشنز کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ اسپیس ڈاکنگ کے ذریعے گگن یان، چاند پر انسانوں کی روانگی، اور ہندوستان کے اپنے اسپیس اسٹیشن کے منصوبوں کو بہتر انداز میں مکمل کیا جا سکے گا۔

اب اسرو کا اگلا قدم انڈوکنگ یعنی دونوں خلائی جہازوں کو الگ کرنا ہے، جس کے دوران پاور ٹرانسفر سسٹمز کی جانچ کی جائے گی۔ ہندوستان نے 2035 تک اپنے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا ہدف رکھا ہے، جسے 'ہندوستانی اسپیس اسٹیشن' کہا جائے گا۔ موجودہ کامیابی اس بڑی پیش رفت کا پہلا سنگ میل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QABCuUa

ہفتہ، 11 جنوری، 2025

ہندوستانی روبوٹک سسٹم نے 286 کلومیٹر دور سے انجام دی کامیاب سرجری

نئی دہلی: ہندوستانی ساختہ سرجیکل روبوٹک سسٹم 'ایس ایس آئی منتر' نے 286 کلومیٹر کی دوری سے ٹیلیر وبوٹک سرجری انجام دے کر طب کی دنیا میں تاریخ رقم کی ہے۔ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے دور سے دو کامیاب 'روبوٹک کارڈیک سرجریاں' مکمل کی گئیں۔

ڈاکٹر سدھیر سریواستو نے گڑگاؤں میں بیٹھ کر ایس ایس آئی منتر 3 سرجیکل روبوٹک سسٹم کی مدد سے جے پور کے منی پال اسپتال میں آپریشن کیے۔ پہلا آپریشن 'انٹرنل میمری آرٹری ہارویسٹنگ' تھا، جسے محض 58 منٹ میں مکمل کیا گیا، جب کہ دوسرا آپریشن 'روبوٹک بیٹنگ ہارٹ ٹی ای سی اے بی' تھا، جو کارڈیک سرجری کی سب سے مشکل اقسام میں سے ایک ہے۔

ان پیچیدہ سرجریوں میں تاخیر کا وقت صرف 35 سے 40 ملی سیکنڈ رہا، جس سے انقلابی سائنسی پیش رفت اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ ہوا۔

ڈاکٹر سدھیر سریواستو، جو ایس ایس انوویشن کے بانی اور سی ای او ہیں، نے کہا، "ٹیلیر وبوٹک سرجری کی صلاحیتوں سے ہم جغرافیائی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے بہترین طبی سہولیات فراہم کر سکتے ہیں۔ ہندوستان جیسے ملک کے لیے، جہاں دیہی آبادی اور صحت کی سہولتوں میں بڑا فرق ہے، یہ انقلابی قدم ثابت ہوگا۔"

جے پور کے منی پال اسپتال میں کارڈیک سرجری کے سربراہ ڈاکٹر لَلِت ملک نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی فاصلاتی رکاوٹوں کو دور کر کے مریضوں کو جدید اور وقت پر طبی مداخلت فراہم کرتی ہے۔

ایس ایس انوویشن کا تیار کردہ ایس ایس آئی منتر 3 دنیا کا واحد روبوٹک سسٹم ہے جسے ٹیلیر وبوٹک سرجری اور ٹیلِی پروکٹرنگ کے لیے ریگولیٹری منظوری ملی ہے۔ حال ہی میں سی ڈی ایس سی او سے حاصل کی گئی منظوری نے فاصلاتی سرجری اور میڈیکل ایجوکیشن کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس انقلابی اقدام سے طبی ماہرین کو دور بیٹھ کر بھی علاج کرنے کی سہولت میسر ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/cRo4CMv

اتوار، 5 جنوری، 2025

اسپیڈیکس: ہندوستانی اسپیس پروگرام کی تاریخی کامیابی

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کا اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ (اسپیڈیکس) ایک تاریخی کامیابی ہے، جس نے ہندوستان کو خلا میں ڈاکنگ کی ٹیکنالوجی کے عالمی رہنماؤں کے ہم پلہ کر دیا ہے۔ ہندوستان نے یہ سنگ میل 30 دسمبر 2024 کو پی ایس ایل وی ۔سی 60 کی کامیاب اڑان کے ذریعے حاصل کیا، جو سری ہری کوٹہ سے خلا میں روانہ کیا گیا تھا۔

اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ کا مقصد خلا میں موجود خلائی جہازوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے (ڈاکنگ) اور الگ کرنے (انڈوکنگ) کے لیے ضروری ٹیکنالوجی کی ترقی اور اس کا تجربہ کرنا ہے۔ ڈاکنگ مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے ایک اہم صلاحیت ہے، خاص طور پر ان مشنوں کے لیے جو عملے والے خلائی اسٹیشنز، سیٹلائٹ کی سروسنگ یا بین سیاروی تحقیق سے متعلق ہوں۔ یہ تجربہ اسرو کی وسیع تر خواہشات کا حصہ ہے، جس کا مقصد مختلف ایپلی کیشنز کے لیے خود مختار خلائی سسٹمز کی ترقی ہے، جن میں سیٹلائٹ کی سروسنگ، خلائی اسٹیشن کے لیے لاجسٹکس، اور طویل المدت خلائی مشن شامل ہیں۔

اسپیس ڈاکنگ کا مطلب ہے خلا میں دو خلائی جہازوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا اور انہیں محفوظ طریقے سے جوڑنا۔ یہ عمل خلاء بازوں کے ذریعے دستی طور پر (مینولی) یا روبوٹک سسٹمز کے ذریعے خودکار طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکنگ کی اہمیت اس لیے ہے کہ خلائی جہازوں کو خلائی اسٹیشنز (جیسے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن یا مستقبل میں ہندوستانی خلائی اسٹیشن) سے جوڑنے کی ضرورت ہوگی تاکہ سامان، عملہ اور آلات پہنچائے جا سکیں۔ دوسرے عملہ والے مشن کے دوران عملے کو خلائی اسٹیشنز میں منتقل کرنے کے لیے بھی ڈاکنگ کی صلاحیت ضروری ہے۔ مستقبل کے خلائی جہازوں کو خلا میں ایندھن بھرنے، مرمت یا اپگریڈنگ کے لیے ڈاک کرنے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ بین سیاروی مشنوں کے لیے ڈاکنگ ٹیکنالوجی ضروری ہے، جہاں خلائی جہازوں کو عملے کی منتقلی کے لیے یا خلا میں کسی بڑے خلائی جہاز کو جوڑنے کے لیے ڈاکنگ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

اسرو کی اسپیس ڈاکنگ ٹیکنالوجی ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اور اس کی کامیابی کے لیے کئی سنگ میل اور مندرجہ ذیل تجربات اہم ہیں:

1۔ گگن یان مشن ڈاکنگ ٹیسٹنگ: گگن یان مشن اسرو کا پرجوش انسانی خلائی پرواز کا پروگرام ہے، جس کا مقصد ہندوستانی خلاء بازوں کو خلا میں بھیجنا ہے۔ اس پروگرام کے ایک حصے کے طور پر، ڈاکنگ کی صلاحیتیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں کہ خلائی جہاز مستقبل میں ہندوستانی خلائی اسٹیشن یا دیگر خلائی جہازوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے ڈاک کر سکے۔ لہٰذا گگن یان خلائی جہاز کو خلائی اسٹیشن یا دیگر خلائی گاڑیوں کے ساتھ جوڑنے کے لیے خودکار ڈاکنگ سسٹمز کی ضرورت ہوگی۔ اس سے خلاء بازوں کو خلائی جہازوں کے درمیان منتقلی یا خودکار طور پر مشن کی فراہمی میں مدد ملے گی۔ اسرو ڈاکنگ کے میکانزم تیار کر رہا ہے جو انتہائی قابل اعتماد، درست، اور خلا کے سخت حالات میں کام کرنے کے قابل ہوں۔

2۔ اسپیس ڈاکنگ سسٹمز پر تحقیق اور ترقی: اسرو ڈاکنگ سسٹمز اور متعلقہ ٹیکنالوجیز جیسے ڈاکنگ اور انڈوکنگ میکانزم، گائیڈنس اور نیویگیشن سسٹمز، خودکار رینڈی وؤس ٹیکنالوجیز اور روبوٹک آرمز کی ترقی پر کام کر رہا ہے۔ یہ سسٹمز مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے اہم ہیں، جن میں سیٹلائٹ کی سروسنگ، عملے کی منتقلی اور خلائی اسٹیشن کے مشن شامل ہیں۔

3۔ اسرو کا چندریان اور گگن یان ڈاکنگ ٹیسٹ: 2019 میں، اسرو نے چندریان-2 مشن میں پہلی بار خودکار ڈاکنگ کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تاکہ خلائی جہازوں کے رینڈی وؤس کی ٹیکنالوجی کو آزمایا جا سکے۔ ڈاکنگ کا تجربہ سیٹلائٹ کی اسمبلی کے لیے درکار ٹیکنالوجیز کی جانچ کرنے کے لحاظ سے کامیاب رہا۔

گگن یان کے لیے، اسرو ایک خودکار ڈاکنگ سسٹم تیار کر رہا ہے جو عملے کی پرواز سے پہلے آزمایا جائے گا۔ یہ ٹیکنالوجی گگن یان کو ایک خلائی اسٹیشن کے ساتھ ڈاک کرنے یا خلا میں دیگر خلائی جہازوں کے ساتھ رینڈی وؤس کرنے کے قابل بنائے گی۔

4۔ اسٹروسیٹ اور مستقبل کے ڈاکنگ ٹیسٹ: گگن یان اور چندریان کے علاوہ، اسرو نے اپنے سیٹلائٹ مشنوں میں ڈاکنگ کی صلاحیتوں کو شامل کیا ہے۔ مثال کے طور پر، ہندوستان کی پہلی مختص کثیر لہریں خلائی آبزرویٹری، اسٹروسیٹ نے رینڈی وؤس اور ڈاکنگ کے عمل کے کچھ پہلوؤں کا مظاہرہ کیا، جو مستقبل کے مشنوں کے لیے مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

5۔ ٹیسٹ بیڈ تجربات (رینڈی وؤس اور ڈاکنگ): اسرو نے ڈاکنگ ٹیکنالوجی کو درست ثابت کرنے کے لیے کئی ٹیسٹ بیڈ تجربات تیار کیے ہیں۔ ان تجربات میں خودکار رینڈی وؤس اور ڈاکنگ کی ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا گیا ہے، جس میں خلائی جہاز کی درست نگرانی اور ڈاکنگ کے عمل کو بہت زیادہ درستگی کے ساتھ ہم آہنگ کیا جاتا ہے۔ یہ تمام تجربات اور منصوبے اسرو کی خلا میں ڈاکنگ کے حوالے سے تکنیکی مہارت کو بڑھانے اور مستقبل کے مشنوں کے لیے ضروری صلاحیتوں کو تیار کرنے کے لیے اہم ہیں۔

خلائی جہازوں کی ڈاکنگ کے لیے پیچیدہ ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہوتی ہے اور اسرو ان اجزاء کی ترقی پر کام کر رہا ہے جو خودکار اور دستی دونوں ڈاکنگ آپریشنز کے لیے ضروری ہیں:

خودکار رینڈی وؤس اور ڈاکنگ: یہ ٹیکنالوجی مستقبل کے خلائی مشنوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ خلائی جہازوں کو خودکار طور پر ایک دوسرے کے قریب لانے، رینڈی وؤس کرنے اور ڈاک کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ خلائی جہاز کے اندرونی سسٹمز ڈاکنگ کے دوران نیویگیشن، گائیڈنس اور کنٹرول کو سنبھالتے ہیں۔

ڈاکنگ میکانزم: ڈاکنگ سسٹم میں وہ جسمانی کنیکٹر اور آلات شامل ہیں جو دو خلائی جہازوں کے درمیان محفوظ جوڑ کو یقینی بناتے ہیں۔ اسرو ڈاکنگ رنگز، میکانیکل آرمز اور محفوظ لاکنگ میکانزم پر کام کر رہا ہے جو محفوظ جوڑ کو یقینی بنائیں۔

خلائی جہازوں کی ڈاکنگ کے لیے پیچیدہ ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہوتی ہے، اور اسرو ان اجزاء کی ترقی پر کام کر رہا ہے جو خودکار اور دستی دونوں ڈاکنگ آپریشنز کے لیے ضروری ہیں:

کمیونیکیشن سسٹمز: ڈاکنگ کے لیے دونوں خلائی جہازوں کے درمیان کمیونیکیشن ضروری ہے۔ اس میں ریڈیو فریکوئنسی کمیونیکیشن، ڈیٹا شیئرنگ اور ویژوئل سسٹمز شامل ہیں جو خلائی جہاز کو ڈاکنگ کی سمت میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

سینسر اور گائیڈنس سسٹمز: دقیق نیویگیشن سینسرز کو خلائی جہاز کو ڈاکنگ پورٹ کی طرف رہنمائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان میں لیڈار (لائٹ ڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ)، ریڈار، آپٹیکل سسٹمز اور لیزر کمیونیکیشن سسٹمز شامل ہیں جو درست پیمائش فراہم کرتے ہیں۔

سیفٹی پروٹوکولز: اسرو ایمرجنسی انڈوکنگ، ڈاکنگ کی ناکامی کی صورت میں متبادل منصوبوں، اور ڈاکنگ کے بعد آپریشنز (جیسے عملے کی منتقلی، سامان کی فراہمی وغیرہ) کے لیے سسٹمز تیار کر رہا ہے۔

اسرو کے اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ کی مستقبل کے عملے والے مشنوں کے لیے بہت اہمیت ہے۔ اسرو کی ڈاکنگ ٹیکنالوجی کی کامیابی عملے کی منتقلی، ری سپلائی مشنوں اور خلائی اسٹیشنز (ہندوستانی اور بین الاقوامی دونوں) کے آپریشنز کے لیے درکار ہوگی۔ مزید برآں، مستقبل میں ہندوستانی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ خلائی اسٹیشن کے ساتھ خودکار طور پر ڈاک کرنے کی صلاحیت لاجسٹکس، عملے کی تبدیلی کے مشنوں، اور سائنسی تحقیق کے لیے ضروری ہوگی۔ ڈاکنگ کی ٹیکنالوجی سیٹلائٹ کی سروسنگ کے لیے بھی معاون ثابت ہوگی، جس میں سیٹلائٹ کی مرمت، اپگریڈنگ یا ایندھن بھرنے کی صلاحیت شامل ہے، جس سے ان کی عملی زندگی میں اضافہ ہوگا اور متبادل کی ضرورت کم ہوگی۔

اس کے علاوہ مستقبل کے بین سیاروی مشنوں میں خلائی جہازوں کو ایک دوسرے یا دیگر فلکیاتی اجسام (جیسے مریخ) کے ارد گرد مدار میں خلائی اسٹیشنز کے ساتھ ڈاک کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں اسرو کی ڈاکنگ ٹیکنالوجیز ان مشنوں میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ڈاکنگ ٹیکنالوجیز کی ترقی ہندوستان میں کمرشل خلائی سرگرمیوں کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے، جیسے خلائی سیاحت، نجی سیٹلائٹ کی خدمت، اور نجی خلائی اسٹیشنز، جس سے نئے کاروباری مواقع پیدا ہوں گے۔ اسرو کا کامیاب اسپیس ڈاکنگ ایکسپیریمنٹ ہندوستان کا مستقبل کی انسانی خلائی پرواز، خلائی تحقیق، سیٹلائٹ کی سروسنگ کی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت ہے۔ کامیاب ڈاکنگ ٹیکنالوجی نے اسرو کو عالمی خلائی کمیونٹی میں ایک اہم کھلاڑی بنا دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nYbrjvw

بدھ، 1 جنوری، 2025

خوش آمدید 2025: اِسرو خلا میں اونچی پرواز کے لیے تیار، کچھ نئی تاریخ رقم کرنے پر ہے نظر

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ ’اِسرو‘ کے لیے 2024 تاریخی ثابت ہوا۔ اب اِسرو 2025 میں بھی خلا کے کئی راز جاننے کو پُرجوش ہے۔ خلا میں اونچی پرواز کے لیے تیار اِسرو اس سال کچھ نئی تاریخ رقم کرنے پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ یعنی 2025 میں بھی ہندوستان کچھ نئے ریکارڈ بنانے کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے۔

2025 میں اِسرو کئی منصوبوں کو لانچ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ مارچ 2025 میں ناسا اور اِسرو مشترکہ طور پر ’نسار‘ سیٹلائٹ لانچ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ ناسا اور اِسرو کے درمیان تعاون کے تحت بنایا گیا ہے۔ ’نسار‘ کا مطلب ’ناسا-اسرو سنتھیٹک اپرچر رڈار‘ ہے۔ اس سیٹلائٹ کو آندھرا پردیش کے ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا جانا ہے۔

اس سیٹلائٹ کو ہر 12 دنوں میں ارض کے تقریباً پورے زمینی علاقہ و برف کی سطحوں کی نگرانی کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ایکو سسٹم (ماحولیاتی نظام)، زمین اور سمندری برف و ٹھوس ارض میں ہونے والی تبدیلیوں کو ٹریک کرے گا۔ نسار تقریباً 40 فیٹ (12 میٹر) قطر والے ڈرم کے سائز کے ریفلیکٹر انٹینا کے ساتھ رڈار ڈاٹا جمع کرے گا۔ یہ ارض کی زمین اور برف کی سطحوں میں ایک انچ تک تبدیلی کا تجزیہ کرنے کے لیے نسار نامی سگنل-پروسیسنگ تکنیک کا استعمال کرے گا۔

نسار کے علاوہ 2025 میں اِسرو مزید 6 سیٹلائٹ لانچ کرنے والا ہے۔ اِسرو بحریہ کے لیے جی سیٹ-7 آر، آرمی کے لیے جی سیٹ-7بی، براڈ بینڈ اور اِن-فلائٹ کنکٹیویٹی کے لیے جی سیٹ-این2، ڈیفنس، پیرا ملٹری، ریلوے، فشریز کے لیے جی سیٹ-این3 کے علاوہ گگن یان کے ساتھ رابطہ بنائے رکھنے کے لیے 2 سیٹلائٹ لانچ کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی 6 نگرانی سیٹلائٹ بھی لانچ کیے جائیں گے۔

2025 میں لوگوں کی نظر ہندوستان کے دیرینہ گگن یان مشن پر بھی رہے گی۔ ملک کا پہلا انسانی خلائی طیارہ پروگرام 2025 کی شروعات میں روبوٹ ویوم متر کے ساتھ آخری تجرباتی پرواز سے گزرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے 2026 میں گگن یان کے ذریعہ پہلے ہندوستانی باشندہ کو خلاء میں بھیجا جا سکے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/l5QjDUe

پیر، 30 دسمبر، 2024

امریکہ کے ٹریزری ڈیپارٹمنٹ پر چینی ہیکرز کا حملہ، کئی دستاویزات کی چوری

واشنگٹن: چینی ہیکرز نے امریکی ٹریزری ڈیپارٹمنٹ کو ہیک کر کے کئی ورک اسٹیشن اور غیر درجہ بند دستاویزات تک رسائی حاصل کر لی۔ 8 دسمبر کو ہونے والے اس سائبر حملے میں ہیکرز نے ایک تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر پرووائیڈر کی سکیورٹی میں خامیاں تلاش کیں اور سسٹم میں دراندازی کی۔ امریکی حکام نے اس حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور اسے ایک سنگین سائبر سکیورٹی واقعہ قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ حملہ اس وقت شروع ہوا جب تھرڈ پارٹی سافٹ ویئر پرووائیڈر بایونڈ ٹرسٹ نے ٹریزری ڈیپارٹمنٹ کو اطلاع دی کہ ہیکرز نے ان کی سکیورٹی کو بائی پاس کرتے ہوئے کئی ورک اسٹیشنز کا ریموٹ ایکسیس حاصل کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق، ہیکرز نے سسٹم میں دراندازی کرنے کے بعد، سکیورٹی کی ایک ’کی‘ چُرا لی تھی جو سرورز کی حفاظت کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

اس حملے کے بعد، ٹریزری ڈیپارٹمنٹ نے فوری طور پر متاثرہ سسٹمز کو آف لائن کر دیا تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔ وزارت خزانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ہیکرز کے پاس وزارت خزانہ کی معلومات تک مسلسل رسائی ہو، مگر یہ حملہ ایک سنگین سائبر سکیورٹی خلاف ورزی سمجھی جا رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد، امریکی ایجنسیوں بشمول ایف بی آئی نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ سائبر حملہ ایک منظم اور پیچیدہ حملہ تھا جس میں ہیکرز نے کسی خاص مقصد کے تحت سرکاری سسٹمز میں دراندازی کی۔ اس حملے نے امریکی حکام کو اپنی سائبر سکیورٹی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ ان کی سائبر دفاعی حکمت عملی کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔

اس حملے میں کس قسم کی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی، اس بارے میں حکام نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تاہم، ٹریزری ڈیپارٹمنٹ نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ہیکرز کے پاس کوئی ایسی معلومات نہیں ہیں جو عوام یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔ حکام نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئندہ اس طرح کے حملے نہ ہوں اور ان کے سسٹمز کی حفاظت کے لیے اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔

اس واقعے نے امریکہ اور چین کے درمیان سائبر حملوں کے حوالے سے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کی جانب سے کیے گئے متعدد سائبر حملوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں، جن میں امریکی حکومت کے اہم اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اور بڑے حملے میں چین کے جاسوسوں نے امریکی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کے نیٹ ورک کو ہیک کیا تھا، جس میں کئی حساس معلومات چین کے حکام تک پہنچیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JH71Elg

اِسرو نے ’اسپیڈیکس‘ لانچ کر رقم کی تاریخ، ہندوستان اب امریکہ، روس اور چین کے ایلیٹ کلب میں شامل

سال 2024 کے اختتام سے ٹھیک ایک دن قبل اِسرو نے خلائی سائنس کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ شری ہری کوٹا سے پی ایس ایل وی-سی 60 راکیٹ سے 2 چھوٹے اسپیس کرافٹ لانچ کیے گئے ہیں، اور یہ پہلی مرتبہ ہوگا جب اِسرو کے ذریعہ ارض سے 470 کلومیٹر اوپر 2 راکیٹس کی ڈاکنگ اور اَن ڈاکنگ کا عمل انجام دیا جائے گا۔ یعنی ہزاروں کلومیٹر کی رفتار سے اڑتے ہوئے 2 اسپیس کرافٹ کو پہلے جوڑا جائے گا، اور پھر انھیں علیحدہ کیا جائے گا۔

ہندوستان اس مشن کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے کے بعد امریکہ، روس اور چین کے ایلیٹ کلب میں شامل ہو گیا ہے۔ اِسرو کے اس مشن کا نام ’اسپیس ڈاکنگ ایکسپریمنٹ‘ یعنی ’اسپیڈیکس‘ (SpaDex) دیا ہے۔ ہندوستان کے لیے یہ فخر کی بات ہے کہ اِسرو نے اب اس ڈاکنگ سسٹم پر پیٹنٹ بھی لے لیا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ عام طور پر کوئی بھی ملک ڈاکنگ اور اَن ڈاکنگ کی پیچیدہ باریکیوں کو شیئر نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اِسرو کو اپنا خود کا ڈاکنگ میکنزم بنانا پڑا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ خلا میں خود کا خلائی اسٹیشن بنانے اور چندریان-4 کی کامیابی کا خواب اسپیڈیکس مشن پر مرکوز ہے۔ اس مشن میں 2 اسپیس کرافٹ شامل ہیں۔ ایک کا نام ٹارگیٹ یعنی ہدف ہے، جبکہ دوسرے کا نام چیزر یعنی پیچھا کرنے والا ہے۔ دونوں کا وزن 220 کلوگرام ہے۔ پی ایس ایل وی-سی60 راکیٹ سے 470 کلومیٹر کی اونچائی پر دونوں اسپیس کرافٹ کو الگ الگ سمت میں لانچ کیا گیا۔ آگے بڑھتے ہوئے ٹارگیٹ اور چیزر کی رفتار 28 ہزار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جائے گی۔

بتایا جا رہا ہے کہ لانچ کے تقریباً 10 دنوں بعد ڈاکنگ کا عمل شروع ہوگا۔ یعنی ٹارگیٹ اور چیزر کو آپس میں جوڑا جائے گا۔ تقریباً 20 کلومیٹر کی دوری سے چیزر اسپیس کرافٹ تیزی کے ساتھ ٹارگیٹ اسپیس کرافٹ کی طرف بڑھے گا۔ اس کے بعد یہ دوری گھٹتے ہوئے 5 کلومیٹر تک پہنچے گی، پھر ڈیڑھ کلومیٹر ہوگی، اس کے بعد 500 میٹر، اور اسی طرح دھیرے دھیرے قریب ہوتے ہوئے دونوں اسپیس کرافٹ (ٹارگیٹ اور چیزر) آپس میں جڑ جائیں گے۔

جب چیزر اور ٹارگیٹ کے درمیان کی دوری 3 میٹر ہوگی، تب ڈاکنگ یعنی دونوں اسپیس کرافٹ کے آپس میں جڑنے کا عمل شروع ہوگا۔ چیزر اور ٹارگیٹ کے جڑنے کے بعد الیکٹریکل پاور ٹرانسفر کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کو زمین سے ہی کنٹرول کیا جائے گا۔ اِسرو کے لیے یہ مشن ایک بہت بڑا تجربہ ہے، کیونکہ مستقبل کے خلائی پروگرام کا انحصار اس مشن پر ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ جب ایک ہی مشن کو کئی مراحل میں لانچ کیا جاتا ہے تو یہ تکنیکی لازمی ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/t23H1re

اتوار، 29 دسمبر، 2024

آن لائن جرائم پر بین الاقوامی کنونشن منظور

آن لائن جرائم کی روک تھام اور دنیا بھر کے لوگوں کو ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سائبر جرائم کے خلاف کنونشن منظور کر لیا ہے ۔ یہ کنونشن رکن ممالک کی پانچ سالہ کوششوں کے بعد طے پایا گیا۔ اس کے اصول و ضوابط طے کرنے میں سول سوسائٹی، اطلاعاتی تحفظ کے ماہرین اور تعلیمی و نجی شعبے سے آرا بھی لی گئیں ۔ یہ فوجداری انصاف کا پہلا عالمی معاہدہ ہے جس پر تقریباً 20 سال سے بات چیت جاری تھی۔ آئندہ سال ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں اس پر دستخط کیے جائیں گے۔ 40 ممالک کی جانب سے توثیق ملنے کے تین ماہ بعد یہ باقاعدہ طور سے نافذالعمل ہو جائے گا۔ اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک اس پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 24 دسمبر کو اس کنونشن سے متعلق قرارداد کو بغیر رائے شماری کے منظور دے دی۔ یہ کنونشن اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے جنم لینے والے نمایاں خطرات کو تسلیم کرتا ہے جسے جرائم پیشہ عناصر غیرمعمولی حجم، رفتار اور وسعت کی حامل مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے کام میں لا سکتے ہیں۔ اس میں ریاستوں، کاروباروں اور معاشرے پر ایسے جرائم کے انتہائی منفی اثرات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ کنونشن میں دہشت گردی، انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ اور آن لائن مالیاتی جرائم سے لاحق خطرات اور ان سے تحفظ کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ کنونشن کے مطابق سائبر جرائم کے مقابل غیرمحفوظ لوگوں کے لیے انصاف کو ترجیح دینا بہت ضروری ہے، لہٰذا آن لائن جرائم کے خلاف تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی معاونت، صلاحیتوں میں اضافے اور ممالک کے مابین تعاون کو بڑھانا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق یہ معاہدہ سائبر جرائم کی روک تھام اور ان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ممالک کے اجتماعی عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنائے گا۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس معاہدہ میں شمولیت اختیار کریں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ بعد ازاں ان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے رکن ممالک کو جرائم سے متعلق معلومات اور ثبوتوں کے تبادلے، متاثرین کی حفاظت اور جرائم کی روک تھام اور آن لائن دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کا غیرمعمولی پلیٹ فارم میسر آئے گا۔

جدید اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا انسانی ترقی میں نہایت اہم کردار ہے لیکن اس کے ذریعے سائبر جرائم کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے نئے کنونشن کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے رکن ممالک کو ان جرائم کی روک تھام کے ساتھ عوام کے حقوق کے آن لائن تحفظ کی غرض سے بین الاقوامی تعاون کے ذرائع میسر آئیں گے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ ولی کے مطابق یہ کنونشن بچوں کے جنسی استحصال، جدید طریقوں سے کیے جانے والے آن لائن فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے سائبر جرائم سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ اس ضمن میں ان کا ادارہ تمام ممالک کو اس کنونشن پر عملدرآمد میں مدد دینے اور انہیں اپنی معیشتوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو سائبر جرائم سے تحفظ کے لیے درکار تمام ذرائع مہیا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

قبل ازیں، سعودی عرب نے دسمبر کے وسط میں ریاض میں 19ویں انٹرنیٹ گورننس فورم کی میزبانی کی۔ اس موقع پر، مصنوعی ذہانت کی ماہر محترمہ ایوانا بارٹولیٹی نے رائے دی کہ کمپنیوں اور حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کے آلات و مصنوعات کے ممکنہ غلط استعمال سے افراد کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔ وہ ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی وپرو کی گلوبل چیف پرائیویسی اور اے آئی گورننس آفیسر، اور کونسل آف یورپ کی مشیر اور ویمن لیڈنگ ان اے آئی نیٹ ورک کی شریک بانی ہیں۔

ایک انٹرویو میں، انہوں نے خواتین اور عالمی جنوب کی جانب سے اے آئی صنعت میں نمائندگی کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ یورپ میں اس صنعت میں کام کرنے والوں میں سے صرف 28 فیصد خواتین ہیں۔ ہر اے آئی پروڈکٹ ایسے عناصر پر مبنی ہوتا ہے جنہیں لوگ منتخب کرتے ہیں۔ لہذا، کافی خواتین اور تنوع کا نہ ہونا مسئلہ کا باعث ہے۔ لیکن یہ صرف زیادہ خواتین کوڈرز اور پروگرامرز رکھنے کا معاملہ نہیں ہے، یہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ اے آئی اور ٹیکنالوجی میں جانے کے بہت سے طریقے ہیں، اور ضروری نہیں کہ وہ کوڈر ہی بنیں۔

بارٹولیٹی نے دعوی کیا کہ جس طرح سے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے وہ غیر جانبدار نہیں ہے کیونکہ کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا ڈیٹا شامل کرنا ہے۔ لہذا، اے آئی کی طرف سے کی گئی پیشین گوئیاں غیر جانبدار نہیں ہیں۔ ہمیں اے آئی کی گورننس، آڈیٹنگ، تحقیقاتی صحافت کے لیے خواتین کے علاوہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا غلط ہو رہا ہے۔

اے آئی سسٹم کی منصفانہ اور شفاف طریقے سے تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف حکومتوں، نجی شعبے، بڑی ٹیک کمپنیوں، کارپوریٹس اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون جاری ہے ۔ لیکن مزید اقدام کی ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل میں درستگی اور شفافیت ایک قانونی ضرورت بن سکتی ہے۔ ہر ملک کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اے آئی معاشرے میں موجودہ عدم مساوات کو بڑھاوا نہ دے، یا انٹرنیٹ کو مزید غیر محفوظ نہ بنا دے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور غلط معلومات پھیلانا بہت آسان ہے۔ اس تناظر میں، اسکولوں میں تعلیم اور اے آئی خواندگی ایک تنقیدی ذہنیت کو تیار کرنے کے لیے اہم ہیں۔ لیکن لوگوں کو یہ بتانا کہ وہ اپنی آن لائن حفاظت کے لیے خود ذمہ دار ہیں سراسر ناانصافی ہے۔ بارٹولیٹی نے تسلیم کیا کہ اے آئی خواندگی بہت اہم ہے، لیکن ذمہ داری مصنوعات بنانے والی بڑی ٹیک کمپنیوں اور ان مصنوعات کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے والی حکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hCwmuLK

ہفتہ، 21 دسمبر، 2024

’اِسرو‘ اور ’ایسا‘ کے درمیان ایک بڑے معاہدہ پر ہوا دستخط، خلائی تحقیق میں مل کر کام کرنے کا راستہ ہموار

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) اور یوروپی خلائی ایجنسی (ایسا) کے درمیان خلائی شعبہ میں ایک بڑا اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ ہفتہ کے روز اِسرو نے اس سلسلے میں جانکاری دی اور بتایا کہ اس معاہدہ کے تحت خلائی مسافر تربیت، مشن پر عمل درآمد اور تحقیقی تجربات سے متعلق سرگرمیوں پر تعاون کیا جائے گا۔ اس معاہدہ پر اِسرو چیف ایس. سومناتھ اور ایسا ڈائریکٹر جوسف ایشبیچنر نے دستخط کیے۔

اِسرو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدہ کے تحت دونوں ایجنسیاں انسانی تلاش و جستجو اور تحقیق میں تعاون کریں گی۔ خصوصاً خلائی مسافر تربیت، تجربات، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ایسا کی سہولیات کا استعمال، انسان اور بایو میڈیکل ریسرچ تجربات پر عمل درآمد، ساتھ ہی تعلیم و عوامی بیداری کی سرگرمیوں پر مل کر کام کیا جائے گا۔ جاری بیان میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’ایکسیوم-4‘ مشن میں اِسرو کے گگن یاتری اور ایسا کے خلائی مسافر شامل ہیں۔ اس مشن میں ہندوستانی سائنسدانوں کے ذریعہ کی گئی کچھ تحقیق کا استعمال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کیا جائے گا۔

اس موقع پر سومناتھ نے کہا کہ اِسرو نے انسانی خلائی پرواز کے لیے ایک خاکہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان اپنے سودیشی خلائی اسٹیشن بی ایس ایس (بھارتیہ انترکش اسٹیشن) بھی بنانے جا رہا ہے اور اس سے ایسا کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔ علاوہ ازیں ایسا ڈائریکٹر ایشبیچنر نے اس معاہدے کو دونوں ایجنسیوں کے لیے بہت اہم بتایا اور اِسرو کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدہ سے دونوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EuPwtKf

پیگاسس معاملہ: امریکی عدالت نے ہیکنگ کے لیے این ایس او گروپ کو قصوروار قرار دیا، وہاٹس ایپ کی ہوئی جیت

پیگاسس معاملے میں وہاٹس ایپ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ این ایس او گروپ ٹیکنالوجی کو ہیکنگ کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کو آیا اور اسے 'میٹا' کے میسجنگ ایپ کے ذریعہ 2019 میں امریکہ میں دائر ہائی پروفائل مقدمے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اسپائی ویئر متاثرین کے لیے بھی بڑی جیت ہے۔

واضح ہو کہ پیگاسس شروع سے ہی کسی فون یا الیکٹرونک ڈیوائس پر خفیہ طریقے سے نظر رکھنے اور جانکاریاں جمع کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اور اس اسپائی ویئر کا اس دوران وہاٹس ایپ کے ذریعہ لوگوں سے جڑی جانکاری چرانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت کے دوران یو ایس ڈسٹرکٹ جج فلیس ہیملٹن نے وہاٹس ایپ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے این ایس او گروپ کو ریاست اور وفاقی ہیکنگ قوانین کی خلاف ورزی کے لیے قصوروار قرار پایا۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ این ایس او گروپ نے وہاٹس ایپ کی خدمات شرائط اور امریکی کمپیوٹر فراڈ اور ابیوز ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے اس سافٹ ویئر کو بنانے والی کمپنی اور اس کے مالک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جج ہیملٹن نے کہا کہ این ایس او گروپ نے قانونی عمل میں خلل پیدا کی ہے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ اس نے وہاٹس ایپ کو اسپائی ویئر کا سورس کوڈ نہیں دیا ہے۔ جبکہ عدالت نے اسے 2024 کی شروعات تک یہ کوڈ دینے کے لیے کہا تھا۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد بھی کمپنی نے کوڈ یہاں نہیں دیا اور اس کی بجائے کمپنی نے کوڈ کو صرف اسرائیل میں دستیاب کرایا اور اس کا جائزہ صرف اسرائیلی شہریوں تک محدود رکھا۔ ہمارے مطابق یہ پوری طرح سے اصول کے خلاف ہے۔

امریکی عدالت کے اس فیصلے سے یہ تو صاف ہو گیا ہے کہ پیگاسس آج کے دور میں کسی کے بھی موبائل میں گھس کر ضروری معلومات نکال سکتا ہے۔ ساتھ ہی جس طرح سے اسپائی ویئر کو بنانے والی کمپنی نے امریکی عدالت کی بات نہ مانتے ہوئے متعلقہ کوڈ میٹا کو دستیاب نہیں کرایا، اس سے یہ بھی صاف ہو جاتا ہے کہ پیگاسس کسی بھی ملک کے قانون اور وہاں کی عدالت کے حکم کو اپنے اوپر نافذ نہیں کرتا ہے۔ امریکی عدالت کے ذریعہ قصوروار قرار دیے جانے کے بعد اب دنیا کے کئی ملک بھی پیگاسس پر اپنی نظر رکھیں گے اور ذرا بھی شبہہ ہونے پر وہ اس کی جانچ کرانے کے لیے امریکی عدالت کے حکم کو بنیاد بنا سکتے ہیں.



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IFK7ZOl

بدھ، 18 دسمبر، 2024

ناسا نے سنیتا ولیمس اور بچ ولمور کی واپسی میں مزید تاخیر کی تصدیق کی، فروری میں زمین پر واپس آنا ممکن نہیں

ہند نژاد امریکی خلا باز سنیتا ولیم کی خلا سے واپسی ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ اس سلسلے میں خلائی ایجنسی 'ناسا' نے منگل کو ایک اَپڈیٹ جاری کیا۔ اس کے مطابق خلا سے انہیں واپس لانے کے مشن میں مزید تاخیر ہوگی۔ اب انہیں کم سے کم مارچ کے آخر تک وہیں رہنا ہوگا۔ واضح ہو کہ گزشتہ کئی مہینوں سے سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی بُچ ولمور انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ دونوں فروری میں زمین پر لوٹنے والے تھے۔

سینئر خلا باز سنیتا ولیمس اور بُچ ولمور جون میں بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ یہ مشن صرف 8 دن کا تھا لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اسٹار لائنر میں تکنیکی خرابی آ گئی اور ان کی واپسی نہیں ہو سکی۔ اب 'ناسا' نے اپنے ایک بلاگٹ پوسٹ میں واپسی کے لیے مزید انتظار کرنے کی خبر دی ہے۔ اس سے 8 دنوں کا یہ مشن 9 مہینے سے زیادہ کا ہو جائے گا۔

سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی کی واپسی کے لیے ایک دوسرا طیارہ خلا میں بھیجا گیا تھا۔ کرو-9 کے دو خلائی مسافر ستمبر میں ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعہ آئی ایس ایس پہنچے تھے۔ اس میں سنیتا ولیمس اور ولمور کے لیے دو خالی سیٹیں تھیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ فروری 2025 میں چاروں واپس گھر لوٹ آئیں گے۔ حالانکہ 'ناسا' نے منگل کو کہا کہ کرو-10 جو کہ کرو-9 اور ان دونوں خلائی مسافروں کو لے کر آئے گا، اب مارچ 2025 سے پہلے لانچ نہیں ہو پائے گا۔

وہیں پیر کو سنیتا ولیمس بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرسمس مناتی ہوئی نظر آئی تھیں۔ 'ناسا' نے اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر ساجھا کی تھیں، جس سے سنیتا ولیمس کے مداحوں کو کافی خوشی ہوئی تھی۔ اب لوگوں کو سنیتا ولیمس کی خلا سے زمین پر جلد سے جلد واپسی کا انتظار ہے، حالانکہ ان کا انتظار مزید طویل ہو گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EdesMBK