ہفتہ، 23 اگست، 2025

ہندوستان کی ’ویدر وومین‘ انا منی، جنہیں فزکس نہ ملا تو موسمیات میں انقلاب برپا کر دیا!

ریاستِ تروانکور (موجودہ کیرالہ) میں 23 اگست 1918 کو پیدا ہونے والی انا منی کا شمار ان خواتین سائنس دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے وژن اور انتھک محنت سے ملک کا سر فخر سے بلند کیا۔ آج ہندوستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو دنیا کو درست اور فوری موسم کی پیش گوئی فراہم کرتے ہیں۔ یہ کارنامہ برسوں کی تحقیق اور کوششوں کا نتیجہ ہے جس میں انا منی کا کردار نمایاں ہے۔ انہیں بجا طور پر ’ویدر وومین آف انڈیا‘ کہا جاتا ہے۔

بچپن ہی سے انا منی کو کتابوں سے خاص شغف تھا۔ محض بارہ برس کی عمر تک وہ اپنے علاقے کے پبلک لائبریری کی تقریباً تمام کتابیں پڑھ چکی تھیں۔ ہائی اسکول کے بعد انہوں نے ویمنز کرسچن کالج سے انٹرمیڈیٹ سائنس اور پھر مدراس کے پریسیڈنسی کالج سے فزکس اور کیمسٹری میں آنرز کے ساتھ بی ایس سی مکمل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا اصل خواب میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا تھا لیکن حالات نے رخ بدلا اور وہ فزکس میں آ گئیں، جس میں وہ غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھیں۔

انا منی کو 1940 میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلور میں اسکالرشپ ملی، جہاں انہوں نے نوبل انعام یافتہ سائنس داں سی وی رمن کی نگرانی میں ہیروں کی خصوصیات پر تحقیق کی اور پانچ برس تک دن رات تجربہ گاہ میں کام کیا۔ اس انتھک محنت کے باوجود انہیں وہ پی ایچ ڈی ڈگری نہیں دی گئی جس کی وہ حقدار تھیں کیونکہ اس وقت یونیورسٹی آف مدراس نے یہ شرط لگائی کہ ان کے پاس ایم ایس سی کی ڈگری نہیں ہے۔ مگر انا منی نے اس محرومی کو کبھی دل پر نہیں لیا اور کہا کہ ڈگری نہ ملنے سے ان کی زندگی اور کام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

بعد ازاں انہیں برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ ملی۔ جب وہ لندن پہنچیں تو معلوم ہوا کہ یہ اسکالرشپ فزکس کے بجائے موسمیاتی آلات کے مطالعے کے لیے ہے۔ انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور یہی فیصلہ ان کے کیریئر کا نیا موڑ ثابت ہوا۔ لندن کے امپیریل کالج میں انہوں نے موسمیاتی آلات کی تیاری اور تحقیق میں مہارت حاصل کی۔

انا منی نے 1948 میں وطن واپسی کے بعد پونے میں انڈین میٹیرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (ہندوستانی محکمہ موسمیات) میں شمولیت اختیار کی۔ یہاں انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک کام کیا اور درجنوں سائنسی تحقیقی مقالے شائع کیے۔ ان کا سب سے اہم کارنامہ شعاعی اور فضائی اوزون کی پیمائش کے آلات تیار کرنا تھا۔ انہوں نے اوزون سونڈ نامی آلہ بنایا جو اوزون کی مقدار ناپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

انہی کی کوششوں سے ہندوستان میں موسمی آلات کے قومی معیار قائم ہوئے اور عالمی سطح پر ان آلات کا موازنہ ممکن ہوا۔ ان کے کام نے ملک میں موسم کی پیش گوئی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا اور کسانوں سے لے کر عام شہری تک سب کے لیے اس کا فائدہ ہوا۔

1976 میں انا منی محکمہ موسمیات کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تحقیق سے رشتہ نہ ٹوٹا اور وہ تین برس تک رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔

ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ عزم، مطالعہ اور محنت کے بل بوتے پر کس طرح رکاوٹوں کو مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ 2001 میں ترواننت پورم (کیرالہ) میں ان کا انتقال ہوا لیکن ان کا سائنسی ورثہ آج بھی ہندوستانی موسمیات کی بنیادوں کو مضبوط کیے ہوئے ہے۔

انا منی کی کہانی صرف ایک سائنس داں کی نہیں بلکہ اس خواب کی ہے جو خواتین کو سائنس اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، لگن اور علم سے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔

(مآخذ: آئی اے این ایس)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/L9Hh0GV

بدھ، 30 جولائی، 2025

زمین کا مشاہدہ کرنے والا سٹیلائٹ نسار کامیابی کے ساتھ مدار میں نصب

ہندوستان-امریکہ خلائی سفارت کاری میں اہم سنگ میل کے تحت، ہندوستان کے جی ایس ایل وی-F16 راکٹ نے نسار سٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا، جو کہ ناسا اور اسرو کے ذریعہ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا پہلا زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ ہے ۔جی ایس ایل وی-F16 راکٹ نے 2,392 کلوگرام وزنی نسار سٹیلائٹ کے ساتھ شام 5.40 بجے آندھرا پردیش کے راکٹ پورٹ کے دوسرے لانچ پیڈ سے اڑان بھری اور 19 منٹ کی پرواز کے بعد، راکٹ نے سٹیلائٹ کو خط استواء سے 98.405 ڈگری کے جھکاؤ کے ساتھ شمسی قطبی مدارمیں 743 کلومیٹر پر نصب کیا۔

سٹیلائٹ مدار میں پہنچنے کے بعد اسرو نے کہا کہ " نسار سٹیلائٹ الگ ہو گیا۔ جی ایس ایل وی-F16 کے نسار مشن کامیابی سے مکمل ہوا۔" اسرو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، "راکٹ سے سیٹلائٹ کے الگ ہونے کی تصدیق ہوگئی۔ ہر مرحلہ درستگی سے مکمل ہوا ہے۔ کرائیو اگنیشن اور کرائیو مرحلے میں کوئی خرابی نہیں دیکھی گئی۔" جی ایس ایل وی-F16 نے نثار کو اپنے مقررہ مدار میں نصب کردیا ہے۔"

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نثار سٹیلائٹ کی کامیاب لانچ پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے آفات کے درست نظم میں گیم چینجر قرار دیا۔ انہوں نے مشن میں شامل سائنسدانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نثار سے حاصل کردہ معلومات سے 'وشوا بندھو' کی حقیقی روح کے مطابق پوری عالمی برادری کو فائدہ پہنچے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، "دنیا کے پہلے ڈوئل بینڈ راڈار سٹیلائٹ نسار کو لے جانے والے جی ایس ایل وی F16 کی کامیاب لانچ... طوفان، سیلاب وغیرہ جیسی آفات کے درست نظم میں ایک گیم چینجرثابت ہونے والا ہے۔ اس کے علاوہ، کہرے، گھنے بادلوں، برف کی تہوں وغیرہ کو اسکین کرنے کی اس کی منفرد صلاحیت اسے جہازوں کے لیے ایک اہم آلہ بناتی ہے۔" ڈاکٹرجتیندر سنگھ کے مطابق، نسار سٹیلائٹ نہ صرف ہندوستان اور امریکہ کو خدمات فراہم کرے گا بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو خاص طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، زراعت اور ماحولیات کی نگرانی جیسے شعبوں میں اہم ڈیٹا فراہم کرے گا۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری اس تاریخی مشن پر 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے اور یہ اب زمین پر قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کرنے کے طریقے میں انقلاب لانے کو تیار ہے۔ یہ سٹیلائٹ تمام موسمی حالات میں دن میں 24 گھنٹے تصاویر لے سکتا ہے۔ اس سے لینڈ سلائیڈنگ کا پتہ لگانے، موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Seb791E

منگل، 29 جولائی، 2025

تلنگانہ میں زرعی انقلاب: ڈرونس کی تربیت سے دیہی خواتین کے خوابوں کو نئی پرواز

حیدرآباد: تلنگانہ کے زرعی علاقوں میں ایک خاموش انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ زرعی شعبے میں ڈرونس کے استعمال نے جہاں کھیتی کے طریقوں کو بدل دیا ہے، وہیں اب یہ دیہی خواتین کے لیے خود روزگار کا مؤثر ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

ضلع کھمم میں درگا بائی مہلا وکاس کیندر نے دیہی خواتین کو ڈرون چلانے کی باقاعدہ تربیت دینا شروع کی ہے۔ اس پہل کا مقصد نہ صرف زراعت میں جدید ٹکنالوجی کو فروغ دینا ہے بلکہ خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانا بھی ہے۔ جیسے ہی تربیت کے لیے رجسٹریشن شروع ہوئی، بڑی تعداد میں خواتین نے دلچسپی ظاہر کی اور پہلے بیچ میں 40 خواتین کی تربیت کا آغاز کیا گیا۔

تربیت دہندہ سائی نریش بابو، جو کھمم گورنمنٹ آئی ٹی آئی میں اسسٹنٹ ٹریننگ آفیسر ہیں، نے حیدرآباد کی انڈیا ڈرون اکیڈمی سے ڈرون پائلٹ کا کورس کیا ہے اور ڈی جی سی اے کا باقاعدہ لائسنس رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف خواتین کو ڈرون اُڑانے کی تربیت دے رہے ہیں، بلکہ انہیں ہیگزا کاپٹر، کواڈ کاپٹر اور ملٹی کاپٹر جیسے ڈرونس کے تکنیکی پہلوؤں، بیٹریوں، سنسرز اور مرمت و دیکھ بھال کے طریقوں سے بھی روشناس کرا رہے ہیں۔

تربیت کا دائرہ زرعی ادویات کے اسپرے تک محدود نہیں بلکہ خواتین کو عمارتوں کی نگرانی، سروے، ریسکیو آپریشن، ایریل فوٹوگرافی، تھری ڈی میپنگ اور موسمیاتی تجزیے جیسے شعبوں میں بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ انہیں گرین، یلو اور ریڈ زونز کے ضوابط اور ڈرونس کی قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

تربیت حاصل کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں مزدوروں کی قلت اور زیادہ اجرت کی وجہ سے کھیتی دشوار ہو رہی تھی لیکن ڈرون نے ان کے لیے مسائل کو آسان کر دیا ہے۔ اب وہ نہ صرف خود کام کر رہی ہیں بلکہ مستقبل میں دیگر خواتین کو بھی تربیت دینے اور روزگار دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

سائی نریش بابو کے مطابق ہیگزا کاپٹر ڈرون، جس میں چھ موٹریں ہوتی ہیں، زرعی زمینوں پر اسپرے اور پانی کے چھڑکاؤ کے لیے بہترین ہے۔ اس میں ’ریٹرن ٹو ہوم‘ اور ’ریٹرن ٹو لانچ‘ جیسی سیفٹی خصوصیات موجود ہیں، جو ڈرون کو خودبخود محفوظ انداز میں واپس لے آتی ہیں۔

(ان پٹ: یو این آئی)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5jpStvE

ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے کمال کر دیا، مریض نے 20 سال کے فالج کے بعد اپنا نام خود لکھا

ایلون مسک کی نیورالنک کمپنی نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی بار ایک ہی دن میں دو رضاکاروں کے دماغ میں برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) لگایا ہے۔ اب دونوں مریض صحت یاب ہو رہے ہیں، جنہیں کمپنی نے P8 اور P9 کا نام دیا ہے۔

کمپنی نے ایکس پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں P8 اور P9 کی دو سرجری کامیابی سے مکمل کی ہیں۔ اندازہ ہے کہ نیورالنک کی مدد سے مفلوج افراد کو فائدہ ہوگا، وہ صرف اپنی سوچ کی طاقت سے کمپیوٹر کے کرسر کو حرکت دے سکتے ہیں۔

کمپنی کے اس اعلان کے بعد آڈری کریوز نے پوسٹ کیا ہے۔ ایکس پلیٹ فارم پر، آڈری کریوزنے پوسٹ کیا ہے کہ وہ P9 ہے، جس کے سر میں نیورلنگ چپ لگائی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی آڈری کریو زنے بتایا ہے کہ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں جن میں نیورالنک بی سی آئی لگایا گیا ہے۔ اس نے اپنے نام سے موجود ایکس پلیٹ فارم پر کئی پوسٹس بھی کی ہیں اور بتایا ہے کہ اس آپریشن کے بعد ان کا سفر کیسا رہا ہے۔

آڈری کریو زنے مزید بتایا کہ اب وہ کمپیوٹر پر اپنا نام لکھ سکتی ہیں اور 20 سال میں پہلی بار گیمز کھیل سکتی ہیں۔ اب انہوں نے آپریشن کے بعد اپنی پیش رفت کو عوامی طور پر شیئر کیا ہے۔ اس کے لیے اس نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پلیٹ فارم کی مدد لی ہے۔ آڈری کریو زنے پوسٹ کرکے انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیورلنک چپ سیٹ یونیورسٹی آف میامی ہیلتھ سینٹر کے اندر ان کے دماغ میں لگا دیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے تحت کھوپڑی میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیا جاتا ہے۔ موٹر کارٹیکس پر احتیاط سے 128 دھاگے لگائے جاتے ہیں۔ موٹر کارٹیکس دراصل دماغ کا ایک اہم حصہ ہے، جو ہمارے جسم کے پٹھوں کی سرگرمی کو کنٹرول کرتا ہے۔ ڈاکٹر نے اس کے لیے روبوٹکس اسسٹنٹ کی مدد لی تاکہ یہ کام بہتر اور درست طریقے سے ہو سکے۔ اس آپریشن کے تحت لگائی جانے والی چپ کا سائز تقریباً ایک چھوٹے سکے کے برابر ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CzZ1YyJ

اتوار، 20 جولائی، 2025

ایل ای ڈی انقلاب: روشنی، گرمی اور توانائی کی بچت کی سائنسی کہانی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ روشنی اور گرمی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اور آخر کیوں پرانے ایڈیسن کے ایجاد کردہ بلب کی جگہ اب ایل ای ڈی بلب نے لے لی ہے؟ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں، بلکہ سائنس کے ایک دلچسپ اصول کی بنیاد پر ممکن ہوا ہے، جس کا تعلق درجہ حرارت، توانائی اور روشنی سے ہے۔

جب ہم کسی بھی چیز کو گرم کرتے ہیں تو وہ توانائی کا اخراج (ریڈی ایشن) کرتی ہے۔ اگر وہ شے بہت ٹھنڈی ہو، تو اس سے صرف ریڈیو ویوز یا مائیکرو ویوز خارج ہوں گی۔ چونکہ کائنات کا درجہ حرارت تقریباً 3 کیلون ہے، اس لیے اس سے صرف مائیکرو ویو اخراج ہوتا ہے، جو ہمیں بگ بینگ کے بعد باقی رہنے والے ریڈیشن کی صورت میں آج بھی ہر طرف سے موصول ہو رہا ہے۔

جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، ویوز کی فریکوئنسی بڑھتی جاتی ہے اور ویو کی لمبائی کم ہوتی ہے۔ مثلاً، جب کوئی چیز کچھ حد تک گرم ہوتی ہے، تو اس سے انفراریڈ شعاعیں نکلتی ہیں۔ یہ شعاعیں ہمیں نظر تو نہیں آتیں لیکن ہم انہیں اپنی جلد سے گرمی کے احساس کی صورت میں محسوس کر سکتے ہیں۔ یہی انفراریڈ شعاعیں رات کے وقت جانوروں کو دیکھنے والے خصوصی چشموں میں استعمال ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے جسم بھی مسلسل انفراریڈ شعاعیں خارج کرتے رہتے ہیں۔

اگر ہم کسی چیز کو مزید گرم کریں تو اس سے روشنی خارج ہونے لگتی ہے، پہلے سرخ، پھر نارنجی اور درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ سفید روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ایڈیسن کا بلب کام کرتا تھا۔ اس بلب کا فلامنٹ اتنا گرم کیا جاتا تھا کہ وہ سفید روشنی خارج کرے لیکن اس کے ساتھ ہی بے تحاشا انرجی انفراریڈ شعاعوں کی صورت میں ضائع ہوتی تھی، جو صرف گرمی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے بلب بہت زیادہ گرم ہو جاتے تھے اور اگر وہ چلتے چلتے خراب ہو جاتے تو انہیں چھونے سے ہاتھ جل سکتا تھا۔

اگر آپ آسمان کی طرف دیکھیں تو ستارے بھی درجہ حرارت کے فرق کی بنیاد پر مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں، نیلے ستارے سب سے زیادہ گرم، سفید درمیانے اور سرخ یا نارنجی سب سے کم گرم ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نیلے فوٹون زیادہ توانائی کے حامل ہوتے ہیں جبکہ سرخ والے کم۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے روشنی پیدا کرنے کے لیے پرانے گرم بلب کی جگہ ٹھنڈے ایل ای ڈی بلب کیوں اپنائے؟ اس کا جواب ایک انقلابی ایجاد میں پوشیدہ ہے۔

ایل ای ڈی یعنی لائٹ ایمٹنگ ڈائیوڈ ایک ایسا آلہ ہے جو بہت کم توانائی خرچ کرکے روشنی خارج کرتا ہے، وہ بھی بغیر گرم ہوئے۔ مگر ایک مسئلہ تھا، سفید روشنی پیدا کرنے کے لیے ہمیں تین بنیادی رنگوں، سرخ، سبز اور نیلا کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرخ ایل ای ڈی 1962 میں اور سبز 1958 میں دستیاب ہو گئی تھی لیکن نیلے رنگ کی ایل ای ڈی بہت دیر سے وجود میں آئی۔

بالآخر 1990 کی دہائی میں تین جاپانی سائنسدانوں نے نیلے رنگ کی کارگر ایل ای ڈی ایجاد کر لی، جس نے روشنی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان کی اس اختراعی کوشش کو اتنا اہم سمجھا گیا کہ انہیں 2014 میں نوبل انعام دیا گیا۔

ایل ای ڈی بلب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف تین خاص فریکوئنسیز سرخ، سبز اور نیلا کی روشنی خارج کرتا ہے، جو ہماری آنکھ سفید روشنی کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس میں نیوٹن کے ساتوں رنگوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مزید یہ کہ ایل ای ڈی بلب گرمی پیدا نہیں کرتا کیونکہ اس سے انفراریڈ شعاعیں خارج نہیں ہوتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انرجی ضائع نہیں ہوتی اور بلب گرم نہیں ہوتا۔

ایک عام 5 واٹ کا ایل ای ڈی بلب، پرانے 60 واٹ بلب جتنی روشنی دے سکتا ہے یعنی تقریباً 20 گنا زیادہ مؤثر۔ اس کے علاوہ، چونکہ پرانے بلب کافی زیادہ گرمی پیدا کرتے تھے، اس لیے ان کا عالمی درجہ حرارت پر بھی اثر پڑتا تھا۔ ایل ای ڈی بلب اس اثر کو کم کرنے میں معاون ہیں۔

لہٰذا، جب بھی آپ ایل ای ڈی بلب کی روشنی میں بیٹھے ہوں، صرف اس کی چمک ہی نہیں بلکہ پس پردہ چھپی سائنسی بصیرت اور اختراعات کو بھی یاد رکھیں۔ ایل ای ڈی نے نہ صرف ہمارے گھروں کو روشن کیا ہے بلکہ بجلی کے بل کو کم اور کرہ ارض کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

آخر میں ایک سادہ سی بات، جب بھی ایل ای ڈی بلب جلائیں، سائنس کا شکریہ ادا کریں – کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو کم توانائی، کم گرمی اور زیادہ ہوشیاری کے ساتھ روشن ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4Y3ksAn

منگل، 15 جولائی، 2025

شبھانشو شکلا کی خلا سے کامیاب واپسی، ہندوستان کے لیے فخر کا لمحہ، لکھنؤ میں جشن

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں 18 دن کے سائنسی مشن کے بعد ہندوستانی خلانورد شبھانشو شکلا کی زمین پر محفوظ واپسی ہو گئی ہے۔ ان کی واپسی کی خبر سے ان کے آبائی شہر لکھنؤ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں ان کے والد شمھو دیال شکلا اور خاندان کے دیگر افراد مسلسل پوجا پاٹھ اور دعاؤں میں مصروف تھے۔

شبھانشو کی واپسی منگل کے روز عمل میں آئی۔ واپسی سے قبل ان کے اہل خانہ نے خصوصی پوجا کر کے دعائیں کیں کہ شبھانشو بغیر کسی مشکل کے زمین پر واپس لوٹ آئیں۔

لکھنؤ کے تروینی نگر علاقے میں واقع ان کے آبائی مکان کو روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ گھر کے باہر ان کے عرفی نام ’شکس‘ کے پوسٹر لگائے گئے ہیں اور ان کے استقبال کے لیے جشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ان کی ماں آشا شکلا اور بہن سوچی شکلا مسلسل دوستوں، رشتہ داروں اور مبارکباد دینے والوں کی فون کالز سنبھال رہی ہیں۔

پی ٹی آئی ویڈیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شمبھو دیال شُکلا نے کہا، ’’یہ ہمارے خاندان کے لیے خوشی کا بہت بڑا دن ہے۔ ہم شبھانشو کی محفوظ لینڈنگ کے لیے مسلسل دعا کر رہے تھے۔ آج ہم بے حد خوش ہیں کہ وہ اپنا مشن کامیابی سے مکمل کر کے واپس آیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ نہ صرف ہمارے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ اب ہم اپنے رشتہ داروں، احباب اور تمام خیر خواہوں کے ساتھ مل کر اس خوشی کا جشن منائیں گے۔‘‘ شبھانشو کی بیوی کامنا فی الحال فلوریڈا میں مقیم ہیں۔ شمبھو دیال نے بتایا، ’’کامنا اور شبھانشو لکھنؤ میں ہی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اور دونوں کی شادی خاندان کی رضا مندی سے ہوئی۔ ان کا ایک چھ سال کا بیٹا بھی ہے جس کا نام کیاش ہے۔‘‘

شبھانشو اس سال اکتوبر میں چالیس سال کے ہو جائیں گے۔ ان کی بہن سوچی نے بتایا کہ وہ اپنے خلائی سفر پر ہندوستانی مٹھائیاں، جیسے ’گاجر کا حلوہ‘ اور ’مونگ دال کا حلوہ‘ ساتھ لے گئے تھے کیونکہ یہ ان کی پسندیدہ تھیں۔

سچی نے کہا، ’’وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھی خلا نورد بھی ان کا ذائقہ چکھیں۔ جو ویڈیوز اور پوسٹس ہمیں موصول ہوئی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبھی کو یہ بہت پسند آئیں۔"

شبھانشو اسپیس ایکس کے ڈریگن ’گریس‘ اسپیس کرافٹ سے واپس آئے ہیں، جو پیر کی شام 4:45 بجے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے علیحدہ ہوا تھا۔ ان کے ساتھ مشن کمانڈر پیگی وِٹسن، پولینڈ کے خلا نورد سلاووز اوزنانسکی وسنیوسکی اور ہنگری کے ٹیبور کاپو بھی شامل تھے۔

یہ سبھی ’اکسیوم-4‘ تجارتی مشن کا حصہ تھے۔ شبھانشو شُکلا نے 1984 میں راکیش شرما کے بعد خلا کا سفر کرنے والے دوسرے ہندوستانی کی حیثیت سے تاریخ رقم کی ہے، جو بین الاقوامی خلائی تحقیق میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/xNMBu2E

اتوار، 13 جولائی، 2025

ریڈیو لہروں کی دریافت: ہرٹز کا غیرمعمولی تجربہ، جس نے سائنس کی دنیا ہلا دی

ریڈیو لہریں کس طرح دریافت ہوئیں اور ان کا میکسویل کی مساوات سے کیا تعلق ہے؟ اس کہانی کا آغاز ایک خاموش طبیعت کے نوجوان جرمن سائنسدان ہنرخ ہرٹز سے ہوتا ہے، جنہوں نے ہچکچاتے ہوئے ایک سائنسی مقابلے میں حصہ لیا اور دنیا کو ایک بڑی دریافت سے روشناس کرایا۔

یہ بات ہے سن 1879 کی، جب جرمنی کے ممتاز سائنسدان حرمین وان ہیلمہولٹز نے اعلان کیا کہ پروشین سائنس اکیڈمی کا سالانہ انعام اس شخص کو دیا جائے گا جو میکسویل کی الیکٹرو میگنیٹک تھیوری یا فیراڈے کے اصولوں کو تجرباتی طور پر ثابت کرے گا۔ ہیلمہولٹز کو یقین تھا کہ ان کے 22 سالہ شاگرد ہرٹز یہ چیلنج مکمل کر سکتے ہیں۔

شروع میں ہرٹز کو لگا کہ یہ کام مشکل ہے، مگر انہوں نے کئی سال اس موضوع پر گہری تحقیق کی۔ ان کی ڈائری میں کئی دن صرف یہی لکھا تھا کہ ’’میں جو کچھ سوچتا ہوں، وہ سب پہلے سے ہی معلوم ہے۔‘‘ 1885 کے اختتام پر انہوں نے لکھا، ’’اچھا ہوا کہ یہ سال ختم ہوا، امید ہے اگلا سال بہتر ہوگا۔‘‘

واقعی 1886 کا سال ان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوا۔ انہوں نے ایک ایسا سرکٹ بنایا جس میں ہائی وولٹیج کی مدد سے بار بار اسپارک پیدا ہوتا تھا، تاکہ مسلسل ریڈیو ویوز بن سکیں۔ ویوز کی موجودگی جانچنے کے لیے انہوں نے ایک دھات یکا بڑا چھلّا بنایا، جس میں ایک چھوٹا سا گیپ رکھا گیا تاکہ ویوز کی موجودگی پر اسپارک نظر آئے۔ ہرٹز نے ثابت کیا کہ یہ لہریں آئینے سے روشنی کی طرح منعکس ہوتی ہیں اور پرزم سے گزر کر مڑتی ہیں اور ان کی تمام خصوصیات تقریباً روشنی جیسی ہیں۔

انہوں نے تجرباتی طور پر یہ بھی دکھایا کہ ان ویوز کی رفتار بھی روشنی جتنی ہے اور اس بنیاد پر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھی الیکٹرو میگنیٹک ویوز ہیں، جن کی فریکوئنسی مختلف ہے۔

ہرٹز کے ان تجربات کو سائنسی دنیا میں غیرمعمولی اہمیت دی گئی۔ شروع میں ان لہروں کو ’ہرٹزین ویوز‘ کہا گیا، بعد میں انہیں ’ریڈیو ویوز‘ کا نام دیا گیا۔ ہرٹز کی خدمات کے اعتراف میں اب فریکوئنسی کی اکائی کو ’ہرٹز‘ کہا جاتا ہے۔

ہرٹز نے ریڈیو ویوز پیدا کرنے کے لیے اسپارک گیپ جنریٹر استعمال کیا، جو ڈی سی کرنٹ کو آلٹرنیٹنگ وولٹیج میں تبدیل کرتا ہے، اور دونوں سروں پر دھات کے گولے لگانے سے ویوز بنائی جاتی ہیں۔ کیونکہ یہ ویوز آنکھ سے نظر نہیں آتیں، ان کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے ایک خاص قسم کا چھلا بنایا گیا جس میں چھوٹا سا گیپ تھا، تاکہ ویوز کے اثر سے وہاں اسپارک ہو سکے۔ یہ اسپارک بہت مختصر وقت کے لیے ہوتا تھا، اور اسے دیکھنے کے لیے مکمل اندھیرا درکار ہوتا تھا۔

1887 میں ہرٹز نے اپنے استاد ہیلمہولٹز کو تجربے پر مبنی مضمون ارسال کیا، جس میں بڑی عاجزی سے اپنی تحقیق پیش کی۔ ہیلمہولٹز نے اس کی بھرپور تعریف کی اور اسے شائع کروایا۔

ہرٹز نے یہ بھی دریافت کیا کہ الٹراوایولٹ روشنی اسپارک پر اثر ڈالتی ہے، جو بعد میں فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کہلایا — جس پر بعد میں آئن اسٹائن کو نوبیل انعام بھی ملا۔ اس طرح ہرٹز پہلا سائنسدان بن گیا جس نے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کو دیکھا اور رپورٹ کیا۔

ہرٹز کی تحقیق نے روشنی اور ریڈیو ویوز کے درمیان سائنسی رشتہ ثابت کیا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ لہریں آئینے سے ریفلیکٹ ہو کر اسٹینڈنگ ویوز بناتی ہیں، جن میں نوڈ اور اینٹی نوڈ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان نوڈز اور اینٹی نوڈز کی مدد سے ویو لینتھ ناپی اور معلوم کیا کہ ان کی فریکوئنسی تقریباً 70 ملین ویوز فی سیکنڈ ہے۔ اس بنیاد پر انہوں نے ویو ایکویشن سے ویوز کی رفتار نکالی، جو تقریباً روشنی کی رفتار کے برابر تھی۔

ہرٹز کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے میکسویل کی تھیوری کو تجرباتی بنیاد فراہم کی اور ریڈیو ویوز کی دریافت کے ذریعے مواصلاتی دنیا میں انقلاب کی بنیاد رکھی۔ ان کی شہرت کی بدولت انہیں جلد ہی بون یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر کیا گیا۔

افسوس کہ ان کی زندگی مختصر ثابت ہوئی۔ 1892 میں ان کے سر میں شدید درد شروع ہوا، جو آگے چل کر خون کے زہر بننے کی وجہ بنا۔ وہ 1894 میں صرف 36 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے سے قبل اگر انہیں چند اور سال مل جاتے، تو شاید وہ خود ہی ریڈیو اور وائرلیس مواصلات کی ایجادات مکمل کر لیتے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HaT3hCP

موسمیاتی تبدیلی: ریت، دھول کے طوفان سے نصف آبادی متاثر

دنیا کی تقریباً نصف آبادی دھول کی اس سطح کا سامنا کر رہی ہے جو عالمی ادارہ صحت کی حفاظت کی حد سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی ایک نئی رپورٹ بتاتی ہے کہ ریت اور مٹی کے طوفان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 'قبل از وقت اموات' کا باعث بن رہے ہیں، جس سے 150 ممالک میں 33 کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

12 جولائی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ریت اور دھول کے طوفانوں سے نمٹنے کا عالمی دن منایا اور 2025-2034 تک کے دس سالوں کو ریت اور دھول کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی دہائی کے طور پر منسوب کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں اسمبلی صدر فلیمون یانگ نے کہا کہ موجودہ دور میں طوفان سب سے زیادہ نظر انداز کئے گئے لیکن اب وہ دور رس عالمی چیلنجوں میں سے ایک بن رہے ہیں۔ وہ آب و ہوا کی تبدیلی، زمین کے تنزلی اور غیر پائیدار طریقوں کے سبب رونما ہو رہے ہیں۔ ان طوفانوں کے سبب ہوا سے نکلنے والے ذرات سالانہ 70 لاکھ قبل از وقت اموات کا باعث بنتے ہیں اور سانس اور قلبی امراض کو جنم دیتے ہیں اور فصل کی پیداوار میں 25 فیصد تک کمی کرتے ہیں، جس سے بھوک اور نقل مکانی ہوتی ہے۔

ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل سیلسٹی ساؤلو نے کہا کہ ریت اور دھول کے طوفان کا مطلب صرف گندی کھڑکیاں اور دھندلا آسمان نہیں ہے۔ وہ لاکھوں لوگوں کی صحت اور معیار زندگی کو نقصان پہنچاتے ہیں؛ اور ان کی وجہ سے فضائی اور زمینی نقل و حمل، زراعت اور شمسی توانائی کی پیداوار میں رکاوٹ کی قیمت دسیوں لاکھ ڈالر ہوتی ہے۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح صحت کے خطرات اور معاشی اخراجات بڑھ رہے ہیں - اور کس طرح دھول کی ابتدائی انتباہات اور تخفیف اور کنٹرول میں سرمایہ کاری بڑے منافع حاصل کرنے میں معاون ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ریت اور مٹی کے طوفان کے تعلق سے ’ سب کے لیے ابتدائی انتباہات‘ نامی پہل ترجیحات میں سے ایک ہے۔

ڈبلیو ایم او کی اقوام متحدہ کی نمائندہ لورا پیٹرسن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ سالانہ تقریباً 2 ارب ٹن دھول خارج ہوتی ہے جو کہ مصر میں گیزا کے 300 عظیم اہراموں کے برابر ہے۔ دنیا کی 80 فیصد سے زیادہ دھول شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا کے صحراؤں سے آتی ہے، لیکن اس کا عالمی سطح پر اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ ذرات سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کلومیٹر براعظموں اور سمندروں میں سفر کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کے سربراہ و انڈر سیکرٹری جنرل رولا دشتی نے اسمبلی کو بتایا کہ طوفانوں کے معاشی اخراجات 'حیران کن' ہیں۔ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں، دھول اور ریت کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے سالانہ 150 ارب ڈالر، مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 2.5 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ دشتی نے شدید طوفانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف اس موسم بہار میں ہی عرب خطے نے شدید خلل کا سامنا کیا جس نے عراق میں ہسپتالوں کو سانس کے کیسز سے بھر دیا اور کویت اور ایران میں طوفانوں کی وجہ سے اسکول اور دفتر بند ہو گئے۔ انہوں نے کہا، افریقہ کے صحرائے صحارا سے نکلنے والی دھول کیریبین اور فلوریڈا تک پہنچی ۔ سائنسی جریدے نیچر کی ایک تحقیق کے مطابق، دھول اور ہوا کے کٹاؤ نے 2017 میں امریکہ کو 154 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جو کہ 1995 کے مقابلے چار گنا زیادہ ہے۔

ڈبلیو ایم او اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے یہ بھی متنبہ کیا کہ صحت کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس میں 3.8 ارب لوگ – تقریباً نصف عالمی آبادی – 2018 اور 2022 کے درمیان ڈبلیو ایچ او کی حفاظتی حد سے زیادہ دھول کی سطح سے دوچار ہیں، جو کہ 2003 سے 2007 کے درمیان متاثر ہونے والے 2.9 ارب افراد سے زیادہ ہے۔

سال 2024 میں ریت اور دھول کے بڑے طوفان

کینری جزائر- شمال مغربی افریقہ کے ایک وسیع علاقے میں تیز ہارمٹن ہواؤں کا ایک طوفان دسمبر میں مغربی صحرائے صحارا سے اسپین کے کینری جزائر تک گیا اور اس علاقے پر اثر انداز ہوا جہاں زیادہ تر لوگ رہتے ہیں۔

مشرقی ایشیا- ریت اور دھول کے 14 طوفان ، زیادہ تر موسم بہار میں آئے۔ مارچ کے آخر میں، ایک مضبوط منگولائی طوفان سے آنے والی تیز ہواؤں نے شمالی چین کے گنجان آباد علاقوں میں بڑی مقدار میں دھول اڑا ئی۔ بیجنگ میں مرئیت ایک کلومیٹر تک گر گئی۔ جون میں بیجنگ اور شمالی چین ریت اور دھول کے طوفان کی زد میں آئے ۔ منگولیا میں موسم بہار میں اعلی درجہ حرارت اور خشک سالی کی وجہ سے پودوں کی ناقص نشوونما نے ایک بڑا کردار ادا کیا، جس نے بدلتی ہوئی آب و ہوا میں شدید موسم کی وجہ سے موسم گرما میں دھول کے طوفانوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف عوام کی توجہ مبذول کرائی۔

مغربی ایشیاء- عراق، کویت، قطر، اور جزیرہ نما عرب دسمبر میں موسم سرما کے ایک غیر معمولی طوفان سے متاثر ہوئے۔ اس کے دور رس سماجی و اقتصادی نتائج برآمد ہوئے، جن میں پروازوں کی منسوخی، اسکولوں کی بڑے پیمانے پر بندش اور عوامی تقریبات کا ملتوی ہونا شامل ہے۔

طوفان کی وارننگ، ایڈوائزری اور اسسمنٹ سسٹم

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے ذریعے 2007 میں قائم کیے گئے ریت اور دھول کے طوفان کی وارننگ، ایڈوائزری اور اسسمنٹ سسٹم کا مقصد بین الاقوامی ریت اور دھول کی تحقیق کو مربوط بنانا ہے۔ اس وقت چار خطوں میں اس کے علاقائی مراکز ماحولیات، صحت اور معیشتوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے مربوط انداز میں دنیا کے لیے آپریشنل پیشن گوئی اور انتباہی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پہلاخلیج تعاون کونسل کا علاقہ ہے،جس کا علاقائی مرکز جدہ، سعودی عرب میں ہے؛ دوسرا شمالی افریقہ-مغربی ایشیا-یورپ کا علاقہ، جس کا مرکز بارسلونا، اسپین میں ہے؛ تیسرا ایشیا ہے، جس کا مرکز بیجنگ، چین میں ہے؛ اور چوتھا شمالی و جنوبی امریکہ کا علاقہ، جس کا مرکز برج ٹاؤن، بارباڈوس میں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/qIoA10y

ہفتہ، 12 جولائی، 2025

شبھانشو شکلا نے زمین کے لگائے 230 چکر، خلا میں کیے کئی کامیاب تجربے، جلد ہوگی آئی سی سی سے واپسی

 ایکسیوم-04 مشن کے تحت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) گئے ہندوستانی خلاباز شبھانشو شکلا جلد ہی زمین پر واپسی کر سکتے ہیں۔ ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے ان کے واپس آنے کی اطلاع دی ہے۔ اسرو کے مطابق شبھانشو 14 جولائی کو خلا سے واپسی کریں گے اور وہ 15 جولائی کو زمین پر پہنچ جائیں گے۔ شبھانشو کے ساتھ آئی ایس ایس میں گئے باقی 3 خلائی مسافر بھی اسپیس ایکس کے ڈریگن اسپیس کرافٹ سے واپس آئیں گے۔

اسرو نے سوشل میڈیا پر شبھانشو کی واپسی کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ایس ایس سے ڈریگن اسپیس کرافٹ کی اَن ڈاکنگ کے بعد سبھی خلائی مسافر امریکہ کے کیلیفورنیا کے پاس موجود ساحل پر 15 جولائی 2025 کو دوپہر 3 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق) پہنچیں گے۔

شبھانشو شکلا 14 دن کے مشن پر آئی سی سی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ وہ آئی سی سی پر جانے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ وہیں ہندوستانی خلا باز ونگ کمانڈر راکیش شرما کے بعد وہ خلا میں جانے والے دوسرے ہندوستانی بن گئے ہیں۔

خلائی اسٹیشن میں شبھانشو نے کئی طرح کے تجربے بھی کیے ہیں۔ اس کی اطلاع دیتے ہوئے اسرو نے کہا کہ شبھاشنو شکلا نے ہندوستان کے ایکسکیو-04 مشن کے تحت 7 مائیکرو گریویٹی تجربے کیے ہیں۔ ان میں سے 4 تجربے کامیاب ہو گئے ہیں اور باقی 3 تجربے بھی کامیابی کے بے حد قریب ہیں۔

اتوار یعنی کل سبھی خلائی مسافر اپنے تجربے کے نمونے پیش کرنا شروع کریں گے۔ فلائٹ سرجن کی دیکھ-ریکھ  میں سبھی زمین پر واپسی کی تیاری کریں گے۔ شبھانشو کی واپسی کا پورا ملک بے حد بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔

وہیں مشن کے 15ویں دن تک شکلا نے زمین کے 230 چکر لگا لیے تھے۔ اس دوران انہوں نے 60 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کی دوری طے کی۔ یہ دوری زمین اور چاند کے درمیان کی دوری کی تقریباً ڈیڑھ گنا سے زیادہ ہے۔ زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر والے اوپری مدار میں چکر لگا رہے آئی ایس ایس میں شکلا نے زیادہ تر وقت اپنے تجربات اور مکالمے میں گزارے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://www.qaumiawaz.com/science/shئbhanshu-shukla-has-conducted-several-successful-experiments-in-space-will-return-to-earth-soon

اتوار، 6 جولائی، 2025

آکسیجن کی کہانی: فطرت کا خاموش تحفہ اور ہماری بقا کی بنیاد

یہ مضمون آکسیجن سے متعلق کچھ ایسی باتوں پر روشنی ڈالے گا جو شاید ہر ایک کو معلوم نہ ہوں۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ آکسیجن ہماری سانس کے لیے ناگزیر ہے لیکن شاید یہ نہ معلوم ہو کہ ہماری سانس میں جانے والی ہوا کا بیشتر حصہ دراصل نائٹروجن پر مشتمل ہوتا ہے، جو ایک بے اثر گیس ہے۔ یہ گیس جسم میں داخل ہو کر بغیر کسی استعمال کے واپس خارج ہو جاتی ہے، جبکہ سانس کے ذریعے اندر جانے والی آکسیجن کا صرف 5 فیصد ہی جسم میں استعمال ہوتا ہے۔

نظامِ شمسی میں زمین واحد سیارہ ہے جس کے گرد ایسا فضائی غلاف ہے جو زندگی کے لیے موزوں ہے۔ اس فضا میں تقریباً 78 فیصد نائٹروجن، 21 فیصد آکسیجن اور صرف ایک فیصد دیگر گیسیں شامل ہیں۔ یعنی آکسیجن صرف فضا کا پانچواں حصہ ہے۔ زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے یہ فضائی غلاف زمین کے گرد قائم ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ غلاف لا متناہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہوا کا 99 فیصد حصہ زمین سے صرف 100 کلومیٹر کی بلندی تک محدود ہے۔ اس حد کو ’کرمان لائن‘ کہا جاتا ہے۔ اگر زمین کو ایک سنترے کے برابر مانا جائے تو فضائی غلاف صرف اس کے چھلکے کے برابر ہوگا۔

سورج کی روشنی میں پیڑ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن اور اپنی غذا تیار کرتے ہیں۔ اس عمل کو ’فوٹو سنتھیسس‘ کہا جاتا ہے۔ ہماری بقا کے لیے درکار ساری آکسیجن پیڑ پودے ہی پیدا کرتے ہیں۔ آکسیجن ایک فعال عنصر ہے جو آسانی سے دوسرے عناصر کے ساتھ مل کر آکسائیڈ مرکبات بناتی ہے۔ اگر پیڑ پودے مسلسل آکسیجن نہ بنائیں تو فضا کی ساری آکسیجن جلد ہی مختلف مرکبات میں بدل جائے گی اور سانس لینے کے لیے کچھ باقی نہ بچے گا۔ اس سے ایک دلچسپ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی سیارے پر آکسیجن موجود ہے تو وہاں پیڑ پودے بھی ضرور ہوں گے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آکسیجن میں آگ لگتی ہے، شاید اس وجہ سے کہ اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر پر ’ہوشیار! آگ لگنے کا خطرہ‘ لکھا ہوتا ہے اور وہاں سگریٹ نوشی کی سخت ممانعت ہوتی ہے۔ اگر کوئی آکسیجن سے بھرے کمرے میں سگریٹ جلائے تو وہ چند لمحوں میں راکھ ہو سکتی ہے لیکن کمرے کی گیس خود آگ نہیں پکڑتی۔

امریکہ کے قمری مشن اپولو-1 میں بھی اسی نوعت کا حادثہ پیش آیا تھا۔ یہ خلائی راکٹ اپنے ساتھ 3 خلا نوردوں کو چاند کی طرف لے جانے کے لیے تیار تھا لیکن تبھی اس میں آگ لگ گئی اور تینوں خلا نورد جل کر ہلاک ہو گئے۔ چونکہ اس مشن میں انسان موجود تھے، اس لیے ان کے لیے سانس لینے کا بندوبست بھی ضروری تھا۔

عام فضا میں نائٹروجن کی موجودگی کی وجہ سے اگر مکمل ہوا کو سلنڈر میں بھرا جاتا تو نائٹروجن جیسی بے کار گیس کی وجہ سے نہ صرف وزن بڑھتا بلکہ سلنڈر کو بھی بے حد مضبوط بنانا پڑتا۔ اس مسئلے کا حل سائنس دانوں نے یہ نکالا کہ صرف خالص آکسیجن لی جائے لیکن اسی خالص آکسیجن میں بجلی کے تاروں میں چنگاری پیدا ہوئی، جس سے پلاسٹک میں آگ لگی اور وہ آگ خلا نوردوں تک جا پہنچی، نتیجتاً تینوں کی موت واقع ہوئی۔ اس حادثے کے بعد بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ آکسیجن میں آگ لگتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آکسیجن خود نہیں جلتی، بلکہ جلنے میں مدد دیتی ہے۔

اگر ہوا میں آکسیجن کی مقدار 21 فیصد کے بجائے 30 فیصد ہو جائے تو کسی بھی جنگل میں لگنے والی آگ خود بخود نہیں بجھے گی، جب تک آکسیجن کی مقدار دوبارہ کم نہ ہو جائے۔ قدرت نے آکسیجن کی مقدار کو اعتدال پر رکھنے کا خودکار نظام قائم کیا ہے۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان نے اپنی خودغرضی سے دنیا کے موسم کو تباہ کیا اور کئی جانداروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں۔ انسانوں اور پیڑ پودوں سے بھی کروڑوں سال پہلے زمین پر سب سے بڑی تبدیلی ایک یک خلوی جاندار ’سائنو بیکٹیریا‘ نے پیدا کی۔ زندگی کی ابتدا تقریباً 3 ارب سال قبل گرم پانی میں موجود یک خلوی بیکٹیریا سے ہوئی۔ ان میں ایک اہم گروہ ’سائنو بیکٹیریا‘ کا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کر کے آکسیجن پیدا کرتا تھا۔ یہی وہ جاندار تھے جنہوں نے زمین کے ماحول اور فضا کی ترکیب کو مکمل طور پر بدل ڈالا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ تمام جاندار جن کے لیے زیادہ آکسیجن نقصان دہ تھی، ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے لیکن اسی تبدیلی نے نئی قسم کی زندگیوں کو پنپنے کا موقع دیا جن کے لیے آکسیجن ضروری تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/13Ywdfm

جمعرات، 3 جولائی، 2025

کینسر اور بڑھاپے کے خلاف نئی امید، آسٹریلوی سائنسدانوں نے اہم پروٹین کیا دریافت

سڈنی: آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے کینسر اور بڑھاپے سے متعلق بیماریوں کے علاج میں ایک انقلابی کامیابی حاصل کی ہے۔ سڈنی کے ’چلڈرنز میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ (سی ایم آر آئی) کے محققین نے ایک ایسے پروٹین کی دریافت کی ہے جو ٹیلو میریز نامی ایک اہم اینزائم کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ اینزائم انسانی جسم میں ڈی این اے کو محفوظ رکھنے اور خلیوں کی صحت مند تقسیم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹیلو میریز ایک ایسا اینزائم ہے جو کروموسوم کے سروں یعنی ’ٹیلومیئرز‘ کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ عمل خلیوں کو عمر رسیدہ ہونے سے روکتا ہے اور ڈی این اے کو نقصان سے بچاتا ہے۔

تاہم، کینسر کے خلیے اسی ٹیلو میریز کا استعمال کرتے ہوئے تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اور بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیلو میریز کو قابو میں رکھنا کینسر کے علاج میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے مطابق، سائنسدانوں نے تین ایسے پروٹینز نونو (این او این او)، ایس ایف پی کیو (ایس ایف پی کیو) اور پی ایس پی سی 1 دریافت کیے ہیں، جو ٹیلو میریز کو کروموسوم کے سروں تک پہنچاتے ہیں اور اسے فعال کرتے ہیں۔ ’نیچر کمیونیکیشنز‘ جرنل میں شائع اس تحقیق کے مطابق، اگر ان پروٹینز کو کینسر کے خلیوں میں بلاک کر دیا جائے، تو ٹیلو میریز کا کام رک جاتا ہے، جس سے خلیوں کی غیر معمولی تقسیم کو روکا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر سو بینوف کے مطابق، "یہ پروٹینز خلیے کے اندر ٹیلو میریز کو بالکل درست مقام تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جیسے ٹریفک کنٹرولر۔ ان کے بغیر ٹیلو میریز اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ان پروٹینز کی مدد سے نہ صرف کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکا جا سکتا ہے بلکہ صحت مند عمر بڑھنے کے عمل میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔

تحقیق کی سینئر مصنفہ اور سی ایم آر آئی کی ’ٹیلو میرز لینتھ ریگولیشن یونٹ‘ کی سربراہ ڈاکٹر ہِلڈا پِکٹ کے مطابق، "اس دریافت سے نہ صرف کینسر بلکہ عمر سے متعلق بیماریوں اور جینیاتی بگاڑ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے عارضوں کے لیے بھی نئی دواؤں کی تیاری کی راہیں کھل گئی ہیں۔"

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان بیماریوں کے لیے جن کا تعلق خلیاتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے ہوتا ہے۔ اگر یہ تحقیق انسانی سطح پر کامیابی سے لاگو ہو جاتی ہے تو مستقبل میں کینسر اور ضعیف العمری کی بیماریوں کے علاج میں ایک بڑا انقلاب آ سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/auQoFiY

زمین کی گردش میں تیزی، دن 24 گھنٹے سے کچھ ملی سیکنڈ کم ہونے کا امکان

زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی کا رجحان سائنسی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں زمین اپنے محور پر معمول سے تھوڑا تیز گھومتی پائی گئی ہے، جس کی وجہ سے کچھ دن 24 گھنٹے سے چند ملی سکنڈ کم ہو سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف ماحولیاتی عوامل سے جڑی ہوئی ہے بلکہ مستقبل میں عالمی وقت کی پیمائش کے نظام پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2020 سے زمین کی گردش میں ہلکی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق 5 اگست جیسے دن 1.5 ملی سکنڈ چھوٹے ہو سکتے ہیں، یعنی 24 گھنٹے سے معمولی کم۔ اگرچہ یہ فرق انسانی زندگی پر کوئی نمایاں اثر نہیں ڈالتا لیکن وقت کے عالمی پیمانوں اور نیویگیشن سسٹمز کے لیے یہ ایک قابل غور تبدیلی ہے۔

ٹائمز اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کام کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 جولائی، 22 جولائی اور 5 اگست 2025 کو دن کی طوالت معمول سے کچھ ملی سکنڈ کم ہو سکتی ہے۔ یہ فرق انتہائی معمولی ہے لیکن سائنسی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کی اندرونی یا بیرونی سرگرمیاں اس کی رفتار پر اثر ڈال رہی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ زمین کی رفتار میں یہ تبدیلی کئی وجوہات سے ہو سکتی ہے، جیسے زمین کے اندرونی حصے میں ہونے والی حرکت، برفانی تودوں کے پگھلنے سے زمین کے ماس کی ترتیب میں تبدیلی، یا عالمی ماحولیاتی مظاہر جیسے ’ال نینو‘ اور ’لا نینا‘۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرِ طبیعیات جوڈا لیون کے مطابق، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زمین کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمیں ’لیپ سکنڈ‘ کو کم کرنا پڑے۔ اس سے پہلے تک ہمیشہ وقت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لیپ سکنڈ شامل کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب پہلی مرتبہ لیپ سکنڈ نکالنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی ممکنہ طور پر 2029 میں ہو سکتی ہے۔

ٹائم اینڈ ڈیٹ کی رپورٹ میں ایک دلچسپ نکتہ یہ بھی شامل ہے کہ جن دنوں میں زمین کی گردش نسبتاً تیز ہوگی، ان دنوں چاند زمین کے خطِ استوا سے زیادہ فاصلے پر ہوگا۔ یہ اتفاق ماہرین کے لیے ایک نیا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ چاند اور زمین کی کشش بھی ایک دوسرے کی رفتار پر اثر ڈال سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9HqKueV

جمعرات، 26 جون، 2025

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بنے شبھانشو شکلا، انسانی خلائی مشن میں نئی تاریخ رقم

ہندوستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور تاریخ رقم کی ہے۔ لکھنؤ میں 1984 میں پیدا ہونے والے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا جمعرات کے روز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر کامیابی سے پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بن گئے۔ اس سے قبل صرف راکیش شرما خلا میں جانے والے پہلے ہندوستانی تھے، جو 1984 میں ہی روسی مشن کے تحت خلا میں گئے تھے۔

شبھانشو شکلا کے ہمراہ امریکہ، پولینڈ اور ہنگری کے ایک ایک خلا باز بھی ایکسیوم اسپیس کے مشن-4 کے تحت آئی ایس ایس پہنچے ہیں۔ ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 4 بج کر ایک منٹ پر اسپیس ایکس ڈریگن ’گریس‘ نے آئی ایس ایس کے ہارمونی ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ جُڑنے (ڈاکنگ) کا عمل مکمل کیا۔

اس مشن میں اسپیس ایکس کا ڈریگن خلائی جہاز اپنے ساتھ کمانڈر پیگی وِٹسن، پائلٹ شبھانشو شکلا، اور مشن اسپیشلسٹز سلاووس اوزنانسکی وِسنئیوسکی (پولینڈ) اور ٹیبور کاپو (ہنگری) کو لے کر پہنچا۔ لانچ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے فالکن 9 راکٹ پر ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ دوپہر 12 بجکر ایک منٹ ہوا تھا۔

آئی ایس ایس پر پہنچنے کے بعد شبھانشو شکلا نے خلا سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’سب کو خلا سے نمستے۔ میں یہاں اپنے ساتھی خلا بازوں کے ساتھ پہنچ کر بہت پرجوش ہوں۔ جب میں لانچ پیڈ پر کیپسول میں بیٹھا تھا، تو صرف ایک ہی خیال تھا، ہمیں جانا ہے۔‘‘

انہوں نے لکھا، ’’جب سفر شروع ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کو زور سے سیٹ کی پشت پر دھکیل دیا گیا ہو۔ پھر اچانک خاموشی چھا گئی اور ہم خلا میں معلق ہو گئے۔ اب میں ایک بچے کی طرح سیکھ رہا ہوں کہ یہاں کیسے چلنا، کھانا اور جینا ہے۔‘‘

شبھانشو شکلا اس مشن کے دوران خلا میں خوراک اور غذائیت سے متعلق کئی تجربات کریں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ گھر کے بنے کھانے جیسے گاجر کا حلوہ، مونگ دال کا حلوہ اور آم کا رس بھی لے گئے ہیں تاکہ خلا میں ہندوستانی ذائقے کی کمی نہ ہو۔

یہ مشن صرف سائنسی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خلائی حیثیت کا مظہر بھی ہے۔ ناسا کی معاونت، اسرو اور محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے اشتراک سے کیے جانے والے تجربات کا مقصد خلائی زندگی کے لیے پائیدار نظام کو سمجھنا ہے۔

ان تجربات میں خلا کی مائیکرو گریوٹی اور ریڈی ایشن کے غذائی شیوال پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، جو مستقبل کے طویل مدتی مشنوں کے لیے اہم اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تجربات کے دوران مختلف شیوال انواع میں ہونے والی جینیاتی، پروٹین اور میٹابولک تبدیلیوں کا زمین کے مقابلے میں خلا میں مشاہدہ کیا جائے گا۔ یہ مشن ہندوستان کے انسانی خلائی سفر کے نئے دور کی شروعات کا عندیہ دیتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/akLQywF