جمعرات، 30 اکتوبر، 2025

4 چوہوں کے ساتھ خلا میں جائے گا چین کا سب سے کم عمر خلاباز!

چین نے اپنے سب سے کم عمر خلاباز کو خلا میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ چین کا اگلا انسان بردار خلائی مشن شینزو-21 آج، یعنی جمعہ (31 اکتوبر) کو لانچ ہو رہا ہے۔ یہ مشن چین کے تیانگونگ خلائی اسٹیشن کے لیے بھیجا جائے گا۔ اس میں 3 خلاباز اور 4 لیب ماؤس (چوہے) بھی شامل ہوں گے۔ مشن کے کمانڈر 48 سال کے ژانگ لو ہوں گے، جو پہلے شینزو-15 مشن میں بھی جا چکے ہیں۔ ان کے ساتھ ژانگ ہونگ ژانگ پے لوڈ اسپیشلسٹ اور وو فیئی بطور فلائٹ انجنیئر شامل ہوں گے۔ 32 سال کے وو فیئی چین کے سب سے کم عمر خلا باز بن جائیں گے۔ اولیور ڈیمن 18 سال کی عمر میں خلا میں سفر کرنے والے سب سے کم عمر شخص ہیں۔ 20 اگست 2002 کو پیدا ہوئے اولیور نے 20 جولائی 2021 کو بلیو اوریجن کی این ایس-16 پرواز سے خلا میں اڑان بھری تھی۔

چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی (سی ایم ایس اے) کے مطابق یہ مشن جمعہ کی رات 11:44 بجے (مقامی وقت کے مطابق) چین کے جیوکوان سیٹ لائٹ لانچ سنٹر سے روانہ ہوگا۔ تیانگونگ خلائی اسٹیشن میں ہر 6 ماہ میں 3 نئے خلائی مسافر بھیجے جاتے ہیں، جو پرانے عملے کی جگہ لیتے ہیں۔ اس مشن میں 4 چوہے (2 نر اور 2 مادہ) بھی بھیجے جا رہے ہیں۔ یہ چین کے پہلے جانور ہوں گے، جن پر خلا میں تجربہ اور مطالعہ کیا جائے گا۔ سائنسداں دیکھیں گے کہ صفر کشش ثقل میں جانداروں کے جسم پر کیا اثر پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ سوویت یونین نے 1957 میں لائکا ڈاگ (کتا) پہلی بار زمین کے مدار میں بھیجا تھا۔ امریکہ اور فرانس نے 1940 اور 1960 کی دہائی میں بندر اور دیگر جانور بھیجے تھے۔ اس کے علاوہ مینڈھک، مچھلی کیڑے مکوڑے اور خرگوش جیسے جاندار بھی حیاتیاتی اور ارتقائی مطالعے کے لیے بھیجے گئے۔

چین کا یہ پروگرام اسپیس ڈریم پروجیکٹ کا حصہ ہے، جس میں اربوں ڈالر لگائے گئے ہیں، تاکہ وہ امریکہ اور روس کی برابری کر سکے۔ چین پہلے ہی مریخ اور چاند پر روبوٹک روور اتار چکا ہے۔ اب اس کا ہدف 2030 تک انسانوں کو چاند پر بھیجنا اور وہاں ایک بیس قائم کرنا ہے۔ اس کے لیے چین نے لانیو نامین لونر لینڈر اور مینگزو نامی انسان بردار خلائی جہاز کا تجربہ کر رہا ہے۔ کمانڈر جھانگ لو نے کہا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم مشن کو مکمل کامیابی کے ساتھ پورا کریں گے اور ملک کا سر فخر سے بلند کریں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GlJ1OqA

منگل، 28 اکتوبر، 2025

اوپن اے آئی کی ہندوستانی صارفین کو پیشکش، ’چیٹ جی پی ٹی گو‘ ایک سال کے لیے مفت

مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں مقام رکھنے والی کمپنی اوپن اے آئی نے ہندوستانی صارفین کے لیے ایک بڑی پیشکش کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ اس کی سبسکرپشن پر مبنی سروس ’چیٹ جی پی ٹی گو‘ اب ہندوستانی صارفین کے لیے ایک سال کے لیے بالکل مفت دستیاب ہوگی۔ یہ سہولت محدود مدت کے پروموشنل پروگرام کے تحت 4 نومبر سے سائن اپ کرنے والے صارفین کو فراہم کی جائے گی۔

کمپنی کے مطابق، اوپن اے آئی 4 نومبر کو بنگلورو میں اپنے پہلے ڈیو-ڈے ایکسچینج ایونٹ کا انعقاد کرنے جا رہا ہے، جس کا مقصد ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی برادری کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم کرنا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ اسی موقع کی خوشی میں ہندوستانی صارفین کو یہ خصوصی سہولت دی جا رہی ہے تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کے جدید ترین فیچرز کو مفت استعمال کر سکیں۔

اوپن اے آئی کے وائس پریزیڈنٹ اور ہیڈ نک ٹرلی نے کہا، ’’چیٹ جی پی ٹی گو‘ لانچ کرنے کے بعد صارفین کی جانب سے جو جوش و خروش، تخلیقی سوچ اور تیز رفتار اپنانے کی صلاحیت دیکھی گئی ہے، وہ ہمارے لیے نہایت متاثر کن رہی ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستانی صارفین بغیر کسی اضافی لاگت کے ان جدید ٹولز کو استعمال کر کے اپنی تعلیم، کام اور تخلیقی صلاحیتوں کو نئی بلندیوں تک لے جائیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کو اس بات کا بے حد انتظار ہے کہ ہندوستان کے صارفین ’چیٹ جی پی ٹی گو‘ کے ذریعے کیا کچھ نیا سیکھتے اور تخلیق کرتے ہیں۔

’چیٹ جی پی ٹی گو‘ دراصل اوپن اے آئی کی ایک پریمیم سبسکرپشن سروس ہے، جس میں صارفین کو چیٹ جی پی ٹی کے عام ورژن کے مقابلے میں کئی اضافی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ ان میں زیادہ پیغامات بھیجنے کی حد، زیادہ امیج جنریشن، فائلز اور تصاویر اپ لوڈ کرنے کی سہولت، اور بڑی میموری شامل ہے۔

یہ سروس اگست 2025 میں ہندوستان میں لانچ کی گئی تھی۔ کمپنی کے مطابق، اس وقت اسے خاص طور پر ان صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جو کم قیمت میں چیٹ جی پی ٹی کے ایڈوانس فیچرز تک رسائی چاہتے تھے۔ لانچ کے فوراً بعد ہی کمپنی کے پریمیم سبسکرائبرز کی تعداد میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا اور پہلے ہی مہینے میں ہندوستان میں پیڈ سبسکرپشنز تقریباً دگنی ہو گئیں۔

اوپن اے آئی کے اعداد و شمار کے مطابق، ہندوستان چیٹ جی پی ٹی کا دوسرا سب سے بڑا اور تیزی سے بڑھتا ہوا بازار ہے، جہاں روزانہ کروڑوں افراد اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں۔ طلبا، پروفیشنل اور ڈیولپرز سبھی اس کے ذریعے نئی مہارتیں سیکھ رہے ہیں، اپنی کارکردگی بہتر بنا رہے ہیں اور مختلف شعبوں میں تخلیقی حل تلاش کر رہے ہیں۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی ہندوستان جیسے ترقی پذیر ٹیکنالوجی مراکز میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین کو مصنوعی ذہانت کے جدید ترین ٹولز تک آسان رسائی فراہم کی جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/svQlChr

ایلن مسک نے لانچ کیا اے آئی پر مبنی ’گروکی پیڈیا‘، وکی پیڈیا سے بہتر ہونے کا دعویٰ

ٹیسلا اور ایکس کے مالک ایلن مسک نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر مبنی اپنا نیا آن لائن انسائیکلوپیڈیا پلیٹ فارم ’گروکی پیڈیا‘ لانچ کر دیا ہے۔ کمپنی نے اسے ’وکی پیڈیا‘ کا حقیقت پر مبنی متبادل قرار دیا ہے۔  یہ پلیٹ فارم ابھی اپنے ابتدائی ورزن 0.1 میں ہے اور پوری طرح اوپن سورس ہے۔ مسک کا دعویٰ ہے کہ یہ پروجیکٹ وکی پیڈیا سے بہتر ہے اور مستقبل میں اس کا ورزن 1.0 اس سے 10 گنا بہتر ہوگا۔

’گروکی پیڈیا‘ ایک اے آئی-پاورڈ آن لائن انسائیکلوپیڈیا ہے، جسے ایلن مسک کی ٹیم نے تیار کیا ہے۔ اس کا مقصد انٹرنیٹ پر سچی جانکاری فراہم کرنا ہے۔ فی الحال اس کا ورزن 0.1 لانچ ہوا ہے، جس میں صارفین صرف ’سرچ بار‘ کے ذریعہ کسی بھی موضوع پر جانکاری حاصل کر سکتے ہیں۔ ابھی اس پلیٹ فارم پر تقریباً 885000 مضامین دستیاب ہیں، جو اہم عالمی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان مضامین کو انسان ایڈٹ نہیں کر سکتے، صرف مسک کے اے آئی چیٹ باٹ ’گروک‘ ہی انھیں ماڈیفائی (ترمیم) کر سکتا ہے۔

ایلن مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’گروکی پیڈیا‘ کی لانچنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’گروکی پیڈیا‘ کا ورزن 1.0 وکی پیڈیا سے 10 گنا بہتر ہوگا، لیکن میرے خیال سے 0.1 بھی وکی پیڈیا سے بہتر ہے۔ مسک نے یہ بھی بتایا کہ یہ پلیٹ فارم پوری طرح اوپن سورس ہے اور کوئی بھی اسے بغیر کسی فیس کے استعمال کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گروکی پیڈیا‘ مستقبل میں ’وکی پیڈیا‘ کی جگہ لے سکتا ہے اور ان کا اے آئی چیٹ باٹ ’گروک‘ اب وکی پیڈیا کے ریفرنس کا استعمال بھی بند کر دے گا۔

قابل ذکر ہے کہ ’گروکی پیڈیا‘ لانچ ہونے کے کچھ ہی گھنٹے بعد اس کی تنقید بھی شروع ہو گئی ہے۔ ’دی ورج‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اس پلیٹ فارم کے کئی مضامین ’وکی پیڈیا‘ سے لیے گئے ہیں۔ کچھ مضامین کو از سر لکھا گیا ہے، جبکہ کئی جگہ براہ راست کاپی پیسٹ کیا گیا ہے۔ جن صفحات میں یہ جانکاری شامل ہے، وہاں گروکی پیڈیا خود یہ جانکاری دیتا ہے کہ یہ مواد وکی پیڈیا سے لیے گئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/07VuXPF

پیر، 27 اکتوبر، 2025

اب چیٹ جی پی ٹی کا باس پڑھے گا انسانی دماغ، مسک کے ’نیورالنک‘ کو سیدھی ٹکر، نہیں ہوگی سرجری

’چیٹ جی پی ٹی‘ کی تخلیق کار کمپنی ’اوپن اے آئی‘ کے باس سیم آلٹ مین اب ایک نئے پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں جس کا نام ’برین‘ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی اب ’مرج لیبز‘ پر کام کر رہی ہے جو برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) ہوگا۔ اس سسٹم کا کام برین سے آنے والے سگنلز اور آواز کو حاصل کرنا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اسے سرجری کی ضرورت نہیں ہے۔

سیم آلٹ مین کے آنے والے اس پروجیکٹ کا براہ راست مقابلہ دنیا کے سب سے امیر شخص ایلون مسک کی کمپنی ’نیورالنک‘ کے ساتھ ہوگا۔ نیورالنک بھی انسانی دماغ میں بی سی آئی چپ کو امپلانٹ کرتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ پہلے ہی اس کا ایک کامیاب تجربہ کر چکی ہے جس کی مدد سے صارفین دماغی لہروں اور آوازوں کا استعمال کرتے ہوئے کمپیوٹرکا کرسر چلا پا رہے ہیں۔

جہاں نیورا لنک کی بی سی آئی چپ لگانے کے لیے سر کے آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بعد چپ سیٹ کو دماغ پر امپلانٹ کرتے ہیں وہیں سیم آلٹ مین کا کہنا ہے کہ ان کے پروجیکٹ میں سرکی سرجری کر کے اس کو کھولنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔’دی ورج‘ کی رپورٹ کے مطابق سیم آلٹ مین ’مرج لیبز‘ کے لیے ایک بڑی اور طاقتور ٹیم کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ اس میں معروف مالیکیولر سائنسدان میخائل شپارو کا نام شامل ہے۔ حالانکہ وہ یہاں کس عہدے پر فائز ہوں گے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔

’نیورالنک‘ کی بی سی ئی برین چپ ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو فالج کے شکار ہیں۔ نولان آربو ایسے پہلے انسان ہیں جن کے دماغ پر نیورالنک کی چپ سیٹ کو کامیابی کے ساتھ امپلانٹ کیاہے۔ وہ فالج کے شکار ہیں اور گردن کے نیچے کا حصہ وہ کنٹرول نہیں کرپاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں نیورالنک کی برین چپ ان کے لیے بہت مفید ثابت ہوئی ہے۔ وہ اب صحت مند ہیں اور برین چپ کی مدد سے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ چلانے کے قابل ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DUKgapo

اتوار، 26 اکتوبر، 2025

سائبر کرائم معاہدہ: ڈیجیٹل دنیا کے تحفظ کی نئی امید

انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے دور میں آپ کتنی آسانی سے سائبر کرائم کے جال میں پھنس سکتے ہیں، اس کا احساس کرنے کے لیے تصور کریں کہ آپ اپنے مقامی اسٹور کی مانوس ویب سائٹ پر جاتے ہیں۔ سب کچھ ایک جیسا نظر آتا ہے — وہی ڈیزائن، وہی برانڈ، وہی انٹرفیس۔ آپ آرڈر دیتے ہیں، رقم کی ادائیگی کرتے ہیں، اور بعد میں ایک چھوٹی سی تفصیل پر غور کرتے ہیں کہ ویب سائٹ ایڈریس میں صرف ایک لیٹر یا حرف مختلف تھا۔ لیکن آپ کی رقم تو گئی۔ اگر آپ خوش قسمت ہیں تو ہو سکتا ہے کہ ضائع ہونے والی رقم کم ہو، یا اگر آپ کا بینک تیزی سے کام کرتا ہے تو آپ کی رقم واپسی کا امکان ہے۔

لیکن ہر شخص اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا: بہت سے ممالک میں، چوری شدہ رقوم کی وصولی تقریباً ناممکن ہے۔ حالت یہ ہے کہ کچھ ممالک میں، سائبر کرائم کی کارروائیاں اب بھی ’سائبر کرائم‘ کی قانونی تعریف کے تحت واضح نہیں ہیں اور بین الاقوامی سطح پر قانونی تعاون کا فقدان ہے۔ سائبر کرائم تیزی سے پنپ رہا ہے۔ جو کبھی انفرادی حملے ہوتے تھے وہ اب منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کے ذریعے چلائے جانے والے آپریشن میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

نئی ٹیکنالوجیز، بشمول انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت نے مجرموں کے لیے تیز رفتاری سے کام کرنا، پوری دنیا میں متاثرین تک پہنچنا، اور کم سے کم انسانی شمولیت کے ساتھ جرائم انجام دینا آسان بنا دیے ہیں — خود مختار سائبر حملوں اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی جعلی تصاویر سے لے کر بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر اور فشنگ مہمات تک، جہاں متاثرین کو جعلی ویب سائٹس یا ای میلز کے ذریعے پاس ورڈز یا مالی معلومات ظاہر کرنے کے لیے دھوکہ دیا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، اربوں چوری شدہ صارف نام اور پاس ورڈ کے امتزاج ڈارک ویب پر سامنے آئے ہیں۔ یہ ڈیٹا نام نہاد ’کریڈینشل اسٹفنگ‘ حملوں میں استعمال کیا جاتا ہے — یعنی ایک ساتھ ہزاروں ویب سائٹس پر خودکار لاگ ان کی کوششیں۔

لہٰذا، دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور آن لائن میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال سے سائبر کرائم کا خطرہ بھی غیر معمولی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ دہشت گردی، انسانی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور منشیات کی اسمگلنگ سمیت جرائم کے ارتکاب کے لیے اطلاعات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 24 دسمبر 2024 کو نیویارک میں سائبر کرائم سے نمٹنے اور ان کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کے پہلے معاہدے کو منظور کیا تھا اور اب ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں 65 ممالک نے اس معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

دستخط کی تقریب کا اہتمام ویتنام میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کنٹرول (یو این او ڈی سی) کے تعاون سے کیا گیا جس میں اعلیٰ حکام، سفارت کاروں اور ماہرین نے شرکت کی۔ دستخط کیے جانے کے بعد اب مختلف ممالک قانون سازی کے ذریعے اس معاہدے کی توثیق کریں گے۔ یہ معاہدہ 40 دستخط کنندہ ملکوں کی توثیق کے 90 دنوں کے اندر نافذ ہو جائے گا۔

معاہدے کے اہم نکات

اس معاہدے سے پہلے الیکٹرانک ثبوت کے لیے وسیع پیمانے پر کوئی بھی تسلیم شدہ بین الاقوامی معیار موجود نہیں تھا۔یہ تمام سنگین جرائم کے لیے الیکٹرانک شواہد جمع کرنے، ساجھا کرنے اور استعمال کرنے کا پہلا عالمی فریم ورک ہے۔ دوسرے، سائبر کرائم میں ملوث افراد کو مجرم قرار دینے والا یہ پہلا عالمی معاہدہ ہے، جو آن لائن فراڈ، بچوں کے ساتھ آن لائن بدسلوکی، استحصال اور اس سے متعلقہ مواد سے نمٹے گا۔ تیسرے، اس معاہدہ کے تحت بے تکلف لمحات میں بنائی گئی تصاویر اور ویڈیو مواد کو بغیر اجازت آن لائن نشر کرنے کو جرم قرار دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں، پہلی بار ایک چوبیسوں گھنٹے متحرک رہنے والا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے جہاں رکن ممالک فوری طور پر ایک دوسرے سے تعاون کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی تیزی سے بڑھتے ہوئے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے تمام ممالک میں استعداد کار کو فروغ دیا جائے گا۔

سائبر کرائم کے خلاف اجتماعی ڈھال

امید کی جاتی ہے کہ اس نئے معاہدے سے ایسے وقت میں ڈیجیٹل خطرات سے لڑنے میں مدد ملے گی جب سائبر کرائم سے سالانہ نقصانات ہزاروں ارب ڈالر ہونے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ ٹیکنالوجی نے جہاں بے مثال ترقی کی ہے وہیں اس نے بہت سے خطرات بھی پیدا کیے ہیں۔ آئے روز خاندان دھوکہ دہی کا شکار ہو رہے ہیں، روزگار چھینے جا رہے ہیں اور معیشتوں سے اربوں ڈالر کا فراڈ کیا جا رہا ہے۔ سائبر اسپیس میں کوئی بھی اس وقت تک محفوظ نہیں ہے جب تک کہ سب محفوظ نہ ہوں اور کمزوریاں لوگوں اور اداروں کو کہیں بھی غیر محفوظ بنا سکتی ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو آن لائن جرائم سے متاثر ہونے والے ہر فرد کی فتح اور تفتیش کاروں اور استغاثہ کے لیے انصاف کی لڑائی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک واضح راستہ قرار دیا۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے اس معاہدے کو ایک طاقتور اور قانونی طور پر عملی اقدام قرار دیا ہے جو سائبر کرائم کے خلاف اجتماعی دفاع کو مضبوط کرے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کثیرالجہتی طاقت کی ایک مثال ہے جس کی مدد سے مسائل کے حل تلاش کیے جا سکتے ہیں، اور یہ ایک عہد بھی ہے کہ کوئی بھی ملک سائبر کرائم کے خلاف دفاع میں تنہا نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gWphr3P

جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

آٹومیشن کے بڑھتے رجحان کا نتیجہ! میٹا نے ’اے آئی‘ ٹیم کے 600 ملازمین کو کیا برطرف

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال نے عالمی سطح پر ملازمتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ تازہ مثال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی مالک کمپنی ’میٹا‘ نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) شعبے سے 600 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم اپنے کام کے عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کے منصوبے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹا نے کچھ عرصہ قبل اسی شعبے میں بڑی تعداد میں تقرریاں کی تھیں، مگر اب یہی محکمہ کمپنی کی تنظیمِ نو کی پالیسی کے تحت کٹوتی کا شکار بن گیا ہے۔ اس فیصلے نے متاثرہ ملازمین کے لیے غیر یقینی صورتِ حال اور روزگار کے بحران کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کی برطرفی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر کام کرنے والے ملازمین متاثر ہوں گے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ کمپنی اپنے بڑے اور اہم منصوبوں کو متاثر کیے بغیر یہ تبدیلی کرنا چاہتی ہے۔ میٹا متاثرہ ملازمین کو دیگر محکموں میں جگہ دینے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کام کی رفتار کو بہتر بنانے اور فیصلہ سازی میں تیزی لانے کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق میٹا نے حالیہ مہینوں میں کئی نئی تقرریاں کی تھیں جس سے ٹیم کے سائز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اب کمپنی ٹیم کو مزید جامع اور نتائج پر مبنی بنانا چاہتی ہے۔ میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ نے کہا کہ اس اقدام کا مطلب ہے مستقبل میں کم میٹنگ اور بات چیت ہوں گی، جس سے فیصلے جلدی لئے جا سکیں گے۔

مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے عالمی سطح پر ملازمتوں کا خطرہ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی ’ایمیزون‘ نے اپنے گوداموں میں کام کرنے کے لیے روبوٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Lhv70Vk

منگل، 14 اکتوبر، 2025

بغیر پائلٹ کے میدانِ جنگ میں گولہ-بارود پہنچائے گا امریکی جنگی ہیلی کاپٹر ’بلیک ہاک‘

دنیا کا سب سے مشہور جنگی ہیلی کاپٹر ’بلیک ہاک‘ اب بغیر پائلٹ کے بھی پرواز کر سکتا ہے۔ امریکی کمپنی سکورسکی نے واشنگٹن میں جاری اے یو ایس اے 2025 کانفرنس میں اپنا نیا ہیلی کاپٹر ایس-70یو اے ایس یو-ہاک پیش کیا ہے۔ یہ یو ایچ-60ایل بلیک ہاک کا ایک مکمل طور سے آٹومیٹک ورژن ہے، جو بغیر کسی انسان کے لاجسٹکس (سامان پہنچانا)، نگرانی اور لڑائی کا کام کر سکتا ہے۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو یہ ایک بڑا ڈرون ہیلی کاپٹر ہے، جو فوجیوں کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ طویل مشن بھی انجام دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر امریکی فوج کا پرانا دوست ہے۔ 1970 کی دہائی سے یہ فوجیوں کو لے جاتا ہے، سامان پہنچاتا ہے اور جنگ میں مدد کرتا ہے۔ لیکن اب جنگ کے میدان میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس لیے سکورسکی نے اسے بدل دیا ہے، انہوں نے کاکپیٹ (پائلٹ کا کیبن)، سیٹیں اور کریو اسٹیشن ہٹا دیے۔ اس کی جگہ آگے کی جانب کلیمشیل ڈور (جھپٹے دار دروازے) اور پیچھے کارگو ریمپ (سامان اتارنے کا ریمپ) لگا دیا۔ اس سے اندر کا اسپیس 25 فیصد بڑھ گیا ہے، یہ تبدیلی 10 ماہ میں مکمل ہو پائی ہے۔ سکورسکی کمپنی کے وائس چیئرمین رچ بنٹن کہتے ہیں کہ ہم نے بلیک ہاک کا ڈی این اے لیا اور اسے نئی طاقت دی۔ یہ صرف ڈیمو نہیں۔ بلکہ سستی آٹومیٹک تکنیک کا بلیو پرنٹ ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر ’میٹرکس‘ نامی آٹو میٹک سسٹم سے چلتا ہے۔ یہ سسٹم اپنا راستہ خود بناتا ہے، رکاوٹوں سے بچتا ہے اور ریئل ٹائم میں فیصلہ لیتا ہے۔ ایک آپریٹر ٹیبلیٹ سے انجن اسٹارٹ سے مشن ختم کر سب کنٹرول کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی پائلٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

یو-ہاک کی خصوصیات:

  • کوئی کاک پیٹ نہیں: مکمل طور سے انکروڈ (بغیر کریو ممبر کے)، جو پائلٹوں کو خطروں سے بچاتا ہے۔

  • ماڈیولر ڈیزائن: پرانے بلیک ہاک کو آسانی سے اپگریڈ کیا جا سکتا ہے۔ سکورسکی انوویشن کے ڈائریکٹر ایگور چیریپنسکی کہتے ہیں کہ ہماری توجہ ریٹروفٹ پر ہے۔ موجودہ ہیلی کاپٹروں کو نیا بنا سکتے ہیں۔

  • فلائی بائی وائر سسٹم: تیسری نسل کا سستا کنٹرول سسٹم، جو کمپیوٹر کی مدد سے پرواز کا استعمال کرتا ہے۔

  • کارگو لوڈنگ: آگے کے دروازوں سے سامان براہ راست ڈرائیو-آن-ڈرائیو-آف (گاڑی چڑھا کر اتارنا) ہو جاتا ہے۔ کوئی ہاتھ سے اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

  • مشن فلیکسیبلیٹی: لاجسٹکس آئی ایس آر (خفیہ نگرانی)، ڈرون لانچ اور گراؤنڈ وہیکل ڈپلائمنٹ۔ یہ ہیلی کاپٹر ہائی رسک جگہوں پر کام کرے گا، جیسے دشمن علاقوں میں سامان پہنچانا۔

واضح رہے کہ سکورسکی کمپنی کا منصوبہ ہے کہ 2026 میں پہلی پرواز ہو۔ پھر اسے امریکی آرمی کے 2 ہزار سے زیادہ بلیک ہاک میں اپگریڈ کریں گے۔ پنٹاگن کی پالیسی میں آٹونامس لاجسٹکس اہم ہے، خاص کر چین یا روس جیسے دشمنوں سے جنگ کے دوران یو-ہاک ثابت کرے گا کہ پرانی مشینیں نئی تکنیک سے مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/zsWrd6Z

پیر، 13 اکتوبر، 2025

اسپیس ایکس کی اسٹار شپ کا کامیاب لانچ، چاند اور مریخ کی راہ ہوئی آسان

 ایلون مسک کی کمپنی ’اسپیش ایکس‘ نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پیر کے روز کمپنی نے اپنے اسٹارشپ ورژن۔2 راکٹ کا 11 واں اور آخری ٹیسٹ مشن کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ پرواز تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی اور اس نے اپنے تمام اہداف پورے کر لیے۔

ٹیکساس کے اسٹاربیس سینٹر سے لانچ کیے گئے اس مشن کے دوران سپر ہیوی بوسٹر نے پرواز کے10 منٹ بعد ہی میکسیکو کی خلیج میں محفوظ لینڈنگ کی۔ وہیں خلا تک پہنچنے کے بعد ا سٹار شپ نے ڈمی اسٹار لنک سیٹلائٹ چھوڑے اور انجن کو دوبارہ شروع کرنے کا کامیاب تجربہ کیا، جو چاند اور مریخ کے مشن کے لیے انتہائی اہم ہے۔

راکٹ جب زمین پر واپس آیا تو اس نے ماحول کی گرمی کو برداشت کیا اور بحر ہند میں محفوظ طریقے اسپلیش ڈاؤن کیا۔ اس سلسلے میں ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اگلے ماڈل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بتادیں کہ رواں سال کے شروع میں اسٹار شپ کے کئی ٹیسٹ ناکام ہوئے تھے لیکن مسلسل دوسری کامیابی نے ٹیم کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔ اب کمپنی اسٹارشپ ورژن 3 لانچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو پچھلے ورژن سے زیادہ طاقتور ہوگا۔

ورژن 3 تقریباً 408 فٹ (124.4 میٹر) اونچا ہو گا، جب کہ ’فیوچر اسٹار شپ‘ جسے ایلون مسک نے مئی 2025 کی ایک پریزنٹیشن میں دکھایا تھا، زمین سے 466 فٹ (142 میٹر) بلند ہو گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ’فیوچر اسٹار شپ‘ کا ورژن 4 ہے، جسے مسک نے 2027 میں لانچ کرنے کی بات کہی ہے۔

’اسپیش ایکس‘ اس راکٹ کو ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے بھی تیار کر رہا ہے جو کہ 2027 تک انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس مشن کو کمپنی کے مریخ مشن کی جانب ایک بڑا قدم بھی سمجھا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/49eAUSW

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2025

ہندوستانی سائنسدانوں نے تیار کی کوانٹم فزکس پر مبنی نئی ٹیکنالوجی، او ٹی پی ہیکنگ پر لگے گی لگام!

اگر آپ کا فون ہیک ہونے یا سائبر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں رقم گنوانے کا خدشہ رہتا ہے، تو اب راحت کی خبر ہے۔ بنگلورو کے رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آر آئی آئی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو سے تین برس میں ایسی ٹیکنالوجی عام ہو جائے گی جس سے او ٹی پی ہیکنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق، یہ نئی ٹیکنالوجی کوانٹم فزکس کے اصولوں پر مبنی ہے، جو بینکنگ، دفاع اور محفوظ کمیونیکیشن کے میدان میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔

رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی کوانٹم انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ (کیو آئی سی) لیب کی سربراہ پروفیسر اُربسی سنہا نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے ’ڈیوائس انڈیپنڈنٹ رینڈم نمبر جنریشن‘ نامی نظام تیار کیا ہے، جو او ٹی پی اور دیگر حساس ڈیٹا کے لیے استعمال ہونے والے نمبروں کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنائے گا۔

انہوں نے کہا، ’’یہ ٹیکنالوجی موبائل فون کے کام کرنے کے طریقے، او ٹی پی کی تخلیق اور ڈیوائس سکیورٹی کے نظام کو بدل دے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ رینڈم نمبر جنریشن کا عمل کسی بھی آلے پر منحصر نہ ہو۔‘‘ یہ نظام لیبارٹری میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے، اور اب اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

آئی آئی ایس کی پروفیسر انِندا سنہا کے مطابق فی الحال یہ نظام ایک آپٹیکل ٹیبل پر تجرباتی سطح پر کام کرتا ہے لیکن جلد ہی اسے ایک پوٹ ایبل ڈیوائس یعنی چھوٹے باکس کی شکل میں ڈھالا جائے گا، جسے کہیں بھی نصب کیا جا سکے گا۔ ان کے مطابق، یہ ڈیوائس گیگا بٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے کوانٹم رینڈم بٹس تیار کرے گا، جنہیں او ٹی پی اور خفیہ مواصلات کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

یہ ریسرچ آر آر آئی، آئی آئی ایس اور کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے اور اسے ’فرنٹیئرز اِن کوانٹم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔

پروفیسر اُربسی سنہا نے مثال دیتے ہوئے کہا، ’’جیسے ایک فریج وقت کے ساتھ اپنی کارکردگی کھو دیتا ہے، ویسے ہی موجودہ رینڈم نمبر جنریٹرز بھی وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتے ہیں۔ ان میں موجود معمولی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز حملہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جو ان کمزوریوں سے آزاد ہو۔‘‘

اسی سوچ کے تحت محققین نے ’ڈیوائس-اِنڈیپنڈنٹ رینڈم نمبر جنریشن‘ کا نیا طریقہ تیار کیا ہے۔ اس میں ’لیگیٹ-گرگ اِن ایکوالٹیز‘ جیسے کوانٹم اصول استعمال کیے گئے ہیں، جو کسی بھی آلے کی کارکردگی پر منحصر نہیں رہتے۔

پروفیسر انِندا سنہا کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ایک ’رینڈمنیس باکس‘ تیار کر رہی ہے، جو مکمل طور پر مقامی سطح پر بنایا جائے گا۔ اگرچہ اس کا پہلا پروٹو ٹائپ مہنگا ہوگا لیکن بڑے پیمانے پر تیاری کے بعد اس کی لاگت کم ہو جائے گی۔ یہ باکس بینکنگ اور دفاعی اداروں کے لیے موزوں ہوگا، جو محفوظ کمیونیکیشن کے لیے رینڈم نمبر تیار کرنے میں مدد دے گا۔

ان کے مطابق، بینکوں کو او ٹی پی بنانے کے لیے صرف ایک چھوٹے یونٹ کی ضرورت ہوگی، جو تصدیق شدہ رینڈم نمبر فراہم کرے گا۔ یہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ کسی بھی مرحلے پر ڈیٹا یا نمبر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا، ’’فی الحال کمرشل رینڈم نمبر جنریٹرز مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اس لیے ان میں خطرہ رہتا ہے۔ ہمارا مقصد ایک ایسا نظام لانا ہے جس کے ساتھ نظریاتی طور پر بھی کوئی چھیڑ چھاڑ ممکن نہ ہو۔‘‘ پروفیسر اربسی سنہا کو یقین ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے اگرچہ ڈیوائسز میں کچھ تبدیلیاں کرنی پڑیں گی مگر موبائل فون کے بنیادی ڈھانچے کو نہیں بدلنا پڑے گا۔

اور اگر ہیکرز اس نظام کو توڑنے کی کوشش کریں؟ اس سوال پر پروفیسر انِندا سنہا نے کہا، ’’یہی کوانٹم فزکس کی طاقت ہے۔ اگر کوئی دوسرا آلہ بھی بنا لے، تو وہ کسی اور تصدیق شدہ یونٹ سے رینڈم نمبروں کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تقریباً ناقابلِ ہیک ہوگی۔‘‘

(مآخذ: بی بی سی ہندی)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ugIlGf5

منگل، 7 اکتوبر، 2025

دنیا کے کسی کونے میں محض ایک گھنٹے میں پہنچے گا سامان، خلا سے ہوگی ڈیلیوری

 اس وقت دنیا میں ’کویک کامرس‘ کمپنیوں نے دھوم مچا رکھی ہے۔ کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو 10 سے 15 منٹ میں آپ کے گھر سامان پہنچا دیتی ہیں۔ وہیں کچھ ایسی بھی کمپنیاں ہیں جو ایک سے دو دن میں سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچاتی ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی پارسل کی ڈیلیوری میں 5 سے 15 دن لگتے ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی صرف ایک گھنٹے میں دنیا کے کسی بھی کونے میں سامان پہنچا سکے تو کیا ہوگا؟ یہ سروس لاجسٹکس کی دنیا میں ایک انقلاب کے طور پر آئی ہے جسے ’اسپیس ڈیلیوری وہیکل‘ کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ ’انورسن‘ نامی ایک امریکی کمپنی یہ سروس لے کر آئی ہے۔

ایرو اسپیس اور دفاعی شعبوں میں کام کرنے والی  انورسن نے دنیا کی پہلا خلائی ڈیلیوری وہیکل تیار کیا ہے۔ یہ گاڑی صرف 60 منٹ میں خلا کے راستے زمین کے کسی بھی شہر میں سامان پہنچا سکتی ہے۔ یہ کام کمپنی کی آرک گاڑی انجام دیتی ہے۔ آرک ایک ’ری انٹری‘ گاڑی ہے ۔ یعنی یہ خلا میں جا سکتی ہے اور زمین پر واپس آ سکتی ہے۔ آرک گاڑی ایک خلائی جہاز کی طرح ہے جو 8 فٹ لمبی اور 4 فٹ چوڑی ہے۔ یہ ایک بار میں 227 کلوگرام تک کا سامان لے جا سکتی ہے۔

اس کے بعد آرک گاڑی زمین سے 1000 کلومیٹر اوپر خلا میں جائے گی۔ وہاں سے یہ پرواز کرے گی اور ڈیلیوری پوائنٹ پر پہنچنے کے بعد زمین پر واپس آئے گی۔ فضا میں داخل ہونے کے بعد یہ پیراشوٹ کے ذریعے لینڈ کرے گی۔ آرک گاڑی 25000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسپیس ڈیلیوری وہیکل کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ جنگ کے دوران بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے. آرک گاڑی خلا میں بھی رہ سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق خلائی ترسیل کی یہ گاڑی 5 سال تک خلا میں رہ سکتی ہے جو اسے جنگی میدان میں بڑا مددگاربناتی ہے۔

اس سلسلے میں کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آٹونومس اسپیس کرافٹ دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور سستا ہے۔ ایک بار اس سے سامان بھیجنے کے بعد اسے دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس سروس کی قیمت کتنی ہوگی اور اسے کب سے شروع کیا جائے گا ، فی الحال اس بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/745QjNC

اتوار، 5 اکتوبر، 2025

خلاء میں زندگی کا خواب قریب تر

خلاء میں زندگی کا تصور انسانیت کے لیے ایک چیلنج اور شاندار مقصد بن چکا ہے۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے آرٹیفیشل انٹلیجنس اور روبوٹکس کا استعمال بہت مددگار ثابت ہو گا، خاص طور پر خلاء میں خودکار نظاموں کے لیے۔ دوسرے خلاء میں خوراک کی پیداوار اور پانی کے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کے لئے بایوٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تیسرے چاند یا مریخ کی مٹی کو تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال کرنے کی ٹیکنالوجیز بھی خلاء میں آبادکاری کے لئے اہم ہو سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، خلاء میں زندگی کے منصوبے کی کامیابی کے لیے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے کیونکہ مختلف ممالک کے خلاء بازوں، سائنسدانوں اور ماہرین کو ایک ساتھ آنا ہوگا تاکہ اس مشترکہ مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔

خلاء میں زندگی کے چیلنجز

خلاء میں زندگی گزارنے کے لیے توانائی کا مستقل ذریعہ ضروری ہے۔ سورج کی توانائی کو خلاء میں سیٹلائٹس یا چاند پر قائم بیسوں میں تبدیل کرنا ایک اہم قدم ہوگا۔ خلاء میں پانی، خوراک اور ہوا کا مسلسل انتظام کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں ایسی ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہوگی جو ان وسائل کی پیداوار کو ممکن بنائیں اور انہیں برقرار رکھیں۔ خلاء میں طویل عرصہ گزارنے سے انسانوں کی ذہنی حالت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تنہائی اور جغرافیائی دوری ذہنی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے، جس سے خلاء بازوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ خلاء میں زندگی کا تصور ابھی ایک خواب کی مانند لگتا ہے، لیکن انسانیت نے جو تحقیق اور ترقی کی ہے، اس نے ہمیں اس خواب کے قریب کر دیا ہے۔

اس ضمن میں 6 دسمبر 1999 کو، اقوام متحدہ نے عالمی خلائی ہفتہ کا اعلان کیا، تاکہ انسانیت کی بہتری کے لئے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے کردار کو سراہا جا سکے۔ تب سے، عالمی خلائی ہفتہ دنیا کا سالانہ خلائی ایونٹ بن چکا ہے، جو نئی نسل کو حوصلہ دیتا ہے، طلباء کو متحرک کرتا ہے، عوام کو خلائی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، اور خلائی رابطے اور تعلیم میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔

ہر سال اقوام متحدہ کے آفس آف آؤٹر اسپیس افیئرز (او او ایس اے) کے تعاون سے عالمی خلائی ہفتہ کے لیے ایک تھیم منتخب کی جاتی ہے۔ یہ تھیم عالمی خلائی ہفتہ کے شرکاء کو اپنے پروگراموں کے مواد کے حوالے سے وسیع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس تھیم کا مقصد عالمی خلائی ہفتہ کے اثرات کو مزید بڑھانا ہے، تاکہ یہ دنیا بھر میں یکساں تھیم کے ذریعے انسانیت پر زیادہ اثر ڈال سکے۔

خلاء میں زندگی

انسانیت زمین سے آگے، آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ دنیا کو دعوت دیتا ہے کہ وہ تصور کرے کہ زمین کے باہر زندگی کیسی ہو سکتی ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ 2025 کے لیے منتخب تھیم ہے "خلاء میں زندگی"۔ یہ تھیم انسانیت کے اس سفر کا جائزہ لیتی ہے جس میں خلاء کو ایک رہائشی جگہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اس میں انوکھی ٹیکنالوجیز، چیلنجز، تعاون کی کوششیں اور بین الاقوامی قوانین کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے جو اس وژن کو حقیقت بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں ایونٹ منیجرز کو ’خلاء میں زندگی‘ کے تھیم کو اپنے عالمی خلائی ہفتہ کے ایونٹس میں شامل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ان کی سرگرمیوں میں تعلیمی ورکشاپس اور انٹرایکٹو سیشنز سے لے کر پینل ڈسکشنز اور مشترکہ منصوبوں تک شامل ہیں، جن کا مقصد جدید ماحولیاتی حلوں کو فروغ دینا ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ کی سالانہ تقریب 4 سے 10 اکتوبر تک منائی جاتی ہے، جو دو تاریخی سنگ میلوں کو نشان زد کرتی ہے: 1957 میں اسپوتنک 1 کی لانچ، جو دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ تھا، اور 1967 کا آؤٹر اسپیس معاہدہ، جو بین الاقوامی خلائی قانون کی بنیاد ہے۔

آج، 90 سے زائد ممالک سیٹلائٹس لانچ کرتے ہیں، اور 2030 تک عالمی خلائی معیشت کا تخمینہ 730 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے آفس فار آؤٹر اسپیس افیئرز کی ڈائریکٹر آرتی ہولا-مائنی کے مطابق، ’’خلاء کوئی دور کی بات نہیں ہے، یہ پہلے ہی ایک مشترکہ حقیقت بن چکا ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں تو یہ ہمیں زمین کے سب سے زیادہ توجہ طلب مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘‘

جدت اور روزمرہ زندگی

اس سال کی تھیم عوام کو زمین کے باہر زندگی کا تصور کرنے کی دعوت دیتی ہے، چاند کی بنیادوں سے لے کر طویل مدتی مدار مشنوں تک۔ لیکن وہ بہت سی ٹیکنالوجیز جو سیاروں سے باہر زندگی کو ممکن بناتی ہیں، پہلے ہی زمین پر روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ سولر پینلز سے لے کر پانی کی صفائی کے نظام تک، خلاء کی تحقیق سے پیدا ہونے والی جدتوں نے صنعتوں اور گھریلو زندگی کو تبدیل کر دیا ہے۔ سیٹلائٹ پر مبنی جی پی ایس، موسم کی نگرانی، اور ٹیلی کمیونیکیشنز اب ناگزیر بن چکے ہیں۔

تاہم، خلاء دن بدن مزید بھیڑ بھاڑ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ 2024 تک، 45 ہزار سے زیادہ انسانوں کی بنائی ہوئی اشیاء زمین کے مدار میں گردش کر رہی ہیں، جن میں فعال سیٹلائٹس سے لے کر غیر فعال خلائی جہاز اور ان کے حصے شامل ہیں۔ آنے والے برسوں میں ہزاروں مزید اشیاء کے لانچ ہونے کا منصوبہ ہے، جس سے تصادم کا خطرہ اور خلاء میں کچرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس پس منظر میں، اقوام متحدہ کا آفس فار آؤٹر اسپیس افیئرز ممالک کو مدد فراہم کرتا ہے تاکہ ملبہ کم کرنے اور ’خلائی ٹریفک مینجمنٹ‘ کیا جا سکے۔ یہ آفس مدار میں گردش کرنے والی اشیاء کی رجسٹری برقرار رکھتا ہے اور ان قومی قوانین کی حمایت کرتا ہے جو بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق ہوں، تاکہ خلائی وسائل تک محفوظ اور منصفانہ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایک چاند سب کے لیے

چاند پر جاری تلاش ایک اور بڑھتا ہوا شعبہ ہے۔ 2030 تک 100 سے زائد مشنز کا منصوبہ ہے، جو سائنسی تحقیق سے لے کر تجارتی منصوبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے آفس فار آؤٹر اسپیس افیئرز کی "ایک چاند سب کے لیے" مہم ان کوششوں کو ہم آہنگ کرتی ہے تاکہ خلاء کی تلاش محفوظ، پرامن اور جامع ہو سکے۔ ہولا-مائنی کے مطابق، یہ مشنز علم اور ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتے ہیں، مگر انہیں احتیاط اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

ترقی کے لیے خلاء

اس صورتحال میں، خلاء تیزی سے ترقی کے لیے ایک آلہ بنتی جا رہی ہے، اور یہ صرف امیر ممالک تک محدود نہیں ہے۔ اقوام متحدہ نے کینیا، نیپال، اور گوئٹے مالا جیسے ممالک کی مدد کی ہے تاکہ وہ اپنے پہلے سیٹلائٹس بنا سکیں، اور حکومتوں کو خلاء کے ڈیٹا کو قدرتی آفات سے نمٹنے، موسمیاتی نگرانی، اور غذائی تحفظ کے لیے استعمال کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ سیٹلائٹ امیجری ماحول کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے، جو ممالک کو غیر قانونی ماہی گیری سے لڑنے، جنگلات کی آگ کی نگرانی کرنے اور جنگلات کی کٹائی کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

مستقبل کی حفاظت

کثیر جہتی تعاون خلاء کو تنازعات سے پاک اور سب کے لیے قابل رسائی رکھنے کے لیے اہم ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جب نجی کمپنیاں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک، چاہے وہ خلاء کا سفر کرنے والا ہو یا نہ ہو، کی اپنی آواز ہونی چاہیے۔ یہ تعاون کی روح پہلے ہی مدار میں آزمایا جا چکا ہے۔ ناسا کے سابقہ خلاء باز اور اقوام متحدہ کے خلائی چیمپئن اسکاٹ کیلی، جنہوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر 520 دن گزارے، نے اسے انسانیت کی اجتماعی کامیابی کی سب سے بڑی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق، خلائی اسٹیشن وہ سب سے مشکل کام ہے جو ہم نے کبھی کیا ہے... اگر ہم یہ کر سکتے ہیں، تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کیلی نے زور دیا کہ عالمی تعاون ہی انسانیت کی سب سے غیر معمولی کوششوں کو ممکن بناتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bHU9WPi