بدھ، 23 اگست، 2023

چندریان-3 نے چاند کے جنوبی قطب پر لہرایا ہندوستانی پرچم، آئیے جانتے ہیں کامیاب لینڈنگ کے 5 اہم اسباب

چندریان-3 نے آج ہندوستان کا سر پوری دنیا کے سامنے اونچا کر دیا ہے۔ 23 اگست کی شام جب ہندوستان میں 6 بج رہے تھے تو چندریان-3 کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطب پر کامیابی کے ساتھ سافٹ لینڈنگ کی اور اس کا نظارہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا۔ اس کامیاب لینڈنگ کے ساتھ ہی ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ لیکن یہ کامیابی اتنی آسان نہیں تھی، بلکہ سائنسدانوں کی سخت جدوجہد اور گزشتہ ناکامیوں سے حاصل تجربات کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کا نام دنیا میں روشن ہو رہا ہے۔ آئیے یہاں جانتے ہیں کہ وہ کون سے 5 بڑے اسباب ہیں جس نے وکرم لینڈر کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو آسان بنایا۔

1. طاقتور وکرم لینڈر:

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کے ایرو اسپیس سائنٹسٹ پروفیسر رادھاکانت پادھی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس بار لینڈر وکرم کو 6 سگما باؤنڈ سے ڈیزائن کیا گیا ہے، اس لیے یہ پہلے سے زیادہ طاقتور ہے۔ اس سے اِسرو کے سائنسداں کو یہ اطمینان حاصل ہوا کہ اگر وکرم لینڈر کی رفتار کچھ تیز بھی رہی تو لینڈنگ میں کسی طرح کی پریشانی نہیں ہوگی۔

2. چندریان-2 سے زیادہ ایندھن:

چندریان-3 میں چندریان-3 کے مقابلے زیادہ فیوئل یعنی ایندھن بھرا گیا تھا۔ اس سے یہ ممکن ہو سکا کہ لینڈر وکرم کو صحیح اور برابر جگہ پر اتارنے میں کسی بھی طرح کی کوئی دقت نہ ہو، بھلے ہی اس میں تھوڑا زیادہ وقت لگے۔

3. چندریان-2 کی ناکامی سے سیکھا سبق:

چندریان-2 اور چندریان-3 کی لانچنگ کا حصہ رہ چکے پروفیسر رادھاکانت نے کہا کہ چندریان-2 کا لینڈر وکرم اپنی رفتار کنٹرول نہیں کر سکا، جس کی وجہ سے وہ گر گیا۔ وہ الگوریدم کی ناکامی تھی، جس کو اس بار ٹھیک کر لیا گیا تھا۔

4. نئے سنسر کا استعمال:

چندریان-3 میں لیجر ڈاپلر ویلوسٹی میٹر سنسر جوڑا گیا ہے۔ اس کی مدد سے وکرم لینڈر کو چاند پر صحیح طریقے سے اتارنے میں مدد ملی۔ سنسر نے چاند کی سطح کو کیمرے کی مدد سے چیک کیا اور او کے کمانڈ دیا تبھی وکرم چاند کی سطح پر اترا۔

5. مضبوط لینڈنگ لیگس:

وکرم لینڈر کے روبوٹک لیگس (پیر) کو چندریان-2 کے مقابلے زیادہ مضبوط کیا گیا۔ اس کی مدد سے ہی وکرم لینڈر چاند پر اترا۔ یہ جانکاری پہلے ہی دے دی گئی تھی کہ لینڈنگ کے دوران 3 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار ہونے پر بھی اس کے لیگس یعنی پیر ٹوٹیں گے نہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/btNT2px

41 دن کے سفر کے بعد آج چاند پر اترے گا چندریان 3

چاند پر چندریان 3 کی سافٹ  لینڈنگ کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ 14 جولائی کو چندریان 3 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا اور اب بدھ کی شام  6بج کر 4منٹ کا انتظار ہے جب اس کی سافٹ لینڈنگ متوقع ہے ۔ چندریان زمین پر 14 دن یعنی چاند کا ایک دن رہ کر چاند پر مطالعہ کرے گا۔

چندریان -3 کو چندریان -2 کی ناکامی کے چار سال بعد 2019 میں لانچ کیا گیا تھا۔ پچھلے مشن کی ناکامیوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس میں خصوصی تبدیلیاں کی گئیں اور آج اسرو نے پورے اعتماد کے ساتھ اپنی کامیاب لینڈنگ کی بات کہی ہے۔ پہلی بار کوئی ملک چاند کے قطب جنوبی پر خلائی جہاز اتارے گا۔ جس کی وجہ سے دنیا بھر کے سائنسدان ہندوستان کے مشن مون پر نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

چندریان 3 کے تین بڑے حصے ہیں، پہلا پروپلشن ماڈیول، دوسرا لینڈر ماڈیول وکرم اور تیسرا روور پرگیان۔ 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول سے الگ ہونے کے بعد، لینڈر ماڈیول وکرم اپنی گود میں بیٹھے روور پرگیان کے ساتھ چاند کی طرف بڑھ رہا ہے۔ 23 اگست کو لینڈر وکرم روور پرگیان کو چاند کی سطح پر اتارے گا۔ روور پرگیان چاند کے گرد گھومے گا، نمونے جمع کرے گا اور سائنسی ٹیسٹ کرے گا۔

چندریان 3 بدھ کو شام 6.4 بجے چاند پر سافٹ  لینڈنگ کرے گا۔ اس دوران 15 منٹ بہت خاص ہوں گے کیونکہ اس وقت لینڈر خود کام کرے گا، اسرو کے سائنسدان اسے کوئی کمانڈ نہیں دیں گے۔ فیز 4 میں، لینڈر چاند کی سطح پر قدم رکھے گا۔ اس 15 منٹ میں 1440 دن کی محنت کا نتیجہ ملے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uNh98Rl

امریکی سائنسدانوں نے چین کے ساتھ سائنسی تعاون کے معاہدے کی تجدید کی درخواست کی

واشنگٹن: امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے فزکس کے دو پروفیسروں نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ چین کے ساتھ سائنسی اور تکنیکی تعاون کے معاہدے کی تجدید کرے۔

پروفیسر اسٹیون کیولسن اور پیٹر مائیکلسن نے 21 اگست کو صدر جو بائیڈن کے نام تحریر کردہ ایک کھلے خط میں کہا ’’امریکہ کو پروٹوکول کی تجدید کرنی چاہیے، کیونکہ یہ امریکہ کے بہترین مفاد میں ہے۔‘‘

انہوں نے جس پروٹوکول کا حوالہ دیا وہ امریکہ-چین سائنس اور ٹیکنالوجی تعاون کا معاہدہ ہے، جس پر دونوں ممالک کے درمیان 1979 میں دستخط ہوئے تھے اور اس کے بعد سے ہر پانچ سال بعد اس کی تجدید کی جاتی ہے۔ یہ اتوار کو ختم ہوجائےگا۔

کانگریس میں کچھ ریپبلکن ممبران نام نہاد ’’قومی سلامتی‘‘ کی تشویشات پر تجدید کی مخالفت کرتے ہیں، جس نے سائنسی برادری میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا ’’ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ چین کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے سے ہماری اپنی تحقیق، ہمارے فوری ساتھیوں کے کام یا ہماری یونیورسٹیوں کے تعلیمی مشن پر براہ راست اور منفی اثر پڑے گا۔‘‘

پروفیسر کیولسن اور پروفیسر مائیکلسن امریکہ میں سائنس دانوں اور اسکالروں سے جمعرات تک اپنے خط پر دستخط کرنے اور اپنے ساتھیوں میں اس مہم کو فروغ دینے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

خط کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور چین کے درمیان سائنسی مصروفیات کا سنگ بنیاد رہا ہے اور اس سے امریکہ کو بے پناہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/F8cUILp

منگل، 22 اگست، 2023

چندریان 3 LIVE: آج شام کو سافٹ لینڈنگ کے لیے الٹی گنتی شروع

اسکولوں میں لائیو ٹیلی کاسٹ

آج شام 6.04 بجے چندریان 3 کی لینڈنگ پورے ملک میں براہ راست نشر کی جائے گی۔ اس تقریب کے لیے اسکول کھلے رہیں گے اور خلائی شائقین اس تاریخی لمحے کے لیے پارٹیوں کا اہتمام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی، جو جنوبی افریقہ میں برکس سربراہی اجلاس میں حصہ لے رہے ہیں، چندریان -3 کی لینڈنگ کے دوران عملی طور پر اسرو میں شامل ہوں گے۔

مشن کی کامیابی کے لئے دعائیں

ہندوستان کا مون مشن چندریان 3 آج شام چاند کی سطح پر اترنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس سے قبل ملک بھر میں جوش و خروش نظر آ رہا ہے اور مشن کی کامیابی کے لیے دعائیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اسرو کے سائنسدانوں نے چندریان 3 کی لینڈنگ سے پہلے کے 20 منٹ کو ہندوستان کے لیے ’20 منٹ کی دہشت‘ قرار دیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/p0U6SVh

چندریان 3 چاند پر اترنے کے لیے تیار، ہندوستان تاریخ رقم کرنے سے ایک قدم دور

چنئی: ہندوستانی چاند مشن چندریان-3 بدھ کو چاند پر اترنے کے لیے تیار ہے۔ چاند مشن، چندریان 3 کامیابی کے ساتھ اپنے آخری مرحلے میں پہنچ گیا ہے اور چندریان لینڈر ماڈیول ( ایل ایم) 23 اگست کی شام 6.04 بجے چاند کے جنوبی قطبی علاقے پر اترے گا۔

اب تک، مشن بالکل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور اب سب کی نظریں اس لینڈنگ پر ہیں جو اگر کامیاب ہو جاتا ہے، تو ہندوستان کو اقوام کے ایک ایلیٹ گروپ میں شامل کر دے گا جس میں امریکہ، روس اور چین شامل ہیں۔ اسرو کے سائنسدان نصف شب سے چندریان 3 مشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ چندریان-3 کی لینڈنگ سے چند گھنٹے قبل، اسرو نے ایک سنگ میل حاصل کیا جب مدار میں لے جانے والے چندریان-2 نے کل چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول ( ایل ایم) رسمی طور پر استقبال کیا گیا۔ چندریان -2 آربیٹر چندریان -3 لینڈر کے ساتھ اسرو کے لئے بیک اپ مواصلاتی چینل ہوگا۔

اسرو نے ایکس چندریان -3 مشن پر ایک پوسٹ میں کہا: ’خوش آمدید دوست۔ سی ایچ-2 مدار نے باضابطہ طور پر سی ایچ -3 ایل ایم کا خیرمقدم کیا۔

اسرو نے 2019 میں کہا تھا کہ عین لانچنگ اور مداری تدبیریں کی وجہ سے چندریان-2 کے مداری مشن کی زندگی میں سات سال کا اضافہ ہوا ہے۔ چندریان-2 مشن، جو 22 جولائی 2019 کو شروع کیا گیا تھا، چاند کے نامعلوم جنوبی قطب کو تلاش کرنے کے لیے ایک مدار، لینڈر اور روور پر مشتمل تھا۔

چندریان-2 کو جولائی 2019 میں لانچ کیا گیا تھا اور روور کو لے جانے والا لینڈر ستمبر 2019 میں لینڈنگ سائٹ کے بالکل قریب تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا، جس سے مشن 99.99 فیصد کامیاب رہا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4K6ANyx

پیر، 21 اگست، 2023

چندریان-3: اگر 23 اگست کو نہیں ہوئی لینڈنگ تو پھر اس کے لیے 27 اگست تک کرنا پڑے گا انتظار!

ہندوستان کا چندریان-3 کامیابی سے محض دو دن دور ہے۔ ہر گزرتے وقت کے ساتھ وکرم لینڈر چاند کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اِسرو نے سافٹ لینڈنگ کے لیے 23 اگست کی شام تقریباً 6 بجے کا وقت بھی مقرر کر رکھا ہے، لیکن اِسرو کی طرف سے یہ جانکاری بھی دی گئی ہے کہ لینڈنگ کی تاریخ میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس تعلق سے اِسرو کے ایک سینئر افسر نے خود جانکاری مہیا کی ہے۔

دراصل چندریان-3 کی لینڈنگ چاند کے جس حصے میں ہونی ہے، وہاں اسپیس کرافٹ کو اتارنے کے لیے ایسی زمین کی تلاش کرنی ہے جہاں نہ تو زیادہ پہاڑ ہوں اور نہ ہی زیادہ گڈھے۔ یعنی برابر سطح والے حصے کی تلاش ہے جو ایک مشکل امر ہے۔ لینڈر ماڈیول میں لگے خاص کیمروں کے ذریعہ کھینچی گئی کچھ تصویروں کو شیئر کیا گیا ہے جس پر اِسرو کے سائنسدانوں کی گہری نظر ہے۔ اِسرو کے افسران کیمرے کے ذریعہ ہی لینڈنگ کے لیے زمین تلاش کر رہے ہیں۔ اگر لینڈنگ کے لیے زمین کی تلاش وقت مقررہ پر کر لی جاتی ہے تب تو 23 اگست کو یہ عمل انجام دیا جائے گا، ورنہ کسی دوسری تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

گجرات کے احمد آباد واقع اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش ایم دیسائی نے تاریخ بدلنے کو لے کر ایک اہم جانکاری دی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چندریان کو چاند پر اتارنے سے دو گھنٹے پہلے لینڈر اور چاند کی حالت کا جائزہ لیا جائے گا۔ سبھی حالات پر نظر رکھنے کے بعد ہی لینڈر کو چاند پر لینڈ کرانے کا فیصلہ ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اِسرو کو لگتا ہے کہ لینڈر یا چاند کی حالت لینڈنگ کے لیے مناسب نہیں ہے، تو چاند پر لینڈنگ کی تاریخ 27 اگست تک کے لیے آگے بڑھا دی جائے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rNL5sMY

ہندوستان۔ روس کے درمیان چاند کو فتح کرنے کی دوڑ ختم، اسرو کو برتری

روس اور ہندوستان کے درمیان چاند کے قطب جنوبی کو فتح کرنے کی دوڑ ختم ہو گئی ہے کیونکہ 47 سال کے طویل وقفے کے بعد روس نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے پر اترنے کے لیے اپنا لونا۔25 خلائی جہاز کامیابی سے لانچ کیا تھا، جو کریش ہو گیا ہے اور اس طرح روس اب اس دوڑ سے باہر ہو گیا ہے۔

23 اگست کو لینڈنگ کے ساتھ ہندوستان کا چندریان 3 قطب کی پوزیشن سنبھالے گا اور سطح پر جمے ہوئے پانی کا پتہ لگانے کے لیے اترنے والی چوتھی گاڑی بن جائے گی اور ہندوستان تاریخ رقم کرے گا۔
روس کے لونا-25 کو 14 جولائی کو لانچ کیے گئے چندریان-2 کے مقابلے میں بہت بعد میں لانچ کیا گیا تھا۔ اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا تھا کہ لونا-25 کو لانچ کے 12 دنوں کے اندر 21-22 اگست کو چاند پر اترنا تھا۔ وہیں اسرو نے 23 اگست کو چندریان -3 کی سافٹ لینڈنگ کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس طرح چندریان 3 لانچ کے 42 دن بعد چاند کی سطح پر اترے گا۔

لونا 25 کے حادثے سے روس کا 47 سالہ خواب چکنا چور ہو گیا۔ہندوستان کو اس کا فائدہ ہوا اور وہ 23 اگست کو رات 18.04 بجے اپنے چندریان 3 کی پاور لینڈنگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان یہ اہم کارنامہ انجام دینے والا امریکہ، چین اور روس کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/B3DAhVN

اتوار، 20 اگست، 2023

چندریان-3: لینڈر وکرم نئے مدار میں داخل، اب چاند سے صرف 25 کلومیٹر دور

نئی دہلی: چندریان-3 کا دوسرا اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گیا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سائنسدانوں نے بدھ کے روز خلائی جہاز کو چاند کی سطح پر اتارنے سے پہلے اہم مرحلے کی قریب سے نگرانی کی۔ لینڈر وکرم ایک ایسے مدار میں داخل ہو گیا ہے جہاں سے چاند کا قریب ترین نقطہ 25 کلومیٹر اور سب سے دور والا نقطہ 134 کلومیٹر ہے۔ اسرو نے کہا ہے کہ اس مدار سے وہ بدھ کو چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں سافٹ لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔

اسرو نے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر پوسٹ کیا ’’دوسرے اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن نے لینڈر ماڈیول کے مدار کو کامیابی کے ساتھ 25 کلومیٹر - 134 کلومیٹر تک کم کر دیا ہے۔ ماڈیول اندرونی جانچ سے گزرے گا اور طلوع آفتاب کے وقت نامزد لینڈنگ سائٹ پر رکھا جائے گا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ یہاں سے 23 اگست کو شام 5.45 بجے لینڈنگ کی کوشش کی جائے گی۔

جمعہ کو پہلے ڈی بوسٹنگ آپریشن کے دوران اسرو کے سابق سربراہ کے سیون نے این ڈی ٹی وی کو بتایا تھا کہ چندریان-3 لینڈر کا ڈیزائن وہی ہے جو پچھلے چندریان-2 مشن میں استعمال کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، "ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ چندریان-2 کے مشاہدے کی بنیاد پر مشن میں کی گئی تمام غلطیوں کو درست کر لیا گیا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ چندریان-3 14 جولائی کو لانچ کے بعد 5 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ پروپلشن اور لینڈر ماڈیولز کو الگ کرنے کی کل کی مشق سے پہلے اسے 6، 9، 14 اور 16 اگست کو چاند کے مدار میں اتارنے کی کوشش کی گئی، تاکہ یہ چاند کی سطح کے قریب آ سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/msNxi2W

ہفتہ، 19 اگست، 2023

چندریان 3 نے چاندکے قریب  قدم  بڑھایا ، اب صرف چند کلومیٹر کے  فاصلے پر

دوسرے ڈی بوسٹنگ آپریشن (رفتار کو کم کرنے کا عمل) نے مدار کو 25 کلومیٹر x 134 کلومیٹر تک کم کر دیا ہے یعنی اب چاند کی سطح سے وکرم لینڈر کا فاصلہ صرف 25 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ اب بس  23  اگست کو کامیاب لینڈنگ کا انتظار  ہے۔ لینڈنگ سے پہلے، ماڈیول اندرونی جانچ سے گزرے گا اور نامزد لینڈنگ سائٹ پر طلوع آفتاب کا انتظار کرے گا۔

چاند کی سطح پر سافٹ  لینڈنگ کے لیے چندریان 3 کے لینڈر کی رفتار کو کم کرنا سب سے اہم ہے۔ یہ لینڈنگ مشن میں سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس سے قبل 18 اگست کو ڈیبوسٹنگ کا پہلا عمل کیا گیا تھا۔

اتوار کو ہونے والے دوسرے اور آخری ڈیبوسٹنگ کے بارے میں، اسرو نے بتایا کہ آپریشن کامیاب رہا اور اس نے مدار کو 25 کلومیٹر x 134 کلومیٹر تک گھٹا دیا ہے۔ 23 اگست 2023 کو ہندوستانی وقت کے مطابق شام 5.45 بجے کے قریب سافٹ لینڈنگ کے لیے پاورڈ ڈیسنٹ شروع ہونے کی امید ہے۔

لینڈر وکرم اس وقت چاند کے ایسے مدار میں ہے جہاں چاند کا قریب ترین نقطہ 25 کلومیٹر اور سب سے دور 134 کلومیٹر ہے۔ اس مدار سے، یہ بدھ (23 اگست) کو چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ  لینڈنگ کی کوشش کرے گا۔ ابھی تک کوئی مشن قطب جنوبی تک نہیں پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرو نے چندریان کو یہاں بھیجا ہے۔

لینڈر وکرم خودکار موڈ میں چاند کے مدار میں اتر رہا ہے۔ درحقیقت یہ خود ہی فیصلہ کر رہا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے۔ چاند کی سطح پر کامیابی کے ساتھ اترنے کے بعد ہندوستان یہ کامیابی حاصل کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ اب تک صرف امریکہ، سوویت یونین (موجودہ روس) اور چین ہی یہ کام کر پائے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FN6U1yf

جمعرات، 17 اگست، 2023

چندریان-3 سے متعلق بڑی خوشخبری آئی سامنے، آخری مرحلہ میں کامیابی کے ساتھ الگ ہوا لینڈر

چندریان-3 نے اب تک مشن چاند کو لے کر انتہائی کامیاب سفر کیا ہے اور تازہ ترین خبر یہ سامنے آئی ہے کہ چاند پر اس کی لینڈنگ سے ٹھیک پہلے ایک بڑی کامیابی مل گئی ہے۔ اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق جمعرات کی دوپہر 1.08 بجے چندریان-3 کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ عمل لینڈنگ سے پہلے انتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر ماڈیول کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ اب وکرم لینڈر چاند کے 100 کلومیٹر احاطہ میں گردش کرے گا اور دھیرے دھیرے لینڈنگ کی طرف بڑھے گا۔

اِسرو نے جو آفیشیل بیان جاری کیا ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ لینڈر اور پروپلشن کامیابی کے ساتھ الگ ہو گئے ہیں۔ اب جمعہ کی شام 4 بجے لینڈر ماڈیول کو نچلے مدار میں ڈی بوسٹ کیا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب چاند کے پاس ہندوستان کے 3 پروپلشن ماڈیول ہیں۔ یعنی ہندوستان چاند پر قدم رکھنے کے بالکل قریب ہے۔

واضح رہے کہ اگر چندریان-3 کی چاند پر کامیابی کے ساتھ لینڈنگ ہوتی ہے (جس کے پورے امکانات ہیں) تو ہندوستان چاند پر پہنچنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہوگا۔ خاص بات یہ ہے کہ چندریان-3 چاند کے جنوبی قطب میں لینڈ ہوگا، جہاں ابھی تک کوئی نہیں پہنچ پایا ہے۔

بہرحال، پروپلشن اور وکرم لینڈر کے علیحدہ ہونے کے بعد اب ایک ہفتے تک ہر کسی کی سانسیں تھمی ہوں گی۔ چندریان-3 کی لینڈنگ 23 اگست کو ہونی ہے، لیکن اس سے پہلے آج کا دن بہت اہم ہے۔ اِسرو کے مطابق جمعرات کو چندریان-3 کے پروپلشن اور لینڈر الگ ہو گئے ہیں، ایسی حالت میں دونوں چاند کے مدار کے 100x100 کلومیٹر رینج میں ہوں گے۔ دونوں کو کچھ دوری پر رکھا جائے گا تاکہ ان میں ٹکر نہ ہو پائے۔ الگ ہونے کے بعد لینڈر اب بیضوی دائرے میں گھومے گا اور اپنی رفتار کو دھیمی کرتا جائے گا۔ دھیرے دھیرے یہ چاند کی طرف بڑھے گا۔ اب 18 اگست کافی اہم دن ہے جب لینڈر کی رفتار دھیمی کی جائے گی اور اس کے بعد ہی لینڈر کو چاند کی طرف بھیجا جائے گا۔ بعد ازاں سافٹ لینڈنگ کا عمل شروع ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MGhlB2V

منگل، 15 اگست، 2023

چندریان 3 سافٹ لینڈنگ سے صرف ایک مدار کی دوری پر، لینڈر اور کیریئر یہاں سے ہوں گے علیحدہ

ہندوستان کا پروقار مشن چندریان-3 چاند کی طرف اپنے آخری مدار میں پہنچ گیا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے چندریان کے سفر میں اہم لیکن فیصلہ کن تبدیلیاں رونما ہونے والی ہیں۔ اسرو کے مطابق اس مدار میں پہنچنے کے بعد وہ لینڈر کو الگ کرنے کا عمل شروع کریں گے۔

ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ آج انجن کو کامیابی سے آن کرنے کے بعد اس نے چاند کی طرف جانے والا مدار مکمل کر لیا ہے۔ اب اس کا فاصلہ 153 کلومیٹر رہ گیا ہے۔ یہاں سے لینڈر کو الگ کیا جائے گا اور 17 اگست سے ایک اور چکر مکمل کرنے کے بعد اس مشن کا کیریئر اپنا الگ سفر شروع کرے گا۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو لینڈر اپنے شیڈول کے مطابق 23 اگست کو چاند پر سافٹ لینڈنگ کرے گا۔

مرکزی سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر جتیندر پرساد نے کہا ہے کہ ہم چاند کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آنے والے دنوں میں ان کا لینڈر چاند پر ہوگا۔ اس کامیابی سے چاند کے سفر کے لیے مزید دروازے کھل جائیں گے۔

اگر یہ مشن کامیابی سے مکمل ہوجاتا ہے تو ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ یہی نہیں، ہندوستان دنیا کا پہلا ملک ہوگا جس نے بغیر کسی بھاری راکٹ کے اس مشن کو پورا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کارنامہ بھارت کے کھاتے میں آئے گا جس کے مطابق بھارت سب سے کم لاگت پر اس مشن کو انجام دینے والا ملک ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GaJqXpg

پیر، 14 اگست، 2023

سورج کا معمہ حل کرنے کی طرف اِسرو بڑھا رہا قدم، مشن سورج یعنی 'آدتیہ ایل 1' کی لانچنگ کے دن قریب

ایک طرف اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) چندریان-3 کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کو لے کر پُرجوش ہے، اور دوسری طرف اس نے سورج کا معمہ حل کرنے کے لیے بھی قدم بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ اِسرو نے مشن سورج کی تیاریاں شروع کر دی ہے اور اس کے تحت 'آدتیہ ایل 1' کی لانچنگ کی الٹی گنتی شروع بھی ہو گئی ہے۔ اِسرو نے جانکاری دی ہے کہ 'آدتیہ ایل 1' آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا اسپیس پورٹ پہنچ چکا ہے۔ اس مشن کی لانچنگ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ 'آدتیہ ایل 1' کو اِسرو کے یو آر راؤ سیٹلائٹ سنٹر میں بنایا گیا ہے، جہاں سے اب آدتیہ ایل 1 سیٹلائٹ لانچنگ کے لیے شری ہری کوٹا پہنچ چکا ہے۔ یہ سورج کی تحقیق کے لیے بھیجا جانے والا اِسرو کا پہلا مشن ہے۔ آدتیہ ایل 1 کو سورج-زمین سسٹم کے لینگویج پوائنٹ کے قریب ہالو آربٹ میں نصب کیا جائے گا۔ یہ زمین سے پندرہ لاکھ کلومیٹر دور واقع ہے۔ اِسرو نے بتایا کہ ایل 1 پوائنٹ کے نزدیک ہالو آربٹ (مدار) میں سیٹلائٹ کو نصب کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہاں سے لگاتار سورج پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور یہاں سورج گہن کا بھی اثر نہیں ہوتا۔ اس سے سورج کی سرگرمیوں اور اس کے خلائی موسم پر پڑنے والے اثرات کا تجزیہ کرنے میں بہت فائدہ ہوگا۔

بہرحال، اِسرو کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق آدتیہ ایل 1 کے ساتھ 7 پیلوڈ بھی خلاء میں بھیجے جائیں گے۔ یہ پیلوڈ سورج کی فوٹوسفیئر، کروموسفیئر اور سب سے باہری سطح کا مطالعہ الیکٹرو میگنیٹک اور پارٹیکل اور میگنیٹک فیلڈ ڈٹیکٹرس کی مدد سے کریں گے۔ ان میں سے 4 پیلوڈ لگاتار سورج پر نظر رکھیں گے اور باقی 3 یلوڈ حالات کے حساب سے پارٹیکل اور میگنیٹک فیلڈ کا مطالعہ کریں گے۔ اِسرو نے بتایا کہ آدتیہ ایل 1 کے پیلوڈ سورج کی کورونل ہیٹنگ، کورونل ماس انجکشن، پری فلیئر اور فلیئر سرگرمیوں کے بارے میں اور سورج میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاء کے موسم پر پڑنے والے اثر کے بارے میں اہم جانکاری دیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8TUkMvr

اتوار، 13 اگست، 2023

چین نے دنیا کا پہلا ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچر ریڈار سیٹلائٹ خلا میں روانہ کیا

بیجنگ: چین نے لانگ مارچ-3 بی راکٹ کے ذریعے آفات کی نگرانی کے لیے دنیا کا پہلااے-ایس اے آر 401، ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچر رڈار سیٹلائٹ خلا میں چھوڑا ہے۔

چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) نے اتوار کے روز بتایا کہ ہفتہ کو مقامی وقت کے مطابق دوپہر 1:26 پر سیٹلائٹ کو سیچوان صوبے کے زیچانگ اسپیس سینٹر سے لانچ کیا گیا۔ سیٹلائٹ لانچ کے فوراً بعد کامیابی کے ساتھ مقررہ مدار میں داخل ہو گیا۔

سی این ایس اے نے بتایا کہ یہ دنیا کا پہلا ہائی آربٹ سنتھیٹک ایپرچررڈار (ایس اے آر) سیٹلائٹ ہے جو پروجیکٹ کے نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیٹلائٹ چین کی قدرتی آفات کی خلائی نگرانی کو بہتر بنائے گا اور اس کی آفات سے بچاؤ اور تخفیف کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ لانچ لانگ مارچ راکٹ فیملی کا 483 واں مشن تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HehpKr3