جمعہ، 8 ستمبر، 2023

آدتیہ-L1: ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن

سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان کے پہلے خلائی مشن آدتیہ-L1 کو اسرو نے 2 ستمبر 2023 کو پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کے ذریعہ ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC)، سری ہری کوٹا ، آندھرا پردیش سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یوں چاند پر ترنگا نصب کرنے کے کچھ ہی دن بعد ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن ہے

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے 2 ستمبر 2023 کو، 11.50 بجے، پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کے ذریعہ ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC)، سری ہری کوٹا ، آندھرا پردیش کے دوسرے لانچ پیڈ سے، آدتیہ-L1 خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یوں چاند پر ترنگا نصب کرنے کے کچھ ہی دن بعد ، طے شدہ پروگرام کے مطابق ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن ہے۔

اسرو کے مطابق 63 منٹ اور 20 سیکنڈ کی پرواز کے بعد، آدتیہ-L1 خلائی جہاز کو زمین کے گرد 235ضرب 19500 کلومیٹر کے بیضوی مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل کیا گیا۔

آدتیہ-L1 پہلی ہندوستانی خلائی رصد گاہ ہے جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور پہلے سن ارتھ لیگرینج پوائنٹ (L1) کے گرد ہالو(Halo) آربٹ یا مدار سے سورج کا مطالعہ کرے گی۔ لیگرینج (Lagrange)پوائنٹ L1 کی طرف، منتقلی کے مدار میں پہنچنے سے پہلے، آدتیہ-L1 خلائی جہاز زمینی مدارکی چار مشقوں سے گزرے گا۔ آدتیہ-L1 کے تقریباً 127 دنوں کے بعد L1 پوائنٹ پر مطلوبہ مدار میں پہنچنے کی توقع ہے۔

آدتیہ-L1 میں سات سائنسی پے لوڈز ہیں جو اسرو اور قومی تحقیقی لیبارٹریوں کے ذریعہ تیار کیے گئے ہیں جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (IIA)، بنگلور اور انٹر یونیورسٹی سینٹر فار ایسٹرانومی اینڈ ایسٹرو فزکس (IUCAA)، پونے شامل ہیں۔

اسرو کی جانب سے جاری تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آدتیہ-L1 مشن کا اگلی مشق 5 ستمبر کو تقریباً 3 بجے طے ہے جبکہ پہلی زمینی مشق اسرو ٹیلی میٹری ٹریکنگ و کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلورو سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئی ہے۔ حاصل کردہ نیا مدار 245 ضرب 22459 کلومیٹر ہے۔ سیٹلائٹ درست ہے اور صحیح کام کر رہا ہے۔قبل ازیں 2 ستمبر کو کامیاب لانچنگ کے بعد لانچ وہیکل نے سیٹلائٹ کو اس کے مطلوبہ مدار میں پہنچا دیا اور یوں ہندوستان کی پہلی سولر آبزرویٹری نے اپنی منزل ۔سن ارتھ L1 پوائنٹ ۔ تک اپنا سفر شروع کر دیا۔

آدتیہ L1 سورج کا مطالعہ کرنے والا ہندوستان کا پہلا خلائی مشن ہے جس میں خلائی جہاز یا سیٹلائٹ کو سورج زمین کے نظام کے لیگرینج پوائنٹ 1 (L1) کے گرد ہالو آربٹ میں رکھا جائے گا، جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ اس پوائنٹ کے گرد ہالو آربٹ میں رکھے گئے سیٹلائٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ سورج کو کسی سائے یاگرہن سے متاثر ہوئے بغیرمسلسل دیکھ سکتا ہے۔ ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ یہ شمسی سرگرمیوں اور خلائی موسم پر اس کے اثرات کو حقیقی وقت میں دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

خلائی جہاز برقی مقناطیسی اور ذرہ اور مقناطیسی فیلڈ کا پتہ لگانے والے آلات کا استعمال کرتے ہوئے فوٹو سفیئر، کروموسفیئر اور سورج کی سب سے بیرونی تہوں (کورونا) کا مشاہدہ کرنے کے لیے سات پے لوڈز لے کر گیا ہے۔ خصوصی پوائنٹ L1 کا استعمال کرتے ہوئے، چار پے لوڈز براہ راست سورج کا مشاہدہ کریں گے اور باقی تین پے لوڈز لیگرینج پوائنٹ L1 پر ذرات اورفیلڈ ز کااپنی پوزیشن سے مطالعہ کریں گے، اور اس طرح بین سیاروںمیں شمسی حرکیات کے پھیلتے اثر کا اہم سائنسی مطالعہ فراہم کریں گے۔

آدتیہ L1 پے لوڈز کے سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کورونل ہیٹنگ، کورونل ماس ایجیکشن، پری فلیئر اور فلیئر سرگرمیوں اور ان کی خصوصیات، خلائی موسم کی حرکیات، ذرات اور فیلڈ ز کے پھیلاؤ وغیرہ کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم معلومات فراہم کریں گے۔

آدتیہ L1مشن کے اہم سائنسی مقاصد

• سورج کے اوپری ماحول (کروموسفیئر اور کورونا) کی حرکیات کا مطالعہ۔

• کروموسفیئرک اور کورونل ہیٹنگ ، جزوی طور پر آئنائزڈ پلازما کی طبیعیات، کورونل ماس ایجیکشن (CME) کا آغاز اور بھڑک اٹھنے کا مطالعہ۔

• سورج سے ذرات کی حرکیات کے مطالعہ کے لیے ڈیٹا فراہم کرنے والے اندرونی ذرہ اور پلازما ماحول کا مشاہدہ ۔

• شمسی کورونا کی طبیعیات اور اس کا حرارتی طریقہ کار۔

• کورونل اور کورونل لوپس پلازما کی تشخیص: درجہ حرارت، رفتار اور کثافت۔

• کورونل ماس ایجیکشن کی ترقی، حرکیات اور اصلیت۔

• ایک سے زیادہ تہوں (کروموسفیئر، بیس اور توسیعی کورونا) پر ہونے والےعمل کی ترتیب کی نشاندہی کرنا جو آخر کار شمسی توانائی سے پھٹنے والے واقعات کا باعث بنتا ہے۔

• شمسی کورونا میں مقناطیسی فیلڈ ٹوپولوجی اور مقناطیسی فیلڈ کی پیمائش۔

• خلائی موسم کے محرکات (شمسی ہوا کا آغاز ، ساخت اور حرکیات)۔

آدتیہ L1 کے آلات شمسی ماحول خاص طور پر کروموسفیئر اور کورونا کا مشاہدہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان سیٹو (in situ)آلات L1 پر مقامی ماحول کا مشاہدہ کریں گے۔ کل سات پے لوڈ ز میں سے چار سورج کی ریموٹ سینسنگ اور باقی تین ان سیٹو (اپنے مقام کا)مشاہدہ کریں گے۔

آدتیہ L1 کےپے لوڈز اور ان کی سائنسی تحقیق کی صلاحیت۔

ٹائپ نمبر پے لوڈ اہلیت

ریموٹ سینسنگ پے لوڈز 1 مرئی اخراج لائن کورونوگراف (VELC) کورونا/امیجنگ اور اسپیکٹروسکوپی

2 سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) فوٹو سفیئر اور کروموسفیئر امیجنگ- نیرو اور براڈ بینڈ

3 سولر لو انرجی ایکس رے اسپیکٹرومیٹر (SoLEXS)

سافٹ ایکس رے اسپیکٹرومیٹر: سورج کا ایک ستارے کے طور پرمشاہدہ

4 ہائی انرجی L1 گردش کرنے والا ایکس رے اسپیکٹرومیٹر (HEL1OS) ہارڈ ایکس رے اسپیکٹرومیٹر: سورج کا ایک ستارے کے طور پرمشاہدہ

ان سیٹو پے لوڈز 5 آدتیہ سولر ونڈ پارٹیکل ایکسپیریمنٹ (ASPEX) سولر ونڈ/پارٹیکل اینالائزر ۔ پروٹون اور بھاری آئن سمتوں کے ساتھ

6 پلازما اینالائزر پیکج برائے آدتیہ (PAPA) سولر ونڈ/پارٹیکل اینالائزر ۔ الیکٹران اور بھاری آئن سمتوں کے ساتھ

7 ایڈوانسڈ ٹرائی محوری ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل میگنیٹومیٹر ان سیٹو میگنیٹک فیلڈ (Bx، By اور Bz)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uo4l1Gf

جمعرات، 7 ستمبر، 2023

عجیب و غریب پرندے نما ڈائنوسار کی دریافت پر سائنسدان حیران

جنوب مشرقی چین میں 148 سے 150 ملین سال پہلے ایک عجیب، مرغ زریں کے سائز کا لمبی ٹانگوں اور بازوؤں والا پرندوں جیسا ڈائنوسار رہتا تھا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، اس مخلوق میں ایک حیران کن اناٹومی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یا تو تیز بھاگنے والا تھا یا جدید لمبی ٹانگوں والے پرندوں جیسا طرز زندگی رکھتا تھا۔

سائنس دانوں نے کہا کہ انہوں نے صوبہ فوجیان میں جوراسک دور کے ایک ڈائنوسار کا فوسل دریافت کیا ہے، جسے انہوں نے ’فوجیانوینیٹر پروڈیگیوسس‘ کہا ہے۔ یہ اہم دریافت پرندوں کی ابتدائی تاریخ کے اہم ارتقائی مرحلے پر روشنی ڈالتی ہے۔

چائنیز اکیڈمی کے انسٹی ٹیوٹ آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی اینڈ پیلیو اینتھروپولوجی کے مطالعہ کے رہنما من وانگ، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی، نے وضاحت کی کہ فوزیانوینیٹر کی درجہ بندی اس کے عجیب و غریب ڈھانچے کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ، اس بات پر منحصر ہے کہ ہم پرندوں کی تعریف کیا کرتے ہیں۔

جب فوزیانوینیٹر کو بیان کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو وانگ نے جواب دیا: "میں 'عجیب' کہوں گا۔ یہ کسی بھی جدید پرندے سے ملتا جلتا نہیں ہے۔"

فوسل، جو گذشتہ اکتوبر میں دریافت ہوا تھا، کافی حد تک مکمل ہے لیکن اس میں جانور کی کھوپڑی اور اس کے پاؤں کے کچھ حصے نہیں ہیں، جس کی وجہ سے اس کی خوراک اور طرز زندگی کی تشریح کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اس کی لمبی ٹانگوں والی اناٹومی کی بنیاد پر، محققین نے دو ممکنہ طرز زندگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ یا تو دوڑتا تھا یا پھر جدید بگلوں کی طرح دلدلی ماحول میں گھومتا تھا۔ وانگ نے مزید کہا، "میں شرط لگاتا ہوں کہ یہ بھاگنے والا پرندہ تھا۔"

ڈائنوسار کے ارتقاء میں ایک قابل ذکر واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھیروپوڈس کے نام سے جانے جانے والے نسب سے چھوٹے پنکھوں والے دو ٹانگوں والے ڈائنوسار نے جراسک کے آخر میں پرندوں کو جنم دیا، جس میں قدیم ترین پرندہ - آرکیوپٹریکس - تقریباً 150 ملین سال پہلے جرمنی میں موجود تھا۔

سائنس دان پرندوں اور غیر ایویئن ڈائنوسار کی اصلیت کے بارے میں بہتر تفہیم کے خواہاں ہیں جن میں پرندوں جیسی خصوصیات تھیں۔

جب کہ پرندوں کی تاریخ کے ابتدائی باب اب بھی فوسلز کی کمی کی وجہ سے مبہم ہیں۔ آرکیوپیٹرکس کے بعد، ایک کوّے کے سائز کے پرندے کے فوسل پہلی بار 19ویں صدی میں ملے تھےجس کے دانت، لمبی ہڈی کی دم اور کوئی چونچ نہیں ہے۔ اس کے بعد کے پرندوں کے فوسل ریکارڈ میں ظاہر ہونے سے پہلے تقریباً 20 ملین سال کا وقفہ ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JsgCpt9

آدتیہ ایل ون نے لی سیلفی، زمین اور چاند کی تصویر بھی کلک کی

نئی دہلی ہندوستانی خلائی تحقیق ایجنسی (اسرو) اپنی منزل کی جانب سفر کر رہا ہے۔ اس نے یہ بتانے کے لیے کہ وہ حسب معلوم کام کر رہا ہے، اپنی سیلفی بھیجی ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کے تمام کیمرے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ اس نے زمین اور چاند کی تصویر بھی لی ہیں۔ اسرو نے اس کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

آدتیہ ایل ون نے 18 ستمبر تک زمین کے گرد اپنے مدار کو چار بار تبدیل کرے گا۔ اگلی مداری مینیورنگ 10 ستمبر کی رات کو ہوگی۔ ایک بار جب آدتیہ اپنی منزل ایل ون تک پہنچ جائے گا تو وہ روزانہ 1440 تصویریں بھیجے گا۔ تاکہ سورج کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ تصاویر آدتیہ میں نصب وزیبل ایمیشن لائن کوروناگراف (وی ای ایل سی ) کے ذریعے لی جائیں گی۔

سائنسدانوں کے مطابق پہلی تصویر فروری میں ملے گی۔ وی ایل سی سی کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس نے بنایا ہے۔ اسرو کے سن مشن میں نصب وی ای ایل سی سورج کی ہائی ڈیفینشن تصاویر لے گا۔ زمین کے گرد مدار کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اتنی رفتار حاصل کر سکے کہ وہ 15 لاکھ کلومیٹر کا طویل سفر مکمل کر سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Q4gKj26

منگل، 5 ستمبر، 2023

اِسرو نے ’چندریان-3‘ مشن پر کوئز مقابلے کا کیا اعلان، اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ملیں گے ایک لاکھ روپے

چاند پر اس وقت رات ہو چکی ہے اور چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول (وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر) چاند کی جنوبی سطح نیند کے مزے لے رہا ہے۔ اس درمیان اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے چندریان-3 کو لے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس نے کوئز مقابلے کی شروعات کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہندوستان کا کوئی بھی شہری شامل ہو سکتا ہے۔ دراصل ہندوستان کے چاند تک پہنچنے کے کامیاب سفر کا جشن ہندوستانی عوام کے ساتھ منانے کے مقصد سے اس کوئز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کوئز مقابلے میں اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

اس کوئز کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ چاند کے عجوبوں کی دریافت اور سائنسی تحقیق کے تئیں محبت ظاہر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ سبھی ہندوستانی شہریوں کو اس کوئز میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے https://www.mygov.in/ پر اپنا ایک اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اس میں پروفائل اَپڈیٹ رکھنی ہوگی۔ آدھیادھوری پروفائل والے امیدوار کوئز کے لیے نااہل ہوں گے۔ جیسے ہی شرکا صحیح او ٹی پی درج کرنے کے بعد ’سَبمٹ‘ بٹن پر کلک کرے گا، کوئز شروع ہو جائے گا۔

اس کوئز میں 10 سوالات کے جواب 300 سیکنڈ میں دینے ہوں گے۔ کوئی منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے ایک ہی موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی کا ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپلی کیٹ اندراجات کے معاملے میں پہلی کوشش کا ریکارڈ تشخیص کے لیے قابل قبول مانا جائے گا۔ کوئز میں حصہ لینے کے بعد سبھی شرکاء کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ کوئز ختم ہونے کے بعد فاتحین کو نقد انعام دیا جائے گا۔

دی گئی جانکاری کے مطابق اوّل مقام پر رہنے والے کو ایک لاکھ روپے کا نقد انعام، دوسرے مقام پر رہنے والے کو 75 ہزار روپے کا نقد انعام، اور تیسرے مقام پر رہنے والے کو 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 100 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں میں سے سبھی کو 2-2 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں، 200 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں کو 1-1 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/eMB1IKT

پیر، 4 ستمبر، 2023

چندریان-3: پرگیان کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں، 22 ستمبر کو از سر نو فعال ہونے کی امید

ہندوستان کے چندریان-3 مشن کی کامیابی کا پوری دنیا میں دھوم مچا ہوا ہے۔ اس درمیان خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ پرگیان رووَر کے بعد وکرم لینڈر بھی نیند کی آغوش میں چلا گیا ہے۔ اِسرو نے 4 ستمبر کو اس سلسلے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اہم جانکاری دی۔ ساتھ ہی کہا کہ اب 22 ستمبر کے آس پاس از سر نو اس کے فعال ہونے کی امید ہے۔

اِسرو نے ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’چندریان-3 مشن کا لینڈر صبح تقریباً 8 بجے سلیپ موڈ میں سیٹ ہو گیا۔ اس سے پہلے چیسٹے، رمبھا-ایل پی اور آئی ایل ایس اے پے لوڈ نے نئی جگہ پر اِن-سیٹو تجربات کیے۔ انھوں نے جو ڈاٹا جمع کیا وہ زمین پر آتا رہا۔‘‘ پوسٹ میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’پے لوڈ اب بند کر دیے گئے ہیں۔ لینڈر ریسیور چالو رکھے گئے ہیں۔ شمشی توانائی ختم ہو جانے اور بیٹری ختم ہو جانے پر وکرم، پرگیان کے بغل میں سو جائے گا۔ 22 ستمبر 2023 کے آس پاس ان کے پھر سے جاگنے کی امید ہے۔‘‘

اس سے قبل اِسرو نے 4 ستمبر کی صبح ہی جانکاری دی تھی کہ وکرم لینڈر کی دوبارہ کامیاب سافٹ لینڈنگ 3 ستمبر کو کرائی گئی اور پہلے جس مقام پر لینڈر ماڈیول نے لینڈ کیا تھا، 3 ستمبر کی لینڈنگ اس سے 30 سے 40 میٹر دور ہوئی ہے۔ اِسرو کا کہنا ہے کہ مستقبل کے مشن کے لیے اس طرح کا تجربہ کرنا ضروری تھا۔

اِسرو نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کیے گئے پوسٹ میں بتایا کہ ’’ہندوستان کا وکرم لینڈر چاند پر پھر سے سافٹ لینڈ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ وکرم لینڈر اپنے سبھی مشن پورے کر چکا ہے اور اب یہ کامیابی کے ساتھ ’ہوپ ایکسپریمنٹ‘ سے گزرا ہے۔‘‘ اِسرو نے مزید لکھا ہے کہ ’’کمانڈ دیے جانے پر وکرم لینڈر کے انجن چالو ہوئے اور یہ 40 سنٹی میٹر تک اوپر اٹھا، پھر 40-30 سنٹی میٹر دور جا کر سافٹ لینڈ ہو گیا۔‘‘ اسرو نے بتایا کہ اس کا مقصد مستقبل میں لینڈر کی واپسی اور آئندہ انسانی مشن کے لیے ٹرائل کرنا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OC5Lf2E

ہفتہ، 2 ستمبر، 2023

چاند کے بعد سورج کی باری، اسرو نے ملک کا پہلا سولر مشن آدتیہ ایل ون لانچ کر رقم کی تاریخ

سری ہری کوٹا: اسرو نے چندریان3 کی کامیابی کے بعد ایک اور تاریخ رقم کرتے ہوئے ہندوستان کا پہلا سولر مشن 'آدتیہ-ایل1' سری ہری کوٹہ کے خلائی مرکز سے لانچ کر دیا۔ سری ہری کوٹا ستیش دھون خلائی مرکز (ایس ڈی ایس سی) میں سولر مشن کی روانگی کے وقت میں بڑی تعداد میں لوگ اس نظاہرے کو دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ دتیہ ایل ون سورج کا مشاہدہ کرنے کے لئے اپنی منزل تک پہنچنے میں تقریباً 4 ماہ کا وقت لے گا اور اس دوران یہ زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گا۔

اسرو نے کہا کہ آدتیہ-ایل ون کو سورج کی سمت میں زمین سے 1.5 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر لینگریزین پوائنٹ 1 (ایل ون) کے گرد ہالو آربٹ میں داخل کیا جائے گا۔ سیٹلائٹ اور پے لوڈ سورج کے گرد ایک ساتھ گھومتے رہیں گے اور بغیر کسی گرہن کے سورج کا مسلسل مشاہدہ کریں گے۔ اس سے شمسی سرگرمیوں اور خلائی موسم پر ان کے اثرات کو حقیقی وقت میں دیکھنے میں مدد ملے گی۔

آدتیہ ایل ون کو ستیش دھون اسپیس سینتر کے دوسرے لانچ پیڈ سے صبح 11.50 بجے روانہ کیا گیا۔ یہ لانچنگ پی ایس ایل وی- ایکس ایل راکٹ کے ذریعے کی گئی۔ اس راکٹ کی یہ 25ویں پرواز تھی۔ لانچ کے تقریباً ایک گھنٹے بعد آدتیہ ایل ون اپنے طے شدہ مدار میں پہنچ جائے گا۔

آدتیہ ایل ون کا وزن 1480 کلوگرام ہے۔ لانچ کے تقریباً 63 منٹ بعد آدتیہ ایل ون خلائی جہاز سے علیحدہ ہو جائے گا۔ یہ اس راکٹ کی سب سے طویل پروازوں میں سے ایک ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vXE6Gbq

جمعہ، 1 ستمبر، 2023

چندریان-3: جب چاند پر ہو جائے گی رات اور پرگیان-وکرم بند کر دیں گے اپنا کام، تب فعال ہوگا ایک خاص ڈیوائس!

چندریان-3 کو چاند کی سطح پر لینڈ ہوئے 10 دن ہو چکے ہیں، یعنی اب اس کے پاس تحقیقی عمل انجام دینے کے لیے 4 (آج کا دن چھوڑ کر) دن بچے ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر کو چاند پر رات ہو جائے گی، اور اس کے ساتھ ہی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر غیر فعال ہو جائیں گے۔ یعنی یہ دونوں اپنا کام کرنا بند کر دیں گے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ لینڈر ماڈیول میں ایک ڈیوائس ایسا ہے جو اپنا کام تب شروع کرے گا، جب چاند پر رات ہونے کے بعد پرگیان اور وکرم کام کرنا بند کر دیں گے۔

دراصل چندریان-3 کے ساتھ ایک پے لوڈ ’ایل آر اے‘ بھی گیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق وکرم لینڈر کے ساتھ چاند کی سطح پر جو 4 پے لوڈ گئے ہیں، ان میں سے ایک ہے ’ایل آر اے‘ یعنی لیزر ریٹروریفلکٹر ایرے۔ اس پے لوڈ کو ناسا نے ڈیولپ کیا ہے۔ یہ پے لوڈ اپنا کام چاند پر رات ہونے کے بعد شروع کرے گا۔

ایسی خبریں پہلے ہی سامنے آ چکی ہیں کہ وکرم لینڈر اپنے ساتھ مجموعی طور پر 4 پے لوڈ لے کر گیا تھا جس میں رمبھا، چیسٹے اور اِلسا (ان سبھی کو اِسرو نے ڈیولپ کیا ہے) لینڈنگ کے بعد سے ہی اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایل آر اے فی الحال غیر فعال ہے۔ اس پے لوڈ کا اہم کام لینڈر کی لوکیشن کو ٹریک کرنا ہوگا جو آربیٹر سے رابطے مین رہے گا۔ یہ ایک طرح سے لیزر لائٹ ہے جو آربیٹر کے رابطے میں آنے کے بعد کام کرتی ہے اور اپنی لوکیشن کو بتاتی ہے۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ ناسا نے اس پے لوڈ کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ وکرم اور پرگیان کے فعال رہنے تک کام نہیں کرے گا۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ ایل آر اے کسی بھی طرح وکرم اور پرگیان کے کام کو متاثر نہ کرے۔ ناسا کا یہ آر ایل اے طویل وقت تک کام کرے گا اور مستقبل میں آنے والے مشن کے لیے کارگر ثابت ہوگا۔ جیسا کہ اِسرو کے ذریعہ جانکاری دی گئی ہے، یہ پے لوڈ وکرم لینڈر کے بالکل اوپر موجود ہے۔ یعنی چندریان-3 کا سفر 6 ستمبر کے بعد بھی جاری رہنے والا ہے، بھلے ہی چاند پر شدید ٹھنڈ بھری رات نہ ہو جائے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hCxDS10

ناسا کے ہیلی کاپٹر نے مریخ پر 56 پروازیں مکمل کیں

لاس اینجلس: ناسا کے مارس ہیلی کاپٹر نے سرخ سیارے پر اپنی 56 پروازیں مکمل کر لیں۔ ایجنسی نے جمعرات کو یہ جانکاری دی۔ ناسا کے مطابق مریخ کے ہیلی کاپٹر نے 25 اگست کو اپنی 56 ویں پرواز شروع کی جس میں اس نے 12 میٹر کی بلندی تک پہنچ کر 141 سیکنڈ میں 410 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔

انجینوئٹی نامی یہ ہیلی کاپٹر 18 فروری 2021 کو مریخ کے جیجرو کریٹر تک پہنچا، جو ناسا کے پرسیورینس روسر سے جڑا ہوا تھا ۔ یہ ہیلی کاپٹر ایک ٹیکنالوجی کا مظاہرہ ہے، جسے پہلی بار کسی دوسرے سیارے پر چلنے والی پرواز کو جانچنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ناسا کے مطابق، ہیلی کاپٹر کو 90 سیکنڈ تک پرواز کرنے، ایک وقت میں تقریباً 300 میٹر کا فاصلہ طے کرنے اور زمین سے تقریباً 3 سے 4.5 میٹر کی بلندی پر منڈلانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

ناسا کے مطابق اب تک یہ ہیلی کاپٹر مریخ پر 100.2 فلائنگ منٹ مکمل کر چکا ہے اور 12.9 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے 18 میٹر کی بلندی تک پہنچا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Fha3x2T

جمعرات، 31 اگست، 2023

وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پلازما کا پتہ لگایا

چنئی: ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے جمعرات کو کہا کہ چندریان-3 خلائی جہاز کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پلازما کا پتہ لگایا ہے، جو نسبتاً کم گھنا ہے۔

چندریان 3 لینڈر پر نصب ریڈیو اناٹومی آف مون باونڈ ہائیپر سینسٹیو لونو سیفیئر اینڈ ایٹموسفیئر- لینگموئیر پروب (رمبھا-ایل پی) پے لوڈ نے جنوبی قطبی خطے کی سطح کے قریب قمری پلازما ماحول کی پہلی پیمائش کی ہے۔ ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ چاند کی سطح کے قریب پلازما نسبتاً کم گھنا ہے۔

وکرم لینڈر پر نصب رمبھا-ایل پی نے پلازما کے ماحول کا میپ بھی بنایا ہے۔ 'رمبھا' ریڈیوویو کمیونیکیشن میں لونر پلازما کی وجہ سے ہونے والی آواز کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب وکرم اور پرگیان اپنا 14 روزہ مشن مکمل کر لیں گے، ناسا کا پے لوڈ لیزر ریٹرو-ریفلیکٹر اری (ایل آر اے) ایکٹیو ہو جائے گا۔ یہ چاند پر کسی بھی چیز کو ٹریک کرنے میں کارآمد ثابت ہوگا۔

رمبھا-ایل پی پے لوڈ چاند کے پلازما ماحول میں الیکٹران کی کثافت، درجہ حرارت اور برقی میدان کی پیمائش کرے گا۔رمبھا-ایل پی پے لوڈ کے اعداد و شمار کے ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ چاند کی سطح کے قریب پلازما نسبتاً کم گھناہے۔اس کا مطلب ہے کہ خلا کی اس جگہ پر زیادہ الیکٹران نہیں ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Bv9lqVp

چندریان-3 کا تفریح سے بھرپور نصف سے زیادہ سفر ختم، مزید تحقیق کے لیے وکرم اور پرگیان کے پاس بچے 135 گھنٹے

اِسرو نے جب 23 اگست کو چاند پر ترنگا لہرایا تو ہر ہندوستانی کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ اب تک چندریان-3 کے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر نے چاند کی جنوبی سطح پر 9 دن گزار لیے ہیں، یعنی چندریان-3 کا نصف سفر ختم ہو چکا ہے جو کہ تفریح سے بھرپور رہا ہے۔ نصف سے زیادہ کا سفر اس لیے ختم مانا جا رہا ہے کیونکہ چاند پر ایک دن زمین کے 14 دن کے برابر ہوتا ہے۔ 23 اگست کو چاند پر صبح ہوئی تھی اور 14 دن بعد، یعنی 6 ستمبر کو رات ہو جائے گی۔ پھر چاند پر شدید ٹھنڈ والے حالات پیدا ہو جائیں گے جہاں لینڈر ماڈیول اپنا کام بند کر دے گا۔ یعنی اب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے پاس 5 دن (تقریباً 135 گھنٹے) بچے ہیں۔ اپنے سبھی تحقیقی کام وکرم اور پرگیان کو انہی بچے ہوئے وقت میں پورا کرنا ہوگا۔ باقی بچے اوقات میں لینڈر ماڈیول سے سائنسدانوں کو بڑے کمال کی امید ہے، کچھ ایسا کمال جسے دنیا سلام کرے۔

ویسے چندریان-3 نے شروعاتی 9 دنوں میں ہی کئی اہم جانکاریاں فراہم کی ہیں اور جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کر تاریخ رقم کرنے کے بعد کچھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔ مثلاً چاند کے جنوبی قطب کی سطح پر درجہ حرارت 50 ڈگری سلسیس تک ہے اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر درجہ حرارت گھٹ کر منفی 10 ڈگری سلسیس تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چاند پر آکسیجن، سلفر، الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز اور سلیکان کی موجودی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ اب سبھی کو انتظار ہے کہ ہائیڈروجن کی تلاش کا، اگر یہ ممکن ہوا تو پھر چاند پر پانی کی موجودگی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

بہرحال، امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں چاند پر آنے والے زلزلوں سے متعلق سرگرمیوں، چاند اور زمین کے درمیان سگنل کی دوری، مٹی میں ملنے والے ذرات وغیرہ کی جانچ ہوگی۔ اِسرو کی کوشش ہوگی کہ وقت رہتے یہ سبھی جانچ مکمل کر لیے جائیں، کیونکہ اس کی تیاری سائنسدانوں نے چندریان-3 لانچ کرنے سے پہلے ہی کر لی تھی۔ انھیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ لینڈر ماڈیول کی زندگی چاند پر ایک دن (زمین کے 14 دن) ہی ہوگی۔ ایسا اس لیے کیونکہ چاند کا جنوبی قطب ویسے ہی ڈارک زون کہا جاتا ہے، یہ سیدھے سورج کے رابطے میں نہیں آتا اور یہاں کافی وقت تاریکی رہتی ہے۔ حالانکہ اِس وقت جنوبی قطب پر سورج کی روشنی موجود ہے اور اسی کی مدد سے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کام کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dzWhuQa

بدھ، 30 اگست، 2023

اسمائل پلیز! چاند پر موجود چندریان 3 کے روور ’پرگیان‘ نے لینڈر ’وکرم‘ کی تصویر کھینچی

چندریان 3 کے روور پرگیان نے آج وکرم لینڈر کی ایک تصویر شیئر کی ہے، جسے اس نے اپنے نیویگیشن کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار کلک کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چاند کی سطح پر اترنے والا چندریان چاند کے کئی راز کھول رہا ہے۔ روور پرگیان نے آکسیجن، سلفر، ایلومینیم سمیت کئی عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جبکہ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔ چندریان 3 کے روور پرگیان میں لیزر انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ نے چاند کے قطب جنوبی پر سلفر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

آکسیجن کا بھی پتہ چل گیا ہے، تاہم ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کرکے یہ جانکاری دی اور یہ بھی بتایا کہ اندرون ان-سیٹو جاری ہیں۔ روور پر نصب ’نیو کیمز‘ کو بنگلورو میں لیبارٹری فار الیکٹرو آپٹکس سسٹم (ایل ای او ایس) نے تیار کیا ہے۔ پچھلے ہفتے چندریان-3 لینڈر وکرم چاند کی سطح پر اترا تھا، جس سے ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن گیا۔ جبکہ زمین کے قریب ترین آسمانی پڑوسی کے نامعلوم جنوبی قطب پر اترنے والا پہلا ملک گیا۔

نئی تصویر چاند کے جنوبی قطب کے قریب روور کے سلفر کی دریافت کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ اسرو نے کل اعلان کیا کہ روبوٹ نے ایلومینیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹینیم، مینگنیز، سلکان اور آکسیجن کا بھی پتہ لگایا ہے۔ خلائی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ’’چندریان 3 کے روور پر نصب لیزر انڈسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپی (ایل آئی بی ایس) کے آلے نے قطب جنوبی کے قریب چاند کی سطح کی بنیادی ساخت پر پہلی بار ان-سیٹو جانچ پڑتال کی ہے۔ اس جانچ پڑتال سے چاند کی سطح پر سفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2CzJDLR

منگل، 29 اگست، 2023

'راکٹ خواتین': بھارت کے چاند مشن کا لازمی جز

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قمری مشن چندریان تین میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی خواتین سائنسدانوں سے گزشتہ دنوں ملاقات کی۔

مودی نے اس موقع پرکہا، ''اس مشن میں شامل خواتین سائنسدانوں نے اس کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔ وہ آنے والی نسلوں کو متاثر کریں گی۔''

مودی نے چاند پر چندریان تین کے لینڈنگ اسپاٹ کا نام ''شیو شکتی'' رکھنے کا فیصلہ بھی کیا، یہ نام ہندو اساطیروں میں نسائی قوت کے تصور سے ماخوذ ہے، اور اس مشن پر کام کرنے والی خواتین سائنسدانوں کے لیے یہ ایک خراج تحسین بھی ہے۔ بھارتی خلائی ایجنسی(اسرو) کے 16,000 سے زیادہ ملازمین میں سے 20 سے 25 فیصد کے درمیان خواتین ہیں۔

اس مشن میں 100 سے زیادہ خواتین سائنسدانوں اور انجینیئروں کے شامل ہونے کی اطلاع ہے، جس کا اختتام 23 اگست کو قمری روور کی کامیاب لینڈنگ سے ہوا اور اس طرح بھارت چاند کے قطب جنوبی پر اپنی خلائی گاڑی اتارنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس کے لانچنگ اور گزشتہ ہفتے لینڈنگ کے وقت کنٹرول روم میں بہت سی خواتین بھی موجود تھیں۔

ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ چندریان تین مشن کا تصور کرنے، ڈیزائن کرنے اور اس پر عمل کرنے میں خواتین کس طرح شامل تھیں۔ انہوں نے کہا، ''ان میں سے بعض خواتین نے لینڈر کے نازک مرحلے کے دوران نیویگیشن میں اہم کردار ادا کیا۔''

اسرو کی خواتین سائنسدان کون ہیں؟

چندریان تین مشن کے قائدین میں سے ایک ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر کلپنا کلاہستی ہیں۔ انہوں نے بھارت کے دوسرے قمری مشن اور مریخ کے مدارمیں پہنچنے کے مشن میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ کلاہستی سیٹلائٹ میں مہارت رکھتی ہیں اور انہوں نے تصویر لینے والے ان جدید ترین آلات کی نگرانی کی، جس کی وجہ سے اسرو زمین کی سطح کی اعلی ریزولوشن والی تصاویر لینے کے قابل بنا۔

ایک دوسری خاتون ریما گھوش روبوٹکس کی ماہر ہیں، جنہوں نے ''پراگیان'' روور کو تیار کرنے میں اہم کام کیا، جو اس وقت چاند کی سطح پر دریافت کا کام کر رہا ہے۔ گھوش نے مودی کے دورے کے بعد میڈیا کو بتایا، ''میرے لیے، پرگیان ایک بچے کی طرح ہے اور وہ چاند پر چہل قدمی کر رہا ہے۔ پہلی بار روور کو چاند پر اترتے دیکھنا ایک شاندار تجربہ تھا۔'' انہوں نے مزید کہا: ''بشمول مریخ مشن کے اس منصوبے کے تحت بہت سے دیگر مشن بھی ہیں جنہیں جلد ہی شروع کیا جائے گا۔''

شمسی ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے اسرو نے 'آدتیہ ایل یکم' نامی ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے ستمبر کے پہلے ہفتے میں لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔ ریتو کری دھل ایک اور سینیئر خاتون سائنسدان اور ایرو اسپیس انجینئر ہیں، جنہوں نے سن 1997 میں اسرو میں شمولیت اختیار کی تھی اور کئی اہم خلائی مشنوں کا حصہ رہی ہیں۔ وہ چندریان دو میں پروجیکٹ ڈائریکٹر تھیں، اور مریخ کے مدار میں مشن ''منگلیان'' بھی شامل تھیں۔

بھارت کی ''راکٹ وومن'' کے نام سے مشہور کری دھل کو ''اسرو ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ'' بھی مل چکا ہے۔ کری دھل نے سوشل میڈیا پر لکھا، ''چندریان نے چاند پر بھارت کا نام ہمیشہ کے لیے لکھ دیا ہے۔ بھارت چاند کے قطب جنوبی تک پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا ہے، میں نے اور دوسروں نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔''

اسرو کی ایک اور سینیئر سائنسدان ندھی پوروال ہیں، جنہوں نے چندریان تین کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے چار سال تک تندہی سے کام کیا۔ انہوں نے چاند کی سطح تک پہنچنے والے لینڈر کو ''جادو'' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرو میں خواتین کی شراکت دیگر شعبوں کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرتی ہے۔

بھارتی خلائی ادارے اسرو میں خواتین کی خاطر خواہ شمولیت کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے شعبوں میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہر حیاتیات وینیتا بال نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ''یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر قطرہ شمار ہوتا ہے کیونکہ اس کی ایک قدر ہوتی ہے، اس کا کچھ اضافی اثر ہوتا ہے۔ تاہم یقینی طور پر ملک میں ہر سائنسی اور تکنیکی کوشش کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خواتین کی شرکت میں کمی نہ ہونے پائے بلکہ اس میں تیزی سے اضافہ ہو۔ لیکن ہم اس مقصد سے بہت پیچھے ہیں۔'' ایک حالیہ ملک گیر سروے سے پتا چلا ہے کہ بھارتی اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی سائنسدانوں اور سائنس فیکلٹی میں صرف 13 فیصد ہی خواتین ہیں۔ اس سے ان خدشات میں اضافہ ہوتا ہے کہ صنفی تناسب کو بہتر بنانے کے لیے برسوں پہلے کی گئی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے شعبوں میں خواتین گریجویٹ کا تناسب 43 فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ تاہم، تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں میں سائنس دانوں، انجینیئروں اور تکنیکی ماہرین میں ان کا تناسب صرف 14 فیصد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی سابق چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ''ہم سائنسی اداروں میں زیادہ خواتین دیکھ رہے ہیں جو کہ حوصلہ افزا بات ہے۔ لیکن جب ادارہ جاتی قیادت کی بات آتی ہے تو وہاں ایک بڑا خلا پایا جاتا ہے اور اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ پینل کمیٹیوں میں خواتین کی تعداد کم ہے اور ایک عدم توازن ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔''



from Qaumi Awaz https://ift.tt/O0VvKIB

چندریان-3 کو ملی بڑی کامیابی، جنوبی قطب پر سلفر کی موجودگی کا چلا پتہ، ہائیڈروجن کی تلاش جاری

ہندوستان کے مشن چاند یعنی چندریان-3 کو ایک بہت بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے 29 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ رووَر پر لگے پے لوڈ کے ذریعہ سے چاند کے جنوبی قطب میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ اِسرو نے یہ بھی بتایا کہ چاند کے جنوبی قطب پر ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔

اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اِن-سیٹو (مقررہ جگہ پر) سائنسی تجربات جاری ہیں... پہلی بار اِن-سیٹو میزرمنٹس کے ذریعہ رووَر پر لگی مشین ’لیزر-انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ‘ (ایل آئی بی ایس) واضح طور سے جنوبی قطب کے پاس چاند کی سطح میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’امید کے مطابق الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز، سلیکان اور آکسیجن کا پتہ چلا ہے۔ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔‘‘ مزید جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے بتایا ہے کہ ایل آئی بی ایس نامی یہ پے لوڈ بنگلورو واقع اِسرو کی تجربہ گاہ الیکٹرو-آپٹکس سسٹمز (ایل ای او ایس) میں تیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آج ’اِسرو سائٹ‘ کے ایکس ہینڈل سے جانکاری دی گئی تھی کہ پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر دونوں ٹھیک طرح کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی تھی کہ جلد ہی اچھا نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ غالباً سلفر اور کچھ دیگر اشیاء کی موجودگی سے متعلق جانکاری سامنے آنے کا ہی اشارہ چندریان-3 کے ایکس ہینڈل سے دیا گیا تھا۔ اِسرو کے ذریعہ دی گئی تازہ جانکاری سائنسداں طبقہ کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4rRwNhI