منگل، 20 اگست، 2024

’بھاپ بن کر مر سکتی ہیں سنیتا ولیمس‘، خلائی امور کے ماہر رڈولفی نے اسپیس اسٹیشن میں پھنسی سنیتا پر فکرمندی ظاہر کی

ہند نژاد امریکی خلائی مسافر سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی بُچ ولمور گزشتہ دو ماہ سے خلائی اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ صرف 10 دنوں کے لیے وہاں گئے تھے، لیکن اسٹارلائنر خلائی طیارہ میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے کے سبب اب تک ان کی واپسی نہیں ہو پائی ہے۔ وہ کب تک واپس آ پائیں گے، اس سلسلے میں بھی کچھ نہیں کہا جا رہا۔ اس درمیان خلائی امور کے ماہر اور سابق امریکی فوجی کمانڈر روڈی رڈولفی نے تین خوفناک اندیشے ظاہر کیے ہیں۔ رڈولفی کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس خراب خلائی طیارہ سے واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں تو رگڑ سے پیدا ہونے والی گرمی کے سبب وہ بھاپ بن کر مر بھی سکتے ہیں۔

’ڈیلی میل‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رڈولفی نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بوئنگ اسٹارلائنر کو بہ حفاظت زمین پر لانے کے لیے تکنیکی طور سے اسے ایک درست زاویہ پر لانا ہوگا۔ جب تک کیپسول فضا میں داخل ہونے کے لیے درست زاویہ پر ہے، تب تک سب کچھ ٹھیک رہے گا، لیکن اگر یہ زاویہ درست نہیں ہے تو یا تو خلائی مسافر جل جائیں گے یا پھر واپس خلا میں چلے جائیں گے۔ ایسی حالت میں ان کے ساتھ صرف 96 گھنٹے کی آکسیجن فراہمی ہوگی اور اس کے ساتھ ان کا بچنا انتہائی مشکل ہوگا۔

رڈولفی کا کہنا ہے کہ اسٹارلائنر خلائی مسافر کا خلا میں اُچھلنا یعنی دوسری طف بڑھنا سب سے خراب حالت ہوگی، کیونکہ تب وہ خلا میں ہی بھاپ بن جائیں گے۔ دونوں ہی حالت میں ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اگر انھوں نے بہت تیز اینگل کے ساتھ فضا میں میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ہوا اور اسٹارلائنر کی رگڑ کے سبب خلائی مسافروں کے جلنے کا خطرہ بھی رہے گا۔

بہرحال، ناسا نے دونوں خلائی مسافروں کو وہاں سے واپس نکالنے کے لیے ’اسپیس ایکس‘ کے ڈریگن کیپسول کی مدد لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن اس منصوبہ کے ذریعہ اگر انھیں واپس لایا جاتا ہے تو وہ فروری یا مارچ 2025 تک زمین پر واپس آ پائیں گے۔ اتنے دنوں تک خلا کی مائیکرو گریویٹی میں رہنا دونوں ہی مسافروں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ ناسا کی رپورٹس کے مطابق دونوں ہی خلائی مسافروں کو دھیرے دھیرے صحت سے متعلق کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ بوئنگ کی طرف سے بھی یہ بیان آیا ہے کہ اسٹارلائنر کے اوپر کام چل رہا ہے اور وہ کسی ایمرجنسی حالت میں خلائی مسافروں کو واپس لانے میں اہل ہیں، لیکن وہ کسی اگر مگر کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے، اس لیے ناسا کی مدد لے رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5qeb1s2

جمعرات، 15 اگست، 2024

اسرو کا نیا سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ، آفات سے قبل بھیجے گا الرٹ

سری ہری کوٹا: اسرو نے آج (16 اگست 2024) کو صبح کے 9 بجکر 17 منٹ پر ستیش دھون خلائی مرکز، سری ہری کوٹا سے ’ایس ایس ایل سی-ڈی3‘ راکٹ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ اس راکٹ کے اندر ایک نیا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ’ای او ایس-8‘ رکھ کر خلا میں بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سیٹلائٹ ’ایس آر-زیرو ڈیمو سیٹ‘ بھی لانچ کیا گیا اور اسے مسافر سیٹلائٹ کے طور پر بھیجا گیا۔ یہ دونوں سیٹلائٹ زمین سے 475 کلومیٹر کی بلندی پر ایک گول مدار میں گھومیں گے۔

’ایس ایس ایل وی‘ کا مطلب ہے چھوٹی سیٹلائٹ لانچ وہیکل اور ڈی3 کا مطلب ہے تیسری نمائشی پرواز۔ یہ راکٹ منی، مائیکرو اور نینو سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس کے ذریعے 500 کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹ کو زمین کے نچلے مدار میں 500 کلومیٹر سے نیچے بھیجا جا سکتا ہے یا 300 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو سورج کے ہم آہنگ مدار میں بھیجا جا سکتا ہے۔ اس مدار کی اونچائی 500 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس لانچنگ میں یہ 475 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ جائے گا۔ وہاں پہنچنے کے بعد یہ سیٹلائٹ کو علیحدہ کر دے گا۔

ایس ایس ایل وی راکٹ کی لمبائی 34 میٹر ہے، قطر 2 میٹر ہے اور وزن 120 ٹن ہے اور یہ 10 سے 500 کلوگرام کے پے لوڈز کو 500 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچا سکتا ہے۔ اسے صرف 72 گھنٹوں میں تیار کیا گیا ہے۔ ایس ایس ایل وی کو سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز کے لانچ پیڈ 1 سے لانچ کیا گیا۔

ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ یعنی ای او ایس-8 ماحولیاتی نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور تکنیکی مظاہرے کے لیے کام کرے گا۔ 175.5 کلوگرام وزنی، اس سیٹلائٹ میں تین جدید ترین پے لوڈز الیکٹرو آپٹیکل انفراریڈ پے لوڈ (ای او آئی آر)، گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم ریفلیکٹومیٹری پے لوڈ (جی این ایس ایس-آر) اور سِک-ڈی یو ڈوزی میٹر ہیں۔ اس میں ای او آئی آر دن اور رات کے دوران درمیانی اور لمبی لہر والی انفرا ریڈ تصویریں لے گا۔

یہ تصویریں آفات جیسے جنگل کی آگ، آتش فشاں سرگرمیاں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گی۔ جی این ایس ایس-آر کے ذریعے سمندر کی سطح پر ہوا کا تجزیہ کیا جائے گا۔ مٹی کی نمی اور سیلاب کا پتہ لگایا جائے گا۔ جبکہ الٹرا وائلٹ تابکاری کو سیک یو وی ڈوزی میٹر سے ٹیسٹ کیا جائے گا، جس سے گگن یان مشن میں مدد ملے گی۔

ای او ایس-8 سیٹلائٹ زمین کے اوپر نچلی مدار یعنی 475 کلومیٹر کی بلندی پر گھومے گا۔ یہاں سے یہ سیٹلائٹ دیگر کئی تکنیکی مدد بھی فراہم کرے گا۔ جیسے مربوط ایویونکس سسٹم۔ اس کے اندر کمیونیکیشن، بیس بینڈ، اسٹوریج اور پوزیشننگ (سی بی ایس پی) پیکیج ہے، یعنی ایک اکائی کئی طرح کے کام کر سکتا ہے۔ اس میں 400 جی بی ڈیٹا اسٹوریج کی گنجائش ہے۔

اس مشن کی عمر ایک سال ہے۔ ایس ایس ایل وی-ڈی3 کے اس لانچ کے بعد ایس ایس ایل وی کو مکمل طور پر آپریشنل راکٹ کا درجہ مل جائے گا۔ اس سے پہلے یہ راکٹ دو پروازیں بھر چکا ہے۔ ایس ایس ایل وی-ڈی1 کی پہلی پرواز 7 اگست 2022 کو ہوئی تھی۔ اگلی پرواز یعنی ایس ایس ایل وی-ڈی2 10 فروری 2023 کو کی گئی تھی۔ اس میں تین سیٹلائٹ ای ایو ایس-7، جینوس-1 اور آزادی سیٹ-2۔

بین الاقوامی سطح پر چھوٹے سیٹلائٹس بڑی مقدار میں آ رہے ہیں۔ ان کی لانچوں کا بازار بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اسرو نے یہ راکٹ بنایا ہے۔ ایک ایس ایس ایل وی راکٹ کی قیمت 30 کروڑ روپے ہوگی۔ جبکہ پی ایس ایل وی 130 سے ​​200 کروڑ روپے خرچ آتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5D7YRdU

اتوار، 11 اگست، 2024

یورپ میں بھی یمنایا جیسے ہندوستان میں آریا... 46 ویں قسط

وقت گزرنے کے بعد باہر سے آنے والے آرین اور ہندوستان میں پہلے سے رہنے والے ہڑپہ کے لوگوں کے ملنے سے ایک نئی تہذیب کا ارتقا ہوا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بالکل ایسا ہی ہوا جب تقریباً ً ایک ہزار سال پہلے ایشیا کی چراگاہوں سے یمنایا مغربی یورپ پہنچے۔

برتنوں کو خوبصورت بنانے کے لیے لائن کے استعمال (کورڈڈ ویئر) کا چلن یمنایا سے یورپ 3000 قبل مسیح میں آنے والوں کے اثر کی سب سے اہم مثال ہے۔ یہ یمنایا اپنے ساتھ نہیں لاۓ بلکہ ان کے اور یورپ میں پہلے سے بسے لوگوں کی ملی جلی میراث ہے جس کا ذکر ڈیوڈ انتھونی نے اپنی کتاب ’گھوڑا ،پہیہ اور زبان‘ میں کچھ اس طرح کیا ہے، ’’یورپ میں برتنوں کی بناوٹ میں تبدیلی، گھوڑا اور بیل گاڑی کا استعمال اور مذہبی رسومات کا بڑھنا، پالتو جانوروں کی اہمیت، یہ سب یمنایا کے آنے کے بعد شروع ہوا۔ رہن سہن میں زبردست تبدیلی، یمنایا کی خانہ بدوش زندگی کے اثر سے مستقل رہائشی گاؤں کا تقریباً ً ختم ہونا، اکیلی قبر پر پتھروں کے ڈھیر کا رواج جو بہت بعد تک وائیکنگ کرتے رہے، پتھر کی کلہاڑی، پانی پینے کے خاص برتنوں کی بناوٹ، یورپ میں یمنایا کے اثرات ہیں۔ مویشیوں کو پالنا اور ان کے ساتھ چراگاہوں میں گھومنا یمنایا لوگوں کی خاص پہچان ہے۔‘‘

سن 2017 میں ’انٹی کوئٹی‘ جرنل میں چھپے ایک تحقیقاتی مضمون میں سویڈن یونیورسٹی کے پروفیسر کرسٹین کرستیانسن نے یورپ میں کورڈڈ برتنوں کے چلن پر تفصیل سے لکھا ہے، ’’یمنایا کے یورپ آنے پر بڑے پیمانے پر جنگلوں کو ختم کر کے جانوروں کے لیے چراگاہوں کو بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایسے قبرستان کا پایا جانا جن میں زیادہ تر کورڈڈ برتن استعمال کرنے والے مردوں کی قبریں ہیں جو یورپ میں بسے ہوئے کسانوں کی عورتوں کو اغوا کر کے شادیاں کرتے تھے۔ کھدائی میں حاصل ہوئے انسانی ڈھانچوں کی ڈی این اے تحقیقات سے یہ معلوم ہوا کے مردوں کے ڈی این اے تقریباً ایک جیسے ہیں جبکہ عورتوں کے ڈی این اے مردوں سے مختلف اور کئی قسم کے ہیں۔‘‘

کورڈڈ ویئر

اپنی قوم سے باہر عورتوں سے شادی کرنا باہر سے آنے والوں کی مجبوری بھی ہوگی کیونکہ آنے والے لوگوں میں زیادہ تر مرد رہے ہوں گے۔ اس کا ثبوت ہے کہ جرمنی میں کھدائی میں 90 فیصدی قبریں صرف مردوں کی ملیں۔ اسی طرح کی جانکاری ہندوستان سے لے کر آئرلنڈ اور بالٹک سمندر کے پاس ملکوں میں بھی ملی ہے۔ یہ معلوم ہوا کے یمنایا 18-19سال کے نوجوان لڑکوں کے گروپ کی شکل میں یورپ پہونچے جن کا سردار تجربہ کار کچھ زیادہ عمر کا مرد ہوتا تھا۔ اس طرح کے لڑاکا گروپ کے نام جنگلی خونخوار جانوروں کے نام پر تھے۔

بقول کرستیانسن اور اس کے ساتھی تحقیقات کرنے والے لوگوں کا یہ ماننا ہے کے خانہ بدوش لڑاکا گروپ کے لوگ ہمیشہ کھیتی باڑی کرنے والوں پر غالب آ جاتے ہیں اور یہ منظم گروپ کسانوں کی لڑکیوں کو زبردستی اغوا کر کے شادیاں کرنے میں کامیاب رہے۔

کرستیانسن نے اپنے مضمون میں کورڈڈ ویئر برتنوں کی ایجاد پر لکھا، ‘‘اپنی خانہ بدوش زندگی گزارنے کی وجہ سے یمنایا لوگوں میں مٹی کے برتن کا رواج نہیں تھا کیونکہ وہ ایسے برتن استعمال کرتے تھے جو سفر میں آسانی سے نہ ٹوٹیں اور ان کو اپنے ساتھ رکھنا آسان ہو۔ وہ چمڑے، لکڑی یا پیڑوں کے تنے سے بنے برتنوں کا استعمال کرتے تھے۔ اسی وجہ سے یورپ میں یمنایا کے لوگوں کی شروع کی قبروں میں کسی طرح کا کورڈڈ ویئر برتن نہیں ملا۔ اس طرح کے برتن بعد میں بننا شروع ہوئے جب یمنایا کے مردوں نے ان لڑکیوں سے شادیاں کی جو یورپ میں پہلے سے مٹی کے برتن بنانے کے فن سے واقف تھیں۔ انہوں نے یمنایا کے چمڑے اور لکڑی کے برتنوں کی نقل مٹی کے برتنوں میں کر کے ایک نئی قسم کے برتنوں کی شروعات کی۔‘‘

یورپ اور ہندوستان دونوں جگہوں پر مختلف وقتوں میں بڑی تعداد میں وہی لوگ یمنایا یعنی آرین آئے اس لیے ان جگہوں پر نئی ابھرتی تہذیبوں میں کچھ یکسانیت بھی ہے۔ مثال کے طور پر بادشاہ بھوجا کے گیارہویں صدی کا سنسکرت کے استعمال پر حکم نامہ کہ ’’سنسکرت صرف بھجن گانے اور مذہبی رسومات پر اشرافیہ ہی استعمال کریں، عام طور پر صرف پراکرت ہی استعمال ہوگی۔ آرین آپس میں صرف سنسکرت کا استعمال کریں اور گنواروں سے صرف پراکرت میں بات کی جائے۔ کیونکہ سنسکرت زبان کی پاکیزگی کو ہر حال میں برقرار رکھنا ضروری ہے۔ یہ حکم نامہ شاید اس لئے بھی جاری کیا گیا ہوگا کہ شروع میں آنے والے آرینوں کی بیویاں بھی غیر آرین رہی ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/k9CViwt

بوئنگ اسٹار لائنر خلاباز خلائی اسٹیشن پر پھنسے

امریکی خلائی ایجنسی ناسا (نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن ) کے خلاباز بوچ ولمور اور سنیتا ولیمز کو 5 جون کو یونائیٹڈ لانچ الائنس اٹلس-V راکٹ پر بوئنگ کے اسٹار لائنر خلائی جہاز پر فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن کے خلائی لانچ کمپلیکس-41 سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے روانہ کیا گیا۔ بغیر عملے کی کئی اڑانوں کے بعد جو سافٹ ویئر اور دیگر مسائل کا شکار رہیں، عملے کے ساتھ بوئنگ اسٹار لائنر کا یہ پہلا خلائی مشن ہے ۔ بوچ اور سنیتا کو اسٹار لائنر خلائی جہاز اور اس کے ذیلی نظاموں کی جانچ کرنے کے لیے تقریباً ایک ہفتے تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر رہنا تھا، اس سے قبل کہ ناسا بوئنگ اسٹارلائنر خلائی جہاز کو معمول کی پروازوں کے لیے مظوری دے سکے۔ لیکن اسٹار لائنر کا ٹیسٹ مشن، جس کےابتدائی طور پر تقریباً آٹھ دن تک جاری رہنے کی توقع تھی،جہاز کے پروپلشن سسٹم میں دشواریوں کی وجہ سے بہت زیادہ لمبا ہو گیا۔ اب بوئنگ اور ناسا ان خامیوں کو ٹھیک کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ واضح رہے کہ معمول کی پروازوں کی منظوری اسپیس ایکس کے ’ کریو ڈریگن کیپسول ‘نے 2020 میں حاصل کر لی تھی۔

بوچ اور سنیتا ایک ہفتے کے اندر زمین پر واپس آنے کی توقع کر رہے تھے لیکن اب وہ خلائی اسٹیشن پر 60 دن سے زیادہ گزار چکے ہیں۔ تاہم، ناسا نے امکان ظاہر کیا ہے کہ اسٹار کیپسول میں جاری مسائل کے سبب دونوں خلاباز 2025 کے اوائل تک وہاں رہ سکتے ہیں ۔ لیکن اس طرح کی توسیع یقینی نہیں ہے کیونکہ ناسا کو امید ہے کہ اسٹار لائنر کی حفاظت پر خلائی ایجنسی میں اختلافات کو اگست کے وسط تک حل کر لیا جائے گا۔ لیکن اگر اسٹار لائنر کو غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے اور ناسا کو پلان بی پر عمل کرنا پڑا تواسپیس ایکس کے کریو ڈریگن کیپسول کے ذریعے خلابازوں کو گھر لانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

ناسا کے مطابق بوچ اور سینتا کو خلائی اسٹیشن پر مزید چھ ماہ گزارنے پڑ سکتے ہیں۔ وہ مہم 71 (سات خلابازوں کا بین الاقوامی عملہ جو خلائی اسٹیشن پر خدمات انجام دے رہا ہے) کا حصہ نہیں ہیں ۔ اس کے باوجود دونوں عملے کے ساتھ مربوط ہو گئے ہیں اور مداری لیبارٹری میں روزمرہ کے کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔ لیکن اگر ان کے قیام کو فروری تک بڑھایا جاتا ہے، اور اگر اسٹار لائنر انہیں گھر نہیں لا سکا تو ہو سکتا ہے بوچ اور سنیتا خلائی اسٹیشن عملے کے ارکان بن جائیں ۔ وہ عملے کے مخصوص کام انجام دیں گے، جیسے کہ خلائی اسٹیشن کے باہر خلائی چہل قدمی کرنا، مدار ی لیبارٹری کو برقرار رکھنا اور سائنسی تجربات کو انجام دینا۔

ناسا نے تصدیق کی ہے کہ اسٹار لائنر خلاباز اس طرح کی تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ ایک بریفنگ کے دوران، ناسا کے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پروگرام کی مینیجر، ڈانا ویگل نے کہا کہ یہ جانتے ہوئے کہ یہ ایک آزمائشی پرواز ہے، ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ عملے کے لیے صحیح وسائل، سامان اور تربیت موجود ہو، خاص اس صورت میں جب انہیں طویل مدت کے لیے خلائی اسٹیشن پر رکنے کی ضرورت پڑے۔ بوچ اور سنیتا پوری طرح سے تربیت یافتہ اور تمام کام کرنے کے قابل ہیں۔ کچھ بھی یقینی نہیں ہے، لیکن ناسا نے پہلی بار 7 اگست کو اشارہ دیا کہ وہ بوئنگ اسٹار لائنر خلائی جہاز کو خالی گھر لانے پر غور کر رہا ہے۔ لیکن ایجنسی بوچ اور سنیتا کو غیر معینہ مدت تک خلا میں نہیں چھوڑے گی۔ انہیں اسپیس ایکس کے کریو-9 مشن پر سوار کرکے گھر لایا جائے گا۔

کریو-9 مہم خلائی اسٹیشن عملے کے لیے سائنسی سامان اور دیگر اشیاء پہنچانے کا ایک معمول کا سفر ہے اور اسے چار خلابازوں کے ساتھ اڑنا ہے۔ اس ٹیم میں ناسا کے خلاباز زینا کارڈمین، نک ہیگ اور اسٹیفنی ولسن، اور روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس کے خلاباز الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں۔ اسٹار لائنر کے لیے ناسا کے ہنگامی منصوبے کے تحت، ان میں سے دو خلابازوں کو اس مشن سے ہٹا دیا جائے گا، حالانکہ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ عملے کے چار ارکان میں سے یہ دو کون ہو سکتے ہیں ۔ اس کے بعد خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے دو خالی نشستوں کے ساتھ پرواز کرے گا لیکن 24 ستمبر سے پہلے نہیں۔ بیلسٹ یا دھات کے ٹکڑے جو وزن (ڈیڈ ویٹ)کے طور پر کام کرتے ہیں ( کریو-9 ڈریگن کی کشش ثقل کے مرکز کو برقرار رکھنے کے لیے) کریو-9 کی دو خالی نشستوں کے ساتھ اڑیں گے۔ اس کے بعد کریو-9 کے دو خلاباز خلائی اسٹیشن پر سوار بوچ اور سنیتا کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور یوں چاروں مہم 72 کا عملا بن جائیں گے۔

جیسا کہ خلائی اسٹیشن کے مشنوں کے لیے عام ہے ، کریو-9 کے خلاباز تقریباً پانچ یا چھ ماہ تک جہاز پر رہیں گے – ابھی تک بیتے دو ماہ کے علاوہ بوچ اور سنیتا کو خلا میں مزید چھ مہینے گزارنے ہوں گے۔ کریو 9- کا حصہ بننے کے بعد، وہ ایک منظم روٹین کا حصہ بن جائیں گے۔ پہلے ہی، دونوں خلاباز روزمرہ کی مشقت میں مصروف ہو چکے ہیں۔ ناسا کے حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بوچ اور سنیتا نے اب تک اپنا وقت خلائی اسٹیشن کی دیکھ بھال، ہارڈ ویئر کا معائنہ کرنے، کارگو کو منظم کرنے، اسٹار لائنر پر چیک کرنے اور سائنس کے تجربات اور ٹیک ڈیمسٹریشن میں مدد کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ بوچ اور سنیتا نے اسٹار لائنر ٹیسٹ فلائٹ پر جانے سے پہلے مجموعی طور پر 500 دن خلا میں گزارے ہیں۔ سنیتا نے یہاں تک کہا کہ وہ 2012 میں اپنے آخری مشن کے بعد خلائی اسٹیشن سے نکلنے کے بعد رو پڑی تھی، انہیں اس بات کا یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی واپس آئے گی۔ ناسا کے ایک تبصرہ نگار نے 5 جون کو اسٹار لائنر لانچ کے دوران کہا کہ یہ پرواز سنیتا کے لیے ایک خواب ہے۔

خلابازوں کے خلائی اسٹیشن پر غیر متوقع طور پر اپنے قیام کو دنوں، ہفتوں یا مہینوں تک بڑھانا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر، ناسا کے خلاباز فرینک روبیو کو زمین کے نچلے مدار میں اپنے افتتاحی سفر کے لیے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تقریباً چھ ماہ گزارنا تھا جو کہ ستمبر 2022 میں ایک روسی سویوز کیپسول میں شروع ہوا تھا، لیکن جہاز میں کولینٹ لیک کی وجہ سے انہیں 371 دن خلائی اسٹیشن پر گزارنے پڑے۔ یوں روبیو کے سال بھر قیام نے مدار میں سب سے زیادہ مسلسل دن گزارنے کا امریکی ریکارڈ قائم کیا۔ مختلف عوامل جیسے خراب موسم یا شیڈول ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے خلابازوں کا خلائی اسٹیشن پر اپنے قیام کو کئی دنوں تک بڑھانا ایک معمول ہے۔

ناسا نے خلائی جہاز سے بوچ اور سنیتا کے سوٹ کیسوں اور دیگر ضروری سامان اتار لیا تھا تاکہ خلائی اسٹیشن پرمطلوب ایک انتہائی ضروری پمپ کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔ لیکن نارتھروپ گرومین کارگو ری سپلائی مشن کے 6 اگست کو خلائی سٹیشن پر پہنچنے کے بعد دونوں خلابازوں کو ضروری اشیاء مل گئی ہوں گی۔ مزید یہ کہ خوراک کی فراہمی کم ہونے کا امکان نہیں ہے۔ نارتھروپ گرومین جہاز کے 8200 پاؤنڈ سائنس کے تجربات اور کارگو کے ساتھ کھانے کا سامان بشمول اسکواش، مولیاں، گاجر، بلیو بیری، نارنگی، سیب اور کافی لے کرگیا تھا۔ پھر بھی، ناسا کو بوچ اور سنیتا کی واپسی یا خلائی اسٹیشن عملے میں انضمام کے بارے میں فوری فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ خلائی اسٹیشن پر کھانے اور دیگر وسائل کے ذخیرے لامحدود نہیں ہیں۔ ناسا کے اسپیس آپریشن مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر کین بوورسوکس کے مطابق امریکی خلائی ایجنسی کی توجہ دونوں خلا بازوں کو گھر لانے اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن عملے کو معمول کے مطابق کرنے پر مرکوز ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Rcs0Gju

منگل، 6 اگست، 2024

انکم ٹیکس ری فنڈ کے نام پر بھی سائبر فراڈ! نوئیڈا پولیس نے کیا خبردار

نوئیڈا: سائبر مجرم نئے نئے ہتھکنڈے اختیار کر کے لوگوں کو ٹھگی کا شکار بناتے ہیں اور اب انہوں نے لوگوں کو انکم ٹیکس ری فنڈ کے نام پر ٹھگنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے سائبر فراڈ کرنے والوں نے انکم ٹیکس ری فنڈ کے حوالے سے پیغامات بھیج کر لوگوں کو ٹھگنے کا کام شروع کر دیا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ یہ پیغام محکمہ انکم ٹیکس سے آ رہا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے۔

نوئیڈا کی سائبر سیل پولیس نے لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر آپ کو ایسا کوئی پیغام موصول ہوتا ہے اور کسی بھی نمبر پر بات کرنے کو کہا جاتا ہے تو ایسا نہ کریں اور نہ ہی کسی لنک پر کلک کریں ورنہ آپ کے ساتھ ٹھگی ہو سکتی ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ اگر آپ کو ایسا کوئی پیغام مل رہا ہے تو اسے مکمل طور پر نظر انداز کر دیں ورنہ آپ سائبر فراڈ کا شکار ہو جائیں گے۔

سائبر سیل کی جانب سے جاری وارننگ کے مطابق ، ’’گزشتہ کچھ دنوں سے سائبر مجرموں کی جانب سے ایک میسج اور لنک بھیج کر کہا جا رہا ہے کہ آپ کا انکم ٹیکس ری فنڈ واجب الادا ہے تو اس لنک پر کلک کریں۔ لنک پر کلک کرنے والے لوگوں کو ٹھگی کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے اس قسم کا پیغام اور لنک جاری نہیں کیا جا رہا ہے، اس قسم کے پیغامات سے محتاط رہیں۔‘‘

اس معاملے کو لے کر اسسٹنٹ پولیس کمشنر سائبر وویک رنجن رائے نے بھی لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو اس طرح کے پیغامات مسلسل موصول ہو رہے ہیں، جس میں ایک لنک دے کر کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کا انکم ٹیکس ری فنڈ واجب الادا ہے تو آپ اس لنک پر کلک کریں اور اپنی تفصیلات بھریں۔

انہوں نے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے پیغامات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیں اور یہ کہ یہ پیغامات محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے نہیں بھیجے جا رہے، بلکہ سائبر فراڈ کرنے والے ان پیغامات کو پھیلا کر فراڈ کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HkDLpqx

جمعرات، 1 اگست، 2024

تائیوان: کمپیوٹر چپس صنعت میں اجارہ داری

ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان پر کمپیوٹر چپس بنانے کے 500 ارب ڈالر کے کاروبار میں امریکہ کا تاج چھیننے کا الزام لگایا ہے۔ سابق امریکی صدر اور ریپبلکن صدارتی امیدوار نے گزشتہ ہفتے بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنے اس دعوے کو دہرایا جو پچھلے سال کیا گیا تھا کہ امریکی اتحادی تائیوان نے امریکہ سے سیمی کنڈکٹر صنعت کا تقریباً 100 فیصد حصہ چھین لیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو ایسا کبھی نہیں ہونے دینا چاہئے تھا۔ لیکن صنعت کے ماہرین نے امریکی خبر رساں ادارہ سی این این کو بتایا کہ چوری یا چھننے کے برعکس، تائیوان نے دور اندیشی، محنت اور سرمایہ کاری کے امتزاج کے ذریعے اپنی سیمی کنڈکٹر صنعت کو باضابطہ طور پر بڑھایا ہے۔

تائیوان میں اسکول کے بچے جانتے ہیں کہ ورلڈبیٹنگ چپس شعبے کے بانی مورس چانگ ہیں، ایک 93 سالہ چینی نژاد امریکی، جنہوں نے امریکہ میں سیمی کنڈکٹرز شعبہ میں طویل کیریئر کے بعد 1987 میں 55 سال کی عمر میں تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (ٹی ایس ایم سی) شروع کی تھی۔ اس وقت، صنعت کے رہنما انٹیل، موٹرولا اور ٹیکساس انسٹرومنٹ تھے، جہاں چانگ پہلے کام کرتے تھے۔ لیکن چانگ نے ٹی ایس ایم سی کو بالکل مختلف کاروباری ماڈل کے ساتھ شروع کیا، جو اس وقت مکمل طور پر انقلابی تھا۔

ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا میں کمپیوٹر ہسٹری میوزیم کے لیے ریکارڈ کیے گئے 2007 کے ایک پروجیکٹ کے دوران چانگ نے بتایا کہ تائیوان کے پاس تحقیق اور ترقی اور سرکٹ ڈیزائن میں کوئی زیادہ صلاحیت نہیں تھی۔ ہمارے پاس سیلز اور مارکیٹنگ میں بہت کم صلاحیت تھی، اور ہمارے پاس دانشورانہ املاک میں تقریباً کوئی قوت نہیں تھی۔ تائیوان کے پاس واحد ممکنہ طاقت سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ تھی۔ اس طرح، گاہکوں کی طرف سے فراہم کردہ ڈیزائن کے مطابق سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کا خیال پیدا ہوا۔ حالانکہ اس ماڈل کو اس وقت مسترد کر دیا گیا تھا، کیونکہ تب ان ہاؤس ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ دونوں صلاحیتوں کا ہونا معمول تھا۔

اس نئے نقطہ نظر نے عالمی الیکٹرانکس سیکٹر کے منظر نامے کو نئی شکل دی اور تائیوان کے انڈسٹری لیڈر بننے کی بنیاد ڈالی۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق، تائیوان اب دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ جدید چپس تیار کرتا ہے۔ 'چِپ وار: دی فائٹ فار دی ورلڈز موسٹ کریٹیکل ٹیکنالوجی' کے مصنف، کرسٹوفر ملر نے کہا کہ اس کی وجہ سے، ٹی ایس ایم سی متعدد مختلف صارفین کے لیے مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کر سکا، جس سے کمپنی کی آمدنی بڑھتی گئی۔ زیادہ آمدنی نے چپ پروڈکشن ٹیکنالوجیز کو بہتر بنانے اور مینوفیکچرنگ لاگت کو کم کرنے میں مدد کی، جس سے پورے آپریشن کو زیادہ موثر بنایا گیا۔ آج، اس دیو قامت ٹیک کمپنی کے پاس دنیا کی سب سے جدید ترین چپ پروڈکشن ٹیکنالوجیز ہیں اور اس شعبہ میں مزید سرمایہ کاری جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ گزشتہ جولائی میں ٹی ایس ایم سی نے سنچو میں، جہاں اس کا صدر دفتر ہے، اپنا عالمی تحقیق اور ترقی کا مرکز کھولا تھا۔

ماہرین کے مطابق کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ ماڈل، جو تائیوان نے چپس سے پہلے ٹیکسٹائل اور کنزیومر الیکٹرانکس جیسے دیگر شعبوں میں استعمال کیا تھا، سے خاص طور پر اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ ٹی ایس ایم سی کے سابق ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ ڈائریکٹر کونراڈ ینگ نے بتایا کہ بہترین انجینئرز، کم مزدوری اور کام کے طویل اوقات بہتر پیداواری صلاحیت کا باعث بنے۔ اس کے علاوہ، جامع ٹیک ایکو سسٹم تائیوان کی چپ بنانے کی صلاحیت کا ایک اور اہم جز ہے۔ ینگ کے مطابق، ان عوامل کو دوسروں کے لیے نقل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حریف کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ انٹیل اور سام سنگ الیکڑونکس دونوں دوسری کمپنیوں کے لیے چپس بنانے میں ٹی ایس ایم سی کی کامیابی کی تقلید کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

جب تائیوان کے وزیر اعظم چو جنگ تائی سے پوچھا گیا کہ اگر واشنگٹن تائیوان پر اپنی چپ سے متعلق تحقیق اور ترقی کے کاموں میں سے کچھ کو امریکہ منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے تو حکومت کیا کرے گی، چو نے کہا کہ تائیوان کا اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تائیوان میں بہت اچھا ٹیک ٹیلنٹ اور تحقیق، ترقی اور سرمایہ کاری کا ماحول ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تائیوان میں جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی کو برقرار رکھنا ان اداروں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔

دریں اثنا، بلومبرگ انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ تائیوان کو اپنے دفاع کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔ ’تائیوان ہمیں دفاع کے لیے ادائیگی کرے۔ آپ جانتے ہیں، ہم انشورنس کمپنی سے مختلف نہیں ہیں۔ تائیوان ہمیں کچھ نہیں دیتا‘۔ یہ بتاتے ہوئے کہ تائیوان امریکہ سے 9500 میل دور ہے، اور چین سے 68 میل دور ، ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو تائیوان کی دوری کی وجہ سے دفاع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ لیکن تائیوان کے اندر، ٹرمپ کے ان ریمارکس کا موازنہ 'تحفظ فیس' کے مطالبات سے کیا جا رہا ہے اور وہاں بے چینی پیدا کی ہے کہ اگر ریپبلکن امیدوار صدر منتخب ہوتے ہیں تو وہ تائیوان اور اس کے سب سے اہم حفاظتی ضامن امریکہ کے تعلقات کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں، وہ بھی ایسے وقت میں جب چین کے تائیوان پر حملہ کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

آبنائے تائیوان میں مسلسل کشیدگی نے ٹی ایس ایم سی پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تائیوان سے باہر پھیل جائے تاکہ اس کی پیداواری بنیاد کو متنوع بنایا جا سکے۔ امریکہ کے اندر، کووِڈ-19 وبائی مرض کے دوران چپ کی کمی نے امریکہ چین دشمنی کی وجہ سے صنعت کی تزویراتی اہمیت کے علاوہ، مقامی سطح پر چپ مینوفیکچرنگ کو بحال کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ 2022 میں، صدر جو بائیڈن نے چپس اور سائنس ایکٹ پر دستخط کیے، جس کا مقصد چپس کی گھریلو پیداوار کو بڑھانا ہے، جو کہ عالمی سپلائی کا تقریباً 10فیصد ہے، اور تائیوان اور جنوبی کوریا پر انحصار کو کم کرنا ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ممکنہ صدارت کا تائیوان کے لیے کیا مطلب ہو سکتا ہے، ینگ کا کہنا ہے کہ چپ فرموں کو باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کے لیے مل کر کام کرنے کا ایک بہتر طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خاص طور پر ٹی ایس ایم سی کے لیے اہم ہے، جو ایریزونا میں تین فیکٹریاں بنا رہی ہے لیکن مختلف لیبر قوانین سے لے کر ورک کلچر تک کی وجوہات کی وجہ سے اسے اپنی سہولیات کو ٹریک پر لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کمپنی جہاں کہیں بھی کمپیوٹر چپس بنانے کے پلانٹس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اسے ایک ایسا مینوفیکچرنگ سسٹم قائم کرنے کا طریقہ تلاش کرنا ہوگا جو مقامی ثقافت کے مطابق ہو ۔ ایسا کرنا ٹی ایس ایم سی کو صحیح معنوں میں ایک عالمی کمپنی بنا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hoVCyGO

بدھ، 24 جولائی، 2024

آذربائیجان کا ایک ارب ڈالر موسمیاتی فنڈ کا ہدف

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس COP29 کے میزبان آذربائیجان نے 19 جولائی کو اعلان کیا کہ وہ ایک نیا کلائمیٹ یا موسمیاتی فنڈ شروع کرے گا جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے نئے قومی آب و ہوا کے اہداف کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر جمع کرنا ہے۔ آذربائیجان کو امید ہے کہ دارالحکومت باکو میں قائم ہونے والے اس فنڈ کی نگرانی ایک کثیر قومی بورڈ آف شیئر ہولڈرز کے ذریعے کی جائے گی، اور اس کا سرمایہ 10 جیواشم ایندھن (فوسل فیول) پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ ساتھ تیل اور گیس کمپنیوں سے لیا جائے گا۔ آذربائیجان نے ابتدائی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے جیواشم ایندھن کی پیداوار پر محصول لگانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کچھ ممالک کی مزاحمت کے بعد اس نے حکمت عملی تبدیل کر دی۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس کے نامزد صدر اور آذری وزیر برائے ماحولیات اور قدرتی وسائل، مختار بابائیف نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔ انہوں نے عطیہ دہندگان سے مطالبہ کیا کہ وہ آذربائیجان کے ساتھ شامل ہوں تاکہ عزائم کو فروغ دینے اور عمل کو فعال کرنے کے لیے COP29 کے منصوبے کو پورا کیا جا سکے۔ نومبر میں باکو میں ہونے والے موسمیاتی مذاکرات میں فنانس کا مسئلہ حاوی رہے گا، جہاں ممالک موسمیاتی فنانس کے لیے ایک نئے عالمی ہدف پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے جسے امیر ممالک 2025 سے ہر سال غریب ممالک کو منتقل کریں گے۔ آذری وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ کن کن ڈونر ممالک یا کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن کہا کہ آذربائیجان ابھی تک طے شدہ ابتدائی شراکت کے ساتھ بانی شراکت دار ہوگا۔ فنڈ اپنے شراکت داروں سے سالانہ عطیات وصول کرے گا، اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 20 فیصد ایک ریپڈ ریسپانس فنڈنگ کی سہولت کے لیے وقف کرے گا جس سے سب سے زیادہ کمزور ممالک کو موسمیاتی آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

آذری حکام کے مطابق یہ فنڈ کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں اور دیگر عالمی سہولیات کے مقابلے میں زیادہ متحرک ہوگا کیونکہ شیئر ہولڈر براہ راست فیصلہ کریں گے کہ کن منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں، آذربائیجان ماہرین اقتصادیات اور دیگر ماہرین کا ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیگا تاکہ ممکنہ عطیہ دہندگان کے لیے ایک فارمولہ تیار کیا جا سکے جس سے یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ وہ کتنا حصہ ڈالیں گے اور دوسرے یہ واضح ہو سکے کہ ترقی پذیر ممالک اس فنڈ تک کیسے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آذری حکام نے بتایا کہ ممالک کے نئے قومی آب و ہوا کے منصوبے جو انہیں اگلے سال اقوام متحدہ میں جمع کرانے ہیں، جنہیں NDCs کے نام سے جانا جاتا ہے، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے لیے پیرس معاہدے کے ہدف کے مطابق ہونا چاہیے لیکن بعض فوسل فیول کے منصوبوں کی مالی اعانت کو مسترد نہیں کیا۔

گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی سربراہی کانفرنس ایک عالمی معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی جس میں 2050 تک خالص صفر اخراج تک پہنچنے کے لیے فوسل فیول سے دوری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن اسٹیل کے مطابق COP29 میں کامیابی کا انحصار موسمیاتی فنانس بڑھانے پر ہے، باکو میں پیشرفت صرف نئے سبز نمبروں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ موسمیاتی فنانس کی فراہمی کو بہتر بنانے کے بارے میں ہے تاکہ یہ ترقی پذیر ممالک کی اب اور مستقبل میں ضروریات کو پورا کر سکے۔

کلائمیٹ فنانس ایکشن فنڈ ان 14 اقدامات کے پیکج میں سے ایک ہے جس کا اعلان آذربائیجان نے COP29 ایکشن ایجنڈا کے تحت کیا ہے جس کا مقصد خواہشات کو بڑھانا اور کارروائی کو قابل عمل بنانا ہے۔ یہ ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فنڈ ہوگا، جو نجی شعبے کو متحرک کرے گا اور سرمایہ کاری کو خطرے سے پاک کرے گا۔ اس فنڈ میں رعایتی اور گرانٹ پر مبنی امداد کے ساتھ خصوصی سہولیات بھی ہوں گی تاکہ ضرورت مند ترقی پذیر ممالک میں قدرتی آفات کے نتائج کو تیزی سے حل کیا جا سکے۔

یہ فنڈ چھوٹے اور درمیانے درجے کے قابل تجدید توانائی پیدا کرنے والوں کے لیے آف ٹیک معاہدے کی ضمانتیں اور سبز صنعتی منصوبوں کے لیے پہلے نقصان کا سرمایہ فراہم کرے گا۔ اس فنڈ میں خوراک اور زراعت کے شعبے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ معاش کے تحفظ اور خالص صفر اخراج کو حاصل کیا جا سکے۔ منصوبوں سے حاصل ہونے والے منافع کو فنڈ میں دوبارہ لگایا جائے گا۔ یہ ابتدائی فنڈ ریزنگ راؤنڈ کے اختتام پر فعال ہو جائے گا۔ اس فنڈ کا ہدف ایک ارب ڈالر ہے، اور اس میں 10 تعاون کرنے والے ممالک حصص یافتگان کے طور پر کام کریں گے۔

سرمائے کا پچاس فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں آب و ہوا کے ان منصوبوں میں لگایا جائے گا جو تخفیف، موافقت، اور تحقیق و ترقی میں معاونت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کو فروغ دیں گے، توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں سہولت فراہم کریں گے۔

پچاس فیصد شراکتیں ممبران کی اگلی نسل کی قومی سطح پر طے شدہ شراکت (NDCs) کو پورا کرنے میں مدد کے لیے مختص کی جائیں گی تاکہ 1.5 سیلسیس درجہ حرارت کے ہدف کو پہنچ کے اندر رکھا جا سکے ۔ آذری حکومت نے مثالی رہنمائی کا عہد کیا ہے، وہ 1.5 سے منسلک NDC پیش کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اور COP29 کی صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام جماعتوں کو اسی طرح کے منصوبوں کے ساتھ آگے آنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بیس فیصد ریپڈ ریسپانس فنڈنگ فیسیلٹی (2R2F) میں جمع کیا جائے گا جو انتہائی رعایتی اور گرانٹ پر مبنی مدد فراہم کرے گا۔ یہ سہولت چھوٹے جزیروں کی ترقی پذیر ریاستوں، کم ترقی یافتہ ممالک، اور ضرورت کے مطابق دیگر کمزور ترقی پذیر کمیونٹیز میں قدرتی آفات کے نتائج سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر قابل رسائی فنڈنگ کی پیشکش کرے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Y6gL0J1

جمعہ، 19 جولائی، 2024

مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروس میں خرابی، دنیا بھر میں لیپ ٹاپ ٹھپ ہو گئے، ایئرلائنز بھی متاثر

مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ میں اچانک خرابی پیدا ہو جانے کی وجہ سے پوری دنیا کو تکنیکی خرابی کا سامنا ہے اور دنیا بھر کی ایئرلائنز اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ صارفین کو مائیکروسافٹ 360، مائیکروسافٹ ونڈوز، مائیکروسافٹ ٹیمز، مائیکروسافٹ ایزور، مائیکروسافٹ اسٹور اور مائیکروسافٹ کلاؤڈ سے چلنے والی خدمات میں مسائل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ کے سرورز ڈاؤن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ونڈوز لیپ ٹاپ کام نہیں کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ایئر لائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس حوالے سے شکایت کر رہے ہیں۔

اسپائس جیٹ اور انڈیگو کو بھی اسی طرح کے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ سرور کے مسائل کی وجہ سے خدمات روک دی گئی ہیں۔ ہوائی اڈے پر چیک ان اور چیک آؤٹ کا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ بکنگ سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔

کئی ممالک میں نہ صرف ایئر لائنز بلکہ بینکنگ سروسز، ٹکٹ بکنگ اور اسٹاک ایکسچینج بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے امریکی ایئرلائنز سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ امریکہ کے کئی حصوں میں ایمرجنسی سروس 911 بھی متاثر ہوئی ہے اور ہنگامی کال سینٹر کی خدمات میں دشواری پیدا ہو گئی۔

کمپنی کے فورم پر پن کی گئی رپورٹس اور پیغامات کے مطابق بہت سے ونڈوز صارفین کو حالیہ کراؤڈ اسٹرائیک اپ ڈیٹ کے بعد بلیو اسکرین آف ڈیتھ کی خرابی (بی ایس او ڈی ایرر) کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو تقریباً 10:30 کے بعد بہت سے صارفین کے لیپ ٹاپ دوبارہ شروع (ری اسٹارٹ) ہونے لگے۔ شروع میں ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک عام اپڈیٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ لیکن یہ حالت تقریباً تمام ونڈوز لیپ ٹاپس میں یکے بعد دیگرے دیکھی گئی۔ اس کے بعد لیپ ٹاپ پر نیلی اسکرین نظر آ رہی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/6LWQkBu

اتوار، 14 جولائی، 2024

ٹائٹینک: جہاز کے ملبے کی ڈیجیٹل فوٹوگرافی

امیجنگ ماہرین، سائنس دانوں اور مورخین کی ایک ٹیم 12جولائی کو سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے لیے روانہ ہوئی ہے تاکہ تباہ شدہ جہاز کے ملبے کا اب تک کا سب سے تفصیلی فوٹوگرافی کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا سکے۔ یہ ٹیم ٹائٹینک کے ڈوبنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کے لیے جہاز کے ہر کونے کو اسکین کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ پچھلے سال اوشین گیٹ سانحے کے بعد ٹائٹینک کا یہ پہلا تجارتی مشن ہے۔ اس مشن میں کھوئے ہوئے جہاز کو دیکھنے کی کوشش کے دوران ایک آبدوز میں سوار پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اوشین گیٹ سانحے کے مہلوکین اور 1500 مسافروں اور عملے کے لیے جو 1912 میں ٹائٹینک کے ساتھ ڈوب گئے تھے، آنے والے دنوں میں سمندر میں ایک مشترکہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

نئی مہم اٹلانٹا، جارجیا میں مقیم آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈ نامی امریکی کمپنی کی طرف سے انجام دی جا رہی ہے جس کے پاس ٹائٹینک سے اشیاء کی بازیابی کے حقوق ہیں اور جس نے آج تک ٹائٹینک کے ملبے سے تقریباً 5500 اشیاء نکالی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تازہ ترین مہم خالصتاً ایک جائزہ مشن ہے۔ جس میں دو روبوٹک گاڑیاں لاکھوں ہائی ریزولوشن تصاویر لینے اور تمام ملبے کا تھری ڈی ماڈل بنانے کے لیے سمندر کی تہہ میں غوطہ لگائیں گی۔ بی بی سی نے مہم کے ارکان سے امریکی شہر پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ کی بندرگاہ پر ملاقات کی، جس کے دوران شریک مہم کے سربراہ ڈیوڈ گیلونے بتایا کہ ان کی ٹیم ملبے کو ایک ایسی وضاحت اور درستگی کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے جیسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ لاجسٹک جہاز ڈینو چوئسٹ شمالی بحر اوقیانوس میں اس آپریشن کے لیے اڈہ کے طور پر استعمال ہوگا۔ موسم نے اجازت دی تولاجسٹک جہاز 3800 میٹر نیچے پانی میں پڑے ٹائٹینک کے ملبے کے اوپر 20 دن گزارے گا ۔ ٹیم کو امید ہے کہ یہ چند ہفتے پُرجوش ثابت ہوں گے۔

اوشین گیٹ آبدوز پر ہلاک ہونے والوں میں سے ایک فرانسیسی پال ہنری نارجیولیٹ تھے۔ وہ آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈ میں تحقیق کے ڈائریکٹر تھے اور اس مہلک مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے اعزاز میں سمندری تہہ پر ایک تختی رکھی جائے گی۔ پال ہینری کے دوست اور مورخ روری گولڈن، جو ڈنو چوئسٹ پر چیف مورال افسر ہوں گے نے بتایا کہ ایکسپلوریشن مشکل کام ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ایک مہم ہے جس میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی خواہش رہتی ہے۔ اور ہم یہ سب اس جذبے سے کر رہے ہیں کہ پال ہینری مسلسل تلاش کا جذبہ رکھتے تھے۔

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو 15 اپریل 1912 کی رات کو مشہور جہاز ٹائٹینک کے ڈوبنے کی کہانی اور اس کے کینیڈا کے مشرق میں واقع ایک برفانی تودے سے ٹکرانے سے واقف نہ ہوں۔ اس سانحہ کے بارے میں بے شمار کتابیں، فلمیں اور دستاویزی فلمیں موجود ہیں۔ اگرچہ 1985 میں دریافت ہونے کے بعد سے ملبے کی جگہ بار بار مطالعہ کا ہدف رہی ہے، لیکن اب بھی ایسا نہیں ہے جسے حتمی نقشہ قرار دیا جا سکے۔ حالانکہ ٹوٹے ہوئے جہاز کے کمان اور سخت حصوں کے متعلق اچھی معلومات ہے، لیکن جہاز کے آس پاس ملبے کے وسیع علاقے ہیں جن کا صرف سرسری معائنہ ہوا ہے۔

نئی مہم کے دوران دو چھ ٹن کی ریموٹ سے چلنے والی گاڑیاں (آر او وی) کام کو انجام دیں گی۔ ایک گاڑی کو الٹرا ہائی ڈیفینیشن آپٹیکل کیمروں اور ایک خصوصی روشنی کے نظام کے ساتھ نصب کیا گیا ہے جب کہ دوسری ایک سینسر پیکیج لے کر جائے گی جس میں لیڈار (لیزر) اسکینر شامل ہے۔ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ سمندری فرش کے تقریباً ایک سے سوا کلومیٹر حصے میں آگے پیچھے ٹریک کریں گی۔ امیجنگ پروگرام کے انچارج ایوان کوواکس کہتے ہیں کہ ان کے کیمرہ سسٹم کو ملی میٹر ریزولوشن فراہم کرنا چاہیے۔ اگر موسم ، کمپیوٹر، آر او وی اور کیمرے درست رہتے ہیں، تو ٹائٹینک اور ملبے کی اس حد تک واضح ڈیجیٹل تصاویر حاصل کر سکتے ہیں جن سے ریت کے ذرات کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب آر او وی پر میگنیٹومیٹر نصب کیا گیا ہے جو ملبے کی جگہ پر موجود تمام دھاتوں کا پتہ لگائے گا، یہاں تک کہ اس مواد کو بھی جو تلچھٹ میں نظروں سے اوجھل ہے۔ جیو فزکس کے انجینئر ایلیسن پراکٹر نے کہا کہ سمندر کے نیچے ٹائٹینک کی کمان کے ساتھ کیا ہوا، اس کا تعین کرنا ایک خواب ہے۔ امید ہے کہ ہم یہ اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں گے کہ آیا سمندری تہہ سے ٹکرانے پر کمان چکناچور گئی تھی یا نہیں، یا یہ واقعتاً نیچے تلچھٹ میں سالم دھنس گئی تھی۔

ٹیم کچھ معروف اشیاء کی حالت کا جائزہ لینا چاہتی ہے، جیسے کہ بوائلر جو اس وقت باہر نکلے جب ٹائٹینک دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ ان اشیاء کو تلاش کرنے کی بھی خواہش ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پچھلے دوروں میں دیکھے گئے تھے۔ ان میں الیکٹرک کینڈیلابرا کے علاوہ اسٹین وے کا گرینڈ پیانوشامل ہے۔ موسیقی کے آلے کا لکڑی کا گھیر بہت پہلے بوسیدہ ہو چکا ہوگا، لیکن کاسٹ آئرن پلیٹ، یا فریم، جس نے تاروں کو پکڑ رکھا تھا، اب بھی موجود ہونا چاہیے، شاید کچھ چابیاں بھی۔ آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈکمپنی میں ٹائٹینک کے نوادرات کے ذخیرے کی تیاری میں شامل ٹوماسینا رے نے کہا کہ ان کے لیے مسافروں کا سامان، خاص طور پر ان کے بیگ، سب سے زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ یہ ٹائٹینک جہاز کےملبے کی جگہ کا نواں دورہ ہوگا۔ کمپنی نے حالیہ برسوں میں مارکونی ریڈیو آلات کے کچھ حصے کو لانے کی کوشش کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس نے ٹائٹینک ڈوبنے کی رات کو پریشانی کی کالیں (ڈسٹریس کالز)منتقل کی تھیں۔ لیکن فی الحال یہ اس مہم میں نہیں ۔

بہت سے لوگوں کے لیے ٹائٹینک ان 1500 لوگوں کی قبر ہے جو 1912 میں اس رات مر گئے تھے اور اسے ہاتھ نہیں لگایا جانا چاہیے، خاص طور پر اس کے اندرونی حصہ کو۔ کمپنی کے محقق جیمز پینکا نے تسلیم کیا اور کہا کہ یہ ہمیں معلوم ہے اور ہم لوگوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ ہم ٹائٹینک میں غوطہ لگاتے ہیں تاکہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ سیکھ سکیں۔ ایسا ہم انتہائی احترام کے ساتھ کرتے ہیں جیسا کہ کسی بھی آثار قدیمہ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ لیکن ٹائٹینک کو یوں اکیلا چھوڑنا، اس کے مسافروں اور عملے کو تاریخ میں گم کر دینا، یہ سب سے بڑا سانحہ ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ZDsFiVO

جمعرات، 11 جولائی، 2024

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسی سنیتا ولیمس کی ویڈیو آئی سامنے، ہوا میں لہراتے بال اور چہرے پر تھی خوشی

ہند نژاد امریکی خلاباز سنیتا ولیمس اور بوچ ولمور ہفتوں سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انھیں اب تک زمین پر واپس آ جانا چاہیے تھا، لیکن فی الحال کچھ بھی یقینی نہیں کہ وہ کب تک واپس آئیں گے۔ سائنسداں فکر مند ہیں کیونکہ جس کیپسول دونوں کو واپس آنا تھا، اس میں موجود تکنیکی خامی کو دور کرنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ سنیتا ولیمس اور بوچ ولمور نے ایک پریس کانفرنس کر سبھی کی تشویش کو دور کر دیا ہے۔ اس ویڈیو میں سنیتا ولیمس کے بال لہرا رہے ہیں اور ان کے چہرے پر خوشی ظاہر ہو رہی ہے۔

دراصل بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ڈاکنگ کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنیتا ولیمس اور ولمور نے کہا کہ انھیں پورا یقین ہے کہ بوئنگ اسٹارلائنر کیپسول انھیں گھر لے آئے گا۔ ولمور نے کہا کہ ’’میں پوری طرح (گھر واپسی کا) یقین کرتا ہوں اور ناکام ہونے کا تو کوئی متبادل ہی نہیں ہے، اس لیے ہم رُک رہے ہیں۔‘‘ اس درمیان ولمور نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ناسا اور بوئنگ کی طرف سے زمین پر تھرسٹر تجربات کی ہو رہی جانچ ان کی واپسی کے لیے بہت اہم ہے۔

واضح رہے کہ ناسا کے دونوں خلائی مسافر 5 جون کو فلوریڈا سے اسٹارلائنر کے ذریعہ زمین سے روانہ ہوئے تھے اور اگلے دن آئی ایس ایس (بین الاقوامی خلائی اسٹیشن) پر انھیں ڈاک کیا گیا۔ وہاں انھیں تقریباً آٹھ دن ہی گزارنے تھے، لیکن اسٹارلائنر میں آئی خامی نے ان کے مشن کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ ان کے خلائی اسٹیشن تک پہنچنے کے دوران اسٹارلائنر کے 28 تھرسٹرس میں سے 5 خراب ہو گئے اور کئی دیگر خرابیاں آ گئی ہیں جن کو ٹھیک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JF0V83s

جمعہ، 5 جولائی، 2024

انسانی رویے نے مہلک بیکٹیریا کو وبائی مرض میں تبدیل کر دیا: تحقیق

لندن: ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’سیوڈوموناس ایروگینوسا‘ نامی ماحولیاتی بیکٹیریا پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا افراد میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنس انفیکشن (وہ انفیکشن جس پر متعدد ادویات کا اثر نہیں ہوتا) کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ انفیکشن پچھلے 200 سالوں میں تیزی سے تیار ہوا اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ٹیم نے کہا کہ انسانی رویے میں تبدیلیوں نے بیکٹیریا کو وبائی مرض میں تبدیل کرنے میں مدد کی جو کہ دنیا بھر میں ہر سال 500000 سے زیادہ اموات کے لیے ذمہ دار ہے، جن میں سے 300000 سے زیادہ اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

دائمی آبسٹرکٹیو پلمونری ڈزیز (سی او پی ڈی)، تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان، سسٹک فائبروسس (سی ایف)، اور غیر سی ایف برونکائٹس جیسے حالات والے لوگ خاص طور پر بیکٹیریا کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ بیکٹیریا سسٹک فائبروسس کے مریضوں کو کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے متاثر کرتا ہے۔

یہ جانچنے کے لیے کہ کس طرح سیوڈموناس ایروگینوسا ایک ماحولیاتی جاندار سے انسانوں تک پہنچا، سائنسدانوں نے دنیا بھر میں متاثرہ افراد، جانوروں اور ماحول سے لیے گئے تقریباً 10000 نمونوں کے ڈی این اے ڈیٹا کی جانچ کی۔ سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والے ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ 10 میں سے 7 انفیکشن صرف 21 جینیاتی کلون یا نسل در نسل ہوتا ہے۔ یہ پچھلے 200 سالوں میں تیزی سے تیار ہوا اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔

یہ بیکٹیریا بنیادی طور پر اس وقت پھیلا جب لوگوں نے گنجان آباد علاقوں میں رہنا شروع کیا، جہاں فضائی آلودگی کی وجہ سے پھیپھڑے زیادہ حساس ہو گئے۔ سسٹک فائبروسس مریضوں کے درمیان پھیلنے کے علاوہ، یہ دوسرے مریضوں میں بھی آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج میں ’یوکے سسٹک فائبروسس انوویشن ہب‘ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریس فلوٹو نے کہا، ‘‘سیوڈوموناس ایروگینوسا کے مطالعے نے ہمیں سسٹک فائبروسس کی حیاتیات کے بارے میں نئی ​​چیزیں سکھائی ہیں اور وہ اہم طریقے بھی بتائے ہیں جن سے ہم ممکنہ طور پر دیگر حالات میں حملہ آور بیکٹیریا کے خلاف اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/H3ghI9i