اتوار، 7 ستمبر، 2025

فورس اور پریشر کی کہانی، روزمرہ زندگی سے جڑی آسان وضاحت

ہم اپنی گفتگو میں فورس (طاقت) اور پریشر (دباؤ) کے الفاظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ آج کل مجھ پر کام کا پریشر ہے یا یہ کہ دشمن نے جنگ میں اپنی پوری فورس جھونک دی۔ ان جملوں میں فورس اور پریشر ذہنی یا جسمانی دباؤ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں لیکن سائنس میں ان کا مطلب بالکل مختلف ہے۔ سائنس کے مطابق فورس اور پریشر کا تعلق حرکت، رفتار اور توازن سے ہے۔

جب ہم کسی چیز کو دھکا دیتے ہیں یا کھینچتے ہیں تو ہم اس پر فورس لگاتے ہیں۔ اس فورس کے نتیجے میں وہ چیز اپنی جگہ بدلتی ہے، اس کی رفتار اور سمت میں تبدیلی آتی ہے یا وہ مڑ جاتی ہے اور کبھی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ یعنی فورس ہمیشہ کسی نہ کسی تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے۔ عظیم سائنسدان نیوٹن نے فورس کے استعمال کو غور سے دیکھا اور اسے حرکت کے قوانین میں بیان کیا۔ ان قوانین سے یہ واضح ہوا کہ کسی بھی جسم پر فورس لگے گی تو اس میں حرکت پیدا ہوگی، اور اگر وہ پہلے سے حرکت میں ہے تو اس کی رفتار یا سمت میں تبدیلی آئے گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہ فورس کو ناپا جا سکتا ہے، اور وہ کسی جسم کے ماس کو اس میں پیدا ہونے والی ایکسیلریشن سے ضرب دینے پر حاصل ہوتی ہے۔ اگر فورس صفر ہو تو ایکسیلریشن بھی صفر ہوگا، اور ایک ہی فورس ہلکی چیز پر زیادہ اثر ڈالے گی جبکہ بھاری چیز پر کم۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں کسی جسم پر کئی فورس لگ رہی ہوتی ہیں۔ اگر یہ سب ایک دوسرے کو متوازن کر دیں تو کل فورس صفر ہوجاتا ہے اور جسم اپنی حالت پر قائم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کار سیدھی سڑک پر برابر رفتار سے چل رہی ہے تو اس کے انجن کی فورس، ہوا کے دباؤ اور ٹائروں کے رگڑ کے برابر ہوتی ہے۔ اس توازن کی وجہ سے کل فورس صفر ہے اور کار یکساں رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر کل فورس صفر ہو تو وہ یا تو ساکن رہے گا یا برابر رفتار سے چلتا رہے گا۔

پریشر کا تعلق بھی فورس سے ہے مگر دونوں میں فرق بھی ہے۔ پریشر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی سطح پر لگنے والی فورس کو اس کے ایریا سے تقسیم کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فورس ایک جیسی رہے لیکن ایریا بڑھا دیا جائے تو پریشر کم ہوگا اور اگر ایریا کم کر دیا جائے تو پریشر بڑھ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی فورس مختلف ایریا پر لگنے سے الگ الگ اثر ڈالتی ہے۔

اس بات کو ہم کئی روزمرہ مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ انجکشن کی سوئی کی نوک بہت باریک ہوتی ہے، اس لیے اس کا ایریا کم ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ذرا سا دباؤ ڈالنے پر بھی زیادہ پریشر پیدا ہوتا ہے اور سوئی آسانی سے جلد میں داخل ہوجاتی ہے۔ تیز دھار والے چاقو میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اس کی دھار کا ایریا بہت کم ہوتا ہے، اس لیے تھوڑی سی طاقت سے ہی پریشر بڑھ جاتا ہے اور چیز آسانی سے کٹ جاتی ہے۔ جب دھار کند ہو جاتی ہے تو ایریا بڑھ جاتا ہے اور پریشر کم ہونے کی وجہ سے کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے دھار کو بار بار تیز کرنا پڑتا ہے۔

سرد علاقوں میں جھیلوں پر برف جم جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص عام جوتے پہن کر برف پر چلے تو اس کے وزن کا زور چھوٹے ایریا پر لگتا ہے، نتیجہ یہ کہ پریشر بڑھ جاتا ہے اور برف ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک بھاری کشتی برف پر اس لیے ٹکی رہتی ہے کہ اس کا وزن بڑے ایریا پر تقسیم ہوجاتا ہے اور پریشر کم ہوجاتا ہے۔ اسی اصول پر برف پر چلنے کے لیے خاص جوتے بنائے جاتے ہیں جن کا ایریا بڑا ہوتا ہے تاکہ وزن زیادہ رقبے پر تقسیم ہو اور پریشر کم ہوجائے۔

اسی وجہ سے برفیلے پہاڑوں پر اسکیئنگ کے جوتے لمبے ہوتے ہیں تاکہ انسان کا وزن بڑے ایریا پر پھیلے اور وہ برف میں نہ دھنسے۔ جانوروں میں بھی یہی اصول پایا جاتا ہے۔ ہاتھی، پولر بھالو اور پینگوئن کے پاؤں چوڑے اور بڑے ہوتے ہیں تاکہ ان کا وزن نرم زمین یا برف پر زیادہ ایریا پر تقسیم ہو اور وہ آسانی سے نہ دھنسیں۔

یوں فورس اور پریشر دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہیں لیکن الگ الگ خصوصیات رکھتے ہیں۔ فورس بنیادی طاقت ہے جو حرکت پیدا کرتی ہے یا سمت بدلتی ہے، جبکہ پریشر وہ اثر ہے جو اس فورس کے کسی سطح پر لگنے سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایک ہی فورس بیکار لگتی ہے اور کبھی حیرت انگیز نتائج دیتی ہے، اور یہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس ایریا پر لگ رہی ہے۔

فورس اور پریشر کا علم صرف کتابوں کی حد تک نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ چاقو سے سبزی کاٹنے سے لے کر انجکشن لگوانے، گاڑی چلانے یا برف پر چلنے تک ہر جگہ یہ اصول کارفرما ہیں۔ سائنس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ دنیا کے یہ عام مگر اہم اصول کیسے ہماری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0mx3bzR

اگلے سال اوپن اے آئی لانچ کرے گا نیا جاب پلیٹ فارم، لنکڈ ان کو چیلنج دینے کی تیاری

چَیٹ جی پی ٹی میکر اوپن اے آئی کی طرف سے ایک نئی اور بڑی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں کمپنی اے آئی پاورڈ ہائرنگ پلیٹ فارم کھولنے والی ہے۔ یہ پلیٹ فارم کمپنی اور ملازمین کو قریب لانے میں مدد کرے گا۔ اس سے کمپنیوں کو اچھے ملازمین اور لوگوں کو اپنی پسند کی نوکری تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔

آنے والے پروڈکٹ کا نام OpenAI Jobs Platform ہوگا۔ ایک مرتبہ یہ پلیٹ فارم لائیو ہونے کے بعد اس کا سیدھا مقابلہ Linkedin سے ہوگا۔ یہ اطلاع ٹیک کرنچ سے ملی ہے۔ حالانکہ ابھی Linkedin کا اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ لنکڈین دنیا بھر میں اس معاملے میں مشہور پلیٹ فارم ہے۔

ٹیک کرنچ کے ساتھ اوپن اوپن اے آئی کے ترجمان کی بات چیت ہوئی۔ اس دوران پتہ چلا ہے کہ کمپنی اگلے سال یعنی 2026 کے دوران نئے پروڈکٹ کو لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو لوگوں کو نوکری دلانے کا کام کرے گا۔ حالانکہ اس کا پورا عمل کیا ہوگا، اس کے بارے میں آنے والے دنوں میں اطلاع فراہم ہو گی۔

اوپن اے آئی کمپنی میں ایپلی کیشن ڈویژن کے سی ای او فڈزی سیمو نے گزشتہ دنوں اپنے بلاگ پوسٹ میں بتایا ہے کہ اے آئی کی مدد سے کمپنیوں کی ضرورت سمجھے جائے گی اور کون سا امیدوار اس کے کام کو پورا کر سکتا ہے، ان امیدواروں کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار یا مقامی انتظامیہ کو اس سے فائدہ ہونے والا ہے۔

اوپن اے آئی اپنے اصل پروڈکٹ چَیٹ جی پی ٹی کے علاوہ اب دوسرے سیگمنٹ میں بھی ایکسپینڈ کرنے جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں نئے پروڈکٹ کی لانچنگ ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نئے پلیٹ فارم کے کھلنے سے کمپنیوں اور لوگوں کو کتنا فائدہ ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CHqBfy2

جمعہ، 5 ستمبر، 2025

مصنوعی ذہانت شاندار ہے، مگر بہترین ڈیجیٹل کلاس رومز کے لیے اساتذہ کی موجودگی لازمی

ہندوستان 5 ستمبر 2025 کو یوم اساتذہ منا رہا ہے۔ یہ دن ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی یوم پیدائش کی یادگار ہے، جو تعلیم کو سماج کی ترقی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ اس موقع پر ایک بڑا سوال ہمارے سامنے ہے، ایسے دور میں جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہی ہے، اساتذہ کا مقام اور کردار کیا ہوگا؟

تعلیم کی دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مشین اور انسان ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اے آئی اب کوئی تجرباتی شے نہیں رہی بلکہ نصاب سازی سے لے کر کارکردگی کے تجزیے تک ایک ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔ تاہم یہ تبدیلی اساتذہ کو غیر متعلق نہیں کرتی، بلکہ ان کا کردار اور بھی اہم بنا دیتی ہے۔ وہ محض معلومات پہنچانے والے نہیں رہے بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی اور اخلاقی رہنمائی کے معمار ہیں۔

جدید کلاس روم ایک نئے تجربے سے گزر رہا ہے۔ اے آئی وہ کام کر رہی ہے جنہیں کبھی محض تصور سمجھا جاتا تھا۔ چاہے وہ ریاضی کے سوالات میں فرداً مدد ہو یا زبان سیکھنے میں انفرادی رہنمائی، سب کچھ ممکن ہو چکا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولتیں گہرے مطالعے کو کمزور کرتی ہیں یا مزید طاقتور بناتی ہیں؟

اس پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی مثال لیجیے، جہاں اساتذہ نے انتظامی کاموں کے لیے اے آئی کا استعمال کیا لیکن طلبہ کے لیے اس پر پابندی لگا دی۔ اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر اساتذہ مشینوں کے ساتھ کس طرح توازن پیدا کریں گے؟

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کے دو تہائی ممالک نے کے-12 سطح پر کمپیوٹر سائنس اور اے آئی تعلیم شامل کر لی ہے۔ ہندوستان میں آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) نے 2025 کو ’مصنوعی ذہانت کا سال‘ قرار دیا ہے، جس کے تحت 14 ہزار سے زائد اداروں میں ان ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا۔ یہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی اس سوچ سے ہم آہنگ ہے کہ تعلیم صرف علم نہیں بلکہ ذمہ دار شہری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

تعلیم میں اے آئی کا دوہرا وعدہ

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کشش اس کی ذاتی نوعیت کی تعلیم دینے کی صلاحیت ہے۔ امریکہ میں ’ڈریم باکس‘ اور ’کارنیگی لرننگ‘ جیسے پلیٹ فارم ہر طالب علم کی سطح کے مطابق نصاب فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بائجوز اور ایمبیبے جیسی ایپس دیہی علاقوں تک پہنچ رہی ہیں، اگرچہ قیمت ایک چیلنج ہے۔

اساتذہ کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں بھی اے آئی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اساتذہ اپنا 40 فیصد وقت اسائنمنٹ چیک کرنے اور رپورٹس بنانے پر صرف کرتے ہیں۔ اب یہ کام اے آئی کر سکتی ہے، جس سے اساتذہ کو حقیقی تدریس اور مکالمے کے لیے وقت ملتا ہے۔

مزید یہ کہ مائکروسافٹ کی 2025 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اے آئی کثیر لسانی کلاس رومز میں فوری ترجمے کی سہولت فراہم کر کے شمولیت بڑھاتا ہے۔ جنوبی کوریا میں مارچ 2025 سے اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل نصاب متعارف ہوا ہے جو بچوں کی دلچسپی دیکھ کر مواد کو خود بہتر کرتا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں تعلیم کو زیادہ مساوی اور جدید بنانے کی طرف اشارہ ہیں۔

اساتذہ بطور انسانی رہنما

تاہم تعلیم صرف اعداد و شمار یا مشین لرننگ کا نام نہیں۔ استاد وہ ہمدردی اور جذباتی ربط فراہم کرتے ہیں جس کی مشین میں کمی ہے۔ وہ بچے کی پریشانی یا خوشی کو دیکھ کر وقت پر رہنمائی کرتے ہیں۔ دہلی کے ایک استاد نے کہا، ’’اے آئی مواد تجویز کر سکتی ہے لیکن تدریس کے پیچھے موجود جذبہ صرف انسان فراہم کر سکتا ہے۔‘‘

یونیسکو بھی اسی بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی طریقۂ تعلیم میں جدت تو لا سکتا ہے لیکن اخلاقی رہنمائی اور کردار سازی کا متبادل نہیں۔ اساتذہ ہی وہ قوت ہیں جو بچوں کو تخلیقی سوچ اور مبہم سوالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت دیتے ہیں۔

اے آئی ایک ساتھی ہے مخالف نہیں

اے آئی اساتذہ کی جگہ لینے نہیں آئی بلکہ ان کی معاونت کے لیے ہے۔ یہ طلبہ کی غلطیوں کا تجزیہ کر کے استاد کو وقت پر خبردار کرتا ہے۔ ایسٹونیا کے اے آئی ٹیوٹرز یا خان اکادمی کے ’خان میگو‘ جیسے ماڈل اس کی مثال ہیں۔ امریکہ میں تو اے آئی طلبہ کے دل کی دھڑکن اور چہرے کے تاثرات تک دیکھ کر ان کی توجہ جانچنے لگی ہے۔

ہندوستان میں تمل ناڈو اور کرناٹک جیسے صوبے سرکاری اسکولوں میں اے آئی پر مبنی امتحانات آزما رہے ہیں تاکہ استاد بہتر فیڈ بیک دے سکیں۔ اس سے اے آئی ایک معاون کردار میں سامنے آ رہی ہے، جبکہ مرکزی حیثیت بدستور استاد کی ہی ہے۔

نصاب میں تبدیلیاں

مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نصاب میں اے آئی سے متعلق بنیادی آگاہی شامل ہو۔ الگورتھم، تعصب اور ڈیٹا کے اخلاقی استعمال کو اب لازمی تعلیم کا حصہ بنانا ہوگا۔ سی بی ایس ای نے 2019 میں اے آئی کو اختیاری مضمون کے طور پر شامل کیا تھا اور اب ہزاروں اسکول اسے پڑھا رہے ہیں۔ آئی بی ایم اور انٹیل کے تعاون سے طلبہ کو حقیقی مسائل مثلاً ٹریفک کنٹرول یا ماحولیات کے منصوبوں میں اے آئی استعمال کرنا سکھایا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی یہ کوشش جاری ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے 2025 میں اے آئی لٹریسی فریم ورک جاری کیا ہے۔ گوگل نے ایک ارب ڈالر کا پروگرام شروع کیا ہے تاکہ طلبہ مفت ٹولز کے ذریعے اے آئی سیکھ سکیں۔

مسائل اور چیلنجز

یہ سفر آسان نہیں۔ شہری اور دیہی تعلیمی اداروں میں فرق بڑھ رہا ہے۔ جہاں بڑے شہروں کے اسکول تیزی سے اے آئی کو اپناتے ہیں، وہیں دیہی علاقوں میں سہولیات کی کمی رکاوٹ ہے۔ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے عدم مساوات میں اضافہ کا امکان ہے۔

ایک اور خطرہ یہ ہے کہ طلبہ صرف اے آئی پر انحصار کر کے سطحی علم حاصل کریں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ سوالات اور تحقیق پر مبنی امتحانات ترتیب دیں تاکہ طلبہ حقیقی سوچ اور تجزیے کی عادت ڈالیں۔

اساتذہ کی تربیت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ سی بی ایس ای نے ورکشاپس شروع کی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر اقدامات ضروری ہیں۔ شفاف پالیسی بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ دوہرے معیار پیدا نہ ہوں۔

ہندوستانی اقدامات اور عالمی نقطۂ نظر

ہندوستان اس شعبے میں نمایاں قدم اٹھا رہا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی نے ایسے نظام تیار کیے ہیں جو سرکاری اسکولوں میں ریاضی اور سائنس کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان مستقبل میں دنیا کی سب سے بڑی اے آئی سے لیس تعلیمی آبادی تیار کر سکتا ہے۔

چین کے اسمارٹ کلاس رومز میں پرائیویسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ امریکہ میں حکومتی سطح پر اے آئی ایجوکیشن پروگرام متعارف ہو رہے ہیں۔ ان سب میں ہندوستان کا کردار انسانی مرکزیت والے اے آٗی ماڈل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اب استاد محض معلومات دینے والے نہیں رہے بلکہ رہنما، رہبر اور اخلاقی اقدار کے محافظ ہیں۔ وہ اے آئی کو استعمال کرتے ہوئے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور تخلیقی مزاج پیدا کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ضروری ہے کہ دیہی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے، اساتذہ کی تربیت پر سرمایہ کاری کی جائے اور قومی سطح پر واضح ضوابط طے ہوں تاکہ اخلاقیات اور پرائیویسی محفوظ رہیں۔ تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو بھی علم دوستی کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ منافع کی۔

مشینوں کے بیچ انسانیت کی تعلیم

یوم اساتذہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ استاد تعلیم کا ضمیر ہیں۔ وہ صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ اقدار، معنی اور ذمہ داری بھی منتقل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن کے نظریات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اے آئی تدریسی عمل کو خودکار بنا سکتا ہے لیکن طلبہ کو متاثر اور انسانیت سے جوڑنے کا عمل صرف استاد ہی انجام دے سکتا ہے۔

(مضمون نگار حسنین نقوی، ممبئی کے سینٹ زیوئیر کالج میں تاریخ کے شعبے کے سابق رکن ہیں)

https://wegotrip.tpm.li/jnSKlgBF



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NekEozW

جمعرات، 4 ستمبر، 2025

دو کروڑ سے زائد جعلی فون کنکشن بند، فراڈ کالز میں 97 فیصد کمی: محکمۂ ٹیلی مواصلات

نئی دہلی: ہندوستان میں موبائل فراڈ اور سائبر دھوکہ دہی کے بڑھتے خطرات کے درمیان محکمۂ ٹیلی مواصلات نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل نے بتایا کہ 2 کروڑ سے زیادہ جعلی فون کنکشن بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اسپوف (جعلی) کالز میں 97 فیصد تک کمی درج کی گئی ہے۔

یہ اعلان جنوبی گوا میں منعقدہ محکمۂ ٹیلی مواصلات کی سالانہ مغربی زون کانفرنس برائے سکیورٹی کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے کیا گیا۔ ڈاکٹر متل نے بتایا کہ یہ کامیابی حکومت کی ’سنچار ساتھی‘ پہل کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جو ٹیلی کام خدمات کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے تیار کیا گیا ایک پلیٹ فارم ہے۔

اسپوف کالز وہ ہوتی ہیں جن میں فراڈ کرنے والے کالر آئی ڈی کی معلومات بدل کر اپنی شناخت چھپاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ محکمہ کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی نے صارفین کو بڑی حد تک ریلیف پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر متل نے مزید کہا کہ محکمہ نے ’ڈیجیٹل انٹیلیجنس پلیٹ فارم‘ بھی تیار کیا ہے، جس کے ذریعے بینک اور مالیاتی ادارے دھوکہ دہی سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مالی فراڈ کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے فراڈ کنکشنز اور مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اب تک 78 لاکھ جعلی موبائل کنکشن بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ 71 ہزار سے زیادہ ایسے ریٹیل مراکز پر بھی کارروائی کی گئی ہے جو مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

محکمۂ ٹیلی مواصلات نے سائبر سکیورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اعلیٰ معیار کے تصدیق شدہ ٹیلی کام آلات کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے نیٹ ورک کو وسعت دینا شامل ہے۔ اسی سلسلے میں ایک ’فنانشل فراڈ رسک انڈیکیٹر‘ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو فراڈ میں شامل موبائل نمبروں کی بہتر نشاندہی کرتا ہے۔ ڈاکٹر متل نے بتایا کہ اس ٹول کی بدولت مالی دھوکہ دہی کو بروقت روکنے میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ محکمہ ’مرکزی نگرانی نظام‘ (سی ایم ایس) کو اپ گریڈ کر رہا ہے تاکہ جدید سائبر خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے سیکٹر اور ایپلی کیشن سطح پر سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر متل کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے کروڑوں موبائل صارفین کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور پائیدار ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LO6AfXY

منگل، 2 ستمبر، 2025

ہندوستان کی پہلی 32-بٹ مائیکرو چپ ’وِکرم‘ پیش، اسرو کی بڑی کامیابی

ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی درج کرائی ہے۔ اسرو کی سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل) نے ملک کی پہلی مکمل طور پر دیسی 32-بٹ مائیکروچپ ’وِکرم‘ تیار کی ہے۔ آئی اے این ایس کے مطابق، اسے باضابطہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کیا گیا۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی اشونی ویشنو نے منگل کو ’سیمیکون انڈیا 2025‘ کے افتتاحی اجلاس میں یہ تاریخی اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ’وِکرم‘ مائیکروپروسیسر کو خاص طور پر اسپیس لانچ وہیکلز کے سخت ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد درآمد شدہ چپس پر انحصار کم کرنا اور ملک کو خود کفالت کی جانب لے جانا ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اس موقع پر کہا کہ پہلی بار ہندوستان نے مکمل دیسی مائیکروپروسیسر تیار کیا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صنعت نے زبردست ترقی کی ہے۔ ہندوستان سیمی کنڈکٹر مشن کے قیام کے بعد محض ساڑھے تین برس کے اندر دنیا کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں پانچ بڑی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔

’سیمیکون انڈیا‘ کے تحت حکومت نے اب تک 10 بڑے منصوبوں کو منظوری دی ہے، جن میں ہائی وولیوم فیب یونٹس، تھری ڈی ہیٹروجینس پیکیجنگ، کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر اور او ایس اے ٹی (آؤٹ سورس سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹنگ) شامل ہیں۔ ڈیزائن پر مبنی اقدامات کے تحت 280 سے زیادہ تعلیمی اداروں اور 72 اسٹارٹ اپس کو جدید سہولیات دی جا چکی ہیں، جبکہ ڈی ایل آئی (ڈیزائن لنکڈ انسینٹو) اسکیم کے تحت 23 اسٹارٹ اپس کو منظوری مل چکی ہے۔

تین روزہ ’سیمیکون انڈیا 2025‘ کانفرنس میں عالمی سطح کی کئی نمایاں کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں، جن میں ایپ لائیڈ میٹیریلز، اے ایس ایم ایل، آئی بی ایم، انفینیون، لیم ریسرچ، مائیکرون، ٹاٹا الیکٹرانکس، ایس کے ہائنکس اور ٹوکیو الیکٹران شامل ہیں۔ اس پروگرام میں کلیدی خطبات، پینل مباحثے، ریسرچ پیپر پیشکش اور بین الاقوامی گول میز کانفرنسز بھی ہوں گی۔

ایک خصوصی ’ورک فورس ڈیولپمنٹ منڈپ‘ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ نوجوان نسل کو مائیکرو الیکٹرانکس کے میدان میں روزگار کے مواقع سے روشناس کرایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ’سیمیکون انڈیا 2025‘ ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں نمایاں مقام دلوائے گا اور اختراعات کی نئی راہیں کھولے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/a7EAmVP

جمعہ، 29 اگست، 2025

امریکی محققین نے تیار کیا نیا اے آئی ٹول، برڈ فلو کے ممکنہ مریضوں کی تیز شناخت کرنے میں مددگار

امریکی محققین نے ایک نیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ٹول تیار کیا ہے، جو برڈ فلو (ایچ4این1 وائرس) کے خطرے سے دوچار مریضوں کی تیز اور مؤثر شناخت کر سکتا ہے۔ اس جدید ماڈل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اسپتالوں کے الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (ای ایم آر) میں موجود ڈاکٹرز کے نوٹس کا تجزیہ کرتا ہے اور مریضوں کے علامات کی بنیاد پر خطرے کا تعین کرتا ہے۔

یہ اے آئی سسٹم مریضوں کے عام فلو جیسی علامات جیسے کھانسی، بخار، نزلہ، ناک بند ہونا اور آنکھوں کی سرخی کو پہچاننے کے بعد یہ بھی دیکھتا ہے کہ آیا مریض حال ہی میں ایسی جگہ یا سرگرمی سے وابستہ رہا ہے جہاں برڈ فلو کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے؟ مثال کے طور پر پولٹری فارم، مرغیوں کے درمیان کام کرنے والے مقامات یا مویشیوں والے کھیت۔ اگر خطرہ پایا جائے تو مریض کو ’ہائی رسک‘ کیس کے طور پر نشان زد کر دیا جاتا ہے۔

یہ تحقیق معروف جریدے کلینیکل انفیکشیس ڈیزیز میں شائع ہوئی ہے۔ محققین نے 2024 کے دوران امریکہ کے اسپتالوں کے 13,494 مریضوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جن میں تیز بخار، کھانسی اور آنکھوں کی سوجن جیسی علامات پائی گئی تھیں۔ اے آئی ٹول نے ان میں سے 76 مریضوں کو ممکنہ طور پر برڈ فلو کے خطرے سے دوچار قرار دیا۔ مزید جانچ کے بعد معلوم ہوا کہ 14 مریض حال ہی میں مرغیوں، جنگلی پرندوں یا مویشیوں کے قریب رہے تھے۔

اس پورے عمل میں محض 26 منٹ لگے اور فی مریض لاگت صرف 3 سینٹ (تقریباً ڈھائی روپے) آئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف وقت اور محنت بچاتی ہے بلکہ بڑے پیمانے پر مریضوں کی جانچ کے دوران درست نتائج بھی فراہم کرتی ہے۔

میری لینڈ اسکول آف میڈیسن کی ماہر وبائیات اور معاون پروفیسر کیتھرین ای. گُڈمین نے کہا، ’’یہ تحقیق واضح کرتی ہے کہ جنریٹیو اے آئی ہمارے عوامی صحت کے نظام میں موجود ایک بڑی کمی کو پُر کر سکتا ہے۔ یہ ان ہائی رسک مریضوں کو سامنے لاتا ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ایچ4این1 وائرس جانوروں میں مسلسل پھیل رہا ہے، اصل خطرہ یہی ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ کون مریض کب اس کے رابطے میں آیا ہے۔ چونکہ اس وقت یہ ٹریک نہیں کیا جا رہا کہ کتنے مریض ممکنہ طور پر وائرس کے شکار ہیں یا ان کا ٹیسٹ ہو رہا ہے، اس لیے کئی کیسز کی نشاندہی نہیں ہو پاتی۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کے نظام کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ایسے مریضوں کی نگرانی ہو اور بروقت ایکشن لیا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹول کے ذریعے مستقبل میں ایک ایسا قومی نیٹ ورک بنایا جا سکتا ہے جو نہ صرف بَرڈ فلو بلکہ دیگر نئی متعدی بیماریوں پر بھی نظر رکھ سکے۔ اس طرح وبا پھیلنے سے پہلے ہی الرٹ جاری کر کے ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0H3l6vg

ہفتہ، 23 اگست، 2025

ہندوستان کی ’ویدر وومین‘ انا منی، جنہیں فزکس نہ ملا تو موسمیات میں انقلاب برپا کر دیا!

ریاستِ تروانکور (موجودہ کیرالہ) میں 23 اگست 1918 کو پیدا ہونے والی انا منی کا شمار ان خواتین سائنس دانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے وژن اور انتھک محنت سے ملک کا سر فخر سے بلند کیا۔ آج ہندوستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جو دنیا کو درست اور فوری موسم کی پیش گوئی فراہم کرتے ہیں۔ یہ کارنامہ برسوں کی تحقیق اور کوششوں کا نتیجہ ہے جس میں انا منی کا کردار نمایاں ہے۔ انہیں بجا طور پر ’ویدر وومین آف انڈیا‘ کہا جاتا ہے۔

بچپن ہی سے انا منی کو کتابوں سے خاص شغف تھا۔ محض بارہ برس کی عمر تک وہ اپنے علاقے کے پبلک لائبریری کی تقریباً تمام کتابیں پڑھ چکی تھیں۔ ہائی اسکول کے بعد انہوں نے ویمنز کرسچن کالج سے انٹرمیڈیٹ سائنس اور پھر مدراس کے پریسیڈنسی کالج سے فزکس اور کیمسٹری میں آنرز کے ساتھ بی ایس سی مکمل کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا اصل خواب میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنا تھا لیکن حالات نے رخ بدلا اور وہ فزکس میں آ گئیں، جس میں وہ غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھیں۔

انا منی کو 1940 میں گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلور میں اسکالرشپ ملی، جہاں انہوں نے نوبل انعام یافتہ سائنس داں سی وی رمن کی نگرانی میں ہیروں کی خصوصیات پر تحقیق کی اور پانچ برس تک دن رات تجربہ گاہ میں کام کیا۔ اس انتھک محنت کے باوجود انہیں وہ پی ایچ ڈی ڈگری نہیں دی گئی جس کی وہ حقدار تھیں کیونکہ اس وقت یونیورسٹی آف مدراس نے یہ شرط لگائی کہ ان کے پاس ایم ایس سی کی ڈگری نہیں ہے۔ مگر انا منی نے اس محرومی کو کبھی دل پر نہیں لیا اور کہا کہ ڈگری نہ ملنے سے ان کی زندگی اور کام پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

بعد ازاں انہیں برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ ملی۔ جب وہ لندن پہنچیں تو معلوم ہوا کہ یہ اسکالرشپ فزکس کے بجائے موسمیاتی آلات کے مطالعے کے لیے ہے۔ انہوں نے اس چیلنج کو قبول کیا اور یہی فیصلہ ان کے کیریئر کا نیا موڑ ثابت ہوا۔ لندن کے امپیریل کالج میں انہوں نے موسمیاتی آلات کی تیاری اور تحقیق میں مہارت حاصل کی۔

انا منی نے 1948 میں وطن واپسی کے بعد پونے میں انڈین میٹیرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (ہندوستانی محکمہ موسمیات) میں شمولیت اختیار کی۔ یہاں انہوں نے تقریباً تین دہائیوں تک کام کیا اور درجنوں سائنسی تحقیقی مقالے شائع کیے۔ ان کا سب سے اہم کارنامہ شعاعی اور فضائی اوزون کی پیمائش کے آلات تیار کرنا تھا۔ انہوں نے اوزون سونڈ نامی آلہ بنایا جو اوزون کی مقدار ناپنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

انہی کی کوششوں سے ہندوستان میں موسمی آلات کے قومی معیار قائم ہوئے اور عالمی سطح پر ان آلات کا موازنہ ممکن ہوا۔ ان کے کام نے ملک میں موسم کی پیش گوئی کو سائنسی بنیادوں پر استوار کیا اور کسانوں سے لے کر عام شہری تک سب کے لیے اس کا فائدہ ہوا۔

1976 میں انا منی محکمہ موسمیات کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی تحقیق سے رشتہ نہ ٹوٹا اور وہ تین برس تک رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔

ان کی زندگی اس بات کی روشن مثال ہے کہ عزم، مطالعہ اور محنت کے بل بوتے پر کس طرح رکاوٹوں کو مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ 2001 میں ترواننت پورم (کیرالہ) میں ان کا انتقال ہوا لیکن ان کا سائنسی ورثہ آج بھی ہندوستانی موسمیات کی بنیادوں کو مضبوط کیے ہوئے ہے۔

انا منی کی کہانی صرف ایک سائنس داں کی نہیں بلکہ اس خواب کی ہے جو خواتین کو سائنس اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہوں، لگن اور علم سے راستے نکالے جا سکتے ہیں۔

(مآخذ: آئی اے این ایس)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/L9Hh0GV

بدھ، 30 جولائی، 2025

زمین کا مشاہدہ کرنے والا سٹیلائٹ نسار کامیابی کے ساتھ مدار میں نصب

ہندوستان-امریکہ خلائی سفارت کاری میں اہم سنگ میل کے تحت، ہندوستان کے جی ایس ایل وی-F16 راکٹ نے نسار سٹیلائٹ کو کامیابی کے ساتھ مدار میں پہنچا دیا، جو کہ ناسا اور اسرو کے ذریعہ مشترکہ طور پر تیار کیا گیا پہلا زمینی مشاہداتی سیٹلائٹ ہے ۔جی ایس ایل وی-F16 راکٹ نے 2,392 کلوگرام وزنی نسار سٹیلائٹ کے ساتھ شام 5.40 بجے آندھرا پردیش کے راکٹ پورٹ کے دوسرے لانچ پیڈ سے اڑان بھری اور 19 منٹ کی پرواز کے بعد، راکٹ نے سٹیلائٹ کو خط استواء سے 98.405 ڈگری کے جھکاؤ کے ساتھ شمسی قطبی مدارمیں 743 کلومیٹر پر نصب کیا۔

سٹیلائٹ مدار میں پہنچنے کے بعد اسرو نے کہا کہ " نسار سٹیلائٹ الگ ہو گیا۔ جی ایس ایل وی-F16 کے نسار مشن کامیابی سے مکمل ہوا۔" اسرو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا، "راکٹ سے سیٹلائٹ کے الگ ہونے کی تصدیق ہوگئی۔ ہر مرحلہ درستگی سے مکمل ہوا ہے۔ کرائیو اگنیشن اور کرائیو مرحلے میں کوئی خرابی نہیں دیکھی گئی۔" جی ایس ایل وی-F16 نے نثار کو اپنے مقررہ مدار میں نصب کردیا ہے۔"

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نثار سٹیلائٹ کی کامیاب لانچ پر خوشی کا اظہار کیا اور اسے آفات کے درست نظم میں گیم چینجر قرار دیا۔ انہوں نے مشن میں شامل سائنسدانوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نثار سے حاصل کردہ معلومات سے 'وشوا بندھو' کی حقیقی روح کے مطابق پوری عالمی برادری کو فائدہ پہنچے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، "دنیا کے پہلے ڈوئل بینڈ راڈار سٹیلائٹ نسار کو لے جانے والے جی ایس ایل وی F16 کی کامیاب لانچ... طوفان، سیلاب وغیرہ جیسی آفات کے درست نظم میں ایک گیم چینجرثابت ہونے والا ہے۔ اس کے علاوہ، کہرے، گھنے بادلوں، برف کی تہوں وغیرہ کو اسکین کرنے کی اس کی منفرد صلاحیت اسے جہازوں کے لیے ایک اہم آلہ بناتی ہے۔" ڈاکٹرجتیندر سنگھ کے مطابق، نسار سٹیلائٹ نہ صرف ہندوستان اور امریکہ کو خدمات فراہم کرے گا بلکہ دنیا بھر کے ممالک کو خاص طور پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ، زراعت اور ماحولیات کی نگرانی جیسے شعبوں میں اہم ڈیٹا فراہم کرے گا۔

ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے جاری اس تاریخی مشن پر 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ لاگت آئی ہے اور یہ اب زمین پر قدرتی آفات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی نگرانی کرنے کے طریقے میں انقلاب لانے کو تیار ہے۔ یہ سٹیلائٹ تمام موسمی حالات میں دن میں 24 گھنٹے تصاویر لے سکتا ہے۔ اس سے لینڈ سلائیڈنگ کا پتہ لگانے، موسمیاتی تبدیلیوں کی نگرانی اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Seb791E

منگل، 29 جولائی، 2025

تلنگانہ میں زرعی انقلاب: ڈرونس کی تربیت سے دیہی خواتین کے خوابوں کو نئی پرواز

حیدرآباد: تلنگانہ کے زرعی علاقوں میں ایک خاموش انقلاب برپا ہو رہا ہے۔ زرعی شعبے میں ڈرونس کے استعمال نے جہاں کھیتی کے طریقوں کو بدل دیا ہے، وہیں اب یہ دیہی خواتین کے لیے خود روزگار کا مؤثر ذریعہ بھی بن رہے ہیں۔

ضلع کھمم میں درگا بائی مہلا وکاس کیندر نے دیہی خواتین کو ڈرون چلانے کی باقاعدہ تربیت دینا شروع کی ہے۔ اس پہل کا مقصد نہ صرف زراعت میں جدید ٹکنالوجی کو فروغ دینا ہے بلکہ خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانا بھی ہے۔ جیسے ہی تربیت کے لیے رجسٹریشن شروع ہوئی، بڑی تعداد میں خواتین نے دلچسپی ظاہر کی اور پہلے بیچ میں 40 خواتین کی تربیت کا آغاز کیا گیا۔

تربیت دہندہ سائی نریش بابو، جو کھمم گورنمنٹ آئی ٹی آئی میں اسسٹنٹ ٹریننگ آفیسر ہیں، نے حیدرآباد کی انڈیا ڈرون اکیڈمی سے ڈرون پائلٹ کا کورس کیا ہے اور ڈی جی سی اے کا باقاعدہ لائسنس رکھتے ہیں۔ وہ نہ صرف خواتین کو ڈرون اُڑانے کی تربیت دے رہے ہیں، بلکہ انہیں ہیگزا کاپٹر، کواڈ کاپٹر اور ملٹی کاپٹر جیسے ڈرونس کے تکنیکی پہلوؤں، بیٹریوں، سنسرز اور مرمت و دیکھ بھال کے طریقوں سے بھی روشناس کرا رہے ہیں۔

تربیت کا دائرہ زرعی ادویات کے اسپرے تک محدود نہیں بلکہ خواتین کو عمارتوں کی نگرانی، سروے، ریسکیو آپریشن، ایریل فوٹوگرافی، تھری ڈی میپنگ اور موسمیاتی تجزیے جیسے شعبوں میں بھی تربیت دی جا رہی ہے۔ انہیں گرین، یلو اور ریڈ زونز کے ضوابط اور ڈرونس کی قانونی حیثیت سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔

تربیت حاصل کرنے والی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے گاؤں میں مزدوروں کی قلت اور زیادہ اجرت کی وجہ سے کھیتی دشوار ہو رہی تھی لیکن ڈرون نے ان کے لیے مسائل کو آسان کر دیا ہے۔ اب وہ نہ صرف خود کام کر رہی ہیں بلکہ مستقبل میں دیگر خواتین کو بھی تربیت دینے اور روزگار دینے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

سائی نریش بابو کے مطابق ہیگزا کاپٹر ڈرون، جس میں چھ موٹریں ہوتی ہیں، زرعی زمینوں پر اسپرے اور پانی کے چھڑکاؤ کے لیے بہترین ہے۔ اس میں ’ریٹرن ٹو ہوم‘ اور ’ریٹرن ٹو لانچ‘ جیسی سیفٹی خصوصیات موجود ہیں، جو ڈرون کو خودبخود محفوظ انداز میں واپس لے آتی ہیں۔

(ان پٹ: یو این آئی)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5jpStvE

ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے کمال کر دیا، مریض نے 20 سال کے فالج کے بعد اپنا نام خود لکھا

ایلون مسک کی نیورالنک کمپنی نے بہت اچھا کام کیا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ اس نے پہلی بار ایک ہی دن میں دو رضاکاروں کے دماغ میں برین کمپیوٹر انٹرفیس (بی سی آئی) لگایا ہے۔ اب دونوں مریض صحت یاب ہو رہے ہیں، جنہیں کمپنی نے P8 اور P9 کا نام دیا ہے۔

کمپنی نے ایکس پلیٹ فارم پر پوسٹ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ہی دن میں P8 اور P9 کی دو سرجری کامیابی سے مکمل کی ہیں۔ اندازہ ہے کہ نیورالنک کی مدد سے مفلوج افراد کو فائدہ ہوگا، وہ صرف اپنی سوچ کی طاقت سے کمپیوٹر کے کرسر کو حرکت دے سکتے ہیں۔

کمپنی کے اس اعلان کے بعد آڈری کریوز نے پوسٹ کیا ہے۔ ایکس پلیٹ فارم پر، آڈری کریوزنے پوسٹ کیا ہے کہ وہ P9 ہے، جس کے سر میں نیورلنگ چپ لگائی گئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی آڈری کریو زنے بتایا ہے کہ وہ دنیا کی پہلی خاتون ہیں جن میں نیورالنک بی سی آئی لگایا گیا ہے۔ اس نے اپنے نام سے موجود ایکس پلیٹ فارم پر کئی پوسٹس بھی کی ہیں اور بتایا ہے کہ اس آپریشن کے بعد ان کا سفر کیسا رہا ہے۔

آڈری کریو زنے مزید بتایا کہ اب وہ کمپیوٹر پر اپنا نام لکھ سکتی ہیں اور 20 سال میں پہلی بار گیمز کھیل سکتی ہیں۔ اب انہوں نے آپریشن کے بعد اپنی پیش رفت کو عوامی طور پر شیئر کیا ہے۔ اس کے لیے اس نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پلیٹ فارم کی مدد لی ہے۔ آڈری کریو زنے پوسٹ کرکے انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیورلنک چپ سیٹ یونیورسٹی آف میامی ہیلتھ سینٹر کے اندر ان کے دماغ میں لگا دیا گیا ہے۔

اس آپریشن کے تحت کھوپڑی میں ایک چھوٹا سا سوراخ کیا جاتا ہے۔ موٹر کارٹیکس پر احتیاط سے 128 دھاگے لگائے جاتے ہیں۔ موٹر کارٹیکس دراصل دماغ کا ایک اہم حصہ ہے، جو ہمارے جسم کے پٹھوں کی سرگرمی کو کنٹرول کرتا ہے۔ ڈاکٹر نے اس کے لیے روبوٹکس اسسٹنٹ کی مدد لی تاکہ یہ کام بہتر اور درست طریقے سے ہو سکے۔ اس آپریشن کے تحت لگائی جانے والی چپ کا سائز تقریباً ایک چھوٹے سکے کے برابر ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CzZ1YyJ

اتوار، 20 جولائی، 2025

ایل ای ڈی انقلاب: روشنی، گرمی اور توانائی کی بچت کی سائنسی کہانی

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ روشنی اور گرمی کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ اور آخر کیوں پرانے ایڈیسن کے ایجاد کردہ بلب کی جگہ اب ایل ای ڈی بلب نے لے لی ہے؟ یہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں، بلکہ سائنس کے ایک دلچسپ اصول کی بنیاد پر ممکن ہوا ہے، جس کا تعلق درجہ حرارت، توانائی اور روشنی سے ہے۔

جب ہم کسی بھی چیز کو گرم کرتے ہیں تو وہ توانائی کا اخراج (ریڈی ایشن) کرتی ہے۔ اگر وہ شے بہت ٹھنڈی ہو، تو اس سے صرف ریڈیو ویوز یا مائیکرو ویوز خارج ہوں گی۔ چونکہ کائنات کا درجہ حرارت تقریباً 3 کیلون ہے، اس لیے اس سے صرف مائیکرو ویو اخراج ہوتا ہے، جو ہمیں بگ بینگ کے بعد باقی رہنے والے ریڈیشن کی صورت میں آج بھی ہر طرف سے موصول ہو رہا ہے۔

جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، ویوز کی فریکوئنسی بڑھتی جاتی ہے اور ویو کی لمبائی کم ہوتی ہے۔ مثلاً، جب کوئی چیز کچھ حد تک گرم ہوتی ہے، تو اس سے انفراریڈ شعاعیں نکلتی ہیں۔ یہ شعاعیں ہمیں نظر تو نہیں آتیں لیکن ہم انہیں اپنی جلد سے گرمی کے احساس کی صورت میں محسوس کر سکتے ہیں۔ یہی انفراریڈ شعاعیں رات کے وقت جانوروں کو دیکھنے والے خصوصی چشموں میں استعمال ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے جسم بھی مسلسل انفراریڈ شعاعیں خارج کرتے رہتے ہیں۔

اگر ہم کسی چیز کو مزید گرم کریں تو اس سے روشنی خارج ہونے لگتی ہے، پہلے سرخ، پھر نارنجی اور درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ سفید روشنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس پر ایڈیسن کا بلب کام کرتا تھا۔ اس بلب کا فلامنٹ اتنا گرم کیا جاتا تھا کہ وہ سفید روشنی خارج کرے لیکن اس کے ساتھ ہی بے تحاشا انرجی انفراریڈ شعاعوں کی صورت میں ضائع ہوتی تھی، جو صرف گرمی پیدا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پرانے بلب بہت زیادہ گرم ہو جاتے تھے اور اگر وہ چلتے چلتے خراب ہو جاتے تو انہیں چھونے سے ہاتھ جل سکتا تھا۔

اگر آپ آسمان کی طرف دیکھیں تو ستارے بھی درجہ حرارت کے فرق کی بنیاد پر مختلف رنگوں میں نظر آتے ہیں، نیلے ستارے سب سے زیادہ گرم، سفید درمیانے اور سرخ یا نارنجی سب سے کم گرم ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نیلے فوٹون زیادہ توانائی کے حامل ہوتے ہیں جبکہ سرخ والے کم۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے روشنی پیدا کرنے کے لیے پرانے گرم بلب کی جگہ ٹھنڈے ایل ای ڈی بلب کیوں اپنائے؟ اس کا جواب ایک انقلابی ایجاد میں پوشیدہ ہے۔

ایل ای ڈی یعنی لائٹ ایمٹنگ ڈائیوڈ ایک ایسا آلہ ہے جو بہت کم توانائی خرچ کرکے روشنی خارج کرتا ہے، وہ بھی بغیر گرم ہوئے۔ مگر ایک مسئلہ تھا، سفید روشنی پیدا کرنے کے لیے ہمیں تین بنیادی رنگوں، سرخ، سبز اور نیلا کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرخ ایل ای ڈی 1962 میں اور سبز 1958 میں دستیاب ہو گئی تھی لیکن نیلے رنگ کی ایل ای ڈی بہت دیر سے وجود میں آئی۔

بالآخر 1990 کی دہائی میں تین جاپانی سائنسدانوں نے نیلے رنگ کی کارگر ایل ای ڈی ایجاد کر لی، جس نے روشنی کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا۔ ان کی اس اختراعی کوشش کو اتنا اہم سمجھا گیا کہ انہیں 2014 میں نوبل انعام دیا گیا۔

ایل ای ڈی بلب کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہ صرف تین خاص فریکوئنسیز سرخ، سبز اور نیلا کی روشنی خارج کرتا ہے، جو ہماری آنکھ سفید روشنی کے طور پر دیکھتی ہے۔ اس میں نیوٹن کے ساتوں رنگوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مزید یہ کہ ایل ای ڈی بلب گرمی پیدا نہیں کرتا کیونکہ اس سے انفراریڈ شعاعیں خارج نہیں ہوتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انرجی ضائع نہیں ہوتی اور بلب گرم نہیں ہوتا۔

ایک عام 5 واٹ کا ایل ای ڈی بلب، پرانے 60 واٹ بلب جتنی روشنی دے سکتا ہے یعنی تقریباً 20 گنا زیادہ مؤثر۔ اس کے علاوہ، چونکہ پرانے بلب کافی زیادہ گرمی پیدا کرتے تھے، اس لیے ان کا عالمی درجہ حرارت پر بھی اثر پڑتا تھا۔ ایل ای ڈی بلب اس اثر کو کم کرنے میں معاون ہیں۔

لہٰذا، جب بھی آپ ایل ای ڈی بلب کی روشنی میں بیٹھے ہوں، صرف اس کی چمک ہی نہیں بلکہ پس پردہ چھپی سائنسی بصیرت اور اختراعات کو بھی یاد رکھیں۔ ایل ای ڈی نے نہ صرف ہمارے گھروں کو روشن کیا ہے بلکہ بجلی کے بل کو کم اور کرہ ارض کو نسبتاً ٹھنڈا رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

آخر میں ایک سادہ سی بات، جب بھی ایل ای ڈی بلب جلائیں، سائنس کا شکریہ ادا کریں – کیونکہ یہی وہ روشنی ہے جو کم توانائی، کم گرمی اور زیادہ ہوشیاری کے ساتھ روشن ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4Y3ksAn

منگل، 15 جولائی، 2025

شبھانشو شکلا کی خلا سے کامیاب واپسی، ہندوستان کے لیے فخر کا لمحہ، لکھنؤ میں جشن

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں 18 دن کے سائنسی مشن کے بعد ہندوستانی خلانورد شبھانشو شکلا کی زمین پر محفوظ واپسی ہو گئی ہے۔ ان کی واپسی کی خبر سے ان کے آبائی شہر لکھنؤ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جہاں ان کے والد شمھو دیال شکلا اور خاندان کے دیگر افراد مسلسل پوجا پاٹھ اور دعاؤں میں مصروف تھے۔

شبھانشو کی واپسی منگل کے روز عمل میں آئی۔ واپسی سے قبل ان کے اہل خانہ نے خصوصی پوجا کر کے دعائیں کیں کہ شبھانشو بغیر کسی مشکل کے زمین پر واپس لوٹ آئیں۔

لکھنؤ کے تروینی نگر علاقے میں واقع ان کے آبائی مکان کو روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ گھر کے باہر ان کے عرفی نام ’شکس‘ کے پوسٹر لگائے گئے ہیں اور ان کے استقبال کے لیے جشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ان کی ماں آشا شکلا اور بہن سوچی شکلا مسلسل دوستوں، رشتہ داروں اور مبارکباد دینے والوں کی فون کالز سنبھال رہی ہیں۔

پی ٹی آئی ویڈیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شمبھو دیال شُکلا نے کہا، ’’یہ ہمارے خاندان کے لیے خوشی کا بہت بڑا دن ہے۔ ہم شبھانشو کی محفوظ لینڈنگ کے لیے مسلسل دعا کر رہے تھے۔ آج ہم بے حد خوش ہیں کہ وہ اپنا مشن کامیابی سے مکمل کر کے واپس آیا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ نہ صرف ہمارے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ اب ہم اپنے رشتہ داروں، احباب اور تمام خیر خواہوں کے ساتھ مل کر اس خوشی کا جشن منائیں گے۔‘‘ شبھانشو کی بیوی کامنا فی الحال فلوریڈا میں مقیم ہیں۔ شمبھو دیال نے بتایا، ’’کامنا اور شبھانشو لکھنؤ میں ہی تعلیم حاصل کر رہے تھے، اور دونوں کی شادی خاندان کی رضا مندی سے ہوئی۔ ان کا ایک چھ سال کا بیٹا بھی ہے جس کا نام کیاش ہے۔‘‘

شبھانشو اس سال اکتوبر میں چالیس سال کے ہو جائیں گے۔ ان کی بہن سوچی نے بتایا کہ وہ اپنے خلائی سفر پر ہندوستانی مٹھائیاں، جیسے ’گاجر کا حلوہ‘ اور ’مونگ دال کا حلوہ‘ ساتھ لے گئے تھے کیونکہ یہ ان کی پسندیدہ تھیں۔

سچی نے کہا، ’’وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھی خلا نورد بھی ان کا ذائقہ چکھیں۔ جو ویڈیوز اور پوسٹس ہمیں موصول ہوئی ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سبھی کو یہ بہت پسند آئیں۔"

شبھانشو اسپیس ایکس کے ڈریگن ’گریس‘ اسپیس کرافٹ سے واپس آئے ہیں، جو پیر کی شام 4:45 بجے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن سے علیحدہ ہوا تھا۔ ان کے ساتھ مشن کمانڈر پیگی وِٹسن، پولینڈ کے خلا نورد سلاووز اوزنانسکی وسنیوسکی اور ہنگری کے ٹیبور کاپو بھی شامل تھے۔

یہ سبھی ’اکسیوم-4‘ تجارتی مشن کا حصہ تھے۔ شبھانشو شُکلا نے 1984 میں راکیش شرما کے بعد خلا کا سفر کرنے والے دوسرے ہندوستانی کی حیثیت سے تاریخ رقم کی ہے، جو بین الاقوامی خلائی تحقیق میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی علامت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/xNMBu2E

اتوار، 13 جولائی، 2025

ریڈیو لہروں کی دریافت: ہرٹز کا غیرمعمولی تجربہ، جس نے سائنس کی دنیا ہلا دی

ریڈیو لہریں کس طرح دریافت ہوئیں اور ان کا میکسویل کی مساوات سے کیا تعلق ہے؟ اس کہانی کا آغاز ایک خاموش طبیعت کے نوجوان جرمن سائنسدان ہنرخ ہرٹز سے ہوتا ہے، جنہوں نے ہچکچاتے ہوئے ایک سائنسی مقابلے میں حصہ لیا اور دنیا کو ایک بڑی دریافت سے روشناس کرایا۔

یہ بات ہے سن 1879 کی، جب جرمنی کے ممتاز سائنسدان حرمین وان ہیلمہولٹز نے اعلان کیا کہ پروشین سائنس اکیڈمی کا سالانہ انعام اس شخص کو دیا جائے گا جو میکسویل کی الیکٹرو میگنیٹک تھیوری یا فیراڈے کے اصولوں کو تجرباتی طور پر ثابت کرے گا۔ ہیلمہولٹز کو یقین تھا کہ ان کے 22 سالہ شاگرد ہرٹز یہ چیلنج مکمل کر سکتے ہیں۔

شروع میں ہرٹز کو لگا کہ یہ کام مشکل ہے، مگر انہوں نے کئی سال اس موضوع پر گہری تحقیق کی۔ ان کی ڈائری میں کئی دن صرف یہی لکھا تھا کہ ’’میں جو کچھ سوچتا ہوں، وہ سب پہلے سے ہی معلوم ہے۔‘‘ 1885 کے اختتام پر انہوں نے لکھا، ’’اچھا ہوا کہ یہ سال ختم ہوا، امید ہے اگلا سال بہتر ہوگا۔‘‘

واقعی 1886 کا سال ان کے لیے خوش قسمت ثابت ہوا۔ انہوں نے ایک ایسا سرکٹ بنایا جس میں ہائی وولٹیج کی مدد سے بار بار اسپارک پیدا ہوتا تھا، تاکہ مسلسل ریڈیو ویوز بن سکیں۔ ویوز کی موجودگی جانچنے کے لیے انہوں نے ایک دھات یکا بڑا چھلّا بنایا، جس میں ایک چھوٹا سا گیپ رکھا گیا تاکہ ویوز کی موجودگی پر اسپارک نظر آئے۔ ہرٹز نے ثابت کیا کہ یہ لہریں آئینے سے روشنی کی طرح منعکس ہوتی ہیں اور پرزم سے گزر کر مڑتی ہیں اور ان کی تمام خصوصیات تقریباً روشنی جیسی ہیں۔

انہوں نے تجرباتی طور پر یہ بھی دکھایا کہ ان ویوز کی رفتار بھی روشنی جتنی ہے اور اس بنیاد پر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھی الیکٹرو میگنیٹک ویوز ہیں، جن کی فریکوئنسی مختلف ہے۔

ہرٹز کے ان تجربات کو سائنسی دنیا میں غیرمعمولی اہمیت دی گئی۔ شروع میں ان لہروں کو ’ہرٹزین ویوز‘ کہا گیا، بعد میں انہیں ’ریڈیو ویوز‘ کا نام دیا گیا۔ ہرٹز کی خدمات کے اعتراف میں اب فریکوئنسی کی اکائی کو ’ہرٹز‘ کہا جاتا ہے۔

ہرٹز نے ریڈیو ویوز پیدا کرنے کے لیے اسپارک گیپ جنریٹر استعمال کیا، جو ڈی سی کرنٹ کو آلٹرنیٹنگ وولٹیج میں تبدیل کرتا ہے، اور دونوں سروں پر دھات کے گولے لگانے سے ویوز بنائی جاتی ہیں۔ کیونکہ یہ ویوز آنکھ سے نظر نہیں آتیں، ان کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے ایک خاص قسم کا چھلا بنایا گیا جس میں چھوٹا سا گیپ تھا، تاکہ ویوز کے اثر سے وہاں اسپارک ہو سکے۔ یہ اسپارک بہت مختصر وقت کے لیے ہوتا تھا، اور اسے دیکھنے کے لیے مکمل اندھیرا درکار ہوتا تھا۔

1887 میں ہرٹز نے اپنے استاد ہیلمہولٹز کو تجربے پر مبنی مضمون ارسال کیا، جس میں بڑی عاجزی سے اپنی تحقیق پیش کی۔ ہیلمہولٹز نے اس کی بھرپور تعریف کی اور اسے شائع کروایا۔

ہرٹز نے یہ بھی دریافت کیا کہ الٹراوایولٹ روشنی اسپارک پر اثر ڈالتی ہے، جو بعد میں فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کہلایا — جس پر بعد میں آئن اسٹائن کو نوبیل انعام بھی ملا۔ اس طرح ہرٹز پہلا سائنسدان بن گیا جس نے فوٹو الیکٹرک ایفیکٹ کو دیکھا اور رپورٹ کیا۔

ہرٹز کی تحقیق نے روشنی اور ریڈیو ویوز کے درمیان سائنسی رشتہ ثابت کیا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ یہ لہریں آئینے سے ریفلیکٹ ہو کر اسٹینڈنگ ویوز بناتی ہیں، جن میں نوڈ اور اینٹی نوڈ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان نوڈز اور اینٹی نوڈز کی مدد سے ویو لینتھ ناپی اور معلوم کیا کہ ان کی فریکوئنسی تقریباً 70 ملین ویوز فی سیکنڈ ہے۔ اس بنیاد پر انہوں نے ویو ایکویشن سے ویوز کی رفتار نکالی، جو تقریباً روشنی کی رفتار کے برابر تھی۔

ہرٹز کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے میکسویل کی تھیوری کو تجرباتی بنیاد فراہم کی اور ریڈیو ویوز کی دریافت کے ذریعے مواصلاتی دنیا میں انقلاب کی بنیاد رکھی۔ ان کی شہرت کی بدولت انہیں جلد ہی بون یونیورسٹی میں پروفیسر مقرر کیا گیا۔

افسوس کہ ان کی زندگی مختصر ثابت ہوئی۔ 1892 میں ان کے سر میں شدید درد شروع ہوا، جو آگے چل کر خون کے زہر بننے کی وجہ بنا۔ وہ 1894 میں صرف 36 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے سے قبل اگر انہیں چند اور سال مل جاتے، تو شاید وہ خود ہی ریڈیو اور وائرلیس مواصلات کی ایجادات مکمل کر لیتے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HaT3hCP