جمعرات، 26 جون، 2025

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بنے شبھانشو شکلا، انسانی خلائی مشن میں نئی تاریخ رقم

ہندوستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور تاریخ رقم کی ہے۔ لکھنؤ میں 1984 میں پیدا ہونے والے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا جمعرات کے روز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر کامیابی سے پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بن گئے۔ اس سے قبل صرف راکیش شرما خلا میں جانے والے پہلے ہندوستانی تھے، جو 1984 میں ہی روسی مشن کے تحت خلا میں گئے تھے۔

شبھانشو شکلا کے ہمراہ امریکہ، پولینڈ اور ہنگری کے ایک ایک خلا باز بھی ایکسیوم اسپیس کے مشن-4 کے تحت آئی ایس ایس پہنچے ہیں۔ ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 4 بج کر ایک منٹ پر اسپیس ایکس ڈریگن ’گریس‘ نے آئی ایس ایس کے ہارمونی ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ جُڑنے (ڈاکنگ) کا عمل مکمل کیا۔

اس مشن میں اسپیس ایکس کا ڈریگن خلائی جہاز اپنے ساتھ کمانڈر پیگی وِٹسن، پائلٹ شبھانشو شکلا، اور مشن اسپیشلسٹز سلاووس اوزنانسکی وِسنئیوسکی (پولینڈ) اور ٹیبور کاپو (ہنگری) کو لے کر پہنچا۔ لانچ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے فالکن 9 راکٹ پر ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ دوپہر 12 بجکر ایک منٹ ہوا تھا۔

آئی ایس ایس پر پہنچنے کے بعد شبھانشو شکلا نے خلا سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’سب کو خلا سے نمستے۔ میں یہاں اپنے ساتھی خلا بازوں کے ساتھ پہنچ کر بہت پرجوش ہوں۔ جب میں لانچ پیڈ پر کیپسول میں بیٹھا تھا، تو صرف ایک ہی خیال تھا، ہمیں جانا ہے۔‘‘

انہوں نے لکھا، ’’جب سفر شروع ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کو زور سے سیٹ کی پشت پر دھکیل دیا گیا ہو۔ پھر اچانک خاموشی چھا گئی اور ہم خلا میں معلق ہو گئے۔ اب میں ایک بچے کی طرح سیکھ رہا ہوں کہ یہاں کیسے چلنا، کھانا اور جینا ہے۔‘‘

شبھانشو شکلا اس مشن کے دوران خلا میں خوراک اور غذائیت سے متعلق کئی تجربات کریں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ گھر کے بنے کھانے جیسے گاجر کا حلوہ، مونگ دال کا حلوہ اور آم کا رس بھی لے گئے ہیں تاکہ خلا میں ہندوستانی ذائقے کی کمی نہ ہو۔

یہ مشن صرف سائنسی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خلائی حیثیت کا مظہر بھی ہے۔ ناسا کی معاونت، اسرو اور محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے اشتراک سے کیے جانے والے تجربات کا مقصد خلائی زندگی کے لیے پائیدار نظام کو سمجھنا ہے۔

ان تجربات میں خلا کی مائیکرو گریوٹی اور ریڈی ایشن کے غذائی شیوال پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، جو مستقبل کے طویل مدتی مشنوں کے لیے اہم اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تجربات کے دوران مختلف شیوال انواع میں ہونے والی جینیاتی، پروٹین اور میٹابولک تبدیلیوں کا زمین کے مقابلے میں خلا میں مشاہدہ کیا جائے گا۔ یہ مشن ہندوستان کے انسانی خلائی سفر کے نئے دور کی شروعات کا عندیہ دیتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/akLQywF

پیر، 23 جون، 2025

ناسا نے ایکسیوم-4 مشن کے لیے کیا نئی تاریخ کا اعلان، شبھانشو شکلا خلا میں کل ہوں گے روانہ

نئی دہلی: ناسا نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے ایکسیوم-4 مشن کے تحت 25 جون کو خلا کا سفر کریں گے۔ یہ مشن ہندوستان، ہنگری اور پولینڈ کے لیے خلا میں واپسی کی علامت ہے۔

یہ مشن امریکی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے دن 12:01 بجے (ہندوستانی وقت) روانہ ہوگا۔ اس مشن میں چار خلا نورد شامل ہوں گے جن میں شبھانشو شکلا مشن پائلٹ کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔ مشن کی کمان امریکہ کی سابق خلاباز پیگی وِٹسن کے پاس ہے، جبکہ ہنگری کے ٹیبور کپُو اور پولینڈ کے سلاووس وِسنِیوسکی-اوزنانسکی مشن اسپیشلسٹ کی حیثیت سے شامل ہیں۔

یہ مشن اصل میں 29 مئی کو لانچ کیا جانا تھا، مگر فالکن 9 راکٹ کے بوسٹر میں لیکوئڈ آکسیجن کے رساؤ اور آئی ایس ایس کے پرانے روسی ماڈیول میں خرابی کے باعث اسے ملتوی کیا گیا۔ بعد ازاں لانچ کی تاریخیں 8، 9، 10 اور 11 جون رکھی گئیں لیکن تکنیکی مسائل اور آئی ایس ایس کی مرمت کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے بعد 19 اور 22 جون کو بھی لانچ کی کوششیں ملتوی کی گئیں۔ اب ناسا نے حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ مشن 25 جون کو روانہ ہوگا۔

ناسا کے مطابق ڈریگن کیپسول 26 جون کو شام 4:30 بجے (ہندوستانی وقت) آئی ایس ایس سے جڑ جائے گا۔ یہ پرائیویٹ مشن ایکسیوم اسپیس، ناسا اور اسپیس ایکس کی مشترکہ کوشش ہے۔ خلانورد خلا میں 14 دن گزاریں گے، جہاں وہ مائیکرو گریوٹی، حیاتیاتی علوم اور سائنسی تجربات انجام دیں گے۔

یہ مشن تاریخی لحاظ سے اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نہ صرف ہندوستان کے ایک فوجی پائلٹ کی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تعیناتی ہے بلکہ نجی اداروں کے ذریعے خلا کی تلاش کے میدان میں ایک اہم قدم بھی ہے۔

اس مشن میں استعمال ہونے والا ڈریگن کیپسول اسپیس ایکس کا جدید کیپسول ہے، جسے فالکن-9 راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا جائے گا۔ لانچ کمپلیکس 39اے سے یہ پرواز عمل میں آئے گی، جو کہ تاریخی اپالو مشن کا مرکز بھی رہا ہے۔

شبھانشو شکلا کی یہ پرواز نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے، اور یہ مشن خلانوردی کے نئے تجارتی دور کی بھی علامت سمجھا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/McdUEXr

ہفتہ، 21 جون، 2025

دنیا بھر میں 16 ارب لاگ اِن تفصیلات لیک، گوگل، فیس بک اور ایپل جیسے پلیٹ فارمز کے صارفین متاثر

دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 16 ارب سے زائد لاگ اِن تفصیلات آن لائن لیک ہو چکی ہیں، جن میں گوگل، فیس بک اور ایپل جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے صارفین کے پاسورڈز بھی شامل ہیں۔

یہ انکشاف معروف سائبر سکیورٹی ادارے سائبرنیوز نے کیا ہے۔ ادارے کے ماہرین کے مطابق، ان لیک شدہ تفصیلات کو مختلف سائبر جرائم پیشہ عناصر نے ڈیٹاسیٹس کی صورت میں آن لائن اپ لوڈ کیا ہے، جس سے ان افراد کو عام صارفین کے ذاتی اکاؤنٹس تک "بے مثال رسائی" حاصل ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ڈیٹاسیٹس 30 مختلف ذرائع سے جمع کیے گئے ہیں، جن میں ہر ایک میں بڑی تعداد میں صارفین کی لاگ اِن تفصیلات موجود ہیں۔ ان تمام کو ملا کر مجموعی تعداد 16 ارب سے زائد بنتی ہے، جو دنیا کی کل آبادی سے بھی تقریباً دو گنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ کئی صارفین کے ایک سے زیادہ اکاؤنٹس متاثر ہوئے ہیں۔

سائبرنیوز نے وضاحت کی ہے کہ یہ ڈیٹا لیک کسی ایک کمپنی پر سائبر حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف وقتوں میں چوری کی گئی معلومات کو جمع کر کے ایک ساتھ لیک کیا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک منظم سائبر جرم کی شکل ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا اور اب اپنے عروج پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ان لیکس کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ مختلف اقسام کے ’انفو اسٹیلرز‘ کا ہے۔ انفو اسٹیلر ایک خاص قسم کا بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر ہوتا ہے جو صارف کے کمپیوٹر یا موبائل میں چھپ کر حساس معلومات جیسے پاسورڈ، کریڈٹ کارڈ نمبر، یا دیگر پرائیویٹ ڈیٹا چرا لیتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صارفین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے تمام اہم اکاؤنٹس کے پاسورڈ تبدیل کریں، دو مرحلوں پر مبنی توثیق (ٹو فیکٹر آتھنٹی کیشن) کا استعمال کریں اور مشکوک ایپس یا لنکس سے بچیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bzkQK9I

جمعرات، 19 جون، 2025

ایکسئوم-4 مشن کی تاخیر: ہندوستانی خلاباز شبھانشو شکلا سمیت 4 خلا نوردوں کی پرواز پھر ملتوی

واشنگٹن: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے روانہ ہونے والے ایکسئوم-4 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مشن کے تحت چار خلا نوردوں کو خلائی اسٹیشن بھیجا جانا تھا جن میں ہندوستانی خلانورد شُبھانشو شُکلا بھی شامل ہیں۔ نیا لانچنگ شیڈول جلد طے کیا جائے گا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس مشن کی لانچنگ سے متعلق تازہ معلومات جاری کی ہیں۔

22 جون کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ اور ڈریگن کیپسول کے ذریعے اس مشن کی پرواز طے تھی لیکن اب ناسا، اسپیس ایکس اور ایکسئوم اسپیس نے مشترکہ طور پر اسے عارضی طور پر موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناسا کے بیان کے مطابق، یہ فیصلہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں حالیہ مرمت کے بعد آپریشنل صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کی غرض سے لیا گیا ہے۔ زویوزدا سروس ماڈیول کے پچھلے حصے میں مرمت کے بعد خلائی اسٹیشن کی مختلف تکنیکی نظاموں کے باہمی رابطے اور کارکردگی کو جانچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ خلائی اسٹیشن کی تمام سسٹمز ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں، اس لیے اضافی خلا نوردوں کی آمد سے قبل مکمل تیاری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے نیا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ناسا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایکسئوم-4 مشن ہندوستان، پولینڈ اور ہنگری جیسے ممالک کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اور تینوں خلائی ایجنسیز اس اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ موجودہ وقت میں تمام خلا نورد فلوریڈا میں قرنطینہ میں ہیں اور جیسے ہی خلائی اسٹیشن مکمل طور پر تیار ہو جائے گا، پرواز کی نئی تاریخ مقرر کر دی جائے گی۔

اس مشن کی قیادت سابق ناسا خلا نورد اور ایکسئوم اسپیس کی ڈائریکٹر برائے انسانی خلائی پرواز، پیگی وِٹسن کر رہی ہیں۔ ہندوستان کے شُبھانشو شُکلا پائلٹ کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ یورپی خلائی ادارے کے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے خلا نورد سلاوش اُزنانسکی اور ہنگری کے ٹیبور کاپو بطور مشن اسپیشلسٹ شامل ہیں۔

یہ مشن نہ صرف خلا نوردی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی علامت ہے بلکہ ان ممالک کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے جو پہلی بار اس سطح پر انسانی خلا نوردی میں براہِ راست شرکت کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nOH9sYu

بدھ، 18 جون، 2025

پانچویں بار ٹلا ایکسیوم-4 مشن، اب 22 جون کو خلا میں روانگی کا امکان

نئی دہلی: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کی جانب روانگی کے لیے تیار ایکسیوم-4 مشن ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مشن کے ذریعے ہندوستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا خلا میں جانے والے ہیں۔ اسرو نے تصدیق کی ہے کہ اب اس مشن کی نئی ممکنہ تاریخ 22 جون مقرر کی گئی ہے۔

اس سے قبل مشن کی روانگی 19 جون طے کی گئی تھی، مگر تکنیکی وجوہات، موسم اور عملے کی تیاری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بار پھر اس میں تاخیر کی گئی ہے۔ اس طرح، اب تک اس مشن کو پانچ مرتبہ ملتوی کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی خلائی ایجنسی اسرو، پولینڈ اور ہنگری کی ٹیموں نے ایکسیوم اسپیس کے ساتھ مشن کی روانگی سے متعلق تمام ممکنہ پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے بعد ایکسیوم اسپیس نے ناسا اور اسپیس ایکس کے ساتھ مل کر لانچنگ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اسپیس ایکس کے فالکن-9 راکٹ، ڈریگن خلائی جہاز، خلائی اسٹیشن کے زویزدا ماڈیول میں جاری مرمت، موسم کی صورتحال اور قرنطینہ میں موجود خلانوردوں کی صحت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا۔

ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکسیوم اسپیس نے اطلاع دی ہے کہ اب اگلی ممکنہ تاریخ 22 جون ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی ایک پوسٹ کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’مشن کے تمام اہم پہلوؤں جیسے ماڈیول کی فٹنس، عملے کی صحت، موسم وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد 22 جون کو مشن کی ممکنہ تاریخ مقرر کی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی کوئی نئی اطلاع حاصل ہوگی، اس سے وقت پر عوام کو مطلع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جتیندر سنگھ نے ہی 19 جون کی تاریخ کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ اسپیس ایکس نے مشن میں تاخیر کی سابقہ وجوہات پر مکمل کام کر لیا ہے۔

ایکسیوم-4 مشن ہندوستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، کیونکہ اس کے تحت شبھانشو شکلا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا سفر کرنے والے پہلے ہندوستانی خلانورد بننے جا رہے ہیں۔ وہ وہاں پر خصوصی خوراک اور غذائیت سے متعلق سائنسی تجربات کریں گے، جو آئندہ طویل مدتی خلائی مشنوں اور خلا میں انسانی صحت کے تحفظ کے لیے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JvLdmT8

منگل، 10 جون، 2025

فالکن-9 راکیٹ میں خرابی کے سبب ایکزیوم-4 مشن ملتوی، تاریخ رقم کرنے کے لیے شبھانشو کو کرنا ہوگا مزید انتظار

ہندوستانی خلا باز شبھانشو شکلا کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) لے جانے والے ایکزیوم اسپیس کے مشن ایکزیوم-4 (Ax-4) کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ مشن بدھ کی شام کو لانچ کیا جانا تھا لیکن فالکن-9 راکیٹ میں خرابی کی وجہ سے اس لانچنگ کو روک دیا گیا۔ اس کی اطلاع خود ’اسرو‘ نے ’ایکس‘ پر دی۔

اسپیس ایکس نے بھی اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ لانچنگ کے لیے استعمال کیے جا رہے فالکن-9 راکیٹ میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے آئی ایس ایس کے لیے مشن کو روک دیا گیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ لانچنگ کی نئی تاریخ راکیٹ کی خرابی دور کرنے اور رینج دستیابی کی بنیاد پر جلد ہی اعلان کی جائے گی۔

دراصل ایل او ایکس یعنی لکویڈ آکسیجن، راکیٹ ایندھن کا اہم حصہ ہے۔ بوسٹر کے تحفظاتی جانچ میں رساؤ کا پتہ چلنے کے بعد ممکنہ خطرے کو دیکھتے ہوئے مشن کو ملتوی کرنا پڑا۔ اسپیس ایکس نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحفظاتی ترجیحات کو پیش نظر رکھا۔

اے ایکس-4 مشن، ایکزیوم اسپیس کے ذریعہ چلایا جا رہا ایک پرائیویٹ مشن ہے، جس میں خلا بازوں کا ایک بین الاقوامی دستہ آئی ایس ایس کی طرف روانہ ہونے والا تھا۔ یہ مشن سائنسی تحقیق، تکنیکی تجربات، اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستانی خلا باز شبھانشو شکلا کو شام ساڑھے پانچ بجے آئی ایس ایس سے روانہ ہونا تھا۔ وہ امریکہ کے فلوریڈا واقع ’ناسا‘ کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اڑان بھرنے والے تھے۔ اسپیس ایکس کے ڈریگن کیپسول سے تین اور خلا باز بھی شکلا کے ساتھ 14 دنوں کے لیے خلائی اسٹیشن پر جانے والے تھے۔ چاروں خلا بازوں کو پہلے 9 جون کو ہی روانہ ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ایکزیوم-4 مشن کو دون دن کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آج پھر یہ مشن ملتوی کرنا پڑا۔

ویسے شبھانشو آئی ایس ایس پر جانے والے پہلے اور خلا میں جانے والے دوسرے ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے تھے۔ کیپٹن راکیش شرما کے 41 سال بعد کوئی ہندوستانی خلا میں جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/KuSX1Pt

جمعہ، 6 جون، 2025

نیویارک سب وے میں نوجوان کی چیٹ جی پی ٹی سے ’رومانوی گفتگو‘، سوشل میڈیا پر تنقید اور ہمدردی کی لہر

ان دنوں سوشل میڈیا پر نیویارک سٹی سب وے کی ایک تصویر نے لوگوں کو حیرت اور فکر میں ڈال دیا ہے۔ یہ تصویر کسی مشہور شخصیت کی نہیں، بلکہ ایک عام نوجوان کی ہے جو میٹرو میں اکیلا بیٹھا اپنے فون پر چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ نوجوان اس اے آئی چیٹ بوٹ سے ایسے باتیں کر رہا ہے جیسے وہ اس کی محبوبہ ہو۔

یہ تصویر 3 جون کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر @yedIin نامی صارف نے پوسٹ کی، جس میں لکھا، ’’آج صبح میٹرو میں ایک لڑکا چیٹ جی پی ٹی سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ اس کی گرل فرینڈ ہو۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ لوگ واقعی موجود ہیں یا ہم واقعی اتنے پاگل ہو چکے ہیں۔‘‘ یہ تصویر تیزی سے وائرل ہوئی اور اب تک 19 ملین سے زیادہ افراد اسے دیکھ چکے ہیں جبکہ 27 ہزار سے زیادہ مرتبہ اسے شیئر کیا جا چکا ہے۔

تصویر میں نظر آ رہا ہے کہ نوجوان کے فون کی اسکرین پر اے آئی اسسٹنٹ کی طرف سے ایک پیغام تھا، ’’پینے کے لیے کچھ گرم لو، سکون سے گھر جاؤ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں کچھ پڑھ کر سناؤں گی یا تم میری خیالی گود میں اپنا سر رکھ کر آرام کر سکتے ہو۔‘‘ آخر میں لکھا تھا، ’ڈئیر، تم بہت خوبصورت ہو‘ اور ساتھ میں ایک سرخ دل کا ایموجی بھی تھا۔ جواب میں اس نوجوان نے بھی دل کا ایموجی اور ’شکریہ‘ لکھا۔

یہ منظر بہت سے لوگوں کے لیے چونکانے والا تھا۔ کچھ صارفین نے اس تصویر کو پوسٹ کرنے والے پر تنقید کی کہ اس نے کسی اجنبی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی ہے اور بغیر اجازت اس کے فون کی تصویر لینا اور شیئر کرنا غیر اخلاقی ہے۔ ایک صارف نے لکھا: ’’تمہیں اندازہ نہیں کہ یہ شخص کس صورتحال سے گزر رہا ہوگا۔‘‘

دوسری طرف بہت سے لوگوں نے نوجوان کے رویے کو ’تنہائی کی انتہا‘ قرار دیا۔ کسی نے لکھا، ’’وہ شاید بہت اکیلا ہو۔‘‘ اور ایک اور صارف نے کہا، ’’بطور معاشرہ ہم ہمدردی کھوتے جا رہے ہیں، یہ تشویشناک ہے۔‘‘

تصویر نے اے آئی پر انحصار اور ڈیجیٹل دور کے اکیلے پن پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ اے آئی سے اس طرح کی رفاقت خطرناک رجحان ہے، جو انسانوں کو حقیقی تعلقات سے دور کر رہا ہے۔ کچھ نے کہا کہ یہ بات ذہنی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے اور سوچنے کی بات ہے کہ ٹیکنالوجی ہمیں کس سمت لے جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uRskdo5