جمعہ، 26 ستمبر، 2025

غزہ میں جاسوسی کے الزامات پر مائیکروسافٹ کا ایکشن، اسرائیل کے لیے کلاؤڈ اور اے آئی سروسز بند

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کو فراہم کی جانے والی کچھ اہم سروسز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جاسوسی کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہی ہے۔ کمپنی کے صدر اور نائب چیئرمین بریڈ اسمتھ نے اپنے آفیشل بلاگ پوسٹ میں اس فیصلے کی تفصیلات شیئر کیں۔

بریڈ اسمتھ نے بتایا کہ مائیکروسافٹ نے اسرائیلی وزارت دفاع کو مطلع کر دیا ہے کہ کچھ مخصوص کلاؤڈ سٹوریج، اے آئی سروسز اور دیگر ٹیکنالوجیز کے سبسکرپشنز کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے اپنے اندرونی جائزے کے دوران برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ اور اسرائیلی میگزین ’+972‘ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے کچھ پہلوؤں کو درست پایا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس یونٹس مائیکروسافٹ کے ’ازورے‘ پلیٹ فارم کا استعمال کر کے فلسطینیوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں غزہ اور مغربی کنارے کے لاکھوں فلسطینیوں کی جاسوسی پر مائیکروسافٹ پر تنقید کی گئی اور کمپنی کے کچھ ملازمین نے بھی اس عمل کی مخالفت کی۔ کئی ملازمین نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، جبکہ کچھ کو کمپنی نے برطرف کر دیا کیونکہ انہوں نے کمپنی کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

مائیکروسافٹ نے ابتدائی طور پر ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کسی بھی ملک کو جاسوسی کے لیے سروسز فراہم نہیں کرتی۔ تاہم، رپورٹس کے بعد کمپنی نے اندرونی تحقیقات شروع کیں۔

بریڈ اسمتھ نے اپنے بلاگ میں کہا کہ انہوں نے ’دی گارڈین‘ کی تحقیقاتی رپورٹنگ کی تعریف کی کیونکہ اس سے کمپنی کو اپنے جائزے میں مدد ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مائیکروسافٹ نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ اپنے فیصلے کا جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کمپنی کی سروسز عام شہریوں کی جاسوسی کے لیے استعمال نہ ہوں۔

اسمتھ نے یہ بھی واضح کیا کہ مائیکروسافٹ کا اندرونی جائزہ ابھی جاری ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اس سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شفافیت اور ذمہ داری کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور اپنی سروسز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IyoJ1Ut

ہفتہ، 20 ستمبر، 2025

کیا مصنوعی ذہانت انسان کو غیر ضروری بنا دے گی؟

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی آج دنیا میں ایک ایسا موضوع ہے جس نے ہر طرف تہلکہ مچا رکھا ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانی ترقی کی معراج قرار دیتے ہیں تو کچھ اس کے خطرناک نتائج سے خوفزدہ ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کتنی نوکریاں ختم کرے گی اور انسان کو کہاں لے جائے گی۔ ابھی اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ہر شعبۂ زندگی میں داخل ہو رہی ہے اور انسانی کردار کو بدل رہی ہے۔

اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک غیرمعمولی خبر سامنے آئی ہے کہ یورپ کے ملک البانیہ نے دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی وزیر کو تقرری دے دی ہے جس کا نام "ڈیئلا" رکھا گیا ہے۔ یہ خبر محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ سیاسی و سماجی سطح پر ایک انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈیئلا نے اپنے پہلے ہی خطاب میں کہا،"میں کسی کی جگہ لینے نہیں آئی ہوں۔ میری کوئی شہریت نہیں ہے، میرے کوئی ذاتی مقاصد یا اہداف نہیں ہیں۔ میں یہاں صرف انسانوں کی مدد کرنے آئی ہوں۔"

یہ بیان بظاہر تسلی بخش لگتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی کئی خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ اگر ایک ملک اپنی حکومت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر سکتا ہے تو کیا آنے والے برسوں میں پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ بھی روبوٹس کے سپرد ہو جائیں گے؟ اور اگر ایسا ہوا تو انسانی کردار کہاں باقی رہے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل ہے اور دنیا میں جو بھی ترقی ہوگی وہ اسی کے گرد گھومے گی۔ سرجری کے پیچیدہ آپریشنز سے لے کر فیکٹری کے پروڈکشن یونٹس تک، ریسٹورینٹ میں کھانا تیار کرنے سے لے کر سرو کرنے تک، اور عدلیہ میں مقدمات کی سماعت سے لے کر فیصلے سنانے تک  یعنی ہر جگہ اے آئی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ مستقبل میں وکیلوں اور شاید جج حضرات کا کام بھی اے آئی روبوٹس کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں انسانی کردار محدود ہوتا جائے گا اور مشینوں پر انحصار بڑھتا جائے گا۔

اس وقت جو روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں وہ جذبات سے عاری ہیں۔ وہ وہی کچھ کریں گے جو ان میں فیڈ کیا گیا ہوگا۔ بظاہر اس کے کئی فائدے ہیں۔ بدعنوانی ختم ہو جائے گی، سرکاری دفتروں میں تاخیر نہیں ہوگی، اسپتالوں کے غیر ضروری بلوں سے چھٹکارا ملے گا، عدالتوں کے فیصلے وقت پر ہوں گے اور کھانے کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کب تک اور کس قیمت پر؟

سب سے بڑا خطرہ اسی انسان کو ہے جس نے یہ ٹیکنالوجی بنائی ہے۔ کیونکہ جب انسان کا کردار ختم ہونے لگے گا تو سب سے بڑا نقصان بھی اسی کو ہوگا۔ انسان اپنی آسانی اور سہولت کے لیے جو راستہ اختیار کر رہا ہے وہ بظاہر روشن اور پرکشش لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ راستہ ایک ایسے گڑھے کی طرف لے جا رہا ہے جس کا اندازہ آج شاید کسی کو نہیں۔ آنے والی نسلیں ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولیں گی جہاں ترقی تو ہوگی مگر انسانی فیصلہ سازی اور جذبات کے لیے شاید کوئی جگہ باقی نہ بچے۔

البانیہ میں ڈیئلا کی تقرری کو سیاسی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا پہلا عملی قدم کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے جو کامیاب بھی ہو سکتا ہے اور ناکام بھی۔ اگر یہ کامیاب ہوا تو ممکن ہے کہ دوسرے ممالک بھی اسی راستے پر چل پڑیں اور سیاست سے انسانی عمل دخل بتدریج کم ہوتا جائے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کرپشن ختم ہو جائے گا، فیصلے شفاف اور بروقت ہوں گے۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان کہاں جائیں گے؟ کیا وہ خود کو اس نئے نظام کے مطابق ڈھال سکیں گے یا تاریخ کے حاشیے پر چلے جائیں گے؟

یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ترقی کی اس دوڑ میں کہاں تک دوڑنا ہے اور کہاں رک جانا ہے۔ ترقی اچھی چیز ہے لیکن اگر وہ انسان کو غیر ضروری بنا دے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں بے شمار امکانات ہیں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا توازن قائم رکھیں جس میں انسان اپنی حیثیت، اپنے جذبات اور اپنی اخلاقیات کے ساتھ باقی رہے۔ بصورت دیگر، ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی دنیا چھوڑ جائیں گے جو بظاہر ترقی یافتہ تو ہوگی مگر جذبات اور انسانیت سے خالی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1QvZsmr

جمعرات، 18 ستمبر، 2025

آئی فون 17 کا جنون: دہلی اور ممبئی میں ایپل اسٹورز کے باہر آدھی رات سے قطاریں

ٹیکنالوجی کی دنیا میں آج ایک اور تاریخی لمحہ آیا جب ایپل نے بالآخر اپنا نیا اسمارٹ فون آئی فون 17 متعارف کرا دیا۔ ہندوستان میں اس فون کا جنون اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لانچ سے کئی گھنٹے پہلے ہی دہلی اور ممبئی کے مختلف اسٹورز کے باہر خریداروں کی لمبی قطاریں نظر آئیں۔

دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع سلیکٹ سٹی واک مال کے باہر درجنوں لوگ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات سے ہی لائن میں لگے ہوئے تھے۔ رات کے ٹھیک 12 بجے قطاروں کی صورت میں یہ مناظر اس بات کی عکاسی کر رہے تھے کہ صارفین کے لیے یہ نیا فون محض ایک گیجٹ نہیں بلکہ ایک اسٹیٹس سمبل بھی بن چکا ہے۔ کئی خریدار اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے فون لانچ ہوتے ہی اسے ہاتھ میں لینے کے خواہش مند دکھائی دیے۔

اسی طرح ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع ایپل کے آفیشل اسٹور کے باہر بھی علی الصبح سے ہی لوگوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا۔ رپورٹوں کے مطابق کچھ لوگ 7 سے 8 گھنٹے سے انتظار کر رہے تھے، جبکہ کئی ایسے صارفین بھی موجود تھے جنہوں نے پہلے سے فون کی بُکنگ نہیں کی تھی لیکن پھر بھی امید میں قطار میں لگے رہے کہ شاید انہیں بھی نیا ماڈل مل جائے۔

ماہرین کے مطابق ہندوستان میں ایپل کے اسمارٹ فونز کے حوالے سے بڑھتا ہوا جنون عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ اور بزنس کلاس صارفین، فون کی نئی ٹیکنالوجی، مضبوط بیٹری بیک اپ، اعلیٰ معیار کے کیمرے اور دلکش رنگوں کے ویرینٹ کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں۔

نئے ماڈل کی سب سے بڑی کشش اس کے نئے اور منفرد رنگ قرار دیے جا رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ رنگ فون کو مزید پرکشش اور نمایاں بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہتر کارکردگی اور جدید فیچرز نے اس کی مانگ کو اور بڑھا دیا ہے۔

ٹیکنالوجی مبصرین کا ماننا ہے کہ آئی فون 17 کی لانچنگ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہندوستان ایپل کے لیے ایک بڑا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا بازار ہے۔ یہاں کے صارفین مہنگے ہونے کے باوجود ان مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں اور ہر نئے ماڈل کے ساتھ یہ شوق اور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/L6WY2em

بدھ، 17 ستمبر، 2025

ڈرون کے ضابطے کے لیے الگ قانون بنایا جائے گا، بل کا مسودہ جاری

نئی دہلی: حکومت ملک میں ڈرون کے آپریشن کے لیے ایک الگ قانون بنانے کی تیاری میں ہے، جس میں ڈرون کی خرید و فروخت، آپریشن، قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سزا اور جرمانہ، تیسرے فریق کا بیمہ اور ہرجانہ تک کے ضابطے طے ہوں گے۔

شہری ہوابازی کی وزارت نے ’نیشنل ڈرون (ترقی و ضابطہ) بل 2025‘ کا مسودہ جاری کیا ہے، جسے پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیے جانے کی امید ہے۔ وزارت نے عوام، صنعت اور دیگر فریقین سے 30 ستمبر تک اس مسودے پر رائے اور تجاویز طلب کی ہیں۔

مسودے میں قوانین کی خلاف ورزی پر جیل کی سزا اور جرمانے کا التزام ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہر ڈرون کا ایک منفرد شناختی نمبر(یو آئی این) لازمی ہوگا اور اسے متعلقہ اتھارٹی کے طے کردہ سکیورٹی معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔

مرکز اور ریاستی حکومتوں یا ان کی مجاز ایجنسیوں کو کسی علاقے کو ڈرون آپریشن کے لیے ریڈ زون یا یلو زون قرار دینے کا اختیار ہوگا۔ ریڈ زون میں ڈرون اڑانے کے لیے مرکز اور متعلقہ ایجنسی دونوں کی اجازت ضروری ہوگی جبکہ یلو زون میں ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) افسر کی منظوری لازمی ہوگی۔ اس ضابطے کی خلاف ورزی کو سنگین اور ناقابلِ مفاہمت جرم مانا جائے گا، جس کی سزا تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگی۔

ساتھ ہی ہر ڈرون کے لیے تیسرے فریق کا بیمہ بھی لازمی ہوگا۔ اگر ڈرون کے باعث کسی حادثے میں کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کے قانونی وارث کو ڈھائی لاکھ روپے کا معاوضہ بیمہ کمپنی دے گی۔ کسی شخص کے شدید زخمی ہونے کی صورت میں ایک لاکھ روپے کا ہرجانہ ملے گا۔ ہرجانے کے لیے دعویٰ حادثے کے چھ ماہ کے اندر داخل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے موٹر حادثہ کلیم ٹریبونل کو دعویٰ اتھارٹی بنایا جائے گا، جس کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے۔

بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کے لیے ایک ایئرسپیس میپ تیار کیا جائے گا، جس کے باہر ان کا آپریشن نہیں ہوسکے گا۔ یہ نقشہ ایک مقررہ آن لائن پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا۔ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا یا اس کی مجاز ایجنسی کو فضائی حدود کے انتظامی نظام کی ذمہ داری دی جائے گی۔

ڈرون کے ذریعے کسی شخص، اسلحہ، خطرناک مواد یا ایسی کسی چیز کو لے جانا ممنوع ہوگا، جس کے دوسرے ذرائع سے لے جانے پر بھی پابندی ہے۔ ڈرون کو بطور ہتھیار یا کسی جرم میں استعمال کرنا بھی غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

کسی مجاز ایجنسی کے ہدایات کی خلاف ورزی پر پہلی بار 50 ہزار روپے جرمانہ یا تین ماہ قید یا دونوں کی سزا ہوگی، چاہے اس جرم کے لیے الگ سزا کا ذکر نہ ہو۔ جرم دہرانے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور چھ ماہ قید یا دونوں کا التزام کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Rx8uPDF

منگل، 16 ستمبر، 2025

ای-سِم ٹیکنالوجی: کیا سِم کارڈ کا دور ختم ہونے جا رہا ہے؟

ایپل ایک بار پھر اسمارٹ فون کی دنیا میں نئی راہیں ہموار کرنے جا رہا ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے اپنا نیا آئی فون ایئر متعارف کرایا ہے جو دنیا کا پہلا ایسا ماڈل ہے جو صرف ای-سِم کے ساتھ دستیاب ہوگا۔ اس اعلان کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ کیا سِم کارڈ کا دور اب ختم ہونے جا رہا ہے؟

سِم کارڈ سے ای-سِم تک کا سفر

سِم کارڈ یعنی سبسکرائبر آئیڈینٹیٹی ماڈیول، ایک چھوٹی سی چپ ہے جو ہمیں موبائل نیٹ ورک سے جوڑتی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے دنیا بھر کے صارفین اسی چھوٹے پلاسٹک کارڈ پر انحصار کرتے رہے ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ ای-سم اسی سم کارڈ کا ڈیجیٹل ورژن ہے، جو فون کے اندر ہی نصب ہوتا ہے اور اسے کسی ٹرے میں ڈالنے یا نکالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

ایپل نے سب سے پہلے امریکہ میں 2022 سے صرف ای-سم والے آئی فون فروخت کرنے شروع کیے تھے۔ اب آئی فون ایئر کے ذریعے یہ سہولت عالمی سطح پر متعارف ہو رہی ہے۔

مارکیٹ پر اثرات

ایپل کا یہ قدم محض ایک فون کا نیا فیچر نہیں بلکہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ’سِم کارڈ کے خاتمے کی ابتدا‘ ہے۔ سی سی ایس انسائٹ کے اندازوں کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 103 کروڑ اسمارٹ فون ای-سم استعمال کر رہے تھے اور 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر 301 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

سیم سنگ اور گوگل جیسی دیگر کمپنیاں بھی ای-سم کو اپنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں، تاہم فی الحال وہ سِم کارڈ کے ساتھ ساتھ ای-سم کا آپشن بھی دیتی ہیں لیکن مستقبل میں یہ صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔

صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟

ای-سِم ٹیکنالوجی کئی طرح کے فوائد فراہم کرتی ہے:

جگہ کی بچت: فون میں سم ٹرے ختم کرنے سے اضافی جگہ بچتی ہے جسے بڑی بیٹری یا دیگر فیچرز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماحول دوست قدم: پلاسٹک کے سم کارڈ ختم ہونے سے ماحول پر مثبت اثر پڑے گا۔

بین الاقوامی سہولت: بیرونِ ملک سفر کرنے والے صارفین فوری طور پر لوکل نیٹ ورک کے ای-سم پیکج ایکٹیویٹ کر سکتے ہیں، انہیں سم کارڈ بدلنے کی جھنجھٹ نہیں ہوگی۔

کمپنیوں کے ساتھ نیا تعلق: اب صارفین کو سِم لینے کے لیے کسی بڑی دکان پر جانے کی ضرورت نہیں، سب کچھ ڈیجیٹل طور پر ممکن ہوگا۔

چیلنجز اور خدشات

اگرچہ ای-سِم کو جدید سہولت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن یہ ہر صارف کے لیے فوری طور پر آسان ثابت نہیں ہوگی۔ خاص طور پر بڑی عمر کے افراد یا وہ لوگ جو ٹیکنالوجی سے زیادہ واقف نہیں ہیں، انہیں یہ تبدیلی مشکل محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کمپنیوں کو صارفین کو ای-سم استعمال کرنے کے طریقے سمجھانے کے لیے کافی محنت کرنی ہوگی۔

مزید یہ کہ کئی ممالک میں موبائل آپریٹرز ابھی تک ای-سم انفراسٹرکچر مکمل طور پر تیار نہیں کر پائے ہیں۔ اس وجہ سے کچھ وقت تک سم کارڈ اور ای-سم دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔

مستقبل کی جھلک

ایپل کا نیا آئی فون ایئر یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ آنے والے برسوں میں سِم ٹرے رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کار پاؤلو پیسکاتورے کے مطابق ’’یہ صرف وقت کی بات ہے، آخرکار ہر فون ای-سم پر منتقل ہو جائے گا۔‘‘

یوں لگتا ہے کہ چند برس بعد جب ہم نیا اسمارٹ فون خریدیں گے تو اس میں سِم ڈالنے کے لیے کوئی چھوٹی ٹرے موجود نہیں ہوگی۔ ای-سم صرف ایک فیچر نہیں بلکہ مستقبل کی حقیقت ہے اور ’ایپل‘ اس سفر کی قیادت کر رہی ہے۔

(مآخذ: بی بی سی ہندی)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jlHBhMO

ہفتہ، 13 ستمبر، 2025

ڈئیلا: دنیا کی پہلی اے آئی وزیر، بدعنوانی پر لگائے گی سخت لگام

دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اب اس کا استعمال ہر شعبے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس کی انٹری سیاست اور حکومت میں بھی ہو گئی ہے۔ البانیہ نے بدعنوانی سے نپٹنے کے لیے اپنی حکومت میں اے آئی وزیر کی تقرری کی ہے۔ اس طرح البانیہ ورچوئل وزیر کی تقرری کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس خاتون وزیر (اے آئی) کا نام ’ڈئیلا‘ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ’سورج‘۔

البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما نے کہا کہ ڈئیلا کابینہ کی ایسی رکن ہوں گی جو جسمانی طور سے موجود نہیں ہیں بلکہ انہیں ورچوئلی بنایا گیا ہے۔ اے آئی جنریٹیڈ باٹ یہ یقینی کرنے میں مدد کرے گا کہ حکومت کے ٹھیکے 100 فیصد بدعنوانی سے پاک ہوں۔ اس سے حکومت کو پوری شفافیت کے ساتھ کام کرنے میں مدد ملے گی۔ البانیہ کی نیشنل ایجنسی فار انفارمیشن سوسائٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ڈئیلا اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے اَپڈیٹڈ اے آئی ماڈلس اور ٹیکرکس کا استعمال کرتی ہیں۔

ڈئیلا کو جنوری میں اے آئی آپریٹڈ ڈیجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اسے روایتی البانیائی کپڑے پہنے ایک خاتون جیسا دکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شہریوں کو سرکاری ای-البانیہ پلیٹ فارم پر نیوی گیٹ کرنے میں مدد کرنا تھا۔ یہ پلیٹ فارم دستاویزوں اور خدمات تک پہنچ مہیا کراتا ہے۔

ڈئیلا نے اب تک 36600 ڈیجیٹل دستاویزوں کو جاری کرنے میں سہولت فراہم کی ہے اور پلیٹ فارم کے ذریعہ تقریباً 1000 سروسز دی ہیں۔ البانیہ میں سرکاری ٹھیکوں میں بدعنوانی کے معاملے بار-بار سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملک ڈرگس اور اسلحوں کی اسمگلنگ سے کمائے گئے پیسوں کو صاف کرنے والے بین الاقوامی مجرموں کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی حکومت کے اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔

مسلسل چوتھی مرتبہ اقتدار پر قابض ہونے والے ایڈی راما سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں اپنی نئی کابینہ پیش کریں گے۔ البانیہ کے صدر باجرام بیگاج نے راما کو نئی حکومت بنانے کا کام دیا ہے۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا اے آئی وزیر کی تقرری آئین کے خلاف ہے، تو صدر نے سیدھے طور پر اس کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ راما کی سوشلسٹ پارٹی نے 11 مئی کو ہوئے انتخابات میں 140 میں سے 83 سیٹیں جیت کر چوتھی مرتبہ حکومت بنائی ہے۔ پارٹی اکیلے حکومت بنا سکتی ہے۔ زیادہ تر قانون پاس کر سکتی ہے لیکن آئین بدلنے کے لیے اسے 93 سیٹیں چاہئیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8KovcTJ

اتوار، 7 ستمبر، 2025

فورس اور پریشر کی کہانی، روزمرہ زندگی سے جڑی آسان وضاحت

ہم اپنی گفتگو میں فورس (طاقت) اور پریشر (دباؤ) کے الفاظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ آج کل مجھ پر کام کا پریشر ہے یا یہ کہ دشمن نے جنگ میں اپنی پوری فورس جھونک دی۔ ان جملوں میں فورس اور پریشر ذہنی یا جسمانی دباؤ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں لیکن سائنس میں ان کا مطلب بالکل مختلف ہے۔ سائنس کے مطابق فورس اور پریشر کا تعلق حرکت، رفتار اور توازن سے ہے۔

جب ہم کسی چیز کو دھکا دیتے ہیں یا کھینچتے ہیں تو ہم اس پر فورس لگاتے ہیں۔ اس فورس کے نتیجے میں وہ چیز اپنی جگہ بدلتی ہے، اس کی رفتار اور سمت میں تبدیلی آتی ہے یا وہ مڑ جاتی ہے اور کبھی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ یعنی فورس ہمیشہ کسی نہ کسی تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے۔ عظیم سائنسدان نیوٹن نے فورس کے استعمال کو غور سے دیکھا اور اسے حرکت کے قوانین میں بیان کیا۔ ان قوانین سے یہ واضح ہوا کہ کسی بھی جسم پر فورس لگے گی تو اس میں حرکت پیدا ہوگی، اور اگر وہ پہلے سے حرکت میں ہے تو اس کی رفتار یا سمت میں تبدیلی آئے گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہ فورس کو ناپا جا سکتا ہے، اور وہ کسی جسم کے ماس کو اس میں پیدا ہونے والی ایکسیلریشن سے ضرب دینے پر حاصل ہوتی ہے۔ اگر فورس صفر ہو تو ایکسیلریشن بھی صفر ہوگا، اور ایک ہی فورس ہلکی چیز پر زیادہ اثر ڈالے گی جبکہ بھاری چیز پر کم۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں کسی جسم پر کئی فورس لگ رہی ہوتی ہیں۔ اگر یہ سب ایک دوسرے کو متوازن کر دیں تو کل فورس صفر ہوجاتا ہے اور جسم اپنی حالت پر قائم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کار سیدھی سڑک پر برابر رفتار سے چل رہی ہے تو اس کے انجن کی فورس، ہوا کے دباؤ اور ٹائروں کے رگڑ کے برابر ہوتی ہے۔ اس توازن کی وجہ سے کل فورس صفر ہے اور کار یکساں رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر کل فورس صفر ہو تو وہ یا تو ساکن رہے گا یا برابر رفتار سے چلتا رہے گا۔

پریشر کا تعلق بھی فورس سے ہے مگر دونوں میں فرق بھی ہے۔ پریشر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی سطح پر لگنے والی فورس کو اس کے ایریا سے تقسیم کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فورس ایک جیسی رہے لیکن ایریا بڑھا دیا جائے تو پریشر کم ہوگا اور اگر ایریا کم کر دیا جائے تو پریشر بڑھ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی فورس مختلف ایریا پر لگنے سے الگ الگ اثر ڈالتی ہے۔

اس بات کو ہم کئی روزمرہ مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ انجکشن کی سوئی کی نوک بہت باریک ہوتی ہے، اس لیے اس کا ایریا کم ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ذرا سا دباؤ ڈالنے پر بھی زیادہ پریشر پیدا ہوتا ہے اور سوئی آسانی سے جلد میں داخل ہوجاتی ہے۔ تیز دھار والے چاقو میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اس کی دھار کا ایریا بہت کم ہوتا ہے، اس لیے تھوڑی سی طاقت سے ہی پریشر بڑھ جاتا ہے اور چیز آسانی سے کٹ جاتی ہے۔ جب دھار کند ہو جاتی ہے تو ایریا بڑھ جاتا ہے اور پریشر کم ہونے کی وجہ سے کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے دھار کو بار بار تیز کرنا پڑتا ہے۔

سرد علاقوں میں جھیلوں پر برف جم جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص عام جوتے پہن کر برف پر چلے تو اس کے وزن کا زور چھوٹے ایریا پر لگتا ہے، نتیجہ یہ کہ پریشر بڑھ جاتا ہے اور برف ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک بھاری کشتی برف پر اس لیے ٹکی رہتی ہے کہ اس کا وزن بڑے ایریا پر تقسیم ہوجاتا ہے اور پریشر کم ہوجاتا ہے۔ اسی اصول پر برف پر چلنے کے لیے خاص جوتے بنائے جاتے ہیں جن کا ایریا بڑا ہوتا ہے تاکہ وزن زیادہ رقبے پر تقسیم ہو اور پریشر کم ہوجائے۔

اسی وجہ سے برفیلے پہاڑوں پر اسکیئنگ کے جوتے لمبے ہوتے ہیں تاکہ انسان کا وزن بڑے ایریا پر پھیلے اور وہ برف میں نہ دھنسے۔ جانوروں میں بھی یہی اصول پایا جاتا ہے۔ ہاتھی، پولر بھالو اور پینگوئن کے پاؤں چوڑے اور بڑے ہوتے ہیں تاکہ ان کا وزن نرم زمین یا برف پر زیادہ ایریا پر تقسیم ہو اور وہ آسانی سے نہ دھنسیں۔

یوں فورس اور پریشر دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہیں لیکن الگ الگ خصوصیات رکھتے ہیں۔ فورس بنیادی طاقت ہے جو حرکت پیدا کرتی ہے یا سمت بدلتی ہے، جبکہ پریشر وہ اثر ہے جو اس فورس کے کسی سطح پر لگنے سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایک ہی فورس بیکار لگتی ہے اور کبھی حیرت انگیز نتائج دیتی ہے، اور یہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس ایریا پر لگ رہی ہے۔

فورس اور پریشر کا علم صرف کتابوں کی حد تک نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ چاقو سے سبزی کاٹنے سے لے کر انجکشن لگوانے، گاڑی چلانے یا برف پر چلنے تک ہر جگہ یہ اصول کارفرما ہیں۔ سائنس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ دنیا کے یہ عام مگر اہم اصول کیسے ہماری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0mx3bzR

اگلے سال اوپن اے آئی لانچ کرے گا نیا جاب پلیٹ فارم، لنکڈ ان کو چیلنج دینے کی تیاری

چَیٹ جی پی ٹی میکر اوپن اے آئی کی طرف سے ایک نئی اور بڑی تیاری شروع کر دی گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں کمپنی اے آئی پاورڈ ہائرنگ پلیٹ فارم کھولنے والی ہے۔ یہ پلیٹ فارم کمپنی اور ملازمین کو قریب لانے میں مدد کرے گا۔ اس سے کمپنیوں کو اچھے ملازمین اور لوگوں کو اپنی پسند کی نوکری تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔

آنے والے پروڈکٹ کا نام OpenAI Jobs Platform ہوگا۔ ایک مرتبہ یہ پلیٹ فارم لائیو ہونے کے بعد اس کا سیدھا مقابلہ Linkedin سے ہوگا۔ یہ اطلاع ٹیک کرنچ سے ملی ہے۔ حالانکہ ابھی Linkedin کا اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ لنکڈین دنیا بھر میں اس معاملے میں مشہور پلیٹ فارم ہے۔

ٹیک کرنچ کے ساتھ اوپن اوپن اے آئی کے ترجمان کی بات چیت ہوئی۔ اس دوران پتہ چلا ہے کہ کمپنی اگلے سال یعنی 2026 کے دوران نئے پروڈکٹ کو لانچ کرنے جا رہی ہے۔ جو لوگوں کو نوکری دلانے کا کام کرے گا۔ حالانکہ اس کا پورا عمل کیا ہوگا، اس کے بارے میں آنے والے دنوں میں اطلاع فراہم ہو گی۔

اوپن اے آئی کمپنی میں ایپلی کیشن ڈویژن کے سی ای او فڈزی سیمو نے گزشتہ دنوں اپنے بلاگ پوسٹ میں بتایا ہے کہ اے آئی کی مدد سے کمپنیوں کی ضرورت سمجھے جائے گی اور کون سا امیدوار اس کے کام کو پورا کر سکتا ہے، ان امیدواروں کو انٹرویو کے لیے طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروبار یا مقامی انتظامیہ کو اس سے فائدہ ہونے والا ہے۔

اوپن اے آئی اپنے اصل پروڈکٹ چَیٹ جی پی ٹی کے علاوہ اب دوسرے سیگمنٹ میں بھی ایکسپینڈ کرنے جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں نئے پروڈکٹ کی لانچنگ ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نئے پلیٹ فارم کے کھلنے سے کمپنیوں اور لوگوں کو کتنا فائدہ ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CHqBfy2

جمعہ، 5 ستمبر، 2025

مصنوعی ذہانت شاندار ہے، مگر بہترین ڈیجیٹل کلاس رومز کے لیے اساتذہ کی موجودگی لازمی

ہندوستان 5 ستمبر 2025 کو یوم اساتذہ منا رہا ہے۔ یہ دن ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کی یوم پیدائش کی یادگار ہے، جو تعلیم کو سماج کی ترقی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ اس موقع پر ایک بڑا سوال ہمارے سامنے ہے، ایسے دور میں جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) زندگی کے ہر پہلو کو بدل رہی ہے، اساتذہ کا مقام اور کردار کیا ہوگا؟

تعلیم کی دنیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں مشین اور انسان ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ اے آئی اب کوئی تجرباتی شے نہیں رہی بلکہ نصاب سازی سے لے کر کارکردگی کے تجزیے تک ایک ناگزیر حصہ بن چکی ہے۔ تاہم یہ تبدیلی اساتذہ کو غیر متعلق نہیں کرتی، بلکہ ان کا کردار اور بھی اہم بنا دیتی ہے۔ وہ محض معلومات پہنچانے والے نہیں رہے بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی اور اخلاقی رہنمائی کے معمار ہیں۔

جدید کلاس روم ایک نئے تجربے سے گزر رہا ہے۔ اے آئی وہ کام کر رہی ہے جنہیں کبھی محض تصور سمجھا جاتا تھا۔ چاہے وہ ریاضی کے سوالات میں فرداً مدد ہو یا زبان سیکھنے میں انفرادی رہنمائی، سب کچھ ممکن ہو چکا ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولتیں گہرے مطالعے کو کمزور کرتی ہیں یا مزید طاقتور بناتی ہیں؟

اس پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ امریکہ کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کی مثال لیجیے، جہاں اساتذہ نے انتظامی کاموں کے لیے اے آئی کا استعمال کیا لیکن طلبہ کے لیے اس پر پابندی لگا دی۔ اس سے یہ سوال ابھرتا ہے کہ آخر اساتذہ مشینوں کے ساتھ کس طرح توازن پیدا کریں گے؟

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ دنیا کے دو تہائی ممالک نے کے-12 سطح پر کمپیوٹر سائنس اور اے آئی تعلیم شامل کر لی ہے۔ ہندوستان میں آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) نے 2025 کو ’مصنوعی ذہانت کا سال‘ قرار دیا ہے، جس کے تحت 14 ہزار سے زائد اداروں میں ان ٹیکنالوجیز کو شامل کیا گیا۔ یہ ڈاکٹر رادھا کرشنن کی اس سوچ سے ہم آہنگ ہے کہ تعلیم صرف علم نہیں بلکہ ذمہ دار شہری پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

تعلیم میں اے آئی کا دوہرا وعدہ

مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کشش اس کی ذاتی نوعیت کی تعلیم دینے کی صلاحیت ہے۔ امریکہ میں ’ڈریم باکس‘ اور ’کارنیگی لرننگ‘ جیسے پلیٹ فارم ہر طالب علم کی سطح کے مطابق نصاب فراہم کرتے ہیں۔ ہندوستان میں بائجوز اور ایمبیبے جیسی ایپس دیہی علاقوں تک پہنچ رہی ہیں، اگرچہ قیمت ایک چیلنج ہے۔

اساتذہ کے بوجھ کو ہلکا کرنے میں بھی اے آئی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اساتذہ اپنا 40 فیصد وقت اسائنمنٹ چیک کرنے اور رپورٹس بنانے پر صرف کرتے ہیں۔ اب یہ کام اے آئی کر سکتی ہے، جس سے اساتذہ کو حقیقی تدریس اور مکالمے کے لیے وقت ملتا ہے۔

مزید یہ کہ مائکروسافٹ کی 2025 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ اے آئی کثیر لسانی کلاس رومز میں فوری ترجمے کی سہولت فراہم کر کے شمولیت بڑھاتا ہے۔ جنوبی کوریا میں مارچ 2025 سے اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل نصاب متعارف ہوا ہے جو بچوں کی دلچسپی دیکھ کر مواد کو خود بہتر کرتا ہے۔ یہ سب تبدیلیاں تعلیم کو زیادہ مساوی اور جدید بنانے کی طرف اشارہ ہیں۔

اساتذہ بطور انسانی رہنما

تاہم تعلیم صرف اعداد و شمار یا مشین لرننگ کا نام نہیں۔ استاد وہ ہمدردی اور جذباتی ربط فراہم کرتے ہیں جس کی مشین میں کمی ہے۔ وہ بچے کی پریشانی یا خوشی کو دیکھ کر وقت پر رہنمائی کرتے ہیں۔ دہلی کے ایک استاد نے کہا، ’’اے آئی مواد تجویز کر سکتی ہے لیکن تدریس کے پیچھے موجود جذبہ صرف انسان فراہم کر سکتا ہے۔‘‘

یونیسکو بھی اسی بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی طریقۂ تعلیم میں جدت تو لا سکتا ہے لیکن اخلاقی رہنمائی اور کردار سازی کا متبادل نہیں۔ اساتذہ ہی وہ قوت ہیں جو بچوں کو تخلیقی سوچ اور مبہم سوالات سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت دیتے ہیں۔

اے آئی ایک ساتھی ہے مخالف نہیں

اے آئی اساتذہ کی جگہ لینے نہیں آئی بلکہ ان کی معاونت کے لیے ہے۔ یہ طلبہ کی غلطیوں کا تجزیہ کر کے استاد کو وقت پر خبردار کرتا ہے۔ ایسٹونیا کے اے آئی ٹیوٹرز یا خان اکادمی کے ’خان میگو‘ جیسے ماڈل اس کی مثال ہیں۔ امریکہ میں تو اے آئی طلبہ کے دل کی دھڑکن اور چہرے کے تاثرات تک دیکھ کر ان کی توجہ جانچنے لگی ہے۔

ہندوستان میں تمل ناڈو اور کرناٹک جیسے صوبے سرکاری اسکولوں میں اے آئی پر مبنی امتحانات آزما رہے ہیں تاکہ استاد بہتر فیڈ بیک دے سکیں۔ اس سے اے آئی ایک معاون کردار میں سامنے آ رہی ہے، جبکہ مرکزی حیثیت بدستور استاد کی ہی ہے۔

نصاب میں تبدیلیاں

مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ نصاب میں اے آئی سے متعلق بنیادی آگاہی شامل ہو۔ الگورتھم، تعصب اور ڈیٹا کے اخلاقی استعمال کو اب لازمی تعلیم کا حصہ بنانا ہوگا۔ سی بی ایس ای نے 2019 میں اے آئی کو اختیاری مضمون کے طور پر شامل کیا تھا اور اب ہزاروں اسکول اسے پڑھا رہے ہیں۔ آئی بی ایم اور انٹیل کے تعاون سے طلبہ کو حقیقی مسائل مثلاً ٹریفک کنٹرول یا ماحولیات کے منصوبوں میں اے آئی استعمال کرنا سکھایا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر بھی یہ کوشش جاری ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم نے 2025 میں اے آئی لٹریسی فریم ورک جاری کیا ہے۔ گوگل نے ایک ارب ڈالر کا پروگرام شروع کیا ہے تاکہ طلبہ مفت ٹولز کے ذریعے اے آئی سیکھ سکیں۔

مسائل اور چیلنجز

یہ سفر آسان نہیں۔ شہری اور دیہی تعلیمی اداروں میں فرق بڑھ رہا ہے۔ جہاں بڑے شہروں کے اسکول تیزی سے اے آئی کو اپناتے ہیں، وہیں دیہی علاقوں میں سہولیات کی کمی رکاوٹ ہے۔ اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو اس سے عدم مساوات میں اضافہ کا امکان ہے۔

ایک اور خطرہ یہ ہے کہ طلبہ صرف اے آئی پر انحصار کر کے سطحی علم حاصل کریں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ سوالات اور تحقیق پر مبنی امتحانات ترتیب دیں تاکہ طلبہ حقیقی سوچ اور تجزیے کی عادت ڈالیں۔

اساتذہ کی تربیت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ سی بی ایس ای نے ورکشاپس شروع کی ہیں لیکن بڑے پیمانے پر اقدامات ضروری ہیں۔ شفاف پالیسی بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ دوہرے معیار پیدا نہ ہوں۔

ہندوستانی اقدامات اور عالمی نقطۂ نظر

ہندوستان اس شعبے میں نمایاں قدم اٹھا رہا ہے۔ آئی آئی ٹی دہلی نے ایسے نظام تیار کیے ہیں جو سرکاری اسکولوں میں ریاضی اور سائنس کی کمزوریوں کو دور کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہندوستان مستقبل میں دنیا کی سب سے بڑی اے آئی سے لیس تعلیمی آبادی تیار کر سکتا ہے۔

چین کے اسمارٹ کلاس رومز میں پرائیویسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جبکہ امریکہ میں حکومتی سطح پر اے آئی ایجوکیشن پروگرام متعارف ہو رہے ہیں۔ ان سب میں ہندوستان کا کردار انسانی مرکزیت والے اے آٗی ماڈل کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

اب استاد محض معلومات دینے والے نہیں رہے بلکہ رہنما، رہبر اور اخلاقی اقدار کے محافظ ہیں۔ وہ اے آئی کو استعمال کرتے ہوئے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور تخلیقی مزاج پیدا کرتے ہیں۔ اپنی زندگی سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ سیکھنے کا عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ضروری ہے کہ دیہی ڈھانچے کو مضبوط کیا جائے، اساتذہ کی تربیت پر سرمایہ کاری کی جائے اور قومی سطح پر واضح ضوابط طے ہوں تاکہ اخلاقیات اور پرائیویسی محفوظ رہیں۔ تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کے درمیان شراکت داری کو بھی علم دوستی کی بنیاد پر ہونا چاہیے نہ کہ منافع کی۔

مشینوں کے بیچ انسانیت کی تعلیم

یوم اساتذہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ استاد تعلیم کا ضمیر ہیں۔ وہ صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ اقدار، معنی اور ذمہ داری بھی منتقل کرتے ہیں۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن کے نظریات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ اے آئی تدریسی عمل کو خودکار بنا سکتا ہے لیکن طلبہ کو متاثر اور انسانیت سے جوڑنے کا عمل صرف استاد ہی انجام دے سکتا ہے۔

(مضمون نگار حسنین نقوی، ممبئی کے سینٹ زیوئیر کالج میں تاریخ کے شعبے کے سابق رکن ہیں)

https://wegotrip.tpm.li/jnSKlgBF



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NekEozW

جمعرات، 4 ستمبر، 2025

دو کروڑ سے زائد جعلی فون کنکشن بند، فراڈ کالز میں 97 فیصد کمی: محکمۂ ٹیلی مواصلات

نئی دہلی: ہندوستان میں موبائل فراڈ اور سائبر دھوکہ دہی کے بڑھتے خطرات کے درمیان محکمۂ ٹیلی مواصلات نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ محکمہ کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل نے بتایا کہ 2 کروڑ سے زیادہ جعلی فون کنکشن بند کر دیے گئے ہیں، جس کے نتیجے میں اسپوف (جعلی) کالز میں 97 فیصد تک کمی درج کی گئی ہے۔

یہ اعلان جنوبی گوا میں منعقدہ محکمۂ ٹیلی مواصلات کی سالانہ مغربی زون کانفرنس برائے سکیورٹی کے دوران ویڈیو لنک کے ذریعے کیا گیا۔ ڈاکٹر متل نے بتایا کہ یہ کامیابی حکومت کی ’سنچار ساتھی‘ پہل کی بدولت ممکن ہوئی ہے، جو ٹیلی کام خدمات کے غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے تیار کیا گیا ایک پلیٹ فارم ہے۔

اسپوف کالز وہ ہوتی ہیں جن میں فراڈ کرنے والے کالر آئی ڈی کی معلومات بدل کر اپنی شناخت چھپاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ محکمہ کے مطابق اس نئی حکمتِ عملی نے صارفین کو بڑی حد تک ریلیف پہنچایا ہے۔ ڈاکٹر متل نے مزید کہا کہ محکمہ نے ’ڈیجیٹل انٹیلیجنس پلیٹ فارم‘ بھی تیار کیا ہے، جس کے ذریعے بینک اور مالیاتی ادارے دھوکہ دہی سے متعلق معلومات کا تبادلہ کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد مالی فراڈ کے خلاف مشترکہ محاذ قائم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) نے فراڈ کنکشنز اور مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اب تک 78 لاکھ جعلی موبائل کنکشن بند کیے جا چکے ہیں، جبکہ 71 ہزار سے زیادہ ایسے ریٹیل مراکز پر بھی کارروائی کی گئی ہے جو مشکوک سرگرمیوں میں ملوث تھے۔

محکمۂ ٹیلی مواصلات نے سائبر سکیورٹی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان میں اعلیٰ معیار کے تصدیق شدہ ٹیلی کام آلات کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے نیٹ ورک کو وسعت دینا شامل ہے۔ اسی سلسلے میں ایک ’فنانشل فراڈ رسک انڈیکیٹر‘ بھی متعارف کرایا گیا ہے، جو فراڈ میں شامل موبائل نمبروں کی بہتر نشاندہی کرتا ہے۔ ڈاکٹر متل نے بتایا کہ اس ٹول کی بدولت مالی دھوکہ دہی کو بروقت روکنے میں آسانی ہوگی۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ محکمہ ’مرکزی نگرانی نظام‘ (سی ایم ایس) کو اپ گریڈ کر رہا ہے تاکہ جدید سائبر خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے۔ اس کے علاوہ نجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے سیکٹر اور ایپلی کیشن سطح پر سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر متل کے مطابق ان تمام اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے کروڑوں موبائل صارفین کے لیے ایک محفوظ، شفاف اور پائیدار ڈیجیٹل ماحول تشکیل دیا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LO6AfXY

منگل، 2 ستمبر، 2025

ہندوستان کی پہلی 32-بٹ مائیکرو چپ ’وِکرم‘ پیش، اسرو کی بڑی کامیابی

ہندوستان نے سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی درج کرائی ہے۔ اسرو کی سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل) نے ملک کی پہلی مکمل طور پر دیسی 32-بٹ مائیکروچپ ’وِکرم‘ تیار کی ہے۔ آئی اے این ایس کے مطابق، اسے باضابطہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کو پیش کیا گیا۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و آئی ٹی اشونی ویشنو نے منگل کو ’سیمیکون انڈیا 2025‘ کے افتتاحی اجلاس میں یہ تاریخی اعلان کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ’وِکرم‘ مائیکروپروسیسر کو خاص طور پر اسپیس لانچ وہیکلز کے سخت ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد درآمد شدہ چپس پر انحصار کم کرنا اور ملک کو خود کفالت کی جانب لے جانا ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اس موقع پر کہا کہ پہلی بار ہندوستان نے مکمل دیسی مائیکروپروسیسر تیار کیا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر صنعت نے زبردست ترقی کی ہے۔ ہندوستان سیمی کنڈکٹر مشن کے قیام کے بعد محض ساڑھے تین برس کے اندر دنیا کا اعتماد حاصل ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں پانچ بڑی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کی تعمیر تیزی سے جاری ہے۔

’سیمیکون انڈیا‘ کے تحت حکومت نے اب تک 10 بڑے منصوبوں کو منظوری دی ہے، جن میں ہائی وولیوم فیب یونٹس، تھری ڈی ہیٹروجینس پیکیجنگ، کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر اور او ایس اے ٹی (آؤٹ سورس سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹنگ) شامل ہیں۔ ڈیزائن پر مبنی اقدامات کے تحت 280 سے زیادہ تعلیمی اداروں اور 72 اسٹارٹ اپس کو جدید سہولیات دی جا چکی ہیں، جبکہ ڈی ایل آئی (ڈیزائن لنکڈ انسینٹو) اسکیم کے تحت 23 اسٹارٹ اپس کو منظوری مل چکی ہے۔

تین روزہ ’سیمیکون انڈیا 2025‘ کانفرنس میں عالمی سطح کی کئی نمایاں کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں، جن میں ایپ لائیڈ میٹیریلز، اے ایس ایم ایل، آئی بی ایم، انفینیون، لیم ریسرچ، مائیکرون، ٹاٹا الیکٹرانکس، ایس کے ہائنکس اور ٹوکیو الیکٹران شامل ہیں۔ اس پروگرام میں کلیدی خطبات، پینل مباحثے، ریسرچ پیپر پیشکش اور بین الاقوامی گول میز کانفرنسز بھی ہوں گی۔

ایک خصوصی ’ورک فورس ڈیولپمنٹ منڈپ‘ بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ نوجوان نسل کو مائیکرو الیکٹرانکس کے میدان میں روزگار کے مواقع سے روشناس کرایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ’سیمیکون انڈیا 2025‘ ہندوستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں نمایاں مقام دلوائے گا اور اختراعات کی نئی راہیں کھولے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/a7EAmVP