اتوار، 31 مئی، 2026

خلائی مہم جوئی: چینی کامیابی اور امریکی آزمائش

چینی خلابازوں نے سات ماہ مدار میں گزارنے کے بعد زمین پر محفوظ واپسی کے ساتھ ایک نیا قومی ریکارڈ قائم کیا ہے، جس دوران انہوں نے اہم سائنسی نمونے بھی اکٹھے کیے۔ دوسری طرف، جیف بیزوس کی کمپنی کا نیو گلین راکٹ فلوریڈا میں ایک تجربے کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا، جس سے لانچ پیڈ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہ حادثہ نہ صرف ایمیزون کے سیٹلائٹ مشن بلکہ ناسا کے مستقبل کے چاند مشن کے لیے بھی ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس جائزہ میں عالمی خلائی دوڑ میں بڑھتے ہوئے مقابلے اور اس شعبے میں موجود تکنیکی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

خلائی افق پر بدلتی ہوئی صورتحال

عالمی خلائی منظر نامہ ایک ایسے اہم موڑ پر نظر آتا ہے جہاں دو بڑی طاقتوں کے پروگرام متضاد سمتوں میں گامزن دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طرف چین نے اپنے خلائی اسٹیشن کے آپریشنل استحکام اور تسلسل کا ثبوت دیا، تو دوسری طرف امریکہ کے نجی شعبے کو، جو ناسا کے قمری منصوبوں کا ستون ہے، 'ڈیویلپمنٹل وولیٹائلٹی' یا ترقیاتی اتار چڑھاؤ کے تلخ تجربات سے گزرنا پڑا۔ ان واقعات کا مشاہدہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ یہ واقعات ہمیں دکھاتے ہیں کہ جہاں ایک طاقت (چین) ریاستی سرپرستی میں منظم اور مرحلہ وار پختگی حاصل کر رہی ہے، وہاں دوسری طاقت (امریکہ) نجی شعبے کے 'ہائی رسک، ہائی ریوارڈ' ماڈل کے تحت انفراسٹرکچر کی رکاوٹوں کا سامنا کر رہی ہے۔ چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور جنوبی قطب (ساؤتھ پول) کے سنگ میل تک پہنچنے کے لیے ان دونوں قوتوں کی حالیہ پیشرفت اور رکاوٹوں کا تقابلی جائزہ لینا ناگزیر ہے۔

چین کا خلائی مشن اور سائنسی ثمرات

چینی خلائی پروگرام نے شینزو-21مشن کی کامیاب واپسی کے ذریعے اپنی آپریشنل برتری کو ثابت کیا ہے۔ یہ مشن محض ایک واپسی نہیں بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے خلائی اثر و رسوخ کا مظہر ہے۔ اس مشن کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

1.    تاریخی قیام اور ریکارڈ: خلا بازوں ژانگ لو، وُو فی اور ژانگ ہونگ ژانگ نے مدار میں 7 ماہ گزار کر چینی تاریخ کا طویل ترین ’ان-آربٹ‘ قیام کا ریکارڈ قائم کیا۔

2.    لاجسٹک پیچیدگی اور تحفظ: عملے کی واپسی شینزو-22 جہاز کے ذریعے عمل میں آئی۔ یاد رہے کہ نومبر 2025 میں شینزو-22 کو بطور 'ریسکیو ویسل' لانچ کیا گیا تھا، کیونکہ شینزو-21 کا اصل جہاز اس سے قبل شینزو-20 کے عملے کو واپس لانے کے لیے استعمال ہو چکا تھا جن کے کیپسول کی کھڑکی (ویو پورٹ) میں دراڑیں پائی گئی تھیں۔

3.    سائنسی ڈیٹا اور سیمپلز: اس مشن کے ذریعے 23 مختلف تجرباتی منصوبوں سے متعلق 41.14 کلو گرام وزنی سائنسی نمونے زمین پر منتقل کیے گئے۔

ان نمونوں میں مصنوعی جنین (آرٹیفیشل ایمبریوز) اور دماغی آرگنائڈز(برین آرگنائڈز) جیسے حساس حیاتیاتی مواد کی موجودگی چین کی 'لائف سائنسز' میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ تجربات طویل مدتی گہری خلائی آبادکاری (ڈیپ اسپیس کولونائزیشن) کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، 'ایکسٹرا ٹیریسٹریل فلیم سنتھیسز' کے ذریعے نینو میٹریلز کی تیاری، خلائی آگ سے بچاؤ کی ٹیکنالوجی، اور طبی الٹراساؤنڈ امیجنگ جیسے شعبوں میں ہونے والی تحقیق چین کو مینوفیکچرنگ اور ایرو اسپیس ایپلی کیشنز میں عالمی سطح پر ایک منفرد مقام عطا کر رہی ہے۔ چین اب شینزو-23 کے ذریعے اسپیس اسٹیشن میں ایک سالہ قیام کا تجربہ کرنے والا ہے، جو اس کے مستقل خلائی تسلط کے عزم کا ثبوت ہے۔

نیو گلین کا حادثہ ایک بڑی رکاوٹ

چین کے منظم استحکام کے برعکس، امریکہ کے نجی خلائی شعبے کو 28 مئی کو ایک سنگین 'فلائٹ مینی فیسٹ ڈسپرشن' کا سامنا کرنا پڑا۔ بلیو اوریجن کا طاقتور 'نیو گلین' راکٹ فلوریڈا کے لانچ کمپلیکس-36 پر ایک پری لانچ "ہاٹ فائر" ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہو گیا۔

تکنیکی ناکامی اور تاریخ: نیو گلین اب تک صرف تین بار پرواز کر سکا ہے اور اس کا ریکارڈ مثالی نہیں رہا۔ اس سے قبل اپریل میں تیسری پرواز کے دوران یہ 'بلو برڈ 7' سیٹلائٹ کو درست مدار میں پہنچانے میں ناکام رہا تھا، جس کے بعد فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے اسے گراؤنڈ کر دیا تھا۔

انفراسٹرکچر کا بحران: حالیہ دھماکے نے نہ صرف راکٹ کو تباہ کیا بلکہ لانچ کمپلیکس-36کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ چونکہ یہ 'نیو گلین' کے لیے واحد دستیاب لانچ پیڈ ہے، اس لیے یہ حادثہ ایک بڑا 'انفراسٹرکچر بوٹل نیک' ثابت ہوگا۔

فوری نقصانات: اس حادثے کی وجہ سے 4 جون کو ایمیزون کے 49 براڈ بینڈ سیٹلائٹس کی روانگی کا مشن غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہو گیا ہے۔ 

'آرٹیمس' پر اثرات: یہ ناکامی ناسا کے 'آرٹیمس'پروگرام کے لیے ایک خطرناک زنجیر کا پہلا سرا ہے۔ نیو گلین راکٹ ہی 'بلیو مون' لینڈر کا کلیدی ذریعہ ہے، جس نے 2028 تک چاند کے جنوبی قطب پر بیس بنانے کے لیے دو نجی روورز وہاں پہنچانے ہیں۔ اس سال کے آخر میں بھیجے جانے والے روبوٹک پروٹو ٹائپ 'بلیو مون مارک 1' کی تاخیر اب یقینی دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ پروٹو ٹائپ اور ٹیسٹ مشنز بروقت مکمل نہ ہوئے تو امریکہ آرٹیمس-4 کے 2028 کے سنگ میل سے محروم ہو سکتا ہے، جس سے چاند کی دوڑ میں چین کو واضح سبقت حاصل ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے کہا ، "خلائی مہم جوئی میں غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی، اور بھاری بوجھ اٹھانے والے نئے راکٹوں کی تیاری انتہائی دشوار گزار عمل ہے۔" انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس غیر معمولی واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی مستقبل کے مشنز پر ہونے والے اثرات کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے گا۔

انسانی عزم اور مسلسل جدوجہد

گزشتہ ہفتے کے واقعات چین کی آپریشنل پختگی اور امریکہ کی ترقیاتی مشکلات کے درمیان ایک واضح تضاد پیش کرتے ہیں۔ جہاں چین نے اپنی 'اسٹیٹ ڈریون' حکمت عملی سے استحکام حاصل کیا ہے، وہاں امریکہ کو نجی شعبے کی جدت پسندی میں چھپے خطرات کا سامنا ہے۔ تاہم، یہ دونوں واقعات انسانی عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ خلائی سرحدوں کی تسخیر کبھی بھی سہل نہیں رہی۔ ناکامیاں اور تجربات ہی دراصل اس علم کی بنیاد بنتے ہیں جو انسان کو ستاروں تک لے جائے گا۔ چاند اور اس سے آگے کی منزلوں تک پہنچنے کا سفر جاری رہے گا، اور ہر چیلنج ہمیں مستقبل کی کامیابیوں کے قریب تر لے جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pnXeO7t

جمعہ، 29 مئی، 2026

چین میں اب ہر روبوٹ کوملے گی ڈیجیٹل آئی ڈی

روبوٹکس میں سرفہرست چین نے ایک نیا اقدام کیا ہے۔ ایک منفرد شناختی نمبر عام طور پر انسانوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ حکومتیں اور کمپنیاں افراد کی شناخت کی تصدیق اور ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ہندوستان کا آدھار کارڈ بھی ایسا ہی نظام ہے۔ اب چین روبوٹس کے لیے بھی ایسا ہی نظام نافذ کرنے جا رہا ہے۔ چین میں ڈیجیٹل شناختی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سسٹم کے تحت ہر اے آئی سے چلنے والے روبوٹ کو ایک منفرد کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ اس سے فیکٹری کے آغاز سے ریٹائرمنٹ تک اس کے سفر کو ٹریک کرنے میں مدد ملے گی۔

چین نے اس اقدام کے لیے ہیومنائڈ فل لائف سائیکل مینجمنٹ سروس پلیٹ فارم کا آغاز کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت چین میں تیار ہونے والے ہر ہیومنائڈ کو 29 ہندسوں کا شناختی کوڈ تفویض کیا جائے گا۔ یہ روبوٹ کو شروع سے آخر تک ٹریک کرنے کی اجازت دے گا۔ چینی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ تیزی سے بڑھتے ہوئے روبوٹکس سیکٹر کی نگرانی کرے گا اور مشترکہ معیارات قائم کرنے میں مدد کرے گا۔ یہ پلیٹ فارم روبوٹ کی تیاری، فروخت، مقصد، دیکھ بھال، ری سائیکلنگ اور آخر میں ڈسپوزل سے متعلق تمام معلومات فراہم کرے گا۔

یہ نیا ضابطہ روبوٹ بنانے والی کمپنیوں، فروخت کنندگان، سروس فراہم کرنے والوں، صارفین اور ری سائیکلنگ کمپنیوں پر لاگو ہوگا۔ نئے ضوابط میں ایک سخت شق بھی شامل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی روبوٹ سسٹم میں رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسے مارکیٹ میں فروخت نہیں کیا جا سکتا۔

چین روبوٹکس کے میدان میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہاں نہ صرف روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں بلکہ عوامی استعمال کے لیے بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔ چین میں ٹریفک کے انتظام، پروموشنز اور ڈیلیوری سمیت مختلف کاموں کے لیے روبوٹ تعینات کیے گئے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VuwdIm8

جمعرات، 21 مئی، 2026

خلائی اسٹیشن میں مرچ کی کاشت، ناسا مستقبل کے طویل خلائی مشنوں کی تیاری میں مصروف

امریکی خلائی ادارے ناسا نے خلا میں باغبانی کے اپنے اہم تجربات کی نئی تصاویر جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پودوں کی کاشت صرف زمین تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب خلائی ماحول میں بھی سبزیاں اور پودے اگانے کی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد مستقبل کے طویل خلائی سفر، خاص طور پر چاند اور مریخ کے ممکنہ مشنوں کے لیے بہتر تیاری کرنا ہے۔

ناسا کی جانب سے جاری تصاویر میں بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلانورد تھامس مارش برن کو خلائی اسٹیشن کے جدید پودا افزائش نظام میں اگنے والی مرچوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ایسے سائنسی منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت خلائی ماحول میں خوراک پیدا کرنے کے امکانات کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔

ایک اور تصویر میں خلائی اسٹیشن کے اندر سرخ اور گلابی روشنی میں اگنے والی مرچیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ پودوں کی نشوونما کے لیے خاص روشنی کا انتظام کیا گیا ہے، جس سے پورا حصہ سرخی مائل دکھائی دیتا ہے۔

ناسا نے خلائی اسٹیشن میں ’ویجی‘ نامی ایک چھوٹا خلائی باغ بھی تیار کیا ہے۔ یہ ایک مختصر مگر جدید نظام ہے، جس میں ایک وقت میں چھ پودے اگائے جا سکتے ہیں۔ خلا میں پودے اگانا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ خرد کشش ثقل کے ماحول میں پانی عام طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پانی چھوٹے بلبلوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی وجہ سے خصوصی مٹی نما نظام استعمال کیا جاتا ہے، جہاں پانی، ہوا اور غذائی اجزا کا متوازن انتظام موجود ہوتا ہے۔

اس خلائی باغ میں اب تک سلاد کے مختلف پتے، چینی بند گوبھی، سرسوں، سرخ پتوں والی سبزیاں اور پھول بھی کامیابی سے اگائے جا چکے ہیں۔ کچھ سبزیوں کو خلاباز کھا چکے ہیں، جبکہ کچھ نمونے زمین پر تحقیق کے لیے بھیجے گئے۔

ماہرین کے مطابق خلا میں پودے صرف خوراک کا ذریعہ نہیں، بلکہ خلابازوں کی ذہنی صحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ تازہ خوراک، ہریالی اور فطرت سے وابستگی کا احساس طویل خلائی مشنوں کے دوران ذہنی دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

ناسا ایک جدید پودا افزائش نظام پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں سیکڑوں حساس آلات لگائے گئے ہیں۔ یہ نظام زمین پر موجود سائنس دانوں کو مسلسل معلومات فراہم کرتا رہتا ہے۔ مستقبل میں مرچ کے علاوہ ٹماٹر، بیری اور دیگر فصلوں کی خلائی کاشت بھی ناسا کے منصوبوں میں شامل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OQmMF1J

جمعہ، 15 مئی، 2026

آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کیسے ممکن؟ والدین کے لیے 5 مؤثر مشورے

ڈیجیٹل دور میں بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ اب انٹرنیٹ سے جڑ چکا ہے۔ تعلیم، کھیل، ویڈیوز، دوستوں سے رابطہ اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے بچے روزانہ گھنٹوں آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ علم اور تفریح کا ایک مفید ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ سائبر بُلنگ، غلط معلومات، نامناسب مواد اور پرائیویسی سے جڑے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوں کو ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کریں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے والدین کے لیے چند اہم مشورے دیے ہیں، جن پر عمل کر کے بچوں کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے اور انہیں متوازن ڈیجیٹل زندگی گزارنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق سب سے ضروری بات بچوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ہے۔ والدین کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے آن لائن کس سے بات کرتے ہیں، کون سی ویب سائٹس یا ایپس استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کیا شیئر کرتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تصویر، ویڈیو یا تبصرہ ایک مستقل “ڈیجیٹل نشان” چھوڑ دیتا ہے، جو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو ذمہ داری کے ساتھ آن لائن برتاؤ کی تعلیم دینا بہت اہم ہے۔

یونیسیف کے مطابق والدین کو گھر میں گیجٹس کے استعمال کے واضح اصول بنانے چاہئیں۔ بچوں کے سونے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات متاثر نہ ہوں، اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ اگر بچے کو آن لائن کسی بات سے خوف، دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بلا جھجھک والدین سے بات کر سکتا ہے۔

ماہرین نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ بچوں کے فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہے تاکہ سکیورٹی خامیوں سے بچا جا سکے۔ پرائیویسی سیٹنگز فعال رکھنا، ویب کیم کو ضرورت نہ ہونے پر بند یا ڈھانپ دینا اور کم عمر بچوں کے لیے پیرنٹل کنٹرول کا استعمال مفید مانا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ اپنا نام، پتہ، اسکول یا ذاتی تصاویر کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین اگر بچوں کے ساتھ آن لائن وقت گزاریں تو وہ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ ویڈیوز دیکھنا، کھیل کھیلنا یا تعلیمی مواد تلاش کرنا نہ صرف رشتہ مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کو غلط معلومات اور نقصان دہ مواد سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اشتہارات، جعلی خبروں اور منفی پیغامات کو کیسے پہچانا جائے۔ عمر کے مطابق مناسب ایپس اور کھیلوں کا انتخاب بھی والدین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ بچے غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔

یونیسیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کے بڑے خود موبائل یا سوشل میڈیا کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کریں گے تو بچے بھی وہی عادت اپنائیں گے۔ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرتے وقت احتیاط کرنا اور آن لائن گفتگو میں شائستگی اختیار کرنا بھی مثبت مثال قائم کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بچوں کو ایسے پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ترغیب دینی چاہیے جہاں وہ نئی مہارتیں سیکھ سکیں، اپنی دلچسپیوں کو آگے بڑھا سکیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اس کے ساتھ جسمانی کھیل، خاندانی وقت اور آف لائن سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

یونیسیف نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسکولوں کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور مقامی ہیلپ لائنز کے بارے میں بھی معلومات رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yobzwXl

اتوار، 3 مئی، 2026

ڈیجیٹل دنیا: خواتین کی سیلف سنسرشپ

مصنوعی ذہانت (اے آئی)کے جدید دور میں خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کے خلاف آن لائن تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اس نے ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال نے ڈیپ فیکس اور نجی تصاویر کے غیر قانونی پھیلاؤ کو آسان بنا دیا ہے، جس کا مقصد خواتین کی آواز کو دبانا اور ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

اس ہراساں کیے جانے کے عمل سے خواتین میں ذہنی امراض، جیسے کہ ڈپریشن اور بے چینی کی شرح بڑھی ہے اور بہت سی خواتین خود کو محفوظ رکھنے کے لیے خود ساختہ سنسرشپ یا خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ بات باعث تشویش ہے کہ موجودہ قانونی تحفظ ناکافی ہے، جس کی وجہ سے خواتین کو کام کی جگہوں اور سوشل میڈیا پر شدید غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر حقوق کی پامالی کا یہ سلسلہ نہ صرف انفرادی زندگیوں بلکہ جمہوریت اور اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم

ٹیکنالوجی کا یہ انقلاب، جو ہماری آواز بننا تھا، اب ہماری شناخت مٹانے کا آلہ بن چکا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں خواتین، بالخصوص صحافی اور انسانی حقوق کی علمبردار، ایک ایسی جنگ کا سامنا کر رہی ہیں جہاں ہتھیار گولی نہیں بلکہ الگورتھم اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہیں۔ ڈیجیٹل خاموشی (ڈیجیٹل سائلنسنگ) کے عنوان سے سامنے آنے والی حالیہ رپورٹ ایک بھیانک تصویر پیش کرتی ہے: ٹیکنالوجی اب صرف ترقی کا ذریعہ نہیں رہی، بلکہ اسے منظم طریقے سے "ڈیجیٹل استبداد"کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ آدھی آبادی کو عوامی منظر نامے سے غائب کر دیا جائے۔

بدسلوکی کا نیا خطرناک ہتھیار

مصنوعی ذہانت نے آن لائن تشدد کو نہ صرف پیچیدہ بنا دیا ہے بلکہ اسے ایک خطرناک وسعت دے دی ہے۔ اب بدسلوکی صرف ٹرولنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اے آئی کی مدد سے کسی کی ساکھ منٹوں میں راکھ کی جا سکتی ہے۔ سال 2025کے ایک عالمی سروے کے مطابق : 12 فیصد خواتین صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو ان کی ذاتی تصاویر کی غیر رضامندی کے ساتھ تشہیرکا سامنا کرنا پڑا۔ 6 فیصد خواتین "ڈیپ فیکس"کا شکار ہوئیں، جہاں اے آئی کے ذریعے ان کی ایسی جعلی تصاویر یا ویڈیوز بنائی گئیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی لگتی ہیں۔ اور ہر تین میں سے ایک خاتون کو انٹرنیٹ پر بن مانگی پیش قدمیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو پلیٹ فارمز کی نظامیاتی ناکامی کا ثبوت ہے۔

اعداد و شمار میں دگنا اضافہ

یہ کوئی وقتی لہر نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا بحران ہے۔ سال 2020 کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کے خلاف آن لائن تشدد کی رپورٹنگ میں دگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی کالیوپی منگیرو اس صورتحال کو جمہوری پسپائی سے جوڑتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ’’مصنوعی ذہانت بدسلوکی کو آسان اور زیادہ نقصان دہ بنا رہی ہے۔ یہ جمہوری پسپائی اور منظم صنفی عداوت (نیٹ ورکڈ مِسوجنی)کے تناظر میں ان حقوق کی پامالی کا سبب بن رہی ہے جو ہم نے دہائیوں کی محنت سے حاصل کیے تھے۔‘‘

خود ساختہ سنسرشپ

جب ڈیجیٹل فضا زہریلی ہو جاتی ہے، تو اس کا سب سے بڑا نقصان "خاموشی" کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ صحافت کے بنیادی جوہر پر حملہ ہے۔ تقریباً 45 فیصد خواتین صحافیوں نے بدسلوکی کے خوف سے سوشل میڈیا پر خود ساختہ (سیلف) سنسرشپ اختیار کر لی ہے، جو کہ سال 2020 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 22 فیصد خواتین صحافی اب اپنے پیشہ ورانہ کام اور تحقیقاتی رپورٹنگ میں بھی سنسرشپ کا شکار ہو رہی ہیں۔ جب ایک صحافی کسی طاقتور گروہ کے خلاف لکھنے سے اس لیے رک جاتی ہے کہ اسے آن لائن وحشیانہ مہم کا ڈر ہے، تو یہ صرف اس کی خاموشی نہیں بلکہ جمہوریت کی موت ہے۔

ذہنی صحت پر گہرے اثرات

آن لائن تشدد کے زخم جسمانی نہیں ہوتے، مگر ان کی اذیت زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 24.7فیصد خواتین صحافی انزائٹی یا ڈپریشن کا شکار ہیں، جبکہ 13 فیصد میں پی ٹی ایس ڈی(پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر) کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس انسانی المیے کو ان دو الگ الگ کہانیوں سے سمجھا جا سکتا ہے: ہندوستان سے تعلق رکھنے والی ایک ماحولیاتی صحافی بتاتی ہیں کہ ’’جب دائیں بازو کے گروہ مجھے آن لائن 'غدار' قرار دیتے ہیں اور واٹس ایپ پر جھوٹے الزامات پھیلائے جاتے ہیں، تو اپنے ہی ملک میں رہنا خوفناک ہو جاتا ہے۔ ہم نے تحقیقاتی رپورٹنگ سے ہاتھ کھینچ لیا ہے کیونکہ یہ گروہ اب میرے رشتہ داروں کو ہراساں کرتے ہیں۔‘‘

اسی طرح ایک اور صحافی اور کمیونٹی آرگنائزر نے اپنی ملازمت چھوڑنے کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آن لائن دباؤ اس قدر ناقابلِ برداشت تھا کہ میں نے دسمبر 2023 میں استعفیٰ دے دیا۔ اب میں گھر پر ہوں اور صرف اپنی ذہنی صحت بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں اب صرف چاول کی کانجی پر گزارہ کر رہی ہوں کیونکہ کام سے نکالے جانے کے بعد میرے پاس کوئی مالی سہارا نہیں بچا۔"

قانونی خلا اور بگ ٹیک کی ذمہ داری

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ بحران قوانین کی کمی سے زیادہ ’نظامیاتی ناکامی‘ کا نتیجہ ہے۔ ورلڈ بینک کے ڈیٹا کے مطابق، دنیا کے 40 فیصد سے بھی کم ممالک میں سائبر ہراسانی کے خلاف موثر قوانین موجود ہیں۔ اگرچہ پولیس رپورٹنگ میں اضافہ ہوا ہے11فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد اور قانونی کارروائی کی شرح 14 فیصد تک پہنچی ہے، لیکن اصل مسئلہ ’سہولت کاروں‘ کا ہے۔ گوگل، میٹا اور ایکس (ٹویٹر) جیسے پلیٹ فارمز اس تشدد کو روکنے کے بجائے اسے ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔ جب تک ٹیکنالوجی کمپنیاں جوابدہ نہیں ہوں گی، صرف قوانین کافی نہیں ہوں گے۔

’ڈیجیٹل سائلنسنگ‘ یا خاموش کر دینے کا یہ عمل دراصل ہماری آنے والی نسلوں کی آواز چھیننے کی کوشش ہے۔ اگر ٹیکنالوجی کو انسانی حقوق کی پامالی کے لیے ڈھال بنایا جاتا رہا، تو وہ وقت دور نہیں جب ڈیجیٹل دنیا صرف ایک مخصوص گروہ کی جاگیر بن کر رہ جائے گی۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا کا حصہ بنے رہنا چاہتے ہیں جہاں آدھی آبادی کی آواز کو دبانے کے لیے ٹیکنالوجی کو ایک مہلک ہتھیار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہو؟ اس کا جواب ہماری خاموشی میں نہیں بلکہ مزاحمت اور مطالبہ انصاف میں چھپا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Yjpfenz

بدھ، 29 اپریل، 2026

چین نے قومی سلامتی کے خدشات پر میٹا اور مانُس کے درمیان دو ارب ڈالر کی اے آئی ڈیل منسوخ کر دی

نئی دہلی: چین نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کو روکتے ہوئے میٹا اور تیزی سے ابھرتی اے آئی کمپنی مانُس کے درمیان مجوزہ دو ارب ڈالر کی ڈیل کو قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے منسوخ کر دیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف عالمی ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کے ماحول میں ہلچل پیدا کی ہے بلکہ سرحد پار ہونے والے معاہدوں پر بڑھتی نگرانی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ چین کے نیشنل ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کی جانب سے کیا گیا، جس نے 2021 میں نافذ کیے گئے غیر ملکی سرمایہ کاری کے حفاظتی ضوابط کے تحت اس سودے کو مسترد کرنے کا حکم دیا۔ اس اقدام سے واضح ہوتا ہے کہ چین اپنی حساس ٹیکنالوجی اور ہنر کو بیرونی کمپنیوں تک منتقل ہونے سے روکنے کے لیے مزید سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ڈیل کو روکنے کی وجہ صرف کمپنی کی رجسٹریشن کی جگہ نہیں بلکہ اس کے چین کے ساتھ اندرونی روابط، ٹیکنالوجی کی تیاری اور ڈیٹا کے تحفظ سے جڑے مسائل ہیں۔ چینی حکام نے خاص طور پر اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ مانُس کے چین میں موجود انجینئرنگ وسائل اور تکنیکی ڈھانچے کا فائدہ ایک غیر ملکی کمپنی کو منتقل ہو سکتا ہے۔

مانُس، جو اے آئی کے میدان میں تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنی کے طور پر سامنے آئی ہے، نے ابتدا میں امریکی سرمایہ کاروں سے مالی مدد حاصل کی تھی اور بعد میں اپنے آپریشنز بیرون ملک منتقل کر دیے تھے۔ اس کے باوجود چینی حکام نے اس کے چین کے ساتھ باقی رہ جانے والے روابط کو سنجیدگی سے لیا اور انہیں قومی مفادات کے لیے حساس قرار دیا۔

اس فیصلے کے تحت دونوں کمپنیوں کے درمیان ہونے والے تمام معاہدوں کو واپس لیا جائے گا۔ اس میں حصص کی منتقلی کو منسوخ کرنا، سرمایہ واپس کرنا اور دانشورانہ ملکیت کی واپسی جیسے پیچیدہ مراحل شامل ہیں، جو خاص طور پر اے آئی جیسے حساس شعبے میں نہایت نازک سمجھے جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک واضح پیغام گیا ہے کہ چین اب ان سودوں پر کڑی نظر رکھے گا جن میں اس کی ٹیکنالوجی یا افرادی قوت کا بالواسطہ یا بلاواسطہ تعلق شامل ہو۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ وہ کمپنیاں جو بظاہر بیرون ملک رجسٹرڈ ہیں لیکن ان کی جڑیں چین سے جڑی ہیں، وہ بھی ان قوانین کے دائرے میں آ سکتی ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کو اسٹریٹیجک اہمیت حاصل ہو چکی ہے اور بڑی طاقتیں اس پر کنٹرول کو اپنے قومی مفادات سے جوڑ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مستقبل میں سرمایہ کار اپنی ٹیکنالوجی، تحقیق اور آپریشنز کو جغرافیائی طور پر الگ رکھنے پر زیادہ توجہ دیں گے تاکہ اس نوعیت کی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔

چین کے اس اقدام سے نہ صرف میٹا جیسے بڑے اداروں کو دھچکا لگا ہے بلکہ یہ عالمی ٹیک معاہدوں کے لیے ایک نئے دور کی شروعات بھی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں سلامتی اور ڈیٹا تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/juwHEKI

جمعہ، 24 اپریل، 2026

نئے اے آئی ماڈل پر عالمی تشویش، حکومت متحرک، مالیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات

نئی دہلی میں مالیاتی نظام کو درپیش ممکنہ خطرات کے پیش نظر حکومت نے ایک اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا، جس میں بینکوں اور مرکزی بینک کے اعلیٰ عہدیداران نے شرکت کی۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کی، جبکہ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو بھی شریک رہے۔ اجلاس میں انتھروپک کمپنی کے تیار کردہ جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل ’مائتھوس‘ سے پیدا ہونے والے سکیورٹی خدشات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر خاص توجہ دی گئی کہ مائتھوس اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے باعث روایتی سائبر سکیورٹی نظام کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ماڈل کمپیوٹر سسٹمز، ویب براؤزرز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں موجود ایسی خامیوں کی نشاندہی کر سکتا ہے، جو طویل عرصے سے پوشیدہ رہی ہیں۔ یہی صلاحیت اسے نہ صرف مفید بلکہ ممکنہ طور پر خطرناک بھی بناتی ہے، خاص طور پر اگر اس کا غلط استعمال کیا جائے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اجلاس میں کہا کہ مائتھوس جیسے جدید اے آئی ماڈلز کے اثرات غیر معمولی نوعیت کے ہو سکتے ہیں، اس لیے مالیاتی اداروں کو اپنی سکیورٹی حکمت عملیوں کو فوری طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے اور کسی بھی ممکنہ سائبر حملے سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مختلف اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا ایک مربوط اور مؤثر نظام قائم کیا جائے، تاکہ کسی بھی خطرے کی بروقت شناخت ممکن ہو سکے۔ اس حوالے سے تجویز دی گئی کہ بینکوں، متعلقہ سکیورٹی اداروں اور دیگر ایجنسیوں کے درمیان حقیقی وقت میں معلومات شیئر کرنے کا مضبوط ڈھانچہ تیار کیا جائے، جو پورے مالیاتی نظام کو محفوظ بنانے میں مدد دے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت ایک جدید تکنیکی انفراسٹرکچر کی تیاری پر بھی غور کر رہی ہے، جو کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری نشاندہی کر سکے اور اس کے خلاف بروقت کارروائی کو یقینی بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سائبر سکیورٹی ماہرین کے ساتھ مل کر اپنے نظام کو مزید محفوظ بنائیں اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو اپ ڈیٹ کریں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مائتھوس اے آئی ماڈل کو لے کر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتیں اور مالیاتی ادارے اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اپنی سکیورٹی حکمت عملیوں کو ازسر نو ترتیب دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس ماڈل تک رسائی محدود رکھی گئی ہے، تاہم غیر مجاز استعمال کے خدشات بھی سامنے آئے ہیں، جس نے عالمی سطح پر سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مائتھوس جیسی ٹیکنالوجی مستقبل میں سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس کے غلط استعمال کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کیے گئے حالیہ اقدامات کو احتیاطی اور ضروری قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ مالیاتی نظام کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JPIgHDG

اتوار، 19 اپریل، 2026

آرٹیمس کی کامیابی: خلائی تحقیق میں نئے دور کا آغاز

چاند کے ارد گرد دس دن کے سفر کے بعد، امریکی نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے آرٹیمس 2 مشن پر موجود چار خلاباز 10 اپریل کو زمین پر واپس لوٹ آئے۔ اس تاریخی مشن نے قمری ’فلائی بائی‘ کے دوران خلا میں انسان کے سب سے زیادہ دور تک جانے کا ریکارڈ قائم کیا ، ساتھ ہی یہ مشن 1972 کے بعد چاند کی سطح پر واپسی کے لیے ایک اہم قدم تھا جس نے مستقبل کی خلائی تحقیق کی بنیاد رکھی۔ آرٹیمس پروگرام کا مقصد چاند پر پائیدار انسانی موجودگی کو قائم کرنا، قمری جنوبی قطب کو دریافت کرنا اور مریخ پر مستقبل کے عملے کے مشن کے لیے ٹیکنالوجی کی جانچ کرنا ہے۔

اقوام متحدہ نے اس تاریخی سنگ میل کو انسانی خلائی پرواز کے عالمی دن کے موقع پر منایا۔ اقوام متحدہ کے چیمپئن برائے خلا، بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہر طبیعیات، مصنف اور براڈکاسٹر پروفیسر برائن کاکس نے مشن کے بارے میں بتایا کہ "یہ اب صرف ریسرچ کے بارے میں نہیں ہے، یہ ہر ایک کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیےہے۔ جیسے ہی ہم خلا میں جاتے ہیں، یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے سیارے یعنی زمین سے فرار نہیں ہو رہے ہیں، اور زمین کم اہم نہیں ہو رہی ہے... بلکہ ہم اس پر اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کر رہے ہیں"۔ انہوں نے زور دیا کہ زمین ہمارے لیے کائنات کا بہترین سیارہ ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم ارتقاء پذیر ہوئے۔ پروفیسر کاکس کے مطابق، خلاء اب سائنس فکشن نہیں ہے، بلکہ ہماری تمام زندگیوں اور ہماری معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔

خلائی ٹیکنالوجی کی صلاحیت

خلائی ٹیکنالوجی ہمارے سیارے کو درپیش سب سے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان میں موسمیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی شامل ہیں۔ پروفیسر کاکس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ زیادہ سے زیادہ چیزیں جن کو ہم زمین پر بے قدری کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ خلا پر مبنی معیشت کا حصہ بن رہی ہیں۔ سیٹلائٹ کی تصویریں زمین پر ہمیں درپیش چیلنجوں کا واضح منظر پیش کرتی ہیں، جیسے فصلوں کی پیداوار کی نگرانی، پانی کے وسائل کا انتظام، اور جنگلات کی کٹائی کو حقیقی وقت میں ٹریک کرنا۔ دریں اثنا، سیٹلائٹ کے ذریعے دور افتادہ علاقوں میں اسکولوں کے لیے ای لرننگ یا دور دراز علاقوں میں ٹیلی میڈیسن کو فعال کر سکتی ہے۔

اسپیس کے لیے اپنے شوق کو دنیا کے ساتھ بانٹتے ہوئے، کاکس نے یاد دلایا کہ خلا ہر ایک کی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے کردار کو ’اسٹراٹاسفیئر‘ سے باہر کنوینر، خلا کے لیے ایک گیٹ وے، اور قوموں کے لیے پرامن طریقے سے خلا کو تلاش کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے والے کے طور پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، خلا لوگوں کو اکٹھا کرتی ہے کیونکہ وہاں کوئی سرحدیں نہیں ہوتیں۔انہوں نے بتایا خلا میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ، اقوام متحدہ کا دفتر برائے بیرونی خلائی امور (یواین او او ایس اے) رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے، بشمول قمری تعاون، خلائی ٹریفک، خلائی وسائل، اور سیاروں کا دفاع۔

اپالو-سویوز خلائی مشن

پروفیسر کاکس نے اس بات پر زور دیا کہ خلا کے لیے ہمیشہ سے ایک آئیڈیلزم پایا گیا ہے، لیکن یہ کوئی سادہ آئیڈیل ازم نہیں ہے۔ انہوں نے 1975 کے اپولو-سویوز مشن کو یاد کیا، جو امریکہ اور اس وقت کے سوویت یونین کے درمیان سائنسی اور سیاسی تعاون کا ایک اہم لمحہ تھا، اور پہلی بار دو ممالک کا خلائی جہاز مدار میں پہنچا تھا۔ یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ امریکہ اور سوویت یونین مل کر ایسی ٹیکنالوجیز تیار کریں گے جو ہم آج بھی خلا میں استعمال کر رہے ہیں۔ خلابازوں نے خلا میں بنی نوع انسان کی تمام کامیابیوں کو تسلیم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے جھنڈے کا تبادلہ کیا تھا۔

پروفیسر کاکس کے مطابق، اس بات کو یقینی بنانا کہ ہر کوئی اپنا حصہ ڈال سکتا ہے اور فائدہ اٹھا سکتا ہے بالآخر خلا میں ہمارے سفر کو آسان بنا دیتا ہے۔ حال ہی میں، یواین او او ایس اے نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ کینیا، ماریشس، مالڈووا اور گوئٹے مالا سمیت کئی ممالک کو اپنے پہلے سیٹلائٹ کی تعیناتی میں مدد کی ہے۔ جیسے جیسے زیادہ ممالک خلائی برادری میں شامل ہو رہے ہیں، اقوام متحدہ کے ادارے نے ابھرتی ہوئی خلائی قوموں کو قومی خلائی قوانین کے مسودے میں مدد کی ہے تاکہ ان کے قوانین بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں۔

خلا میں ملبے سے خطرہ

خلا ایک وسیع جگہ ہے، لیکن اس میں تیزی سے ہجوم ہوتا جا رہا ہے۔ 2025 میں، 4500 سے زیادہ نئے سیٹلائٹس لانچ کیے گئے، اس کے برعکس 2015 میں صرف 200 سے زیادہ لانچ کیے گئے۔ پروفیسر کاکس نے متنبہ کیا کہ بہت سی اشیاء خلاء میں بکھر جاتی ہیں اور ’جنک‘ پیدا کرتی ہیں، اندازوں کے مطابق زمین کے مدار میں ملبے کے 13 کروڑ ٹکڑے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک سینٹی میٹر سے بھی کم چھوٹے ٹکڑے بھی تباہ کن نقصان کا باعث بن سکتے ہیں، جس سے مزید تصادم کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

مریخ پر انسانی قدموں کی امید

ان عملی طریقوں کو تسلیم کرتے ہوئے جن سے خلا ہماری روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے، پروفیسر کاکس رومانیت کو خلا سے دور نہیں لے جانا چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ جس دریافت کو وہ اپنی زندگی میں دیکھنےکے خواہشمند ہیں وہ "ایک اور دنیا" کی دریافت ہوگی۔ انہیں یقین ہے کہ زمیں کے علاوہ کہیں نہ کہیں زندگی ہے۔ اگر نظام شمسی کے بہت سے چاندوں اور ممکنہ طور پر مریخ پر بھی جرثومے موجود ہوں تو وہ حیران نہیں ہوں گے۔ انہیں امید ہے کہ ایک دن انسان اقوام متحدہ کے جھنڈے کے ساتھ مریخ پر قدم رکھے گا ۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nPKCoGz

اتوار، 12 اپریل، 2026

آرٹیمس 2: چاند پر رہائش حقیقت کے قریب

پچاس سال سے زائد طویل انتظار کے بعد، بنی نوع انسان نے ایک بار پھر چاند کی دہلیز پر دستک دے دی ہے۔ یکم اپریل کو جب ناسا کا ’آرٹیمس 2‘ مشن خلا کی وسعتوں کی جانب روانہ ہوا، تو یہ محض ایک آزمائشی پرواز نہیں بلکہ انسانی عزم، ہمت اور ٹیکنالوجی کے ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ اس تاریخی 10 روزہ مشن پر چار جری خلا باز— ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈین اسپیس ایجنسی کے جیریمی ہینسن— سوار تھے، جنہوں نے ’اورین‘ خلائی جہاز میں بیٹھ کر وہ مسافتیں طے کیں جو نصف صدی سے ادھوری تھیں۔

کیا یہ تاریخی مشن صرف ایک تجرباتی سفر تھا، یا اس نے مستقبل میں چاند پر انسانی بستیوں کے قیام کی حتمی بنیاد رکھ دی ہے؟ آئیے، چاند کی جانب واپسی کے سفر کے ان حقائق کا جائزہ لیتے ہیں جو اسے انسانی تاریخ کا ایک منفرد باب بناتے ہیں۔

انسانی تاریخ کا طویل ترین سفر

آرٹیمس 2 نے وہ سنگ میل عبور کر لیا ہے جو 1970 میں اپالو 13 کے مشن نے قائم کیا تھا۔ اس مشن کے دوران خلاباز زمین سے 252,756 میل کے انتہائی فاصلے تک گئے، جو کہ انسانی تاریخ میں کسی بھی انسان کا اپنے گھر (زمین) سے سب سے زیادہ فاصلہ ہے۔ مجموعی طور پر آرٹیمس 2 کے عملے نے 694,481 میل کا سفر طے کیا۔ یہ فاصلہ محض ریاضی کا ایک عدد نہیں بلکہ ’گہرے خلا‘ (ڈیپ اسپیس) میں انسان کے بڑھتے ہوئے قدموں اور مستقبل کی مریخ کی مہمات کے لیے تیاری کی علامت ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا (نیشنل ایروناٹکس اوراسپیس ایڈمنسٹریشن) کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے عملے کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’آرٹیمس 2 نے غیر معمولی مہارت، ہمت اور لگن کا مظاہرہ کیا کیونکہ عملے نے اورین، اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس( اور انسانی مہم جوئی کو پہلے سے کہیں زیادہ دور تک پہنچا دیا۔ اس راکٹ اور خلائی جہاز کو اڑانے والے پہلے خلابازوں کے طور پر، عملے نے اس علم کی خاطر بڑا خطرہ مول لیا جو ہم حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اس مستقبل کے لیے جسے ہم تعمیر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘

ناسا کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر امت شتریہ نے عالمی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا، ’’یہ لمحہ ان ہزاروں لوگوں کا ہے جنہوں نے چودہ ممالک میں اس جہاز کو بنایا، آزمایا اور اس پر بھروسہ کیا۔ ان کے کام نے 25,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی چار انسانی جانوں کی حفاظت کی اور انہیں بحفاظت زمین پر واپس لایا۔‘‘

کششِ ثقل کا انوکھا کھیل

اس مشن کی سب سے نمایاں تکنیکی خاصیت 'فری ریٹرن ٹراجیکٹری' کا کامیاب استعمال تھا۔ سادہ الفاظ میں، 'اورین' جہاز نے چاند کے گرد انگریزی کے ہندسے '8' کی شکل کا ایک طویل چکر لگایا۔ اس راستے کا انتخاب اس لیے کیا گیا تاکہ جہاز صرف کششِ ثقل کو استعمال کرتے ہوئے، کسی اضافی انجن پاور کے بغیر، خود بخود زمین کی طرف مڑ سکے۔

اگرچہ ماضی میں اپالو 13 کو ایک ہنگامی صورتحال میں یہ راستہ اختیار کرنا پڑا تھا، لیکن آرٹیمس 2 تاریخ کا وہ پہلا انسانی مشن ہے جس نے "معمول کے مطابق حالات" میں، باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اس پیچیدہ راستے کو کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ہم خلا میں نیویگیشن کے فن میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔

خاتون کے زیرِ قیادت تاریخ ساز کارنامہ

آرٹیمس 2 نے سماجی اور پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی نئی تاریخ رقم کی۔ یہ ناسا کا پہلا انسانی خلائی مشن تھا جس کی لانچنگ کی نگرانی ایک خاتون لانچ ڈائریکٹر، چارلی بلیک ویل تھامسن نے کی۔ کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کنٹرول سینٹر سے اس اہم مشن کی کمان سنبھالنے والی تھامسن اس سے قبل اسپیس شٹل پروگرام میں ٹیسٹ ڈائریکٹر رہ چکی ہیں۔ ان کی قیادت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ جدید خلائی مشنز میں مہارت اور قیادت اب کسی خاص صنف تک محدود نہیں۔

سفر کے دوران سحر انگیز نظارے

آرٹیمس 2 محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک متحرک سائنسی تجربہ گاہ تھی۔ مشن کے دوران خلابازوں نے چاند کی سطح اور کائنات کے دیگر مناظر کی 7,000 سے زائد تصاویر لیں۔ ان تصاویر کا سب سے اہم پہلو 'ٹرمینیٹر' یعنی دن اور رات کی سرحد کی نقشہ سازی کرنا تھا۔ کم زاویے سے پڑنے والی روشنی کی مدد سے حاصل کردہ یہ ڈیٹا 2028 میں چاند کے قطب جنوبی پر ہونے والی لینڈنگ کے لیے روشنی کے حالات کو سمجھنے میں کلیدی ثابت ہوگا۔

اس سفر کا ایک اور سحر انگیز لمحہ وہ تھا جب خلابازوں نے اورین کے اندر سے ’سورج گرہن‘ کا نظارہ کیا، جہاں چاند نے ان کی آنکھوں کے سامنے سورج کو ڈھانپ لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ 'اوتار' نامی تحقیق کے ذریعے یہ مطالعہ بھی کیا گیا کہ گہرے خلا کی تابکاری اور مائیکرو گریوٹی انسانی بافتوں (ہیومن ٹیشو) پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے، تاکہ مستقبل کے طویل مدتی مریخ مشنز کو محفوظ بنایا جا سکے۔

’مون بیس‘ کی تعمیر عنقریب

اس مشن میں استعمال ہونے والے اورین کیپسول کو عملے نے ’انٹیگریٹی‘ کا نام دیا۔ اسے دنیا کے سب سے طاقتور راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ کے ذریعے فضا میں بلند کیا گیا جس نے 8.8 ملین پاؤنڈ تھرسٹ پیدا کیا۔ مشن کے دوران خلا بازوں نے جہاز کا مینوئل کنٹرول سنبھال کر پائلٹنگ کی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ مشق محض شوقیہ نہیں تھی، بلکہ یہ آرٹیمس 3 کے دوران دوسرے جہازوں کے ساتھ 'ڈاکنگ 'یعنی جڑنے کے عمل کی ایک اہم ریہرسل تھی تاکہ مستقبل میں چاند پر اترنے والے لینڈرز کے ساتھ بحفاظت جڑا جا سکے۔

10 اپریل کو سان ڈیاگو کے ساحل پر جب 'انٹیگریٹی' کیپسول سمندر میں گرا، تو امریکی بحریہ کے جہاز 'یو ایس ایس جان پی مرتھا' کی مدد سے عملے کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ آرٹیمس 2 کی کامیابی نے اب آرٹیمس 3 کی راہ ہموار کر دی ہے، جس کا مقصد انسان کو دوبارہ چاند کی سطح پر اتارنا اور وہاں مستقل قیام کے لیے 'مون بیس' تعمیر کرنا ہے۔ جب انسان چاند پر مستقل رہائش اختیار کر لے گا، تو ہماری اپنی زمین کے بارے میں سوچ اور کائنات میں ہمارے مقام کا نظریہ کیسے بدل جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اب زیادہ دور نہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/G5c6qxY

بدھ، 8 اپریل، 2026

آرٹیمس 2: اورین میں نصب 32 کیمرے اور کریو کے 17 ہینڈہیلڈ ڈیوائس نے زمین-چاند کی خوبصورت تصاویر کیں قید

امریکی اسپیس ایجنسی ناسا نے آرٹیمس 2 مشن کے دوران لی گئی زمین اور چاند کی حیرت انگیز تصاویر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کی ہیں۔ ان تصاویر کو پوسٹ کرتے ہوئے ناسا نے لکھا کہ ’’ہیلو چاند، یہاں آ کر بہت اچھا لگا۔‘‘ آرٹیمس 2 کے خلائی مسافر چاند کا چکر لگاتے ہوئے اس کے ان حصوں کو دیکھ پائے، جنہیں انسانی آنکھوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ انہوں نے ان انوکھے نظاروں کو تصاویر اور الفاظ میں قید کر لیا، جو ہم آپ کو دکھا رہے ہیں۔ آرٹیمس 2 مشن کے دوران خلائی مسافر ریڈ وائزمین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن نے زمین اور چاند کے کئی یادگار نظارے کیمرے میں اتارے اور مسلسل شیئر کر رہے ہیں۔ ان میں پہلی بار اسمارٹ فون سے لی گئی خلائی تصاویر بھی شمال ہیں۔

اورین اسپیس کرافٹ میں مجموعی طور پر 32 کیمرے اور 70 فوٹو-ویڈیو لینے والے آلات نصب ہیں۔ ان میں 15 کیمرے اسپیس کرافٹ پر ہی لگے ہوئے ہیں، جو لانچر، سولر ایرے ڈپلائمنٹ، چاند کے چاروں طرف سفر اور دیگر اہم لمحات کو ریکارڈ کر رہے ہیں۔ بقیہ 17 ہینڈہیلڈ ڈیوائس چاروں خلائی مسافرین کے پاس ہیں، جن میں نکان ڈی 5 ڈی ایس ایل آر، نکان زیڈ 9 مِررلیس کیمرہ، گروپو اور اسمارٹ فون شامل ہیں۔ یہ تمام آلات انجنیئرنگ، نیوی گیشن، کریو کی نگرانی اور چاند سے متعلق سائنس اور آؤٹ ریچ سرگرمیوں میں مدد کر رہے ہیں۔

ناسا کے مطابق اورین اسپیس کرافٹ پر لگے بیرونی کیمرے سولر ایرے سے لے کر کیبن کے اندرونی نظارہ تک ہر زاویہ سے مشن کو قید کر رہے ہیں۔ ایک خاص آپٹیکل نیوی گیشن کیمرہ زمین اور چاند کی تصاویر لے کر اسپیس کرافٹ کو گہرے خلا میں اپنی پوزیشن طے کرنے میں مدد دے رہا ہے۔ 4 اراکین پر مشتمل عملے نے ان جدید کیمروں کی مدد سے زمین کی ایسی تصاویر لی ہیں، جن میں شمالی اور جنوبی دونوں جانب آرورا لائٹ بھی ایک ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ کچھ تصاویر اسمارٹ فون سے لی گئی ہیں، جو خلائی پرواز کے لیے پہلی بار منظور ہوئی ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ آرٹیمس 2 کی کچھ ابتدائی تصاویر 1968 میں اپولو 8 مشن کے دوران بِل اینڈرس کے ذریعہ لی گئی مشہور ’آرتھرائز‘ (طلوع ارض) کی تصویر کی یاد دلاتی ہے۔ اس وقت ہیسلبلیڈ فلم کیمرہ اور 250 ملی میٹر لینس کا استعمال ہوا تھا۔ آج آرٹیمس 2 کے خلائی مسافرین کے پاس 400-80 ملی میٹر ٹیلی فوٹو لینس اور بہتر ڈیجیٹل کیمرے دستیاب ہیں، جس سے ہائی کوالیٹی والی تصاویر لینا آسان ہو گیا ہے۔ پھر بھی پرواز کی رفتار اور وقت کی وجہ سے بالکل ویسی ہی تصویر دوبارہ قید کرنا چیلنجنگ رہا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/I57fA94

منگل، 7 اپریل، 2026

آرٹیمس 2 نے رقم کی تاریخ! چاند کی حد سے نکل کر اورین خلائی جہاز زمین کی طرف روانہ

چاند پر اپنا تاریخی سفر مکمل کرنے کے بعد آرٹیمیس 2 مشن کے تمام 4 خلاباز اب بحفاظت زمین کی طرف واپس آ رہے ہیں۔ منگل کی رات تقریباً 10:55 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق) ان کا اورین خلائی جہاز چاند کے اس علاقے سے باہر نکل آیا جہاں تک چاند کی کشش ثقل موثر رہتی ہے۔ اب زمین کی کشش ثقل خلائی جہاز پر زیادہ اثر ڈال رہی ہے اور یہ تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ چاند سے دور پہنچنے کے بعد آرٹیمیس 2 مشن کے خلاباز اب تقریباً 3 دن کے واپسی کے سفر پر ہیں۔ اس سفر کے دوران ان کا بنیادی مقصد زمین پر بحفاظت واپس لوٹنا ہے۔

واضح رہے کہ اس کے لیے وہ وقتاً فوقتاً چھوٹے انجن فائر کریں گے، جنہیں ٹریجیکٹری کریکشن برنز کہا جاتا ہے۔ ان کا کام خلائی جہاز کی سمت اور رفتار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ یہ صحیح زاویہ سے زمین کے ماحول میں داخل ہوسکے۔ اگر خلائی جہاز کا زاویہ درست نہیں ہے تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ بہت ہی معمولی نقطہ پر آنے سے خلائی جہاز سے ٹکرا کر واپس خلا میں جاسکتا ہے جبکہ جبکہ بہت تیز نقطہ پر آنے سے زیادہ گرمی کی وجہ سے نقصان ہوسکتا ہے۔

زمین پر واپسی کا سب سے مشکل اور اہم مرحلہ 10 اپریل کو ہوگا۔ اس دن اورین خلائی جہاز تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے ماحول میں داخل ہوگا۔ اس دوران درجہ حرارت تقریباً 2,760 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ اس چیلنج سے نپٹنے کے لیے سائنسدان اسکِپ ری انٹری تکنیک کا استعمال کریں گے۔ اس میں خلائی جہاز پہلے مختصر طور پر فضا میں داخل ہوگا، پھر کچھ دیر کے لیے باہر نکلے گا اور اس کے بعد دوبارہ داخل ہوگا۔ اس عمل خلابازوں پر دباؤ کم ہوتا ہے اور لینڈنگ زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔

یہ مشن 11 اپریل کو مکمل ہو جائے گا۔ تقریباً صبح 5:37 بجے (ہندوستانی وقت) خلائی جہاز سان ڈیاگو، کیلیفورنیا کے قریب بحر الکاہل میں اترے گا۔ وہاں امریکی بحریہ کا جہاز یو ایس ایس جان پی مرتھا پہلے سے موجود رہے گا۔ جیسے ہی کیپسول سمندر میں اترے گا، غوطہ خور اسے محفوظ کر یں گے اور خلابازوں کو باہر نکال کر جہاز میں لے جایا جائے گا۔ یہ مشن بہت خاص ہے کیونکہ تقریباً 50 سال بعد انسان پھر سے چاند کے اتنے قریب پہنچے ہیں۔ یہ مستقبل میں انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کی سمت میں ایک بڑا اور اہم قدم سمجھا جارہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HlRBPej

بدھ، 1 اپریل، 2026

ناسا نے تاریخ رقم کی، چاند کے قریب انسان روانہ

امریکی خلائی ادارہ ناسا(NASA) نے 2 اپریل 2026 کو اپنے اہم اور تاریخی آرٹیمس 2 مشن (Artemis II mission) کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا ہے، جس نے انسان کی چاند تک واپسی کی امیدوں کو ایک بار پھر روشن کر دیا ہے۔ یہ مشن اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ تقریباً 54 سال بعد انسان دوبارہ چاند کے قریب جانے کے سفر پر روانہ ہوئے ہیں۔

یہ لانچ کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا سے کیا گیا، جہاں سے دیوہیکل اسپیس لانچ سسٹم (SLS) راکٹ نے ہندوستانی وقت کے مطابق صبح 3:54 بجے پرواز بھری۔ اس مشن میں چار خلا باز اورین اسپیس ایئرکرافٹ میں سوار ہو کر چاند کے قریب تک جائیں گے۔یہ لانچ مکمل طور پر کامیاب رہا۔

آرٹیمس 2 دراصل لینڈنگ مشن نہیں بلکہ ایک 10 روزہ آزمائشی مہم ہے۔ اس دوران خلا باز چاند کے انتہائی قریب، تقریباً 9600 کلومیٹر کے فاصلے تک جائیں گے، اس کے گرد چکر لگائیں گے اور پھر زمین کی طرف واپس لوٹ آئیں گے۔ اس سفر کے دوران اورین کی گہرے خلا میں کارکردگی، لائف سپورٹ سسٹم، نیویگیشن، کمیونیکیشن اور ہیٹ شیلڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ واپسی کے وقت یہ کیپسول تقریباً 40 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے ماحول میں داخل ہوگا، جو ایک بڑا تکنیکی امتحان ہوگا۔

یہ مشن اس لیے بھی تاریخی حیثیت رکھتا ہے کہ Apollo 17 کے بعد پہلی بار انسان چاند کے اتنے قریب پہنچ رہے ہیں۔ آرٹیمس پروگرام دراصل چاند پر انسان کی مستقل واپسی کی بنیاد ہے۔ اس مشن کی کامیابی کے بعد NASA آرٹیمس 3 کے ذریعے چاند پر انسانوں کو اتارنے اور مستقبل میں وہاں مستقل بیس قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

مزید برآں، یہ مشن مستقبل میں مریخ تک انسانی رسائی کی تیاریوں کا بھی پیش خیمہ ثابت ہوگا اور نئی نسل کو خلائی سائنس کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ مشن کے دوران خلا باز چاند کے اُس حصے سے بھی گزریں گے جہاں کچھ وقت کے لیے زمین سے رابطہ منقطع ہو جائے گا، اور اس دوران کئی سائنسی تجربات کیے جائیں گے۔

تقریباً 10 دن بعد، اورین کیپسول پیراشوٹ کے ذریعے بحرالکاہل میں اترے گا۔ بلاشبہ، آرٹیمس 2 کی کامیاب لانچنگ خلائی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ ہے، جو نہ صرف امریکہ بلکہ پوری انسانیت کے لیے نئی امیدوں اور امکانات کے دروازے کھولتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dSim0z5

اوریکل میں بڑے پیمانے پر برطرفیاں: ہزاروں ملازمین متاثر، ایک خاتون ملازمہ کا حوصلہ افزا پیغام وائرل

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بڑے پیمانے کی برطرفیوں نے عالمی سطح پر ملازمین کو شدید بے یقینی میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ ہندوستان اس عمل سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل بتایا جا رہا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق کمپنی نے اپنے کاروباری ڈھانچے میں تبدیلی اور مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری کے پیش نظر ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق عالمی سطح پر تقریباً 30 ہزار ملازمین زد میں آئے ہیں، جو کمپنی کی مجموعی افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ بنتا ہے۔ ہندوستان میں اس کے اثرات خاص طور پر نمایاں رہے، جہاں اندازاً 12 ہزار ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کئی ملازمین نے سوشل میڈیا پر اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں علی الصبح، بعض صورتوں میں صبح پانچ یا چھ بجے، ای میل کے ذریعے ملازمت ختم ہونے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد فوری طور پر ان کی سسٹم تک رسائی بھی ختم کر دی گئی۔

متاثرہ ملازمین کے مطابق اس فیصلے سے قبل نہ تو کوئی واضح اشارہ دیا گیا اور نہ ہی انتظامیہ کی جانب سے پیشگی گفتگو کی گئی، جس کے باعث یہ عمل مزید صدمہ خیز ثابت ہوا۔ کچھ افراد نے لکھا کہ برسوں کی خدمات کے باوجود انہیں ایک مختصر پیغام کے ذریعے فارغ کر دیا گیا، جبکہ کئی ٹیموں میں آدھے سے زیادہ افراد کو نکالے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

کمپنی کی جانب سے اندرونی سطح پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا گیا کہ تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کے باعث کچھ عہدے غیر ضروری ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ قدم اٹھانا پڑا۔ ساتھ ہی متاثرہ ملازمین کے لیے ایک پیکج کا ذکر بھی کیا گیا، جس میں ہر سال کی ملازمت کے بدلے 15 دن کی تنخواہ، ایک ماہ کا نوٹس پیریڈ، چھٹیوں کی ادائیگی اور دیگر مراعات شامل ہیں، تاہم بعض شرائط اس سے منسلک بتائی جا رہی ہیں۔

ان تمام منفی خبروں کے درمیان ایک خاتون ملازمہ کی سوشل میڈیا پوسٹ نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ اس خاتون نے، جو حالیہ برطرفیوں کا شکار ہوئیں، اپنے پیغام میں نہایت مثبت اور حوصلہ افزا انداز اپنایا۔ انہوں نے لکھا کہ جب ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو خدا پہلے ہی ایک نیا راستہ تیار کر رہا ہوتا ہے، بس انسان کو صبر اور یقین کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ لمحہ کسی کی صلاحیت یا مستقبل کا تعین نہیں کرتا بلکہ یہ ایک عبوری مرحلہ ہوتا ہے، جس سے سیکھ کر آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے تجربے کو ایک نئے سفر کی شروعات قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آنے والے مواقع کو امید اور تجسس کے ساتھ قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نئی چیزیں سیکھنے، آگے بڑھنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ ان کے اس پیغام کو سوشل میڈیا پر بے حد سراہا گیا، جہاں لوگوں نے ان کے حوصلے، اعتماد اور مثبت سوچ کی تعریف کی۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں اس وقت مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں میں تیزی سے سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں کمپنیوں کو اپنے اخراجات کم کرنے اور ترجیحات بدلنے کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف اوریکل بلکہ دیگر بڑی ٹیک کمپنیوں میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے میدان میں مہارت رکھنے والے افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متاثرہ ملازمین، خصوصاً وہ جو جدید ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں، جلد ہی نئی ملازمتیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/xXhykbM

ہفتہ، 21 مارچ، 2026

کیا اسمارٹ فون سے ایپس غائب ہو جائیں گے؟ ’نتھنگ‘ کے مالک کارل پیئی نے کیا حیرت انگیز دعویٰ

اسمارٹ فون ’نتھنگ‘ کے چیف ایگزیکٹیو افسر (سی ای او) کارل پیئی نے اسمارٹ فون کے مستقبل سے متعلق ایک حیران کرنے والی پیشین گوئی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے وقت میں فون سے ایپس مکمل طور پر غائب ہو جائیں گے اور ان کی جگہ اے آئی ایجنٹس لے لیں گے۔ ایس ایکس ایس ڈبلیو ایونٹ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ایپ سسٹم اب پرانا اور پیچیدہ ہو چکا ہے۔ مستقبل میں صارف صرف اپنی ضرورت بتائے گا اور اے آئی خود ہی تمام کام انجام دے دے گا۔

کارل پیئی کا ماننا ہے کہ آج ہم جس طرح اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، وہ تقریباً 20 سال پرانا ماڈل ہے۔ لاک اسکرین، ہوم اسکرین اور الگ الگ ایپس کا نظام زیادہ تبدیلی نہیں دیکھ پایا ہے۔ ہر کام کے لیے الگ ایپ کھولنی پڑتی ہے، جو صارف کے لیے وقت لینے والا اور پیچیدہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے اسے پرانا اور بورنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اگر کسی کو کافی پینے جانا ہو تو اسے پہلے ٹیبل بک کرنا پڑتا ہے، پھر میسج بھیجنا ہوتا ہے، پھر کیلنڈر سیٹ کرنا اور اس کے بعد کیب بک کرنی پڑتی ہے۔ یعنی ایک چھوٹے سے کام کے لیے کئی ایپس کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ یہ پورا عمل صارف کو ایک طرح سے ایڈمن کام جیسا لگتا ہے، جہاں انسان خود آپریٹر بن جاتا ہے۔

کارل پیئی کے مطابق مستقبل میں اے آئی ایجنٹ اس پورے عمل کو آسان بنا دے گا۔ صارف صرف اپنی ضرورت بتائے گا اور اے آئی خود سمجھ کر تمام مراحل مکمل کر دے گا۔ مثلاً کیب بک کرنا، ریسٹورنٹ ریزرویشن اور ریمائنڈر سیٹ کرنا سب خود بخود ہو جائے گا۔ اس سے صارف کا وقت بچے گا اور تجربہ کافی ہموار ہو جائے گا۔ انہوں نے ایپ ڈیولپرز اور کمپنیوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ اگر وہ مستقبل کے لیے تیار رہنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے سسٹم کو بدلنا ہوگا۔ ایپس کی جگہ اے آئی ایجنٹس کے لیے انٹرفیس تیار کرنا ہوگا، جیسے اے پی آئی اور کنیکٹر سسٹم۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسان نہیں بلکہ اے آئی ایجنٹس ایپس کو آپریٹ کریں گے، اس لیے کمپنیوں کو ابھی سے اس تبدیلی کے لیے تیار ہونا ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/SG2KV7t

جمعہ، 20 مارچ، 2026

ویب سائٹس پر ٹریفک دھماکہ کا خوف! کیا سال بھر میں انٹرنیٹ پر انسانوں کی بادشاہت ختم ہو جائے گی؟

انٹرنیٹ کی دنیا ایک بڑی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ اس بار تبدیلی صرف اتنی نہیں ہے کہ لوگ زیادہ آن لائن آئیں گے، بلکہ اصل تبدیلی یہ ہے کہ آنے والے وقت میں انٹرنیٹ پر ٹریفک تیزی سے بڑھے گا، لیکن اسے چلانے والے انسان نہیں بلکہ مشینیں ہوں گی۔ دنیا کی بڑی انٹرنیٹ سیکورٹی کمپنی ’کلاؤڈفلیئر‘ کے سربراہ ’میتھیو پرنس‘ نے کہا ہے کہ 2027 تک انٹرنیٹ پر انسانوں کے مقابلے میں بوٹس کی سرگرمیاں زیادہ ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انٹرنیٹ کا مجموعی ٹریفک ریکارڈ سطح تک پہنچ جائے گا، لیکن اس میں انسانوں کی حصہ داری کم ہوتی جائے گی۔ یعنی انٹرنیٹ پہلے سے زیادہ مصروف ہوگا، ویب سائٹس پر ٹریفک زیادہ آئے گا، لیکن ان میں حقیقی صارفین کم ہوں گے۔

درحقیقت، اب تک ویب سائٹ ٹریفک کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ لوگ آ رہے ہیں، پڑھ رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اب اس میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے۔ اب ٹریفک کا بڑا حصہ ان بوٹس سے آئے گا جو مسلسل ویب سائٹس کو اسکین کرتے ہیں، ڈاٹا حاصل کرتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر نیا مواد تیار کرتے ہیں۔ اس کے اثرات بہت بڑے ہوں گے۔

میتهیو پرنس نے ایک کانفرنس میں مثال دیتے ہوئے وضاحت کی کہ اگر کوئی انسان ڈیجیٹل کیمرہ خریدنے کے لیے 5 ویب سائٹس دیکھتا ہے تو یہ اس کی حد ہے۔ جبکہ ایک اے آئی ایجنٹ یا بوٹ اتنے ہی وقت میں 1000 یا پھر 5000 ویب سائٹس کو بھی اسکین کر سکتا ہے۔ یہ سب حقیقی ٹریفک میں شمار ہوگا اور ویب سائٹس پر ویسا ہی بوجھ ڈالے گا جیسا کسی انسان کے آنے سے پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنریٹو اے آئی سے پہلے انٹرنیٹ کے تقریباً 20 فیصد حصے پر بوٹ ٹریفک ہوتا تھا، لیکن 2027 تک یہ انسانوں سے بھی زیادہ ہو جائے گا۔ اس کے لیے ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی آئیں گی۔

پہلی نظر میں یہ لگ سکتا ہے کہ ویب سائٹس کے لیے یہ اچھی خبر ہے، کیونکہ زیادہ ٹریفک کا مطلب زیادہ وزٹس ہوتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے، کیونکہ یہ ٹریفک حقیقی نہیں ہوگا بلکہ ڈاٹا حاصل کرنے کے لیے ہوگا۔ یعنی ویب سائٹس کھل رہی ہوں گی، سرور پر بوجھ بڑھ رہا ہوگا، لیکن سامنے کوئی انسان موجود نہیں ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے انٹرنیٹ کی معیشت پر دباؤ شروع ہوتا ہے۔ آج ویب سائٹس کی آمدنی اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کتنے لوگ ان کے صفحات پر آئے، کتنی دیر رکے اور کتنے اشتہارات دیکھے۔ لیکن اگر ٹریفک کا بڑا حصہ مشینوں پر مشتمل ہو گیا تو یہ پورا ماڈل ہل جائے گا، کیونکہ مشینیں نہ اشتہارات دیکھتی ہیں اور نہ خریداری کرتی ہیں۔ تاہم، اس سے کمائی کے نئے راستے بھی کھل سکتے ہیں۔

کئی بڑی کمپنیاں اب ایسے نظام بنانے میں مصروف ہیں جہاں ویب سائٹس بوٹس سے بھی فیس وصول کر سکیں۔ یعنی اگر کوئی مشین آپ کا ڈاٹا استعمال کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ یہ ایک بالکل نیا ماڈل ہوگا جہاں انسانوں کی جگہ مشینیں یعنی بوٹس گاہک بنیں گے۔ دوسری جانب، یہ ٹریفک صرف تعداد نہیں بڑھا رہا بلکہ انٹرنیٹ کے ڈھانچے کو بھی بدل رہا ہے۔ ایک انسان دن میں محدود بار ہی کسی ویب سائٹ پر جا سکتا ہے، لیکن ایک بوٹ ایک سیکنڈ میں ہزاروں درخواستیں بھیج سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آنے والے وقت میں انٹرنیٹ ٹریفک کئی گنا بڑھ سکتا ہے اور سرور لوڈ، ڈاٹا ٹرانسفر اور نیٹ ورک پر دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ ہوگا۔

مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ اگلے چند ایک سالوں میں انٹرنیٹ ٹریفک میں بڑا بدلاؤ دیکھنے کو ملے گا۔ کمپنیاں کمائی کے نئے طریقے تلاش کر رہی ہیں، جن میں اے آئی کمپنیوں کا سب سے بڑا کردار ہوگا۔ اگر ان پر مناسب کنٹرول نہ کیا گیا تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ’کلاؤڈفلیئر‘ دنیا کی بڑی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر کمپنیوں میں شامل ہے۔ یہ دنیا بھر کی متعدد بڑی ویب سائٹس کو خدمات فراہم کرتی ہے، جن میں کانٹینٹ ڈلیوری نیٹ ورک (سی ڈی این) بھی شامل ہے۔ اس کمپنی میں کسی خرابی (گلچ) کی صورت میں کئی بار عالمی سطح پر انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو جاتی ہیں اور متعدد ویب سائٹس بند ہو جاتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/b7fYoAV

پیر، 16 مارچ، 2026

اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے، وائٹ کالر ملازمتیں جلد ختم نہیں ہوں گی: رگھو رام راجن

ریزرو بینک کے سابق گورنر رگھو رام راجن نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے اور آنے والے چند برسوں میں وائٹ کالر ملازمتوں کے مکمل طور پر ختم ہو جانے کا امکان نہیں ہے۔ ان کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کے معاشرے اور معیشت پر اثرات عام طور پر اندازوں سے زیادہ وقت میں سامنے آتے ہیں۔

پروجیکٹ سنڈیکیٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں رگھو رام راجن نے لکھا کہ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار، بازار میں مسابقت اور حکومتوں کی پالیسیاں یہ طے کریں گی کہ مصنوعی ذہانت کا پھیلاؤ کس طرح اور کتنی تیزی سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اکثر نئی ٹیکنالوجی کے بارے میں بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن عملی سطح پر مختلف صنعتوں میں اس کے نفاذ میں کافی وقت لگ جاتا ہے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں کئی ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں نئی ٹیکنالوجی کو پوری طرح رائج ہونے میں دہائیاں لگ گئیں۔ مثال کے طور پر خودکار ٹیلی فون ایکسچینج کا نظام انسانی آپریٹروں کی جگہ لینے میں کئی دہائیوں تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا تھا۔ راجن کے مطابق یہی صورتحال مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی پیش آ سکتی ہے، کیونکہ مختلف صنعتوں میں اسے اپنانے کے دوران تکنیکی، تنظیمی اور سماجی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں۔

رگھو رام راجن نے بعد میں پیشہ ورانہ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم لنکڈ اِن پر ایک پوسٹ میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے بارے میں کی جانے والی کئی پیش گوئیاں اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتی ہیں کہ معاشرے اور سیاست کا کردار بھی اس ٹیکنالوجی کے اثرات کو شکل دینے میں اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق عوامی رائے اور سیاسی رد عمل بھی یہ طے کریں گے کہ اے آئی معیشت اور ملازمتوں کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔

اپنے تجزیے میں راجن نے اے آئی پر مبنی معیشت کے مختلف ممکنہ راستوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر چند بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طاقتور اے آئی نظام تیار کر کے نمایاں تکنیکی برتری حاصل کر لیتی ہیں تو وہ ان نظاموں پر انحصار کرنے والے کاروباروں سے زیادہ قیمتیں وصول کر سکتی ہیں۔ اس صورت میں مختلف صنعتوں کی کمپنیاں اپنے کئی کام خودکار بنانے کے لیے اے آئی کا استعمال بڑھا سکتی ہیں اور وائٹ کالر ملازمین کی تعداد کم کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملازمتوں سے محروم ہونے والے کچھ افراد خوردہ تجارت یا مہمان نوازی جیسے خدماتی شعبوں کا رخ کر سکتے ہیں، جس سے ان شعبوں میں مسابقت بڑھنے اور اجرتوں میں کمی آنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔

تاہم راجن نے ایک اور امکان کی بھی نشاندہی کی، جس میں متعدد اے آئی نظام بازار میں ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت کریں۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں پیداواری صلاحیت میں ہونے والا اضافہ چند کمپنیوں تک محدود رہنے کے بجائے پوری معیشت میں زیادہ وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1NyHfa6

جمعہ، 6 مارچ، 2026

اے آئی اور ڈیپ فیک کے ذریعے مالی دھوکہ دہی میں اضافہ، امریکہ کو سائبر جرائم سے اربوں ڈالر کا نقصان

واشنگٹن: امریکہ میں مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال نے مالی دھوکہ دہی کے واقعات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہاؤس فنانشل سروسز سب کمیٹی برائے مالیاتی ادارہ جات کی ایک سماعت کے دوران ارکان کانگریس کو بتایا گیا کہ مجرم جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے شہریوں کو دھوکہ دے کر بڑی رقوم حاصل کر رہے ہیں۔

سماعت میں امریکی خاندانوں، معمر شہریوں اور چھوٹے کاروباروں کو نشانہ بنانے والے بڑھتے اسکیمرز اور مالی فراڈ کے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔ سب کمیٹی کے چیئرمین اینڈی بار نے کہا کہ جیسے جیسے مجرم نئی ٹیکنالوجی اپنا رہے ہیں اور عالمی نیٹ ورکس کے ذریعے سرگرم ہیں، مسئلے کا دائرہ تیزی سے وسیع ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دھوکہ دہی سے ہونے والا نقصان صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ اس کا تعلق لوگوں کی ریٹائرمنٹ کی جمع پونجی، بچوں کی تعلیم کے لیے محفوظ فنڈز اور چھوٹے کاروباروں کی بچت سے ہے جو بعض اوقات ایک ہی واقعے میں ختم ہو جاتی ہے۔

وفاقی تحقیقاتی بیورو کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے اینڈی بار نے بتایا کہ 2024 میں امریکی شہریوں نے سائبر جرائم کے باعث 16.6 ارب ڈالر کے نقصان کی اطلاع دی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ ہے۔ مجرم اب مصنوعی ذہانت، آواز کی نقل تیار کرنے والی ٹیکنالوجی، جعلی کالر شناخت اور فرضی سرمایہ کاری پلیٹ فارم کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

سب کمیٹی کے رکن بل فوسٹر نے کہا کہ ریگولیٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ بڑھنے کے باوجود اسکیمرز کے طریقے زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر دھوکہ دہی اب آن لائن ماحول میں انجام دی جا رہی ہے اور مجرم مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی دستاویزات اور شناخت تیار کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

سماعت کے دوران بینکوں اور کریڈٹ یونینوں کے نمائندوں نے بتایا کہ مالیاتی ادارے اکثر اس طرح کے فراڈ کے خلاف آخری دفاعی دیوار ہوتے ہیں، حالانکہ بہت سے اسکیمرز مالیاتی نظام کے باہر اور اکثر امریکہ سے باہر سے کارروائیاں کرتے ہیں۔

ٹینیسی کے بینک آف لنکن کاؤنٹی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر گائے ڈیمپسی نے کہا کہ چھوٹے مالیاتی ادارے فراڈ کی روک تھام پر زیادہ وسائل خرچ کر رہے ہیں لیکن وہ اس مسئلے کو اکیلے حل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ایک معمر شخص آن لائن دھوکہ دہی کے باعث اپنا گھر 85 ہزار ڈالر میں فروخت کرنے پر مجبور ہو گیا۔

ماہرین نے کانگریس پر زور دیا کہ وفاقی اداروں کے درمیان تعاون بڑھایا جائے اور مالیاتی اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کو آسان بنایا جائے تاکہ دھوکہ دہی کے طریقوں کی جلد نشاندہی ہو سکے اور صارفین کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dx2WzYK

بدھ، 18 فروری، 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026: بل گیٹس کا مرکزی خطاب منسوخ، ایپسٹین تنازع کے درمیان پروگرام میں تبدیلی

نئی دہلی میں جاری انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوران ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس اس عالمی کانفرنس میں اپنا طے شدہ مرکزی خطاب نہیں کریں گے۔ گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیان میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پروگرام میں تبدیلی کرتے ہوئے بل گیٹس کی شرکت منسوخ کر دی گئی ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق یہ فیصلہ کافی غور و فکر کے بعد لیا گیا تاکہ سمٹ کی توجہ اس کے بنیادی مقاصد اور ترجیحات پر مرکوز رہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تنظیم کی نمائندگی اب انکور وورا کریں گے، جو گیٹس فاؤنڈیشن کے افریقہ اور ہندوستان دفاتر کے صدر ہیں۔ وہ سمٹ کے ایک سیشن میں فاؤنڈیشن کے کام اور عالمی صحت و ترقیاتی منصوبوں پر اظہار خیال کریں گے۔

بل گیٹس کی عدم شرکت کو امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق حالیہ منظر عام پر آنے والی دستاویزات کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی جرائم کے سنگین الزامات عائد تھے۔ سن 2019 میں جیل میں ان کی موت کے بعد ان سے متعلق کئی خفیہ فائلیں عوام کے سامنے آئی تھیں۔ حالیہ دنوں میں ان دستاویزات پر نئی بحث چھڑ گئی ہے جس میں بعض ملاقاتوں اور روابط کا ذکر کیا گیا ہے۔

ماضی میں بل گیٹس ایک انٹرویو میں ایپسٹین سے ملاقاتوں پر افسوس کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان ملاقاتوں پر انہیں ندامت ہے اور یہ فیصلہ ان کے لیے غلط ثابت ہوا۔ تاہم انہوں نے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

سمٹ سے جڑی ایک اور اہم خبر یہ ہے کہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ نے بھی اپنا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ وہ اس تقریب میں شرکت کرنے والے تھے، لیکن کمپنی کی جانب سے منسوخی کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی گئی۔ بعض حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ یہ فیصلہ بدلتی صورتحال سے جڑا ہو سکتا ہے، تاہم اس بارے میں کوئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب گوگل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سندر پچائی اور اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین سمٹ میں شریک ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے 16 فروری کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں اس سمٹ کا افتتاح کیا تھا، جو 20 فروری تک جاری رہے گا۔

اس سال سمٹ کا موضوع قومی وژن ’’سروجن ہتائے، سروجن سکھائے‘‘ پر مبنی ہے، جس کا مقصد انسانیت کے مفاد میں مصنوعی ذہانت کے عالمی اصول کو فروغ دینا ہے۔ اس کانفرنس میں 110 سے زائد ممالک اور 30 بین الاقوامی تنظیمیں شریک ہیں، جب کہ تقریباً 20 ممالک کے سربراہان اور 45 سے زیادہ وزرا بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں۔

سمٹ کے ساتھ انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026 کا بھی انعقاد کیا گیا ہے جہاں دنیا بھر کی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے جدید حل پیش کر رہی ہیں اور مختلف شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N8zjHCL

پیر، 16 فروری، 2026

انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: ’اے آئی کا استعمال عوامی مفاد اور سب کے فائدے کے لیے ہو‘، وزیر اعظم مودی کا بیان

نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں جاری پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے دوسرے دن وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کو عوامی بہبود اور سب کے فائدے کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ذہانت، استدلال اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کو عوام کے لیے کارآمد بناتی ہے، اور اس سمٹ کا مقصد بھی یہی ہے کہ اے آئی کو ہمہ گیر ترقی کے لیے استعمال کرنے کے امکانات تلاش کیے جائیں۔

پیر سے شروع ہونے والی اس عالمی کانفرنس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے رہنما، وزرا، ٹیکنالوجی ماہرین، محققین اور صنعت سے وابستہ نمائندے شریک ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت پر عالمی سطح کی کانفرنس گلوبل ساؤتھ میں منعقد ہو رہی ہے۔ سمٹ میں سو سے زائد سرکاری نمائندے موجود ہیں جن میں بیس سے زیادہ سربراہان مملکت، ساٹھ وزرا اور نائب وزرا شامل ہیں، جبکہ پانچ سو سے زائد عالمی اے آئی رہنما بھی شرکت کر رہے ہیں۔

انیس فروری کو وزیر اعظم نریندر مودی افتتاحی خطاب کریں گے جس میں وہ جامع اور ذمہ دار اے آئی کے لیے ہندوستان کے وژن کو پیش کریں گے۔ سمٹ کے نمایاں پہلوؤں میں تین عالمی اثر انگیز چیلنجز شامل ہیں جن کا مقصد ایسے قابلِ توسیع اور مؤثر اے آئی حل سامنے لانا ہے جو قومی ترجیحات اور عالمی ترقیاتی اہداف سے ہم آہنگ ہوں۔ ان مقابلوں کے لیے ساٹھ سے زائد ممالک سے چار ہزار چھ سو پچاس سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے سخت جانچ کے بعد ستر ٹیموں کو فائنلسٹ منتخب کیا گیا ہے۔

18 فروری کو بھارتیہ ٹیکنالوجی سنستھان حیدرآباد کے اشتراک سے ایک اہم تحقیقی سمپوزیم بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔ حیدرآباد سے منسلک اس ادارے کے تعاون سے ہونے والے اس پروگرام میں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ سمیت مختلف خطوں سے تقریباً ڈھائی سو تحقیقی مقالے موصول ہوئے ہیں۔ اس موقع پر الار کارِس، صدر ایسٹونیا، اور مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی اشونی ویشنو بھی شریک ہیں۔

سمٹ میں اے آئی سے چلنے والی سائنسی دریافتوں، سلامتی اور حکمرانی کے ڈھانچے، بنیادی ڈھانچے تک مساوی رسائی اور گلوبل ساؤتھ میں تحقیقی تعاون جیسے موضوعات پر سنجیدہ تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کو پائیدار اور منصفانہ ترقی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lWokHxI

اتوار، 15 فروری، 2026

اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا آغاز، نئی دہلی بنا عالمی ٹیک مباحثے کا مرکز

نئی دہلی: ہندوستان میں اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس کے تحت دنیا بھر سے ٹیکنالوجی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت سے وابستہ نمائندوں کی بڑی تعداد نئی دہلی میں جمع ہو رہی ہے۔ پانچ روزہ اس عالمی کانفرنس میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل، اس کی گورننس، معیشت اور سماج پر مرتب ہونے والے اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعظم نریندر مودی آج شام پانچ بجے نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں ‘انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو’ کا افتتاح کریں گے۔ یہ ایکسپو 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا اور سمٹ کی مرکزی سرگرمیوں کا حصہ ہوگا۔ 100 سے زائد ممالک کی شرکت نے اس تقریب کو عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت عطا کر دی ہے اور ہندوستان کو مصنوعی ذہانت کے بین الاقوامی مکالمے کا مرکز بنا دیا ہے۔

یہ ایکسپو 70 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر محیط 10 مختلف میدانوں میں پھیلا ہوا ہے، جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں، اسٹارٹ اپس، تعلیمی و تحقیقی ادارے، مرکزی وزارتیں، ریاستی حکومتیں اور بین الاقوامی شراکت دار ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتوں اور منصوبوں کی نمائش کریں گے۔ تیرہ ممالک کے قومی پویلین بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں آسٹریلیا، جاپان، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، نیدرلینڈ، سوئٹزرلینڈ، سربیا، ایسٹونیا، تاجکستان اور افریقہ کے نمائندہ پویلین شامل ہیں، جو عالمی تعاون کی جھلک پیش کریں گے۔

ایکسپو میں 300 سے زائد منتخب نمائشی پویلین اور لائیو مظاہروں کا اہتمام کیا گیا ہے، جنہیں عوام، کرہ ارض اور پیش رفت جیسے موضوعاتی سلسلوں میں ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 600 سے زیادہ اعلیٰ صلاحیت کے حامل اسٹارٹ اپس اپنے عملی حل پیش کریں گے، جن میں سے کئی ایسے ماڈلز متعارف کرا رہے ہیں جو پہلے ہی حقیقی نظاموں میں استعمال ہو رہے ہیں اور آبادی کے بڑے حصے کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

منتظمین کے مطابق اس تقریب میں بین الاقوامی مندوبین سمیت ڈھائی لاکھ سے زیادہ زائرین کی شرکت متوقع ہے۔ پانچ سو سے زائد سیشنز منعقد کیے جائیں گے جن میں تین ہزار دو سو پچاس سے زیادہ مقررین اور پینل اراکین شرکت کریں گے۔ ان مباحثوں کا مقصد مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی تبدیلی لانے والی صلاحیت کو سمجھنا اور ایسے اقدامات پر غور کرنا ہے جن سے یہ ٹیکنالوجی ہر عالمی شہری کے لیے مفید ثابت ہو سکے۔

سمٹ کا ہدف عالمی اے آئی ماحولیاتی نظام کے اندر نئی شراکت داریوں کو فروغ دینا، پالیسی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور کاروباری مواقع پیدا کرنا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کو ذمہ دارانہ اور جامع انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VvB94TN