اتوار، 8 جنوری، 2023

سوشل میڈیا کا بہتر استعمال، کیا نئے پلیٹ فارم مددگار ہوں گے؟

سوشل میڈیا کو چھوڑنا یا اس کا استعمال کم کرنا نئے سال کا ایک بہترین عہد ہو سکتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنے سے جسمانی اور دماغی صحت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

بہت سے لوگوں نے مستقل یا عارضی طور پر انٹرنیٹ سے بریک لیا، جس سے ان کی پیداواری صلاحیت، ارتکاز اور خوشی میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ لیکن یہ نام نہاد 'ڈیجیٹل ڈی ٹاکسنگ‘ اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ دوستوں اور خاندان کے ساتھ جڑے رہنے جبکہ خبروں اور آن لائن مباحثوں کا حصہ بننے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام بڑے پلیٹ فارمز کے الگورتھم، جو صارفین کے ان ایپس پر گزارے جانے والے وقت کو بڑھانے کے لیے ہیں، انہیں تجارتی اور تفریحی تصاویر اور ویڈیوز کے بھنور میں پھنسا سکتے ہیں۔

ڈچ ڈاکٹر ایلسیلین کوپرز نے اس مسئلے کا یہ حل پیش کیا کہ انہوں نے ایک غیر تجارتی اور کم مقبول ایپ کا استعمال شروع کر دیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''یہ میرے لیے پر سکون اور انتہائی خوشگوار تجربے کا باعث بنا ہے‘‘۔

کوپرز بی ریئل ایپ استعمال کرتی ہیں۔ اس ایپ کے یوزر ہر روز اپنی زندگی کا ایک ہی سنیپ شاٹ پوسٹ کر سکتے ہیں۔ یہ ایپ دن کے کسی بھی وقت ایک نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے صارف کو اپنی تصویر کھینچنے اور پوسٹ کرنے کے لیے فقط دو منٹ دیے جاتے ہیں۔ کوپر کے مطابق دو منٹ میں کوئی بھی انسان مصنوعی طور پر خوش نظر آنے والی تصویر نہیں بنا سکتا۔ ان کے مطابق، ''اس ایپ پر آپ فلٹرز کا استعمال بھی نہیں کر سکتے۔ تو آپ صرف وہی پوسٹ کر سکتے ہیں، جو آپ اس لمحے کر رہے ہوتے ہیں‘‘۔

بی ریئل نامی اس ایپ کو 2022ء کے موسم گرما میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس سال اسے 10 سب سے زیادہ ڈاؤنلوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگوں میں ایک مختلف اور کم پریشانی کا باعث بننے والی سوشل میڈیا ایپ کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔

ٹک ٹاک، فیس بک یا یوٹیوب جیسے زیادہ تر پلیٹ فارمز کے لیے مسئلہ ان کے الگورتھم یا ان کے کاروباری ماڈل ہیں۔ وہ وقت، جو ایک عام صارف سوشل میڈیا ایپس پر گزارتا ہے،اسے سوشل میڈیا پر اشتہار دینے والی کمپنیوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ ایپس کی بہتری کے لیے اس ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار اس ڈیٹا کو تھرڈ پارٹیز کو بھی فروخت کر دیا جاتا ہے۔

یہ کاروباری ماڈل سوشل میڈیا سے منسلک مسائل، جیسے کہ دماغی صحت پر اثرات، صارف کو اپنی طرف متوجہ رکھنے کی صلاحیت، ڈیٹا پرائیویسی کے مسائل اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔

پروفیسر کرسٹیان مونٹاگ، جو جرمنی کی اُلم یونیورسٹی میں مالیکیولر سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں، نے 2022ء میں شائع ہونے والے ایک ریسرچ پیپر میں ان 'بگ ٹیک فنکشنل ماڈلز‘ کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ''جب تک صارفین سوشل میڈیا کے استعمال کی قیمت اپنے ڈیٹا کی صورت میں ادا کرتے رہیں گے، تب تک یہ مسائل حل نہیں ہو سکتے‘‘۔

سوشل میڈیا کے متبادل کے طور پر استعمال ہونے والی ایپس اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ڈیسینٹرلائزڈ سٹرکچر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کا مقصد ایلگورتھم کے بجائے صارف کو ہی شائع ہونے والے مواد کا کنٹرول دینا ہے۔

میسٹوڈون انہی ایپس میں سے ایک ہے، جس پر ایک مرکزی سرور کے بجائے باہم منسلک کئی سرورز صارفین کے اکاؤنٹس مینج کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر سرور کے اپنے اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ اس نئی تشکیل، جسے 'فیڈیورس‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک سرور کے صارفین کو دوسرے سرورز کے صارفین کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارم کے مقابلے میں میسٹوڈون پر کمیونٹیز کو اپنے لیے اصول و قواعد خود بنانے کی آزادی ہوتی ہے۔

ایلون مسک کی جانب سے ٹویٹر خریدے جانے کے بعد میسٹوڈون ایپ ہیڈ لائینز کی زینت بنی کیونکہ یہ ہی وہ ایپ ہے، جسے صارفین نے ٹویٹر چھوڑنے کے بعد جوائن کیا۔ کچھ ماہرین نے اس بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ان نئے پلیٹ فارم کی ڈی سینٹرلائزڈ پالیسی مواد کو مانیٹر کرنے اور نامناسب یا نقصان دہ پوسٹس کو حذف کرنے کے مراحل کو مشکل بنا سکتی ہے۔ تاہم مونٹاگ ان تجربات کے مستقبل کے بارے میں پرامید نظر آتے ہیں، ''میرے خیال میں فیڈیورس مستقبل ہو سکتا ہے‘‘۔ تاہم ان کا ماننا ہے کہ پہلے سے موجودہ بڑے پلیٹ فارمز سے مقابلہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔

سینٹر فار ہیومن ٹیکنالوجی ان اداروں میں سے ایک ہے، جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی سخت نگرانی کے حق میں ہے اور ساتھ ہی ان کے تباہ کن بزنس ماڈل کو ختم کروانے کے لیے مہم چلا رہا ہے۔ مونٹاگ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیز کو ریگولیٹ کرنا اور ان سے ہونے والے نقصان کو کم کرنا اتنا ہی اہم ہے جتنے کہ نئے آئیڈیاز۔

بڑی ٹیک کمپنیوں کے نقصانات کو کم کرنے کے علاوہ، ریگولیشن متعارف کروانے سے نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مقابلے کی فضا بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ''ہمیں ایسے طریقہ کار متعارف کروانے کی ضرورت ہے جو صارفین کو مختلف پلیٹ فارمز پر بات چیت کرنے کے مواقع فراہم کریں‘‘۔

سائنسدان اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کو عوامی بھلائی کا بہتر ذریعہ سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ سوشل میڈیا کو ایسے کاروباری ماڈل سے الگ کرنا ضروری ہے، جو صارفین کے ڈیٹا اور وقت پر انحصار کرتا ہے۔ یہ وہ واحد طریقہ ہے، جس کے ذریعے سوشل میڈیا کے ''صحت مند‘‘ استعمال کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XpvIQz4

بدھ، 21 دسمبر، 2022

ناسا کے انسائٹ لینڈر نے مریخ پر مشن مکمل کیا

لاس اینجلس: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے انسائٹ لینڈر نے چار سال سے زیادہ عرصے کے بعد مریخ پر یونک سائنس جمع کرنے کے بعد اپنا مشن مکمل کر لیا ہے۔ ناسا نے یہ جانکاری دی ہے۔

ناسا نے کہا کہ جنوبی کیلیفورنیا میں ایجنسی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے مشن کنٹرولرز مسلسل دو کوششوں کے بعد لینڈر سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ خلائی جہاز کی شمسی توانائی سے چلنے والی بیٹریاں تباہ ہو چکی ہیں۔

ایجنسی نے کہا کہ ناسا نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر لینڈر سے دو کوششوں کے بعد رابطہ قائم نہ ہوسکا تو مشن کو مکمل قرار دے دیا جائے گا۔ ناسا نے بدھ کو کہا کہ انسائٹ نے آخری بار 15 دسمبر کو کرہ ارض سے رابطہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ انسائٹ کو ناسا نے مئی 2018 میں مریخ کے گہرے اندرونی حصے کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کیا تھا۔اس نے نومبر 2018 کے آخر میں مریخ پر محفوظ لینڈنگ کی تھی۔ناسا کے مطابق انسائٹ نے گزشتہ چار سال میں تقریباً 1300 زلزلوں کا پتہ لگایا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mEyqVDT

جمعہ، 16 دسمبر، 2022

ٹویٹر نے مسک کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر پابندی لگا دی

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر نے جمعرات کے روز ان کئی صحافیوں کے اکاؤنٹس معطل کردیے جو اس کمپنی اور ایلون مسک کی جانب سے اسے اپنی ملکیت میں لینے کے عمل کی کوریج کرتے رہے ہیں۔

یہ اقدام اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی جانب سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت نجی جیٹ طیاروں بشمول ایلون مسک کی ملکیت والے جیٹ طیارے کو ٹریک کرنے والوں کے ٹوئٹر اکاونٹس معطل کیے جاسکتے ہیں۔

جن صحافیوں کے اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں ان میں نیویارک ٹائمز کے رپورٹر ریان میک، واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار ڈریو ہال، سی این این کے ڈونی او سولیوان، میش ایبل کے میٹ بائنڈر، انٹرسیپٹ کے میکاہ لی اور وائس آف امریکہ کے اسٹیو ہرمن شامل ہیں۔

آرون روپار، ٹونی ویبسٹر اور کیتھ اولبیرمین جیسے فری لانس صحافیوں کے اکاونٹس بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔ ٹوئٹر کے متبادل کے طور پر معروف ماسٹوڈون (Mastodon) نامی سوشل میڈیا کمپنی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ ٹوئٹر نے اس بات کی باضابطہ وضاحت نہیں کی ہے کہ اس نے یہ اکاونٹس کیوں معطل کیے۔

نیویارک ٹائمز کے ترجمان نے معطلی کو "قابل اعتراض اور افسوس ناک" قرار دیا اور کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ "ٹوئٹر اس کارروائی کی تسلی بخش وضاحت کرے گا۔" سی این این نے ایک بیان میں کہا کہ "جارحانہ اور بلاجواز معطلی" باعث تشویش ہے،"لیکن حیران کن نہیں۔" سی این این نے ایک بیان میں کہا،"ہم نے ٹوئٹر سے وضاحت طلب کی ہے اور ہم اس جواب کی بنیاد پر اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لیں گے۔"

جن صحافیوں کے اکاونٹس کو معطل کیا گیا ہے ان میں سے کچھ بدھ کے روز @Elonjet نامی اکاونٹ کو بند کیے جانے کے متعلق ٹویٹ کر رہے تھے۔ اس اکاؤنٹ کے پانچ لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ @Elonjetنامی اکاونٹ جیک سوینی کی ملکیت تھی اور یہ مسک کے طیارے کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے کے لیے عوامی طور پر دستیاب تھا۔

ایلون مسک نے بدھ کے روز کہا تھا کہ لاس اینجلس میں جس کار میں ان کا بچہ سفر کر رہا تھا اس کا ایک "دیوانے شخص" نے پیچھا کیا۔ انہوں نے اس مبینہ واقعے کے لیے سوینی کے اکاؤنٹ کو ذمہ دار قرار دیا۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے بتایا کہ اب سوینی کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ سوینی نے معطلی کے بعد اپنے ذاتی اکاونٹ سے ایک ٹویٹ کرکے کہا، "ایسا لگتا ہے کہ @Elonjetکو معطل کر دیا گیا ہے۔" اس کے کچھ دیر بعد ان کا ذاتی اکاؤنٹ بھی معطل کردیا گیا۔

مسک نے جنوری میں 20 سالہ سوینی کو اپنے طیارے کو ٹریک کرنے والے اکاؤنٹ کو بند کرنے کے بدلے میں 5000 ڈالر کی پیش کش کی تھی۔ ٹوئٹر پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ارب پتی تاجر مسک نے نومبر کے اوائل میں وعدہ کیا تھا کہ اس کے باجود کہ "یہ ان کی ذاتی حفاظت کے لیے براہ راست خطرہ" ہے، وہ اس اکاؤنٹ کو ہاتھ نہیں لگائیں گے ۔

ایلون مسک نے بدھ کے روز ٹویٹ کیا،"کسی دوسرے شخص کی ریئل ٹائم لوکیشن کی معلومات دینے والے کسی بھی ڈاکسنگ اکاؤنٹ کو معطل کر دیا جائے، کیونکہ اس سے شخصی حفاظت کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔" ڈاکسنگ سے مراد کسی شخص کی شناخت کرنے والی معلومات مثلا ً گھر کا پتہ، فون نمبر وغیرہ ہے، جس سے مذکورہ شخص کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سوینی کے اکاؤنٹ کو معطل کرنے کے بعد ٹوئٹرنے اپنی میڈیا پالیسی کو اپ ڈیٹ کرتے ہوئے کہا،"آپ دوسرے لوگوں کی نجی معلومات کو ان کی واضح اجازت یا مرضی کے بغیر شائع یا پوسٹ نہیں کرسکتے ہیں۔"

جمعرات کے روز مسک نے کہا،"صحافیوں پر بھی وہی قوانین لاگو ہوتے ہیں جو دوسروں کے لیے ہیں۔" ایک اور ٹویٹ میں مسک نے کہا،"مجھ پر سارا دن تنقید کرتے رہیں، کوئی بات نہیں، لیکن میری موجودگی کے حقیقی مقام کو ظاہر کر کے میرے خاندان کو خطرے میں ڈالنا درست نہیں ہے۔"



from Qaumi Awaz https://ift.tt/q5gfmJh

جمعہ، 25 نومبر، 2022

اسرو آج آٹھ ’نینو سیٹلائٹ‘ اور ’اوشنسیٹ-3‘ کو خلا میں روانہ کرے گا، جانیں مشن کی خصوصیات

نئی دہلی: انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے حال ہی میں نجی سیکٹر کے مشن کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر کے تاریخ رقم کرنے کے بعد اپنے اگلے مشن پی ایس ایل وی-سی54/ای او ایس-06 کے لیے تیاری مکمل کر لی ہے اور اس کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ اسرو اس مشن کے تحت 8 نینو سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کے ساتھ لانچ کرے گا، جو اوشن سیٹ سیریز کا تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ مشن سری ہری کوٹا سے ہفتہ (26 نومبر) کو صبح 11.46 بجے لانچ کیا جائے گا۔ اس کی 25 گھنٹے کی الٹی گنتی جمعہ (25 نومبر) کو صبح 10.46 بجے شروع ہوئی۔

مشن کا بنیادی پے لوڈ اوشنسیٹ-3 ہے۔ یہ اوشنسیٹ سیریز کا تیسری نسل کا سیٹلائٹ ہے، جو کہ اوشنسیٹ سیریز کے سیٹلائٹ ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے۔ یہ سیریز سمندری اور ماحولیاتی مطالعہ کے لیے وقف ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سیٹلائٹ سمندری موسم کی پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاکہ ملک کسی بھی طوفان کے لیے پہلے سے تیار رہے۔

اس سلسلے کا پہلا سیٹلائٹ-1 26 مئی 1999 کو لانچ کیا گیا تھا۔ پھر اوشنسیٹ-2 کو 23 ستمبر 2009 کو لانچ کیا گیا تھا۔ وہیں، 2016 میں اوشنسیٹ-2 کے اسکیننگ سکیٹرومیٹر ناکام ہونے کے بعد اسکینسیٹ-1 لانچ کیا گیا۔ اسی سیریز کے تھرڈ جنریشن سیٹلائٹ اوشنسیٹ-3 کو کل لانچ کیا جائے گا۔ اس سیریز کے سیٹلائٹس میں اوشین کلر مانیٹر موجود رہے۔ اس مشن میں بھی اوشن کلر مانیٹر او ای ایم 3، سی سرفیس ٹمپریچر مانیٹر (ایس ایس ٹی ایم)، کو-بینڈ اکیٹرومیٹر (ایس سی اے ٹی-3) اور اے آر جی او ایس جیسے پے لوڈز ہیں۔

اسرو اوشنسیٹ-3 اور 8 نینو سیٹلائٹوں میں پکسل کے آنند، بھوٹانسیٹ، دھرو انترکش کے تھائیبولٹ اور اسپیس فلائٹ یو ایس اے کے 4 اسٹروکاسٹ لانچ کرے گا۔ یہ پورا مشن تقریباً 8200 سیکنڈ (2 گھنٹے 20 منٹ) تک جاری رہے گا۔ جو کہ پی ایس ایل وی کا طویل مشن ہوگا۔ اس دوران پرائمری سیٹلائٹس اور نینو سیٹلائٹس کو دو مختلف سولر سنکرونس پولر آربٹس (ایس ایس پی او) میں لانچ کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N0jCtK1

چین نے بچوں کو ویڈیو گیم سے دور کرنے کا ناقابل یقین کارنامہ انجام دے دیا

بیجنگ: چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم چینی حکومت نے ایسا اقدام کیا جس سے 75 فیصد سے زائد کم عمر بچوں کی اس عادت سے جان چھوٹ گئی۔

جب سے ٹیکنالوجی کی ترقی ہوئی ہے اور ہر چھوٹے بڑے کے ہاتھ میں اینڈرائیڈ موبائل آیا ہے تب سے موبائل ہی سب سے بڑی مصروفیت بن گیا ہے۔ 18 سال سے کم عمر بچوں میں بالخصوص آن لائن ویڈیو گیمنگ کی ایسی لت پڑی کہ مختلف ممالک میں اس پر روک ٹوک کرنے پر جان لینے جیسے سنگین واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں تاہم چین کی حکومت نے اپنی نئی نسل کو اس لت سے بچا لیا ہے۔

چین کی حکومت نے ایک سال قبل 18 سال سے کم عمر بچوں میں ویڈیو گیم کی لت پر قابو پانے کے لیے ان کے ویڈیو گیم کھیلنے پر بڑی پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے لیے اوقات متعین کردیے تھے اور انہیں ہفتے کے تین دن جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو روانہ صرف رات 8 سے 9 بجے تک آن لائن ویڈیو گیم کھیلنے کی اجازت تھی۔

اس پابندی کو ایک سال گزرنے کے بعد چین کی ویڈیو گیمنگ انڈسٹری سے وابستہ اعلیٰ اختیاری سرکاری کمیٹی اور ڈیٹا فراہم کرنے والی کمپنی سی این جی نے پیر کے روز انتہائی حوصلہ افزا رپورٹ جاری کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب گیم کھیلنے کے اوقات متعین کر دیے جانے کی وجہ سے ویڈیو گیم کی لت پر بنیادی طور پر قابو پالیا گیا ہے اور اب 75 فیصد سے زیادہ کم عمر افراد ایک ہفتے میں تین گھنٹے سے بھی کم ویڈیو گیم کھیلتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں 9 سے 19 برس کے درمیان عمر کے تقریباً98 فیصد افراد کے پاس کوئی نہ کوئی موبائل فون ہے اور 18 برس یا اس سے کم عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریباً 186 ملین ہے۔ تاہم حکومتی پابندی کے کے بعد گیمنگ کمپنیوں کی جانب سے ویڈیو گیم کی لعنت کے انسداد کے نظام کے تحت گیم کھیلنے والے 90 فیصد سے زائد نو عمروں کا احاطہ کرلیا گیا ہے۔

چین میں اب ویڈیو گیم کھیلنے والوں کو اپنا شناختی کارڈ استعمال کرنا ضروری ہے اور آن لائن گیم کھیلنے سے قبل انہیں اپنا اندراج کرانا پڑتا ہے اور اس بات کی تصدیق کرنی پڑتی ہے کہ وہ عمر کے حوالے سے جھوٹ نہیں بول رہے ہیں۔

گیمنگ فراہم کرنے والی کمپنیاں بھی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ اوقات کے اندر ہی نوعمروں کو ویڈیو گیمنگ کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔ البتہ حالیہ دنوں میں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ بیجنگ ویڈیو گیمنگ سیکٹر کے حوالے سے اپنے موقف میں نرمی پیدا کر رہا ہے اور حکام نے اپریل تک نو ماہ کے لیے رجسٹریشن منجمد کر دینے کے بعد اب نئے نام کی منظوری دینے کا سلسلہ دھیرے دھیرے شروع کر دیا ہے۔

گزشہ ہفتے ہی ٹیکنالوجی کی معروف کمپنی ٹینسینٹ کو 18ماہ کے بعد ویڈیو گیم کا پہلا لائسنس ملا ہے۔ پابندیوں کی وجہ دنیا میں ویڈیو گیم تیار کرنے والی کمپنیوں میں سرفہرست سمجھی جانے والی ٹینسیٹ اپنا امتیازی مقام کھونے کی دہلیز تک پہنچ گئی تھی

واضح رہے کہ چین دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو گیمنگ مارکیٹ ہے تاہم وہاں کا سرکاری میڈیا اس صنعت کو "روحانی افیم” قرار دیتا ہے۔ ویڈیو گیم کی صنعت پر ٹیکنالوجی ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اکثر کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں اور ان کے خلاف ریکارڈ جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ ان کے خلاف طویل تفتیش اور کمپنی کے شیئروں کی ابتدائی عوامی پیش (آئی پی او) کو معطل کیے جانے جیسے اقدامات بھی ہوتے رہتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XqlGLu4

جمعرات، 17 نومبر، 2022

وکرم-ایس لانچنگ: ہندوستان کے خلائی شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز، ملک کا پہلا نجی راکٹ ’وکرم-ایس‘ ہوگا لانچ

نئی دہلی: ہندوستان آج خلا میں ایک نئے دور کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ملک کا پہلا پرائیویٹ راکٹ 'وکرم-ایس' لانچ کرنے جا رہا ہے۔ اس راکٹ کو حیدرآباد میں واقع اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی نے تیار کیا ہے۔ 'وکرم-ایس' کی لانچنگ آج (جمعہ) صبح 11:30 بجے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے ہوگی۔ اس مشن کا نام 'پررامبھ' رکھا گیا ہے۔ نجی شعبے کے داخلے کے بعد ملک کی خلائی صنعت میں کو بھی نئی بلندیاں حاصل ہوں گی۔

راکٹ کا نام 'وکرم-ایس' ہندوستان کے عظیم سائنسدان اور اسرو کے بانی ڈاکٹر وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارٹی سینٹر (ان-اسپیس) کے چیئرمین پون گوینکا نے کہا کہ یہ ہندوستان میں نجی شعبے کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔ انہوں نے اسکائی روٹ کو راکٹ لانچ کرنے کی اجازت دینے والی پہلی ہندوستانی کمپنی بننے پر مبارکباد دی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان اسرو کے رہنما خطوط کے تحت سری ہری کوٹا سے 'اسکائی روٹ ایرو اسپیس' کے ذریعہ تیار کردہ پہلا نجی راکٹ لانچ کرکے تاریخ رقم کرنے والا ہے۔

وکرم-ایس ذیلی مدار میں پرواز کرے گا۔ یہ ایک طرح کی ٹیسٹ فائل ہوگی، اگر ہندوستان کو اس مشن میں کامیابی ملتی ہے تو اس کا نام نجی خلائی راکٹ لانچنگ کے معاملے میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں شامل ہو جائے گا۔ وکرم-ایس ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ ہونے کے بعد 81 کلومیٹر کی اونچائی پر پہنچے گا۔ اس مشن میں دو ملکی اور ایک غیر ملکی گاہک کے تین پے لوڈ کو لے جایا جائے گا۔ وکرم-ایس ذیلی مداری پرواز چنئی سے اسٹارٹ اپ اسپیس کڈز، آندھرا پردیش سے اسٹارٹ اپ این-اسپیس ٹیک اور آرمینیائی اسٹارٹ اپ بازوم کیو اسپیس ریسرچ لیب سے تین پے لوڈ لے کر جائیں گے۔

کم بجٹ میں راکٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سستے لانچنگ کے لیے اس کا ایندھن تبدیل کیا گیا ہے۔ اس لانچنگ میں عام ایندھن کی بجائے ایل این جی یعنی مائع قدرتی گیس اور مائع آکسیجن (ایل او ایکس) کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ ایندھن کم خرچ ہونے کے ساتھ ساتھ آلودگی سے پاک بھی ہے۔ اسکائی روٹ ایرو اسپیس کمپنی راکٹ کے کامیاب لانچنگ کو لے کر بہت سنجیدہ ہے۔ کمپنی نے لانچ کرنے سے پہلے راکٹ کا کئی طریقوں سے تجربہ کیا ہے۔ 25 نومبر 2021 کو ناگپور میں واقع سولر انڈسٹری لمیٹڈ۔ اس کے پہلے تھری ڈی پرنٹ شدہ کرائیوجینک انجن کا اس کی آزمائشی سہولت میں کامیابی سے تجربہ کیا گیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TfZFQU4

منگل، 15 نومبر، 2022

بچوں کے اسکرین ٹائم کو دن میں 2 گھنٹے تک محدود کریں: تحقیق

الہ آباد یونیورسٹی کے شعبہ بشریات کے ایک ریسرچ اسکالر کے ذریعہ کی گئی ایک تحقیق میں تجویز کیا گیا ہے کہ اسکرین ٹائم بالخصوص بچوں کے لئے، روزانہ دو گھنٹے سے کم کیا جانا چاہئے۔ یہ تحقیق ٹی وی، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فون جیسے ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی سازی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

اس تحقیق کو سیج (ایس اے جی ای) کی جانب سے بین الاقوامی جریدے ’بلیٹن آف سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ سوسائٹی‘ میں شائع کیا گیا تھا اور اس کا انعقاد ریسرچ اسکالر مادھوی ترپاٹھی نے کیا تھا، جنہوں نے اسسٹنٹ پروفیسر شلیندر کمار مشرا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ یہ ڈیجیٹل آلات کی ملکیت کو منظم کرنے کے لیے والدین کی نگرانی اور پالیسی کی تشکیل کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق الہ آباد ریاست میں سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے اس کے پیش نظر یہاں دو مراحل کے بے ترتیب نمونے لینے کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے 400 بچوں پر ایک کراس سیکشنل تحقیق کی گئی۔ پہلے مرحلے میں الہ آباد شہر کے 10 میونسپل وارڈوں کا انتخاب کیا گیا۔ ان وارڈوں کی کل آبادی 11000 سے 22000 کے درمیان ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہر منتخب وارڈ سے بچوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے منتخب کیا گیا، تاکہ نمونے کا سائز حاصل کیا جا سکے۔

ترپاٹھی نے کہا ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر گھروں میں ٹیلی ویژن کے بعد ڈیجیٹل کیمرے، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ، کنڈلز اور ویڈیو گیمز موجود ہیں۔ اس کی وجہ سے بچے زیادہ اسکرین پر وقت گزارتے ہیں، جو نہ صرف انہیں جسمانی طور پر متاثر کرتا ہے اور ان کی بینائی کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ ان کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mkZQzrP

منگل، 25 اکتوبر، 2022

واٹس ایپ بحران: 120 منٹ تک 8 ارب پیغامات بھیجے یا وصول نہیں کیے جا سکے، کروڑوں روپے کا بھی نقصان!

نئی دہلی: سماجی رابطوں کی اہم ایپلی کیشن واٹس ایپ نے منگل کے روز دوپہر 12.30 بجے اچانک کام کرنا بند کر دیا۔ اس دوران نہ پیغامات بھیجے جا رہے تھے اور نہ ہی وصول کئے جا رہے تھے۔ گروپ میسیج بھی وصول نہیں ہو پا رہے تھے اور پیمنٹ سروس نے بھی کام کرنا بند کر دیا۔ واٹس ایپ کا یہ بحران صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد پیغامات کے آنے جانے کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی میسیجنگ ایپ کے تقریباً گھنٹے تک ٹھپ رہنے کے سبب صارفین کا برا حال رہا اور کئی ارب پیغامات معلق ہو کر رہ گئے۔ دوستوں سے بات کرنی ہو، کسی فائل کو شیئر کرنا ہو، یا ملازمین کو کوئی ہدایت دینی ہو، اس طرح کے تمام کام بند رہے۔

خیال رہے کہ 10 سال قبل متعارف کرائی گئی موبائل ایپ واٹس ایپ 180 ممالک میں مقبول ہے اور اس پر ہر روز تقریباً 100 ارب پیغامات بھیجے اور وصول کئے جاتے ہیں۔ اس حساب سے دو گھنٹے کے دوران واٹس ایپ پر 8 بلین پیغامات بھیجے یا وصول کئے جاتے ہیں۔

اینی ڈیٹا نامی ایپ کے مطابق ہر صارف کم از کم 38 منٹ ہر روز واٹس ایپ پر کام کرتا ہے۔ ہندوستان میں دنیا میں سب سے زیادہ 39 کروڑ صارف ہیں۔ جیسے ہی واٹس ایپ سروز ڈاؤن ہوئی ویسے ہی ٹوئٹر سے لے کر دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لوگوں نے اپنی پریشانی بیان کرنی شروع کر دی۔ اس کے بعد ’واٹس ایپ ڈاؤن‘ جیسے ہیش ٹیگ ٹرینڈ ہونے لگے۔ نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق جب بھی واٹس ایپ، انسٹاگرام یا فیس بک کی سروس ڈاؤن ہوتی ہے تو ٹوئٹر کا استعمال عام دنوں کے مقابلہ بہت زیادہ کیا جانے لگتا ہے۔

اس کے علاوہ اشتہارات پر کام کرنے والی فرم ’اسٹینڈرڈ میڈیا انڈیکس‘ نے کہا کہ واٹس ایپ کے ڈاؤن ہونے کے سبب کمپنی کو ہر گھنٹے تقریباً 5.45 ملین ڈالر کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم، اشتہارات سے ہونے والی آمدنی زیادہ دنوں تک متاثر نہیں رہے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/G3NbmYh

جمعرات، 20 اکتوبر، 2022

اسپیس ایکس نے مزید 54 انٹرنیٹ سیٹلائٹ خلا میں بھیجے

لاس اینجلس: امریکی نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس نے 54 مزید اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس کو کامیابی کے ساتھ خلائی مدار میں چھوڑ دیا ہے۔ سیٹلائٹس کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن کے خلائی لانچ کمپلیکس 40 سے جمعرات کی صبح 10.50 بجے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے بھیجا گیا۔

فالکن 9 کی یہ دسویں پرواز تھی۔ فالکن 9 کی یہ دسویں پرواز تھی۔اسپیس ایکس کے مطابق اسٹارلنک ان مقامات پر تیز براڈ بینڈ انٹرنیٹ فراہم کرے گا جہاں تک رسائی غیرمعتبر، مہنگی یا مکمل طور پر دستیاب نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8HbJgdL

منگل، 4 اکتوبر، 2022

طب کا نوبل انعام سوئیڈن کے ماہر جینیات سوانتے پابو کے نام، ناپيد ہو جانے والی نسل کے جینوم ترتیب کا کارنامہ انجام دیا

اسٹاک ہوم: سوئیڈن کے ماہر جینیات سوانتے پابو نے طب کا 2022 کا نوبل انعام جیت لیا ہے۔ انہیں یہ انعام قدیم انسانوں کے معدوم ہونے سے لے کر جدید دور کے انسانوں کے ارتقاء کو سمجھنے میں ان کی دریافت کے لئے دیا گیا ہے۔ انعام دینے والے پینل نے کہا کہ ان کے مطالعے سے مدافعتی نظام اور قدیم انسانوں کے مقابلے موجودہ انسانوں کے انوکھے پن کو گہرائی سے سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ پابو کی اہم حصولیابیوں میں معدوم ہوچکے قدیم انسانوں اور جدید انسانوں میں رابطے کا پتہ لگانا ہے۔

دنیا کا اعلیٰ ترین انعام دینے والی سوئیڈن کی اسمبلی آف کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ نے طب کا 2022 کا نوبیل انعام اپنے ہی ملک کے سائنسدان سوانتے پابو کو دینے کا اعلان کیا۔ نوبیل کمیٹی ہر سال انعامات جیتنے والے افراد کے ناموں کا اعلان اکتوبر کے پہلے ہفتے میں شروع کرتی ہے۔ کمیٹی مجموعی طور پر 6 زمروں ’طب، معاشیات، کیمسٹری، فزکس، ادب اور امن‘ کے نوبیل انعامات دیتی ہے۔

نوبیل کمیٹی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ طب کا انعام سوئیڈن کے سائنسدان سوانتے پابو کو دیا گیا، جنہوں نے زمانہ قدیم کے انسانوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا جدید طریقہ جسے ڈی این اے بھی کہا جاتا ہے، وہ دریافت کیا۔ انہوں نے ہزاروں سال پرانی ہڈی کے جینوم یا ڈی این اے کو سمجھنے کا جدید اور آسان طریقہ دریافت کیا، جس سے 40 ہزار سال پرانے انسان سے متعلق معلومات حاصل کرنا ممکن ہوا۔

سوانتے پابو نے 40 ہزار سال قبل یورپ اور وسطی ایشیا میں پائے جانے والے انسانوں کے ارتقا کو سمجھنے کا طریقہ دریافت کیا، یوں ان کے طریقے سے جدید دور کے انسانوں اور پرانے دور کے انسانوں میں مماثلت کی تحقیقات کا بھی راستہ کھلا۔

نوبیل کمیٹی نے اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ سوانتے پابو کو نوبیل انعام جیتنے کی خوشخبری صبح کو اس وقت دی گئی جب وہ کافی پی رہے تھے اور وہ خبر سن کر ششدر رہ گئے اور انہوں نے سب سے پہلے اپنی اہلیہ کو اس بارے میں بتایا۔ پابو، سنے برگ اسٹارم کے بیٹے ہیں‘ جنہوں نے 1982 میں طب کا نوبل انعام حاصل کیا تھا۔ سوانتے پابو کو رواں برس دسمبر کے پہلے ہفتے میں نوبیل انعام کی رقم اور ایوارڈ اسٹاک ہوم میں دیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/40HWBQG

ہفتہ، 1 اکتوبر، 2022

ملک میں انٹرنیٹ خدمات کے نئے دور کا آغاز، وزیر اعظم مودی نے کیا ’فائیو جی‘ خدمات کا افتتاح

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے پرگتی میدان میں انڈین موبائل کانفرنس (آئی ایم سی) کے چار روزہ پروگرام کا افتتاح کیا اور اس کے بعد ملک میں 5 جی موبائل خدمات کا آغاز کر دیا۔ یہ ہندوستان کے لیے ایک خاص لمحہ ہے۔ ہندوستان ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ آئی ایم سی کا چھٹا ایڈیشن ہے، اس کی تھیم ’نیو ڈیجیٹل ورلڈ‘ ہے۔ اس دوران وزیر اعظم مودی نے ٹیلی کام آپریٹروں سے بھی گفتگو کی۔

ہندوستان پر 5G کا کل اقتصادی اثر 2035 تک 450 بلین امریکی ڈالر تک ہونے کا اندازہ ہے۔ 4جی کے مقابلے میں، 5جی نیٹ ورک کئی گنا تیز رفتار دیتا ہے اور بلا رکاوٹ خدمات فراہم کرتا ہے۔ یہ اربوں منسلک آلات کو حقیقی وقت میں ڈیٹا کا اشتراک کرنے کے قابل بھی بناتا ہے۔

ایک سرکاری ریلیز کے مطابق 5 جی ٹیلی کام نیٹ ورک سے موبائل ڈیٹا کا بہاؤ کئی گنا تیز ہو گا اور لوگوں کو عالمی معیار کی قابل اعتماد مواصلاتی سہولیات میسر ہوں گی۔ 5 جی ٹیکنالوجی توانائی کی کارکردگی اور اسپیکٹرم اور نیٹ ورک کے استعمال کو بہتر بنائے گی۔

اس دوران پی ایم مودی نے اسے نہ صرف لانچ کیا بلکہ تجربہ بھی کیا۔ انہوں نے جانا کہ اسے کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ 5جی کی رفتار 4جی سے 10 گنا زیادہ ہوگی۔ اسے بہتر آواز کے معیار اور کنیکٹیویٹی کے ساتھ لایا گیا ہے۔

قبل ازیں، وزیر اعظم نے ٹوئٹر پر لکھا، ’’اب سے تھوڑی دیر میں انڈین موبائل کانگریس شروع ہو رہی ہے, جہاں ہندوستان کا 5G انقلاب شروع ہونے جا رہا ہے۔ میں خاص طور پر ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والوں، میرے نوجوان دوستوں اور اسٹارٹ اپ دنیا سے اس خصوصی پروگرام میں شامل ہونے کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mRNtkE9

جمعہ، 30 ستمبر، 2022

تیز رفتار اور بلا رکاوٹ انٹرنیٹ کے لئے 5G خدمات کا آغاز آج سے ہوگا، وزیر اعظم مودی کریں گے افتتاح

نئی دہلی: ہندوستان میں آج سے تیز رفتار انٹرنیٹ کے لئے 5جی خدمات (5G Services) کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی آج نئی دہلی میں ’انڈین موبائل کانگریس‘ کے دوران 5جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس ٹیکنالوجی سے انٹرنیٹ اور تیز رفتار ڈیٹا بلا رکاوٹ فراہم ہوگا اور انٹرنیٹ کی رکاوٹیں دور ہوں گی۔

یکم اکتوبر سے شروع ہونے والی انڈین موبائل کانگریس 4 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 5جی کے علاوہ کئی اور اعلانات بھی کئے جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی آج یعنی یکم اکتوبر کو صبح 10 بجے 5 جی خدمات کا افتتاح کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی جیو اور ایئرٹیل کی 5جی سروس بھی شروع کی جا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکیش امبانی، سنیل متل اور کمار منگلم برلا بھی انڈین موبائل کانگریس 2022 میں شرکت کر سکتے ہیں۔ جیو اور ایئرٹیل ہندوستان میں 5G خدمات شروع کرنے والی پہلی کمپنیاں ہوں گی۔ ابتدائی طور پر 5G سروس صرف منتخب شہروں میں دستیاب ہوگی، جس میں اگلے سال تک توسیع کی جائے گی۔

اس سال منعقدہ ریلائنس کے اے جی ایم میں مکیش امبانی نے کہا تھا کہ جیو فائیو جی کو دہلی اور دیگر میٹرو شہروں میں دیوالی تک لانچ کیا جائے گا۔ یہ سروس اگلے سال دسمبر تک ملک بھر میں شروع کر دی جائے گی۔ کمپنی نے پین انڈیا فائی جی نیٹ ورک کے لیے 2 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وہیں، جیو نے 1000 شہروں میں فائیو جی کے رول آؤٹ کے لیے منصوبہ بندی مکمل کر لی ہے۔

ایئرٹیل کے سی ای او گوپال وٹھل نے صارفین کے نام ایک خط میں لکھا تھا کہ صارفین کو نئی سم خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ انہیں موجودہ سم کارڈ پر ہی فائی جی سروس فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ آئندہ چند ہفتوں میں فائیو جی سروس شروع ہو جائے گی۔

فائیو جی سپیکٹرم نیلامی میں چار کمپنیوں نے حصہ لیا۔ اس میں وی آئی، ایئرٹیل، جیو اور اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس نے حصہ لیا۔ جیو نے اس میں سب سے بڑی بولی لگا کر زیادہ سے زیادہ سپیکٹرم خریدا ہے۔ ایئرٹیل اور پھر ووڈافون آئیڈیا نے دوسرے نمبر پر سرمایہ کاری کی ہے۔ اڈانی ڈیٹا نیٹ ورکس فی الحال صرف انٹرپرائز کاروبار میں کام کریں گے۔

قبل ازیں، ٹیلی کام اور آئی ٹی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ ہے کہ دو سال کے اندر 5جی خدمات پورے ملک میں فراہم کرا دی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ فائیو جی خدمات کی فراہمی کے لئے تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/S04ClYd