بدھ، 8 مئی، 2024

ہندوستان میں گوگل والیٹ لانچ، صارفین کو ایک ہی مقام پر حاصل ہوں گی سہولیات

نئی دہلی: گوگل کی جانب سے بدھ کو گوگل والیٹ ایپ لانچ کی گئی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے لوگ ڈیجیٹل دستاویزات جیسے بورڈنگ پاس، لائلٹی کارڈ، مووی ٹکٹ وغیرہ سہولیات ایک جگہ پر آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ گوگل والیٹ ہندوستان میں گوگل پے سے بالکل مختلف ایپ ہے۔ اس کے لانچ ہونے کے بعد بھی گوگل پے کی خدمات پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔

گوگل نے کہا کہ کمپنی نے گوگل والیٹ کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے پی وی آر، آئیناکس، ایئر انڈیا، انڈیگو، فلپکارڈ، پائن لیبز، کوچی میٹرو، ابھی بس اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ مستقبل میں کمپنی اس سے مزید پارٹنرز کو منسلک کرے گی۔

گوگل میں اینڈرائیڈ کے جی ایم اور انڈیا انجینئرنگ کے سربراہ رام پاپاٹلا نے کہا کہ گوگل والیٹ اینڈرائیڈ انڈیا کی تاریخ میں ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ روزمرہ کی ضروریات کی چیزوں کو ایک جگہ پر لا کر لوگوں کی زندگی کو آسان بنائے گا۔ اس کے لیے ہم نے ہندوستان کے اعلیٰ برانڈز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس کی مدد سے صارفین باآسانی لائلٹی کارڈز، ایونٹ ٹکٹ، ٹرانسپورٹ پاس اور دیگر روزمرہ کی ضروریات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

گوگل والیٹ جی میل کے ساتھ بھی لنک ہوگا۔ گوگل کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق، اگر کوئی شخص کسی فلم، آئی پی ایل، ایونٹ وغیرہ کے ٹکٹ بک کرتا ہے اور اس نے گوگل کی پرسنلائز سیٹنگ کو آن کر رکھا ہے، تو اس کا ٹکٹ خود بخود گوگل والیٹ پر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

گوگل نے کہا کہ ہماری دیگر مصنوعات کی طرح گوگل والیٹ بھی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس میں پرائیویسی کا مکمل خیال رکھا گیا ہے اور صارف کو اس بات پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگا کہ وہ کون سی معلومات محفوظ کرنا چاہتا ہے اور اسے کیسے استعمال کرنا چاہیے۔ صارفین گوگل پلے اسٹور سے گوگل والیٹ کو آسانی سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Zi8AldB

چاند کے تاریک پہلو میں دنیا کی دلچسپی

چین نے چاند کے تاریک پہلو کا مطالعہ کرنے کے لیے ’چینگ 6‘ نامی تحقیقاتی مشن لانچ کر دیا ہے۔ ’چینگ 6‘ چین کی جانب سے چاند کی تحقیق کے سلسلے کا چھٹا مشن ہے۔ 53 دن کے اس مشن کا مقصد چاند کی ان دور دراز چٹانوں اور مٹی سے نمونے حاصل کرنا ہے جو کبھی زمین کا سامنا نہیں کرتے۔ دنیا کی پہلی کوشش میں، چین کا سب سے بڑا راکٹ تقریباً دو ماہ کے مشن کے لیے ’چینگ 6‘ قمری تحقیقاتی روبوٹ کو لے کر خلا میں روانہ ہو گیا ۔ لانگ مارچ-5 راکٹ 3 مئی کو مقامی وقت شام 5:27 بجے جنوبی صوبے ہینان کے وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے آٹھ ٹن سے زیادہ وزنی پروب کے ساتھ روانہ ہوا۔

’چینگ 6‘ کا نام چینی افسانوی چاندکی دیوی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کی لانچ چین کے قمری اور خلائی تحقیق کے پروگرام میں ایک اور سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے۔ چین کے لونر ایکسپلوریشن پروگرام کے چیف ڈیزائنر وو ویرن نے چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کو بتایا کہ چاند کے دور دراز علاقہ سے نمونے جمع کرنا اور واپس آنا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ اگر یہ مشن اپنا مقصد حاصل کرتا ہے تو یہ سائنسدانوں کو چاند کے دور دراز کے ماحول اور مادی ساخت کو سمجھنے کے لیے پہلا براہ راست ثبوت فراہم کرے گا، جو بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ژنہوا کے مطابق، اپنے پیشرو ’چینگ 5‘ کی طرح، ’چینگ 6‘ میں ایک آربیٹر، ایک لینڈر، اور ایک اسینڈر، نیز ایک میکانزم موجود ہے جو اسے زمین پر واپس لائے گا۔ قطب جنوبی-آٹکن بیسن، جہاں ’چینگ 6‘ اترے گا، چاند کے تاریک پہلو پر ہے جو پراسرار ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ زمین سے مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ چین 2018 میں، ’چینگ 4‘ کے ذریعے پہلی بغیر پائلٹ چاند پر لینڈنگ میں کامیاب ہوا، وہ بھی چاند کے دور دراز سمت میں۔ پھر 2020 میں، ’چینگ 5‘ کے ذریعے 44 سالوں میں پہلی بار انسان نے چاند کے نمونے حاصل کیے، اور ’چینگ 6‘ چین کو پہلا ملک بنا سکتا ہے جس نے چاند کی ’چھپی ہوئی‘ سمت سے نمونے حاصل کیے ہیں۔

اس لانچ میں فرانس، اٹلی، پاکستان اور یورپی اسپیس ایجنسی (ESA) کے سائنسدانوں، سفارت کاروں اور خلائی ایجنسی کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ ان سبھی نے ’چینگ 6‘ پر چاند کا مطالعہ کرنے والے پے لوڈ بھیجے ہیں۔ پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ ان میں شامل ہے۔ پاکستان کی نیشنل اسپسیس ایجنسی (سپارکو) نے سیٹلائٹ کا ڈھانچہ چین کی شنگھائی یونیورسٹی کے تعاون سے بنایا ہے۔ یہ دو آپٹیکل کیمروں سے لیس ہے جو چاند کی سطح کی تصاویر لینے کے لیے استعمال ہوں گے۔سیٹلائٹ کے نام میں ’قمر‘ یعنی چاند موجود ہے، اور آئی کیوب اس لیے کیونکہ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی میں موجود اسمال سیٹلائٹ پروگرام کا نام ’آئی کیوب‘ ہے جس کے تحت 2013 میں پہلا سیٹلائٹ ’آئی کیوب ون‘ لانچ کیا گیا تھا۔

چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) لونر ایکسپلوریشن اینڈ اسپیس پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی پنگ کے مطابق، امریکہ کی کسی تنظیم نے پے لوڈ نہیں بھیجا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی قانون کے مطابق چین کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کر سکتا ۔ دنیا کے چھ ممالک بشمول امریکہ، سابقہ سوویت یونین (موجودہ روس)، چین، جاپان،ہندوستان اور یورپی یونین نے چاند کے مدار میں، چاند پر یا اس کے قریب اپنے مشن بھیجے ہیں۔ ان کے علاوہ جنوبی کوریا، لگزم برگ اور اٹلی امریکی اور چینی راکٹوں کے سہارے چاند کے مدار تک جا چکے ہیں اور اب پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

راکٹ سے الگ ہونے کے بعد، ’چینگ 6‘ پروب کو چاند کے مدار تک پہنچنے میں چار سے پانچ دن لگیں گے۔ اس کے جون کے شروع میں چاند پر اترنے کی امید ہے۔لینڈنگ کے بعد تقریباً 2 کلوگرام نمونے کھودنے میں دو دن لگیں گے۔ نمونے کنٹینر میں بند کرنے کے بعدیہ زمین پر واپسی کے سفر کے لیے ریٹرنر کے ساتھ جڑ جائے گا۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے مطابق، ’چینگ 6‘ کے تقریباً 53 دنوں بعد شمالی چین کے اندرونی منگولیا علاقہ میں اترنے کی توقع ہے۔ جی پنگ نے بتایا کہ ’چینگ 6‘ کے ذریعے جمع کیے گئے نمونوں کی ارضیاتی عمر تقریباً چار ارب سال ہوگی۔

زمین کے قریب ترین آسمانی پڑوسی کے بارے میں نئی معلومات کو عیاں کرنے کے علاوہ،’چینگ 6‘ چاند پر ایک مستقل ریسرچ اسٹیشن بنانے کے ایک طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے اور یہ منصوبہ چین اور روس کی قیادت میں بننے والابین الاقوامی قمری ریسرچ اسٹیشن (ILRS) ہے۔ چین کے خلائی پروگرام کا مقصد 2030 تک چاند پر خلابازوں کو بھیجنا، مریخ سے نمونے واپس لانا اور اگلے چار سالوں میں تین قمری تحقیقاتی مشن شروع کرنا ہے۔ چین کا اگلا مشن 2027 میں روانہ ہونا ہے۔

دوسری جانب اسپیس ایکسپلوریشن کو تجارتی بنیاد پر استوار کرنے کی امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی کوششوں کو اس وقت دھچکہ لگا جب 6 مئی کو بوئنگ نےعملے کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے لیے پرواز منسوخ کردی۔ تکنیکی خرابی کے باعث اسٹار لائنر خلائی کیپسول (CST-100)کی افتتاحی پروازروک دی گئی ۔ لانچ منسوخ کرنے کا فیصلہ لفٹ آف سے دو گھنٹے قبل اور دو خلابازوں کے خلائی جہاز میں پہنچنے کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد ہوا۔ عملے کے ساتھ افتتاحی خلائی مشن کی منسوخی ایسے وقت ہوئی ہے جب بوئنگ حفاظتی ریکارڈ کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہے۔

اٹلس ـ5 (Atlas-V) راکٹ میں والو کی خرابی کی وجہ سےمشن ملتوی ہونے کا اعلان ناسا کے لائیو ویب کاسٹ کے دوران کیا گیا۔ ناسا کے سربراہ بل نیلسن نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا، آج رات کی لانچ کی کوشش ملتوی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں،ناسا کی پہلی ترجیح حفاظت ہے۔ جب ہم تیار ہوں گے تب ہم جائیں گے۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ درپیش مسئلے کو حل کرنے میں کتنا وقت لگے گا، لیکن لانچ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

اسٹار لائنر ناسا کے خلابازوں بوچ ولمور اور سنیتا ولیمز کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچانے والا تھا، جہاں انہیں زمین پر واپس آنے سے پہلے ایک ہفتہ گزارنا تھا ۔ اسٹار لائنر کے افتتاحی سفر کو ناسا کے معاہدوں کے لئے ایلون مسک کے اسپیس ایکس(SpaceX) کا مقابلہ کرنے کی بوئنگ کی صلاحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 2019کی ناکام کوشش کے بعد، اسٹار لائنر نے 2022 میں اپنا پہلا بغیر عملے کا مشن ISS بھیجاتھا۔ 6 مئی لانچ کی منسوخی سےبوئنگ کے لیے مشکلات بڑھیں گی کیونکہ کمپنی کا ایوی ایشن ڈویژن پہلے ہی مبینہ حفاظتی خامیوں کی متعدد تحقیقات سے دوچار ہے۔ واضح رہے امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشن بوئنگ ہوائی جہاز، راکٹ، سیٹلائٹ اور میزائل ڈیزائن، تیار اور فروخت کرتی ہے۔

ناسا نے 2014 میں بوئنگ اوراسپیس ایکس کو خلابازوں اور کارگو کو خلا میں لے جانے کے لیے خلائی کیپسول تیار کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ٹھیکے دیےتھے۔ خلائی شٹل پروگرام کے اختتام کے بعد ناسا کے ان معاہدوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی جانب تبدیلی کے آغاز کو نشان زد کیا تھا۔ واضح رہے کہ اسپیس ایکس کے ڈریگن نے 2020 میں خلابازوں کو کامیابی کے ساتھ ISS تک پہنچایا، یہ پہلی بار تھا جب ناسا کے خلابازوں کو تجارتی طور پر بنائے گئے خلائی جہاز میں امریکی سرزمین سے لانچ کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dmIovyV

اتوار، 5 مئی، 2024

ملک میں سیمی کنڈکٹر کی مانگ دو سالوں میں 100 بلین ڈالر تک پہنچنے کی امید

نئی دہلی: ہندوستان نے مالی سال 2025-26 تک الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار کے شعبے میں 300 بلین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے سیمی کنڈکٹروں کی مانگ 90-100 بلین ڈالر تک بڑھ جائے گی اور اس میں گھریلو موبائل مینوفیکچرنگ سب سے زیادہ حصہ ڈالے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسا موقع جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن (آئی سی ای اے) نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عام طور پر الیکٹرانکس مصنوعات کی قیمت کا 25 سے 30 فیصد چپ پر خرچ ہوتا ہے۔ اس وقت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا حجم 103 بلین ڈالر ہے، جس کے لئے تقریباً 26-31 بلین ڈالر کے سیمی کنڈکٹرز کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ’’الیکٹرونکس کی پیداوار میں ممکنہ اضافے (مالی سال 2025-26 تک 300 بلین ڈالر) کے پیش نظر یہ تعداد 90-100 بلین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔‘‘ گزشتہ سات سالوں میں ملک کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں موبائل فونز کا حصہ 10 فیصد بڑھ کر 44 فیصد ہو گیا ہے۔

مالی سال 2022-23 میں انٹیگریٹڈ سرکٹس (آئی سی) کی درآمد 16.14 بلین ڈالر تھی جس میں سے 12 بلین ڈالر موبائل فون مینوفیکچرنگ کے لئے درآمد کیے گئے تھے۔

آئی سی ای اے نے کہا کہ ہائی اینڈ فونز میں استعمال ہونے والے پروسیسر چپس کو ملک میں مسابقتی سطح پر مینوفیکچرنگ کے لیے مزید کچھ وقت انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ملک میں کم قیمت والے سمارٹ فونز کے لیے پروسیسر چپس تیار کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیمی کنڈکٹرز کی گھریلو مینوفیکچرنگ بڑھا کر درآمدات پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال مارچ میں 1.25 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بنائے جانے والے تین سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ گجرات میں مائیکرون سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں پیداوار دسمبر تک شروع ہونے کی امید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ndM693l

منگل، 30 اپریل، 2024

رینسم ویئر: تاوان کے لیے استعمال ہونے والا وائرس، اپنے کمپیوٹر کی کس طرح حفاظت کریں؟

حال ہی میں ایک عالمی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2023 میں ہندوستان کی پیداواری کی صنعت نے سب سے زیادہ رینسم ویئر یعنی بھتہ خوری یا تاوان کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر پروگرام یا یوں کہیں کہ وائرس کے حملے برداشت کئے ہیں۔

کمپیوٹر وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دنیا کا سب سے پہلا وائرس 2 پاکستانی بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے تیار کیا تھا، جو اس وقت محض 17 سال اور 24 سال کے تھے۔ دونوں بھائی لاہور میں ایک کمپیوٹر کی دکان چلاتے تھے۔ جب ان بھائیوں کو علم ہوا کہ ان کے صارفین ان کے سافٹ وئیر کی غیرقانونی کاپیاں تیار کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کے خلاف اقدام لینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں بھائیوں نے ’برین‘ نام کا ایک پروگرام تیار کیا، جسے آج دنیا سب سے پہلے وائرس کے طور پر جانتی ہے۔

پاکستان کے دونوں بھائیوں نے جو وائرس بنایا تھا وہ کسی کمپیوٹر کے ڈیٹا پر حملہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کسی دوسری طرح کی خرابی پیدا کرتا تھا، صرف پرائیریسی کی صورت میں خود کو کمپیورٹ پر لوڈ کر دیتا تھا لیکن بعد میں جو وائرس بنائے گئے ان کے ذریعے لوگوں کے کمپورٹر کو نشانہ بنایا گیا، ان کے ڈیٹا کی چوری کی گئی، حتی کہ بھتہ خوری تک کے لیے اس کا استعمال کیا جانے لگا اور آج بھی کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کا مینوفیکرنگ سیکٹر بھی وائرس کی ہی ایک قسم کی زد میں ہے، جسے رینسم ویئر کہا جاتا ہے۔

رینسم ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ہیکرز مختلف اداروں سے اہم معلومات اور کمپنیوں سے ان کا ریکارڈ چوری کر لیتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کی جانب سے کسی کمپنی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے کمپیوٹر میں خرابی بھی پیدا کر دی جاتی ہے، جس سے کمپنی اپنے ضروری ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے قابل نہیں رہ جاتی۔ پھر ہیکرز متاثرہ کمپنی سے رابطہ کر کے اسے بلیک میل کرتے ہیں اور ڈیٹا واپس کرنے اور کمپیوٹر کو صحیح کرنے کے عوض تاوان مانگتے ہیں۔

چوری، ڈکیتی، راہزنی اور دیگر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو پکڑے جانے اور جیل جانے کا خدشہ ہوتا ہے لہذا انہوں نے دور سے ہی کسی شخص کو دھمکی دے کر یا اس کے ڈیٹا میں نقب زنی کر کے تاوان حاصل کرنے کے لیے رینسم ویئر کا استعمال شروع کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق رینسم ویئر کا پہلا معاملہ 1989میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے سالہا سال یہ جرم تقوقت حاصل کرتا گیا اور زیادہ منافع بخش بنتا چلا گیا۔ آج رینسم ویئر کی غالباً 20 سے زائد مختلف اقسام موجود ہیں۔

یہ وائرس موبائل فون کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ اسے کسی بھی موبائل ایپ میں چھپایا جا سکتا ہے اور ایپ انسٹال کرنے کے دوران وائرس فون میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے صارفین کو کسی بھی ایپ کو اپنے موبائل فون میں انسٹال کرنے سے پہلے گوگل پلے پر یہ جان لینا چاہئے کہ وہ ایپ کہاں سے آئی ہے اور اس کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے۔ اس طرح وہ ناقابل اعتماد ذرائع سے آنے والی ایپس کو انسٹال کرنے سے بچ سکتے ہیں۔

دیگر کمپیوٹر وائرس کی طرح رینسم ویئرکو بھی جعلی ای میل، ا سپیم میل، یا بھر نقلی سافٹ ویئر کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔ اگر صارف نے ان میں سے کسی پر بھی کلک کر دیا تو وہ وائرس ان کے کمپیوٹر میں داخل ہو جاتا ہے۔ رینسم ویئر کا استعمال کرنے والے ہیکرز آپ کے ڈیٹا کو لاک یعنی مقفل کر دیتے ہیں، چونکہ عام طور لوگ اپنے ڈیٹا کا ’بیک اپ’ تیار نہیں کرتے، لہذا اپنا ڈیٹا واپس لینے کی غرض سے وہ تاوان ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ رینسم ویئر جیسے خطرات سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے ڈیٹا کا وقتاً فوقتاً بیک اپ تیار کرتے رہیں۔ اگر اپ کے پاس بیک اپ ہوگا تو کسی حملے کی صورت میں اس کا استعمال کرتے ہوئے آپ اپنے ڈیٹا کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/h9wbmVn

جمعرات، 11 اپریل، 2024

پیگاسس جیسے اسپائی ویئر کے ذریعے صحافیوں، سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے موبائل فون پر حملہ، ایپل نے خبردار کیا

واشنگٹن: آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل نے اپنے صارفین کو پیگاسس جیسے جدید ترین اسپائی ویئر حملوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے محدود تعداد میں لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسپائی ویئر حملوں کی زد میں آنے والے افراد میں صحافی، کارکن، سیاست دان اور سفارت کار شامل ہیں۔

تاہم، ایپل نے ان حملوں کے حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ زیادہ لاگت کی وجہ سے اسپائی ویئر اکثر محدود تعداد میں ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن کرائے کے اسپائی ویئر کا استعمال کرتے ہوئے حملے جاری ہیں اور عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں۔

ایپل نے اپنے جاری کردہ خطرے کے نوٹیفکیشن میں پچھلی تحقیق اور رپورٹس کی بنیاد پر اشارہ کیا کہ اس طرح کے حملے تاریخی طور پر حکومت سے منسلک جماعتوں کی جانب سے کئے جاتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سال ہندوستان سمیت تقریباً 60 ممالک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

معروف فون بنانے والی کمپنی نے کہا، ’’خطرے کے انتباہات ان صارفین کو مطلع کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں جو ذاتی طور پر کرائے کے اسپائی ویئر کے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح کے حملے باقاعدہ سائبر کرائم کی سرگرمیوں اور صارفین کے میلویئر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ کرایہ پر لیے گئے اسپائی ویئر حملہ آور مخصوص افراد اور ان کے فون کی ایک چھوٹی تعداد کو نشانہ بنانے کے لیے غیر معمولی وسائل استعمال کرتے ہیں۔‘‘

ایپل نے کہا کہ کرائے کے اسپائی ویئر حملوں کی لاگت لاکھوں ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ حملوں کی مدت کم ہونے کی وجہ سے ان کا پتہ لگانا اور روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح کے حملے زیادہ تر صارفین پر نہیں کیے جاتے۔

کمپنی نے کہا، ’’ایپل اس طرح کے حملوں کا پتہ لگانے کے لیے مکمل طور پر اندرونی خطرے کی انٹیلی جنس اور تحقیقات پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ ہماری تحقیقات کبھی بھی مکمل طور پر قطعی نہیں ہو سکتی ہیں لیکن یہ خطرے کے انتباہات انتہائی قابل اعتماد ہیں۔ اس کو بہت سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔‘‘

پچھلے سال ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ دنیا بھر میں تقریباً 49 فیصد تنظیمیں ملازمین کے آلات پر حملوں یا حفاظتی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے سے قاصر ہیں۔ سائبر سیکورٹی فرم چیک پوائنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں ہندوستان میں موبائل میلویئر سے متاثر ہونے والی تنظیموں کی ہفتہ وار اوسط 4.3 فیصد تھی، جب کہ ایشیا پیسفک خطے میں اوسط 2.6 فیصد تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/C5xe1Ju

ہفتہ، 6 اپریل، 2024

Urdu stories for kids 2 | Chonti aur tidda | An Ant and A Grasshopper

چینی ہیکر مصنوعی ذہانت پر مبنی مواد کے ذریعے ہندوستان کے عام انتخابات کو متاثر کریں گے: مائیکروسافٹ

نئی دہلی: رواں برس دنیا کے کئی اہم ممالک میں انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں ہندوستان، جنوبی کوریا اور امریکہ شامل ہیں۔ مائیکروسافٹ نے انتباہ دیا ہے کہ چین کے ہیکر اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا استعمال کر کے ان انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔

مائیکروسافٹ کے مطابق چینی ہیکر میم، ویڈیو اور آڈیو کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹیک کمپنی کے مطابق چین ووٹروں کو منقسم کرنے کے لیے فرضی سوشل میڈیا کھاتوں کا استعمال کر رہا ہے۔ کمپنی نے پوسٹ میں کہا، ’’چین نے دنیا بھر میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اے آئی پر مبنی مواد کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔‘‘

مائیکروسافٹ کے مطابق اے آئی ٹولز ہیکرز کے لیے ہتھیاروں کی طرح خطرناک ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہے ہیں۔ اب ان اے آئی ٹولز کے ذریعے ڈیپ فیک اور ایڈیٹ ویڈیوز بنانا آسان ہے۔ ہیکرز جعلی اکاؤنٹس کو آسانی سے چلا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ مشہور رہنماؤں کی آوازوں کو بھی کلون کیا جا سکتا ہے، پھر اسے بڑے پیمانے پر عوامی سطح پر شیئر کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ وائرل ہو کر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) سے وابستہ لوگوں کے گمراہ کن سوشل میڈیا کھاتوں نے امریکی ووٹروں کو تقسیم کرنے والے اہم مسائل پر متنازعہ سوالات اٹھانا شروع کر دئے ہیں۔ رواں سال تائیوان کے صدارتی انتخابات میں بھی چین سے وابستہ سائبر ہیکروں نے اے آئی پر مبنی مواد کا استعمال کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CEarmsR

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ایپل نے اپنے 600 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کر دیا، کئی پروجیکٹ بند کرنے کا فیصلہ

سال 2024 میں دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ رواں برس جن کمپنیوں نے اجتماعی طور پر اپنے ملازمین کو فارغ کیا ہے ان میں اب آئی فون تیار کرنے والی مشہور کمپنی ایپل بھی شامل ہو گئی ہے۔ ایپل نے حال ہی میں اپنے 600 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، تازہ ایپل نے تازہ برطرفیوں کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی نے کیلیفورنیا ایمپلائمنٹ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاس فائلنگ میں اس کی اطلاع دی ہے۔ فائلنگ کے حوالہ سے بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپل نے کیلیفورنیا میں 600 سے زیادہ ملازمین کو برطرف کیا ہے۔ کمپنی نے برطرفیوں کا یہ فیصلہ کار اور اسمارٹ واچ ڈسپلے پروجیکٹ کے بند ہونے کی وجہ سے لیا ہے۔

برطرفیوں کی یہ خبر اس وجہ سے سنگین ہے کہ ایپل کا شمار صرف ٹیک انڈسٹری میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ ایپل کا شیئر امریکی بازار میں 0.49 فیصد کی تنزلی کے ساتھ 168.82 ڈالر پر ہے۔ کمپنی کا ایم کیپ 2.61 ٹریلین ڈالر ہے اور اس لحاظ سے یہ کمپنی صرف مائیکروسافٹ سے ہی پیچھے ہے اور دوسری سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی ہے۔

ایپل کا صدر دفتر کیلیفورنیا کے کوپرٹینو میں واقع ہے۔ مقامی قانون کے مطابق کمپنیوں کو برطرفیوں کا ملازمین کو فارغ کرنے کے بارے میں اطلاع دینی ہوتی ہے۔ ایپل نے ورکر ایڈجسٹمنٹ اینڈ ڑیتینگ نوٹیفکیشن (وارن پروگرام) پر عمل کرتے ہوئے آٹھ الگ الگ فائلنگ میں ملازمین کی برطرفیوں کی اطلاع دی۔

کمپنی کی فائلنگ کے مطابق، برطرفی کا شکار ہوئے لوگوں میں کم سے کم 87 ملازمین ایپل کی سیکریٹ فیسلٹی میں کام کر رہے تھے، جہاں نیکسٹ جنریشن اسکرین ڈیولپمنٹ کا کام ہو رہا تھا۔ وہیں، باقی ملازمین نزید میں واقع دوسری عمارت میں کام کرتے تھے جو کار پروجیکٹ کے لیے وقف تھی۔

ایپل کے کار پروجیکٹ کے حوالہ سے دنیا بھر میں تجسس پایا جاتا ہے۔ حال ہی میں کئی موبائل اور گیجٹ کمپنیوں نے برقی گاڑی (ای وی) تیار کرنے کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ شیاومی اور ہواوے جیسی چینی اسمارٹ فون کمپنیاں ای وی مارکیٹ میں اتر چکی ہیں۔ ایپل نے کچھ روز قبل اپنا پروٹوٹائپ (نمونا) پیش کیا تھا، لیکن اس سال کے اوائل میں خبر آئی کہ ایپل نے کار پروجیٹ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lqRfxLX

جمعرات، 28 مارچ، 2024

صرف 4 فیصد ہندوستانی کمپنیاں سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے تیار! رپورٹ

نئی دہلی: ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں صرف 4 فیصد کمپنیاں ہی سائبر سیکورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ سسکو کے 2024 سائبر سیکوریٹی ریڈینیس انڈیکس نے کہا کہ سائبر حملوں کا جواب دینے کے لیے کمپنیوں کی تیاری اہم ہے۔ 82 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ اگلے 12 سے 24 مہینوں میں ان کی کمپنیوں کی سائبر سیکورٹی کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

وہیں، 88 فیصد کمپنیاں اب بھی اپنے موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ سائبر حملوں کے خلاف دفاع کرنے کی اپنی صلاحیت پر اعتماد محسوس کرتی ہیں۔ سسکو میں سیکورٹی اور تعاون کے جنرل مینیجر جیتو پٹیل نے کہا، ’’ہم سائبر حملوں سے نمٹنے کے اپنے اعتماد کے سبب درپیش خطرے کی شدت کو کم نہیں سمجھ سکتے۔

جیتو پٹیل نے کہا، ’’آج، کمپنیوں کو مربوط پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینے کے لیے اے آئی پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘ عالمی سطح پر تقریباً تمام (99 فیصد) کمپنیوں کے اگلے 12 مہینوں میں اپنے سائبر سیکورٹی بجٹ میں اضافہ کرنے کی توقع ہے۔ تقریباً 71 فیصد کمپنیاں اگلے 12 سے 24 مہینوں میں اپنے آئی ٹی انفراسٹرکچر کو نمایاں طور پر اپ گریڈ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

سسکو انڈیا اور سارک کے سیکورٹی بزنس ڈائریکٹر سمیر کمار مشرا نے کہا، ’’کمپنیوں کو ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے اپنی سائبر سیکورٹی حکمت عملی کے حصے کے طور پر اے آئی کو کو فرنٹ لائن میں رکھنا ہوگا، تاکہ بڑھتے خطرات کے مقابلے میں ان کی حفاظت کو مضبوط بنایا جا سکے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/VD9UHlw

منگل، 26 مارچ، 2024

ہندوستان کی ’پیداواری صنعت‘ رینسم ویئر حملوں کا سب سے بڑا ہدف: تحقیق

نئی دہلی: ہندوستان کی پیداواری کی صنعت (مینوفیکچرنگ انڈسٹری) نے 2023 میں رینسم ویئر (ایک طرح کا وائرس جس کے ذریعے کسی کے کمپیوٹر پر سائبر حملہ کر کے تاوان طلب کیا جاتا ہے) کے سب سے زیادہ حملے برداشت کئے۔ یہ بات ایک عالمی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔

پالو آلٹو نیٹ ورک کی یونٹ 42 کی رپورٹ 250 سے زیادہ تنظیموں اور 600 سے زیادہ واقعات کے ڈیٹا پر مبنی ہے۔ اس نے لیک ہونے والی سائٹس کے پلیٹ فارمز سے 3998 پوسٹس کی جانچ کی جہاں دھمکی دینے والے اداکاروں نے متاثرین کو تاوان ادا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے مختلف رینسم ویئر گروپس سے چوری کیے گئے ڈیٹا کو عوامی طور پر ظاہر کیا۔

عالمی سطح پر 2022-2023 کے دوران کثیر بھتہ خوری کے رینسم ویئر حملوں میں سال بہ سال 49 فیصد اضافہ متوقع ہے، جس میں ہندوستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

پالو آلٹو نیٹ ورکس کے ایم ڈی، انل ویلوری نے ایک بیان میں کہا، ’’ہندوستان میں مینوفیکچرنگ سیکٹر گزشتہ سال رینسم ویئر کے حملوں کا ایک بنیادی ہدف بن کر ابھرا ہے۔ یہ غیر پائیدار رجحان ہندوستانی مینوفیکچرنگ سیکٹر کے اندر اہم کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’تنظیموں کو چاہیے کہ وہ انٹرپرائز وائیڈ زیرو ٹرسٹ نیٹ ورک آرکیٹیکچر کو لاگو کریں تاکہ سیکورٹی کی پرتیں بنائیں جو حملہ آور کو نیٹ ورک کے ارد گرد گھومنے سے روکتی ہیں۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ 2022 کے ایک تہائی واقعات سے 2023 میں فشنگ کم ہو کر صرف 17 فیصد رہ گئی۔

رپورٹ کے مطابق، "یہ فشنگ کے کم ترجیح بننے کا اشارہ ہے۔ سائبر مجرم تکنیکی طور پر زیادہ جدید اور شاید زیادہ موثر مداخلت کے طریقے اپنا رہے ہیں۔‘‘

مزید برآں، رپورٹ میں سافٹ ویئر اور اے پی آئی کی کمزوریوں کے استحصال میں نمایاں اضافہ پایا گیا۔ سال 2022 میں یہ 28.20 فیصد تھی جو 2023 میں بڑھ کر 38.60 فیصد ہو گئی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hpXd9IK

انسان جانوروں میں وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ: تحقیق

لندن: ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انسان اکثر جنگلی اور گھریلو جانوروں میں وائرس پھیلاتے ہیں جس سے ان میں بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یونیورسٹی کالج لندن (یو سی ایل) کے محققین نے وائرل جینوم کا تجزیہ کیا جس سے یہ بات سامنے آئی کہ انسانوں کو کبھی بھی وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہیں سمجھا گیا اور وائرس کے انسان سے جانوروں کے پھیلاؤ پر بہت کم توجہ دی گئی۔

یو سی ایل کے انسٹی ٹیوٹ آف جیناٹکس اور فرانسس کرک انسٹی ٹیوٹ میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم، اہم مصنف سیڈرک ٹین نے کہا، "جب جانوروں میں انسانوں سے وائرس منتقل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف جانوروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ تمام انواع کے تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ بلکہ اسے روکنے کے لیے بڑی تعداد میں جانوروں کو مارنے کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے علاوہ اگر انسانوں سے پھیلنے والا نیا وائرس جانوروں کی کسی نئی نسل کو متاثر کرتا ہے، تو یہ انسانوں میں سے ختم ہونے کے بعد بھی ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے۔‘‘ نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے لیے ٹیم نے تقریباً 12 ملین (ایک کروڑ 20 لاکھ) وائرل جینوم کا تجزیہ کیا۔

محققین نے پایا کہ ’’وائرس انسانوں سے جانوروں میں پھیلنے کا امکان تقریباً دوگنا ہے۔ یہ نمونہ زیادہ تر وائرل خاندانوں میں یکساں تھا۔‘‘ یو سی ایل جیناٹکس انسٹی ٹیوٹ کے شریک مصنف پروفیسر فرانکوئس بیلوکس نے کہا، ’’انسانوں سے جانوروں میں وائرس کا پھیلنا انفیکشن کا ایک طریقہ ہے لیکن اس کے دوسرے طریقے بھی ہیں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OzT8Iv3

جمعہ، 22 مارچ، 2024

2023 میں موبائل ڈیوائسز پر 3.38 کروڑ سائبر حملے روکے گئے: رپورٹ

نئی دہلی: عالمی سطح پر سال 2023 میں موبائل ڈیوائسز پر میلویئر، ایڈویئر اور رسک ویئر کے 3.38 کروڑ حملے بلاک کیے گئے، جو کہ 2022 کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس بات کا جمعہ کو جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق محققین نے 3 نئے خطرناک اینڈرائیڈ میلویئر ویرینٹ - ٹیمبر، ڈوافان اور گیگابڈ کا مطالبہ ہے۔

عالمی سائبرسیکیوریٹی کمپنی کسپرسکی کے مطابق ٹیمبر، ڈوافان اور گیگابڈ کے بدنیتی پر مبنی پروگراموں میں متعدد خصوصیات ہیں جن میں دیگر پروگراموں کو ڈاؤن لوڈ کرنا اور اسناد چوری کرکے ٹو فیکٹر تصدیق (2ایف اے) اور اسکرین ریکارڈنگ کو نظرانداز کر کے صارف کی رازداری اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنا شامل ہیں۔

کیسپرسکی جی آر ای اے ٹی کے سینئر سیکورٹی محقق جونٹ وین ڈیر وائل نے کہا، ’’2 سال پرسکون رہنے کے بعد 2023 میں اینڈرائیڈ میلویئر اور تھریٹ ویئر کی سرگرمیاں بڑھ گئیں، جو سال کے آخر تک 2021 کی سطح پر واپس آ گئیں۔‘‘

رپورٹ کے مطابق ٹیمبر ایک اسپائی ویئر ایپلی کیشن ہے جو ترکی میں صارفین کو نشانہ بناتی ہے۔ یہ خود کو ایک آئی پی ٹی وی ایپ کے طور پر ظاہر کرتی ہے۔ یہ مناسب اجازت حاصل کرنے کے بعد حساس صارف کی معلومات جیسے ایس ایم ایس پیغامات اور کی اسٹروکس جمع کرتا ہے۔

ڈوافان جو نومبر 2023 میں دریافت ہوا، چینی کمپنیوں کے سیل فونز پر حملہ کرتا ہے اور بنیادی طور پر روسی مارکیٹ کو نشانہ بناتا ہے۔ میلویئر کو سسٹم اپ ڈیٹ ایپلی کیشن کے جزو کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے اور یہ آلہ کے ساتھ ساتھ ذاتی ڈیٹا کے بارے میں معلومات جمع کرتا ہے۔

گیگا بڈ 2022 کے وسط سے فعال ہے۔ اس نے ابتدا میں جنوب مشرقی ایشیا کے صارفین سے بینکنگ اسناد چرانے پر توجہ مرکوز کی، لیکن بعد میں اسے پیرو جیسے دیگر ممالک تک پھیلا دیا گیا۔ محققین نے کہا کہ اس کے بعد سے یہ ایک جعلی لون میلویئر میں تبدیل ہوا ہے جو اسکرین ریکارڈنگ اور صارف کو 2ایف اے کو نظرانداز کرنے کے لیے ٹیپ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

وائل نے کہا، ’’صارفین کو احتیاط کرنی چاہیے اور غیر سرکاری ذرائع سے ایپس ڈاؤن لوڈ کرنے سے گریز کرنا چاہیے، ایپ کی اجازتوں کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان ایپس میں استحصالی فعالیت کا فقدان ہے اور یہ مکمل طور پر صارفین کی طرف سے دی گئی اجازتوں پر منحصر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اینٹی میلویئر ٹولز استعمال کرنے سے آپ کے اینڈرائیڈ ڈیوائس کو محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/B1u9tOx