جمعہ، 24 مئی، 2024

ایکس پر ماہانہ متحرک صارفین 60 کروڑ تک پہنچ گئے

نئی دہلی: ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے جمعہ کو کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ماہانہ متحرک صارفین (ایم اے یو) کی تعداد 60 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

مسک کو 2022 میں 44 بلین ڈالر میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ ایک سپر ایپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر آپ فلموں اور ٹی وی شوز کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگی بھی کر سکتے ہیں۔

ارب پتی ٹیک بزنس مین نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ’’ایکس پر ماہانہ متحرک صارفین کی تعداد 60 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف روزانہ ایکس استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے صارفین نے کہا کہ ایکس شاید اس وقت دنیا کا بہترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ خیال رہے کہ مسک ایکس میں مسلسل تبدیلیاں کر رہے ہیں اور ایپ میں کئی نئے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔

حصول کے بعد ایکس پر بلیو ٹک حاصل کرنے کے لیے سبسکرپشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اداروں کی تصدیق کے لیے گولڈن ٹک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایکس پر وائس اور ویڈیو کالنگ کا فیچر بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین آسانی سے وائس اور ویڈیو کالنگ کی سہولت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں مسک نے کہا تھا کہ ایکس پر لائیو مواد میں سپر چیٹ فیچر آ رہا ہے۔

اب سبسکرائب شدہ صارفین فلمیں، ٹی وی سیریز اور پوڈ کاسٹ وغیرہ پوسٹ کر کے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایکس کی جانب سے مشتہرین کے لیے ایک نیا اے آئی ٹول بھی لایا جا رہا ہے، جو چند سیکنڈ میں اشتہارات کے لیے کارآمد صارفین کی فہرست تیار کرے گا۔

مسک نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ موجودہ اے آئی کے ذریعے صارفین آسانی سے ’آر یو اے بوٹ؟‘ پاس کر سکتے ہیں۔ مسک نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ اب نئے صارفین کو ایکس پر پوسٹ کرنے کے لیے پیسے ادا کرنا ہوں گے۔ کمپنی اکتوبر 2023 سے ایکس پلیٹ فارم استعمال کرنے کے لیے نیوزی لینڈ اور فلپائن میں صارفین سے ایک ڈالر سالانہ چارج کر رہی ہے۔ مسک نے بتایا کہ اس قدم کے ذریعے ہی ہم ایکس پلیٹ فارم پر بوٹس کو روک سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mdlXF7w

منگل، 14 مئی، 2024

اوپن اے آئی کا نیا ڈیمو شرمندہ کرنے والا: ایلون مسک

نئی دہلی: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے ایک بار پھر منگل کو اوپن اے آئی پر تنقید کی۔ سیم آلٹ مین کی قیادت والی کمپنی کے نئے ماڈل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ شرمناک ہے۔ دراصل، مصنف ایشلے سینٹ کلیئر نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اوپن اے آئی کے ساتھ انسان اب ریئل ٹائم میں اے آئی کی حقیقت کا احساس کر سکتا ہے۔ اور ’’ہم نے شاید بعد از حقیقی دور کو مزید بدتر دور میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس کے جواب میں ایلون مسک نے کہا، ’’نیا ڈیمو شرمناک ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ایلون مسک کو اوپن اے آئی کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے۔ اسی دوران ایک اور ایکس صارف نے تبصرے میں لکھا کہ ہم گورک کے ڈیمو ورژن (ایکس کی جانب سے تیار کیا جا رہا اے آئی ماڈل) کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

مسک کی جانب سے مارچ میں اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او آلٹ مین کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ اے آئی کے معاہدے کی شرائط کو توڑنے سے متعلق تھا۔ اوپن اے آئی نے بھی اس مقدمے کا جواب دیا اور کہا، ’’مسک چاہتے ہیں کہ ہم ٹیسلا کے ساتھ ضم ہو جائیں یا وہ کمپنی کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیں۔‘‘ آلٹ مین نے کہا، ’’مسک نے یہ سوچ کر اوپن اے آئی‘ چھوڑ دیا کہ کمپنی ناکام ہو جائے گی۔‘‘

چیٹ جی پی ٹی چلانے والے اوپن اے آئی کی جانب سے پیر کو جی پی ٹی-4او کی نقاب کشائی کی گئی تھی۔ یہ ایک فلیگ شپ ماڈل ہے جو کہ جی پی ٹی 4 کی سطح کی ذہانت فراہم کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے اے آئی ماڈلز کے ٹیکسٹ، آواز اور وژن میں پہلے سے زیادہ تیزی اور بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی 50 سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/c2okTrH

اتوار، 12 مئی، 2024

بچوں کے موبائل اور کمپیوٹر سے چپکے رہنے سے والدین پریشان، 89 فیصد ہندوستانی مائیں تشویش میں مبتلا، رپورٹ میں انکشاف

والدین بچوں کے موبائل اور کمپیوٹر سے چپکے رہنے سے کافی پریشان رہتے ہیں اور ایک بار عادی ہونے کے بعد بچوں کو اس طرح کے آلات سے دور کر پانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان کی بیشتر مائیں بچوں کی اس عادت سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’ٹیک آرک‘ کی مدر ڈے کے موقع پر یہ تشویشناک رپورٹ سامنے آئی، جس میں کہا گیا ہے کہ 89 فیصد ہندوستانی مائیں بچوں کے اسکرین ٹائم کی وجہ سے حد درجہ فکر مند ہیں۔ اتوار (12 مئی، مدر ڈے) کو جاری اس رپورٹ میں ایسی 600 کام کرنے والی ماؤں کے درمیان کیے گئے سروے کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے جن کا کم از کم ایک بچہ تیسری سے چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے۔

سروے کرنے والی کمپنی ’ٹیک آرک‘ نے ان خواتین سے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں ان کے خدشات، ان کو درپیش چیلنجس، ان کی دلچسپیوں اور ان کی ترجیحات کے بارے میں سوال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماؤں کا خیال ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافہ ان کے بچوں کی تعلیم کو متاثر کرتا ہے اور ان کی ذہنی و جسمانی نشو نما نیز سماجی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماؤں کے سب سے بڑے خدشات میں سے پرائیویسی (81 فیصد)، نامناسب مواد (72 فیصد)، نوعمروں کو متاثر کرنے والے (45 فیصد) اور ڈیپ فیک (26 فیصد) ہیں۔ ان ماؤں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ڈیپ فیک اور زین اے آئی والدین کے لیے ایک بڑی تشویش بن جائے گی۔ ڈیوائسیز کی بات کریں تو مستقبل کے لیے سب سے بڑی تشویش و ی آر ہیڈ سیٹ ہے، خاص طور پر ایپل ورژن پرو کی لانچنگ کے بعد۔

سروے کے دوران حالانکہ ماؤں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پانچ سال قبل کے بالمقابل آج کی ڈیجیٹل دنیا بچوں کے لیے زیادہ مفید اور ان کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد مائیں اپنے بچوں کے لیے جتنی رقم خرچ کرتی ہیں اس کا 51 سے 85 فیصد حصہ آن لائن شاپنگ پر خرچ کرتی ہیں۔ جبکہ 20 فیصد ڈیجیٹل خدمات حاصل کرنے والی خواتین کے معاملے میں یہ تعداد 85 فیصد سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے سب سے زیادہ خریداری ایمیزون پر، سویگی پر کھانوں کے آرڈر دینے اور ہاٹ اسٹار پر تفریحی پیکجز خریدنے میں کرتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CdmvT5V

جمعہ، 10 مئی، 2024

سائبر فراڈ: 28 ہزار سے زیادہ فون بلاک، 20 لاکھ کنیکشنز کا ری ویریفیکیشن

نئی دہلی: شہریوں کو ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کی کوششوں میں محکمہ ٹیلی مواصلات (ڈی او ٹی) نے جمعہ کو کہا کہ اس نے ٹیلی مواصلات خدمات فراہم کرنے والوں (ٹی ایس پی) کو 28200 موبائل ہینڈ سیٹ کو بلاک کرنے اور متعلقہ 20 لاکھ کنیشنوں کی از سر نو تصدیق کی ہدایت جاری کی ہے۔

سائبر کرائم اور فنانشل دھوکہ دہی میں ٹیلی مواصلات کے وسائل کا غلط استعمال روکنے کے لئے ڈی او ٹی، وزارت داخلہ اور ریاستی پولیس نے معاہدہ کیا ہے۔

ڈی او ٹی نے ایک بیان میں کہا، ’’تعاون کے اس اقدام کا مقصد دھوکہ بازوں کے نیٹورک کو تباہ کرنا اور شہریوں کی ڈیجیٹل خطرات سے حفاظت کرنا ہے۔‘‘

وزارت داخلہ اور ریاستی پولیس کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ مختلف سائبر کرائمز میں 28200 موبائل ہینڈ سیٹوں کا غلط استعمال کیا گیا۔ ساتھ ہی، ان موبائل ہینڈ سیٹوں کے ساتھ 20 لاکھ نمبروں کا استعمال کیا گیا۔

اس کے بعد ڈی او ٹی نے ٹی ایس پی کو 28200 موبائل ہینڈ سیٹ بلاک کرنے اور ان موبائل ہینڈ سیٹس سے منسلک 20 لاکھ موبائل کنکشن منقطع کرنے کی ہدایات جاری کیں اگر وہ دوبارہ تصدیق کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

اس ہفتے کے شروع میں ڈی او ٹی نے ایک موبائل نمبر منقطع کر دیا اور کم از کم 20 منسلک موبائل آلات کو بلاک کر دیا جب ایک صارف نے اپنے ویب پورٹل 'چکشو' کے ذریعے سائبر فراڈ کی شکایت کی۔

چکشو ایک آن لائن سروس ہے جو شہریوں کو مشتبہ فراڈ کی اطلاع دینے کی اجازت دیتی ہے۔ ڈی او ٹی نے کہا کہ ’’مربوط نقطہ نظر عوامی تحفظ اور ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی سالمیت کے تحفظ اور ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ عزم کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N2rQTSV

بدھ، 8 مئی، 2024

ہندوستان میں گوگل والیٹ لانچ، صارفین کو ایک ہی مقام پر حاصل ہوں گی سہولیات

نئی دہلی: گوگل کی جانب سے بدھ کو گوگل والیٹ ایپ لانچ کی گئی ہے۔ اس ایپ کے ذریعے لوگ ڈیجیٹل دستاویزات جیسے بورڈنگ پاس، لائلٹی کارڈ، مووی ٹکٹ وغیرہ سہولیات ایک جگہ پر آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ گوگل والیٹ ہندوستان میں گوگل پے سے بالکل مختلف ایپ ہے۔ اس کے لانچ ہونے کے بعد بھی گوگل پے کی خدمات پہلے کی طرح جاری رہیں گی۔

گوگل نے کہا کہ کمپنی نے گوگل والیٹ کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے پی وی آر، آئیناکس، ایئر انڈیا، انڈیگو، فلپکارڈ، پائن لیبز، کوچی میٹرو، ابھی بس اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ مستقبل میں کمپنی اس سے مزید پارٹنرز کو منسلک کرے گی۔

گوگل میں اینڈرائیڈ کے جی ایم اور انڈیا انجینئرنگ کے سربراہ رام پاپاٹلا نے کہا کہ گوگل والیٹ اینڈرائیڈ انڈیا کی تاریخ میں ایک اہم کامیابی ہے۔ یہ روزمرہ کی ضروریات کی چیزوں کو ایک جگہ پر لا کر لوگوں کی زندگی کو آسان بنائے گا۔ اس کے لیے ہم نے ہندوستان کے اعلیٰ برانڈز کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس کی مدد سے صارفین باآسانی لائلٹی کارڈز، ایونٹ ٹکٹ، ٹرانسپورٹ پاس اور دیگر روزمرہ کی ضروریات تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

گوگل والیٹ جی میل کے ساتھ بھی لنک ہوگا۔ گوگل کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق، اگر کوئی شخص کسی فلم، آئی پی ایل، ایونٹ وغیرہ کے ٹکٹ بک کرتا ہے اور اس نے گوگل کی پرسنلائز سیٹنگ کو آن کر رکھا ہے، تو اس کا ٹکٹ خود بخود گوگل والیٹ پر نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

گوگل نے کہا کہ ہماری دیگر مصنوعات کی طرح گوگل والیٹ بھی مکمل طور پر محفوظ ہے۔ اس میں پرائیویسی کا مکمل خیال رکھا گیا ہے اور صارف کو اس بات پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگا کہ وہ کون سی معلومات محفوظ کرنا چاہتا ہے اور اسے کیسے استعمال کرنا چاہیے۔ صارفین گوگل پلے اسٹور سے گوگل والیٹ کو آسانی سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Zi8AldB

چاند کے تاریک پہلو میں دنیا کی دلچسپی

چین نے چاند کے تاریک پہلو کا مطالعہ کرنے کے لیے ’چینگ 6‘ نامی تحقیقاتی مشن لانچ کر دیا ہے۔ ’چینگ 6‘ چین کی جانب سے چاند کی تحقیق کے سلسلے کا چھٹا مشن ہے۔ 53 دن کے اس مشن کا مقصد چاند کی ان دور دراز چٹانوں اور مٹی سے نمونے حاصل کرنا ہے جو کبھی زمین کا سامنا نہیں کرتے۔ دنیا کی پہلی کوشش میں، چین کا سب سے بڑا راکٹ تقریباً دو ماہ کے مشن کے لیے ’چینگ 6‘ قمری تحقیقاتی روبوٹ کو لے کر خلا میں روانہ ہو گیا ۔ لانگ مارچ-5 راکٹ 3 مئی کو مقامی وقت شام 5:27 بجے جنوبی صوبے ہینان کے وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے آٹھ ٹن سے زیادہ وزنی پروب کے ساتھ روانہ ہوا۔

’چینگ 6‘ کا نام چینی افسانوی چاندکی دیوی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس کی لانچ چین کے قمری اور خلائی تحقیق کے پروگرام میں ایک اور سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے۔ چین کے لونر ایکسپلوریشن پروگرام کے چیف ڈیزائنر وو ویرن نے چینی خبر رساں ایجنسی ژنہوا کو بتایا کہ چاند کے دور دراز علاقہ سے نمونے جمع کرنا اور واپس آنا ایک بے مثال کارنامہ ہے۔ اگر یہ مشن اپنا مقصد حاصل کرتا ہے تو یہ سائنسدانوں کو چاند کے دور دراز کے ماحول اور مادی ساخت کو سمجھنے کے لیے پہلا براہ راست ثبوت فراہم کرے گا، جو بہت اہمیت کا حامل ہے۔

ژنہوا کے مطابق، اپنے پیشرو ’چینگ 5‘ کی طرح، ’چینگ 6‘ میں ایک آربیٹر، ایک لینڈر، اور ایک اسینڈر، نیز ایک میکانزم موجود ہے جو اسے زمین پر واپس لائے گا۔ قطب جنوبی-آٹکن بیسن، جہاں ’چینگ 6‘ اترے گا، چاند کے تاریک پہلو پر ہے جو پراسرار ہے، کیونکہ یہ ہمیشہ زمین سے مخالف سمت میں ہوتا ہے۔ چین 2018 میں، ’چینگ 4‘ کے ذریعے پہلی بغیر پائلٹ چاند پر لینڈنگ میں کامیاب ہوا، وہ بھی چاند کے دور دراز سمت میں۔ پھر 2020 میں، ’چینگ 5‘ کے ذریعے 44 سالوں میں پہلی بار انسان نے چاند کے نمونے حاصل کیے، اور ’چینگ 6‘ چین کو پہلا ملک بنا سکتا ہے جس نے چاند کی ’چھپی ہوئی‘ سمت سے نمونے حاصل کیے ہیں۔

اس لانچ میں فرانس، اٹلی، پاکستان اور یورپی اسپیس ایجنسی (ESA) کے سائنسدانوں، سفارت کاروں اور خلائی ایجنسی کے اہلکاروں نے شرکت کی۔ ان سبھی نے ’چینگ 6‘ پر چاند کا مطالعہ کرنے والے پے لوڈ بھیجے ہیں۔ پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ ’آئی کیوب قمر‘ ان میں شامل ہے۔ پاکستان کی نیشنل اسپسیس ایجنسی (سپارکو) نے سیٹلائٹ کا ڈھانچہ چین کی شنگھائی یونیورسٹی کے تعاون سے بنایا ہے۔ یہ دو آپٹیکل کیمروں سے لیس ہے جو چاند کی سطح کی تصاویر لینے کے لیے استعمال ہوں گے۔سیٹلائٹ کے نام میں ’قمر‘ یعنی چاند موجود ہے، اور آئی کیوب اس لیے کیونکہ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی میں موجود اسمال سیٹلائٹ پروگرام کا نام ’آئی کیوب‘ ہے جس کے تحت 2013 میں پہلا سیٹلائٹ ’آئی کیوب ون‘ لانچ کیا گیا تھا۔

چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (CNSA) لونر ایکسپلوریشن اینڈ اسپیس پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی پنگ کے مطابق، امریکہ کی کسی تنظیم نے پے لوڈ نہیں بھیجا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی قانون کے مطابق چین کانگریس کی منظوری کے بغیر امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کر سکتا ۔ دنیا کے چھ ممالک بشمول امریکہ، سابقہ سوویت یونین (موجودہ روس)، چین، جاپان،ہندوستان اور یورپی یونین نے چاند کے مدار میں، چاند پر یا اس کے قریب اپنے مشن بھیجے ہیں۔ ان کے علاوہ جنوبی کوریا، لگزم برگ اور اٹلی امریکی اور چینی راکٹوں کے سہارے چاند کے مدار تک جا چکے ہیں اور اب پاکستان بھی اس فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

راکٹ سے الگ ہونے کے بعد، ’چینگ 6‘ پروب کو چاند کے مدار تک پہنچنے میں چار سے پانچ دن لگیں گے۔ اس کے جون کے شروع میں چاند پر اترنے کی امید ہے۔لینڈنگ کے بعد تقریباً 2 کلوگرام نمونے کھودنے میں دو دن لگیں گے۔ نمونے کنٹینر میں بند کرنے کے بعدیہ زمین پر واپسی کے سفر کے لیے ریٹرنر کے ساتھ جڑ جائے گا۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن کے مطابق، ’چینگ 6‘ کے تقریباً 53 دنوں بعد شمالی چین کے اندرونی منگولیا علاقہ میں اترنے کی توقع ہے۔ جی پنگ نے بتایا کہ ’چینگ 6‘ کے ذریعے جمع کیے گئے نمونوں کی ارضیاتی عمر تقریباً چار ارب سال ہوگی۔

زمین کے قریب ترین آسمانی پڑوسی کے بارے میں نئی معلومات کو عیاں کرنے کے علاوہ،’چینگ 6‘ چاند پر ایک مستقل ریسرچ اسٹیشن بنانے کے ایک طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہے اور یہ منصوبہ چین اور روس کی قیادت میں بننے والابین الاقوامی قمری ریسرچ اسٹیشن (ILRS) ہے۔ چین کے خلائی پروگرام کا مقصد 2030 تک چاند پر خلابازوں کو بھیجنا، مریخ سے نمونے واپس لانا اور اگلے چار سالوں میں تین قمری تحقیقاتی مشن شروع کرنا ہے۔ چین کا اگلا مشن 2027 میں روانہ ہونا ہے۔

دوسری جانب اسپیس ایکسپلوریشن کو تجارتی بنیاد پر استوار کرنے کی امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی کوششوں کو اس وقت دھچکہ لگا جب 6 مئی کو بوئنگ نےعملے کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے لیے پرواز منسوخ کردی۔ تکنیکی خرابی کے باعث اسٹار لائنر خلائی کیپسول (CST-100)کی افتتاحی پروازروک دی گئی ۔ لانچ منسوخ کرنے کا فیصلہ لفٹ آف سے دو گھنٹے قبل اور دو خلابازوں کے خلائی جہاز میں پہنچنے کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد ہوا۔ عملے کے ساتھ افتتاحی خلائی مشن کی منسوخی ایسے وقت ہوئی ہے جب بوئنگ حفاظتی ریکارڈ کے حوالے سے تنقید کی زد میں ہے۔

اٹلس ـ5 (Atlas-V) راکٹ میں والو کی خرابی کی وجہ سےمشن ملتوی ہونے کا اعلان ناسا کے لائیو ویب کاسٹ کے دوران کیا گیا۔ ناسا کے سربراہ بل نیلسن نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا، آج رات کی لانچ کی کوشش ملتوی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں،ناسا کی پہلی ترجیح حفاظت ہے۔ جب ہم تیار ہوں گے تب ہم جائیں گے۔انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ درپیش مسئلے کو حل کرنے میں کتنا وقت لگے گا، لیکن لانچ آئندہ چند روز میں متوقع ہے۔

اسٹار لائنر ناسا کے خلابازوں بوچ ولمور اور سنیتا ولیمز کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک پہنچانے والا تھا، جہاں انہیں زمین پر واپس آنے سے پہلے ایک ہفتہ گزارنا تھا ۔ اسٹار لائنر کے افتتاحی سفر کو ناسا کے معاہدوں کے لئے ایلون مسک کے اسپیس ایکس(SpaceX) کا مقابلہ کرنے کی بوئنگ کی صلاحیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 2019کی ناکام کوشش کے بعد، اسٹار لائنر نے 2022 میں اپنا پہلا بغیر عملے کا مشن ISS بھیجاتھا۔ 6 مئی لانچ کی منسوخی سےبوئنگ کے لیے مشکلات بڑھیں گی کیونکہ کمپنی کا ایوی ایشن ڈویژن پہلے ہی مبینہ حفاظتی خامیوں کی متعدد تحقیقات سے دوچار ہے۔ واضح رہے امریکی ملٹی نیشنل کارپوریشن بوئنگ ہوائی جہاز، راکٹ، سیٹلائٹ اور میزائل ڈیزائن، تیار اور فروخت کرتی ہے۔

ناسا نے 2014 میں بوئنگ اوراسپیس ایکس کو خلابازوں اور کارگو کو خلا میں لے جانے کے لیے خلائی کیپسول تیار کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ٹھیکے دیےتھے۔ خلائی شٹل پروگرام کے اختتام کے بعد ناسا کے ان معاہدوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی جانب تبدیلی کے آغاز کو نشان زد کیا تھا۔ واضح رہے کہ اسپیس ایکس کے ڈریگن نے 2020 میں خلابازوں کو کامیابی کے ساتھ ISS تک پہنچایا، یہ پہلی بار تھا جب ناسا کے خلابازوں کو تجارتی طور پر بنائے گئے خلائی جہاز میں امریکی سرزمین سے لانچ کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dmIovyV

اتوار، 5 مئی، 2024

ملک میں سیمی کنڈکٹر کی مانگ دو سالوں میں 100 بلین ڈالر تک پہنچنے کی امید

نئی دہلی: ہندوستان نے مالی سال 2025-26 تک الیکٹرانک مصنوعات کی پیداوار کے شعبے میں 300 بلین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس سے سیمی کنڈکٹروں کی مانگ 90-100 بلین ڈالر تک بڑھ جائے گی اور اس میں گھریلو موبائل مینوفیکچرنگ سب سے زیادہ حصہ ڈالے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسا موقع جسے ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

انڈیا سیلولر اینڈ الیکٹرانکس ایسوسی ایشن (آئی سی ای اے) نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ عام طور پر الیکٹرانکس مصنوعات کی قیمت کا 25 سے 30 فیصد چپ پر خرچ ہوتا ہے۔ اس وقت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا حجم 103 بلین ڈالر ہے، جس کے لئے تقریباً 26-31 بلین ڈالر کے سیمی کنڈکٹرز کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ’’الیکٹرونکس کی پیداوار میں ممکنہ اضافے (مالی سال 2025-26 تک 300 بلین ڈالر) کے پیش نظر یہ تعداد 90-100 بلین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے۔‘‘ گزشتہ سات سالوں میں ملک کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں موبائل فونز کا حصہ 10 فیصد بڑھ کر 44 فیصد ہو گیا ہے۔

مالی سال 2022-23 میں انٹیگریٹڈ سرکٹس (آئی سی) کی درآمد 16.14 بلین ڈالر تھی جس میں سے 12 بلین ڈالر موبائل فون مینوفیکچرنگ کے لئے درآمد کیے گئے تھے۔

آئی سی ای اے نے کہا کہ ہائی اینڈ فونز میں استعمال ہونے والے پروسیسر چپس کو ملک میں مسابقتی سطح پر مینوفیکچرنگ کے لیے مزید کچھ وقت انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، ملک میں کم قیمت والے سمارٹ فونز کے لیے پروسیسر چپس تیار کرنے کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیمی کنڈکٹرز کی گھریلو مینوفیکچرنگ بڑھا کر درآمدات پر انحصار کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال مارچ میں 1.25 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری سے بنائے جانے والے تین سیمی کنڈکٹر پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھا گیا تھا۔ گجرات میں مائیکرون سیمی کنڈکٹر پلانٹ میں پیداوار دسمبر تک شروع ہونے کی امید ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ndM693l

منگل، 30 اپریل، 2024

رینسم ویئر: تاوان کے لیے استعمال ہونے والا وائرس، اپنے کمپیوٹر کی کس طرح حفاظت کریں؟

حال ہی میں ایک عالمی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2023 میں ہندوستان کی پیداواری کی صنعت نے سب سے زیادہ رینسم ویئر یعنی بھتہ خوری یا تاوان کے لیے استعمال ہونے والے کمپیوٹر پروگرام یا یوں کہیں کہ وائرس کے حملے برداشت کئے ہیں۔

کمپیوٹر وائرس کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو دنیا کا سب سے پہلا وائرس 2 پاکستانی بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے تیار کیا تھا، جو اس وقت محض 17 سال اور 24 سال کے تھے۔ دونوں بھائی لاہور میں ایک کمپیوٹر کی دکان چلاتے تھے۔ جب ان بھائیوں کو علم ہوا کہ ان کے صارفین ان کے سافٹ وئیر کی غیرقانونی کاپیاں تیار کر رہے ہیں تو انہوں نے اس کے خلاف اقدام لینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں بھائیوں نے ’برین‘ نام کا ایک پروگرام تیار کیا، جسے آج دنیا سب سے پہلے وائرس کے طور پر جانتی ہے۔

پاکستان کے دونوں بھائیوں نے جو وائرس بنایا تھا وہ کسی کمپیوٹر کے ڈیٹا پر حملہ نہیں کرتا تھا اور نہ ہی کسی دوسری طرح کی خرابی پیدا کرتا تھا، صرف پرائیریسی کی صورت میں خود کو کمپیورٹ پر لوڈ کر دیتا تھا لیکن بعد میں جو وائرس بنائے گئے ان کے ذریعے لوگوں کے کمپورٹر کو نشانہ بنایا گیا، ان کے ڈیٹا کی چوری کی گئی، حتی کہ بھتہ خوری تک کے لیے اس کا استعمال کیا جانے لگا اور آج بھی کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان کا مینوفیکرنگ سیکٹر بھی وائرس کی ہی ایک قسم کی زد میں ہے، جسے رینسم ویئر کہا جاتا ہے۔

رینسم ویئر کا استعمال کرتے ہوئے ہیکرز مختلف اداروں سے اہم معلومات اور کمپنیوں سے ان کا ریکارڈ چوری کر لیتے ہیں۔ جرائم پیشہ افراد کی جانب سے کسی کمپنی کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے کمپیوٹر میں خرابی بھی پیدا کر دی جاتی ہے، جس سے کمپنی اپنے ضروری ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے قابل نہیں رہ جاتی۔ پھر ہیکرز متاثرہ کمپنی سے رابطہ کر کے اسے بلیک میل کرتے ہیں اور ڈیٹا واپس کرنے اور کمپیوٹر کو صحیح کرنے کے عوض تاوان مانگتے ہیں۔

چوری، ڈکیتی، راہزنی اور دیگر قسم کے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو پکڑے جانے اور جیل جانے کا خدشہ ہوتا ہے لہذا انہوں نے دور سے ہی کسی شخص کو دھمکی دے کر یا اس کے ڈیٹا میں نقب زنی کر کے تاوان حاصل کرنے کے لیے رینسم ویئر کا استعمال شروع کر دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق رینسم ویئر کا پہلا معاملہ 1989میں سامنے آیا تھا۔ اس کے بعد سے سالہا سال یہ جرم تقوقت حاصل کرتا گیا اور زیادہ منافع بخش بنتا چلا گیا۔ آج رینسم ویئر کی غالباً 20 سے زائد مختلف اقسام موجود ہیں۔

یہ وائرس موبائل فون کے لیے بھی خطرناک ہے کیونکہ اسے کسی بھی موبائل ایپ میں چھپایا جا سکتا ہے اور ایپ انسٹال کرنے کے دوران وائرس فون میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے صارفین کو کسی بھی ایپ کو اپنے موبائل فون میں انسٹال کرنے سے پہلے گوگل پلے پر یہ جان لینا چاہئے کہ وہ ایپ کہاں سے آئی ہے اور اس کے بارے میں لوگوں کی کیا رائے ہے۔ اس طرح وہ ناقابل اعتماد ذرائع سے آنے والی ایپس کو انسٹال کرنے سے بچ سکتے ہیں۔

دیگر کمپیوٹر وائرس کی طرح رینسم ویئرکو بھی جعلی ای میل، ا سپیم میل، یا بھر نقلی سافٹ ویئر کی صورت میں بھیجا جاتا ہے۔ اگر صارف نے ان میں سے کسی پر بھی کلک کر دیا تو وہ وائرس ان کے کمپیوٹر میں داخل ہو جاتا ہے۔ رینسم ویئر کا استعمال کرنے والے ہیکرز آپ کے ڈیٹا کو لاک یعنی مقفل کر دیتے ہیں، چونکہ عام طور لوگ اپنے ڈیٹا کا ’بیک اپ’ تیار نہیں کرتے، لہذا اپنا ڈیٹا واپس لینے کی غرض سے وہ تاوان ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ رینسم ویئر جیسے خطرات سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے ڈیٹا کا وقتاً فوقتاً بیک اپ تیار کرتے رہیں۔ اگر اپ کے پاس بیک اپ ہوگا تو کسی حملے کی صورت میں اس کا استعمال کرتے ہوئے آپ اپنے ڈیٹا کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/h9wbmVn

جمعرات، 11 اپریل، 2024

پیگاسس جیسے اسپائی ویئر کے ذریعے صحافیوں، سیاست دانوں اور سفارت کاروں کے موبائل فون پر حملہ، ایپل نے خبردار کیا

واشنگٹن: آئی فون بنانے والی کمپنی ایپل نے اپنے صارفین کو پیگاسس جیسے جدید ترین اسپائی ویئر حملوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جانب سے محدود تعداد میں لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسپائی ویئر حملوں کی زد میں آنے والے افراد میں صحافی، کارکن، سیاست دان اور سفارت کار شامل ہیں۔

تاہم، ایپل نے ان حملوں کے حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ زیادہ لاگت کی وجہ سے اسپائی ویئر اکثر محدود تعداد میں ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن کرائے کے اسپائی ویئر کا استعمال کرتے ہوئے حملے جاری ہیں اور عالمی سطح پر کیے جا رہے ہیں۔

ایپل نے اپنے جاری کردہ خطرے کے نوٹیفکیشن میں پچھلی تحقیق اور رپورٹس کی بنیاد پر اشارہ کیا کہ اس طرح کے حملے تاریخی طور پر حکومت سے منسلک جماعتوں کی جانب سے کئے جاتے ہیں۔ یہ نوٹیفکیشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس سال ہندوستان سمیت تقریباً 60 ممالک میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

معروف فون بنانے والی کمپنی نے کہا، ’’خطرے کے انتباہات ان صارفین کو مطلع کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں جو ذاتی طور پر کرائے کے اسپائی ویئر کے حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ اس طرح کے حملے باقاعدہ سائبر کرائم کی سرگرمیوں اور صارفین کے میلویئر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ کرایہ پر لیے گئے اسپائی ویئر حملہ آور مخصوص افراد اور ان کے فون کی ایک چھوٹی تعداد کو نشانہ بنانے کے لیے غیر معمولی وسائل استعمال کرتے ہیں۔‘‘

ایپل نے کہا کہ کرائے کے اسپائی ویئر حملوں کی لاگت لاکھوں ڈالر ہے۔ اس کے علاوہ حملوں کی مدت کم ہونے کی وجہ سے ان کا پتہ لگانا اور روکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح کے حملے زیادہ تر صارفین پر نہیں کیے جاتے۔

کمپنی نے کہا، ’’ایپل اس طرح کے حملوں کا پتہ لگانے کے لیے مکمل طور پر اندرونی خطرے کی انٹیلی جنس اور تحقیقات پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ ہماری تحقیقات کبھی بھی مکمل طور پر قطعی نہیں ہو سکتی ہیں لیکن یہ خطرے کے انتباہات انتہائی قابل اعتماد ہیں۔ اس کو بہت سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔‘‘

پچھلے سال ایک سروے میں انکشاف ہوا کہ دنیا بھر میں تقریباً 49 فیصد تنظیمیں ملازمین کے آلات پر حملوں یا حفاظتی خلاف ورزیوں کا پتہ لگانے سے قاصر ہیں۔ سائبر سیکورٹی فرم چیک پوائنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں ہندوستان میں موبائل میلویئر سے متاثر ہونے والی تنظیموں کی ہفتہ وار اوسط 4.3 فیصد تھی، جب کہ ایشیا پیسفک خطے میں اوسط 2.6 فیصد تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/C5xe1Ju

ہفتہ، 6 اپریل، 2024

Urdu stories for kids 2 | Chonti aur tidda | An Ant and A Grasshopper

چینی ہیکر مصنوعی ذہانت پر مبنی مواد کے ذریعے ہندوستان کے عام انتخابات کو متاثر کریں گے: مائیکروسافٹ

نئی دہلی: رواں برس دنیا کے کئی اہم ممالک میں انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں ہندوستان، جنوبی کوریا اور امریکہ شامل ہیں۔ مائیکروسافٹ نے انتباہ دیا ہے کہ چین کے ہیکر اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا استعمال کر کے ان انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔

مائیکروسافٹ کے مطابق چینی ہیکر میم، ویڈیو اور آڈیو کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے۔ ٹیک کمپنی کے مطابق چین ووٹروں کو منقسم کرنے کے لیے فرضی سوشل میڈیا کھاتوں کا استعمال کر رہا ہے۔ کمپنی نے پوسٹ میں کہا، ’’چین نے دنیا بھر میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے اے آئی پر مبنی مواد کے استعمال میں اضافہ کیا ہے۔‘‘

مائیکروسافٹ کے مطابق اے آئی ٹولز ہیکرز کے لیے ہتھیاروں کی طرح خطرناک ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کر رہے ہیں۔ اب ان اے آئی ٹولز کے ذریعے ڈیپ فیک اور ایڈیٹ ویڈیوز بنانا آسان ہے۔ ہیکرز جعلی اکاؤنٹس کو آسانی سے چلا سکتے ہیں اور یہاں تک کہ مشہور رہنماؤں کی آوازوں کو بھی کلون کیا جا سکتا ہے، پھر اسے بڑے پیمانے پر عوامی سطح پر شیئر کیا جا سکتا ہے، جس کے بعد یہ وائرل ہو کر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔

چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) سے وابستہ لوگوں کے گمراہ کن سوشل میڈیا کھاتوں نے امریکی ووٹروں کو تقسیم کرنے والے اہم مسائل پر متنازعہ سوالات اٹھانا شروع کر دئے ہیں۔ رواں سال تائیوان کے صدارتی انتخابات میں بھی چین سے وابستہ سائبر ہیکروں نے اے آئی پر مبنی مواد کا استعمال کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CEarmsR

جمعرات، 4 اپریل، 2024

ایپل نے اپنے 600 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کر دیا، کئی پروجیکٹ بند کرنے کا فیصلہ

سال 2024 میں دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کا سلسلہ لگاتار جاری ہے۔ رواں برس جن کمپنیوں نے اجتماعی طور پر اپنے ملازمین کو فارغ کیا ہے ان میں اب آئی فون تیار کرنے والی مشہور کمپنی ایپل بھی شامل ہو گئی ہے۔ ایپل نے حال ہی میں اپنے 600 سے زیادہ ملازمین کو فارغ کیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، تازہ ایپل نے تازہ برطرفیوں کی تصدیق کی ہے۔ کمپنی نے کیلیفورنیا ایمپلائمنٹ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاس فائلنگ میں اس کی اطلاع دی ہے۔ فائلنگ کے حوالہ سے بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایپل نے کیلیفورنیا میں 600 سے زیادہ ملازمین کو برطرف کیا ہے۔ کمپنی نے برطرفیوں کا یہ فیصلہ کار اور اسمارٹ واچ ڈسپلے پروجیکٹ کے بند ہونے کی وجہ سے لیا ہے۔

برطرفیوں کی یہ خبر اس وجہ سے سنگین ہے کہ ایپل کا شمار صرف ٹیک انڈسٹری میں ہی نہیں بلکہ دنیا کی بڑی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ ایپل کا شیئر امریکی بازار میں 0.49 فیصد کی تنزلی کے ساتھ 168.82 ڈالر پر ہے۔ کمپنی کا ایم کیپ 2.61 ٹریلین ڈالر ہے اور اس لحاظ سے یہ کمپنی صرف مائیکروسافٹ سے ہی پیچھے ہے اور دوسری سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی ہے۔

ایپل کا صدر دفتر کیلیفورنیا کے کوپرٹینو میں واقع ہے۔ مقامی قانون کے مطابق کمپنیوں کو برطرفیوں کا ملازمین کو فارغ کرنے کے بارے میں اطلاع دینی ہوتی ہے۔ ایپل نے ورکر ایڈجسٹمنٹ اینڈ ڑیتینگ نوٹیفکیشن (وارن پروگرام) پر عمل کرتے ہوئے آٹھ الگ الگ فائلنگ میں ملازمین کی برطرفیوں کی اطلاع دی۔

کمپنی کی فائلنگ کے مطابق، برطرفی کا شکار ہوئے لوگوں میں کم سے کم 87 ملازمین ایپل کی سیکریٹ فیسلٹی میں کام کر رہے تھے، جہاں نیکسٹ جنریشن اسکرین ڈیولپمنٹ کا کام ہو رہا تھا۔ وہیں، باقی ملازمین نزید میں واقع دوسری عمارت میں کام کرتے تھے جو کار پروجیکٹ کے لیے وقف تھی۔

ایپل کے کار پروجیکٹ کے حوالہ سے دنیا بھر میں تجسس پایا جاتا ہے۔ حال ہی میں کئی موبائل اور گیجٹ کمپنیوں نے برقی گاڑی (ای وی) تیار کرنے کے میدان میں قدم رکھا ہے۔ شیاومی اور ہواوے جیسی چینی اسمارٹ فون کمپنیاں ای وی مارکیٹ میں اتر چکی ہیں۔ ایپل نے کچھ روز قبل اپنا پروٹوٹائپ (نمونا) پیش کیا تھا، لیکن اس سال کے اوائل میں خبر آئی کہ ایپل نے کار پروجیٹ سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lqRfxLX