جمعرات، 10 اکتوبر، 2024

زمین سے ٹکرایا شمسی طوفان، امریکی ایجنسیاں پریشان، بلیک آؤٹ کا خطرہ

لاس اینجلس: یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق جمعرات کو ایک طاقتور شمسی طوفان زمین سے ٹکرا گیا۔ ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ سمندری طوفان ہیلن اور ملٹن سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر (ایس ڈبلیو پی سی) کے مطابق، منگل کی شام کو سورج سے کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) پھوٹ پڑا اور جمعرات کی صبح 11:15 (ای ایس ٹی) پر تقریباً 1.5 ملین میل فی گھنٹہ (2.4 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے زمین پر پہنچا۔

نیوز ایجنسی نے ایس ڈبلیو پی سی کے حوالے سے بتایا کہ طوفان جی-4 (شدید) سطح پر پہنچ گیا۔ اسے جی-4 جیو میگنیٹک اسٹارم واچ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو جی-4 یا اس سے زیادہ جیو میگنیٹک اسٹارم واچ فعال رہا۔ ایس ڈبلیو پی سی جیو میگنیٹک طوفان کے حالات کے بارے میں انتباہات جاری کرتا ہے۔

این او اے اے کے مطابق، یہ طوفان ہیلن اور ملٹن سمندری طوفانوں کے لیے جاری بحالی کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس میں ریڈیو بلیک آؤٹ، پاور گرڈ پر دباؤ، اور جی پی ایس سروسز کی تنزلی شامل ہیں۔

سی ایم ای سورج کے کورونا سے مقناطیسی میدانوں اور پلازما ماس کے بڑے پیمانے پر اخراج ہیں۔ جب یہ زمین کی طرف آتا ہے تو یہ زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے خلل پیدا کرتا ہے جسے جیو میگنیٹک طوفان کہا جاتا ہے۔ اس سے ریڈیو بلیک آؤٹ اور بجلی کی کٹوتی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/y25fRve

منگل، 1 اکتوبر، 2024

بیرون ملک جانے کے بعد 30 ہزار ہندوستانی ’سائبر غلامی‘ کا شکار، زیادہ تر کا پنجاب، مہاراشٹر اور تمل ناڈو سے تعلق

نئی دہلی: سائبر فراڈ کے حوالے سے ایک بڑی معلومات سامنے آئی ہے، سیاحتی ویزا پر گئے تقریباً 30 ہزار ہندوستانی واپس نہیں آئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو ’سائبر غلام‘ بنایا گیا ہے اور ان پر دباؤ ڈال کر سائبر جرائم کیے جا رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے بیورو آف امیگریشن (بی او آئی) نے ایک ڈیٹا تیار کیا، جس کے مطابق جنوری 2022 سے مئی 2024 کے درمیان 73138 لوگوں نے ہندوستان سے وزیٹر ویزے پر کمبوڈیا، تھائی لینڈ، میانمار اور ویتنام کا سفر کیا۔ ان میں سے 29466 ابھی تک ہندوستانی واپس نہیں آئے ہیں۔ اس میں 20-39 سال کی عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً نصف یعنی 17115 ہے۔ یہ اطلاع انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے ملی ہے۔ اس میں 90 فیصد لوگ مرد ہیں۔

ہندوستان واپس نہ آنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب (3667)، مہاراشٹر (3233) اور تمل ناڈو ریاست (3124) سے ہے۔ دوسری ریاستوں سے جانے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔ اطلاعات کے مطابق شبہ ہے کہ ان لوگوں پر ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کو نوکریوں کا لالچ دے کر سائبر غلام بنایا گیا ہے۔

سائبر غلامی کے تحت کام کرنے والے لوگوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ پر دستیاب پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ہندی اور مقامی زبان بول سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اب تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان لوگوں کی تفصیلات کی تصدیق اور جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں ہندوستان میں سائبر فراڈ کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں، جہاں لوگوں کو مختلف دھوکے دے کر لوٹا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5nTtpvL

اتوار، 29 ستمبر، 2024

سنیتا ولیمز کی زمین پر واپسی: ناسا اور اسپیس ایکس کا مشن خلا کی جانب روانہ

امریکہ کی نیشنل ایرو ناٹکس اور اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) اور اسپیس ایکس نے اپنے جدید مشن کے تحت ہندوستانی نژاد خلاباز سنیتا ولیمز اور ان کے ساتھی بوچ وِلْمور کو زمین پر واپس لانے کے لیے کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ ہو گیا۔ یہ مشن 29 ستمبر 2024 کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا۔ اس مشن کا مقصد دونوں خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) سے واپس لانا ہے۔

خیال رہے کہ سنیتا ولیمز کو خلا میں جانے والی ہندوستانی نژاد دوسری امریکی خلاباز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ہندوستانی ثقافت کو اپنے مشنز میں شامل کیا ہے۔ 2006 میں جب وہ آئی ایس ایس گئیں تو ان کے ساتھ بھگوت گیتا کا ایک نسخہ بھی تھا۔

مشن کے دوران، ناسا نے ایک بیان میں کہا کہ ’’اسپیس ایکس ڈریگن خلا بازوں کو آئی ایس کی طرف لے جا رہا ہے۔ نیا عملہ پانچ ماہ کے سائنسی مشن کے لیے وہاں پہنچے گا۔‘‘ اس مشن میں ناسا کے خلاباز نک ہیگ اور روس کے خلا باز الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں، جو کہ اسٹیشن پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

پہلے، سنیتا اور بوچ وِلْمور کا سفر ایک اور خلا بازوں کی ٹیم کے ساتھ ہوا تھا، جس کا سامان بوئنگ کے اسٹار لائنر کے ذریعے فراہم کیا گیا تھا۔ مگر اس کے ٹیکنیکل مسائل کی وجہ سے ان کا سفر طویل ہوا۔ لیکن اب وہ محفوظ طریقے سے آئی ایس ایس پر پہنچ چکے ہیں۔ ناسا نے اسٹار لائنر کو انسانی سفر کے لیے غیر موزوں قرار دیا، مگر اس کی واپسی محفوظ رہی۔

اس مشن کی کامیابی نہ صرف ناسا اور اسپیس ایکس کے لیے ایک سنگ میل ہے بلکہ یہ ہندوستانی نژاد امریکیوں کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے۔ سنیتا کی کامیابی نے ہر شعبے میں ہندوستانیوں کی قابلیت کو اجاگر کیا ہے۔ سنیتا ولیمز اور بوچ وِلْمور کی زمین پر واپسی کے بعد ان کی تجربات اور علم کی روشنی میں مزید ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ اس مشن کی کامیابی نے یہ ثابت کیا ہے کہ انسان کی قابلیت اور محنت ہمیشہ اس کے خوابوں کی تعبیر کر سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/AFClqS4

جمعہ، 27 ستمبر، 2024

حساس ڈیٹا افشا کرنے پر حکومت کی کارروائی، متعدد ویب سائٹس بلاک کر دی گئیں

مرکزی حکومت نے شہریوں کا حساس ڈیٹا جیسے آدھار اور پین کی تفصیلات ظاہر کرنے پر متعدد ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں بلاک کر دیا ہے۔ آئی ٹی کی وزارت نے اس اقدام کی تصدیق کی ہے کہ کچھ پورٹلز نے شہریوں کا نجی ڈیٹا عام کر دیا تھا، جس پر کاروائی کے طور پر ان ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا۔ حساس معلومات کا افشا ایک سنگین مسئلہ ہے جو ڈیٹا کی حفاظت اور شہریوں کی پرائیویسی کے خلاف ہے۔

یونیک آئیڈینٹیفکیشن اتھارٹی آف انڈیا (یو آئی ڈی اے آئی) نے پولیس میں شکایت درج کرائی تھی، جس میں آدھار ایکٹ 2016 کی دفعہ 29(4) کے تحت ان ویب سائٹس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، کسی بھی شخص کی آدھار معلومات کو عام طور پر ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔

الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے کہا ہے کہ ان ویب سائٹس کی سیکورٹی خامیوں کا انڈین کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (سرٹ-ان) نے تجزیہ کیا اور نشاندہی کی کہ ان ویب سائٹس میں سیکورٹی کی کئی خامیاں ہیں۔ ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے ویب سائٹس کے مالکان کو رہنمائی فراہم کی گئی تاکہ وہ اپنے انفراسٹرکچر میں بہتری لائیں۔ ساتھ ہی سائبر ایجنسیز کی طرف سے تمام اداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی آئی ٹی ایپلی کیشنز کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں حساس ڈیٹا کی حفاظت کسی بھی ملک کے لیے نہایت ضروری ہے۔ شہریوں کا حساس ڈیٹا جیسے آدھار اور پین کی تفصیلات کا لیک ہونا نہ صرف ان کی پرائیویسی کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ مالی نقصان کا بھی باعث بن سکتا ہے۔ اسی لیے حکومت کو سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا کی حفاظت کے معاملے میں انتہائی چوکنا رہنا چاہیے لیکن اس معاملے میں حکومت کی طرف سے بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کی ذاتی معلومات لیک ہونے کا خطرہ پیدا ہوا، جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کے تحت، ہندوستان میں حساس معلومات کی حفاظت اور ان کے غیر قانونی افشا کی روک تھام کے لیے قوانین موجود ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ ان قوانین کو سختی سے نافذ کرے اور ایسے واقعات کے خلاف جلد سے جلد کارروائی کرے۔

وزارت نے یہ بھی بتایا کہ ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ 2023 پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے اور اس ایکٹ کے تحت قوانین کا مسودہ تیار ہونے کے آخری مرحلے میں ہے۔ مزید یہ کہ آئی ٹی ایکٹ کے تحت اگر کوئی فرد متاثر ہوتا ہے تو وہ شکایت درج کر کے معاوضہ بھی طلب کر سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/HpRirlX

ٹراپیکل طوفان کی وجہ سے ناسا کے اسپیس ایکس کرو 9 مشن کی لانچنگ میں تاخیر

امریکہ کی خلائی ایجنسی ناسا اور اسپیس ایکس نے اپنے نئے ’کرو 9‘ مشن کی لانچنگ میں تاخیر کا اعلان کیا ہے، جس کی اصل تاریخ 26 ستمبر تھی۔ یہ تاخیر ٹراپیکل طوفان ’ہیلین‘ کے پیش نظر کی گئی ہے، جو فلوریڈا کے ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور بارش کا سبب بن سکتا ہے۔ ناسا اور اسپیس ایکس کی جانب سے یہ لانچ اب ہفتہ، 28 ستمبر کو دوپہر 1:17 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

اس مشن میں ناسا کے خلاباز نک ہیگ اور روسکوسموس کے الیگزینڈر گوربونوف شامل ہیں، جو اسپیس ایکس کے ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے لیے پانچ ماہ کے سفر پر روانہ ہوں گے۔ یہ پرواز ناسا کے کمرشل کرو پروگرام کے تحت اسپیس ایکس کے ساتھ نویں روٹیشن فلائٹ ہے، جس کا مقصد خلا میں انسانی مشن کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

طوفان ’ہیلین‘ جو خلیج میکسیکو سے گزر رہا ہے، فلوریڈا کے مشرقی ساحل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس طوفان کے باعث وہاں تیز ہوائیں اور شدید بارشوں کا خطرہ ہے، جس کی وجہ سے لانچنگ کے دوران محفوظ حالات کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

ناسا اور اسپیس ایکس کے مطابق لانچنگ کی مکمل تیاری پہلے ہی کر لی گئی تھی لیکن احتیاطی تدابیر کے طور پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ دونوں ایجنسیاں طوفان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور عوام کو تازہ ترین معلومات فراہم کرتی رہیں گی۔

اس مشن میں خلائی اسٹیشن پر نئے آلات اور سائنسی تجربات بھیجے جائیں گے، جس کا مقصد خلا میں انسانی موجودگی کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ اسپیس ایکس اور ناسا نے اس مشن کے لیے کئی ماہ کی تیاری کی ہے اور اب اسے طوفان کے گزرنے کے بعد لانچ کیا جائے گا۔

یہ تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلا میں جانے والے مشنوں کی منصوبہ بندی نہایت محتاط انداز میں کی جاتی ہے اور موسم جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ عملے کی حفاظت اور مشن کی کامیابی یقینی بنائی جا سکے۔ مزید تازہ کاری ناسا اور اسپیس ایکس کی ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/SOG3g1j

جمعرات، 19 ستمبر، 2024

ہندوستان میں آئی فون 16 سیریز کی فروخت کا آغاز، ایپل اسٹوروں کے باہر خریداروں کا ہجوم

ممبئی: مشہور ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے آج سے ہندوستان میں اپنی نئی آئی فون 16 سیریز کی فروخت شروع کر دی ہے۔ یہ سیریز 9 ستمبر 2024 کو کمپنی کے سالانہ ایونٹ ’اِٹس گلو ٹائم‘ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی خصوصیات کے ساتھ متعارف کروائی گئی تھی۔ ممبئی کے بی کے سی (باندرا کرلا کمپلیکس) میں واقع اسٹور پر فروخت کے آغاز سے پہلے ہی خریداروں کی لمبی قطاریں لگ چکی تھیں اور کئی لوگ اسٹور کے کھلنے کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی لوگ آئی فون 16 کے لیے پرجوش ہیں اور اسے خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسٹور کھلنے سے قبل لوگ قطاروں میں کھڑے تھے اور کچھ دوڑتے ہوئے بھی دیکھے گئے، جیسا کہ پچھلے سال آئی فون 15 کی لانچنگ کے وقت ہوا تھا۔ ایک صارف، اُجول شاہ، نے کہا، ’’میں گزشتہ 21 گھنٹوں سے قطار میں کھڑا ہوں۔ میں کل صبح 11 بجے یہاں پہنچا تھا اور آج صبح 8 بجے اسٹور میں داخل ہونے والا پہلا شخص ہوں گا۔ میں اس فون کے لیے بہت پرجوش ہوں اور اس کے لیے ممبئی کا ماحول بھی بالکل نیا ہے۔‘‘

ایپل نے اس بار آئی فون 16 سیریز میں چار نئے فونز لانچ کیے ہیں، جن میں ڈیزائن اور خصوصیات کے لحاظ سے کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کمپنی نے پہلی بار پچھلے ماڈلز کی نسبت نئے آئی فون کو کم قیمت میں متعارف کروایا ہے۔ ہندوستان میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ آئی فون کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ پچھلے سال قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔

چار نئے ماڈلز کی قیمتیں:

آئی فون 16 اور آئی فون 16 پلس کو پانچ رنگوں الٹرامرین، ٹیل، پنک، سفید اور سیاہ میں پیش کیا گیا ہے۔ ان ماڈلز میں 128GB، 256GB، اور 512GB اسٹوریج کے اختیارات موجود ہیں۔ آئی فون 16 کی ابتدائی قیمت 79,900 روپے اور آئی فون 16 پلس کی ابتدائی قیمت 89,900 روپے مقرر کی گئی ہے۔

آئی فون 16 پرو (128GB) کی ابتدائی قیمت 1,19,900 روپے ہے، جبکہ آئی فون 16 پرو میکس (256GB) کی قیمت 1,44,900 روپے ہے۔

خصوصیات کے لحاظ سے آئی فون 16 میں 6.1 انچ اور آئی فون 16 پلس میں 6.7 انچ کا ڈسپلے دیا گیا ہے، جس کی برائٹنس 2000 نٹس تک ہے۔ اس کے علاوہ، کیمرہ کیپچر بٹن دیا گیا ہے جس کی مدد سے صارف ایک کلک میں کیمرہ کو کھول سکتے ہیں اور تصاویر لے سکتے ہیں۔

نئے آئی فون 16 سیریز میں A18 چپ سیٹ دیا گیا ہے، جو نہ صرف اسمارٹ فونز بلکہ کچھ ڈیسک ٹاپس کو بھی مقابلہ دے سکتا ہے۔ اس میں ایپل انٹیلی جنس کا فیچر شامل ہے جو صارفین کی پرائیویسی کا خاص خیال رکھتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8tqpEPj

اتوار، 15 ستمبر، 2024

تجارتی خلائی صنعت: کامیاب نجی اسپیس واک

اسپیس ایکس کے پولارس ڈان مشن نے 12 ستمبر کو پہلی نجی اسپیس واک کے ساتھ تاریخ رقم کی جب دو خلابازوں نے اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول سے باہر نکل کر دنیا کی پہلی نجی اسپیس واک کی۔ ٹیک صنعتکار جیرڈ آئزاک مین اور اسپیس ایکس انجینئر سارہ گیلس نے اسپیس واک کرنے والی پہلی شہری جوڑی بن کر تاریخ رقم کی۔ آئزاک مین نے اسپیس ایکس کے بالکل نئے اسپیس سوٹ کی جانچ کرنے کے لیے ایلون مسک کی کمپنی کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ ناسا نے اسے تجارتی خلائی صنعت کے لیے 'ایک بڑی چھلانگ' کے طور پر سراہا ہے۔ کمرشل اسپیس واک اس پانچ روزہ پرواز کا بنیادی مرکز تھا جس کی مالی اعانت جیرڈ آئزاک مین اور ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے کی ہے، اور سالوں کی ترقیاتی کوششوں کا نتیجہ ہے جو مریخ اور دیگر سیاروں کو آباد کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

زمین سے سیکڑوں میل کی بلندی پر اس جرات مندانہ کوشش کے دوران آئزاک مین اور ان کا عملہ اس وقت تک انتظار کرتا رہا جب تک کہ ان کا کیپسول ہیچ (دروازہ) کھولنے سے پہلے ڈی پریشرائز نہ ہو جائے۔ اس طرح، آئزاک مین اسپیس واکرز کے ایک چھوٹے سے ایلیٹ گروپ میں شامل ہونے والے پہلے شخص بن گئے جس میں اب تک درجن بھر ممالک کے صرف پیشہ ور خلاباز شامل تھے۔ یہ خلائی چہل قدمی آسان اور تیز تھی۔ ناسا کے طویل دورانیہ کے مقابلے اس مشن میں ہیچ بمشکل آدھا گھنٹہ کھلا تھا۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے خلابازوں کو مرمت کے لیے اکثر اسٹیشن کے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہمیشہ جوڑے میں اور سامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ان کی خلائی چہل قدمی سات سے آٹھ گھنٹے تک ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ مشن دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ختم ہو گیا۔

اسپیس ایکس پولارس ڈان مشن 10 ستمبر کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے شروع کیا گیا تھا جو 1970 کی دہائی میں اپولو پروگرام کے بعد نصف صدی میں سب سے زیادہ گہرائی میں چلا گیا تھا۔ ڈریگن خلائی جہاز 1400 کلومیٹر (870 میل) کی بلندی پر پہنچ گیا تھا۔ خلائی چہل قدمی کے لیے مدار نصف کم کر کے 700 کلومیٹر (435 میل) کر دیا گیا۔ عملے کے چاروں ارکان نے اپنے آپ کو سخت خلا (ویکیم) سے بچانے کے لیے نئے اسپیس واکنگ سوٹ پہن لیے اور 12 ستمبر کی صبح، خالص آکسیجن ان کے سوٹوں میں بھرنا شروع ہو گئی جو ان کی خلائی چہل قدمی کے آغاز کی نشاندہی کر رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد، آئزاک مین نے ہیچ کھولا اور ہاتھ اور پیروں سے پکڑ کر 'اسکائی واکر' نامی ڈھانچے پر چڑھ گیا، نیچے زمین کا ایک دلفریب منظر تھا۔ اس نے کیلیفورنیا میں مشن کنٹرول کو بتایا کہ یہ بہت خوبصورت ہے۔ تقریباً 10 منٹ باہر رہنے کے بعد، آئزاک مین کو گلیس نے تبدیل کر دیا۔ وہ بے وزنی میں کیپسول سے باہر اوپر نیچے ہو رہی تھیں، لیکن گھٹنوں سے زیادہ نہیں۔ انہوں نے اپنے بازو گھمائے اور مشن کنٹرول کو رپورٹس بھیج دیں۔ ان دونوں کے پاس 3.6-میٹر (12 فٹ) ٹیتھرز (رسی) تھے لیکن انہوں نے ان کو نہیں کھولا یا لٹکایا جیسا کہ خلائی اسٹیشن پر ہوتا ہے، جہاں خلاباز معمول کے مطابق بہت کم مدار میں تیرتے ہیں اور ان کا استعمال کرتے ہیں۔

ہیچ کھلنے سے پہلے، عملہ اپنے خون سے نائٹروجن کو نکالنے کے لیے 'پری بریتھ' کے طریقہ کار سے گزرا تاکہ 'ڈی کمپریشن' کو روکا جا سکے۔ اس کے بعد کیبن کے دباؤ کو خلا کے ویکیم کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے آہستہ آہستہ کم کیا گیا۔ کیپسول کے اندر واپس آنے سے پہلے، آئزاک مین اور سارہ گیلس نے اسپیس ایکس کے اگلی نسل کے سوٹ پر حرکت کے ٹیسٹ کرنے میں چند منٹ گزارے جن میں ہیڈز اپ ڈسپلے، ہیلمٹ کیمروں اور بہتر مشترکہ نقل و حرکت کا نظام شامل ہیں۔ خلائی چہل قدمی ایک گھنٹہ 46 منٹ بعد کیبن میں دوبارہ دباؤ بننے کے بعد ختم ہوئی۔

نجی طور پر فنڈڈ پولارس ڈان مشن میں عملے کے چار ارکان تھے – جیرڈ آئزاک مین، سابق ایئر فورس تھنڈر برڈ پائلٹ اسکاٹ پوٹیٹ، اور اسپیس ایکس کی انجینئرز سارہ گیلس اور اینا مینن۔ آپریشن کی منصوبہ بندی میں غلطی کی بہت کم گنجائش تھی۔ تاہم، کچھ خرابیاں تھیں۔ آئزاک مین کو بٹن دبانے کے بجائے دستی طور پر ہیچ کو کھولنا پڑا۔ باہر جانے سے پہلے، گیلس نے ہیچ سیل میں خرابی کی اطلاع دی۔ اسکاٹ پوٹیٹ اور اینا مینن کیپسول کے اندر سے نگرانی کے لیے اپنی نشستوں پر بیٹھے رہے۔ عملے کے ان چاروں ارکان نے سفر سے پہلے سخت تربیت حاصل کی تھی۔ اسپیس ایکس کے تبصرہ نگار نے کہا کہ یہ پلک جھپکتے ہی گزر گیا۔ اسپیس واک کے اختتام کے بعد مبارکباد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے X کے ذریعے کہا، آج کی کامیابی تجارتی خلائی صنعت کے لیے ایک بڑی چھلانگ ہے۔

یہ اسپیس ایکس کے لیے ایک اور اہم سنگ میل تھا، جس کی بنیاد ایلون مسک نے 2002 میں رکھی تھی۔ ابتدائی طور پر صنعت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد، اسپیس ایکس ایک پاور ہاؤس بن گیا ہے جس نے 2020 میں ناسا کے خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک سواری فراہم کرنے کے لیے ایک اسپیس شپ فراہم کرنے میں ایرو اسپیس دیوقامت بوئنگ کو شکست دی۔ حالانکہ یہ تجارتی شعبے کے لیے پہلی ہے، لیکن یہ اسپیس واک ابتدائی خلائی دور کے کارناموں سے کمتر تھی۔ ابتدائی خلائی مسافر جیسے سوویت خلاباز الیکسی لیونوف ٹیتھرز پر اپنے خلائی جہاز سے دور چلے گئے تھے، اور کچھ منتخب خلائی شٹل خلابازوں نے مکمل طور پر غیر منسلک پرواز کے لیے جیٹ پیکس کا استعمال کیا تھا۔

دولت مند مسافر چند منٹوں کے بے وزن ہونے کا تجربہ کرنے کے لیے نجی راکٹوں پر سوار ہونے کے لیے بھاری رقم دے رہے ہیں۔ دوسروں نے کئی دن یا ہفتوں تک خلا میں رہنے کے لیے لاکھوں خرچ کیے ہیں۔ خلائی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ناگزیر ہے کہ کچھ لوگ خلائی چہل قدمی میں سنسنی کی تلاش کریں گے، جسے لانچ اور مدار میں دوبارہ داخلے کے بعد خلائی پرواز میں سب سے خطرناک سمجھا جاتا ہے، بلکہ یہ سب سے زیادہ روح کو ہلا دینے والا بھی ہے۔

آئزاک مین کی عمر 41 سال ہے۔ وہ شفٹ4 کریڈٹ کارڈ پروسیسنگ کمپنی کے بانی اور سی ای او ہیں۔ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ اس فلائٹ میں انہوں نے کتنی سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ پولارس نامی پروگرام کے تحت تین پروازوں میں سے پہلی تھی اور اسے پولارس ڈان کہا جاتا ہے۔ 12 ستمبر تک صرف 263 افراد نے 12 ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اسپیس واک کی تھی۔ سوویت یونین کے الیکسی لیونوف نے اسے 1965 میں شروع کیا تھا اور اس کے چند ماہ بعد ناسا کے ایڈ وائٹ نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/sRgKoPr

جمعہ، 13 ستمبر، 2024

زمین سے 400 کلومیٹر دور خلا میں سنیتا ولیمز کی پریس کانفرنس، واپسی میں تاخیر پر کہا - 'اس پیشے میں ایسا ہی ہوتا ہے’

خلا بازوں سنیتا ولیمز اور بُچ ولمور نے حال ہی میں 420 کلومیٹر کی بلندی پر واقع خلائی اسٹیشن سے ایک اہم پریس کانفرنس کی۔ جس میں انہوں نے اپنے حالیہ مشن اور بوئنگ کیپسول کی واپسی میں تاخیر کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا۔ ولیمز اور ولمور دونوں ہی اس وقت خلا میں موجود ہیں اور ان کا مشن ابھی جاری ہے۔

سنیتا ولیمز نے پریس کانفرنس کے دوران اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’اس مقام پر مجھے خوشی ملتی ہے۔ مجھے یہاں خلا میں رہنا بہت پسند ہے، اور یہ میری پسندیدہ جگہوں میں سے ایک ہے۔‘‘ انہوں نے اپنے حالیہ مشن کے دوران دو مختلف خلا بازی کی گاڑیوں میں پرواز کرنے کے اپنے تجربات پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم ٹیسٹر ہیں، یہی ہمارا کام ہے اور ہم نے اس کا بھرپور لطف اٹھایا ہے۔‘‘

پریس کانفرنس میں ولیمز نے وضاحت کی کہ بوئنگ کے اسٹار لائنر کیپسول کی واپسی میں تاخیر کی وجہ سے انہیں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کیپسول، جو کہ جون میں بین الاقوامی خلا اسٹیشن تک پہنچا تھا، کی واپسی میں تکنیکی مسائل کے باعث تاخیر ہوئی۔ ناسا نے فیصلہ کیا کہ کیپسول میں موجود خلابازوں کی واپسی کو محفوظ بنانے کے لئے کچھ اضافی وقت درکار ہے، کیونکہ خراب کیپسول میں واپس آنا خطرناک ہو سکتا تھا۔ اس فیصلے کے بعد ولیمز اور ولمور کا مشن ایک متوقع آٹھ دن کی مدت سے بڑھ کر آٹھ ماہ تک جاری رہنے کی امید ہے۔

ولیمز نے اپنے خلا میں قیام کی خوشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’یہ پیشہ ایسے ہی ہوتا ہے، اور ہمیں اس میں پیش آنے والی مشکلات کو قبول کرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ خلا میں رہتے ہوئے ان کے لئے سب سے مشکل چیز یہ رہی کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ قیمتی وقت گزارنے کا موقع کھو بیٹھے۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنے مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ انہیں خلا میں رہنا پسند ہے۔

وہیں، بچ ولمور نے بھی پریس کانفرنس کے دوران اپنے تجربات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹار لائنر کے پہلے ٹیسٹ پائلٹ کے طور پر ان کی توقعات کے برعکس، انہیں خلا میں زیادہ وقت گزارنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، مگر یہی ہمارا پیشہ ہے۔‘‘ ولمور نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کے ہائی اسکول کے آخری سال میں موجود نہ ہونے کا افسوس بھی ظاہر کیا۔

دونوں خلا بازوں نے اپنے ملک میں ملنے والی دعاؤں اور نیک خواہشات کا شکریہ ادا کیا، جو کہ ان کی مدد کر رہی ہیں تاکہ وہ خلا میں اپنے مشن کو کامیابی سے مکمل کر سکیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں خلا اسٹیشن پر سات نئے خلابازوں کا استقبال کیا گیا ہے، جن میں دو روسی اور ایک امریکی شامل ہیں۔

خلا میں ہونے کے باوجود، ولیمز اور ولمور نے اپنے شہری حقوق اور ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا۔ انہوں نے خلا سے ہی نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لئے غیر حاضری ووٹ کی درخواست بھی دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے شہری کلمات کو پورا کرنا ضروری سمجھتے ہیں، چاہے وہ خلا میں ہی کیوں نہ ہوں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3baFDi5

اتوار، 1 ستمبر، 2024

ٹیلی گرام: اظہار کی آزادی بمقابلہ قانون کا نفاذ

ٹیلی گرام ایپ کے بانی، 39 سالہ پاول دوروف کو 24 اگست کو پیرس کے بورجٹ ہوائی اڈے پر ٹیلی گرام پر اعتدال (موڈریشن) کی کمی سے متعلق وارنٹ پر حراست میں لیا گیا تھا۔ ان سے بہت سارے جرائم سے متعلق الزامات کے تحت تفتیش کی جا رہی ہے، بشمول ان الزامات کہ ان کا پلیٹ فارم (ٹیلی گرام) فراڈ کرنے والوں، منشیات کے اسمگلروں اور چائلڈ پورنوگرافی پھیلانے والے لوگوں کی مدد کرنے میں ملوث ہے۔ ٹیلی گرام اور اس کے مواد میں اعتدال کی کمی، دہشت گرد گروپوں اور انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کے استعمال کے لیے بھی جانچ کی زد میں ہے۔

دوروف کی حراست نے ایپ فراہم کرنے والوں کی مجرمانہ ذمہ داری پر روشنی ڈالی ہے اور اس بحث کو ہوا دی ہے کہ آزادی اظہار کہاں ختم ہوتی ہے اور قانون کا نفاذ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ ان کی گرفتاری نے یوکرین اور روس دونوں ممالک میں خاص تشویش پیدا کر دی ہے، جہاں ٹیلی گرام انتہائی مقبول ایپ ہے اور روس یوکرین جنگ کے دوران فوجی اہلکاروں اور شہریوں کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ بن گئی ہے۔

دوروف اب باضابطہ تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں اور دوران تفتیش انہیں فرانس چھوڑنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ فرانسیسی پراسیکیوٹر یا استغاثہ کے بیان کے مطابق روسی نژاد ارب پتی سے ان کے پلیٹ فارم پر مجرمانہ سرگرمیوں سے متعلق متعدد مشتبہ جرائم کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں گینگ کے غیر قانونی لین دین میں ملوث ہونا اور حکام کو معلومات فراہم کرنے سے انکار شامل ہے۔ دوروف کو 50 لاکھ یورو کی ضمانت کے ساتھ عدالتی نگرانی میں فرانس میں رہنا ہوگا اور ہفتے میں دو بار پولیس اسٹیشن میں رپورٹ کرنا ہوگا۔

استغاثہ نے سی این این کو بتایا، دوروف کو 96 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا، فرد جرم عائد کرنے سے پہلے فرانسیسی قانون کے تحت کسی کو زیادہ سے زیادہ اتنے ہی وقت کے لیے حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔ پیرس کے ہوائی اڈے پر ان کی ڈرامائی گرفتاری کے بعد انہیں پولیس کی حراست سے رہا کر دیا گیا اور پوچھ گچھ کے لیے عدالت میں منتقل کر دیا گیا۔ فرانسیسی قانونی نظام میں رسمی تفتیش کا مطلب جرم نہیں ہے، لیکن اس بات کی نشاندہی ہے کہ استغاثہ کے خیال میں ایک سنگین تفتیش کا کیس بنتا ہے۔ دوروف پر ابھی تک باضابطہ طور پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فرانسیسی قومی دفتر برائے نابالغان نے مختلف جرائم سے متعلق عدالت کی درخواستوں پر ٹیلی گرام کی جانب سے جواب کی تقریباً عدم موجودگی کی اطلاع دی ہے جن میں اسمگلنگ، آن لائن نفرت انگیز تقاریر، اور پیڈو فیلیا کے جرائم شامل ہیں۔ جن مشتبہ کارروائیوں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں ان میں پلیٹ فارم انتظامیہ کی ملی بھگت شامل ہے جو ایک منظم گینگ میں غیر قانونی لین دین کو ممکن بناتا ہے، اور یہ ایک ایسا جرم ہے جس میں زیادہ سے زیادہ 10 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ٹیلی گرام نے 26 اگست کو ایک بیان میں کہا کہ اس نے یورپی یونین کے قوانین کی پاسداری کی ہے اور اس کا اعتدال (موڈریشن) صنعت کے معیارات کے مطابق ہے اور مسلسل بہتر ہو رہا ہے۔ ٹیلی گرام کے سی ای او پاول دوروف کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ اکثر یورپ کا سفر کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ کرنا مضحکہ خیز ہے کہ پلیٹ فارم یا اس کا مالک اس پلیٹ فارم کے غلط استعمال کے ذمہ دار ہے۔

روس نے پاول دوروف کو حراست میں لینے پر فرانس پر تنقید کی ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا کہ اس سب نے ایک بار پھر فرانسیسی قیادت کے حقیقی رویے کو ظاہر کیا ہے جس نے آزادی اظہار اور اظہار رائے کے تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کو صریحاً پامال کیا ہے۔ روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اس امید کا اظہار کیا کہ دوروف کے پاس اپنے قانونی دفاع کے لیے تمام ضروری مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو ٹیلی گرام کے سی ای او کو روسی شہری کی حیثیت سے تمام ضروری مدد اور تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن صورتحال اس وجہ سے پیچیدہ ہے کہ وہ فرانس کے شہری بھی ہیں۔ انہوں نے روس میں ایپ کے مستقبل کے بارے میں خدشات کو بے اثر کرنے اور صارفین کو ایپ پر اپنے حساس پیغامات کو حذف کرنے کی کالوں سے دور رہنے کی کوشش کی۔ روس اور فرانس کے علاوہ، پاول دوروف متحدہ عرب امارات اور کیریبین جزیرے کے سینٹ کٹس و نیوس کے بھی شہری ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ بھی اس کیس کی پیروی کر رہی ہے اور فرانس سے کہا ہے کہ وہ دوروف کو تمام ضروری قونصلر خدمات فراہم کرے۔

روس اور ایکس (ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک کے الزامات کا سامنا کرتے ہوئے کہ فرانس دوروف کی گرفتاری سے آزادی اظہار کو دبا رہا ہے، صدر ایمانوئل میکرون نے 26 اگست کو ایکس پر اپنی پوسٹ میں اسے غلط معلومات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دوروف کی گرفتاری سیاسی اقدام نہیں بلکہ آزادانہ تحقیقات کا حصہ ہے۔ میکرون نے لکھا کہ فرانس اظہار رائے کی آزادی کے لیے پرعزم ہے لیکن شہریوں کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے کے لیے سوشل میڈیا اور حقیقی زندگی دونوں میں آزادی کو قانونی فریم ورک کے اندر برقرار رکھا جاتا ہے۔

ٹیلی گرام کو 2013 میں دوروف اور اس کے بھائی نکولائی نے شروع کیا تھا۔ گزشتہ ماہ دوروف نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی ایپ کے 95 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں، جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے میسجنگ پلیٹ فارمز میں سے ایک بناتا ہے۔ ایپ پر ہونے والی بات چیت کو انکرپٹ کیا جاتا ہے، مطلب یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں - اور خود ٹیلی گرام- صارفین کی پوسٹ پر بہت کم نگرانی کرتے ہیں۔

دوروف 1984 میں سوویت یونین میں پیدا ہوئے اور 20 کی دہائی والی عمر میں وہ ’روس کے مارک زکربرگ‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے 2014 میں ملک چھوڑا اور اب دبئی میں رہتے ہیں، جہاں ٹیلی گرام کا ہیڈکوارٹر ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، ان کی مالیت ایک اندازے کے مطابق 9.15 ارب ڈالر ہے اور پچھلی دہائی کے دوران انہوں نے ایک شاہانہ طرز زندگی کو برقرار رکھا ہے۔

ٹیلی گرام نے آزادی اظہار کے گروپوں سے تعریفیں حاصل کی ہیں اور جن ممالک میں حکومتوں کی جانب سے پابندیاں عائد ہیں ان ممالک میں نجی مواصلات کو فعال کیا ہے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ غیر قانونی سرگرمیوں کو مربوط کرنے والے لوگوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے - بشمول وہ دہشت گرد جنہوں نے نومبر 2015 میں پیرس کے دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ دوروف نے 2016 میں سی این این سے کہا تھا کہ یہ یا تو محفوظ ہے یا غیر محفوظ ۔ آپ اسے مجرموں کے خلاف محفوظ اور حکومتوں کے لیے کھول نہیں سکتے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fKpqHYv

ہفتہ، 31 اگست، 2024

برازیل میں ’ایکس‘ کو معطل کرنے کا حکم، قانونی نمائندہ مقرر کرنے سے انکار پر سپریم کورٹ کی کارروائی

ریو ڈی جنیرو: برازیل کے سپریم کورٹ کے جسٹس الیگزینڈر ڈی موریس نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ملک بھر میں معطل کرنے کا حکم دیا کیونکہ کمپنی نے ملک میں قانونی نمائندہ مقرر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کو حکم جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فوری طور پر ملک بھر میں ایکس کی سروسز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے گوگل اور ایپل سمیت انٹرنیٹ پرووائیڈرز کو بھی ایکس ایپلی کیشنز کو روکنے کے لیے ٹیکنالوجیکل رکاوٹیں لگانے کا حکم دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برازیل کی عدالت نے ایلون مسک سے فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم انہوں نے برازیل میں اس مقصد کے لیے دفتر کھولنے سے انکار کر دیا تھا۔ برازیل کے فیڈرل سپریم کورٹ (ایس ٹی ایف) نے ایکس کو عدم تعمیل پر 1.8 ریئل (تقریباً 32 لاکھ امریکی ڈالر) کا جرمانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا۔

جج نے کمپنی کے بارہا جان بوجھ کر عدالتی احکامات کو نظر انداز کرنے اور روزانہ جرمانے کی ادائیگی سے انکار کا حوالہ دیتے ہوئے معطل کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ انہوں نے ایکس پر برازیل کے قانونی نظام کو نظر انداز کرنے اور سوشل میڈیا پر خاص طور پر 2024 کے بلدیاتی انتخابات کی تیاری میں لاقانونیت کا ماحول بنانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔

جج نے برازیل کی قومی ٹیلی کمیونیکیشن ایجنسی (ایناٹیل) کو 24 گھنٹوں کے اندر ملک میں ایکس تک رسائی کو روکنے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ ایپل اور گوگل کو اپنے آن لائن اسٹورز سے ایکس ایپ کو ہٹانے کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔

مزید برآں، اعلان کیا گیا ہے کہ پابندی کے بعد ایکس تک رسائی کے لیے وی پی این جیسے طریقے استعمال کرنے والے کسی بھی فرد یا کمپنی پر تقریباً 10000 امریکی ڈالر کا یومیہ جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/eVXb9HD

ہفتہ، 24 اگست، 2024

خلا میں پھنسی سنیتا ولیمس زمین پر کب واپس آئیں گی؟ خلائی ایجنسی 'ناسا' نے دی اہم جانکاری

ہندوستانی نژاد امریکی خلاباز سنیتا ولیمس اور بُچ وِلمور 6 جون سے خلا میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا ان کے زمین پر جلد لوٹنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ اس سلسلے میں 'ناسا' نے کہا ہے کہ اگلے کچھ دن ابھی اورغیر یقینی صورتحال میں خلا میں گزارنے پڑ سکتے ہیں۔ حالانکہ امریکی خلائی ایجنسی نے کہا ہے کہ 'ناسا' ہفتہ کو سنیتا ولیمس کو بوئنگ کے اسٹارلائنر خلائی جہاز یا اسپیس ایکس کے ڈریگن کیپسول پر واپس لانے کے بارے میں آخری فیصلہ کر سکتا ہے۔ خلائی ایجنسی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’خلابازوں کے ساتھ اسٹارلائنر کو زمین پر واپس لانے کے سلسلے میں 'ناسا' کا فیصلہ ایجنسی سطح کے جائزہ کے اختتام پر 24 اگست سے پہلے ہونے کی امید نہیں ہے۔‘‘

غور طلب رہے کہ سنیتا ولیمس اور بُچ وِلمور نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر آٹھ دنوں کا وقت گزارنے کے لیے 6 جون کو زمین سے اڑان بھری تھی۔ ان کا یہ سفر خلا میں دو مہینے سے زیادہ کا گزر چکا ہے لیکن اب تک وہ زمین پر آنے سے قاصر ہیں۔ ویسے دونوں خلاباز اسٹارلائنر پر سوار ہونے والے پہلے شخص بن گئے ہیں۔ دراصل جیسے ہی اسٹارلائنر چکر لگانے والی تجربہ گاہ کے پاس پہنچا خلائی جہاز کو کئی تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے کئی تھرسٹرس فیل ہو گئے۔ پروپلسن سسٹم میں ہیلیم کا اخراج ہو گیا۔ انجنیئر پانچ میں سے چار خراب تھرسٹرس کو ٹھیک کرنے میں کامیاب رہے۔ اسٹارلائنر پر 28 تھرسٹرس ہیں اس کے باوجود یہ زمین پر کامیاب ڈی-آربٹ کو لے کر تیار نہیں ہے۔ بوئنگ نے اسٹارلائنر کے تحفظ کا اعلان کیا لیکن ناسا کے افسران نے نااتفاقی ظاہر کر دی۔

اگر امریکی خلائی ایجنسی ہفتہ کو اسٹارلائنر کو سفر کے لیے نامناسب مانتی ہے تو اسے آربیٹنگ لیب سے بغیر ڈرائیور دستہ کے ہی ہٹا دیا جائے گا۔ اس کے بعد ولیمس اور وِلمور 2025 میں اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول پر سوار ہو کر واپس آئیں گے کیونکہ 'ناسا' نے ISS کے لیے اسپیس ایکس کرو-9 مشن کے لانچ کو 24 ستمبر تک کے لیے ملتوی کر دیا ہے۔ واضح ہو کہ اسپیس ایکس کے ڈریگن کیپسول 2020 سے اپنے فالکن 9 راکٹ پر خلائی مسافروں کو خلا میں بھیج رہے ہیں۔ اس نے اب تک خلائی اسٹیشن کے لیے تقریباً 12 پروازیں کی ہیں۔ بوئنگ نے اپنے اسٹارلائنر پروگرام میں 1.5 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/v9DHnxE

منگل، 20 اگست، 2024

’بھاپ بن کر مر سکتی ہیں سنیتا ولیمس‘، خلائی امور کے ماہر رڈولفی نے اسپیس اسٹیشن میں پھنسی سنیتا پر فکرمندی ظاہر کی

ہند نژاد امریکی خلائی مسافر سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی بُچ ولمور گزشتہ دو ماہ سے خلائی اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ صرف 10 دنوں کے لیے وہاں گئے تھے، لیکن اسٹارلائنر خلائی طیارہ میں تکنیکی خرابی پیدا ہونے کے سبب اب تک ان کی واپسی نہیں ہو پائی ہے۔ وہ کب تک واپس آ پائیں گے، اس سلسلے میں بھی کچھ نہیں کہا جا رہا۔ اس درمیان خلائی امور کے ماہر اور سابق امریکی فوجی کمانڈر روڈی رڈولفی نے تین خوفناک اندیشے ظاہر کیے ہیں۔ رڈولفی کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس خراب خلائی طیارہ سے واپس آنے کی کوشش کرتے ہیں تو رگڑ سے پیدا ہونے والی گرمی کے سبب وہ بھاپ بن کر مر بھی سکتے ہیں۔

’ڈیلی میل‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں رڈولفی نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ بوئنگ اسٹارلائنر کو بہ حفاظت زمین پر لانے کے لیے تکنیکی طور سے اسے ایک درست زاویہ پر لانا ہوگا۔ جب تک کیپسول فضا میں داخل ہونے کے لیے درست زاویہ پر ہے، تب تک سب کچھ ٹھیک رہے گا، لیکن اگر یہ زاویہ درست نہیں ہے تو یا تو خلائی مسافر جل جائیں گے یا پھر واپس خلا میں چلے جائیں گے۔ ایسی حالت میں ان کے ساتھ صرف 96 گھنٹے کی آکسیجن فراہمی ہوگی اور اس کے ساتھ ان کا بچنا انتہائی مشکل ہوگا۔

رڈولفی کا کہنا ہے کہ اسٹارلائنر خلائی مسافر کا خلا میں اُچھلنا یعنی دوسری طف بڑھنا سب سے خراب حالت ہوگی، کیونکہ تب وہ خلا میں ہی بھاپ بن جائیں گے۔ دونوں ہی حالت میں ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اگر انھوں نے بہت تیز اینگل کے ساتھ فضا میں میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ہوا اور اسٹارلائنر کی رگڑ کے سبب خلائی مسافروں کے جلنے کا خطرہ بھی رہے گا۔

بہرحال، ناسا نے دونوں خلائی مسافروں کو وہاں سے واپس نکالنے کے لیے ’اسپیس ایکس‘ کے ڈریگن کیپسول کی مدد لینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن اس منصوبہ کے ذریعہ اگر انھیں واپس لایا جاتا ہے تو وہ فروری یا مارچ 2025 تک زمین پر واپس آ پائیں گے۔ اتنے دنوں تک خلا کی مائیکرو گریویٹی میں رہنا دونوں ہی مسافروں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔ ناسا کی رپورٹس کے مطابق دونوں ہی خلائی مسافروں کو دھیرے دھیرے صحت سے متعلق کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حالانکہ بوئنگ کی طرف سے بھی یہ بیان آیا ہے کہ اسٹارلائنر کے اوپر کام چل رہا ہے اور وہ کسی ایمرجنسی حالت میں خلائی مسافروں کو واپس لانے میں اہل ہیں، لیکن وہ کسی اگر مگر کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے، اس لیے ناسا کی مدد لے رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5qeb1s2

جمعرات، 15 اگست، 2024

اسرو کا نیا سیٹلائٹ کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ، آفات سے قبل بھیجے گا الرٹ

سری ہری کوٹا: اسرو نے آج (16 اگست 2024) کو صبح کے 9 بجکر 17 منٹ پر ستیش دھون خلائی مرکز، سری ہری کوٹا سے ’ایس ایس ایل سی-ڈی3‘ راکٹ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا۔ اس راکٹ کے اندر ایک نیا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ’ای او ایس-8‘ رکھ کر خلا میں بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک چھوٹا سیٹلائٹ ’ایس آر-زیرو ڈیمو سیٹ‘ بھی لانچ کیا گیا اور اسے مسافر سیٹلائٹ کے طور پر بھیجا گیا۔ یہ دونوں سیٹلائٹ زمین سے 475 کلومیٹر کی بلندی پر ایک گول مدار میں گھومیں گے۔

’ایس ایس ایل وی‘ کا مطلب ہے چھوٹی سیٹلائٹ لانچ وہیکل اور ڈی3 کا مطلب ہے تیسری نمائشی پرواز۔ یہ راکٹ منی، مائیکرو اور نینو سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اس کے ذریعے 500 کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹ کو زمین کے نچلے مدار میں 500 کلومیٹر سے نیچے بھیجا جا سکتا ہے یا 300 کلوگرام وزنی سیٹلائٹ کو سورج کے ہم آہنگ مدار میں بھیجا جا سکتا ہے۔ اس مدار کی اونچائی 500 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس لانچنگ میں یہ 475 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ جائے گا۔ وہاں پہنچنے کے بعد یہ سیٹلائٹ کو علیحدہ کر دے گا۔

ایس ایس ایل وی راکٹ کی لمبائی 34 میٹر ہے، قطر 2 میٹر ہے اور وزن 120 ٹن ہے اور یہ 10 سے 500 کلوگرام کے پے لوڈز کو 500 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچا سکتا ہے۔ اسے صرف 72 گھنٹوں میں تیار کیا گیا ہے۔ ایس ایس ایل وی کو سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز کے لانچ پیڈ 1 سے لانچ کیا گیا۔

ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ یعنی ای او ایس-8 ماحولیاتی نگرانی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور تکنیکی مظاہرے کے لیے کام کرے گا۔ 175.5 کلوگرام وزنی، اس سیٹلائٹ میں تین جدید ترین پے لوڈز الیکٹرو آپٹیکل انفراریڈ پے لوڈ (ای او آئی آر)، گلوبل نیویگیشن سیٹلائٹ سسٹم ریفلیکٹومیٹری پے لوڈ (جی این ایس ایس-آر) اور سِک-ڈی یو ڈوزی میٹر ہیں۔ اس میں ای او آئی آر دن اور رات کے دوران درمیانی اور لمبی لہر والی انفرا ریڈ تصویریں لے گا۔

یہ تصویریں آفات جیسے جنگل کی آگ، آتش فشاں سرگرمیاں کے بارے میں معلومات فراہم کریں گی۔ جی این ایس ایس-آر کے ذریعے سمندر کی سطح پر ہوا کا تجزیہ کیا جائے گا۔ مٹی کی نمی اور سیلاب کا پتہ لگایا جائے گا۔ جبکہ الٹرا وائلٹ تابکاری کو سیک یو وی ڈوزی میٹر سے ٹیسٹ کیا جائے گا، جس سے گگن یان مشن میں مدد ملے گی۔

ای او ایس-8 سیٹلائٹ زمین کے اوپر نچلی مدار یعنی 475 کلومیٹر کی بلندی پر گھومے گا۔ یہاں سے یہ سیٹلائٹ دیگر کئی تکنیکی مدد بھی فراہم کرے گا۔ جیسے مربوط ایویونکس سسٹم۔ اس کے اندر کمیونیکیشن، بیس بینڈ، اسٹوریج اور پوزیشننگ (سی بی ایس پی) پیکیج ہے، یعنی ایک اکائی کئی طرح کے کام کر سکتا ہے۔ اس میں 400 جی بی ڈیٹا اسٹوریج کی گنجائش ہے۔

اس مشن کی عمر ایک سال ہے۔ ایس ایس ایل وی-ڈی3 کے اس لانچ کے بعد ایس ایس ایل وی کو مکمل طور پر آپریشنل راکٹ کا درجہ مل جائے گا۔ اس سے پہلے یہ راکٹ دو پروازیں بھر چکا ہے۔ ایس ایس ایل وی-ڈی1 کی پہلی پرواز 7 اگست 2022 کو ہوئی تھی۔ اگلی پرواز یعنی ایس ایس ایل وی-ڈی2 10 فروری 2023 کو کی گئی تھی۔ اس میں تین سیٹلائٹ ای ایو ایس-7، جینوس-1 اور آزادی سیٹ-2۔

بین الاقوامی سطح پر چھوٹے سیٹلائٹس بڑی مقدار میں آ رہے ہیں۔ ان کی لانچوں کا بازار بڑھ رہا ہے۔ اس لیے اسرو نے یہ راکٹ بنایا ہے۔ ایک ایس ایس ایل وی راکٹ کی قیمت 30 کروڑ روپے ہوگی۔ جبکہ پی ایس ایل وی 130 سے ​​200 کروڑ روپے خرچ آتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5D7YRdU