ہفتہ، 12 اپریل، 2025

مصنوعی ذہانت کی پیش قدمی، سافٹ ویئر کی محدود ہوتی افادیت

ماضی میں جب صنعتی انقلاب آیا تو انسان نے پہلی بار یہ سیکھا کہ محض اپنے ہاتھوں اور جسمانی طاقت کے بجائے مشینوں کی مدد سے بھی بڑی سطح پر پیداوار ممکن ہے۔ پھر جب ڈیجیٹل انقلاب نے دستک دی تو دنیا کا رابطہ بدل گیا، معلومات کی ترسیل، لین دین، تعلیم، سیاست، معیشت، سب کچھ نئی شکل میں ڈھلنے لگا۔

اب جو انقلاب ہمارے دروازے پر آ چکا ہے، وہ نہ صرف پہلے دونوں انقلابات سے زیادہ تیز ہے بلکہ گہرے اور دور رس اثرات کا حامل بھی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا انقلاب ہے، جو ہر شعبۂ حیات میں داخل ہو چکا ہے اور انسان کے ہر سوچنے، سمجھنے اور کرنے کے طریقے کو بدل رہا ہے۔

اب یہ سوال باقی نہیں رہا کہ اے آئی آئے گی یا نہیں، وہ آ چکی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں؟ حال ہی میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین کا بیان آیا کہ سافٹ ویئر انجینئروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں اور انہیں اس تبدیلی کے لیے خود کو پہلے سے تیار کر لینا چاہیے۔

یہ صرف انجینئروں کی بات نہیں، دنیا بھر میں جہاں جہاں کوئی کام ایک خاص ترتیب، ایک مخصوص فارمولے یا طے شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے، وہاں اے آئی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسانی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور جذبات ایسی چیزیں ہیں جنہیں کوئی مشین چھو بھی نہیں سکتی، مگر اب وہ لمحہ آ گیا ہے جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف معلومات پر مبنی فیصلہ کر رہی ہے بلکہ وہ انسانی مزاج، لہجہ اور ارادے کو بھی سمجھنے لگی ہے۔

اکثر لوگ اس انقلاب کا موازنہ موبائل فون کے ساتھ کرتے ہیں، جو یقیناً زندگی میں سہولتوں کا بڑا ذریعہ بنا، مگر سچ یہ ہے کہ موبائل نے انسان کا طرز زندگی اتنا نہیں بدلا جتنا اے آئی کرنے جا رہی ہے۔ موبائل نے رابطے آسان کیے، چیزوں کو قریب لایا لیکن اے آئی انسان کے سوچنے کے عمل میں مداخلت کر رہی ہے۔ وہ اسے یہ نہیں بتاتی کہ ’کیا کرنا ہے‘، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ ’کیسے سوچا جائے!‘

پہلے ہم جن کاموں کے لیے خاص سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے، اب وہی کام خودکار طریقے سے ایک ہی پلیٹ فارم پر بغیر وقت ضائع کیے انجام پا رہے ہیں۔ تصویری تدوین ہو، مضمون نویسی، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالسس، یا آواز سے ٹیکسٹ بنانا، یہ سب ایک لمحہ میں انجام پاتا ہے، وہ بھی بغیر سیکھے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے مشہور سافٹ ویئر جو ایک وقت میں ناگزیر سمجھے جاتے تھے، آج صرف مخصوص پیشہ ور افراد تک محدود ہو گئے ہیں، یا ان کے لیے متبادل اے آئی ٹولز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فوٹوشاپ، کورل ڈرا، فائنل کٹ، پاور پوائنٹ، ان پیج، آٹو کیڈ، یا یہاں تک کہ ایکسل جیسے پروگرام بھی، جنہیں سیکھنے اور سکھانے پر برسوں صرف کیے جاتے تھے، اب ان کی جگہ ایسے اے آئی پلیٹ فارم لے رہے ہیں، جو نہ صرف ان سے تیز ہیں بلکہ صارف کے لیے آسان بھی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں ان سافٹ ویئرز کی مکمل یا جزوی افادیت ختم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ اس انقلاب نے نہ صرف سافٹ ویئرز کو بے مصرف یا محدود کیا ہے بلکہ انسان کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ہر شخص، چاہے وہ تعلیم سے وابستہ ہو یا طب سے، صحافت سے ہو یا قانون سے، محسوس کر رہا ہے کہ اس کے کام کی نوعیت بدل رہی ہے۔ کچھ کے لیے یہ تبدیلی سہولت ہے، کچھ کے لیے خوف اور کچھ کے لیے موقع۔

سوال یہ نہیں کہ اے آئی کیا چھین لے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا نیا سیکھنے کو تیار ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے تجربے اور مہارت کے بل پر ہمیشہ کامیاب رہیں گے، وہ شاید آنے والے وقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اے آئی کا اثر صرف پیشہ ورانہ دنیا تک محدود نہیں رہے گا۔ گھریلو زندگی، سماجی رشتے، تعلیم، تفریح، یہاں تک کہ مذہبی و ثقافتی طور طریقے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اگر کل کوئی بچہ اے آئی سے قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہوگا یا کوئی بزرگ اپنی طبیعت کے مطابق اے آئی سے دعا سن رہا ہوگا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے۔

ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف ہماری سوچ بدل رہی ہے بلکہ ہماری ترجیحات بھی تبدیل کر رہی ہے۔ انسان وہی کام کرنا چاہتا ہے جس میں کم محنت ہو، جلدی فائدہ ہو اور نتیجہ فوری نظر آئے۔ اے آئی اسے یہ سب فراہم کر رہی ہے، مگر اس کے بدلے ہم سے کیا لے رہی ہے، یہ ہم میں سے اکثر نے سوچا بھی نہیں۔ شاید ہمارے فیصلوں کا اختیار، ہماری تخلیق کی آزادی یا ہماری اجتماعی عقل۔

یہ انقلاب کسی کے رکنے سے رکے گا نہیں۔ یہ نہ تو جغرافیائی سرحدوں کا محتاج ہے اور نہ ہی کسی خاص طبقے یا معاشرے کا۔ یہ ہر اس شخص کو چھوئے گا جو اس دنیا کا حصہ ہے، جو روز کچھ سیکھتا، کچھ سوچتا اور کچھ کرتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس تبدیلی کا سامنا آنکھیں کھول کر کریں گے یا آنکھ بند کر کے۔ وقت تیز ہو چکا ہے، لہٰذا جو جتنا جلدی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہو جائے گا، وہی اس انقلاب میں محفوظ، باوقار اور مؤثر رہے گا۔ باقی سب، چاہے وہ کتنے ہی کامیاب کیوں نہ رہے ہوں، پیچھے رہ جائیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Paun4jM

بدھ، 9 اپریل، 2025

یہ ترقی کس کے لئے سودمند ہوگی!

دنیا کی نظریں اس وقت امریکی صدر کی نئی ٹیرف پالیسی پر لگی ہوئی ہیں، مسلم دنیا کی نظریں قطر کے حماس اور نیتن یاہو سے رشتے پر گڑی ہوئی ہیں، ہندوستانی مسلمانوں کی نظریں وقف ترمیمی بل کے مستقبل کو لے کر بے چینی سے انتظار کر رہی ہیں اور ہندوستانی عوام کی نظریں راہل گاندھی کی بہار یاترا اور احمد آباد اجلاس پر ٹکی ہوئی ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں یہ موضوعات انتہائی اہم ہیں اور ان کے اثرات دنیا کے کسی نہ کسی کونے پر نظر آئیں گے لیکن اگر ہم مستقبل کی بات کریں تو جس تیزی کے ساتھ دنیا میں سائنسی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اس نے آنکھیں ہوتے ہوئے بھی عام لوگوں کو اندھا کر دیا ہے۔

مصنوعی ذہانت نے پہلے ہی ایک بڑی تعداد کو بے روزگار کرنا شروع کر دیا ہے اور جس بڑی تعداد میں انسانی روبوٹس دنیا میں آ رہے ہیں اس نے سب کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔ جس تیزی کے ساتھ سائنس میں تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس سے اب طے کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے کہ آگے کس راستے پر چلنا ہے، بہت ہی کنفیوژن ہے۔

یہ کنفیوژن اس لئے ہے کہ مصنوعی ذہانت کے سفر کا آغاز ہے اور انسانی روبوٹس کس کس شعبہ میں اپنی دخل اندازی کرے گا اس کا کسی کو علم نہیں ہے۔ انسانی روبوٹس گھر کے کام سے لے کر بڑی بڑی فیکٹریوں میں کام کرتے نظر آ رہے ہیں اور ظاہر ہے اس کا فائدہ ان سب لوگوں کو ہو رہا ہے جو انسانی مجبوریوں اور انسانی فطرت سے دور رہنا چاہتے ہوں۔ چاہے گھر میں کسی بائی کی جگہ انسانی روبوٹ کام کرے۔ اگر کام بائی سے زیادہ بہتر طریقے سے روبوٹ کرتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی مجبوری اور انسانی فطرت یعنی بیماری اور چوری وغیرہ نہیں جڑی ہوئی ہیں اور وہ بچوں پر نظر بھی نہیں رکھتا ہے اور ان کی شکایت اور تعریف بھی ابھی نہیں کرتا ہے تو یہ اس مالک کے لئے آسانی ہی ہوگی جو آئے دن بائی کے مسئلہ سے پریشان رہتے ہیں، بیماری اور چوری جیسے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس کے لئے بس ایک یس مین یعنی ’جی حضور‘ والا روبوٹ چاہئے جو اس کے سب مسائل کا حل ہو، بس اسے اس کے لئے ایک چارجر اور خریدنے کے لئے پیسے درکار ہوں۔

اسی طرح بڑی بڑی فیکٹریوں کا حال ہوگا جہاں کے مالکان آئے دن کے احتجاج اور ملازمین کی چھٹیوں سے پریشان ہیں وہاں اگر انسانی روبوٹس مشینی انداز میں ایک جیسا سامان تیار کرتے ہیں اور وہ بھی بغیر چوں چرا کئے۔ ان کے ذریعہ تیار کردہ مال کی تعداد معلوم ہوگی، تنخواہ کا کوئی جھنجھٹ نہیں صرف اس بات کو یقینی بنانا پڑے گا بجلی آتی رہے اور وہ چارج ہوتے رہیں یعنی صرف ایک بار کا خرچ جیسے مشین لانے پر ہوتا ہے ویسے ہی یہ مشینی روبوٹس یعنی انسانی روبوٹس پر ایک مرتبہ کا خرچ۔ یعنی لوگوں کا استعمال بہت تیزی سے گھٹ جائے گا۔

انسانی روبوٹس تقریباً ہر شعبہ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں ہے چاہے وہ کھانا پکانے سے لے کر کار اور بڑے بڑے پل بنانے کا مسئلہ ہو۔ یعنی ذائقے بھی ایک جیسے اور بڑی بڑی چیزیں بھی ایک جیسی۔ اس سے پہلے کہ انسان خود ایک دن مشین جیسا بن جائے اور اس میں جذبات نام کی کوئی چیز نہ رہے، اس کا یہ سفر بہت تکلیف دہ ہوگا کیونکہ ایک طرف بڑھتی بے روزگاری اور دوسری طرف تناؤ سے راحت کے ساتھ اپنی مرضی کا تیار کردہ مال اور اس سب میں اس کے ختم ہوتے ہوئے جذبات۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ لاشعوری طور پر بن جائے گا۔

دوسری جانب مصنوعی ذہانت بہت تیزی کے ساتھ انسانی دماغ پر اپنا قبضہ جمانے کے لئے بے چین نظر آ رہی ہے۔ اس کی کوشش یہ ہے کہ انسان کی ہر ضرورت کو وہ پورا کر دے اور اس کو وہ اپنا غلام بنا لے۔ اپنی اس کوشش میں مصنوعی ذہانت جس بری طرح اپنا ڈیٹا بینک بڑھا رہی ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پاس انسانی ضرورت کے تمام حل موجود ہوں گے اور دھیرے دھیرے انسانی دماغ پر اس کا قبضہ اس طرح ہو جائے گا جیسے انسان پہلے فون نمبر یاد رکھتا تھا اور موبائل کے آنے کے بعد اسے انہیں یاد رکھنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

اس ترقی کا ثمر کون استعمال کرے گا یہ دیکھنا ہوگا اور کون لوگ ہوں گے جو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ظاہر ہے ان سب چیزوں کے استعمال کے لئے انسانوں کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آبادی کی زیادتی اس ترقی میں لعنت یا نعمت ثابت ہوگی، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن یہ تبدیلی ٹائپ رائٹر سے کمپیوٹر میں تبدیلی یا فون میں بینک اور کیمرے والی تبدیلی سے بڑی ہوگی اور اس میں آبادی کے کردار کو دیکھنا لازمی ہوگا۔ یہ ترقی مغرب کے لئے سودمند رہے گی یا بڑی آبادی والے مشرق کے لئے فائدہ مند رہے گی لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں یہ مادیات کے لئے سودمند رہے گی اور جذبات کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/M16oRh2

اتوار، 6 اپریل، 2025

گرمی اور رنگ کا تعلق: نیلا سب سے گرم، لال سب سے ٹھنڈا!

ہم سب جانتے ہیں کہ جب کسی چیز کو گرم کیا جاتا ہے تو اس سے روشنی یا ریڈی ایشن خارج ہوتی ہے۔ مثلاً جب کوئی لوہار لوہے کے سیاہ ٹکڑے کو بھٹی میں گرم کرتا ہے تو جیسے جیسے اس کا درجہ حرارت بڑھتا ہے، اس سے نارنجی، پھر لال اور آخر میں سفید رنگ کی روشنی نکلتی ہے۔

سائنس نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی چیز سے خارج ہونے والی روشنی کا اس کے درجہ حرارت سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ بات عمومی مشاہدے کا حصہ ہے، لیکن اس کی سائنسی تفصیل کو جاننا بھی نہایت ضروری ہے کیونکہ اسی سمجھ نے نہ صرف ہمیں ستاروں کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں بلکہ بیسویں صدی کے کوانٹم انقلاب کی بنیاد بھی رکھی۔

جب کسی شے کو گرم کیا جاتا ہے تو وہ برقی مقناطیسی شعاعیں (ایکٹرومیگنیٹک ریڈیشن) خارج کرتی ہے۔ جتنا درجہ حرارت کم ہوگا، اتنی ہی زیادہ طول موج (ویو لینتھ) کی شعاعیں خارج ہوں گی۔ مثلاً، اگر کوئی شے بہت ٹھنڈی ہو اور ہم اسے گرم کریں تو وہ ریڈیو ویوز خارج کرے گی۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ہماری کائنات کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 3 کیلون ہے، جس کے باعث مائیکرو ویوز ہر سمت خارج ہو رہی ہیں۔ یہ مائیکرو ویوز 1964 میں حادثاتی طور پر دریافت ہوئیں اور جن سائنس دانوں نے یہ دریافت کی، انہیں نوبل انعام سے نوازا گیا کیونکہ اس سے کائنات کی ابتدا کو سمجھنے میں مدد ملی۔

اگر ہم درجہ حرارت کو مزید بڑھائیں تو شے سے انفرا ریڈ شعاعیں نکلتی ہیں، جنہیں انسانی آنکھ نہیں دیکھ سکتی، مگر ہماری جلد انہیں گرمی کے طور پر محسوس کر سکتی ہے۔

جب درجہ حرارت تقریباً 1000 سے 1500 ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے تو خارج ہونے والی شعاعیں ہمیں لال رنگ کی روشنی کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ اگر اس سے زیادہ درجہ حرارت ہو تو روشنی کے اسپیکٹرم میں موجود دیگر رنگ بھی ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اور جب تمام رنگوں کی توانائی تقریباً برابر ہو جائے تو آنکھ کو وہ روشنی سفید دکھائی دیتی ہے۔ یہ سفید روشنی عموماً 5500 سے 6000 ڈگری سینٹی گریڈ پر نظر آتی ہے، جیسا کہ سورج کی روشنی۔ یہی وجہ ہے کہ سورج کو پیلا دکھانا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔

اگر درجہ حرارت مزید بڑھایا جائے تو روشنی کا رنگ نیلا ہونے لگتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیلے رنگ کی شعاعوں میں زیادہ توانائی ہوتی ہے جبکہ لال روشنی کی توانائی کم ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کسی شے کا درجہ حرارت 12,000 سے 15,000 ڈگری سینٹی گریڈ ہو تو وہ ہمیں نیلی دکھائی دے گی کیونکہ اس سے زیادہ تر نیلی شعاعیں خارج ہو رہی ہوں گی۔

مختصراً، جیسے جیسے درجہ حرارت بڑھتا ہے، شے سے خارج ہونے والی توانائی ریڈیو ویوز سے ہوتی ہوئی مائیکرو ویوز، انفرا ریڈ، لال، نارنجی، سفید، نیلی، ایکس رے اور آخر میں گاما رے کی طرف جاتی ہے۔ ہر درجہ حرارت پر کئی طرح کی روشنی نکلتی ہے، مگر سب سے زیادہ طاقت ایک خاص رنگ کی روشنی میں ہوتی ہے۔ اسی لیے ویلڈنگ کرتے وقت لوہار موٹے چشمے پہنتے ہیں تاکہ نیلی اور الٹرا وائلٹ شعاعوں کی شدید توانائی ان کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچائے۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ لال رنگ کی روشنی والی چیز کا درجہ حرارت عموماً 1000 سے 1500 ڈگری کے درمیان ہوتا ہے جبکہ نیلی روشنی والی چیز کا درجہ حرارت 12,000 سے 30,000 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہو سکتا ہے۔ یعنی نیلا ستارہ، لال یا سفید ستارے کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرم ہوتا ہے۔ سائنس کی نظر میں نیلا رنگ بہت زیادہ گرم، سفید درمیانہ اور لال نسبتاً ٹھنڈا ہوتا ہے۔

لیکن یہاں ایک دلچسپ تضاد پیدا ہوتا ہے: جب آرٹسٹ یا عام افراد کسی ٹھنڈی جگہ کی تصویر بناتے ہیں تو وہ نیلا اور سفید رنگ استعمال کرتے ہیں اور اگر کسی گرم مقام، جیسے جہنم کی تصویر ہو، تو وہ گہرے لال رنگ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس کی وجہ انسانی نفسیات اور روزمرہ مشاہدہ ہے، نہ کہ سائنس۔

مثال کے طور پر، آئس کیوب ہمیں نیلا دکھائی دیتا ہے، اس لیے ہم لاشعوری طور پر نیلے رنگ کو ٹھنڈک سے جوڑتے ہیں، حالانکہ نیلا رنگ اس پر پڑنے والی روشنی کے مخصوص حصے کے زیادہ ریفلیکٹ ہونے کی وجہ سے نظر آتا ہے۔

اسی طرح، اکثر باتھ رومز میں گرم پانی کے نل پر لال اور ٹھنڈے پر نیلا نشان لگا ہوتا ہے، جو کہ سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیلا رنگ زیادہ گرم اور لال رنگ کم گرم ہونے کی علامت ہے۔ یہی ہے رنگوں اور حرارت کے رشتے کی سائنسی کہانی — جو ہمیں کائنات کے راز بتاتی ہے، مگر ہماری روزمرہ عادتوں سے الگ چلتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wruMqm7

اتوار، 23 مارچ، 2025

ایٹم اور مالیکیول: حیرت انگیز طور پر نہایت چھوٹی مگر طاقتور دنیا

ہم سب جانتے ہیں کہ ایٹم اور مالیکیول اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انسانی آنکھ انہیں نہیں دیکھ سکتی۔ ایٹم کی موجودگی کا سائنسی ثبوت بیسویں صدی کے اوائل میں مشہور سائنسدان آئنسٹائن نے پیش کیا تھا، حالانکہ ایٹم کا تصور بہت پرانا ہے۔ یونانی زبان میں ’ایٹم‘ کا مطلب ہے ’ناقابل تقسیم‘، کیونکہ قدیم دور میں سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی بھی مادے کا سب سے چھوٹا حصہ ہے، جسے مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن سائنس نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایٹم کے اندر بھی ایک حیرت انگیز دنیا موجود ہے۔ ایٹم کچھ حد تک ہمارے نظامِ شمسی سے مشابہ ہے۔ اس کے مرکز میں ایک نیوکلئیس ہوتا ہے، جس میں پروٹان اور نیوٹران موجود ہوتے ہیں، جبکہ الیکٹران سیاروں کی طرح اس کے گرد گردش کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے ایٹم کے مزید چھوٹے اجزاء کو دریافت کیا، مگر ’ایٹم‘ کی اصطلاح کو برقرار رکھا۔

ایٹم مل کر مالیکیول بناتے ہیں۔ ایک مالیکیول ایک یا ایک سے زائد ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کا مالیکیول دو ہائیڈروجن اور ایک آکسیجن ایٹم سے مل کر بنتا ہے۔ اسی طرح کھانے کے نمک کا مالیکیول سوڈیم اور کلورین ایٹم پر مشتمل ہوتا ہے۔

اب آپ مالیکیول کی چھوٹی حجم کا اندازہ اس مثال سے لگائیں، زمین کے تین چوتھائی حصے پر پانی ہے، یعنی سمندروں میں کروڑوں گلاس پانی ہوگا۔ لیکن ایک گلاس پانی میں پانی کے مالیکیولوں کی تعداد سمندر کے تمام گلاسوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ یقین حقیقت ہے۔

ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب آپ ایک گلاس پانی پیتے ہیں تو آپ کروڑوں مالیکیول اپنے جسم میں لے جاتے ہیں، جو کچھ وقت بعد پسینے یا پیشاب کی شکل میں جسم سے خارج ہو جاتے ہیں اور دنیا کے پانی میں شامل ہو جاتے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ کے جسم سے نکلے ہوئے یہ مالیکیول وقت کے ساتھ سمندر کے ہر گلاس میں موجود ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو پانی ہم آج پی رہے ہیں، اس میں وہ مالیکیول بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو ہزاروں سال پہلے کسی بادشاہ، سائنسدان یا عام انسان نے پیے ہوں گے۔

مالیکیول کی حیرت انگیز چھوٹے حجم کا ایک اور اندازہ یہ ہے کہ آپ کے ایک سانس میں جتنے مالیکیول ہوتے ہیں، وہ دنیا بھر میں سانس لینے والوں کے مجموعی سانسوں سے بھی زیادہ ہیں۔ جب آپ سانس لیتے ہیں تو آپ کے خارج کردہ مالیکیول ہوا میں پھیل کر پوری فضا میں گھل مل جاتے ہیں۔ اس طرح ہم سب نہ صرف پانی کے مالیکیول، بلکہ سانس کے ذریعے ہوا کے مالیکیول بھی ایک دوسرے سے شیئر کر رہے ہیں۔

ایٹم اور مالیکیول کی یہ چھوٹی دنیا حیرت انگیز ہے، کیونکہ صدیوں تک انسان ان سے ناواقف تھا۔ سائنس نے خوردبین (مائیکروسکوپ) ایجاد کر کے اس چھوٹی دنیا کے دروازے کھول دیے۔ آج الیکٹران مائیکروسکوپ کی مدد سے ہم ایٹم اور مالیکیول کو دیکھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

مستقبل میں سائنسدان ایسے آلات بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، جن سے ہم ایٹموں کو پکڑ کر ان سے اپنی مرضی کے مالیکیول تیار کر سکیں گے۔ یہ نینو ٹیکنالوجی کا حیرت انگیز کمال ہوگا، جو سائنس کی دنیا میں انقلاب برپا کر دے گا۔

پانی کے ایک مالیکیول کی لمبائی صرف 2.75 اینگسٹرام ہوتی ہے۔ ایک اینگسٹرام ایک سینٹی میٹر کے دس کروڑویں حصے کے برابر ہوتا ہے۔ اگر ہم دس کروڑ پانی کے مالیکیول کو قطار میں رکھیں تو وہ صرف تین سینٹی میٹر لمبی لائن بنائیں گے۔ اسی طرح دس کروڑ ہائیڈروجن ایٹم ایک سینٹی میٹر لمبی لائن میں سما جائیں گے۔

یہ حقیقت کہ انسان اتنی چھوٹی دنیا کو سمجھنے اور دیکھنے کے قابل ہو پایا ہے، سائنس کا ایک غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ اگرچہ ایٹم اور مالیکیول ناقابلِ یقین حد تک چھوٹے ہیں، لیکن یہی ذرات کائنات کی بنیاد ہیں اور ان کی طاقت بے حد حیران کن ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9naEAoj

منگل، 18 مارچ، 2025

سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کی 9 ماہ بعد زمین پر واپسی، صحت کے نئے چیلنجز کا سامنا

امریکی خلا باز سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور 9 ماہ کے طویل خلائی مشن کے بعد زمین پر بحفاظت واپس آ گئے ہیں۔ یہ دونوں خلاباز 5 جون 2024 کو بوئنگ اسٹار لائنر کیپسول کے ذریعے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر پہنچے تھے۔ ان کا مشن دراصل 10 دن کا تھا لیکن کیپسول میں تکنیکی خرابیوں کے باعث انہیں طویل عرصہ خلا میں گزارنا پڑا۔

طویل عرصے تک مائیکرو گریوٹی میں رہنے کی وجہ سے سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو صحت کے مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ ناسا کے سابق خلا باز لیرو چیو کے مطابق، خلا میں زیادہ دیر تک رہنے کی وجہ سے خلابازوں کو ’بچوں کی طرح کے پاؤں‘ (بیبی فیٹ) کا تجربہ ہوتا ہے، جس میں پیروں کے تلووں کی موٹی جلد ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، زمین پر واپس آنے پر چکر آنا یا متلی جیسے مضر اثرات بھی عام ہیں۔

خلاباز ٹیری ورٹس کے مطابق، خلا سے واپسی پر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فلو ہو رہا ہو، اور توازن برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ مائیکرو گریوٹی میں خلاباز تیرتے رہتے ہیں، جس کی وجہ سے پیروں پر دباؤ نہیں پڑتا، اور ایڑیوں کی موٹی جلد وقت کے ساتھ نرم ہو جاتی ہے۔ زمین پر واپس آ کر، فوری طور پر کشش ثقل کا احساس ہوتا ہے، جس سے پیروں میں تکلیف اور توازن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

خلائی ایجنسیاں خلابازوں کی زمین کی کشش ثقل سے ہم آہنگی کے لیے بحالی کے خصوصی پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔ اس میں آہستہ آہستہ چلنا، پیروں کو مضبوط کرنے کی مشقیں، توازن برقرار رکھنے کی تربیت، اور مخصوص خوراک اور ادویات شامل ہیں۔ بحالی کا یہ عمل کئی ہفتوں تک جاری رہتا ہے، اور خلاباز ناسا کی میڈیکل ٹیم کی مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کے اس طویل مشن سے حاصل ہونے والے تجربات مستقبل کے طویل مدتی خلائی مشنز، جیسے مریخ پر انسانی مشن، کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان کے صحت کے مسائل اور بحالی کے عمل کا مطالعہ کرتے ہوئے، خلائی ایجنسیاں مستقبل میں خلابازوں کی صحت کی بہتری اور بحالی کے لیے مزید مؤثر حکمت عملیاں ترتیب دے سکیں گی۔

اس کامیاب واپسی کے باوجود، سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور کو مکمل بحالی کے لیے مزید طبی نگرانی اور جسمانی بحالی کے مرحلوں سے گزرنا ہوگا۔ ان کی صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کا تجزیہ مستقبل کے طویل مدتی خلائی سفر کے لیے اہم ثابت ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/RP1F2lE

اتوار، 16 مارچ، 2025

پانی کی عجیب داستان اور گلوبل وارمنگ... وصی حیدر

برف پانی پر کیوں تیرتی ہے؟ اس کا آسان سا جواب یہ ہے کہ برف پانی سے ہلکی ہے، یعنی اس کا ڈینس (کثافت) کم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کے ہر وہ چیز جو پانی سے کم ڈینس والی ہوگی، وہ پانی میں تیرے گی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لوہا اور اسٹیل کا ڈینس پانی سے بہت زیادہ ہوتا ہے، پھر بھی لوہے یا اسٹیل سے تیار پانی کا جہاز پانی میں خوب تیرتا ہے۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر مکمل شئے کی کثافت پانی سے کم ہو تو وہ پانی میں تیرنے لگے گی چاہے اس کا کچھ حصّہ اسٹیل یا کسی اور بھاری چیز سے کیوں نہ تیار ہوا ہو۔ لوہے سے بنا پانی کا جہاز پورا لوہے کا نہیں ہوتا۔ اس کے نیچے کا حصّہ ’Hull‘ خالی ہوتا ہے، جس میں صرف ہوا ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پورے جہاز کی کثافت پانی سے کم ہو جاتی ہے۔

آپ بازار سے گھر کے لیے اگر ایک تربوز لائیں تو وہ آپ کو بہت بھاری لگتا ہے۔ لیکن اگر آپ تربوز کو پانی میں ڈالیں تو وہ تیرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ پانی سے ہلکا یا کم کثافت والا ہے۔ ایک اور بھاری چیز جو سب نے دیکھی ہوگی، وہ ہے کسی پرانے درخت کا کٹا ہوا تنا (ڈنڈی)۔ وہ بھاری ہوتا ہے، لیکن اس کو بھی اگر پانی میں ڈالیں تو وہ  تیرتا نظر آتا ہے۔

ان مثالوں سے یہ ثابت ہوا کہ تیرنے کے لیے چیزوں کے وزن کا کوئی مطلب نہیں، صرف اس کی مجموعی کثافت (ڈینسٹی) پانی سے کم ہونی چاہئیے۔ ان سب مثالوں کا ذکر صرف اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ برف پانی میں کیوں تیرتی ہیں؟

زیادہ تر چیزیں جب ڈھنڈی ہوتی ہیں تو سکڑتی ہیں، یعنی ان کی کثافت بڑھتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ جب چیزیں گرم ہوتی ہیں تو ان کے مالیکیول تیزی سے وائبریٹ کرتے ہیں، اور جب وہ ٹھنڈی کی جائیں تو ان کی ’ہیٹ انرجی‘ کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان کا وائبریشن کم ہوتا جاتا ہے اور وہ سکڑتی ہیں۔ یعنی چیزیں گرم کرنے پر پھیلتی ہیں اور ٹھنڈا کرنے پر سکڑتی ہیں، کیونکہ ہیٹ انرجی کم یا زیادہ کرنے سے ان کا وائبریشن کم یا زیادہ ہو جاتا ہے۔

پانی اس معاملے میں بلکل برعکس ہے۔ پانی کا معاملہ کچھ  اس طرح ہے: عام ٹمپریچر (درجہ حرارت) پر پانی بھی جیسے جیسے ٹھنڈا ہوتا ہے، سکڑتا جاتا ہے، اور گرم کیا جائے تو پھیلتا ہے۔ اس کا سیدھا تعلق گلوبل وارمنگ کے خطرے سے ہے۔ زمین کا اوسطاً ٹمپریچر 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہے، لیکن ہماری غلطیوں کے سبب یہ بڑھ رہا ہے۔ اگر زمین کا ٹمپریچر بڑھ جائے تو سمندر کا پورا پانی بھی گرم ہو کر پھیلے گا۔ اگر زمین کی برف نہ بھی پگھلے تو اب گرم پانی کا والیوم بڑھ جائے گا اور اور لاکھوں شہر پانی میں ڈوب جائیں گے۔ اگر پانی کے گرم ہونے سے اس کے والیوم میں صرف نصف فیصد کا اضافہ ہو تو وہ کتنا ہوگا؟ ہم کو معلوم ہے کہ سمندر تقریباً تین ہزار میٹر گہرا ہے۔ اس کا نصف فیصد کا مطلب ہوا ڈیڑھ ہزار میٹر۔ یعنی سمندر میں پانی کی سطح ڈیڑھ ہزار میٹر مزید اونچی ہو جائے گی، جس سے انسانی زندگی میں بہت  بڑی تباہی مچے گی۔

پانی جیسے جیسے ٹھنڈا ہوگا، زیادہ کثیف ہوتا جائے گا۔ جب تک کہ اس کا ٹمپریچر 4 ڈگری سنٹی گریڈ ہوگا، اس ٹمپریچر پراس کی کثافت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ اگر ہم کسی تالاب کے ٹھنڈا ہونے پر غور کریں تو یہ 4 ڈگری والا سطح کا سارا پانی کیونکہ سب سے زیادہ بھاری ہے، اس لیے یہ بالکل نیچے گہرائی میں چلا جائے گا۔ اب اگر ٹھنڈک اور بڑھی تو ٹمپریچر دھیمے دھیمے زیرو ڈگری کی طرف بڑھے گا، اور سطح پر برف جمنا شروع ہوگی۔

پانی کی عجیب خصوصیت ہے کہ اب اس کی کثافت کم ہونا شروع ہوگی۔ یعنی جمی ہوئی برف پانی کے مقابلہ 10 فیصد زیادہ پھیل جاتی ہے۔ اسی وجہ سے وہ پانی میں تیرتی ہے۔ یہ ایک نہایت دلچسپ بات ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے اوپری سطح پر جمی برف جھیل کے اندر موجود پانی کے لیے ایک غلاف کا کام کرتی ہے، یعنی اس کو مزید ٹھنڈا ہونے سے بچاتی ہے۔ اس لیے باوجود اس کے کہ سطح پر برف جمی ہو، جھیل کی گہرائی کا پانی گرم رہتا ہے۔ مختصراً پانی کی یہ عجیب خاصیت ہے کہ وہ برف بن کر 10 فیصد کم کثیف ہوتا ہے۔ اس طرح سمندر کے تمام جانداروں کی زندگی کی حفاظت ہوتی ہے۔

اسی لیے جب آپ سمندری سفر میں آئس برگ دیکھیں تو آپ کو صرف اس کا 10 فیصد حصّہ دکھائی دے گا۔ باقی 90 فیصد حصّہ پانی کی سطح کے اندر ہوگا۔ اسی وجہ سے ٹائٹینک کے جہازراں یہ نہیں اندازہ کر پائے کہ اس کے سامنے جو برف ہے، اس کا پانی کے اندر ڈوبا ہوا حصّہ کتنا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ٹکراؤ نے جہاز کو تباہ کر دیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/l7MKm3g

جمعہ، 7 مارچ، 2025

ہارورڈ کے سائنسداں نے ریاضی کے فارمولہ سے اللہ کے وجود کو کیا ثابت!

اکثر لوگوں کو یہی کہتے سنا جاتا ہے کہ ریاضی اور مذہب میں کوئی کنکشن نہیں ہے۔ سائنس اور مذہب کو بھی لوگ آپس میں غیر منسلک قرار دیتے رہے ہیں۔ لیکن کیا آپ اس بات کا تصور کر سکتے ہیں کہ ایک سائنسداں نے ریاضی کے فارمولہ سے اللہ کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ یہ حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا ہے ہارورڈ کے سائنسداں ڈاکٹر وِلی سون نے۔ ڈاکٹر سون کے مطابق ریاضی کا ایک فارمولہ بتاتا ہے کہ حقیقی معنوں میں کوئی ہے جس نے اس کائنات کو انتہائی منظم طریقے سے بنایا ہے۔

ایک نیوز پورٹل پر شائع رپورٹ کے مطابق سائنسداں ڈاکٹر وِلی سون نے ٹکر کارلسن نیٹورک میں بات کی۔ اس دوران انھوں نے فائن ٹیوننگ دلیل پر بحث کی۔ یہ فائن ٹیوننگ دلیل بتاتی ہے کہ کائنات لوگوں کے لیے زندگی گزارنے کے مقصد سے انتہائی منظم انداز میں ڈیزائن کی گئی ہے، اور یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔

ڈاکٹر سون نے اپنے عمل میں ’فائن ٹیوننگ دلیل‘ کا استعمال ضرور کیا ہے، لیکن سب سے پہلے کیمبرج کے ریاضی داں پال ڈیراک کے مجوزہ فارمولہ نے اس بات پر روشنی ڈالی تھی۔ ریاضی سے خدا کے ہونے کا اشار ملتا ہے، اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ڈاکٹر سون نے 1963 کے ڈیراک کے الفاظ کو دہرایا، جہاں ڈیراک اندازہ لگاتے ہیں کہ کائنات کے سبھی اصولوں کا صحیح سے توازن صرف کسی بڑی انٹلیجنس، کسی بڑی طاقت کی کارکردگی ہو سکتی ہے۔

ڈیراک نے اللہ کے وجود سے متعلق لکھا ہے کہ ’’کوئی شاید ان چیزوں کو دیکھ کر یہ بھی کہ سکتا ہے کہ اللہ بہت بڑا ریاضی داں ہیں۔‘‘ حالانکہ جب تاریخ کی طرف دیکھتے ہیں تو کئی سائنسداں سائنس اور مذہب کو الگ الگ رکھتے ہیں اور دونوں کو جوڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ڈاکٹر سون کی دلیل ہے کہ ریاضی اور کائنات کے درمیان تال میل منصوبہ بند ڈیزائن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’اللہ نے ہمیں یہ روشنی دی ہے، تاکہ ہم اس روشنی کی پیروی کر سکیں اور اپنے لیے بہتر چیز کر سکیں۔‘‘ انھوں نے امکان ظاہر کیا کہ ہماری کائنات کو کنٹرول کرنے والے فارمولے خلق الٰہی کی انگلیوں کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/79qWHXJ

جمعرات، 6 مارچ، 2025

اسپیس ایکس کے اسٹارشپ کی آٹھویں ٹیسٹ پرواز ناکام، لانچ کے چند منٹ بعد ہوا تباہ

ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کو جمعرات کو اپنے میگا راکٹ اسٹارشپ کی آٹھویں آزمائشی پرواز کے دوران ایک اور دھچکا لگا۔ لانچ کے چند منٹ بعد ہی اسٹارشپ سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس کے نتیجے میں راکٹ آسمان میں ہی تباہ ہو گیا۔ کمپنی کے براہ راست نشریاتی فیڈ میں دکھایا گیا کہ انجن بند ہونے کے بعد اسٹارشپ قابو سے باہر ہو گیا اور پھٹ گیا۔

لانچ کے کچھ ہی دیر بعد، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں جنوبی فلوریڈا اور بہاماس کے قریب آسمان میں آگ کے شعلوں کی صورت میں ملبہ گرتے دیکھا گیا۔ تاہم، اسپیس ایکس نے اس مشن کو مکمل طور پر ناکام قرار نہیں دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دوران سپر ہیوی بوسٹر نے کامیابی سے کام کیا اور قیمتی ڈیٹا حاصل ہوا، جو مستقبل میں اس نظام کی بہتری کے لیے استعمال ہوگا۔

اسپیس ایکس نے 7 مارچ کو ٹیکساس کے بوکا چیکا میں اپنے لانچ پیڈ سے اسٹارشپ کو لانچ کیا۔ ابتدائی طور پر سب کچھ معمول کے مطابق رہا اور سپر ہیوی بوسٹر نے کامیابی سے اپنا کام انجام دیا۔ لانچ کے بعد بوسٹر نے اسٹارشپ سے خود کو الگ کر لیا اور کمپنی کے مطابق، وہ متوقع طریقے سے سمندر میں جا گرا۔ کمپنی نے اس حصے کو کامیاب قرار دیا کیونکہ یہ دوبارہ قابلِ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی کی ترقی میں ایک اہم پیش رفت تھی۔

لیکن لانچ کے چند منٹ بعد ہی اسپیس ایکس نے اسٹارشپ سے رابطہ کھو دیا، اور راکٹ زمین کے ماحول میں دوبارہ داخل ہونے سے پہلے ہی تباہ ہو گیا۔ اس کی ناکامی کا مطلب ہے کہ مشن مکمل نہ ہو سکا، تاہم، اسپیس ایکس کا کہنا ہے کہ اس آزمائشی پرواز کے دوران اہم ڈیٹا حاصل کیا گیا ہے، جو مستقبل کی پروازوں کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

یہ آزمائشی پرواز انتہائی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اسپیس ایکس اسٹارشپ کو مستقبل میں مریخ اور چاند پر مشنز کے لیے تیار کر رہا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس ناکامی کے باوجود، اسے قیمتی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو راکٹ کے ڈیزائن اور کارکردگی میں بہتری لانے میں مدد دیں گی۔

اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے بھی اس تجربے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشن ایک بڑا قدم تھا اور اس سے کمپنی کو اپنے نظام کو مزید مستحکم کرنے کا موقع ملا ہے۔ کمپنی نے مستقبل کے تجربات کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں اور آئندہ مہینوں میں اگلی آزمائشی پرواز کی توقع کی جا رہی ہے۔

اسپیس ایکس کا ہدف اسٹارشپ کو مکمل طور پر دوبارہ قابل استعمال خلائی جہاز بنانا ہے، جسے چاند، مریخ اور اس سے آگے کے خلائی مشنز میں استعمال کیا جا سکے۔ اگرچہ یہ موجودہ مشن کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس کے دوران حاصل شدہ ڈیٹا سے آئندہ کی پروازوں کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/MgHUfih

ہفتہ، 1 مارچ، 2025

How to Learn Urdu Fast: A Complete Beginner’s Guide

 



Are you looking to learn Urdu quickly and efficiently? Whether you’re learning Urdu for travel, work, or personal interest, mastering this beautiful language can open doors to a rich culture, literature, and amazing conversations. In this ultimate guide, we’ll walk you through the best strategies, resources, and tips to help you speak, read, and write Urdu fluently in no time!

Why Should You Learn Urdu?

Urdu is spoken by over 230 million people worldwide, mainly in Pakistan, India, and the Middle East. It’s a poetic and expressive language with deep cultural significance. Here are some reasons why learning Urdu is a great choice:

Global Reach: Spoken in Pakistan, India, UAE, UK, USA, and Canada.
Cultural Appreciation: Helps you enjoy Pakistani dramas, Bollywood movies, and Urdu poetry.
Business & Travel: If you’re traveling or doing business in South Asia, Urdu will be a valuable skill.
Easy for Hindi Speakers: If you know Hindi, you already understand 80% of Urdu words!


How Hard Is It to Learn Urdu?

The difficulty level of Urdu depends on your native language and previous language-learning experience.

Easy Parts:

  • Grammar & Sentence Structure: Similar to Hindi and many other languages.
  • Vocabulary: Shares words with Arabic, Persian, and Turkish.

Challenging Parts:

  • Script (Nastaliq): Urdu uses the Perso-Arabic script, which is different from Latin-based alphabets.
  • Pronunciation: Some unique sounds require practice.

💡 Good News: With the right methods, you can start speaking basic Urdu in just a few weeks!


Step-by-Step Guide to Learning Urdu

1. Start with the Urdu Alphabet & Script

The Urdu script (Nastaliq) has 39 letters and extra diacritics. Learning the script will boost your reading and writing skills.

🔹 Best Tips for Learning Urdu Script:
✔ Start with basic letters and their sounds.
✔ Use flashcards or apps like Memrise & Anki.
✔ Practice writing simple words daily.

📌 Recommended Apps: Urdu Qaida, Read & Write Urdu, Urdu Alphabet Tutor.


2. Build Your Urdu Vocabulary

Learning the most common Urdu words will help you form sentences faster.

EnglishUrdu (Romanized)Urdu (Nastaliq)
HelloSalaamسلام
Thank youShukriyaشکریہ
Where is...?Kahan hai...?کہاں ہے؟
How much?Kitna hai?کتنا ہے؟
I don't understandMujhe samajh nahi aayiمجھے سمجھ نہیں آئی

📌 Best Methods to Learn Vocabulary:
✔ Use spaced repetition apps like Anki.
✔ Listen to Urdu podcasts & YouTube lessons.
✔ Label objects around your home with Urdu words.


3. Focus on Speaking & Listening

To become fluent, you need real-world practice.

🎧 Best Ways to Improve Speaking & Listening:
✔ Watch Pakistani dramas & Bollywood movies with subtitles.
✔ Listen to Urdu music & poetry.
✔ Practice speaking with native Urdu speakers using apps like HelloTalk, Tandem, or iTalki.

💡 Pro Tip: Try the Shadowing Technique – Listen to a phrase and repeat it immediately to improve pronunciation!


4. Understand Urdu Grammar & Sentence Structure

Urdu follows a Subject-Object-Verb (SOV) order.

📝 Example Sentence:
English: "I eat an apple."
Urdu: "Main seb khata hoon." (میں سیب کھاتا ہوں)

📌 Key Urdu Grammar Points:
Gender-based verb endings:

  • I eat (Male): Main khata hoon. (میں کھاتا ہوں)
  • I eat (Female): Main khati hoon. (میں کھاتی ہوں)

Politeness & Honorifics:

  • Aap (آپ) → Polite/formal "you"
  • Tum (تم) → Casual "you"
  • Tu (تو) → Informal "you" (use with close friends only!)

📌 Recommended Grammar Books:
✔ "Teach Yourself Urdu" by David Matthews.
✔ "Complete Urdu" by Dinesh Verma.


5. Read & Write in Urdu Daily

The more you read and write in Urdu, the faster you'll learn.

📚 How to Improve Urdu Reading & Writing:
✔ Read Urdu newspapers (BBC Urdu, Dawn Urdu).
✔ Write a short diary entry in Urdu every day.
✔ Read Urdu poetry & children’s books to build confidence.


Best Resources to Learn Urdu

📱 Urdu Learning Apps:

Duolingo – Great for beginners.
Memrise – Expands Urdu vocabulary.
Tandem & HelloTalk – Connect with native speakers.
LingQ – Helps with Urdu reading.

🎙 Best Urdu Podcasts & YouTube Channels:

✔ "Urdu Pod101" – Interactive learning.
✔ "Learn Urdu with Mubeen" – Easy lessons.
✔ "Urdu Seekho" – Best for beginners.

📖 Best Urdu Books:

✔ "Complete Urdu" by David Matthews.
✔ "Urdu for Beginners" by Begum Inayat.


Common Challenges & How to Overcome Them

1. Struggling with the Script?

💡 Solution: Start with Urdu tracing sheets and practice one letter per day.

2. No One to Practice With?

💡 Solution: Join Urdu Facebook groups & WhatsApp language exchange communities.

3. Forgetting Words Too Fast?

💡 Solution: Use spaced repetition apps (Anki, Memrise) and review daily.


Final Thoughts: Start Learning Urdu Today!

Learning Urdu is a fun and rewarding journey. With the right strategies, you can become fluent in a few months.

🔥 Action Steps for Today:
✔ Learn 5 new Urdu words.
✔ Watch a Pakistani drama.
✔ Practice a short conversation with a native speaker.

📢 Do you have any Urdu learning tips? Share them in the comments!

🔗 If you found this guide helpful, share it with friends who want to learn Urdu!


اتوار، 9 فروری، 2025

لیپ سال: اضافی دن کا راز اور تاریخ...وصی حیدر

ہم میں سے بہت سے لوگ حیران ہوتے ہیں کہ ہر چوتھے سال فروری میں 29 دن کیوں ہوتے ہیں۔ اسے لیپ ڈے کے نام سے جانا جاتا ہے اور جب ہم فروری کے مہینے میں اس اضافی دن کو شامل کرتے ہیں تو اسے لیپ سال کہتے ہیں۔ اس طرح، لیپ سال میں ہمارے پاس عام 365 دنوں کے بجائے 366 دن ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور لوگوں کا کوئی خفیہ گروپ ہے جو ہر چار سال کے بعد ایک دن کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کی سائنسی اور فلکیاتی وجوہات ہیں۔

زمین کا اپنی دھری پر پورا ایک چکر گھومنے کو ہم ایک دن کہتے ہیں اور زمین کا سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے کو ہم ایک سال کہتے ہیں۔ ایک دن اور ایک سال کی وجہ ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ قدرت کا کوئی قانون نہیں ہے کہ سال پورے دنوں میں تقسیم ہی ہونا چاہیے۔ درحقیقت، ہماری زمین سورج کے گرد ایک چکر مکمل کرنے میں 365 دنوں کے علاوہ تقریباً 6 گھنٹے زیادہ لیتی ہے۔ لہذا اگر ہمارے کیلنڈر میں صرف 365 دن ہوتے تو یہ 6 گھنٹے ہر سال شامل ہونے کے بجائے ضائع ہو جاتے۔ ہر چار سال بعد یہ اضافی گھنٹے تقریباً 24 گھنٹے یعنی پورے ایک دن کے برابر ہو جاتے ہیں، اس لیے اس دن کو فروری میں شامل کر دیا جاتا ہے تاکہ سال کا حساب درست رہے۔

اگر لیپ سال نہ ہوتا تو ہر سال 6 گھنٹے کا فرق آتا اور کچھ ہی صدیوں میں کیلنڈر موسموں کے ساتھ ہم آہنگ نہ رہتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ نیا سال جون میں آتا، سردیوں کا موسم جولائی میں ہوتا اور کچھ صدیوں بعد کرسمس گرم موسم میں آجاتا۔ یہی وجہ ہے کہ لیپ سال ضروری ہے تاکہ ہمارا کیلنڈر زمین کی حرکت کے مطابق برقرار رہے۔

تقریباً دو ہزار سال قبل، رومی حکمرانوں نے محسوس کیا کہ ایک سال کے 365 دنوں میں کچھ مسئلہ ہے۔ اس دور میں وقت کی پیمائش کے لیے صرف سن ڈائل استعمال ہوتا تھا۔ جیسے ہی انہیں ہر سال اس اضافی 6 گھنٹے کا احساس ہوا، انہوں نے اپنے 365 دن کے کیلنڈر میں ترمیم کی۔ اس کوشش کے نتیجے میں جولین کیلنڈر سامنے آیا کیونکہ یہ جولیس سیزر کے زمانے میں لاگو ہوا تھا۔

رومی سینیٹ نے ایک حل تلاش کیا۔ انہوں نے ہر سال کے اضافی 6 گھنٹے تین سال تک شمار نہ کرنے اور چوتھے سال میں پورے 24 گھنٹے یعنی ایک دن کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ اضافہ فروری کے مہینے میں کیا گیا کیونکہ اس مہینے میں سب سے کم دن ہوتے تھے۔ اس طرح، نئے جولین کیلنڈر میں ہر چار سال کے بعد ایک اضافی دن کا اصول متعارف ہوا۔

یہ کیلنڈر تقریباً 1500 سال تک استعمال ہوتا رہا۔ اس دوران وقت کی پیمائش کرنے والے آلات زیادہ بہتر ہوتے گئے اور معلوم ہوا کہ زمین سورج کے گرد چکر مکمل کرنے میں 365 دنوں کے بعد اضافی 6 گھنٹوں سے بھی کچھ کم وقت لیتی ہے۔ رومیوں کے پاس اتنی باریک پیمائش کا طریقہ نہیں تھا، اس لیے انہیں اس غلطی کا اندازہ نہ ہوا۔ بعد میں پتا چلا کہ صدیوں میں ہم جولین کیلنڈر کی وجہ سے کچھ زیادہ دن شمار کر رہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ اہم سالانہ تہواروں کی تاریخ میں تبدیلی آ رہی تھی، جیسے موسم بہار کا آغاز، جسے ورنل ایکوینوکس کہا جاتا ہے۔ چند صدیوں میں یہ دن 21 مارچ سے 20، پھر 19 اور پھر 18 مارچ کی طرف کھسکنے لگا۔

1580 کے آس پاس، عیسائی سربراہ پوپ گریگوری نے محسوس کیا کہ ایسٹر کی تاریخ ہر سال بدل رہی ہے اور اس نے ماہرین فلکیات سے کہا کہ وہ اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ مختلف ماہرین فلکیات نے اس مسئلے پر تحقیق کی اور نتیجہ اخذ کیا کہ جولین کیلنڈر کی وجہ سے دس دن کا فرق آ چکا ہے۔ زمین کے سورج کے گرد چکر مکمل کرنے کے اصل وقت اور کیلنڈر کے درمیان معمولی فرق 1500 سالوں میں 10 دن کے اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔

اس خرابی کو دور کرنے کے لیے، 1582 میں گریگورین کیلنڈر متعارف کرایا گیا جس میں 4 اکتوبر کے بعد 15 اکتوبر کر دیا گیا تاکہ یہ فرق ختم ہو سکے۔ اس نئے کیلنڈر میں لیپ سال کے اصول میں معمولی تبدیلی کی گئی۔ اب بھی ہر چار سال کے بعد ایک لیپ ڈے کا اصول برقرار رکھا گیا، لیکن ہر سو سال کے بعد اس اصول میں نرمی کی گئی۔ اب وہ سال جو 100 سے تقسیم ہو سکتا ہو، لیپ سال نہیں ہوگا، جب تک کہ وہ 400 سے بھی تقسیم نہ ہو سکے۔ مثال کے طور پر، 1700، 1800، اور 1900 لیپ سال نہیں تھے، جبکہ 1600 اور 2000 لیپ سال تھے۔

یہ حیران کن کامیابی تھی کہ عیسائی ماہرین فلکیات زمین کے سورج کے گرد چکر کے وقت کا درست حساب کتاب کرنے میں کامیاب رہے، وہ بھی بغیر کسی جدید دوربین کے۔ انہوں نے پایا کہ زمین سورج کے گرد چکر تقریباً 365.2425 دن میں مکمل کرتی ہے جبکہ جولین کیلنڈر میں یہ وقت 365.25 دن فرض کیا گیا تھا۔ اس معمولی فرق کی وجہ سے جولین کیلنڈر ہر 400 سال میں تین دن کا اضافہ زیادہ کر دیتا تھا، جسے گریگورین کیلنڈر میں درست کر دیا گیا۔

اگرچہ یہ طریقہ بھی مکمل طور پر درست نہیں ہے اور ہر 3030 سال میں ایک دن کا فرق پیدا ہو سکتا ہے لیکن زمین کی گردش کی موجودہ شرح اس طویل عرصے میں بدل سکتی ہے، اس لیے فوری طور پر کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ مزید یہ کہ زمین کی اپنی دھری پر گردش کی رفتار بھی وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے، جس سے دن قدرے طویل ہوتے جا رہے ہیں۔

لیپ سال کا تصور محض ایک اضافی دن کا اضافہ نہیں بلکہ ایک سائنسی اور فلکیاتی ضرورت ہے۔ اگر ہم لیپ سال کا خیال نہ رکھیں تو چند صدیوں میں ہمارا کیلنڈر مکمل طور پر بگڑ جائے گا اور موسمی تبدیلیاں ہمارے کیلنڈر سے مطابقت نہیں رکھیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ لیپ سال کو باقاعدہ اصول کے تحت شامل کیا جاتا ہے تاکہ وقت اور موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رہے۔

آخر میں، اپنی سالگرہ کو صحیح وقت پر منانے کے لیے زمین کے سورج کے گرد پورے چکر کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہفتے کے کسی مخصوص دن کی فکر نہ کریں کیونکہ وہ آپ کی سالگرہ کا اصل دن نہیں، بلکہ ایک نظام کا نتیجہ ہے جو زمین کی حرکت کے مطابق بنایا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9m2VuP0

پیر، 3 فروری، 2025

مشکل میں اسرو کا 100واں مشن، آئیے ڈالتے ہیں اسرو کے 5 کامیاب اور 5 ناکام مشن پر ایک نظر

انڈین اسپیس ریسرچ آرگانئزیشن (اسرو) اب تک خلا میں کئی دفعہ اپنی کامیابی کا پرچم لہرا چکا ہے۔ چند روز قبل اسرو کا 100 واں راکٹ مشن بھی کامیابی کے ساتھ لانچ کیا گیا تھا، لیکن اب یہ مشن مشکل میں نظر آ رہا ہے۔ اس مشن کے تحت لانچ کیا گیا نیویگیشن سیٹلائٹ تکنیکی خرابی کا شکار ہو گیا ہے۔ اسرو نے اپنی ویب سائٹ پر اس حوالے سے کہا کہ سیٹلائٹ کو آربٹ میں رکھنے کا عمل مکمل نہیں ہو سکا کیونکہ تھرسٹر کو فائر کرنے کے لیے ضروری آکسیڈائزر کے داخلے کی اجازت دینے والے وَالو کھلے ہی نہیں۔ واضح ہو کہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے جب اسرو کے سامنے مشکل آئی ہو۔ اس سے قبل بھی ایسی مشکلات آتی رہی ہیں، وہیں کئی بڑے بڑے مشن میں کامیابی بھی ملی ہے۔

آئیے ذیل میں اسرو کے 5 کامیاب اور 5 ناکام مشن کے بارے میں جانتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ذکر کرتے ہیں اسرو کے 5 کامیاب مشن کا:

1- سال 1975 میں آریہ بھٹ سیٹلائٹ سے کی شروعات: عظیم ہندوستانی ماہر فلکیات آریہ بھٹ کے نام پر اسرو نے آریہ بھٹ نام کا پہلا سیٹلائٹ تیار کیا تھا۔ اس کی مینوفیکچرنگ سے لے کر ڈیزائننگ اور اسمبلی تک کا کام، مکمل طور پر ہندوستان میں ہی کیا گیا تھا۔ 360 کلوگرام سے زیادہ وزنی اس سیٹلائٹ کو 19 اپریل 1975 کو روس کی مدد سے وولگوگراڈ لانچ اسٹیشن سے لانچ کیا گیا تھا۔ اسے سوویت کوسموس-3ایم سے لانچ کیا گیا تھا۔ اسی سے اسرو کی کامیاب مشنوں کی راہ کھلی تھی۔

2- انڈین نیشنل سیٹلائٹ سسٹم (انسَیٹ): آج ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں سب سے بڑا گھریلو مواصلاتی سیٹلائٹ سسٹم ہے۔ اس کی شروعات 1983 میں کی گئی تھی۔ یہ ٹی وی نشریات، سماجی ایپلی کیشنز، موسم کی پیشین گوئی، آفات کے انتباہ، تلاش اور بچاؤ کی سرگرمیوں میں مدد فراہم کرتا ہے۔

3- چاند پر رکھا ہندوستان نے قدم: اسرو نے ہندوستان کو چاند پر پہنچانے کے لیے 22 اکتوبر 2008 کو چندریان-1 مشن لانچ کیا تھا۔ چندریان-1 8 نومبر 2008 کو کامیابی کے ساتھ چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔ چندریان-1 چاند کی سطح سے 100 کلومیٹر کی اونچائی پر اس کے گِرد چکر لگانے کے ساتھ ہی کیمیائی، معدنی اور تصویری ارضیاتی نقشہ سازی کی۔

4- مریخ پر پہنچا ہندوستان: ہندوستان کو اپنی پہلی ہی کوشش میں مریخ پر پہنچانے میں بھی اسرو نے کامیابی حاصل کی تھی۔ منگل آربٹ مشن (ایم او ایم) ہندوستان کا پہلا بین سیاروں کا مشن تھا۔ اس کے لیے 5 نومبر 2013 کو منگلیان کو سری ہری کوٹا سے پی ایس ایل وی-سی25 راکٹ سے لانچ کیا گیا تھا۔ اس میں کامیابی ملنے کے ساتھ ہی مریخ کے مدار میں کامیابی کے ساتھ  خلائی جہاز لانچ کرنے والا اسرو چوتھی خلائی ایجنسی بن گئی تھی۔ اس مشن کی مدت 6 ماہ ہی تھی لیکن اس کے بعد بھی سالوں تک ایم او ایم مدار میں نصب رہی اور کام کرتی رہی۔

5- چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ: 23 اگست 2023 کو اسرو نے چاند پر ایک اور تاریخ رقم کی۔ چندریان-3 کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان چاند کے جنوبی قطب پر کامیبای کے ساتھ چندریان کو اتارنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس کے علاوہ امریکہ، روس اور چین کے بعد کامیابی کے ساتھ چاند پر ’روور‘ اتارنے والا ہندوستان چوتھا ملک بن گیا۔

اسرو کے 5 ناکام مشن:

1- روہنی ٹیکنالوجی پے لوڈ: 10 اگست 1979 کو لانچ کیا گیا روہنی ٹیکنالوجی پے لوڈ حقیقت میں اسرو کے ناکام مشن کی فہرست میں شامل ہے۔ 35 کلوگرام کے اس سیٹلائٹ کو اسرو کے سائنسداں مدار میں نہیں رکھ پائے تھے۔ روہنی ٹیکنالوجی پے لوڈ لے جانے کے لیے ایس ایل وی 3 کا استعمال کیا گیا تھا اور یہ ایس ایل وی 3 کی پہلی پرواز تھی۔ اس ناکامی کے بعد سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام نے کہا تھا کہ اس نے سکھایا کہ جب بھی آپ ناکام ہوتے ہیں ذمہ داری ٹیم لیڈر لیتا ہے۔ آپ جب کامیاب ہوتے ہیں تو پوری ٹیم کو کریڈٹ دیا جاتا ہے۔

2- چندریان-2 سے رابطہ منقطع ہوا: چندریان 3 سے قبل ہندوستان نے ایک اور مشن کو انجام دیا تھا جس میں جزوی طور پر کامیابی ملی تھی۔ چندریان-1 سے رابطہ منقطع ہونے کے 10 سال بعد اسرو نے سری ہری کوٹا سے چندریان-2 لانچ کیا تھا۔ اسرو کے سائنسدانوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ چندریان-2 کے لینڈر کو جنوبی قطب پر اترنا تھا۔ 7 ستمبر 2019 کو آخری وقت میں لینڈر وکرم کا کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ حالانکہ یہ مشن مکمل طور پر ناکام نہیں تھا۔ پھر اس کے بعد ہی ہندوستان نے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے میں کامیابی حاصل کی اور ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بنا تھا۔

3- اے ایس ایل وی-ڈی1 مشن بھی فیل: اسرو کا آگمینٹیڈ سیٹلائٹ لانچ وہیکل اے ایس ایل وی-ڈی1 مشن بھی ناکام ہو گیا تھا۔ یہ مارچ 1987 کو سائنسی آلات کے ساتھ ساتھ ایس آر او اے اے-1 سیٹلائٹ لے جانے والی پہلی ڈیولپمنٹ فلائٹ تھی۔ حالانکہ اس میں کامیابی نہیں ملی تھی۔

4- پی ایس ایل وی-سی 3 کی ناکام پرواز: پی ایس ایل وی-سی 3 کی پرواز بھی ناکام رہی تھی۔ یہ 41ویں پرواز 31 اگست 2017 کی شام کو ستیش دھون خلائی مرکز سے شروع کی گئی تھی۔ حالانکہ اس مشن میں طے شدہ منصوبہ کے مطابق ہیٹ شیلڈ سیپریشن میں کامیابی نہیں مل پائی تھی۔ اسی وجہ سے یہ مشن ناکام ہو گیا تھا۔

5- جی ایس ایل وی-ایف 2 نہیں مکمل کر سکا مشن: جی ایس ایل وی-ایف2 کو بھی سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔ یہ لانچ وہیکل اپنا مشن مکمل نہیں کر سکا تھا جس کی وجہ سے انسَیٹ 4 سی مشن ناکام رہا تھا۔ اسی طرح سے جی ایس ایل وی-ڈی-3 حقیقت میں جیو سنکرونس سیٹلائٹ لانچ وہیکل کی چھٹی اور تیسری ڈیولپمنٹ فلائٹ تھی۔ اس میں جی ایس ایل وی کو 2220 کلوگرام کا ایک تجرباتی ٹیکنالوجی کمیونیکیشن سیٹلائٹ جی ایس اے ٹی-4 لانچ کرنا تھا۔ حالانکہ یہ مشن کامیاب نہیں ہوا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XQJEAPz

اتوار، 2 فروری، 2025

علاءدین کا چراغ اور ہمارا سورج

نیوٹن کی پیدائش سے کئی سو سال پہلے، گرمیوں کے ایک دن علاالدین اپنے اونٹ پر چراغ کے ساتھ عرب کے ریگستان میں گھومنے کے بعد ایک کھجور کے درخت کے سائے میں آرام کرنے لگا۔ دھوپ تیز تھی اور گرمی زیادہ، جس سے علاالدین کو لو لگ گئی اور طبیعت خراب ہو گئی۔ جب طبیعت سنبھلی تو اس نے چراغ رگڑ کر جن کو بلایا اور حکم دیا کہ سورج کے ہر ذرّے کو بکھیر دو تاکہ یہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

جن نے اسے سمجھایا کہ سورج کے بغیر زمین پر زندگی ناممکن ہو جائے گی، مگر علاالدین اپنی ضد پر قائم رہا۔ فرض کریں کہ جن کے پاس بے پناہ طاقت ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورج کو ختم کرنے کے لیے اسے کتنی توانائی درکار ہوگی؟

سورج ایک گیسوں کا گولہ ہے جس نصف قطر تقریباً سات لاکھ کلومیٹر ہے اور وزن 2 کے بعد 30 صفر کلوگرام۔ سورج زمین سے 3 لاکھ 33 ہزار گنا بھاری ہے اور پورے نظام شمسی کے وزن کا 99 فیصد ہے۔ سورج کے ہر ذرّے کو بکھیرنے کے لیے جن کو کشش ثقل کے خلاف کام کرنا ہوگا۔ سائنس دانوں کے مطابق، اس کے لیے جن کو 2 کے بعد 41 صفر جول توانائی خرچ کرنا ہوگی۔

یہ توانائی اتنی زیادہ ہے کہ اسے انسانی پیمانے پر تصور کرنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم زمین پر موجود تمام جوہری بموں کی طاقت کو اکٹھا کریں، تب بھی وہ توانائی سورج کو بکھیرنے کے لیے ناکافی ہوگی۔ یہ توانائی اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سورج کتنا مستحکم اور طاقتور ہے۔

جن نے جیسے ہی سورج کو بکھیرنے کا کام مکمل کیا، دنیا میں اندھیرا چھا گیا، ٹھنڈ بڑھ گئی اور پودے مرجھا گئے۔ سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں آٹھ منٹ لیتی ہے، لہٰذا اثرات فوراً نظر نہیں آئے۔ آٹھ منٹ کے بعد زمین پر مکمل تاریکی چھا گئی، درجہ حرارت تیزی سے نیچے گرنے لگا، سمندر جمنا شروع ہو گئے اور ہواؤں کی گردش رک گئی۔

علاالدین کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے جن کو حکم دیا کہ سورج کے ذرّات دوبارہ اکٹھے کر دے۔ جب جن نے سورج کے ذرّات کو جمع کرنا شروع کیا، تو اس نے دیکھا کہ کشش ثقل کی وجہ سے یہ ذرّات خود بخود ایک مرکز کی طرف واپس اکٹھے ہو رہے تھے۔ نیوٹن کے قوانین حرکت اور کشش ثقل کے مطابق، کسی بھی چیز پر قوت لگنے سے اس کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے۔ یہی قوت سورج کے بکھرے ہوئے ذرّات کو واپس اکٹھا کر رہی تھی۔

سائنس دانوں کے مشاہدات کے مطابق، یہی عمل ستاروں کی تشکیل کا ذریعہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سورج کے ذرّات کو اکٹھا کرنے میں کشش ثقل نے جو کام کیا، وہ توانائی کہاں گئی؟ اٹھارویں صدی کے سائنس دانوں لارڈ کیلون اور ہیلمہولٹز نے تجویز پیش کی کہ سورج کی گرمی اور روشنی، دراصل کشش ثقل کے کام کی توانائی ہے۔

یہ عمل یوں ہوتا ہے کہ بکھرے ہوئے ذرّات کشش ثقل کی وجہ سے اکٹھے ہوتے ہیں، ان کی رفتار بڑھتی ہے اور وہ گرم اور روشن ہو جاتے ہیں۔ درجہ حرارت کا تعلق ذرّات کی رفتار سے ہے۔ زیادہ درجہ حرارت کا مطلب زیادہ رفتار۔ جب ہم پانی گرم کرتے ہیں تو اصل میں اس کے مالیکیولز کی رفتار بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

سورج کے اندرونی حصے کا درجہ حرارت تقریباً 15 ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے جبکہ سطح پر یہ 5500 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ اتنی گرمی کے دو اثرات ہوتے ہیں: ایک تو یہ کہ ذرّات باہر کی طرف پھیلنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ کشش ثقل انہیں اندر کی طرف کھینچتی ہے۔ جب تک یہ قوتیں برابر رہتی ہیں، سورج مستحکم رہتا ہے۔

دوسرا اثر یہ ہے کہ سورج کی توانائی روشنی اور گرمی کی صورت میں خارج ہوتی ہے، جو زمین پر زندگی کو ممکن بناتی ہے۔ کیلون اور ہیلمہولٹز کی تجویز کے مطابق، سورج کی چمک کشش ثقل کی توانائی کا نتیجہ ہے۔ تاہم، اس نظریے کی جانچ کے لیے سائنس دانوں نے سورج سے نکلنے والی توانائی کی مقدار ناپی اور سورج کی عمر کا اندازہ لگایا۔

اس حساب سے سورج کی عمر صرف 3 کروڑ سال بنتی تھی، جبکہ زمین کی عمر تقریباً 4.54 ارب سال ہے۔ یہ تضاد ظاہر کرتا ہے کہ سورج کی توانائی کا ذریعہ صرف کشش ثقل نہیں ہے۔ بیسویں صدی میں نیوکلیئر فزکس کی ترقی نے ثابت کیا کہ سورج کی توانائی کا اصل راز نیوکلیئر فیوژن ہے۔

سورج کے مرکز میں، انتہائی درجہ حرارت اور دباؤ کے باعث ہائیڈروجن کے ایٹم آپس میں مل کر ہیلیم بناتے ہیں، جس سے بڑی مقدار میں توانائی خارج ہوتی ہے۔ یہی عمل سورج اور دیگر ستاروں کی روشنی اور گرمی کا ذریعہ ہے۔

نیوکلیئر فیوژن کے اس عمل میں توانائی کا ایک حصہ روشنی اور حرارت کی صورت میں خارج ہوتا ہے، جبکہ باقی توانائی سورج کے اندرونی دباؤ کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ سورج کی سطح سے نکلنے والی روشنی کا ہر فوٹون ایک طویل سفر طے کرتا ہے، جو لاکھوں سالوں پر محیط ہوتا ہے، تب جا کر وہ زمین تک پہنچتا ہے۔

یوں علاالدین اور اس کے جن کی کہانی ہمیں نہ صرف کشش ثقل اور توانائی کے اصول سمجھاتی ہے بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ قدرت کے نظام کو سمجھنے کے لیے سائنسی تحقیق اور تجربات کتنے ضروری ہیں۔ سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کائنات کے ہر عمل کے پیچھے ایک منطقی وجہ ہوتی ہے، جسے سمجھنے کے لیے علم اور تحقیق کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔

یہ کہانی ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ فطرت کے نظام میں توازن کی کتنی اہمیت ہے۔ ایک چھوٹا سا بگاڑ پوری زمین کو متاثر کر سکتا ہے۔ سورج نہ صرف روشنی اور گرمی کا ذریعہ ہے بلکہ زمین پر زندگی کے تسلسل کا ضامن بھی ہے۔ لہٰذا، سائنس اور فطرت کے اصولوں کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ہماری بقا کے لیے ضروری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/XiED95C

اتوار، 19 جنوری، 2025

امبر کی کہانی اور بجلی کا نام الیکٹریسٹی کیسے پڑا؟

بجلی کا زیور سے کیا تعلق ہے؟ میرے ساتھ اس سفر پر چلیں، تو آپ بہت کچھ نیا دیکھیں گے۔ دیوتا، بھیڑ، کڑکتی بجلی، وہ لڑکی جو پیڑ بن گئی، اپنی صحت کے لیے خون بہانا، بڑے ہیرے اور مقناطیسی کمپاس، یہ سب آپ کو اس سفر میں ملیں گے۔

اگر آپ امبر سے بنے زیور کو کسی اونی کپڑے یا بھیڑ کی کھال سے رگڑیں، تو آپ یہ دیکھیں گے کہ اب امبر کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہ تو بالکل جادو سا لگتا ہے۔ اسی کو اسٹیٹک الیکٹریسٹی ( کہتے ہیں۔

ڈھائی ہزار سال پہلے امبر کی اسی خصوصیت کی طرف ایک یونانی فلسفی کا دھیان گیا۔ یہ فلسفی مائلیٹس کا تھالز تھا اور اس نے امبر کو دیکھ کر کہا کہ ہر چیز میں دیوتا موجود ہیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اسے امبر کے بارے میں کیسے پتا چلا، کیونکہ اس کی لکھی ہوئی کوئی بھی کتاب نہیں بچی۔ تھالز کے بارے میں کچھ باتیں صرف ارسطو سے ہی معلوم ہوئیں لیکن خود ارسطو کی بھی بہت کم کتابیں باقی ہیں، اس لیے ہم زیادہ تر صرف قیاس آرائیاں ہی کر سکتے ہیں۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ تھالز شاید ایک ہلکا پھلکا سائنسدان تھا جو اپنے چاروں طرف کی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا۔ میں نے تو ایک کارٹون دیکھا تھا جس میں تھالز دیہاتوں میں گھوم گھوم کر امبر کو بھیڑ کے گھنے بالوں میں رگڑ رہا ہے، مگر اب ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ سائنسدان نہیں بلکہ ایک فلسفی تھا۔ تو آئیے، اس کے اعزاز میں ہم نیچے دیا ہوا تجربہ کریں۔

فرض کیجئے کہ امبر سے بنا زیور ایک جوہری بہت احتیاط سے فر میں لپیٹ کر رکھتا ہے۔ کچھ دنوں بعد اس نے زیور نکال کر دیکھا کہ وہ کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور یہی ایک یونانی کہانی بن جاتی ہے۔ امبر کہاں سے آیا؟ اس کہانی کو یونانی شاعر اوویڈ نے اپنی نظم میں کچھ اس طرح لکھا ہے:

ایک دن سورج کے بچوں میں سے فیتھیان نے اپنے باپ کا اڑن کھٹولا چوری کیا اور اسے بہت دیوانے پن سے سارے آسمان میں گھمایا۔ اسے دیکھ کر بڑے دیوتا جوپیٹر کو بہت غصہ آیا اور اس نے بادلوں کی کڑکتی بجلی سے اڑن کھٹولے پر وار کیا تو فیتھیان اڑن کھٹولے سے گر کر دریا میں ڈوب کر مر گیا۔

اس خبر پر اس کی سبھی بہنوں نے دریا کے کنارے کھڑے ہو کر بلند آواز میں رونا شروع کر دیا۔ اس شور و غل سے سارے دیوتا بہت پریشان ہوئے اور انہوں نے ان بہنوں کو پیڑ اور ان کے آنسوؤں کو امبر میں بدل دیا۔ یہ کہانی فیتھیان اور اس کی بہنوں کے لیے اچھی نہیں تھی لیکن جوہری دوکاندار کے لیے بہت فائدے مند ثابت ہوئی کیونکہ یہ مشہور ہوا کہ امبر میں دیوتاؤں کا حصہ شامل ہے، اس لیے امبر کے زیور بہت مہنگے ہو گئے اور دوکاندار کو خوب منافع ہوا۔

امبر کی اس کہانی کے بعد الیکٹریسٹی کی سمجھ کے بارے میں اگلے 2500 سال تک کچھ خاص نہیں ہوا۔ وقت کا پہیہ رفتہ رفتہ آگے بڑھتا رہا اور اب ہماری کہانی کا اگلا اہم موڑ سن 1600 کے انگلستان میں ملکہ الزبتھ کے زمانہ میں ایک عجیب و غریب شخصیت والے ڈاکٹر ولیم گلبرٹ تک پہنچا۔

گلبرٹ نے مقناطیس کی خصوصیات پر ایک کتاب لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔ گلبرٹ کی شہرت اور کامیابی بھی بہت عجیب ہے کیونکہ نہ وہ کچھ خاص خوش شکل تھا اور نہ ہی خوشگوار خصلت کا مالک تھا۔ مثال کے طور پر اس نے اپنے زمانے کے ہر مشہور شخص کا ذکر بہت برے الفاظ میں کیا اور وہ اپنے علاوہ سب کو بالکل جاہل سمجھتا تھا۔ اس کی شہرت شروع میں ایک کامیاب ڈاکٹر کے طور پر ہوئی، لیکن وہ بھی عجیب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں زیادہ تر علاج دو طرح سے کیا جاتا تھا، پہلا طریقہ بیمار کا تھوڑا خون بہا کر اور دوسرا اس کو تھوڑی مقدار میں زہر پلا کر۔ لگتا ہے کہ گلبرٹ ان دونوں کاموں میں ماہر ہوگا، جبھی وہ اتنا مقبول ہوا کہ اسے ملکہ الزبیتھ کا خاص ڈاکٹر مقرر کیا گیا۔ لیکن الزبیتھ اتنی سمجھدار تھیں کہ انہوں نے اس طرح کے کسی ڈاکٹر کو کبھی ہاتھ نہیں لگانے دیا۔

یورپ میں اس زمانے کو رینیسانس کہتے ہیں، یہ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ’دوبارہ جنم لینا‘ ہے۔ وہ زمانہ تھا جب یورپ میں آرٹ، سائنس اور کلچر میں ایک نئی تازگی آئی اور پرانے عقیدوں اور پابندیوں کو کھلے عام بدلنے کی خواہش کا خیرمقدم کیا گیا۔گلبرٹ کو مقناطیس کی خصوصیات سمجھنے کا بہت شوق تھا اور وہ اس کے مختلف تجربات کرتا رہتا تھا۔

مقناطیسی کا سب سے پرانا ذکر چوتھی صدی قبل مسیح کے چین کے گویگوزی کا ہے۔ میگنٹ (مقناطیس) لفظ کا یونانی زبان سے تعلق ہے۔ یہ بھی ایک کہانی ہے کہ یونان میں ایک مگنیس نامی چرواہے نے یہ دیکھا کہ ان کے ڈنڈے کا لوہا اور جوتے کی کیلیں ایک پتھر سے چپک گئی تھیں۔ قدرتی طور پر پائے جانے والے اس پتھر کو مقناطیسی پتھر یا لوڈسٹون کا نام دیا گیا۔ مصر میں مقناطیس کا استعمال کر کے مندروں میں پوجا کی چیزوں کو ہوا میں لٹکا کر کرشمہ دکھایا جاتا تھا۔ چین میں ایک بادشاہ نے اپنے محل کی حفاظت کے لیے اس کے دروازوں کو مقناطیس سے بنوایا تاکہ اس سے کوئی ہتھیار لے کر اندر نہ آ سکے۔

ہمیں اب تحقیق سے معلوم ہے کہ ہر چیز تھوڑی بہت مقناطیسی ہوتی ہے کیونکہ سب چیزیں ایٹم سے بنی ہیں اور اس خصوصیت کا بجلی سے گہرا تعلق ہے۔ ہر ایٹم میں الیکٹران نیوکلیس کے چاروں طرف چکر لگاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک بجلی بہتی ہے اور اس سے ایٹم ایک چھوٹا مقناطیس بن جاتا ہے۔ اگر ایٹم کے زیادہ تر الیکٹران ایک ہی سمت میں چکر لگائیں تو وہ ایٹم ایک طاقتور مقناطیس بن جاتا ہے۔ اب اگر اس چیز کے زیادہ تر ایٹم کے مقناطیس ایک ہی سمت ہوں تو وہ چیز ایک طاقتور مقناطیس بن جاتی ہے۔ مقناطیس کی تفصیلی کہانی کا کہیں اور ذکر ہوگا، ہم فی الحال گلبرٹ کی کہانی کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔

گلبرٹ نے دیکھا کہ اگر ایک چھوٹا مقناطیس کسی نوکیلی چیز پر ایسا رکھا جائے کہ وہ آسانی سے گھوم سکے تو وہ ہمیشہ زمین کے شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مقناطیس کی یہ خصوصیت پرانے زمانے میں بھی لوگوں کو معلوم تھی لیکن شاید گلبرٹ وہ پہلا شخص تھا جس نے یہ لکھا کہ چھوٹا مقناطیس اس لیے شمال کی طرف رہتا ہے کیونکہ ہماری زمین خود ایک بڑا مقناطیس ہے۔

اپنی ڈاکٹری کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ اٹھارہ سال مقناطیس کے ساتھ کھیلتے ہوئے، گلبرٹ نے امبر کو رگڑنے کے بعد کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں کو کھینچنے پر بھی غور کیا۔ اس نے یہ سوچا کہ امبر بھی مقناطیس کی طرح ہو جاتا ہے۔ باریکی سے تجربہ کرنے پر اس نے پایا کہ حالانکہ امبر کی ’اسٹیک الیکٹریسٹی‘ مقناطیس کی طرح چھوٹی چیزوں کو کھینچتی ہے لیکن وہ کئی معنوں میں الگ ہے۔ پہلی تو یہ کہ مقناطیس مستقل ہوتا ہے، جبکہ امبر کو رگڑنا پڑتا ہے۔ دوسرا فرق یہ کہ مقناطیس ہر موسم میں کام کرتا ہے، جب کہ امبر صرف سوکھے دنوں میں اور اگر ہوا میں نمی ہو یا پانی ہو تو امبر بالکل کام نہیں کرتا۔ تیسرا اور بہت اہم فرق یہ کہ مقناطیس صرف کچھ خاص چیزوں کو کھینچتا ہے، جبکہ رگڑا ہوا امبر تقریباً ہر چیز کو کھینچتا ہے۔

ان دریافتوں کے بعد، اس نے مختلف چیزوں پر رگڑ کر تجربات کیے اور یہ دیکھا کہ صرف امبر ہی نہیں، بلکہ بہت سی چیزیں رگڑنے کے بعد امبر کی طرح کاغذ کے چھوٹے ٹکڑوں اور فر کو کھینچتی ہیں۔ چونکہ یہ خصوصیت سب سے پہلے امبر میں دریافت ہوئی تھی، اس لیے گلبرٹ نے اسے امبر کے یونانی نام ’الیکٹران‘ اور لاطینی میں ’الیکٹریئس فورس‘ کا نام دیا، جو پھر انگریزی میں ’الیکٹرک فورس‘ بن گیا۔ اس طرح ’الیکٹریسٹی‘ کو اس کا نام ملا۔

باوجود بہت دھیان سے تجربات کرنے کے گلبرٹ سے ایک بڑی غلطی ہوئی۔ اسے یہ اچھی طرح معلوم تھا کہ مقناطیس اپنی طرف کھینچتا (attract) اور دور بھی بھگاتا (repel) ہے۔ مخالف پولز ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں اور ایک جیسے پولز کے بیچ ریپلشن ہوتا ہے لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ الیکٹریکس بھی ایسی ہو سکتی ہے جو ریپل کرے۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ الیکٹریکس میں صرف کشش ہوتی ہے۔ اس بات کا علم ہونے میں 70 سال اور لگے لیکن وہ کہانی پھر کبھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/LDsCotB