جمعہ، 30 مئی، 2025

کیا لیتھئم اگلے دور کا تیل بننے والا ہے؟

21ویں صدی میں توانائی کے متبادل ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس تبدیلی نے دنیا بھر میں بعض قدرتی وسائل کی اہمیت کو نئی جہت دی ہے اور ان میں سرِفہرست عنصر لیتھئم (Lithium) ہے۔ لیتھئم کو عموماً ’سفید سونا‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر بیٹریوں، میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مضمون لیتھئم کی سائنسی، تجارتی اور جغرافیائی اہمیت کو واضح کرے گا اور اس بات کا جائزہ لے گا کہ مستقبل میں کن ممالک کو اس قیمتی عنصر کی بدولت فائدہ ہونے والا ہے۔ مستقبل میں بجلی کی کاروں اور کمپیوٹر کی بیٹریوں کا اہم کردار ہے اور آنے والے دور میں ان کا کردار انہیں کے ارد گرد رہنا والا ہے۔ 

لیتھئم ایک نرم، ہلکی اور چاندی نما دھات ہے جو کیمیاوی عناصر میں سب سے ہلکی دھات مانی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر سالٹ فلیٹس، زیر زمین آبی ذخائر، اور سخت چٹانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لیتھئم کا بنیادی استعمال لیتھئم آئن بیٹریوں میں ہوتا ہے، جو آج کل تقریباً ہر اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، اور خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) میں استعمال ہوتی ہیں۔

دنیا بھر میں توانائی کی ضروریات بدل رہی ہیں۔ روایتی ایندھن (تیل، کوئلہ، گیس) کے ماحولیاتی اثرات کے پیشِ نظر حکومتیں اور کمپنیاں متبادل توانائی کی طرف رخ کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے مرکز میں لیتھئم ہے، جو بیٹری سے چلنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق، 2040 تک لیتھئم کی مانگ میں تقریباً 40 گنا اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظاموں میں استعمال کے لیے۔ یہ رجحان اس دھات کو تیل جیسا اسٹریٹجک اثاثہ بنا رہا ہے۔

دنیا میں لیتھئم کے ذخائر چند مخصوص خطوں میں مرتکز ہیں۔ چلی دنیا کے سب سے بڑے لیتھئم ذخائر کا حامل ملک ہے، خاص طور پر "لیتھئم ٹرائی اینگل" کا حصہ ہونے کی وجہ سے۔ یہ مثلث چلی، ارجنٹینا اور بولیویا پر مشتمل ہے، جو دنیا کے 60 فیصد سے زائد لیتھئم کے ذخائر رکھتا ہے۔آسٹریلیا دنیا میں سب سے زیادہ لیتھئم پیدا کرنے والا ملک ہے، خاص طور پر سخت چٹانی ذخائر سے۔ اس کی سپلائی چین نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ اور مستحکم ہے۔چین نہ صرف لیتھئم کا ایک بڑا پروڈیوسر ہے بلکہ لیتھئم بیٹریوں کی تیاری اور ریفائننگ میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ چینی کمپنیاں عالمی مارکیٹ پر حاوی ہیں اور وہ دیگر ممالک میں بھی ذخائر خرید رہی ہیں۔

اگر یہ ممالک اپنی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کریں تو یہ دنیا کے لیتھئم مرکز بن سکتے ہیں۔ ان کی جغرافیائی برتری، ماحولیاتی سازگار حالات اور وسیع ذخائر انہیں اس دوڑ میں سب سے آگے رکھ سکتے ہیں۔

چین نے پہلے ہی عالمی سطح پر لیتھئم بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں میں برتری حاصل کر لی ہے۔ اس نے افریقہ اور جنوبی امریکہ میں کئی کانیں خرید کر اپنی سپلائی چین کو مضبوط کر لیا ہے۔ اگرچہ چین کے ذخائر محدود ہیں، لیکن اس کی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیت اسے آگے رکھتی ہے۔

آسٹریلیا کا مستحکم سیاسی نظام، جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی، اور چین و امریکہ کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اسے ایک اسٹریٹجک سپلائر بناتے ہیں۔ آسٹریلیا کی پوزیشن اسے دنیا کے دیگر بڑے صارفین کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بناتی ہے۔افریقہ میں بھی لیتھئم کے ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، اور اگر ان ممالک میں استحکام آئے تو یہ دنیا کی سپلائی میں بڑا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

بہت سے علاقوں میں مقامی آبادی کو حقوق یا فوائد نہیں دیے جاتے، جس سے سماجی تنازعات جنم لیتے ہیں۔اگرچہ بہت سے ممالک کے پاس خام لیتھئم ہے، لیکن زیادہ تر ویلیو ایڈیشن (جیسے بیٹری بنانا) ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی صنعتی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔

لیتھئم کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے دنیا کی جغرافیائی سیاست اور معیشت کو نئی جہت دے دی ہے۔ توانائی کے مستقبل کی دوڑ میں لیتھئم وہ ایندھن ہے جو دنیا کو روایتی ذرائع سے متبادل ذرائع کی طرف لے جا رہا ہے۔ اس دوڑ میں چلی، چین، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک پہلے ہی اہم مقام حاصل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر ترقی پذیر ممالک جیسے بولیویا، ارجنٹینا اور افریقی ریاستیں بھی ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں۔

اگر ان ممالک نے دانشمندانہ پالیسی اپنائیں، ماحول دوست طریقے اختیار کریں، اور مقامی کمیونٹیز کو شامل کریں تو وہ نہ صرف عالمی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ اپنی معیشتوں کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیتھئم صرف ایک دھات نہیں، بلکہ یہ دنیا کی توانائی، معیشت اور سیاست کا مستقبل متعین کر رہا ہے یعنی لیتھئم مستقبل کا تیل بننے والا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ir2G4Wb

اتوار، 25 مئی، 2025

سائبر کرائم: عالمی نیٹ ورک کا خاتمہ

ایک وسیع بین الاقوامی کارروائی کے دوران امریکی اور یورپی حکام نے ایک روسی کی قیادت میں چلنے والے سائبر کرائم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے، جو دنیا بھر میں لاکھوں کمپیوٹروں کو متاثر کرنے اور کروڑوں ڈالرز کے نقصانات کا سبب بنا۔ اس آپریشن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی، فرانس، ڈنمارک، اور نیدرلینڈز کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے حصہ لیا اور دنیا کے کچھ خطرناک ترین میلویئر نیٹ ورکس جیسے قک بوٹ (Qakbot)، ڈانا بوٹ (Danabot)، ٹرک بوٹ (Trickbot) اور کونٹی (Conti)کو نشانہ بنایا۔

ذرائع ابلاغ میں شائع رپوٹوں کے مطابق، اس نیٹ ورک کی قیادت رستم رفیلووچ گالیاموف کر رہا تھا، جو ماسکو میں مقیم ایک 48 سالہ روسی شہری ہے۔ 22 مئی کو امریکی عدالت نے اس کے خلاف فردِ جرم عائد کیا۔ گالیاموف پر الزام ہے کہ اس نے قک بوٹ نامی ایک خطرناک میلویئر تیار کیا، جو دنیا بھر میں رینسم ویئر حملوں کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ گالیاموف نے دوسرے ہیکرز کے ذریعے کیے گئے حملوں سے بھاری رقوم بطور حصہ وصول کیں، جن میں صرف ایک واردات میں تین لاکھ ڈالر سے زائد کرپٹو کرنسی شامل ہے، جو ایک امریکی موسیقی کمپنی سے وصولی گئی۔

یہ سائبر نیٹ ورک روس اور دبئی جیسے مقامات سے چل رہا تھا، اور اس نے مختلف شعبہ جات کو نشانہ بنایا، جیسے کہ لاس اینجلس کا ایک ڈینٹل کلینک اور ٹینیسی کی ایک میوزک کمپنی۔ قک بوٹ میلویئر نے تین لاکھ سے زائد کمپیوٹرز کو متاثر کیا اور اس کے ذریعے اسپتالوں، سرکاری اداروں اور کاروباروں پر حملے کیے گئے۔ علاوہ ازیں کچھ میلویئرز کی اقسام کو خاص طور پر جاسوسی کے لیے تیار کیا گیا تھا، جنہوں نے فوجی، سفارتی، اور حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق، ان حملوں سے چوری ہونے والا ڈیٹا روسی سرورز پر محفوظ کیا گیا۔

آپریشن "اینڈ گیم" کا آغاز

جرمنی کی وفاقی تفتیشی ایجنسی، بنڈس کریمینال امٹ (بی کے اے) نے 2022 میں "آپریشن اینڈ گیم" شروع کیا۔ اس میں 37 مشتبہ افراد کی نشاندہی کی گئی جن میں سے20 کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے۔ زیادہ تر مشتبہ افراد کا تعلق روس سے ہے۔ ایجنسی نے قک بوٹ اور ٹرک بوٹ جیسے نیٹ ورکس سے منسلک 18 افراد کی تلاش کے لیے عوام سے مدد کی اپیل بھی کی۔مطلوب افراد میں ویٹالی نیکولایووچ کووالیو بھی شامل ہے، جسے دنیا کے سب سے پیشہ ور اور منظم رینسم ویئر گروپـکونٹی کا سرغنہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا بھر کی سینکڑوں کمپنیوں کو نشانہ بنایا اور ایک ارب یورو مالیت کا کرپٹو والٹ بنایا۔ کووالیو کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ٹرک بوٹ، کونٹی، اور 2022 میں قائم ہونے والے نئے گروپس ـ رایل اور بلیک سوٹ سے منسلک رہا ہے۔

سال2023 میں قک بوٹ کا نیٹ ورک ختم کیے جانے کے باوجود، گالیاموف نے نئے طریقے تلاش کر کے سائبر حملے جاری رکھے۔ استغاثہ کے مطابق، اس نے کمپنیوں کے ای میل ان باکسز میں "اسپام بامبنگ" کے ذریعے نیوز لیٹرز بھیج کر خود کو آئی ٹی سپورٹ ظاہر کیا اور سسٹمز تک رسائی حاصل کی۔گالیاموف کا اہم کلائنٹ کونٹی رینسم ویئر گروہ بھی تھا، جس نے 2021 کے صرف چار ماہ ڈھائی کروڑ ڈالر سے زائد کمائے۔ اس دوران قک بوٹ کے ذریعے وسکونسن کی ایک کمپنی اور نیبراسکا کی ایک ٹیک فرم پر بھی حملے کیے گئے۔ لیکن 2022 کے اوائل میں، روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ایک یوکرینی ہیکر نے کونٹی کا ڈیٹا لیک کر کے گروپ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد کونٹی کا نیٹ ورک بکھر گیا، لیکن گالیاموف نے نئے کلائنٹس کے ساتھ کام جاری رکھا۔

امریکی محکمہ انصاف کی کارروائیاں

امریکی محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ روسی سرزمین پر موجود سائبر مجرموں کو بے نقاب کرنا ان کی ترجیح ہے، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جب روسی حکومت انہیں اس وقت تک تحفظ دیتی ہے جب تک وہ مقامی اداروں کو نشانہ نہ بنائیں۔ اگرچہ امریکہ اور روس کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے، لیکن امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی شناخت اور ان کے اثاثوں کی ضبطگی بھی ایک اہم قدم ہے۔ سال 2023 میں امریکی محکمہ خارجہ نے قک بوٹ کے پیچھے موجود افراد کی معلومات دینے والوں کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا انعام بھی مقرر کیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ گالیاموف کی گرفتاری اسی انعام کے نتیجے میں ہوئی یا نہیں۔

سائبر کرائم کے خلاف عالمی انتباہ

جرمنی کی وفاقی تفتیشی ایجنسی (بی کے اے)کے صدر ہولگر مینچ کے مطابق، "ہم نے 'آپریشن اینڈ گیم 2.0' کے ذریعے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہماری حکمتِ عملی مؤثر ہے — چاہے وہ گم نام ڈارک نیٹ میں ہی کیوں نہ ہو۔" اگرچہ گالیاموف، کووالیو، اور دیگر کی حوالگی ممکن نظر نہیں آتی، لیکن ان کے چہروں کو بے نقاب کرنے، ان کے اثاثے منجمد کرنے، اور ان کے نیٹ ورکس کو تباہ کرنے سے ان کے جرائم پر ضرب ضرور لگے گی۔یہ مشترکہ بین الاقوامی اقدام سائبر کرائم کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے: سرحدیں اب مجرموں کے لیے رکاوٹ نہیں، اور عالمی تعاون سے ان کے منظم نیٹ ورکس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bP1gIWn

بدھ، 21 مئی، 2025

گوگل کا اے آئی انقلاب: بیِم اور اے آئی موڈ نے بدل دیا انٹرنیٹ کا چہرہ

گوگل نے اپنی سالانہ ڈویلپرز کانفرنس گوگل آئی/او 2025 کے دوران دو اہم اور انقلابی فیچرز متعارف کروائے ہیں، ایک طرف سرچ انجن کے لیے نیا ’اے آئی موڈ‘، تو دوسری جانب ویڈیو کالنگ کے لیے 3ڈی تجربے والا بیم۔ ان دونوں اقدامات کا مقصد صارفین کے ڈیجیٹل تعامل کو مزید فطری اور مؤثر بنانا ہے۔

گوگل نے امریکہ میں ’اے آئی موڈ‘ نامی نئی فیچر متعارف کرائی ہے، جو سرچ انجن کے استعمال کو کسی ماہر سے گفتگو کے تجربے میں بدل دیتی ہے۔ اس موڈ کے تحت صارفین پیچیدہ سوالات کر سکتے ہیں اور گوگل کا نیا ماڈل 'جیمینی 2.5' ان کا تفصیلی اور مربوط جواب دیتا ہے۔

گوگل کا کہنا ہے کہ اب تقریباً ڈیڑھ ارب صارفین ’اے آئی اوورویوز‘ کا استعمال کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرچ انجن کا روایتی ویب لنک ماڈل پیچھے ہوتا جا رہا ہے۔

گوگل کا دعویٰ ہے کہ اے آئی اوورویوز سے صارفین کو زیادہ پیچیدہ اور مفصل معلومات آسانی سے مل رہی ہیں، تاہم کچھ تجزیاتی اداروں جیسے ‘برائٹ ایج’ کا ماننا ہے کہ اس کا ویب ٹریفک پر منفی اثر بھی پڑا ہے۔

بیِم: ویڈیو کالنگ میں نیا انقلاب

گوگل نے اپنے پرانے پروجیکٹ ’اسٹار لائن‘ کو نئے نام ’بیِم‘ کے تحت دوبارہ پیش کیا ہے۔ یہ نیا پلیٹ فارم ویڈیو کالنگ کو 2ڈی سے 3ڈی میں بدل کر حقیقت سے قریب تر بناتا ہے۔

بیم کا مقصد زیادہ قدرتی، آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات چیت جیسے تجربے کو ممکن بنانا ہے، جو خاص طور پر کاروباری اور ادارہ جاتی صارفین کے لیے مفید ہوگا۔ اس میں گوگل کی کلاؤڈ اور اے آئی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے استعمال کیا گیا ہے۔

پہلی بار 2021 میں پیش کیے گئے پروجیکٹ اسٹار لائن کا مقصد یہی تھا کہ کال کے دوران سامنے والا شخص حقیقی قد و قامت اور حرکات کے ساتھ نظر آئے۔ تاہم، یہ ٹیکنالوجی عام صارفین تک مکمل طور پر نہیں پہنچ سکی۔ اب گوگل نے اسے بیم کے تحت بہتر کر کے پھر سے لانچ کیا ہے۔

مستقبل کی جھلک

گوگل جلد ہی ایسے فیچرز کا تجربہ بھی شروع کرے گا جن کے ذریعے صارفین لائیو ویڈیو کے ذریعے سرچ کر سکیں گے، یا خودکار طریقے سے کنسرٹ جیسے ایونٹس کے ٹکٹ خرید سکیں گے۔

گوگل کے سی ای او، سندر پچائی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، "ہم ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں دہائیوں کی محنت اب دنیا بھر کے لوگوں کے لیے حقیقی تجربات میں تبدیل ہو رہی ہے۔"



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hAYdKrm

جمعرات، 15 مئی، 2025

رازداری کا مقدمہ: ’سیری‘ سے متعلق کیس میں ایپل سمجھوتے پر آمادہ، صارفین کو ملے گا 8500 روپے تک معاوضہ

’ایپل‘(Apple) کو اپنی وائس اسسٹنٹ سروس ’سیری‘(Siri) کو لے کر امریکہ میں درج ایک مقدمے میں سمجھوتہ کرنا پڑا ہے۔ کمپنی پر الزام تھا کہ ’سیری‘ بغیر اجازت کے یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کرتی تھی۔ اس معاملے میں ’ایپل‘ اب قریب 790 کروڑ کا سیٹلمنٹ کرنے کو راضی ہو گیا ہے۔ اہل یوزرس کو 8500 روپے تک کا معاوضہ مل سکتا ہے۔

یہ مقدمہ 2019 میں درج کیا گیا تھا۔ الزام تھا کہ ’سیری‘ کئی بار بغیر کمانڈ کے خود بہ خود فعال ہو جاتی تھی اور یوزرس کی نجی بات چیت ریکارڈ کر لیتی تھی۔ ان میں کچھ ریکارڈنگس میں صحت سے جڑی جانکاری اور نجی بات چیت بھی شامل تھی، جنہیں مبینہ طور پر باہری کانٹریکٹرس کو بھیجا گیا تھا۔

حالانکہ ’ایپل‘ نے ان الزامات سے انکار کیا ہے، لیکن بغیر مقدمہ لڑے سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ’سیری‘ ہمیشہ سے یوزرس کی رازداری کا دھیان رکھتی ہے اور اس نے کبھی بھی ریکارڈنگس کو فروخت کرنے یا مارکیٹنگ کے لیے استعمال نہیں کیا۔

 جس نے بھی 17 ستمبر 2014 سے 31 دسمبر 2024 کے درمیان ’ایپل‘ ڈیوائس پر ’سیری‘ کا استعمال کیا ہے، جس کے ساتھ نہ چاہتے ہوئے ’سیری‘ ایکٹیویشن اور نجی بات چیت ریکارڈ ہونے کا واقعہ ہوا ہو، وہ معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتا ہے۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ 100 ڈالر (تقریباً 8500 روپے) فی یوزرس ادائیگی ہوگی جبکہ ہر اہل ڈیوائس پر 20 ڈالر تک ملیں گے۔ یوزرس زیادہ سے زیادہ 5 ڈیوائسز کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس iPhone, iPad, MacBook, Apple Watch, HomePod, iPod “Touch اور Apple TV ہے تو معاوضہ کے لیے دعویٰ کر سکتے ہیں۔

معاوضہ کے لیے https://ift.tt/3swNUcv سیٹلمنٹ پورٹل پر جانا ہوگا اور ضروری جانکاری دینی ہوگی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hrTdw2A

اتوار، 11 مئی، 2025

پیشاب اور گندے پانی سے سبز ہائیڈروجن! آسٹریلوی محققین کا سستا اور ماحول دوست نظام

آسٹریلیا کے محققین نے پیشاب اور گندے پانی سے سستی اور ماحول دوست سبز ہائیڈروجن پیدا کرنے کے لیے ایک نیا نظام تیار کیا ہے۔ ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایک جدید نِکل فیرروسیانائیڈ کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو یوریا سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر اور توانائی کی بچت کے ساتھ ممکن بناتا ہے۔

روایتی طریقوں سے ہائیڈروجن کی پیداوار، جیسے پانی کی الیکٹرولائسز، مہنگی اور توانائی سے بھرپور ہوتی ہے۔ تاہم، یوریا (جو پیشاب میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے) کا استعمال اس عمل کو زیادہ سستا اور پائیدار بناتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یوریا کے استعمال سے ہائیڈروجن کی پیداوار کے لیے درکار توانائی میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آتی ہے، اور اس سے پیدا ہونے والی ہائیڈروجن کی لاگت بھی کم ہوتی ہے۔

ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے محققین نے نِکل فیرروسیانائیڈ پر مبنی ایک نیا کیٹالسٹ تیار کیا ہے جو یوریا سے ہائیڈروجن پیدا کرنے کے عمل کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ یہ کیٹالسٹ نہ صرف توانائی کی بچت کرتا ہے بلکہ گندے پانی میں موجود یوریا کی مقدار کو بھی کم کرتا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آتی ہے۔

یہ ٹیکنالوجی نہ صرف ہائیڈروجن کی پیداوار کو سستا اور پائیدار بناتی ہے بلکہ گندے پانی کے مؤثر استعمال سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لاتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ نظام موجودہ فضلہ کو قیمتی توانائی کے وسائل میں تبدیل کرتا ہے، جو کہ ایک سرکلر اکانومی کی جانب اہم قدم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ga5vO2k

الیکٹرومیگنیٹک ویوز: نوعیت، خصوصیات اور فرق

الیکٹرومیگنیٹک ویو کی بات میں اپنے بچپن کی ایک کہانی سے شروع کرتا ہوں۔ جب میں چار پانچ سال کا تھا اور ہر طرح کی چیز کھانا شروع کی تو ہر چیز مختلف نظر آئی۔ مثلاً میں اس کا ذکر کروں کہ ایک سبزی ’آلو‘ دسیوں طریقوں سے کھایا جاتا ہے، جیسے آلو کا پراٹھا، آلو کی ترکاری، آلو کا بھرتا، گوشت کے ساتھ آلو، چپس، فرنچ فرائز وغیرہ وغیرہ۔ چند ہی سالوں بعد یہ سمجھ میں آیا کہ یہ سب مختلف چیزیں اپنے طریقوں میں الگ ہو سکتی ہیں، مگر سب کی اصل چیز ایک ہی ہے، یعنی آلو۔

بالکل اسی طرح آپ نے جو فرق سنے ہیں، جیسے ریڈیو ویوز، مائیکرو ویوز، انفرا ریڈ، لائٹ ویوز، الٹرا وائلٹ، ایکس ریز اور گاما ریز، یہ سب بھی دراصل ایک ہی طرح کی ویو ہیں اور سب ایک ہی رفتار سے خلا میں سفر کرتی ہیں۔ ان سب کو الیکٹرومیگنیٹک ویو کہا جاتا ہے اور یہ کسی بھی ویو کی طرح توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی ہیں۔ ان سب میں ہمارا سب سے پسندیدہ حصہ سفید روشنی کا وہ حصہ ہے جس کی مدد سے ہم چیزوں کو دیکھ پاتے ہیں اور یہ روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے: وائلٹ، انڈیگو، بلو، گرین، یلو، اورنج اور ریڈ۔ ان تمام ویوز کا مختلف نام دینے کا مقصد یہ ہے کہ ان میں کچھ نہ کچھ فرق ہے۔

اس فرق کو سمجھنے کے لیے ہمیں ویو کی خصوصیات کو جاننا ضروری ہے۔ ویو کی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے آپ سمندر کے کنارے یا کسی بڑی جھیل میں لہروں کو دیکھیں۔ آپ نے بچپن میں جھیل کے کنارے سے دور پتھر پھینک کر پانی میں لہروں کو حرکت کرتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ جب پتھر پانی میں گرتا ہے، تو پانی کی سطح ہلتی ہے اور اس سے لہریں پھیلتی ہیں جو جھیل کے کنارے تک پہنچتی ہیں۔ اگر ہم بار بار پتھر ایک ہی جگہ پھینکیں تو لہریں مسلسل اسی جگہ سے پھیلتی رہیں گی۔

اگر آپ غور سے پانی کی لہروں کو دیکھیں تو ویو آتے وقت پانی اوپر نیچے ہلتا رہتا ہے، مگر ویو آگے بڑھتی جاتی ہے۔ اس طرح کی ویو کو ’ٹرانسورس ویو‘ کہتے ہیں۔ ویو کے اوپر والے حصے کو ’کریسٹ‘ اور نیچے والے حصے کو ’ٹرف‘ کہتے ہیں۔ پورے ایک کریسٹ اور ٹرف کی دوری کو ویو لینتھ کہتے ہیں۔ اگر آپ جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر آتی ہوئی لہروں کو گنیں، تو جتنی لہریں ایک سیکنڈ میں آتی ہیں، اسے ویو کی فریکوئنسی کہتے ہیں۔ فریکوئنسی اور ویو لینتھ کے درمیان ایک اہم تعلق ہوتا ہے۔ اگر فریکوئنسی زیادہ ہو تو ویو کی لینتھ کم ہوگی اور اگر فریکوئنسی کم ہو تو ویو کی لینتھ زیادہ ہوگی۔

فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی کے درمیان ایک اہم رشتہ ہے۔ اگر ان دونوں کو آپس میں ضرب دیں تو ویو کی رفتار حاصل ہوتی ہے، جو اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ ویو کس مادّے میں سفر کر رہی ہے۔ مثلاً، پانی کی ویو کی رفتار پانی کی خصوصیات اور اس کے درجہ حرارت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فریکوئنسی زیادہ ہو تو ویو کی لمبائی کم ہوگی اور اگر فریکوئنسی کم ہو تو ویو کی لمبائی زیادہ ہو گی، کیونکہ ویو کی رفتار مادّے کی خصوصیات پر منحصر ہوتی ہے۔ ویو کے اوپر والے حصے کی اونچائی کو ایمپلیٹیوڈ کہا جاتا ہے۔

الیکٹرو میگنیٹک ویو بھی تقریباً پانی کی ویو کی طرح ایک ٹرانسورس ویو ہوتی ہے، جس میں الیکٹرک اور مقناطیسی (میگنیٹک) فیلڈ اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں۔ یہ ویو سفید روشنی کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں اور ان سب کے لیے فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی کا ضرب ویو کی رفتار کے برابر ہوتا ہے۔ سفید روشنی کی رفتار تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ (یعنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ) ہوتی ہے، جو کہ کسی بھی رفتار کی اوپری حد ہے۔

ان تمام ویوز کے مختلف نام ان کی فریکوئنسی اور ویو کی لمبائی میں فرق کی وجہ سے ہیں۔ ہم جو رنگ اپنی آنکھوں سے دیکھ پاتے ہیں، ان کے حساب سے ان کی فریکوئنسی کو سمجھنا آسان ہوتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/e3BRmg2

مصنوعی ذہانت: تیز تر انسانی ترقی کی ضامن

انسانی ترقی کی رفتار لوگوں کی آزادی اور فلاح و بہبود کے پیمانے سے ناپی جاتی ہے۔کووڈ-19کی وبا کے بعد سے انسانی ترقی سست روی کا شکار ہے۔ اقوامِ متحدہ نے 6 مئی کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ لاکھوں زندگیاں بہتر بنانے کا ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کئی دہائیوں تک انسانی ترقی کے اشاریے مسلسل بہتری کی طرف گامزن رہے، اور اقوامِ متحدہ کے محققین نے پیش گوئی کی تھی کہ سال 2030 تک دنیا کی آبادی کو اعلیٰ سطح کی ترقی حاصل ہو جائے گی۔ تاہم، گزشتہ چند سالوں میں کووڈ۔19 جیسے غیر معمولی عالمی بحرانوں کے بعد یہ امیدیں معدوم ہوگئی ہیں اور دنیا بھر میں ترقی کا عمل رک گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے (یو این ڈی پی) کی جانب سے شائع ہونے والی سالانہ "ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ" کے مطابق امیر اور غریب ممالک کے درمیان عدم مساوات مسلسل چوتھے سال بڑھ رہی ہے۔ عالمی دباؤ، جیسے بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگیاں اور شدید قرضوں کا بحران، حکومتوں کی عوامی خدمات میں سرمایہ کاری کرنے کی صلاحیت کو محدود کر رہے ہیں، جس کے باعث ترقی کے روایتی راستے سکڑتے جا رہے ہیں۔ یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر، آخم اسٹینر کے مطابق یہ سست روی عالمی ترقی کے لیے ایک حقیقی خطرے کی علامت ہے۔ اگر 2024 کی یہ سست رفتار ترقی معمول بن گئی، تو 2030 کا ترقیاتی ہدف حاصل کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا کم محفوظ، زیادہ منقسم اور معاشی و ماحولیاتی جھٹکوں کے لیے زیادہ کمزور ہو جائے گی۔

مایوس کن اشاروں کے باوجود، رپورٹ میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کے بارے میں پرامیدی ظاہر کی گئی ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ کس تیزی سے مفت یا کم لاگت والے اے آئی ٹولز کو کاروباری اداروں اور افراد نے اپنا لیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی ادارے کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 60 فیصد شرکاء کا ماننا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ان کے کام پر مثبت اثر ڈالے گی اور نئے مواقع پیدا کرے گی۔ خاص طور پر وہ افراد جو کم یا درمیانی سطح کی ترقی یافتہ جگہوں پر رہتے ہیں، مصنوی ذہانت یا اے آئی کے حوالے سے کافی پرجوش ہیں ۔ ان میں سے 70 فیصد کا کہنا ہے کہ اے آئی ان کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جبکہ دو تہائی کا خیال ہے کہ وہ اگلے ایک سال کے اندر تعلیم، صحت و دیگر شعبوں میں اے آئی کا استعمال کریں گے۔

سال2025 کی ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مصنفین نے کچھ سفارشات پیش کی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت تعلیم اور صحت کے نظام کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مؤثر انداز میں مددگار ثابت ہو۔ ان سفارشات کے مطابق، ایک ایسی معیشت تشکیل دی جائے جو اے آئی اور انسانی اشتراک پر مبنی ہو، نہ کہ ان کے مابین مسابقت پر، اور اے آئی کی تیاری سے لے کر اس کے نفاذ تک ہر مرحلے میں انسان کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ اقوامِ متحدہ کے ہیومن ڈیولپمنٹ رپورٹ آفس کے ڈائریکٹر، پیڈرو کونسےساو کے مطابق، "ہم جو فیصلے آج کریں گے، وہ اس ٹیکنالوجی کی منتقلی کے انسانی ترقی پر اثرات کی میراث طے کریں گے"۔ صحیح پالیسیوں اور انسانوں پر مرکوز سوچ کے ذریعے اے آئی ایک ایسا اہم ذریعہ بن سکتی ہے جو علم، مہارت اور نئے خیالات تک رسائی فراہم کر کے کسانوں سے لے کر چھوٹے کاروباریوں تک سب کو بااختیار بنا سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا اثر کیا ہوگا، اس کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔ یہ کوئی خودکار قوت نہیں، بلکہ اُن معاشروں کی اقدار اور عدم مساوات کی عکاسی اور تقویت کا ذریعہ ہے جو اسے تشکیل دیتے ہیں۔ ’ترقی میں مایوسی‘ سے بچنے کے لیے اقوامِ متحدہ کا ترقیاتی ادارہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ اے آئی گورننس کے لیے عالمی سطح پر مضبوط تعاون ضروری ہے، نجی شعبے کی جدت اور عوامی مفادات کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے، اور انسانی وقار، برابری اور پائیداری کے عزم کو از سر نو مضبوط کیا جائے۔ رپورٹ کے پیش لفظ میں آخم اسٹینر لکھتے ہیں کہ 2025 کی رپورٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ انسانوں اور اس بات کے بارے میں ہے کہ وہ گہرے تغیرات کے دور میں خود کو نئے سرے سے کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔

رپورٹ میں دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان ترقی کی الگ الگ رفتار کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ریسرچ، انفراسٹرکچر، اور سرمایہ کاری کے شعبے میں امریکہ، کینیڈا اور مغربی یورپ عالمی سطح پر غالب ہیں، لیکن انہیں مزدوروں پر اثرات، عوامی اعتماد، اور شمولیت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ ممالک اختراع میں رہنمائی کرتے ہیں، مگر مصنوی ذہانت اپنانے کی رفتار، افرادی قوت کی تیاری، اور آبادیاتی نمائندگی میں تفاوت موجود ہے۔ اس گروپ کے تمام ممالک کا ہیومن ڈیولپمنٹ انڈیکس (ایچ ڈی آئی) بہت بلند ہے، جس کی وجہ ان کا جدید انفراسٹرکچر اور مضبوط عوامی خدمات ہیں۔

امریکہ، جرمنی، برطانیہ، اور کینیڈا سائنسی علم کی تیاری اور اے آئی سے متعلق تکنیکی صلاحیتوں کے عالمی رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ 2024میں امریکہ نے دنیا میں اے آئی میں سب سے زیادہ سات ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری حاصل کی۔ اس کے بعد چین اور یورپی یونین کا نمبر آتا ہے۔ علاوہ ازیں، امریکہ میں دنیا کے تقریباً نصف ڈیٹا سینٹرز موجود ہیں، جو کمپیوٹ پاور میں عالمی سطح پر شدید عدم توازن کی عکاسی کرتے ہیں۔ زیادہ تر بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈلز اب بھی امریکی اداروں کے ذریعے تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ مغربی یورپ ماڈل تیاری میں پیچھے ہے۔

افریقہ، خاص طور پر صحارا کے علاقوں کو بڑے ڈھانچہ جاتی ترقیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ مصنوعی ذہانت تعلیم، صحت، اور زراعت کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے، لیکن بجلی، انٹرنیٹ، اور کمپیوٹنگ پاور کی شدید کمی اس ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی اور مؤثر استعمال میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مشرقی ایشیا دنیا میں اے آئی کا ایک بڑا مرکز ہے، جہاں چین اس کی تحقیق، روبوٹکس، اور ڈیٹا کے نظام میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ تاہم ، اس خطے میں اے آئی سیفٹی یا مصنوی ذہانت کی حفاظت کے مد میں سرمایہ کاری ناکافی ہے، جبکہ ٹیلنٹ کو برقرار رکھنے اور ریگولیٹری تیاری میں بھی ساختی تقسیم موجود ہے۔ لاطینی امریکہ کو عدم مساوات، تعلیمی ترقی کی سست رفتاری، اور ڈیجیٹل فرق جیسے مسائل درپیش ہیں۔ عرب ممالک نے ڈیجیٹل اور اے آئی ترقی میں دلچسپی اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن ڈیجیٹل خلیج اور صنفی پابندیوں کے باعث ان کی رفتار سست ہے۔ رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اے آئی میں سرمایہ کاری اور پیداوار زیادہ تر اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں مرکوز ہے اور دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے فوائد تک رسائی غیر مساوی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/E9sk7xa

جمعہ، 2 مئی، 2025

کائنات کے رازوں کی تلاش، ناسا کی اسفیرایکس دوربین کے ذریعے آسمان کی نقشہ سازی شروع

لاس اینجلس: امریکی خلائی ایجنسی ناسا کی نئی خلائی آبزرویٹری اسفیرایکس (SPHEREx) نے باضابطہ طور پر اپنے سائنسی مشن کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مشن کائنات کی ابتدا، کہکشاؤں کے ارتقاء اور زندگی کے بنیادی اجزاء کی تلاش میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ناسا نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اسفیرایکس آئندہ دو برسوں میں پورے آسمان کی جامع نقشہ سازی کرے گا، جس سے سائنسی برادری کو لیے غیر معمولی ڈیٹا حاصل ہوگا۔

اس خلائی دوربین کا باضابطہ لانچ 11 مارچ کو عمل میں آیا تھا، جس کے بعد اس نے چھ ہفتے آزمائش، کیلیبریشن اور دیگر تیاریوں میں گزارے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کے تمام آلات مکمل فعالیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اب اسفیرایکس نے مکمل سائنسی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے، جو ناسا کی خلائی تحقیق کے ایک نئے دور کی نمائندگی کرتا ہے۔

ناسا کے مطابق اسفیرایکس ہر روز تقریباً 3,600 تصاویر لے گا اور منظم انداز میں پورے آسمان کا سروے کرے گا۔ اپنے 25 ماہ کے مشن کے دوران یہ آبزرویٹری تقریباً گیارہ ہزار چکر مکمل کرے گی اور روزانہ ساڑھے 14 مرتبہ زمین کا چکر لگائے گی۔

یہ خلائی دوربین کائنات کا سہ جہتی نقشہ تیار کرے گی، جس میں کروڑوں کہکشاؤں کی پوزیشنوں کا اندراج کیا جائے گا۔ اس عمل سے سائنسدانوں کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مدد ملے گی کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا، اس کی ساخت کیسے تشکیل پائی اور کہکشاؤں کی ترقی میں کیا عوامل کارفرما رہے۔

واشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر کے فلکی طبیعیات ڈویژن کے قائم مقام ڈائریکٹر شان ڈوماگل گولڈمین نے اس موقع پر کہا، ’’اسفیرایکس ناسا کے اُن مشنز میں شامل ہو گیا ہے جو نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ جیسے بڑے منصوبوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ آبزرویٹری دیگر خلائی سروی مشنز کے ساتھ مل کر ان بنیادی سوالات کے جوابات کی تلاش میں مددگار ہوگی جو ہم ناسا میں روزانہ اٹھاتے ہیں۔"

اسفیرایکس مشن نہ صرف کائناتی سوالات کے جواب فراہم کرے گا بلکہ زمین پر موجود سائنسدانوں کو زندگی کے بنیادی مالیکیولز کی تلاش میں نئی راہیں بھی دکھائے گا۔ اس کے مشاہدات سے معلوم ہو سکے گا کہ وہ عناصر اور مالیکیولز کیسے پیدا ہوتے ہیں جو زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

یہ مشن نہ صرف فلکیات کے شعبے میں انقلاب لا سکتا ہے بلکہ کائنات کے وسیع تر فہم کی جانب ایک زبردست قدم بھی ثابت ہو سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yIfobqU

اتوار، 27 اپریل، 2025

دن میں سب سے زیادہ گرمی تین بجے کیوں ہوتی ہے؟ ایک سائنسی وضاحت

دن کے سب سے گرم وقت کے بارے میں ہمارا عمومی مشاہدہ یہ ہے کہ سہ پہر تقریباً تین بجے موسم سب سے زیادہ گرم محسوس ہوتا ہے، حالانکہ سورج کی روشنی سب سے زیادہ سیدھی دوپہر 12 بجے پڑتی ہے۔ یہ ایک دلچسپ مظہر ہے جس کی سائنسی بنیادیں ہیں۔ آئیے اس عمل کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سورج سے نکلنے والی روشنی میں قوس قزح کے تمام رنگ موجود ہوتے ہیں اور یہ روشنی تھوڑی مقدار میں الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ شعاعوں پر بھی مشتمل ہوتی ہے۔

سورج کی سطح کا درجہ حرارت تقریباً 10,000 فارن ہائیٹ (یعنی 6000 ڈگری سینٹی گریڈ) ہے۔ اتنے زیادہ درجہ حرارت پر سورج سفید روشنی خارج کرتا ہے، جو زمین تک پہنچتی ہے۔ ہمارا کرۂ ہوائی سورج کی روشنی کے لیے تقریباً شفاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سورج کی زیادہ تر توانائی بغیر کسی رکاوٹ کے فضا سے گزر کر زمین تک پہنچ جاتی ہے اور زمین کی سطح کو گرم کرنا شروع کر دیتی ہے۔

خود ہوا براہ راست سورج کی شعاعوں سے زیادہ گرم نہیں ہوتی بلکہ زمین کے گرم ہونے کے بعد زمین سے خارج ہونے والی توانائی سے حرارت حاصل کرتی ہے۔ جب سورج افق پر نیچے ہوتا ہے، صبح یا شام کے وقت، تو اس کی شعاعیں ترچھی پڑتی ہیں۔ اس وجہ سے شعاعیں لمبا راستہ طے کرتی ہیں اور توانائی کا زیادہ حصہ بکھر جاتا ہے۔ لیکن دوپہر 12 بجے کے آس پاس سورج آسمان میں سب سے اونچی پوزیشن پر ہوتا ہے اور اس کی شعاعیں تقریباً سیدھے زاویے سے زمین پر پڑتی ہیں۔

یہ وقت وہ ہوتا ہے جب زمین پر پڑنے والی شمسی توانائی کی شدت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاہم، زمین اور ماحول میں حرارت کا تبادلہ فوری نہیں ہوتا۔ زمین کو سورج کی روشنی جذب کرنے، گرم ہونے اور پھر اپنی حرارت فضا میں منتقل کرنے میں وقت لگتا ہے۔ جب زمین سورج کی روشنی جذب کرتی ہے، تو اس کی سطح کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے لیکن زمین کی گرم سطح فوراً اردگرد کی ہوا کو گرم نہیں کرتی۔ پہلے زمین خود اچھی طرح گرم ہوتی ہے، پھر وہ حرارت کی صورت میں انفرا ریڈ ریڈیئشن خارج کرتی ہے، جس سے آس پاس کی ہوا گرم ہوتی ہے۔

اس پورے عمل میں، یعنی سورج کی روشنی کے جذب ہونے، زمین کے گرم ہونے اور پھر ہوا کو گرم کرنے میں تقریباً تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے دن کا سب سے زیادہ گرم وقت عام طور پر 3 بجے کے آس پاس ہوتا ہے، نہ کہ 12 بجے۔ یہی تاخیر رات میں ٹھنڈک کے دوران بھی نظر آتی ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد زمین فوراً ٹھنڈی نہیں ہوتی بلکہ آہستہ آہستہ اپنی حرارت کھونا شروع کرتی ہے اور صبح کے وقت، سورج نکلنے سے ذرا پہلے، سب سے زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے۔

زمین سے خارج ہونے والی انفرا ریڈ شعاعیں فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں (جیسے پانی کے بخارات، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین) سے ٹکرا کر کچھ حد تک واپس زمین کی طرف لوٹتی ہیں۔ اس سے زمین اور فضا کا درجہ حرارت برقرار رہتا ہے۔ ان گرین ہاؤس گیسوں میں سب سے زیادہ اثر پانی کے بخارات کا ہوتا ہے۔ اسی لیے ساحلی علاقوں میں، جہاں ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے، دن اور رات کے درجہ حرارت میں زیادہ فرق نہیں آتا۔

مثلاً ممبئی یا کسی جزیرے پر دن اور رات کا درجہ حرارت زیادہ سے زیادہ 5 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ کا فرق دکھاتا ہے۔ اس کے برعکس، ریگستانی علاقوں میں، جہاں ہوا میں نمی بہت کم ہوتی ہے، جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے زمین تیزی سے ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ اسی لیے دن اور رات کے درجہ حرارت میں 30 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک کا فرق ہو سکتا ہے۔ اونچے مقامات پر گرمی کا احساس کم کیوں ہوتا ہے؟

جب ہم کسی پہاڑی مقام پر جاتے ہیں، تو وہاں ہمیں گرمی کم محسوس ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا فضائی دباؤ کم ہوتا ہے، جس سے ہوا پتلی ہوتی ہے اور حرارت کو برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی سطح اور فضا کے درمیان حرارت کی ترسیل بھی کمزور ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3lBqhau

ڈیجیٹل دنیا: لڑکیوں کی ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی ضروری

ڈیجیٹل دنیا میں صنفی عدم مساوات کا خاتمہ کرنے کے لیے لڑکیوں کو ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی دینا ضروری ہے، اس کام کے لیے تعلیمی شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ دنیا بھر میں پائی جانے والی ڈیجیٹل تفریق کے باعث ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین اور لڑکیوں کی کئی نسلوں کے پسماندہ رہ جانے کا خدشہ ہے۔ اس خدشہ کا اظہار ہنگامی حالات اور طویل بحرانوں میں تعلیم کی فراہمی پر اقوام متحدہ کے عالمی فنڈ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' (تعلیم انتظار نہیں کر سکتی) کی ڈائریکٹر یاسمین شریف نے کیا ہے۔ انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) یا معلومات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں لڑکیوں کے عالمی دن کے موقع پر انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور جبری نقل مکانی کا سامنا کرنے والے علاقوں میں یہ تقسیم اور بھی نمایاں ہے جسے ختم کرنے اور لڑکیوں کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں لڑکوں کے مساوی مواقع کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس تبدیلی کے لیے تعلیم کو بروئے کار لاتے ہوئے، لڑکیوں کو وہ تربیت، ہنر اور وسائل فراہم کیے جائیں جن کی انہیں ڈیجیٹل انقلاب کا حصہ بننے کے لیے ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی و ثقافتی ادارے (یونیسکو) کے مطابق، دنیا بھر میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد تقریباً 24 کروڑ تک کم ہے۔ اس طرح تعلیم، روزگار کے مواقع اور اختراعات تک ان کی رسائی بھی محدود ہے۔ براعظم افریقہ میں سماجی پابندیوں، لاگت اور نقل و حرکت کی رکاوٹوں کے باعث بہت سی لڑکیاں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تعلیم سے محروم رہتی ہیں۔ ذیلی صحارا افریقہ میں ’اسپریڈ شیٹ‘ کے استعمال سے آگاہی رکھنے والے ہر ایک سو مردوں کے مقابلے میں خواتین کی تعداد محض چالیس ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسف) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس خطے میں 90 فیصد نو عمر لڑکیاں اور نوجوان خواتین انٹرنیٹ سے محروم ہیں۔ یعنی ہر 10 میں سے 9 کو انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات اور مواقع تک رسائی نہیں مل رہی۔ اگر لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (ایس ٹی ای ایم) میں تعلیم کے مواقع میسر ہوں تو ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

اس ضمن میں یاسمین شریف نے ’افغان گرلز روبوٹکس ٹیم‘ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے (ایس ٹی ای ایم) کی تعلیم کے ذریعے روبوٹ بنانا اور پروگرام تخلیق کرنا سیکھا اور سائنس و انجینئرنگ میں نئی مہارتیں حاصل کیں۔ اس طرح وہ دنیا بھر میں سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ لڑکیوں کی سفیر بن گئی ہیں۔ 'ایجوکیشن کین ناٹ ویٹ' کی 'عالمی چیمپئن' سومیہ فاروقی کے زیرقیادت ان لڑکیوں نے رکاوٹیں توڑ کر اپنا مقصد حاصل کیا ہے اور وہ دنیا بھر کی لاکھوں لڑکیوں کے لیے بھی انٹرنیٹ تک رسائی اور ٹیکنالوجی میں کیریئر بنانے کی راہ ہموار کریں گی۔

سوشل میڈیا کے مضر اثرات

دریں اثنا، یونیسکو کی گلوبل ایجوکیشن مانیٹر (جی ای ایم) کی ایک رپورٹ میں نوجوان لڑکیوں پر سوشل میڈیا کے مضر اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ 24 اپریل کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور الگورتھم سے چلنے والے سافٹ ویئر - خاص طور پر سوشل میڈیا - پرائیویسی پر حملے، سائبر دھونس جمانے یا ہراساں کرنے اور نوجوان لڑکیوں کو سیکھنے یا تعلیم سے دور ہٹانے کے خطرات پیش کرتے ہیں۔ اس رپورٹ ٹیم کی ایک سینئر تجزیہ کار، اینا ڈی ایڈیو کے مطابق، تعلیم میں ٹیکنالوجی کے معاملے کو صنفی عینک سے جانچا گیا ہے۔ رپورٹ میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے خاتمے میں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے، لیکن لڑکیوں کی تعلیم کے مواقع اور نتائج پر ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ آن لائن ہراساں کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے، ڈی اڈیو نے کہا، سوشل میڈیا پر لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں میں سائبر بلنگ یا دھونس بہت زیادہ اثرانداز ہوتی ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو ان کی صحت کو متاثر کرتی ہے، جبکہ تندرستی تعلیم حاصل کرنے یا سیکھنے کے لیے اہم ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی ٹیلی کام ایجنسی - انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کی قیادت میں آئی سی ٹی ڈے میں لڑکیوں کے بین الاقوامی دن جاری کی گئی۔ اس موقع پر ایک ٹویٹر پوسٹ میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے نشاندہی کی کہ مردوں کے مقابلے میں کم خواتین کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے اور یہ ان کے کام کے مساوی مواقع حاصل کرنے کی راہ میں حائل ہے۔ لہٰذا انہوں نے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کے شعبے میں لڑکیوں کے لیے مزید آلات اور معاونت کا مطالبہ کیا۔

ذہنی صحت اور تندرستی

گلوبل ایجوکیشن مانیٹر (جی ای ایم) کی رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا نوجوان لڑکیوں کو جنسی مواد سمیت غیر مناسب ویڈیو مواد فراہم کرتا ہے، اور غیر صحت مند اور غیر حقیقی جسمانی معیارات کو فروغ دیتا ہے جو ذہنی صحت اور تندرستی کو منفی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ نو عمر لڑکیوں میں لڑکوں کے مقابلے تنہائی محسوس کرنے کا امکان دوگنا ہوتا ہے اور وہ کھانے کے عوارض کا شکار ہوتی ہیں۔ ڈی اڈیو کے مطابق، شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کی بڑھتی ہوئی نمائش کا تعلق دماغی صحت کے مسائل، کھانے کے عوارض اور بہت سے دوسرے مسائل سے ہے جو سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں اور خاص طور پر لڑکیوں کی توجہ تعلیم سے دور کرتے ہیں اور ان کی تعلیمی کامیابی کو متاثر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں شامل ’فیس بک‘ کے اعدادوشمار کے مطابق، ’انسٹاگرام‘ پر مبینہ طور پر 32 فیصد نو عمر لڑکیوں نے پلیٹ فارم کے مواد کو استعمال کرنے کے بعد اپنے جسم کے بارے میں بدتر محسوس کیا ہے۔ اس کے برعکس، ڈی اڈیو اس بات پر زور دیتی ہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوان لڑکیوں پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے، خاص طور پر جب اسے علم میں اضافہ اور سماجی مسائل پر بیداری پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کی رائے میں سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کا طریقہ سکھانا ضروری ہے۔

بہتر تعلیم، قوانین و ضوابط کی ضرورت

رپورٹ میں اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ لڑکیوں کو سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھ میٹکس (ایس ٹی ای ایم) کیرئیر تک رسائی حاصل کرنا دشوار ہے، جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور ترقی میں تنوع کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یونیسکو انسٹی ٹیوٹ برائے شماریات کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین عالمی سطح پر ایسے (ایس ٹی ای ایم) گریجویٹز میں صرف 35 فیصد ہیں اور صرف 25 فیصد سائنس، انجینئرنگ اور انفارمیشن اینڈ کمیونی کیشنز ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) ملازمتیں رکھتی ہیں۔ ڈی اڈیو کے مطابق، ابھی بھی بہت کم لڑکیاں اور خواتین ہیں جو (ایس ٹی ای ایم)مضامین کا انتخاب کرتی ہیں اور وہاں کام کرتی ہیں۔ رپورٹ کے نتائج تعلیم میں زیادہ سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بہتر ضابطے کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔

بہرحال، یونیسکو تعلیم کے نظام کو مزید جامع بنانے والی پالیسیوں کی وکالت کرتے ہوئے، ایسے قوانین اور ضوابط کو فروغ دے کر جو لڑکیوں کے لیے تعلیم تک مساوی رسائی کی ضمانت دیتے ہیں اور انہیں امتیازی سلوک سے محفوظ رکھتے ہیں، لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ یونیسکو کے مطابق، ٹیکنالوجی کے شعبے میں خواتین کی تعداد کو دو گنا کر کے 2027 تک دنیا کے جی ڈی پی میں 600 ارب یورو تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس مقصد کے لیے بعض رکاوٹوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں شمالی دنیا کے وسائل سے کام لیتے ہوئے ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکہ سمیت دنیا بھر کی لڑکیوں کو ٹیکنالوجی سے کام لینے کے قابل بنانا ہو گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/P98L4Ew

اتوار، 20 اپریل، 2025

کیا کائنات میں ہم جیسے اور بھی ہیں؟ زمین جیسے سیارے پر زندگی کے ممکنہ آثار

انسانی تاریخ میں زندگی کے سب سے بڑے سوالوں میں سے ایک یہ رہا ہے، کیا ہم اس وسیع کائنات میں اکیلے ہیں؟ قدیم زمانے سے ہی انسان نے آسمان کی وسعتوں میں جھانک کر اپنے جیسے کسی اور کے وجود کی تلاش کی ہے۔ جدید دور میں فلکیاتی سائنس نے اس تلاش کو ایک سائنسی بنیاد فراہم کی ہے اور حالیہ دنوں میں ایک اہم دریافت نے اس سوال کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، وہ ہے سیارہ کے2-18بی (K2-18b) پر زندگی کے ممکنہ آثار کی دریافت ہونا۔

’کے2-18بی‘ ایک ایسا سیارہ ہے جو زمین سے تقریباً 124 نوری سال یعنی تقریباً 700 کھرب میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ ایک سرخ بونے ستارے کے گرد چکر لگاتا ہے اور سائز کے اعتبار سے زمین سے ڈھائی گنا بڑا ہے۔ اس کی کمیت اور ساخت کے لحاظ سے یہ زمین اور نیپچون کے درمیان آتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ ایک ہائیسین ورلڈ (Hycean World) ہو سکتا ہے، یعنی ایسا سیارہ جس پر سمندر ہوں اور فضا میں ہائیڈروجن غالب ہو۔

یونیورسٹی آف کیمبرج کے سائنسدانوں نے ناسا کی جدید ترین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کی مدد سے اس سیارے کی فضا کا تجزیہ کیا۔ یہ ٹیلی سکوپ اتنی حساس ہے کہ دور دراز سیاروں کی فضا سے گزرنے والی روشنی میں موجود کیمیائی عناصر کو بھی پہچان سکتی ہے۔

پروفیسر نکّو مدھوسودھن کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں کے2-18بی کی فضا میں کچھ خاص مالیکیولز دریافت ہوئے جن میں ڈائیمیتھائل سلفائیڈ (ڈی ایم ایس)، ڈائی میتھائل ڈائی سلفائیڈ (ڈی ایم ڈی ایس)، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ شامل ہیں۔ ڈی ایم ایس خاص طور پر دلچسپ ہے کیونکہ زمین پر اسے صرف سمندری مخلوقات جیسے فائیٹوپلانکٹن یا بیکٹیریا پیدا کرتے ہیں۔

پروفیسر مدھوسودھن کا کہنا ہے کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ صرف ایک مشاہدے کے دوران ڈی ایم ایس کی مقدار زمین سے ہزاروں گنا زیادہ معلوم ہوئی ہے، جو اس امکان کو تقویت دیتی ہے کہ یہ گیس کسی حیاتیاتی سرگرمی سے پیدا ہو رہی ہو سکتی ہے۔

تاہم سائنسی برادری کسی بھی نتیجے تک پہنچنے میں انتہائی احتیاط سے کام لیتی ہے۔ سائنس میں کسی بھی دریافت کو ثابت شدہ ماننے کے لیے ایک شماریاتی معیار درکار ہوتا ہے جسے فائیو سگما (Five Sigma) کہا جاتا ہے، یعنی 99.99999 فیصد یقین۔ فی الحال یہ تحقیق تھری سگما پر ہے، جو 99.7 فیصد یقین کے برابر ہے۔ گو کہ یہ پچھلی تحقیق (68 فیصد یقین) کے مقابلے میں کافی بہتر ہے، مگر سائنسی طور پر حتمی دعویٰ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ پروفیسر مدھوسودھن پر امید ہیں کہ اگلے ایک یا دو سال کے اندر مزید مشاہدات کے ذریعے یہ معیار حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پروفیسر کیتھرین ہیمنز، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں رہیں، کا کہنا ہے کہ زمین پر تو ڈی ایم ایس اور ڈی ایم ڈی ایس جیسے مالیکیولز زندگی سے جڑے ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ دوسرے سیاروں پر غیر حیاتیاتی عمل بھی یہ گیسیں پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یونیورسٹی آف کیمبرج کی ٹیم دیگر سائنسی اداروں کے ساتھ مل کر لیبارٹری میں اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ مالیکیولز غیر حیاتیاتی ذرائع سے پیدا ہو سکتے ہیں۔

کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس سیارے پر واقعی سمندر موجود ہو سکتے ہیں، خاص طور پر کیونکہ وہاں امونیا موجود نہیں، جو عام طور پر آبی ماحول میں جذب ہو جاتا ہے۔ مگر پروفیسر اولیور شورٹل اور ڈاکٹر نکولس ووگن جیسے محققین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے یہ سیارہ دراصل ایک چھوٹا گیس جائنٹ ہو جس کی کوئی ٹھوس سطح موجود نہ ہو، یا پھر اس کی سطح پگھلے ہوئے پتھروں سے بنی ہو، جو زندگی کے امکان کو کم کر دیتا ہے۔

اس تمام احتیاط کے باوجود سائنسدان مانتے ہیں کہ یہ دریافت کائنات میں زندگی کی تلاش کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ بی بی سی کے مشہور سائنسی پروگرام دی اسکائی ایٹ نائٹ کے میزبان پروفیسر کرس لنٹوٹ کے مطابق، اگرچہ ہم ابھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ زندگی واقعی دریافت ہو گئی ہے لیکن یہ تحقیق ہمیں اس سوال کے قریب ضرور لے جا رہی ہے۔ وہیں، پروفیسر مدھوسودھن کا ماننا ہے کہ ممکن ہے ہم آئندہ برسوں میں پیچھے مڑ کر دیکھیں اور اس لمحے کو وہ موڑ کہیں جب ’زندہ کائنات‘ کا تصور حقیقت سے قریب تر ہو گیا۔

سیارہ کے2-18بی پر ممکنہ حیاتیاتی سرگرمیوں کی یہ دریافت فلکیات کے میدان میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن یہ تحقیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم زندگی کے بڑے سوال کا جواب حاصل کرنے کے سفر پر گامزن ہیں۔ اگر آنے والے برسوں میں تحقیق پانچ سگما کے معیار تک پہنچتی ہے، تو انسان کو شاید کائنات میں اپنی تنہائی کا سوال کا جواب مل جائے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jo2z1uG

جمعہ، 18 اپریل، 2025

گوگل نے ڈیجیٹل اشتہارات میں غیر قانونی اجارہ داری قائم کی، امریکی عدالت کا فیصلہ

**واشنگٹن: امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ معروف ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے ڈیجیٹل اشتہارات کی مارکیٹ میں غیر قانونی طور پر اجارہ داری قائم کر کے ملک کے عدم اعتماد کے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ فیصلہ امریکی محکمہ انصاف اور متعدد ریاستوں کے اس مقدمے کے تناظر میں سامنے آیا ہے جس میں گوگل پر الزام تھا کہ اس نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے آن لائن اشتہاری مارکیٹ پر قبضہ جما لیا ہے۔

ورجینیا کے مشرقی ضلع کی امریکی ضلعی عدالت کی طرف سے سنائے گئے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گوگل نے اپنے ایڈ ٹیک بزنس کے ذریعے ایسے حربے اپنائے جن سے پبلشرز، اشتہاری خریداروں اور بالآخر انٹرنیٹ صارفین کو نقصان پہنچا۔ عدالت نے واضح کیا کہ کمپنی کے طرز عمل سے "گوگل کے اشاعتی صارفین، مسابقتی عمل اور بالآخر، اوپن ویب پر اطلاعات کے صارفین متاثر ہوئے۔"

محکمہ انصاف کی جانب سے جاری بیان میں اس فیصلے کو ڈیجیٹل اشتہارات کے میدان میں گوگل کی اجارہ داری کے خلاف تاریخی فتح قرار دیا گیا۔ امریکی اٹارنی جنرل پامیلا بونڈی نے کہا کہ "یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قانون سے کوئی بالاتر نہیں، چاہے وہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی ہی کیوں نہ ہو۔"

محکمہ انصاف کی اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ابیگیل اسلیٹر نے کہا کہ گوگل کا غلبہ صرف اشتہارات پر نہیں بلکہ یہ پلیٹ فارم امریکی آوازوں کو دبانے، انہیں سینسر کرنے یا ہٹانے تک کی طاقت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا، "گوگل نے نہ صرف اپنے حریفوں کو کچلا بلکہ ان طرز عمل کی تفتیش کو روکنے کے لیے ثبوت بھی تباہ کیے۔"

گوگل نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ریگولیٹری معاملات کی نائب صدر لی اینی ملہولینڈ نے بیان میں کہا کہ پبلشرز کے پاس گوگل کے علاوہ بھی کئی آپشنز موجود ہیں اور وہ گوگل کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے ایڈورٹائزنگ ٹولز سادہ، کم خرچ اور مؤثر ہیں۔

یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی عدالت نے گوگل کے خلاف اجارہ داری کا فیصلہ سنایا ہے۔ اس سے قبل اگست 2024 میں، واشنگٹن ڈی سی کی ایک عدالت نے گوگل کو آن لائن سرچ مارکیٹ میں غیر قانونی اجارہ داری کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ٹیک کمپنیوں کے کاروباری طریقہ کار پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ان پلیٹ فارمز پر جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ڈیٹا مونیٹائزیشن پر انحصار کرتے ہیں۔

یہ مقدمہ گوگل کے اشتہاری ڈھانچے پر ممکنہ طور پر بڑی تبدیلیوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے، اور دیگر ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک انتباہ بن سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jMXDaZ8

ہفتہ، 12 اپریل، 2025

مصنوعی ذہانت کی پیش قدمی، سافٹ ویئر کی محدود ہوتی افادیت

ماضی میں جب صنعتی انقلاب آیا تو انسان نے پہلی بار یہ سیکھا کہ محض اپنے ہاتھوں اور جسمانی طاقت کے بجائے مشینوں کی مدد سے بھی بڑی سطح پر پیداوار ممکن ہے۔ پھر جب ڈیجیٹل انقلاب نے دستک دی تو دنیا کا رابطہ بدل گیا، معلومات کی ترسیل، لین دین، تعلیم، سیاست، معیشت، سب کچھ نئی شکل میں ڈھلنے لگا۔

اب جو انقلاب ہمارے دروازے پر آ چکا ہے، وہ نہ صرف پہلے دونوں انقلابات سے زیادہ تیز ہے بلکہ گہرے اور دور رس اثرات کا حامل بھی ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا انقلاب ہے، جو ہر شعبۂ حیات میں داخل ہو چکا ہے اور انسان کے ہر سوچنے، سمجھنے اور کرنے کے طریقے کو بدل رہا ہے۔

اب یہ سوال باقی نہیں رہا کہ اے آئی آئے گی یا نہیں، وہ آ چکی ہے۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ ہم اس کے لیے کتنے تیار ہیں؟ حال ہی میں اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین کا بیان آیا کہ سافٹ ویئر انجینئروں کی نوکریاں خطرے میں ہیں اور انہیں اس تبدیلی کے لیے خود کو پہلے سے تیار کر لینا چاہیے۔

یہ صرف انجینئروں کی بات نہیں، دنیا بھر میں جہاں جہاں کوئی کام ایک خاص ترتیب، ایک مخصوص فارمولے یا طے شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر انجام دیا جاتا ہے، وہاں اے آئی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا کہ انسانی تخلیقی صلاحیت، فیصلہ سازی اور جذبات ایسی چیزیں ہیں جنہیں کوئی مشین چھو بھی نہیں سکتی، مگر اب وہ لمحہ آ گیا ہے جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف معلومات پر مبنی فیصلہ کر رہی ہے بلکہ وہ انسانی مزاج، لہجہ اور ارادے کو بھی سمجھنے لگی ہے۔

اکثر لوگ اس انقلاب کا موازنہ موبائل فون کے ساتھ کرتے ہیں، جو یقیناً زندگی میں سہولتوں کا بڑا ذریعہ بنا، مگر سچ یہ ہے کہ موبائل نے انسان کا طرز زندگی اتنا نہیں بدلا جتنا اے آئی کرنے جا رہی ہے۔ موبائل نے رابطے آسان کیے، چیزوں کو قریب لایا لیکن اے آئی انسان کے سوچنے کے عمل میں مداخلت کر رہی ہے۔ وہ اسے یہ نہیں بتاتی کہ ’کیا کرنا ہے‘، بلکہ یہ طے کرتی ہے کہ ’کیسے سوچا جائے!‘

پہلے ہم جن کاموں کے لیے خاص سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے، اب وہی کام خودکار طریقے سے ایک ہی پلیٹ فارم پر بغیر وقت ضائع کیے انجام پا رہے ہیں۔ تصویری تدوین ہو، مضمون نویسی، ویڈیو ایڈیٹنگ، ڈیٹا اینالسس، یا آواز سے ٹیکسٹ بنانا، یہ سب ایک لمحہ میں انجام پاتا ہے، وہ بھی بغیر سیکھے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ایسے مشہور سافٹ ویئر جو ایک وقت میں ناگزیر سمجھے جاتے تھے، آج صرف مخصوص پیشہ ور افراد تک محدود ہو گئے ہیں، یا ان کے لیے متبادل اے آئی ٹولز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر فوٹوشاپ، کورل ڈرا، فائنل کٹ، پاور پوائنٹ، ان پیج، آٹو کیڈ، یا یہاں تک کہ ایکسل جیسے پروگرام بھی، جنہیں سیکھنے اور سکھانے پر برسوں صرف کیے جاتے تھے، اب ان کی جگہ ایسے اے آئی پلیٹ فارم لے رہے ہیں، جو نہ صرف ان سے تیز ہیں بلکہ صارف کے لیے آسان بھی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ مستقبل میں ان سافٹ ویئرز کی مکمل یا جزوی افادیت ختم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ اس انقلاب نے نہ صرف سافٹ ویئرز کو بے مصرف یا محدود کیا ہے بلکہ انسان کے کام کرنے کے انداز کو بھی بدل دیا ہے۔ اب ہر شخص، چاہے وہ تعلیم سے وابستہ ہو یا طب سے، صحافت سے ہو یا قانون سے، محسوس کر رہا ہے کہ اس کے کام کی نوعیت بدل رہی ہے۔ کچھ کے لیے یہ تبدیلی سہولت ہے، کچھ کے لیے خوف اور کچھ کے لیے موقع۔

سوال یہ نہیں کہ اے آئی کیا چھین لے گی، بلکہ یہ ہے کہ ہم کیا نیا سیکھنے کو تیار ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے پرانے تجربے اور مہارت کے بل پر ہمیشہ کامیاب رہیں گے، وہ شاید آنے والے وقت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اے آئی کا اثر صرف پیشہ ورانہ دنیا تک محدود نہیں رہے گا۔ گھریلو زندگی، سماجی رشتے، تعلیم، تفریح، یہاں تک کہ مذہبی و ثقافتی طور طریقے بھی اس سے متاثر ہوں گے۔ اگر کل کوئی بچہ اے آئی سے قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہوگا یا کوئی بزرگ اپنی طبیعت کے مطابق اے آئی سے دعا سن رہا ہوگا تو اس پر حیرانی نہیں ہونی چاہئے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس سے ہم نظریں نہیں چرا سکتے۔

ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اے آئی نہ صرف ہماری سوچ بدل رہی ہے بلکہ ہماری ترجیحات بھی تبدیل کر رہی ہے۔ انسان وہی کام کرنا چاہتا ہے جس میں کم محنت ہو، جلدی فائدہ ہو اور نتیجہ فوری نظر آئے۔ اے آئی اسے یہ سب فراہم کر رہی ہے، مگر اس کے بدلے ہم سے کیا لے رہی ہے، یہ ہم میں سے اکثر نے سوچا بھی نہیں۔ شاید ہمارے فیصلوں کا اختیار، ہماری تخلیق کی آزادی یا ہماری اجتماعی عقل۔

یہ انقلاب کسی کے رکنے سے رکے گا نہیں۔ یہ نہ تو جغرافیائی سرحدوں کا محتاج ہے اور نہ ہی کسی خاص طبقے یا معاشرے کا۔ یہ ہر اس شخص کو چھوئے گا جو اس دنیا کا حصہ ہے، جو روز کچھ سیکھتا، کچھ سوچتا اور کچھ کرتا ہے۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس تبدیلی کا سامنا آنکھیں کھول کر کریں گے یا آنکھ بند کر کے۔ وقت تیز ہو چکا ہے، لہٰذا جو جتنا جلدی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہو جائے گا، وہی اس انقلاب میں محفوظ، باوقار اور مؤثر رہے گا۔ باقی سب، چاہے وہ کتنے ہی کامیاب کیوں نہ رہے ہوں، پیچھے رہ جائیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Paun4jM