جمعہ، 21 جولائی، 2023

گوگل کے مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز سے میڈیا انڈسٹری کو خدشات

دنیا کی معروف تکنیکی کمپنی گوگل کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی وہ جن ٹولز کی تیاری کر رہا ہے اس کا مقصد خبر نگاری میں صحافیوں کے لازمی کردار کو تبدیل کرنا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ٹولز صحافیوں کوتحقیق کرنے اور مضامین لکھنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

گوگل نے جمعرات کو بتایا کہ وہ میڈیا کمپنیوں بالخصوص چھوٹے پبلشرز کے ساتھ مل کر مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ایسے ٹولز کی تیاری پر کام کررہا ہے جو"صحافیوں کو خبروں کی شہ سرخیاں لکھنے یا مختلف انداز تحریر کے متبادل فراہم کرنے "میں مدد گار ہوں گے۔

گوگل کی ترجمان جین سرائیڈر نے اس سلسلے میں کمپنی کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کے ابتدائی مراحل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "ہمارا مقصد صحافیوں کو ان ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو اس طریقے سے استعمال کرنے کا انتخاب فراہم کرنا ہے جس سے ان کے کام اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو۔ جیسا کہ ہم جی میل اور گوگل ڈاکس کے طورپر لوگوں کو معاون ٹولز دستیاب کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا، "ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان ٹولز کا مقصد رپورٹنگ، تخلیق اور اپنے مضامین کے حقائق کی جانچ پڑتال میں صحافیوں کے بنیادی کردار کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور نہ ہی ایسا کرسکتے ہیں۔"

ایک نئی بحث چھڑجانے کا امکان

گوگل کے اس پیش رفت سے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے پلیٹ فارمز مثلاً چیٹ جی پی ٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور فوائد کے بارے میں بحث تیز ہوجانے کا امکان ہے۔ کیونکہ اس اے آئی ٹول نے انسانی تقریر کی نقل کرنے کی صلاحیت سے صارفین کو دنگ کردیا ہے لیکن اس نے کاپی رائٹ کی خلاف ورزی، غلط معلومات اور انسانی کارکنوں کی جگہ مشینوں کے لینے کے بارے میں خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

پرنٹ ایڈورٹائزنگ کی آمدنی میں کمی کے ساتھ ہی ملازمین کی تعداد میں مسلسل کمی کرنے کی وجہ سے عالمی میڈیا انڈسٹری تباہ ہوگئی ہے۔ صرف امریکی نیوز رومز میں ہی رواں برس کے ابتدائی پانچ مہینوں کے دوران ریکارڈ 17436ملازمتیں ختم کردی گئیں۔

گوگل کی جانب سے اس نئے ٹول، جسے جینیسس کا نام دیا گیا ہے،کو ڈیولپ کرنے کے متعلق سب سے پہلے نیویارک ٹائمز نے خبر دی۔ اس نے بتایا کہ اسے ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے مالک نیوز کارپ کو پیش کیا گیا ہے۔ ٹائمز کے مطابق میڈیا سے وابستہ بعض اہم افراد، جنہوں نے گوگل کی اس پیش کش کا مشاہدہ کیا ہے، انہوں نے اسے " پریشان کن" قرار دیا ہے۔

تاہم کچھ میڈیا تنظیموں نے تخلیقی مصنوعی ذہانت کا استعمال شروع کردیا ہے۔ نیوز رومز عام طور پر درستگی، سرقہ اور کاپی رائٹ کے خدشات کے مدنظر خبریں جمع کرنے کے مقاصد کے لیے ٹیکنالوجی کو اپنے میں سست روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) نے گزشتہ ہفتے مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے ساتھ شراکت کا اعلان کیا تھا جس سے چیٹ جی پی ٹی تخلیق کرنے والی اس کمپنی کو مصنوعی ذہانت کو زیادہ بہتر اور درست بنانے کے لیے اے پی کے 1985 کے بعد سے آرکائیوز کو استعمال کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/TmPdVL6

بدھ، 19 جولائی، 2023

مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اقوام متحدہ کی پہلی میٹنگ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مصنوعی ذہانت کے خطرات پر منگل کے روز اپنا پہلا اجلاس منعقد کیا، جس کی صدارت رواں ماہ ادارے کے صدر برطانیہ نے کی۔ برطانوی وزیر خارجہ جیمس کلیورلی نے اس موقع پرکہا کہ "مصنوعی ذہانت بنیادی طورپر انسانی زندگی کے ہر پہلو کو بد ل دے گی۔"

برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ "ہمیں تبدیلی لانے والی ٹیکنالوجیز پر گلوبل گورننس تشکیل دینے کی فوری ضرورت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور معیشتوں کو فروغ دینے میں مدد کرسکتی ہے تاہم انہوں نے خبر دار کیا کہ ٹیکنالوجی غلط معلومات کو ہوا بھی دیتی ہے اور ہتھیاروں کی حصولیابی میں ریاستی اور غیر ریاستی دونوں ہی عناصر کی مدد کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش، معروف آرٹیفیشیئل انٹلیجنس اسٹارٹ اپ انتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک اورچائنا یوکے سینٹرفار اے آئی ایتھکس اینڈ گورننس کے شریک ڈائریکٹر پروفیسر زینگ ایی نے 15رکنی سلامتی کونسل کو اس موضوع پر بریف کیا۔ گوٹیریش کا کہنا تھا،" اے آئی کے فوجی اور غیر فوجی دونوں طرح کے استعمال عالمی امن اور سلامتی کے لیے بہت سنگین نتائج کے حامل ہوسکتے ہیں۔"

انہوں نے اے آئی کے سلسلے میں اقوام متحدہ میں ایک نئے ادارے کی تشکیل کے متعلق بعض ملکوں کی جانب سے مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اسے "بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی، بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن یا ماحولیاتی تبدیلی کے بین الاقوامی پینل کے طرز پر قائم کیا جاسکتا ہے۔"

اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے مصنوعی ذہانت کو دو دھاری تلوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اے آئی کے رہنما اصولوں کی تیاری میں اقوام متحدہ کے مرکزی رابطہ کار کے کردار کی حمایت کرتا ہے۔ ژانگ کا کہنا تھا، "خواہ یہ اچھا ہو یا برا، نیک ہو یا بد، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ بنی نوع انسان اسے کس طرح استعمال کرتی ہے، اسے کس طرح منظم کرتی ہے اور ہم سائنسی ترقی اور سلامتی کے درمیان کس طرح توازن پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ترقی کو منظم کرنے کے لیے لوگوں اورمصنوعی ذہانت کی اچھائی کے استعمال پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی اور اس ٹیکنالوجی کو "بے لگام گھوڑا "بننے سے روکنا ہوگا۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب سفیر جیفری ڈی لارینٹس نے بھی کہا کہ انسانی حقوق کو درپیش خطرات، جن سے امن اور سلامتی کو بھی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے، سے نمٹنے کے لیے ممالک کو اے آئی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ، "کسی بھی رکن ممالک کو مصنوعی ذہانت کا استعمال سینسر کرنے، مجبور کرنے، لوگوں کو کچلنے یا بے اختیار کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہئے۔" روس نے سوال کیا کہ کیا سلامتی کونسل، جس پر بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہے، کو مصنوعی ذہانت پر بات کرنی چاہئے۔ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمیتری پولیانسکی نے کہا، "ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پیشہ ورانہ، سائنسی اور مہارت پر مبنی بحث کریں جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور خصوصی پلیٹ فارمز پر یہ بحث پہلے سے ہی جاری ہے۔"

امریکہ میں پیشہ ور مصنفین کی سب سے بڑی تنظیم آتھرز گلڈ نے اوپن اے آئی، میٹا، مائیکروسافٹ، الفابیٹ، آئی بی ایم اور اسٹیبلیٹی اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو افسران کے نام ایک خط لکھ کر ان سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت والی کمپنیاں ان کی کاپی رائٹ تخلیقات کا بلا اجازت استعمال بند کریں۔ اس خط پر ہزاروں مصنفین اور ادیبوں نے دستخط کیے ہیں، جن میں مارگریٹ ایٹ ووڈ، جوناتھن فرانزن، جیمس پیٹرسن، سوزین کولنز اور ویئٹ تھان نوگئین شامل ہیں۔

خط میں مصنفین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہماری اجازت، مرضی، ہمارا نام یا ہمیں معاوضہ دیے بغیر آپ کے اے آئی سسٹم کے ذریعہ ہماری تخلیقات کا استعمال استحصال اور ناانصافی کے مترادف ہے۔" خط میں کہا گیا ہے، "یہ ٹیکنالوجیز ہماری زبان، کہانیوں، طرز تحریر اور آئیڈیاز کو نقل کرلیتی ہیں۔ لاکھوں کاپی رائٹ کتابیں، مضامین، مقالے اور نظمیں اے آئی سسٹمز کے لیے "خوراک" فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایسے لامحدود کھانے کی طرح ہیں جن کی کوئی قیمت ادا نہیں کی جارہی ہے۔"

مصنفین نے کہا کہ "آپ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ لہذایہ مناسب ہوگا کہ آپ ہماری تخلیقات کا استعمال کرنے پر ہمیں معاوضہ ادا کریں کیونکہ ہماری تخلیقات کے بغیر مصنوعی ذہانت بے وقعت اور انتہائی محدود رہے گی۔" امریکی مصنفین نے گزشتہ ماہ اوپن اے آئی کو اپنے چیٹ بوٹ چیٹ جی پی ٹی کو ٹرین کرنے کے لیے ان کی تخلیقات کے مبینہ غلط استعمال پر مقدمہ دائر کیا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UJ1eK2j

منگل، 18 جولائی، 2023

’چندریان-3‘ نے مدار تبدیل کرنے کا تیسرا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کیا، اِسرو نے کہا ’سب کچھ ٹھیک ہے‘

چندریان-3 چاند کے اپنے سفر پر آگے بڑھ رہا ہے اور اِسرو کا کہنا ہے کہ ابھی تک سب کچھ طے منصوبوں کے مطابق ہوا ہے۔ یعنی ہندوستان کے اس چاند مشن میں سب کچھ ٹھیک ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس مرتبہ چندریان کی چاند پر سافٹ لینڈنگ کامیاب ہونے والی ہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق چندریان-3 نے مدار تبدیل کرنے کا اپنا تیسرا عمل کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔ اِسرو نے جانکاری دی ہے کہ مشن اپنے طے وقت پر ہے اور مدار (آربٹ) بدلنے کا تیسرا عمل (اَرتھ باؤنڈ آربٹ مینیووَر) بنگلورو سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔

اس سے قبل پیر کے روز چندریان-3 کامیابی کے ساتھ زمین کے دوسرے مدار میں داخل ہوا تھا۔ اِسرو نے اس سلسلے میں بیان جاری کر تفصیلی جانکاری بھی دی تھی۔ اِسرو نے اس وقت بتایا تھا کہ چندریان-3 زمین سے 41603 کلومیٹر x 226 کلومیٹر دور واقع زمین کے مدار میں موجود ہے۔ اس سے قبل اتوار کو چندریان-3 نے زمین کے پہلے مدار سے دوسرے مدار میں چھلانگ لگائی تھی۔ حالانکہ اب چندریان-3 تیسرے مدار میں چھلانگ لگا چکا ہے۔

واضح رہے کہ اِسرو نے 14 جولائی کو کامیابی کے ساتھ چندریان-3 مشن کو لانچ کیا تھا۔ یہ ہندوستان کا تیسرا مشن ہے جو چاند پر بھیجا گیا ہے۔ اس مشن کے تحت ہندوستان کا منصوبہ چاند کے جنوبی قطب پر چندریان-3 کی سافٹ لینڈنگ ہے۔ ہندوستان اگر اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ہندوستان ایسا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ ابھی تک امریکہ، روس اور چین نے یہ کامیابی حاصل کی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2qfTcWG

جمعہ، 14 جولائی، 2023

چندریان-3 نے لانچنگ کے بعد چاند کی طرف اپنا سفر شروع کیا، پی ایم مودی نے پیش کی نیک خواہشات

کروڑوں ہندوستانیوں کی نظر آج چندریان-3 یعنی ہندوستان کے تیسرے چاند مشن کی لانچنگ پر مرکوز تھی۔ ٹھیک 2.35 بجے شری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز سے چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ ہوئی اور پھر ستیش دھون خلائی مرکز میں جشن کا دور شروع ہو گیا۔ ہندوستان کے تیسرے چاند مشن کا آغاز انتہائی کامیاب ہوا ہے اور اِسرو چیف ایس سومناتھ کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق ایل وی ایم 3-ایم 4 راکیٹ نے چندریان 3 کو آربٹ میں نصب کر دیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ چندریان-3 نے تو چاند کی طرف اپنا سفر بھی شروع کر دیا ہے۔

چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے سائنسدانوں کو مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کی ہے۔ اس وقت پی ایم مودی فرانس میں ہیں اور انھوں نے اپنے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل سے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’چندریان-3 نے ہندوستان کے خلائی سفر میں ایک نیا باب لکھا ہے۔ یہ ہر ہندوستان کے خوابوں اور امیدوں کی اونچی پرواز ہے۔ یہ خاص حصولیابی ہمارے سائنسدانوں کی انتھک محنت و خود سپردگی کا ثبوت ہے۔ میں ان کے جذبے اور صلاحیت کو سلام کرتا ہوں۔‘‘

اِسرو کے سابق سائنسداں نمبی نارائن نے بھی چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ کے لیے اِسرو ٹیم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’’میں اِسرو ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں... امید کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے ایک بہت ہی کامیاب مشن ہوگا۔‘‘ علاوہ ازیں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو، مرکزی وزیر منسکھ منڈاویا، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما، سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش اور دیگر سیاسی و سماجی ہستیوں نے بھی سائنسدانوں کو چندریان-3 کی کامیاب لانچنگ پر مبارکباد پیش کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آج صبح سے ہی ستیش دھون خلائی مرکز میں کافی ہلچل دیکھنے کو مل رہی تھی۔ چندریان-3 کی لانچنگ کی پوری تیاری ہو چکی تھی اور پورے ملک میں اس کی کامیابی کے لیے لوگ دعائیں کر رہے تھے۔ قبل سے مقررہ وقت 2.35 بجے چندریان-3 کو لانچ کیا گیا، اور اس کے ساتھ ہی سبھی کے چہرے کھِل اٹھے۔ چندریان-3 لانچ ہونے کے بعد بوسٹر اور پے لوڈ کو راکیٹ سے الگ کر دیا گیا، پھر چندریان-3 کا لانچ تیسرے اور آخری مرحلے میں پہنچا جب کرایوجنک انجن اسٹارٹ ہوا اور نچدریان کو لے کر وہ آگے کی طرف بڑھ گیا۔ بعد ازاں مشن ڈائریکٹر ایس موہن کمار نے جانکاری دی کہ چندریان-3 کامیابی کے ساتھ آربٹ میں نصب ہو گیا۔ یعنی چندریان-3 کامیاب لانچنگ کے بعد چاند کے سفر پر آگے بڑھ گیا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/QSs60ti

اتوار، 9 جولائی، 2023

ہڑپہ کا زوال اور ویدوں کا سوال

(43ویں قسط)

اس بات کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہڑپہ کی عظیم تہذیب کے زوال کے کئی اسباب ہوں گے۔ لمبے عرصہ کے سوکھے میں کھیتی کی بربادی نے اس تہذیب کی قوت کو ختم کیا اور اس کے ساتھ ہی میسوپوٹامیا (جو اس وقت خود بہت برے دور سے گزر رہی تھی) سے تجارت کے بند ہونے سے کاروبار اور سماجی زندگی بکھرنے لگی۔ وہاں کے لوگوں کے سامنے سواۓ اس کے کوئی اور راستہ نہی تھا کے وہ وہاں سے زیادہ زرخیزمشرق میں گنگا کی وادیوں اور جنوبی ہندوستان کی طرف ہجرت کریں اور پرانی چیزوں کو بھول کر ایک نئی شروعات کریں۔ ہڑپہ کی بکھرتی تہذیب کو ختم کرنے اور لوگوں کی ہجرت میں شاید سٹیپپے کے گھڑسوار جنگو آرینس کے آنے کا بھی آخری اہم رول رہا ہوگا۔

 حالانکہ ہڑپہ کی تہذیب تقریباً 1900 قبل مسیح کے آس پاس ختم ہوئی لیکن اپنے وقت کی سب سے بڑی تہذیب سے جڑے یہ لوگ، اپنی زبان، مذہب، کہانیاں، عقیدے، ریت رواج اور کلچر اپنے ساتھ لیکر کئی لہروں میں اور جگہوں پر جاکر وہاں پہلے سے بسے لوگوں میں گھل مل گئے۔ انھیں وقتوں کے اس پاس آرینس اپنی چراگاہوں میں گھومنے کے نئے طور طریقوں، گھڑ سواری اور metallurgy کے ہنر کو لائے اور اپنے زیادہ اثر رسوخ کی وجہ سے اپنی انڈو یورپین زبان اور مذہبی رسومات کو پھیلانے میں کامیاب ہوئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان پر ہڑپہ کے لوگوں کی تہذیب کے اثر سے بدلاؤ بھی آئے۔

 جنوبی ہندوستان میں ہڑپہ سے ہجرت کرنے والوں کے لیے زیادہ سازگار ماحول تھا کیونکہ وہاں تجارت کی وجہ سے پہلے ہی کچھ ہڑپہ سے آئے لوگ موجود تھے جو اپنی ڈراوڈین زبانوں کو پھیلانے میں کامیاب تھے۔ جینیٹکس کی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کے کہ ہڑپا کے لوگوں نے جنوبی ہندوستان جاکر وہاں لوگوں میں گھل ملکر جو شاخ بنائی وہ ہمارے Ancestral South Indians  ہیں اور مشرق میں آرینس کے ساتھ ملکر جو شاخ بنی وہ Ancestral North Indian ہیں۔ مختصرا ہڑپہ کے لوگ ہماری آبادی کا گوند ہیں یا ہمارے pizza کے اوپر پھیلی ٹماٹر کی چٹنی۔

ان سٹیپپے سے آنے والے اشرافیہ گھوڑوں پر گھومنے کے شوقین لوگوں کو بستیاں یا شہر بسانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔ شاید اسی وجہ سے یہاں پر 500 قبل مسیح کے بعد ہی شہروں کا ابھرنا شروع ہوا یعنی آرینس کے آنے کے تقریبا ایک ہزارسال بعد اور اس بیچ ہڑپہ کے سنسان شہر دھول اور مٹی میں دبتے چلے گئے اور ہمکو ان کی حیرت انگیز تہذیب کے بارے میں صدیوں بعد پتا چلا۔

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گیں

 خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گیں...غالب۔

انتھنی نے اپنی مشور کتاب

"The Horse, the Wheel and the Language”  میں اس کا تفصیل سے ذکر کیا ہے کے ارینس گھاس کے میدانوں میں گھومنے والے جہاں بھی گئے وہاں اپنے اثر سے بسی آبادیوں اور شہروں کو ختم کیا۔ ہم کو یہ نہیں معلوم کے سٹیپپے سے آنے والے مختلف گروپ ہندوستان کن کن راستوں سے آئے لیکن یہ معلوم ہے کہ ویدوں اور خاص کر رگوید ( سب سے پرانا ہے۔ تاریخدانوں کے خیال میں یہ ویدک سنسکرت میں مذہبی منتر 1900 -1200 قبل مسیح میں بنے۔ حالانکہ یہ منتر آرینس کی مذہبی رسومات اور کائینات کی تشکیل کے بیانات ہیں لیکن ان سے آرینس کی زندگی کے طور طریقوں کی معلومات حاصل ہوتی ہے) اس میں اور کھدائی سے حاصل ہوئی ہڑپہ تہذیب میں کوئی مماثلت نہیں ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کی شروع کے ویدوں میں ہڑپہ کے لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ بعد کے ویدوں کے بیانات میں ان دو مختلف تہذیبوں کے فرق کم ہوتے گئے۔

 رگوید کے خاص دیوتا: اندرا، ورونا اور اسوین ہیں جن کا ہڑپہ تہذیب کی حاصل ہوئی جیزوں میں کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی رگوید میں ہڑپہ کی ہزاروں موہروں پر بنی تصویروں کا کوئی ذکر ہے۔ ہڑپہ کی موہروں میں کثرت سے Unicorn کی تصویر اور موہن جودارو کے مشہورGreat Bath  کا کوئی حوالہ رگوید میں نہیں ہے۔ ہڑپہ تہذیب کے شہروں کی کھدائی سے یہ معلوم ہوا کی ان کی مذہبی رسومات میں لنگ (phallus god ) پوجا کی بہت اہمیت تھی لیکن رگوید میں اس کی طرف بہت نفرت کا اظہار ہے۔

 کھدائی کے مشہور ماہر  R۔S۔Bisht

جنہوں نے Dholavira کی کھدائی میں حاصل ہوئی چیزوں کو باریکی سے پرکھا) نے لکھا ہے کہ ان جگہوں پر لنگوں کو توڑنے اور مسخ کرنے کے صاف ثبوت ہیں۔ رگوید میں خاص ہدایت بھی ہے کے ان لنگوں کو اپنے پوجا گھروں کے نزدیک نہ آنے دو اور یہ ذکر بھی کے اندر دیوتا نے ان لنگ دیوتاؤں کو کیسے مار ڈالا۔ Bisht صاحب نے کھدائی کی رپورٹ میں لکھا ہے کے dholavira میں چھہ جگہوں پر لنگ ملے اور ہرجگہ ان کو ارادتاً مسخ کیا گیا تھا۔ مختصرا رگوید لنگ پوجا کی طرف خاص نفرت کا اظہار کرتا ہے جو ہڑپہ کی مذہبی رسومات کا اہم حصہ تھا۔

حالانکہ Bisht صاحب زیادہ تر تاریخ دانوں کے اس خیال سے متفق نہیں ہیں کے ہڑپہ تہذیب ویدک یا آرینس نہیں ہے (شاید سیاست کی وجہ سے) لیکن وہ یہ قبول کرتے ہیں کے وید لنگ پوجا کے خلاف ہیں اور ہڑپہ میں گھوڑے یا اس کی کسی بھی طرح کی تصویر کی غیر موجودگی ایک اہم مسلہ ہے جس کا حل شاید جبھی ہو پائے گا جب ہم ہڑپہ کی لکھی زبان کو پڑھنے میں کامیاب ہوں گے۔

شروع کے ویدوں میں ہڑپہ کی تہذیب کے ذکر کی غیر موجودگی اور اہم باتوں میں بھی صاف دکھائی دیتی ہے۔ مثلا ہڑپہ کو سبھی باہر کے لوگ Meluhha کے نام سے جانتے تھے۔ اپنے عروج کے وقت ہڑپہ کے لوگوں کا Mesopotamia کی تجارتی، سماجی اور سیاسی زندگی سے گہرا تعلق تھا اور ان رشتوں کی سہولت کے لیے انہوں نے عمان کے آس پاس اپنی نوابادیان بنائی جہاں معدنیات حاصل کرنے کے لیے کانکنی بھی شروع کی۔ ہڑپہ تہذیب کے لوگوں کی ان تمام حیرت انگیز کامیابیوں کا ویدوں میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ بغیر گھوڑے کے اہم مسئلہ کے بھی یہ صاف دکھائی دیتا ہے کے ویدوں کی دنیا کا ہڑپہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آرینس اور ہڑپہ تہذیب میں کوئی تعلق نہیں ہے، اس بحث میں گھوڑے کی کہانی کیوں اہم ہے اسکا ذکر اگلی قسط میں ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2q7v9ZC

جمعہ، 7 جولائی، 2023

ٹوئٹر کا میٹا کو 'تھریڈز' بنانے پر قانونی کارروائی کی دھمکی

ٹوئٹر نے سوشل میڈیا کی عالمی کمپنی میٹا کو اپنا نیا ٹیکسٹ ایپ تھریڈزلانچ کرنے پر قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کے مالک ایلون مسک کے وکیل کی جانب سے میٹا کے سی ای او مارک زکر برگ کے نام ایک آن لائن نیوز پورٹل پرایک خط شائع کیا گیا ہے جس میں سوشل میڈیا ایپ تھریڈز کی لانچ کرنے پر میٹا پر ہرجانے کا مقدمہ کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

ایلون مسک کے وکیل الیکس سپارو نے خط میں لکھا کہ، "ٹوئٹر اپنے حقوق املاک دانش کو سختی سے نافذ کرنا چاہتا ہے۔ اور میٹا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ٹوئٹر کے تجارتی راز اور دوسری اہم معلومات استعمال کرنا بند کرے۔" انہوں نے تھریڈز کو ٹوئٹر کی "ہوبہو نقل"قرار دیا ہے۔

ٹوئٹر کے وکیل نے اپنے خط میں الزام لگایا کہ میٹا نے ٹوئٹر کے سابقہ ملازمین کو ملازمت پر رکھا ہے جن کے پاس ان کے بقول ٹوئٹر کے تجارتی رازوں اور اہم معلومات تک رسائی تھی، اور اب بھی ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ یہ خط میٹا کوایک "رسمی نوٹس" ہے تاکہ وہ ممکنہ قانونی کارروائی کی صورت میں تمام متعلقہ دستیاویزات کو محفوظ رکھے۔

میٹا کے ترجمان اینڈی اسٹون نے سپارو کے الزامات کے جواب میں نئے ایپ پر لکھا، "تھریڈز کی انجینئرنگ ٹیم میں ٹوئٹر کا کوئی بھی سابق ملازم نہیں ہے۔ یہ (ایپ) ایک نئی چیز ہے۔" ایسوی ایٹیڈ پریس نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ جب اس نے اس معاملے پر تبصرہ کے لیے ٹوئٹر سے رابطہ کیا تو اسے ایک پوپ ایموجی موصول ہوا۔ ارب پتی کاروباری ایلون مسک کی قیادت میں کمپنی کی جانب سے صحافیوں کے تئیں رویے کاایک معیاری خود کار اظہار ہے۔

تھریڈز ہے کیا؟

میٹا کا تھریڈز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر سے بہت حد تک مشابہ ہے۔ تھریڈز پر مائکروبلاگنگ کا تجربہ ٹوئٹر سے بہت مماثلت رکھتا ہے۔ پانچ سو حرفوں تک ٹوئٹ کی طرح ہی کی کسی بھی پوسٹ کو یہاں پر تھریڈ کہا جاتا ہے۔ اس پوسٹ میں الفاظ کے علاوہ فوٹو، لنک اور پانچ منٹ تک کی ویڈیو بھی پوسٹ کی جا سکتی ہے۔صارفین ٹوئٹر کی طرح ہی کسی بھی تھریڈ کو ری پوسٹ، رپلائی، اور کوٹ کر سکتے ہیں۔

میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ کے بقول تھریڈز کا مقصد ایک دوستانہ جگہ بنانا ہے۔ ان کے بقول یہی وجہ ہے کہ ٹوئٹر کبھی بھی زیادہ کامیاب نہ ہوسکا، اور وہ اس بار کچھ مختلف کرنا چاہتے ہیں۔ تھریڈز کو ایلون مسک کی ملکیت والے ٹوئٹر کے لیے اب تک کا سب سے بڑا چیلنج مانا جا رہا ہے۔ ویسے اس سے پہلے بھی سوشل میڈیا کے ممکنہ حریفوں کا ایک سلسلہ سامنے آتا رہا ہے، تاہم کوئی بھی اب تک ٹوئٹر کے قریب نہیں پہنچ سکا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FQChHxW

جمعرات، 22 جون، 2023

امریکہ میں فروخت ہو سکے گا لیبارٹری میں تیار چکن دو کمپنیوں نے حاصل کی منظوری

واشنگٹن: ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے پہلی مرتبہ دو کمپنیوں کو جانوروں کے خلیوں سے بنائے گئے چکن کو فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اجازت سے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت صارفین کو پیش کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ایجنسی کے ایک ترجمان نے بدھ کو اے ایف پی کو بتایا کہ امریکہ کے محکمہ زراعت نے اپسائیڈ فوڈز اور گڈ میٹ کی سہولیات پر فوڈ سیفٹی سسٹم کا جائزہ لیا اور اس کی منظوری دی۔ ان دو کمپنیوں سے منسلک ریسٹورنٹس میں یہ مصنوعات جلد ہی دستیاب ہوں گی۔

دونوں کمپنیوں کو پہلے نومبر میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے کلیئر کیا تھا ، پھر گزشتہ ہفتے یو ایس ڈی اے نے ان کے پروڈکٹ لیبلز کو کلیئر کر دیا تھا۔

اپسائیڈ فوڈز کی سی ای او اور بانی اوما والیتی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ منظوری بنیادی طور پر اس بات کو بدل دے گی کہ گوشت ہماری میز پر کیسے آتا ہے۔ یہ زیادہ پائیدار مستقبل کی طرف ایک بڑا قدم ہے جو انتخاب اور زندگی کو محفوظ رکھتا ہے۔

’گُڈ میٹ‘ کے شریک بانی اور سی ای اور جوش ٹیٹرک نے بتایا کہ ہماری کمپنی 2020 میں سنگاپور میں لانچ ہوئی اور اب یہ دنیا میں کہیں بھی لیب میں تیار گوشت فروخت کرنے والی واحد کمپنی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/49wvyPf

بدھ، 21 جون، 2023

عالمی سطح پر میڈین موبائل اسپیڈ میں ہندوستان تین پائیدان اوپر چڑھا عالمی رینکنگ میں یو اے ای نمبر 1

ریلائنس جیو اور ایئرٹیل کی بدولت 5جی رول آؤٹ کے سبب ہندوستان مئی ماہ میں عالمی سطح پر میڈین موبائل اسپیڈ کے معاملے میں تین پائیدان چڑھ کر اپریل میں 59ویں مقام سے 56ویں مقام پر پہنچ گیا۔ نیٹورک انٹلیجنس اور کنکٹیویٹی اِنسائٹس پرووائیڈر اوکلا کے مطابق ہندوستان میں میڈین موبائل ڈاؤن لوڈ اسپیڈ اپریل میں 36.78 ایم بی پی ایس سے بڑھ کر مئی میں 39.94 ایم بی پی ایس ہو گئی۔

حالانکہ میڈین فکسڈ براڈبینڈ اسپیڈ میں ہندوستانی گلوبل رینکنگ میں ایک مقام نیچے آ گیا، اپریل میں 83ویں مقام سے مئی میں 84ویں مقام پر آ گیا۔ فکسڈ میڈین ڈاؤن لوڈ اسپیڈ میں ملک کا پرفارمنس اپریل میں 51.12 ایم بی پی ایس سے معمولی اضافہ کے ساتھ مئی میں 52.53 ایم بی پی ایس ہو گئی۔

یو اے ای میں گلوبل میڈین موبائل اسپیڈ سب سے زیادہ رہی، جبکہ ماریشس نے 11 رینک کی چھلانگ لگائی۔ مجموعی گلوبل فکسڈ میڈین اسپیڈ کے لیے بحرین نے رینک میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا۔ عالمی سطح پر 17 مقامات کی چھلانگ لگائی، ساتھ ہی سنگاپور اس مہینے بھی پہلے مقام پر رہا۔

فروری میں ہندوستان میڈین موبائل اسپیڈ میں عالمی سطح پر 66ویں مقام پر تھا، جبکہ مارچ میں ہندوستان 64ویں مقام پر تھا۔ چپ بنانے والی کمپنی کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹیو افسر کرسٹیانو امون نے کہا کہ کوالکام ہندوستان میں لاکھوں باشندوں کی سروس کے لیے ریلائنس جیو کے تعاون سے 5جی فکسڈ وائرلیس ایکسس (ایف ڈبلیو اے) کو چالو کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/tfsirHV

منگل، 20 جون، 2023

گلوبل وارمنگ کے تباہ کن اثرات: ہندوستان و پاکستان میں طوفان کینیڈا کے جنگلات میں اگ

ماحولیاتی سائنس اور اَرضیات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اس کرّۂ اَرض کے درپیش سنگین مسائل سے بخوبی واقف ہیں کہ فی زمانہ ہماری زمین، اس پر آباد تمام جانداروں کو قدرتی ماحول کے سنگین مسائل سے کیا کیا خدشات اور خطرات کا سامنا ہے۔ موسمی تبدیلیاں، زمینی، فضائی اور آبی آلودگی، شہروں میں آبادی کا بڑھتا ہوا دبائو، اوزون کی پرت میں ہونے والے شگاف، کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا مسئلہ، جنگلات کی کٹائی کے منفی اَثرات، جنگلی حیاتیات اور سمندری حیاتیات کی بتدریج تباہی، سمندروں کی سطح کا بلند ہونا، برفانی طوفان، موسلادھار بارشیں، خشک سالی، غذائی قلّت، بھوک، قحط سمیت دیگر مسائل ان میں شامل ہیں۔

امریکی صدر کنیڈی نے کہا تھا کہ ہمارے زیادہ مسائل اور مصائب کا خود انسان ذمہ دار ہے۔ ان مسائل کو انسان ہی کو حل کرنا ہوگا۔ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے 1960 کی دہائی میں آوازیں اُٹھنی شروع ہوئی اور ایک غیرسرکاری تنظیم ’گرین پیس‘کا قیام 1971ء کو ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں عمل میں آیا۔ اس تنظیم کے بنیادی اغراض و مقاصد میں عالمی امن، قدرتی ماحول کا تحفظ اور جوہری تجربات کا خاتمہ ہے۔

ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار سے عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔گرین ہاؤس گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین، نائٹرس آکسائیڈ اور پانی کے بخارات شامل ہیں۔ انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بے تحاشہ اضافہ گلوبل وارمنگ کہلاتا ہے جس کے زیر اثر موسمیاتی تبدیلی کے سبب ہمیں سیلاب اور جنگل کی آگ جیسے واقعات کے خطرے کا سامنا رہتاہے ۔ اس سے یہ امکان بھی بڑھ جاتا ہے کہ ایک ہی موسم میں متعدد آفات رونما ہو سکتی ہیں۔

سمندری طوفان بپرجوائے گزشتہ جمعرات کی شام پاکستان اور ہندوستان سے ٹکرایا جس کے بعد دونوں ممالک کے ساحلی علاقے اور صوبے تیز بارش اور تیز ہواؤں کی لپیٹ میں ہیں۔ بپرجوائے کی تباہ کاریاں ابھی تک جاری ہیں اور اس نے ہندوستانی صوبوں بالخصوص گجرات و راجستھان میں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔

دوسری جانب آگ موسم گرما کا ایک بڑا خطرہ ہے .ہر موسم گرما میں جنگل کی آگ آسٹریلیا سے کینیڈا تک سرخیوں میں آتی ہےجو لاکھوں ایکڑ جنگل کو تباہ کرتی ہے۔ اس وقت کینیڈا ساحل سے ساحل تک آگ کی لپیٹ میں ہے۔ ہزاروں افراد کو نکالا جا چکا ہے، لاکھوں فضائی آلودگی کا شکار ہیں، یہاں تک کہ نیویارک میں بھی دم گھٹ رہا ہے۔گزشتہ سالوں میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب، بحرالکاہل کے جزیروں میں آنے والے طوفان اور افریقہ میں خشک سالی، عالمی سطح پر کسی کارروائی کا نقطہ آغاز پیدا نہیں کرسکے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ’دی گارجین‘ نے سوال کیا ہے کہ اب جب کہ آب و ہوا کے اثرات مغربی طاقت کو متاثر کر چکے ہیں، کیا یہ عالمی شمال میں حکومتوں کو سنجیدہ ہونے کی ترغیب دے گا؟ مزید یہ کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں سائنسی معلومات کی کمی رکاوٹ نہیں ہے۔ اور نہ ہی صاف ستھرے، محفوظ، سستے توانائی کے متبادل کی کمی ہے۔بلکہ جیسا (IPCC – Intergovernmental Panel on Climate Change) یا موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل نے پچھلے سال کہا تھا - رکاوٹ فوسل فیول کے مفادات پر منحصر ہے جو اپنے منافع کو عوام کی حفاظت سے اوپر رکھتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر، بڑے تیل کی کمپنیاں کئی دہائیوں سے آب و ہوا کی بات چیت کر رہی ہیں۔ لیکن نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ پیرس معاہدے میں فوسل فیول، تیل، گیس یا کوئلہ کے الفاظ شامل ہی نہیں ہیں۔ اور دوسری جانب دنیا 2030 تک 110 فیصد زیادہ تیل، گیس اور کوئلہ پیدا کرنے کی راہ پر گامزن ہے ۔ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے، تیل اور گیس کی کمپنیوں نے سچائی میں خلل ڈالا ہے اور ترقی کو روکا ہے۔ انہوں نے عوام کو قائل کرنے کے لیے PR مہموں پر لاکھوں خرچ کیے ہیں کہ فوسل فیول کو پھیلانا محفوظ، معقول اور ناگزیر ہے اور یہ کہ فوسل فیول کا متبادل مسائل کا شکار اور ناقابل اعتبار ہیں۔ اور یہ پروپگنڈا کامیاب بھی ہے۔

دنیا کو فوسل فیول کی پیداوار اور اخراج کو مرحلہ وار ختم کرنے کے منصوبوں کی ضرورت ہے۔ اور اس میں امیر فوسل فیول پیدا کرنے والے ممالک کو عالمی جنوب کے ممالک کو صاف توانائی کی منتقلی میں مدد کرنی چاہیے تاکہ یہ تیز رفتار اور منصفانہ طریقے سے ہو سکے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تیل، گیس اور کوئلہ ہمیں جلا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 101 نوبل انعام یافتہ اور 3000 سے زیادہ سائنسدان فوسل فیول کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/b9hKgGS

پیر، 5 جون، 2023

اسٹرابیری چاند پوری دنیا میں رات کے آسمان کو روشن کرتا ہے۔ تصویریں دیکھیں


 

دنیا بھر کے لوگوں کے ساتھ شاندار اسٹرابیری پورے چاند کے حیرت انگیز نظارے کا علاج کیا گیا جو ہفتے کے آخر میں رات کے آسمان میں چمکتا تھا۔ اسٹرابیری مون، جسے روز چاند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے اوپر، اسٹون ہینج کے پیچھے اور دیگر کئی مقامات پر لوگوں نے پکڑ لیا۔ انٹرنیٹ صارفین نے چمکتے چاند کی خوبصورت تصاویر شیئر کیں، جو کہ گلابی رنگ میں دکھائی دے رہا تھا اور رات کے آسمان پر چمکتا تھا



سی این این کے مطابق اسٹرابیری کے چاند کا جون کے مہینے میں پورے چاند کی رنگت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق قدیم روایات سے ہے۔ اس کا نام مقامی امریکی قبائل سے پڑا ہے "جون کے حامل 'اسٹرابیری کے پکنے کی نشانی کے لیے جو کہ جمع ہونے کے لیے تیار ہیں"، جیسا کہ دی اولڈ فارمرز ایلمانک کے مطابق، جو کہ نوٹ کرتا ہے، "جیسے جیسے پھول کھلتے ہیں اور ابتدائی پھل پکتے ہیں، جون ایک مہینہ ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے بڑی فراوانی کا وقت۔"

ہفتہ، 27 مئی، 2023

مصنوعی خوبصورتی کے لیے مصنوعی ذہانت: کتنی نقصان دہ؟

چہرے پر دانے، کیلیں، داغ، دھبے، سوراخ اور جلد کی کثافت وغیرہ، ہر انسان ان چیزوں سے آشنا ہے تاہم اب سوشل میڈیا نیٹ ورکس میں ان چیزوں کو جس طرح بڑھا چڑھا کر اور شدت سے پیش کیا جا رہا ہے اُس سے ان بے ضابطگیوں کو انسانوں کے لیے قابل فکر بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب سوشل نیٹ ورک پر آپ کو اکثر بہت ہی خوبصورت بالوں، بے عیب جلد اور چمکتے سفید دانتوں کے ساتھ مسکراتے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ اس مصنوعی خوبصورتی کے پیچھے مصنوعی ذہانت کارفرما ہے ۔ یعنی مصنوعی ذہانت مصنوعی خوبصورتی بھی پیدا کرتی ہے۔

چہرے کو خوبصورت بنا کر پیش کرنے کے لیے فلٹر پروگرامز کا استعمال عروج پر ہے اور حالیہ برسوں میں خود فلٹرز زیادہ سے زیادہ نفیس ہو گئے ہیں۔ چہرے کے کسی بھی نقص کو چھپانے سے لے کر چکنی جلد، چہرے کے دانوں کو غائب کرنے اور گھنی بھنووں تک فلٹر کا استعمال پورے چہرے کو بدل دیتا ہے اور ان سب چیزوں کو ممکن بناتا ہے۔

فیس ٹیون ایپ

اسرائیلی کمپنی لائٹ ٹرکس کی فیس ٹیون ایپ کو 200 ملین سے زیادہ بار ڈاؤن لوڈ کیا جا چکا ہے۔ تائیوان کے YouCam میک اپ اور سنگاپور کے BeautyPlus میں سے ہر ایک کے 100 ملین سے زیادہ ڈاؤن لوڈز ہیں۔ کچھ سال پہلے، صرف تصاویر کو بہتر بنایا جا سکتا تھا لیکن اس دوران خود کو فلمانے والے لوگوں کے چہروں کو بھی ویڈیوز میں اتنے نفیس اور جامع طریقے سے تبدیل کیا جا سکتا ہے کہ امیج پروسیسنگ مشکل سے ہی پہچانی جا سکتی ہے۔

دریں اثناء TikTok پر دو نئے فلٹرز نے ہلچل مچا دی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے، ''ٹین ایجر نظرآنا‘‘ دوسری طرف ''بولڈ گلیمر‘‘ فلٹر آپ کے اپنے چہرے کو خوبصورت ہونٹوں، زیادہ چمکدار آنکھوں، پتلی ناک اور بے عیب جلد کے ساتھ ایک خوبصورتی کی مثالی تصویر میں تبدیل کردیتا ہے۔ ان نت نئے فلٹرز کی ایجاد ہونے سے پہلے چہرے کے آدھے حصے کو کبھی ڈھانپ کر اور کبھی برہنہ کر کے ان تبدیلیوں کو بے نقاب کیا جا سکتا تھا، لیکن اب ان نئے فلٹرز سے یہ ممکن نہیں رہا۔

ڈپریشن اور خود خیالی کا ڈس آرڈر

بہت سے صارفین کی نفسیات پر 'خود خیالی ڈس آرڈر‘ کے سنگین نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ برطانوی وائی ایم سی اے کی ایک تحقیق کے مطابق، دو تہائی نوجوان سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے خوبصورتی کا جو معیار پیش کیا جاتا ہے اُس سے شدید نفسیاتی دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ برطانوی نوجوانوں کی تنظیم 'گرل گائیڈنگ‘ کے ایک سروے کے مطابق 11 سے 21 سال کی عمر کی تمام لڑکیوں میں سے تقریباً ایک تہائی اب اپنی کوئی غیر ترمیم شدہ تصویر پوسٹ نہیں کرنا چاہتیں۔

جرمن یوٹیوبر سلوی کارلسن کہتی ہیں،''یہ ایک شیطانی کھیل ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتی ہیں،''جیسے ہی ہم فلٹرز کے ساتھ عوامی طور پر ظاہر ہوتے ہیں، ہمیں پسندیدگیوں کی ایموجیز کی شکل میں مثبت فیڈ بیک ملتا ہے۔ ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے اندر ڈوپامین تیزی سے گردش کر رہا ہے لیکن اگر ہم دیگرانسانوں کو بغیر فلٹر کے پمپلز یا دانوں ، چہرے کے دھبوں یا سیاہ حلقوں کے ساتھکو دکھائیں تو کیا ہوگا؟ کارلسن کہتی ہیں، ہمیں سوشل میڈیا کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے کہ ہم باہر کی دنیا کے سامنے اپنے چہرے کی بہترین شکل پیش کریں، یہ عمل ہمیں تباہ کر دیتا ہے۔‘‘

ریاستی ضابطے زیر بحث

مصنوعی ذہانت کی مدد سے مصنوعی خوبصورتی کے رجحان پر قابو پانے کے لیے کئی ریاستیں قانون سازی پر غور کر رہی ہیں۔ ناروے اور اسرائیل میں، پہلے سے ہی ان تصاویر کے لیے لیبلنگ لازمی ہے جن میں فلٹر کے ذریعے ہیرا پھیری کی گئی ہے۔ فرانس میں ایسے ہی ا‍قدامات کے طور پر تصویر اور ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے ایک مسودہ قانون تیار کیا گیا ہے اور وہاں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے انفلونسرز کو 300,000 یورو تک کا جرمانہ یا چھ ماہ کی قید کی سزا تک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس طرح کے ضوابط پر پہلے ہی سے برطانیہ میں بھی بحث کی جا رہی ہے تاہم جرمنی میں ابھی تک اس طرح کی کوئی قانونی شرط موجود نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/g8ocrVZ

جمعہ، 19 مئی، 2023

امریکی سپریم کورٹ نے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو اعانت ’داعش‘ کے الزام سے کیا بری

واشنگٹن: امریکہ کی سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ جاری کرتے ہوئے گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر کو داعش کی معاونت کے الزام سے بری کر دیا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تینوں بڑی کمپنیوں پر داعش کی معاونت کے الزام پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تین بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔

سپریم کورٹ نے اس قانون کے بارے میں وسیع تر بحث میں داخل ہوئے بغیر اپنا فیصلہ سنایا جس نے ٹیکنالوجی گروپوں کو ایک چوتھائی صدی تک ان کے آن لائن شائع کیے جانے والے مواد پر قانونی چارہ جوئی سے محفوظ رکھا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے دو الگ الگ مقدمات میں فیصلہ سنایا۔

پہلے مقدمے میں نومبر 2015 میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ہلاک ہونے والی ایک نوجوان امریکی خاتون کے والدین نے یو ٹیوب کی پیرنٹ کمپنی گوگل کے خلاف شکایت درج کرائی تھی جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ وہ [یو ٹیوب] کچھ صارفین کو ویڈیوز تجویز کر کے داعش کے پھیلاؤ میں معاونت کر رہا ہے۔

دوسرے مقدمہ میں یکم جنوری 2017 کو استنبول کے ایک نائٹ کلب پر حملے کے شکار افراد کے لواحقین نے کہا تھا کہ فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل کو اس حملے میں "شامل" سمجھا جا سکتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے ‘داعش’ کے لوازمہ ہٹانے کی ٹھوس کوششیں نہیں کیں۔

جسٹس کلیرنس تھامس نے عدالت کے متفقہ فیصلے میں لکھا کہ"حقیقت یہ ہے کہ برے عناصر ان پلیٹ فارمز سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اس بات کی تصدیق کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ مدعا علیہان نے جان بوجھ کر خاطر خواہ مدد فراہم کی اور اس طرح ان تنظیموں کی مدد ہوئی۔"

انہوں نے لکھا کہ "ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شکایت کنندگان کے الزامات یہ ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھے کہ مدعا علیہان نے داعش کو دہشت گردی میں مدد کرتے رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9mBVIsb

جمعہ، 28 اپریل، 2023

اسرائیل نے گائے کے بغیر لیباریٹری میں تیار دودھ کی فروخت کو منظوری دی

تل ابیب: اسرائیلی حکومت نے درست خمیر سے تیار کردہ دودھ اور ڈیری مصنوعات کے لیے اپنا پہلا مارکیٹنگ اور فروخت کا لائسنس جاری کیا ہے۔ اسرائیل انوویشن اتھارٹی (آئی آئی اے) نے جمعرات کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ مقامی فوڈ اسٹارٹ اپ ریملک کو ان روزمرہ کھانے کی اشیاء کی مارکیٹنگ کا لائسنس مل گیا ہے جن کے پروٹین اصلی دودھ کے پروٹین کی طرح ہیں۔

پنیر، دہی اور آئس کریم سمیت ڈیری مصنوعات بنانے کے لیے پروٹین کو وٹامنز، معدنیات اور غیر جانوروں کی چربی کے ساتھ ملایا جاتا ہے۔ ریملک کے مطابق، اس پیداواری عمل سے وہ کولیسٹرول اور لیکٹوز جیسے ناپسندیدہ اجزاء سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں اورمویشی پروری میں استعمال ہونے والے گروتھ ہارمونز اور اینٹی بائیوٹک سے پاک ہیں۔

کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ اس عمل کے لیے روایتی ڈیری کے مقابلے زمین کے وسائل کا ایک حصہ درکار ہوتا ہے، جبکہ پیداوار میں کارکردگی میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوتا ہے۔ آئی آئی اے نے کہا، "یہ فوڈ ٹیکنالوجی کے میدان میں، اسرائیل اور دنیا دونوں میں ایک تاریخی دن ہے۔ حکومت کی طرف سے منظوری پوری اسرائیلی فوڈ ٹیکنالوجی مارکیٹ کے لیے بھی پہلا اور اہم سنگ میل ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dT87HwU