جمعرات، 31 اگست، 2023

وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پلازما کا پتہ لگایا

چنئی: ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے جمعرات کو کہا کہ چندریان-3 خلائی جہاز کے وکرم لینڈر نے چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں پلازما کا پتہ لگایا ہے، جو نسبتاً کم گھنا ہے۔

چندریان 3 لینڈر پر نصب ریڈیو اناٹومی آف مون باونڈ ہائیپر سینسٹیو لونو سیفیئر اینڈ ایٹموسفیئر- لینگموئیر پروب (رمبھا-ایل پی) پے لوڈ نے جنوبی قطبی خطے کی سطح کے قریب قمری پلازما ماحول کی پہلی پیمائش کی ہے۔ ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ چاند کی سطح کے قریب پلازما نسبتاً کم گھنا ہے۔

وکرم لینڈر پر نصب رمبھا-ایل پی نے پلازما کے ماحول کا میپ بھی بنایا ہے۔ 'رمبھا' ریڈیوویو کمیونیکیشن میں لونر پلازما کی وجہ سے ہونے والی آواز کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ جب وکرم اور پرگیان اپنا 14 روزہ مشن مکمل کر لیں گے، ناسا کا پے لوڈ لیزر ریٹرو-ریفلیکٹر اری (ایل آر اے) ایکٹیو ہو جائے گا۔ یہ چاند پر کسی بھی چیز کو ٹریک کرنے میں کارآمد ثابت ہوگا۔

رمبھا-ایل پی پے لوڈ چاند کے پلازما ماحول میں الیکٹران کی کثافت، درجہ حرارت اور برقی میدان کی پیمائش کرے گا۔رمبھا-ایل پی پے لوڈ کے اعداد و شمار کے ابتدائی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ چاند کی سطح کے قریب پلازما نسبتاً کم گھناہے۔اس کا مطلب ہے کہ خلا کی اس جگہ پر زیادہ الیکٹران نہیں ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Bv9lqVp

چندریان-3 کا تفریح سے بھرپور نصف سے زیادہ سفر ختم، مزید تحقیق کے لیے وکرم اور پرگیان کے پاس بچے 135 گھنٹے

اِسرو نے جب 23 اگست کو چاند پر ترنگا لہرایا تو ہر ہندوستانی کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔ اب تک چندریان-3 کے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر نے چاند کی جنوبی سطح پر 9 دن گزار لیے ہیں، یعنی چندریان-3 کا نصف سفر ختم ہو چکا ہے جو کہ تفریح سے بھرپور رہا ہے۔ نصف سے زیادہ کا سفر اس لیے ختم مانا جا رہا ہے کیونکہ چاند پر ایک دن زمین کے 14 دن کے برابر ہوتا ہے۔ 23 اگست کو چاند پر صبح ہوئی تھی اور 14 دن بعد، یعنی 6 ستمبر کو رات ہو جائے گی۔ پھر چاند پر شدید ٹھنڈ والے حالات پیدا ہو جائیں گے جہاں لینڈر ماڈیول اپنا کام بند کر دے گا۔ یعنی اب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے پاس 5 دن (تقریباً 135 گھنٹے) بچے ہیں۔ اپنے سبھی تحقیقی کام وکرم اور پرگیان کو انہی بچے ہوئے وقت میں پورا کرنا ہوگا۔ باقی بچے اوقات میں لینڈر ماڈیول سے سائنسدانوں کو بڑے کمال کی امید ہے، کچھ ایسا کمال جسے دنیا سلام کرے۔

ویسے چندریان-3 نے شروعاتی 9 دنوں میں ہی کئی اہم جانکاریاں فراہم کی ہیں اور جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کر تاریخ رقم کرنے کے بعد کچھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں۔ مثلاً چاند کے جنوبی قطب کی سطح پر درجہ حرارت 50 ڈگری سلسیس تک ہے اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر درجہ حرارت گھٹ کر منفی 10 ڈگری سلسیس تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چاند پر آکسیجن، سلفر، الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز اور سلیکان کی موجودی کی تصدیق بھی ہو چکی ہے۔ اب سبھی کو انتظار ہے کہ ہائیڈروجن کی تلاش کا، اگر یہ ممکن ہوا تو پھر چاند پر پانی کی موجودگی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔

بہرحال، امید کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں چاند پر آنے والے زلزلوں سے متعلق سرگرمیوں، چاند اور زمین کے درمیان سگنل کی دوری، مٹی میں ملنے والے ذرات وغیرہ کی جانچ ہوگی۔ اِسرو کی کوشش ہوگی کہ وقت رہتے یہ سبھی جانچ مکمل کر لیے جائیں، کیونکہ اس کی تیاری سائنسدانوں نے چندریان-3 لانچ کرنے سے پہلے ہی کر لی تھی۔ انھیں پہلے سے ہی معلوم تھا کہ لینڈر ماڈیول کی زندگی چاند پر ایک دن (زمین کے 14 دن) ہی ہوگی۔ ایسا اس لیے کیونکہ چاند کا جنوبی قطب ویسے ہی ڈارک زون کہا جاتا ہے، یہ سیدھے سورج کے رابطے میں نہیں آتا اور یہاں کافی وقت تاریکی رہتی ہے۔ حالانکہ اِس وقت جنوبی قطب پر سورج کی روشنی موجود ہے اور اسی کی مدد سے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کام کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/dzWhuQa

بدھ، 30 اگست، 2023

اسمائل پلیز! چاند پر موجود چندریان 3 کے روور ’پرگیان‘ نے لینڈر ’وکرم‘ کی تصویر کھینچی

چندریان 3 کے روور پرگیان نے آج وکرم لینڈر کی ایک تصویر شیئر کی ہے، جسے اس نے اپنے نیویگیشن کیمرے کا استعمال کرتے ہوئے پہلی بار کلک کیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے چاند کی سطح پر اترنے والا چندریان چاند کے کئی راز کھول رہا ہے۔ روور پرگیان نے آکسیجن، سلفر، ایلومینیم سمیت کئی عناصر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، جبکہ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔ چندریان 3 کے روور پرگیان میں لیزر انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ نے چاند کے قطب جنوبی پر سلفر کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

آکسیجن کا بھی پتہ چل گیا ہے، تاہم ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کرکے یہ جانکاری دی اور یہ بھی بتایا کہ اندرون ان-سیٹو جاری ہیں۔ روور پر نصب ’نیو کیمز‘ کو بنگلورو میں لیبارٹری فار الیکٹرو آپٹکس سسٹم (ایل ای او ایس) نے تیار کیا ہے۔ پچھلے ہفتے چندریان-3 لینڈر وکرم چاند کی سطح پر اترا تھا، جس سے ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا چوتھا ملک بن گیا۔ جبکہ زمین کے قریب ترین آسمانی پڑوسی کے نامعلوم جنوبی قطب پر اترنے والا پہلا ملک گیا۔

نئی تصویر چاند کے جنوبی قطب کے قریب روور کے سلفر کی دریافت کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے۔ اسرو نے کل اعلان کیا کہ روبوٹ نے ایلومینیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹینیم، مینگنیز، سلکان اور آکسیجن کا بھی پتہ لگایا ہے۔ خلائی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا ’’چندریان 3 کے روور پر نصب لیزر انڈسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپی (ایل آئی بی ایس) کے آلے نے قطب جنوبی کے قریب چاند کی سطح کی بنیادی ساخت پر پہلی بار ان-سیٹو جانچ پڑتال کی ہے۔ اس جانچ پڑتال سے چاند کی سطح پر سفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/2CzJDLR

منگل، 29 اگست، 2023

'راکٹ خواتین': بھارت کے چاند مشن کا لازمی جز

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے قمری مشن چندریان تین میں خواتین کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی خواتین سائنسدانوں سے گزشتہ دنوں ملاقات کی۔

مودی نے اس موقع پرکہا، ''اس مشن میں شامل خواتین سائنسدانوں نے اس کی کامیابی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے تعاون کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔ وہ آنے والی نسلوں کو متاثر کریں گی۔''

مودی نے چاند پر چندریان تین کے لینڈنگ اسپاٹ کا نام ''شیو شکتی'' رکھنے کا فیصلہ بھی کیا، یہ نام ہندو اساطیروں میں نسائی قوت کے تصور سے ماخوذ ہے، اور اس مشن پر کام کرنے والی خواتین سائنسدانوں کے لیے یہ ایک خراج تحسین بھی ہے۔ بھارتی خلائی ایجنسی(اسرو) کے 16,000 سے زیادہ ملازمین میں سے 20 سے 25 فیصد کے درمیان خواتین ہیں۔

اس مشن میں 100 سے زیادہ خواتین سائنسدانوں اور انجینیئروں کے شامل ہونے کی اطلاع ہے، جس کا اختتام 23 اگست کو قمری روور کی کامیاب لینڈنگ سے ہوا اور اس طرح بھارت چاند کے قطب جنوبی پر اپنی خلائی گاڑی اتارنے والا پہلا ملک بن گیا۔ اس کے لانچنگ اور گزشتہ ہفتے لینڈنگ کے وقت کنٹرول روم میں بہت سی خواتین بھی موجود تھیں۔

ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں اسرو کے سربراہ ایس سومناتھ نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ چندریان تین مشن کا تصور کرنے، ڈیزائن کرنے اور اس پر عمل کرنے میں خواتین کس طرح شامل تھیں۔ انہوں نے کہا، ''ان میں سے بعض خواتین نے لینڈر کے نازک مرحلے کے دوران نیویگیشن میں اہم کردار ادا کیا۔''

اسرو کی خواتین سائنسدان کون ہیں؟

چندریان تین مشن کے قائدین میں سے ایک ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر کلپنا کلاہستی ہیں۔ انہوں نے بھارت کے دوسرے قمری مشن اور مریخ کے مدارمیں پہنچنے کے مشن میں بھی کردار ادا کیا تھا۔ کلاہستی سیٹلائٹ میں مہارت رکھتی ہیں اور انہوں نے تصویر لینے والے ان جدید ترین آلات کی نگرانی کی، جس کی وجہ سے اسرو زمین کی سطح کی اعلی ریزولوشن والی تصاویر لینے کے قابل بنا۔

ایک دوسری خاتون ریما گھوش روبوٹکس کی ماہر ہیں، جنہوں نے ''پراگیان'' روور کو تیار کرنے میں اہم کام کیا، جو اس وقت چاند کی سطح پر دریافت کا کام کر رہا ہے۔ گھوش نے مودی کے دورے کے بعد میڈیا کو بتایا، ''میرے لیے، پرگیان ایک بچے کی طرح ہے اور وہ چاند پر چہل قدمی کر رہا ہے۔ پہلی بار روور کو چاند پر اترتے دیکھنا ایک شاندار تجربہ تھا۔'' انہوں نے مزید کہا: ''بشمول مریخ مشن کے اس منصوبے کے تحت بہت سے دیگر مشن بھی ہیں جنہیں جلد ہی شروع کیا جائے گا۔''

شمسی ماحول کا مطالعہ کرنے کے لیے اسرو نے 'آدتیہ ایل یکم' نامی ایک منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے ستمبر کے پہلے ہفتے میں لانچ کیے جانے کی توقع ہے۔ ریتو کری دھل ایک اور سینیئر خاتون سائنسدان اور ایرو اسپیس انجینئر ہیں، جنہوں نے سن 1997 میں اسرو میں شمولیت اختیار کی تھی اور کئی اہم خلائی مشنوں کا حصہ رہی ہیں۔ وہ چندریان دو میں پروجیکٹ ڈائریکٹر تھیں، اور مریخ کے مدار میں مشن ''منگلیان'' بھی شامل تھیں۔

بھارت کی ''راکٹ وومن'' کے نام سے مشہور کری دھل کو ''اسرو ینگ سائنٹسٹ ایوارڈ'' بھی مل چکا ہے۔ کری دھل نے سوشل میڈیا پر لکھا، ''چندریان نے چاند پر بھارت کا نام ہمیشہ کے لیے لکھ دیا ہے۔ بھارت چاند کے قطب جنوبی تک پہنچنے والا پہلا ملک بن گیا ہے، میں نے اور دوسروں نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔''

اسرو کی ایک اور سینیئر سائنسدان ندھی پوروال ہیں، جنہوں نے چندریان تین کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے چار سال تک تندہی سے کام کیا۔ انہوں نے چاند کی سطح تک پہنچنے والے لینڈر کو ''جادو'' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرو میں خواتین کی شراکت دیگر شعبوں کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرتی ہے۔

بھارتی خلائی ادارے اسرو میں خواتین کی خاطر خواہ شمولیت کے باوجود ماہرین کا ماننا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے شعبوں میں خواتین کی شرکت کو بڑھانے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہر حیاتیات وینیتا بال نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں کہا، ''یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر قطرہ شمار ہوتا ہے کیونکہ اس کی ایک قدر ہوتی ہے، اس کا کچھ اضافی اثر ہوتا ہے۔ تاہم یقینی طور پر ملک میں ہر سائنسی اور تکنیکی کوشش کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ خواتین کی شرکت میں کمی نہ ہونے پائے بلکہ اس میں تیزی سے اضافہ ہو۔ لیکن ہم اس مقصد سے بہت پیچھے ہیں۔'' ایک حالیہ ملک گیر سروے سے پتا چلا ہے کہ بھارتی اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں کی سائنسدانوں اور سائنس فیکلٹی میں صرف 13 فیصد ہی خواتین ہیں۔ اس سے ان خدشات میں اضافہ ہوتا ہے کہ صنفی تناسب کو بہتر بنانے کے لیے برسوں پہلے کی گئی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی جیسے شعبوں میں خواتین گریجویٹ کا تناسب 43 فیصد ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ تاہم، تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں میں سائنس دانوں، انجینیئروں اور تکنیکی ماہرین میں ان کا تناسب صرف 14 فیصد ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی سابق چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ''ہم سائنسی اداروں میں زیادہ خواتین دیکھ رہے ہیں جو کہ حوصلہ افزا بات ہے۔ لیکن جب ادارہ جاتی قیادت کی بات آتی ہے تو وہاں ایک بڑا خلا پایا جاتا ہے اور اس کا تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ پینل کمیٹیوں میں خواتین کی تعداد کم ہے اور ایک عدم توازن ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔''



from Qaumi Awaz https://ift.tt/O0VvKIB

چندریان-3 کو ملی بڑی کامیابی، جنوبی قطب پر سلفر کی موجودگی کا چلا پتہ، ہائیڈروجن کی تلاش جاری

ہندوستان کے مشن چاند یعنی چندریان-3 کو ایک بہت بڑی کامیابی ہاتھ لگی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) نے 29 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ کیا ہے جس میں جانکاری دی گئی ہے کہ رووَر پر لگے پے لوڈ کے ذریعہ سے چاند کے جنوبی قطب میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔ اسی کے ساتھ اِسرو نے یہ بھی بتایا کہ چاند کے جنوبی قطب پر ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔

اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’اِن-سیٹو (مقررہ جگہ پر) سائنسی تجربات جاری ہیں... پہلی بار اِن-سیٹو میزرمنٹس کے ذریعہ رووَر پر لگی مشین ’لیزر-انڈیوسڈ بریک ڈاؤن اسپیکٹروسکوپ‘ (ایل آئی بی ایس) واضح طور سے جنوبی قطب کے پاس چاند کی سطح میں سلفر کی موجودگی کی تصدیق کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھا گیا ہے کہ ’’امید کے مطابق الومنیم، کیلشیم، آئرن، کرومیم، ٹائٹانیم، مینگنیز، سلیکان اور آکسیجن کا پتہ چلا ہے۔ ہائیڈروجن کی تلاش جاری ہے۔‘‘ مزید جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے بتایا ہے کہ ایل آئی بی ایس نامی یہ پے لوڈ بنگلورو واقع اِسرو کی تجربہ گاہ الیکٹرو-آپٹکس سسٹمز (ایل ای او ایس) میں تیار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل آج ’اِسرو سائٹ‘ کے ایکس ہینڈل سے جانکاری دی گئی تھی کہ پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر دونوں ٹھیک طرح کام کر رہے ہیں اور ایک دوسرے کے رابطے میں ہیں۔ پوسٹ میں یہ بھی جانکاری دی گئی تھی کہ جلد ہی اچھا نتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ غالباً سلفر اور کچھ دیگر اشیاء کی موجودگی سے متعلق جانکاری سامنے آنے کا ہی اشارہ چندریان-3 کے ایکس ہینڈل سے دیا گیا تھا۔ اِسرو کے ذریعہ دی گئی تازہ جانکاری سائنسداں طبقہ کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/4rRwNhI

چندریان-3: ’میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں، جلد ہی اچھا نتیجہ آنے والا ہے‘، پرگیان رووَر نے بھیجا پیغام

ہندوستان کا مشن چاند کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ چندریان-3 سے متعلق جانکاریاں لگاتار اِسرو اور چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے دی جا رہی ہیں۔ تازہ ترین جانکاری یہ سامنے آ رہی ہے کہ چاند کی سطح پر چہل قدمی کر رہے پرگیان رووَر نے دنیا کے باشندوں کو خوشخبری بھرا پیغام بھیجا ہے۔ پہلے تو پرگیان نے دنیا کے باشندوں کی خیریت کی امید ظاہر کی ہے اور پھر بتایا ہے کہ وہ اپنے دوست وکرم لینڈر کے رابطے میں ہے اور دونوں کی ہی صحت بہت اچھی ہے۔ اپنے پیغام میں پرگیان رووَر نے جلد ہی کوئی بڑی خوشخبری دینے کی امید بھی ظاہر کی ہے۔

چندریان-3 کے سوشل میڈیا ہینڈل سے پرگیان رووَر کی ایک علامتی تصویر شیئر کی گئی ہے جس کے ساتھ لکھا گیا ہے ’’ہیلو دنیا کے باشندو! میں چندریان-3 کا پرگیان رووَر۔ امید کرتا ہوں کہ آپ اچھے سے ہوں گے۔ سبھی کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں چاند کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے اپنے راستے پر ہوں۔ میں اور میرا دوست وکرم لینڈر رابطے میں ہیں۔ ہماری صحت اچھی ہے۔ سب سے اچھے نتائج جلد برآمد ہونے والے ہیں۔‘‘

پرگیان رووَر کے اس پیغام کے بعد صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی نگاہیں اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) پر جم گئی ہیں۔ سائنس داں طبقہ کے ساتھ ساتھ عوام بھی اِسرو اور چندریان-3 کے ٹوئٹر ہینڈل پر نئی جانکاری ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ پرگیان رووَر یا وکرم لینڈر اب چاند کے کس راز سے پردہ ہٹانے والا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ دنوں اِسرو نے چاند کی سطح اور اس کے 8 سنٹی میٹر اندر کی درجہ حرارت کی جانکاری دی تھی۔ وکرم لینڈر نے بتایا تھا کہ سطح پر درجہ حرارت تقریباً 50 ڈگری تک، اور سطح سے 8 سنٹی میٹر اندر تقریباً منفی 10 ڈگری محسوس کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CI5MARn

چندریان-3: ہندوستان کی خلائی قوت کا مظہر

چندریان-3 مشن کی کامیابی بلا شبہ عالمی جشن اور خوشی کی ایک وجہ ہے۔ چندریان 3 نے خلا میں ایک ماہ طویل سفر کے بعد چاند کے قطب جنوبی پر لینڈنگ کی ہے۔ 23 اگست کو شام 6:04 بجےچاند کی سطح پر چندریان 3 کی کامیاب لینڈنگ ہندوستان کے خلائی تحقیق کے سفر میں ایک تاریخی لمحہ ہے۔ بلا شبہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے کامیاب مشن نے ہندوستان اور بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کو بے پناہ جوش و خروش اور فخر سے ہمکنارکرایا ۔ یہ کامیابی قوم کی سائنسی صلاحیت، عزم اور انسانی علم کی حدود کو آگے بڑھانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ چندریان 3 کو 14 جولائی 2023 کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ کیا گیا تھا۔

ہندوستان چاند کے قطب جنوبی پر پہنچنے والا پہلا ملک

اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ، اور کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلور میں مشن آپریشن کمپلیکس (MOX) میں خوشیاں منائی گئیں جب بدھ 23 اگست کو شام 6.04 بجے لینڈر وکرم نے چاند کی سطح کو چھوا اور ہندوستان امریکہ، روس اور چین جیسے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا جنہوں نے یہ کارنامہ انجام دیا ہے۔ یوں ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا ، لیکن ہندوستان پہلا ملک ہے جس نے چاند کے قطب جنوبی کے قریب خلائی جہاز اتارا جبکہ چند روز قبل اسی علاقے میں روس کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔تجزیہ کاروں کے مطابق چندریان -3 کی کامیاب لینڈنگ نہ صرف ہندوستان کے وقار کو بڑھاوا دے گی بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی خلائی صنعت کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گی۔

اسرو کے مطابق قطب جنوبی کا اسٹریٹجک انتخاب، تقریباً 70 ڈگری عرض بلد پر، ’سورج سے کم روشن ہونے‘ کی وجہ سے مختلف فوائد پیش کرتا ہے۔ یہ انوکھی خصوصیت مشن کی سائنسی صلاحیت کو بڑھاتی ہے جو گہری کھوج اور تجزیہ کوممکن بناتی ہے۔

چندریان 3 کی واپسی نہیں ہوگی

اسرو کے سربراہ ایس سوما ناتھ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سافٹ لینڈنگ کے بعد چندریان -3 زیادہ تر سائنسی مشن کے مقاصد پورے کر لے گا۔ لینڈر وکرم میں موجود روور پرگیان (دانائی) باہر نکلنے کے بعد 14 دنوں کے لیے(چاند کےایک دن کے برابر ) چاند کی سطح پر تجربات انجام دے گا۔ اس کے بعد اگلے 14 دنوں تک ، جب چاند پر رات ہوگی ، وکرم اور پرگیان غیر فعال ہو جائیں گے کیونکہ وہ شمسی توانائی پر انحصار کرتے ہیں اور صرف سورج کی روشنی میں کام کر سکتے ہیں ۔ تاہم، اسرو کے سائنسدانوں نے سورج کے دوبارہ طلوع ہونے پر ان دونوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ویسے چندریان 3 قمری مشن زمین پر واپسی کے سفر کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔ ایک بار جب ریسرچ مکمل ہو جائے گی، سامان چاند پر چھوڑ دیا جائے گا۔

قبل ازیں خلائی جہاز کا لینڈر وکرم ماڈیول 17 اگست کو پروپلشن ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ الگ ہو گیاتھا۔ وکرم لینڈر تقریباً 2 میٹر لمبا ہے اور اس کا وزن 1,700 کلوگرام سے زیادہ ہے۔ اس کا نام ہندوستانی خلائی پروگرام کے بانی وکرم سارا بھائی کے نام پر رکھا گیا ہے۔

چندریان 3 کا ہدف

چندریان 3 میں لینڈر وکرم، روور پرگیان اور ایک پروپلشن ماڈیول شامل ہے۔مشن کا بنیادی مقصد چاند کے قطب جنوبی کے قریب لینڈر اور روور کو اتارنا اور آخر تک لینڈنگ اور گھومنے کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ سطح اور مدار سے متعدد سائنسی پیمائشیں بھی کرے گا۔ لینڈر وکرم سطح کی حرارتی خصوصیات کی پیمائش کرنے کے لیے، چندر کا سرفیس تھرمو فزیکل ایکسپیریمنٹ (ChaSTE) نامی ایک آلہ لے گیا ہے۔ یہ لینڈنگ سائٹ کے ارد گرد زلزلے کی پیمائش کے لیے انسٹرومنٹ فار لیونر سسمک ایکٹیوٹی(ILSA)، اور دیگر کئی آلات سے لیس ہے۔

چاند کی سطح پر پانی کی تلاش چندریان-3 مشن کے اہم مقاصدمیں شامل ہیں۔ چاند کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں اہم معدنیات ہیں- قطب جنوبی کے علاقے کے بڑے گڑھے مستقل طور پر سائے میں ہیں، سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان پر برف موجود ہے جو مستقبل میں چاند پر انسانی رہائش کو سہارا دے سکتی ہے۔ وکرم لینڈر ایک مقررہ پوزیشن ۔شو شکتی پوائنٹ ،جہاں وہ اترا تھا ، پر رہ کر تجربات کرے گا جبکہ روور پرگیان سائنسی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے چاند کی سطح کا جائزہ لے گا۔

لینڈر وکرم باکس کی شکل کا ہے۔ اس کا سائز (200 x 200 x 116.6) سینٹی میٹر ہے جس میں چار لینڈنگ ٹانگیں اور چار لینڈنگ تھرسٹر ہیں۔ اس کا وزن 1749 کلوگرام ہے، جس میں روور کے 26 کلوگرام بھی شامل ہے۔ یہ سائیڈ ماونٹڈ سولر پینلز کا استعمال کرتے ہوئے 738-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ لینڈر کے محفوظ ٹچ ڈاؤن کو یقینی بنانے کے لیے متعدد سینسر لگائے گئے ہیں ۔ دوسری جانب روور پرگیان (دانائی یا حکمت کے لیے سنسکرت لفظ) کا سائز(91.7 x 75.0 x 39.7) سینٹی میٹر ہے، جو چھ پہیوں والی راکر بوگی وہیل ڈرائیو اسمبلی پر نصب ہے۔ اس میں نیویگیشن کیمرے اور ایک سولر پینل ہے جو50-W توانائی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ اینٹینا کے ذریعے لینڈر کے ساتھ براہ راست بات چیت کرتا ہے۔

چندریان 3 کا ایندھن

چندریان 3 کو لے جانے والے راکٹ میں ٹھوس اور مائع دونوں ایندھن کا استعمال کیا گیا ۔ پہلا مرحلہ میں ٹھوس ایندھن کا استعمال ہوا، جبکہ دوسرے مرحلے میں مائع ایندھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ آخری مرحلے کے لیے، ایک کرائیوجینک انجن استعمال کیا گیا ، جو مائع ہائیڈروجن اور آکسیجن پر چلتا ہے۔ راکٹ کی ایندھن کی گنجائش 27000 کلوگرام سے زیادہ ہے۔

چندریان 3 خلائی قوت کا مظہر

چندریان 3 کی کامیابی ہمیں دوسرے سیارے تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب ہم نہ صرف اس صلاحیت کے حامل مٹھی بھر ممالک میں شامل ہیں بلکہ چاند کے قطب جنوبی پر ترنگا نصب کرنے کے بعد اس ٹیکنالوجی میں سب سے آگے ہیں۔ اور اس وجہ سے، ہم مستقبل میں سیاروں کی تلاش ، وہاں معدنیات کی تحقیق اور خلا سے وسائل کے اخراج سے متعلق تمام فیصلہ سازی کا حصہ ہوں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/C2ZxuR4

پیر، 28 اگست، 2023

چاند کے بعد اب سورج کی باری، دو ستمبر کو روانہ ہوگا ہندوستان کا سولر مشن ’آدتیہ ایل ون‘

نئی دہلی: چندریان-3 کو چاند پر اترنے کے مشن کو کامیابی سے انجام دینے کے بعد انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) اب سورج کو قریب سے جاننے کے لئے 2 ستمبر کو صبح 11.50 بجے آندھرا پردیش میں ملک کے پہلے خلائی آبزرویٹری 'آدتیہ-ایل1' کو سری ہری کوٹا کے خلائی لانچ سینٹر سے لانچ کرے گا۔ خلائی ایجنسی نے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں خلائی لانچ سینٹر کی گیلری سے لانچ دیکھنے کے لیے عوام کو رجسٹریشن کے لیے مدعو کیا ہے۔

اسرو نے بتایا کہ سیٹلائٹ کو سورج - زمین کے سسٹم کے لیگرینگ پوائنٹ ایل ون کے قریب ایک مدار میں بھیجا جائے گا۔ سورج - زمین کا یہ سسٹم زمین سے تقریباََ پندرہ لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ سیٹلائٹ کو لیگرنگ پوائنٹ تک پہنچنے میں تقریباََ چار مہینے لگیں گے۔اس سے فلکیاتی تپش، بڑے پیمانے پر ہونے والے فلکیاتی اخراج، شعلے بھڑکنے سے قبل یا بھڑکنے کی کارروائیوں، موسمیات کی حرکات اور سیاروں کے مابین ذرّات اور فیلڈس کے پھیلاؤ کا مطالعہ کرنے میں مدد ملے گی۔

اسرو نے کہا کہ آدتیہ ایل ون کو ہندوستانی راکٹ پی ایس ایل وی ایکس ایل کے ذریعے لے جایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر آدتیہ ایل ون کو زمین کے نچلے مدار میں رکھا جائے گا۔ بعد میں اس کے مدار کو بتدریج اپ گریڈ کیا جائے گا اور آخر کار یہ زمین کے کشش ثقل کے میدان سے باہر آنے کے بعد سورج کے قریب ایل ون پوائنٹ کی طرف سفر کرنا شروع کر دے گا۔

ہندوستانی خلائی ایجنسی نے کہا کہ سورج کی عمر 4.5 بلین سال ہے اور یہ ہائیڈروجن اور ہیلیم گیسوں کی گرم چمکتی ہوئی گیند ہے جو نظام شمسی کے لیے توانائی کا ذریعہ ہے۔ سورج کی کشش ثقل نظام شمسی کی تمام اشیاء کو ایک ساتھ رکھتی ہے۔ سورج کے مرکزی علاقے میں، جسے 'کور' کہا جاتا ہے، درجہ حرارت 15 کروڑ ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔

اس درجہ حرارت پر کور میں نیوکلئر فیوژن نامی عمل ہوتا ہے جو سورج کو توانائی فراہم کرتا ہے۔ اسرو نے کہا کہ سورج کی نظر آنے والی سطح جسے فوٹوسفیر کہا جاتا ہے، نسبتاً ٹھنڈی ہے اور اس کا درجہ حرارت تقریباً 5500 ڈگری سیلسیس ہے۔ سورج قریب ترین ستارہ ہے اس لیے اس کا دوسرے ستاروں کے مقابلے میں زیادہ تفصیل سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ اسرو نے کہا کہ سورج کا مطالعہ کر کے ہم اپنی کہکشاں کے ستاروں کے ساتھ دیگر کہکشاؤں کے ستاروں کے بارے میں بھی بہت کچھ جان سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iSLFubn

چندریان-3: سمجھداری کے ساتھ آگے بڑھ رہا پرگیان رووَر، 4 میٹر کا گڈھا دیکھا تو فوراً بدل لیا راستہ!

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اِسرو) لگاتار اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے چندریان-3 سے متعلق نئی نئی جانکاریاں دے رہا ہے۔ پیر کے روز اس نے ایک نئی جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ 27 اگست کو چندریان-3 کے رووَر پرگیان کے سامنے 4 میٹر چوڑا ایک کریٹر (گڈھا) آ گیا۔ یہ گڈھا رووَر کے پاس سے تقریباً 3 میٹر آگے تھا۔ ایسے میں رووَر کا راستہ بدلنے کا کمانڈ دیا گیا۔ اب یہ محفوظ طریقے سے ایک نئے راستے پر بڑھ رہا ہے۔ یعنی کمانڈ ملتے ہی رووَر پرگیان نے فوراً اپنا راستہ بدل لیا۔

قابل ذکر ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب پرگیان نے اپنے قریب کریٹر کو دیکھ کر راستہ بدلا ہے۔ اس سے پہلے رووَر تقریباً 100 ملی میٹر کی گہرائی والے ایک چھوٹے کریٹر سے گزرا تھا۔ چاند پر رووَر کے آپریشن سنٹی میٹر-آٹونامس ہے۔ اسے چلانے کے لیے گراؤنڈ اسٹیشنوں کو کمانڈ کو اَپ لنک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ رووَر کے راستے کی پلاننگ کے لیے رووَر کے آن بورڈ نیویگیشن کیمرہ ڈاٹا کو گراؤنڈ پر ڈاؤن لوڈ کیا جاتا ہے۔ پھر گراؤنڈ اور میکانزم ٹیم طے کرتی ہے کہ کون سا راستہ لینا ہے۔ اس کے بعد رووَر کو راستے کی جانکاری دینے کے لیے کمانڈ کو اَپ لنک کیا جاتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح انسان کی آنکھیں ایک خاص دوری تک ہی دیکھ سکتی ہیں، ویسے ہی رووَر کے بھی حدود ہیں۔ رووَر کا نیویگیشن کیمرہ صرف 5 میٹر تک کی ہی تصویر بھیج سکتا ہے۔ ایسے میں ایک بار کمانڈ دینے پر یہ زیادہ سے زیادہ 5 میٹر کی دوری طے کر سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8PYDO1G

اتوار، 27 اگست، 2023

چاند کا قطب جنوبی کتنا گرم ہے؟ چندریان 3 لگایا پتہ

ہندوستان کے چندریان 3 مشن کے روور نے چاند کے جنوبی قطب پر موجود مٹی کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اسرو نے اتوار  یعنی آج 27 اگست کو ٹویٹ کرکے(ایکس) اس بارے میں جانکاری دی۔ اسرو نے کہا کہ خلائی سائنس کی تاریخ میں پہلی بار چندریان 3 نے چاند کے قطب جنوبی کی مٹی کی جانچ کی۔ سطح سے نیچے 10 سینٹی میٹر تک اس کے درجہ حرارت میں فرق تھا۔

اسرو نے ایک ٹویٹ(ایکس) میں لکھا، "یہ پہلا موقع ہے کہ قطب جنوبی کے ارد گرد چاند کی مٹی کے درجہ حرارت کی پروفائلنگ کی جا رہی ہے جیسا کہ پہلی بار کسی ملک نے چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ  لینڈنگ کی ہے۔" اسرو نے مٹی کے درجہ حرارت کا گراف بھی شیئر کیا ہے۔ گراف میں درجہ حرارت -10 ڈگری سیلسیس سے 50 ڈگری سیلسیس سے زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔

خلائی ایجنسی نے کہا’’ chaSTE پے لوڈ قمری سطح کے تھرمل رویے کو سمجھنے کے لیے قطب کے ارد گرد چاند کے اوپری مٹی کے درجہ حرارت کی پروفائل کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں درجہ حرارت کی جانچ ہوتی ہے جو سطح کے نیچے 10 سینٹی میٹر کی گہرائی تک پہنچتی ہے۔‘‘

اسرو نے کہا کہ اس میں درجہ حرارت کے 10 مختلف سینسر ہیں۔ چاند کی سطح کے درجہ حرارت میں فرق اس گراف میں دکھایا گیا ہے۔ یہ چاند کے قطب جنوبی کے لیے اس طرح کا پہلا پروفائل ہے۔ مزید تحقیق بھی جاری ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو اسرو نے بتایا تھا کہ چندریان 3 مشن کے تین میں سے دو مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں، جب کہ تیسرے مقصد کے تحت سائنسی تجربات جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، چندریان-3 مشن کے تمام پے لوڈ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ چندریان 3 نے 23 اگست کو چاند کے جنوبی قطب پر سافٹ لینڈنگ کی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CIWr6Jf

ہفتہ، 26 اگست، 2023

چندریان 3 نے دو اہداف کئے حاصل، تیسرے پر کام جاری: اسرو

نئی دہلی: چندریان 3 کے لینڈر ماڈیول (ایل ایم) کے چاند کی سطح پر اترتے ہی ہندوستان نے تاریخ رقم کر دی۔ ہندوستان یہ کارنامہ انجام دینے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا۔ اس کے ساتھ ہی یہ چاند کے قطب جنوبی پر اترنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ وکرم لینڈر کے قطب جنوبی پر اترنے کے بعد وہاں سے مسلسل تصویریں آ رہی ہیں۔ دریں اثنا، اسرو نے بتایا ہے کہ چندریان 3 نے مشن کے تین اہداف میں سے دو کو حاصل کر لیا ہے، جبکہ تیسرے کے لیے کام جاری ہے۔

اسرو نے 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا کہ ’’چندریان 3 نے مشن کے 3 میں سے دو اہداف حاصل کر لئے ہیں۔ پہلا ہدف چاند کی سطح پر محفوظ اور سافٹ لینڈنگ تھا۔ دوسرا روور کو چاند کی سطح پر اتارنا اور اب تیسرا ان-سیٹو سائنسی تجربہ جاری ہے۔ تمام پے لوڈ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔‘‘

دراصل، لینڈر اور روور چاند کی ساخت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اندرونی مشاہدات اور تجربات کریں گے۔ چندریان 3 چاند پر 14 دن تک کام کرے گا۔ چاند کا ایک دن زمین کے 14 دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یعنی یہاں 14 دن کا دن ہوتا ہے اور 14 دن کی رات ہوتی ہے۔ ایسی صورت حال میں پرگیان صرف ایک قمری دن تک فعال رہے گا۔ اس دوران روور پرگیان پانی، معدنی معلومات کی تلاش کرے گا اور وہاں زلزلے، گرمی اور مٹی کا مطالعہ کرے گا۔

ہندوستان بہت جلد گگن یان کا آزمائشی مشن شروع کرنے جا رہا ہے۔ یہ لانچنگ ڈیڑھ ماہ میں ہونے کا امکان ہے۔ اس لانچنگ میں بغیر پائلٹ گاڑی کو راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ تمام سسٹمز کو چیک کیا جائے گا۔ ٹیم کے ریکوری سسٹم اور تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس مشن میں ہندوستانی بحریہ اور کوسٹ گارڈ بھی شامل ہیں۔

اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں ویوم مترا روبوٹ کو گگن یان کے ذریعے بھیجا جائے گا۔ اسرو نے 24 جنوری 2020 کو ویوم مترا خاتون ہیومنائیڈ روبوٹ متعارف کرایا تھا۔ اس روبوٹ کو بنانے کا مقصد اسے ملک کے پہلے انسان بردار مشن گگن یان کے عملے کے ماڈیول میں بھیج کر خلا میں انسانی جسم کی حرکات کو سمجھنا ہے۔ یہ فی الحال بنگلور میں ہے۔ اسے دنیا کے بہترین خلائی ایکسپلورر ہیومنائیڈ روبوٹ کا خطاب مل چکا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JiUFayj

مشن سورج: چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، بس 7 دنوں کا انتظار

چاند پر فتح حاصل کرنے کے بعد اب اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) سورج کو مٹھی میں کرنے کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ہے۔ ابھی چندریان-3 کی کامیابی کا جشن ختم بھی نہیں ہوا ہے، لیکن ’آدتیہ ایل 1‘ کی لانچنگ کے لیے 2 ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہو گیا ہے۔ یعنی چندریان-3 کے بعد اِسرو ’آدتیہ ایل 1‘ کے ذریعہ نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس مشن کی لانچنگ میں اب محض 7 دن باقی رہ گئے ہیں۔ 2 ستمبر کو جب اِسرو اپنا پہلا مشن سورج لانچ کرے گا تو پوری دنیا کی نگاہیں آندھرا پردیش کے شری ہری کوٹا واقع ستیش دھون اسپیس سنٹر پر مرکوز ہوں گی، کیونکہ یہیں سے ’آدتیہ ایل 1‘ کو لانچ کیا جائے گا۔ آئیے یہاں ہم کچھ پوائنٹس میں اس مشن کی اہمیت و افادیت اور ’آدتیہ ایل 1‘ کی کارگزاریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایل 1 سے کیا مراد ہے؟

  • ایل 1 کا مطلب ہے لیگرینج پوائنٹ 1۔

  • دراصل 1772 میں فرانس کے ریاضی داں جوسف لوئس لیگرینج نے اس پوائنٹ کی دریافت کی تھی، اس لیے اسے لیگرینج پوائنٹ کہتے ہیں۔

  • لیگرینج پوائنٹ ایسے پوائنٹ کو کہتے ہیں جو خلاء میں دو سیاروں کے درمیان ہوتے ہیں، مثلاً سورج اور زمین کے درمیان کا ایک خاص مقام۔

  • اس پوائنٹ پر سورج اور زمین کا کشش ثقل برابر ہوتا ہے، اس لیے یہاں موجود خلائی طیارہ مستحکم رہتا ہے اور بہت کم ایندھن خرچ کر کے چیزوں کا مطالعہ کرتا ہے۔

  • اس پوائنٹ پر سورج گہن کا اثر نہیں پڑتا۔

  • لیگرینج پوائنٹ 1 زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کی دوری پر ہے اور اسی لیگرینج پوائنٹ 1 سے ہندوستان کا مشن سورج یعنی آدتیہ ایل 1 سورج کے بارے میں تحقیق کرے گا۔

5 سال تک سورج کا مطالعہ کرے آدتیہ ایل 1:

  • یہ پہلا ہندوستانی مشن ہوگا جو سورج کا مطالعہ کرے گا۔

  • اس مشن کے دوران شمسی طوفانوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

  • سورج سے جو لپٹیں نکلتی ہیں، ان کے بارے میں جانکاری حاصل کی جائے گی۔

  • سورج کی طرف سے جو بھی ذرات یا شعاعیں زمین پر آتی ہیں، ان پر تحقیق کی جائے گی۔

  • سورج کے باہری احاطہ کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔

  • شمسی طوفان کے زمین پر ہو رہے اثرات کو ڈیکوڈ کیا جائے گا۔

آدتیہ ایل 1 کس طرح کام کرے گا؟

  • آدتیہ ایل 1 میں 7 پے لوڈ یعنی خاص مشینیں لگی ہوں گی۔

  • یہ مشینیں سورج کی شعاعوں کی جانچ الگ الگ طرح سے کریں گی۔

  • شمسی طوفانوں سے متعلق شماریات کی جائیں گی۔

  • آدتیہ ایل 1 میں ایچ ڈی (ہائی ڈیفنشن) کیمرے لگے ہوں گے۔

  • سورج کی ہائی ریزولوشن تصویریں دیگر ڈاٹا کے ساتھ ہمیں بھیجی جائیں گی۔ اس ڈاٹا پر اِسرو کے سائنسداں بعد میں تحقیق کریں گے۔

آدتیہ ایل 1 اور اس کا بجٹ:

  • پہلی مرتبہ 2016 میں مشن سورج کے لیے 3 کروڑ روپے کا تجرباتی بجٹ دیا گیا۔

  • آدتیہ ایل 1 کے لیے 2019 میں 378 کروڑ روپے کا بجٹ جاری کیا جس میں لانچنگ کا خرچ شامل نہیں تھا۔

  • بعد میں لانچنگ کے لیے 75 کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیا گیا۔

  • مجموعی طور پر آدتیہ ایل 1 مشن پر اب تک مجموعی طور پر 456 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ یعنی کئی ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں سے بھی آدتیہ ایل 1 کا بجٹ کم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NqDGdRQ

چاند کی سطح پر ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے پاس نئے راز کی تلاش کر رہا پرگیان رووَر، اِسرو نے جاری کی نئی ویڈیو

چندریان-3 کے چاند پر کامیاب سافٹ لینڈنگ کے بعد چاند کی سطح پر اس کا سفر بھی کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اِسرو نے چندریان-3 مشن کی کامیابی کے بعد اب پرگیان رووَر کے تعلق سے ایک نئی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر شیئر کی ہے۔ اس ویڈیو میں پرگیان رووَر چاند کے جنوبی قطب پر راز کی تلاش میں ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے آس پاس گھومتا اور ٹہلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چاند کی سطح پر کچھ گڈھے بھی ہیں لیکن رووَر بہت دھیان سے اپنا کام کر رہا ہے۔

اس ویڈیو کو ریلیز کرنے کے ساتھ اِسرو نے لکھا ہے کہ ’’یہاں نیا کیا ہے؟ اسی کی تلاش میں پرگیان رووَر ’شیو شکتی پوائنٹ‘ کے آس پاس گھوم رہا ہے۔‘‘ اس سے قبل 25 اگست کو اِسرو نے ایک ویڈیو جاری کیا تھا جس میں وکرم لینڈر سے پرگیان رووَر کو اترتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ رووَر کے چاند کی سطح پر اترنے کی یہ ویڈیو 23 اگست کی تھی جسے اِسرو نے 25 اگست کو جاری کیا تھا۔ آج اِسرو نے جو ویڈیو جاری کی ہے اس کے بارے میں ویڈیو کے شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ یہ 25 اگست کی ہے۔ ویڈیو میں وکرم لینڈر کا کچھ حصہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرگیان رووَر وکرم لینڈر کے آس پاس ہی گھوم رہا ہے اور وہاں کی جانکاریاں حاصل کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ چندریان-3 کا پورا مشن محض 615 کروڑ روپے کے بجٹ میں پورا ہوا ہے۔ 14 جولائی کو یہ مشن لانچ کیا گیا تھا اور 23 اگست کو لینڈر ماڈیول نے شام تقریباً 6 بجے چاند کی سطح پر قدم رکھا۔ ناسا سمیت دنیا کی کئی خلائی ایجنسیوں نے اس حصولیابی کے لیے اِسرو کو سلام کیا ہے۔ دنیا کے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ انتہائی کم بجٹ میں ہی ہندوستان کا چندریان-3 چاند کے اس جنوبی قطب پر پہنچ گیا جہاں تک ابھی تک کسی ملک نے رسائی حاصل نہیں کی۔ چندریان-3 کی کامیابی کے ساتھ ہی ہندوستان چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک بھی بن گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0T9wc1u