جمعہ، 22 ستمبر، 2023

نہیں جاگ رہے وکرم اور پرگیان! اِسرو نے کہا ’کوشش جاری رہے گی‘

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے بیان دیا تھا کہ وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے یعنی جگانے کی کوشش 22 ستمبر کو نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ کوشش 23 ستمبر کو ہوگی۔ لیکن اِسرو کے آفیشیل ایکس ہینڈل سے تازہ اَپڈیٹ میں بتایا گیا ہے کہ آج وکرم اور پرگیان کو جگانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام ہو گئی۔ حالانکہ اِسرو کا یہ بھی کہنا ہے کہ لینڈر ماڈیول کو فعال کرنے کی کوشش جاری رہے گی اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں کامیابی مل جائے۔

اِسرو نے جمعہ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’’وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ان کے فعال ہونے کی حالت کا پتہ لگایا جا سکے۔ فی الحال ان کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔ رابطہ قائم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔‘‘ اِسرو نے واضح کیا ہے کہ بھلے ہی پہلے کوشش میں وکرم اور پرگیان کو دوبارہ ایکٹیویٹ (فعال) کرنے میں کامیابی نہیں ملی ہو، لیکن آگے آنے والے دنوں میں بھی اس سے رابطہ کر دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی۔

قابل ذکر ہے کہ ستمبر ماہ کے شروع میں اِسرو نے وکرم اور پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا تھا اور کہا تھا کہ 14 دنوں کے بعد جب چاند پر پھر سے سورج طلوع ہوگا تب دونوں ماڈیول کو دوبارہ ایکٹیویٹ کرنے کی کوشش ہوگی۔ حالانکہ کئی سائنسدانوں نے دونوں کے دوبارہ فعال ہونے کی کم ہی امید ظاہر کی تھی۔ اگر وکرم اور پرگیان دوبارہ فعال ہو جاتے ہیں تو یہ کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بھی بن جائے گا۔

اس سے قبل آج صبح اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے... رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fCIDdP8

چندریان-3: ٹل گیا وکرم اور پرگیان کو فعال کرنے کا پروگرام، اب کل کی جائے گی کوشش

جو لوگ چندریان-3 مہم پر گہرائی سے نظریں بنائے ہوئے ہیں اور اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کب وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کے فعال ہونے کی خوشخبری ملے گی، انھیں مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ دراصل اِسرو کے سائنسدانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ آج لینڈر اور رووَر کو فعال کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، بلکہ اس کے لیے مزید ایک دن کا انتظار کرنا ہوگا۔ یعنی اب چاند کے جنوبی قطب پر نیند کی آغوش میں پڑے وکرم اور پرگیان کو 23 ستمبر کے روز جگایا جائے گا۔

اِسرو کے احمد آباد واقع اسپیس ایپلی کیشنز سنٹر (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ’’پہلے ہم نے 22 ستمبر کی شام کو پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر کو پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن کچھ اسباب کو دیکھتے ہوئے اب ہم اسے کل یعنی 23 ستمبر کو کریں گے۔ ہمارے پاس لینڈر اور رووَر کو سلیپ موڈ سے باہر نکالنے اور اسے پھر سے فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ ہمارا منصوبہ رووَر کو تقریباً 350-300 میٹر تک لے جانے کا تھا۔ لیکن کچھ وجوہات سے... رووَر وہاں 105 میٹر آگے بڑھ گیا ہے۔‘‘

اس سے قبل نیلیش دیسائی نے کہا تھا کہ اگر قسمت نے ساتھ دیا تو دونوں (پرگیان رووَر اور وکرم لینڈر) سے نہ صرف رابطہ ہوگا، بلکہ ان کے پارٹس بھی استعمال کرنے کی حالت میں ملیں گے۔ دیسائی کے مطابق گزشتہ 20 دن میں دونوں نے منفی 120 سے منفی 200 ڈگری سلسیس جتنی سردی کو برداشت کیا ہے۔ 20 ستمبر کی شام سے چاند کے جنوبی قطب پر سورج کا طلوع شروع ہو گیا ہے اور دھیرے دھیرے وکرم اور پرگیان کے سولر پینل بھی ان کی بیٹری دھیرے دھیرے چارج کرنے لگیں گے۔

اس درمیان بھونیشور کے پتھانی سامنت پلانیٹوریم سے سبکدوش سائنسداں سویندو پٹنایک کا کہنا ہے کہ لینڈر اور رووَر نے چاند کی سطح پر جمع سبھی ڈاٹا زمین پر پہلے ہی بھیج دیا تھا۔ اگر وہ پھر سے فعال ہوتے ہیں تو یہ کسی تحفہ جیسا ہوگا۔ منفی 250 ڈگری درجہ حرارت میں الیکٹرانک مشینوں کا ٹھیک رہ پانا بہت مشکل ہے۔ پھر بھی سبھی کو امید ہے کہ یہ ہمارے لیے پھر سے کام کرنے لائق بن پائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/saIjAvi

جمعرات، 21 ستمبر، 2023

چندریان-3: ’چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار‘، رووَر اور لینڈر کو کل ہی کیا جائے گا فعال!

چندریان-3 کے لیے 22 ستمبر یعنی جمعہ کا دن بہت اہم ثابت ہونے والا ہے۔ اِسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چاند پر مکمل طلوع آفتاب کا انتظار ہے اور 22 ستمبر کو سلیپ موڈ میں چاند کے جنوبی قطب پر موجود لینڈر ماڈیول یعنی وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر کو فعال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے ایسی خبریں سامنے آ رہی تھیں کہ لینڈر ماڈیول کو 23 ستمبر یعنی ہفتہ کے روز فعال کیا جائے گا، اور اگر اس میں کامیابی ملی تو یہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہوگا۔ کیونکہ چندریان-3 نے پہلے ہی کامیابی کی سبھی منزلیں طے کر لی ہیں، اور اگر سلیپ موڈ سے لینڈر ماڈیول ٹھیک طرح فعال ہو جاتا ہے تو یہ ’بونس‘ یعنی تحفہ کی مانند ہوگا۔

اِسرو (ایس اے سی) کے ڈائریکٹر نیلیش دیسائی نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے جانکاری دی ہے کہ ’’ہم 22 ستمبر کو لینڈر اور رووَر دونوں کو فعال کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر ہماری قسمت اچھی رہی تو اس میں کامیابی ملے گی۔ پھر ہمیں مزید پریکٹیکل ڈاٹا حاصل ہوں گے جو چاند کی سطح کی مزید تحقیق میں معاون ہوں گے۔‘‘

چندریان-3 مشن سے متعلق مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کا بیان بھی جمعرات کو سامنے آیا۔ انھوں نے لوک سبھا میں کہا کہ ملک کو اب کچھ ہی گھنٹوں میں پرگیان اور وکرم کے نیند سے بیدار ہونے کا انتظار ہے۔ ایسا ہوتے ہی اس طرح کی کامیابی حاصل کرنے والا ہندوستان دنیا کا پہلا ملک بن جائے گا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ چاند پر 14 دن کی رات ختم ہونے والی ہے اور ہمیں بے صبری سے وہاں طلوع آفتاب اور اس کے ساتھ ہی وکرم اور پرگیان کے فعال ہونے کا انتظار ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چاند پر آفتاب طلوع ہونا (سورج نکلنا) شروع ہو چکا ہے اور بس مکمل طلوع کا انتظار ہے، یا پھر یوں کہیں کہ سورج کی روشنی سے لینڈر اور رووَر کے سولر پینل کو ریچارج ہونے کا انتظار ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/vwOVG95

چندریان-3: کیا لینڈر اور رووَر پھر ہوگا فعال؟ چاند پر ہو رہا سورج کا طلوع

ویسے تو چندریان-3 مشن کامیابی کے ساتھ پورا ہو چکا ہے، لیکن امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ مشن مزید آگے بڑھ سکتا ہے۔ ایسا ممکن ہو پائے گا اگر سلیپ موڈ میں ڈالا گیا وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر آئندہ 23 ستمبر کو ایک بار پھر فعال ہو جائے۔ اِسرو سے جڑے خلائی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول ایک بار پھر فعال ہو سکتا ہے، اور اگر ایسا ہوا تو یہ چاند مشن میں ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ایسا ہونے پر چاند کے جنوبی قطب پر مزید تحقیقی عمل انجام دیے جا سکیں گے۔

اِسرو کے اسپیس ایپلی کیشن سنٹر کے ڈائریکٹر نلیش دیسائی نے بتایا کہ گزشتہ 3 ستمبر کو چاند کے جنوبی قطب پر رات ہونے کے سبب چندریان-3 کے لینڈر وکرم اور رووَر پرگیان کو سلیپ موڈ میں ڈال دیا گیا تھا۔ ان دونوں پر سولر پینل لگائے گئے ہیں اور چاند کے جنوبی قطب پر جب دن نکلے گا تو یہ پینل ریچارج ہو سکتے ہیں۔ نلیش نے بتایا کہ ’’ہمارے منصوبہ کے مطابق 23 ستمبر کو لینڈر وکرم اور رووَر از سر نو فعال ہو سکتے ہیں۔ چاند پر اب دن نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ حالانکہ یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ رات کے دوران جب چاند کی سطح پر درجہ حرارت منفی 120 ڈگری سلسیس سے منفی 200 ڈگری سلسیس تک گر جاتا ہے تو کیا سولر پینل پھر سے ٹھیک طرح کام کر پائیں گے یا نہیں۔‘‘

نلیش دیسائی کا کہنا ہے کہ ہم اس کی امید کر رہے ہیں کہ لینڈر پر موجود چار سنسرز اور رووَر پر موجود دو سنسرز میں سے کچھ دوبارہ کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم آگے بھی چاند پر نئے تجربات کر پائیں گے۔

قابل ذکر ہے کہ چاند پر زمین کے 14 دنوں کے برابر دن اور رات ہوتے ہیں۔ جب چندریان-3 کا لینڈر چاند پر اترا تھا تو اس وقت چاند پر دن نکل رہا تھا۔ یہی وجہ رہی کہ 14 دنوں تک کام کرنے کے بعد لینڈر اور رووَر سلیپ موڈ میں چلے گئے تھے۔ 14 دنوں تک لینڈر ماڈیول نے بہت اچھا کام کیا اور کافی ڈاٹا اِسرو نے جمع کر لیے ہیں۔ خلائی سائنسداں ڈاکٹر آر سی کپور سے جب لینڈر اور رووَر کے پھر سے فعال ہونے کو لے کر سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’لینڈر اور رووَر اپنا کام کر چکے ہیں۔ جب دونوں کو سلیپ موڈ میں ڈالا گیا تو دونوں کے سبھی پارٹس صحیح طریقے سے کام کر رہے تھے۔ اِسرو کے پاس پہلے سے ہی کافی ڈاٹا اکٹھا ہو گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہو سکتا ہے میشنیں پہلے جیسی کنڈیشن میں پھر سے کام نہ کر سکیں، لیکن پھر بھی کچھ امید باقی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اچھی خبر مل جائے۔ چاند پر دن نکلنا شروع ہو گیا ہے۔ رووَر کو پہلے سے ہی اس طرح سے رکھا گیا ہے کہ جب سورج نکلے تو اس کی روشنی سیدھے رووَر کے سولر پینلز پر پڑے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/3Jd5XbM

ایلون مسک نے انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے والے پہلے مریض کی تلاش شروع کر دی

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک جلد ہی انسانی دماغ میں کمپیوٹر چپ لگانے جا رہے ہیں۔ مسک کی کمپنی نیورالنک کو انسانی دماغ میں ایک چپ لگانے کی اجازت مل گئی ہے اور کمپنی اب پہلے شخص کی تلاش میں ہے۔ ابتدائی طور پر یہ چپ ایسے شخص کے سر میں لگائی جائے گی جو گردن کی چوٹ یا امیوٹروفک لیٹرل سکلیروسیس (ALS) کی وجہ سے مفلوج ہو گیا ہے۔

مسک کی کمپنی نے مریضوں کی تلاش شروع کر دی ہے اور یہ ٹرائل جلد شروع ہو گی۔ کمپنی کو اس تحقیق کو مکمل کرنے میں 6 سال لگیں گے۔ اگر ٹرائل کامیاب ہوتی ہے تو نیورالنک کی وجہ سے فالج زدہ افراد مستقبل میں اچھی زندگی گزار سکیں گے۔

ایلون مسک 10 افراد پر نیورالنک چپ آزمانا چاہتے تھے لیکن امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے حفاظتی وجوہات کی بنا پر 10 افراد پر کمپنی کو منظوری نہیں دی۔ تاہم اس بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں کہ کتنے لوگوں کو اس کے لیے منظوری دی گئی ہے۔

ایلون مسک کی کمپنی انسانی آزمائشوں کے حصے کے طور پر روبوٹ کے ذریعے انسانی دماغ میں برین کمپیوٹر انٹرفیس   ( BCI )کے طور پر لگائے گی۔ اس کی مدد سے خیالات کو عمل میں تبدیل کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر کمپنی کا ہدف کی بورڈ اور ماؤس جیسے بیرونی آلات کو چپ کی مدد سے کنٹرول کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ آلات خیالات کی بنیاد پر خود بخود کام کریں گے۔ 2020 میں، نیورلنک نے کام کرنے والے( BCI )کا مظاہرہ کیا جس میں ایک کمپیوٹر کرسر کو بندر کے دماغ سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔

نوٹ کریں، یہاں تک کہ اگر بی سی آئی انسانی آزمائش کامیاب ہو جاتی ہے، تو کمپنی کو اس چپ کو تجارتی طور پر لانے میں 10 سال سے زیادہ کا وقت لگے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مفلوج افراد 1 دہائی کے بعد ہی اس کا فائدہ حاصل کر سکیں گے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5L8d9pN

جمعہ، 15 ستمبر، 2023

’ہماری زمین کی وجہ سے چاند پر بن رہا پانی!‘ چندریان-1 کے ڈاٹا سے سائنسداں پُرجوش

ایک طرف ہندوستانی سائنسداں چندریان-3 کی کامیابی کے بعد حاصل ڈاٹا کی تحقیق میں مصروف ہیں، اور دوسری طرف چندریان-1 کے ڈاٹا پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ایک اہم راز سے پردہ اٹھایا ہے۔ اِسرو کی طرف سے 2008 میں بھیجے گئے چندریان-1 نے چاند پر پانی کی موجودگی کا اندازہ تو پہلے ہی لگا لیا تھا، اب ایک نئی تحقیق میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ چاند پر پانی ہماری زمین کی وجہ سے بن رہا ہے۔

دراصل چندریان-1 مشن کے ریموٹ سنسنگ ڈاٹا کا تجزیہ کرنے والے سائنسدانوں نے اخذ کیا ہے کہ ہماری زمین سے جانے والے ہائی انرجی الیکٹران چاند پر پانی بنا سکتے ہیں۔ امریکہ کے منووا میں ہوائی یونیورسٹی کے محققین کی قیادت والی ٹیم نے پایا کہ ہماری زمین کی پلازمہ شیٹ میں یہ الیکٹران چاند کی سطح پر ایروزن عمل سے چٹانوں اور معدنیات کے ٹوٹنے یا گھلنے میں تعاون دے رہے ہیں۔ نیچر ایسٹرونومی جرنل میں شائع تحقیق میں اخذ کیا گیا کہ الیکٹرانس نے چاند پر پانی بنانے میں مدد کی ہوگی۔

تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پروٹون جیسے اعلیٰ توانائی ذرات سے بنی شمشی ہوا چاند کی سطح پر بمباری کرتے ہیں اور مانا جاتا ہے کہ چاند پر پانی بننے کے ابتدائی طریقوں میں سے یہ ایک ہے۔ ٹیم نے چاند کے ہماری زمین کے میگنیٹوٹیل سے گزرنے پر سطح کے موسم میں ہونے والی تبدیلیوں کی جانچ کی۔ تحقیق میں چاند کے ایک ایسے علاقے کا پتہ چلا جو شمسی ہوا سے تقریباً پوری طرح سے بچا ہے لیکن سورج کی روشنی ’فوٹون‘ سے نہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GDk7WQX

جمعرات، 14 ستمبر، 2023

’ہماری دنیا کے علاوہ بھی دنیا موجود!‘ ناسا نے یو ایف او پر جاری کی رپورٹ

امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 14 ستمبر کو ایک حیران کرنے والی رپورٹ جاری کی۔ یہ رپورٹ یو ایف او (غیر شناخت شدہ اڑن طشتری) پر مبنی ہے جو 33 صفحات پر مشتمل ہے۔ ناسا نے یو ایف او سے متعلق تقریباً ایک سال کی اسٹڈی کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ اس میں ناسا نے بتایا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ غیر واضح واقعات کے پیچھے ایلینس (دوسری دنیا کے باشندے) ہی ہیں، لیکن اس امکان سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ناسا کے مطابق یو ایف او پر تفصیلی مطالعہ کے لیے نئی سائنسی تکنیکوں اور جدید سیٹلائٹس کی ضرورت ہوگی۔ رپورٹ میں ناسا نے مانا ہے کہ یو ایف او ہمارے سیارہ کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہیں۔ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ناسا کے منیجر بل نیلسن نے کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس کائنات میں اَرتھ (زمین) کے علاوہ بھی زندگی ہے۔ ناسا کے مطابق جن نئے مشن سے متعلق منصوبہ بنایا جا رہا ہے، ان میں سیارہ کی فضا اور سطح پر ایلینس تکنیک کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کریں گے۔ ناسا نے یہ بھی کہا کہ وہ یو ایف او پر تحقیق کے لیے نئے ڈائریکٹر کا اعلان کریں گے۔

رپورٹ میں جانکاری دی گئی ہے کہ زمین پر نظر رکھنے والی سیٹلائٹس میں اسپیٹیل ریزولوشن کی کمی ہوتی ہے، جس کے سبب یو ایف او یا یو اے پی جیسے چھوٹے آبجیکٹس پر نظر نہیں رکھی جا سکتی۔ پنٹاگن نے قبل میں ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں بحریہ کے پائلٹس نے امریکہ کے مشرقی اور مغربی ساحلوں پر کچھ پراسرار ایئرکرافٹ دیکھے تھے۔ ان ایئرکرافٹس کی رفتار موجودہ ہوابازی تکنیک سے بھی زیادہ تھی، ساتھ ہی ایئرکرافٹ کی بناوٹ بھی پراسرار تھی، جس میں یہ پتہ نہیں پایا کہ فلائٹ کو کنٹرول کہاں سے کیا جا رہا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اے آئی (آرٹیفیشیل انٹلیجنس) یعنی مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ تکنیک کی مدد سے یو ایف او کو لے کر مطالعہ کیا جائے گا۔ اس سال کے شروع میں ناسا کی ایک ٹیم نے زور دے کر کہا تھا کہ یو ایف او سے جڑے مافوق الفطرت زندگی کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے، لیکن اب تازہ رپورٹ میں ناسا نے اعتراف کیا ہے کہ ہمارے سیارہ کے باہر بھی زندگی ہو سکتی ہے۔ ناسا نے کہا کہ ابھی مناسب ڈاٹا نہیں ہے جس کی وجہ سے یو ایف او کو لے کر کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yH9TzAX

ہفتہ، 9 ستمبر، 2023

آدتیہ ایل-1 نے تیسری مرتبہ کامیابی کے ساتھ تبدیل کیا مدار

بنگلورو: ہندوستان کے شمسی مشن آدتیہ ایل ون نے تیسری بار مدار تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ معلومات انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے دی ہے۔ اسرو نے ٹوئٹ کیا کہ آدتیہ ایل ون نے بنگلورو کے اسٹراک سینٹر سے تیسری بار زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کا عمل کامیابی سے مکمل کیا ہے۔ آدتیہ ایل ون کو ہٹانے کے عمل کو بنگلورو میں اسرو کے ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اور کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) سے ہدایت کی گئی تھی۔ اس مشن کی پیشرفت کا پتہ ماریشس، بنگلورو اور پورٹ بلیئر میں اسرو کے گراؤنڈ اسٹیشنوں سے لگایا گیا۔

اسرو کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق آدتیہ ایل ون کا نیا مدار 296 کلومیٹر - 71767 کلومیٹر ہے۔ اب اگلا عمل 15 ستمبر کو صبح 2 بجے کے قریب ہوگا۔ خیال رہے کہ سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے اسرو نے 2 ستمبر کو آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے اپنے باوقار مشن آدتیہ ایل ون کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا تھا۔

آدتیہ ایل ون پہلے ہی زمین کے دو مدار تبدیل کر چکا تھا۔ اس نے پہلا مدار 3 ستمبر کو اور دوسرا مدار 5 ستمبر کو تبدیل کیا اور اب ہندوستان کے پہلے شمسی مشن نے اپنا تیسرا مدار کامیابی سے تبدیل کر دیا ہے۔ زمین کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے چوتھی مشق 15 ستمبر کو دوپہر 2 بجے کے قریب شیڈول ہے۔ اسرو کے مطابق آدتیہ ایل ون زمین کے مدار میں 16 دن گزارے گا۔ اس مدت کے دوران، آدتیہ ایل ون کے مدار کو تبدیل کرنے کے لیے 5 بار ارتھ باؤنڈ فائر کیا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/iwOSyZn

چندریان-2 نے کھینچی چاند پر سوئے چندریان-3 کے لینڈر کی تصویر

چاند کے جنوبی قطب پر اس وقت رات ہے اور اِسرو کے سائنسداں 22 ستمبر کا انتظار کر رہے ہیں جب وہاں دن کی روشنی ہوگی۔ سائنسداں امید کر رہے ہیں کہ چاند پر رات ہونے سے ٹھیک پہلے سلیپ موڈ میں ڈالے گئے وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر 22 ستمبر کو ایک بار پھر بیدار ہوں گے اور چندریان-3 پر از سر نو تحقیقی کام شروع ہو جائے گا۔ اس درمیان چاند پر سوئے وکرم لینڈر کی تازہ تصویر اِسرو نے جاری کی ہے۔

اِسرو نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایک پوسٹ کیا ہے جس میں وکرم لینڈر کی 6 ستمبر کو کھینچی گئی تصویریں پیش کی گئی ہیں۔ پوسٹ میں اِسرو نے بتایا ہے کہ یہ تصویریں چاند کے مدار میں گھوم رہے چندریان-2 کے ڈوئل فریکوئنسی سنتھیٹک ایپرچر رڈار (ڈی ایف ایس اے آر) مشین نے 6 ستمبر 2023 کو کھینچی تھی۔ اِسرو نے بتایا کہ ڈی ایف ایس اے آر چندریان-2 آربیٹر پر لگا ایک اہم سائنسی انسٹرومنٹ ہے۔ یہ ایل اور ایس بینڈس میں مائیکرو ویو کا استعمال کرتا ہے۔ یہ جدید انسٹرومنٹ حال میں کسی بھی سیارہ مشن پر سب سے اچھا ریزولیوشن پولاریمٹرک تصویروں کی پیشکش کرتا ہے۔ ڈی ایف ایس اے آر گزشتہ چار سالوں سے چاند کی سطح سے اعلیٰ معیاری ڈاٹا نشر کر رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/URyD50i

جمعہ، 8 ستمبر، 2023

آدتیہ-L1: ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن

سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے ہندوستان کے پہلے خلائی مشن آدتیہ-L1 کو اسرو نے 2 ستمبر 2023 کو پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کے ذریعہ ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC)، سری ہری کوٹا ، آندھرا پردیش سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یوں چاند پر ترنگا نصب کرنے کے کچھ ہی دن بعد ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن ہے

انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے 2 ستمبر 2023 کو، 11.50 بجے، پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (PSLV-C57) کے ذریعہ ستیش دھون اسپیس سینٹر (SDSC)، سری ہری کوٹا ، آندھرا پردیش کے دوسرے لانچ پیڈ سے، آدتیہ-L1 خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا اور یوں چاند پر ترنگا نصب کرنے کے کچھ ہی دن بعد ، طے شدہ پروگرام کے مطابق ہندوستان اب سورج کی جانب گامزن ہے۔

اسرو کے مطابق 63 منٹ اور 20 سیکنڈ کی پرواز کے بعد، آدتیہ-L1 خلائی جہاز کو زمین کے گرد 235ضرب 19500 کلومیٹر کے بیضوی مدار میں کامیابی کے ساتھ داخل کیا گیا۔

آدتیہ-L1 پہلی ہندوستانی خلائی رصد گاہ ہے جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور پہلے سن ارتھ لیگرینج پوائنٹ (L1) کے گرد ہالو(Halo) آربٹ یا مدار سے سورج کا مطالعہ کرے گی۔ لیگرینج (Lagrange)پوائنٹ L1 کی طرف، منتقلی کے مدار میں پہنچنے سے پہلے، آدتیہ-L1 خلائی جہاز زمینی مدارکی چار مشقوں سے گزرے گا۔ آدتیہ-L1 کے تقریباً 127 دنوں کے بعد L1 پوائنٹ پر مطلوبہ مدار میں پہنچنے کی توقع ہے۔

آدتیہ-L1 میں سات سائنسی پے لوڈز ہیں جو اسرو اور قومی تحقیقی لیبارٹریوں کے ذریعہ تیار کیے گئے ہیں جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس (IIA)، بنگلور اور انٹر یونیورسٹی سینٹر فار ایسٹرانومی اینڈ ایسٹرو فزکس (IUCAA)، پونے شامل ہیں۔

اسرو کی جانب سے جاری تازہ ترین اطلاعات کے مطابق آدتیہ-L1 مشن کا اگلی مشق 5 ستمبر کو تقریباً 3 بجے طے ہے جبکہ پہلی زمینی مشق اسرو ٹیلی میٹری ٹریکنگ و کمانڈ نیٹ ورک (ISTRAC)، بنگلورو سے کامیابی کے ساتھ مکمل ہو گئی ہے۔ حاصل کردہ نیا مدار 245 ضرب 22459 کلومیٹر ہے۔ سیٹلائٹ درست ہے اور صحیح کام کر رہا ہے۔قبل ازیں 2 ستمبر کو کامیاب لانچنگ کے بعد لانچ وہیکل نے سیٹلائٹ کو اس کے مطلوبہ مدار میں پہنچا دیا اور یوں ہندوستان کی پہلی سولر آبزرویٹری نے اپنی منزل ۔سن ارتھ L1 پوائنٹ ۔ تک اپنا سفر شروع کر دیا۔

آدتیہ L1 سورج کا مطالعہ کرنے والا ہندوستان کا پہلا خلائی مشن ہے جس میں خلائی جہاز یا سیٹلائٹ کو سورج زمین کے نظام کے لیگرینج پوائنٹ 1 (L1) کے گرد ہالو آربٹ میں رکھا جائے گا، جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے۔ اس پوائنٹ کے گرد ہالو آربٹ میں رکھے گئے سیٹلائٹ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ وہ سورج کو کسی سائے یاگرہن سے متاثر ہوئے بغیرمسلسل دیکھ سکتا ہے۔ ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ یہ شمسی سرگرمیوں اور خلائی موسم پر اس کے اثرات کو حقیقی وقت میں دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا۔

خلائی جہاز برقی مقناطیسی اور ذرہ اور مقناطیسی فیلڈ کا پتہ لگانے والے آلات کا استعمال کرتے ہوئے فوٹو سفیئر، کروموسفیئر اور سورج کی سب سے بیرونی تہوں (کورونا) کا مشاہدہ کرنے کے لیے سات پے لوڈز لے کر گیا ہے۔ خصوصی پوائنٹ L1 کا استعمال کرتے ہوئے، چار پے لوڈز براہ راست سورج کا مشاہدہ کریں گے اور باقی تین پے لوڈز لیگرینج پوائنٹ L1 پر ذرات اورفیلڈ ز کااپنی پوزیشن سے مطالعہ کریں گے، اور اس طرح بین سیاروںمیں شمسی حرکیات کے پھیلتے اثر کا اہم سائنسی مطالعہ فراہم کریں گے۔

آدتیہ L1 پے لوڈز کے سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ کورونل ہیٹنگ، کورونل ماس ایجیکشن، پری فلیئر اور فلیئر سرگرمیوں اور ان کی خصوصیات، خلائی موسم کی حرکیات، ذرات اور فیلڈ ز کے پھیلاؤ وغیرہ کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم معلومات فراہم کریں گے۔

آدتیہ L1مشن کے اہم سائنسی مقاصد

• سورج کے اوپری ماحول (کروموسفیئر اور کورونا) کی حرکیات کا مطالعہ۔

• کروموسفیئرک اور کورونل ہیٹنگ ، جزوی طور پر آئنائزڈ پلازما کی طبیعیات، کورونل ماس ایجیکشن (CME) کا آغاز اور بھڑک اٹھنے کا مطالعہ۔

• سورج سے ذرات کی حرکیات کے مطالعہ کے لیے ڈیٹا فراہم کرنے والے اندرونی ذرہ اور پلازما ماحول کا مشاہدہ ۔

• شمسی کورونا کی طبیعیات اور اس کا حرارتی طریقہ کار۔

• کورونل اور کورونل لوپس پلازما کی تشخیص: درجہ حرارت، رفتار اور کثافت۔

• کورونل ماس ایجیکشن کی ترقی، حرکیات اور اصلیت۔

• ایک سے زیادہ تہوں (کروموسفیئر، بیس اور توسیعی کورونا) پر ہونے والےعمل کی ترتیب کی نشاندہی کرنا جو آخر کار شمسی توانائی سے پھٹنے والے واقعات کا باعث بنتا ہے۔

• شمسی کورونا میں مقناطیسی فیلڈ ٹوپولوجی اور مقناطیسی فیلڈ کی پیمائش۔

• خلائی موسم کے محرکات (شمسی ہوا کا آغاز ، ساخت اور حرکیات)۔

آدتیہ L1 کے آلات شمسی ماحول خاص طور پر کروموسفیئر اور کورونا کا مشاہدہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان سیٹو (in situ)آلات L1 پر مقامی ماحول کا مشاہدہ کریں گے۔ کل سات پے لوڈ ز میں سے چار سورج کی ریموٹ سینسنگ اور باقی تین ان سیٹو (اپنے مقام کا)مشاہدہ کریں گے۔

آدتیہ L1 کےپے لوڈز اور ان کی سائنسی تحقیق کی صلاحیت۔

ٹائپ نمبر پے لوڈ اہلیت

ریموٹ سینسنگ پے لوڈز 1 مرئی اخراج لائن کورونوگراف (VELC) کورونا/امیجنگ اور اسپیکٹروسکوپی

2 سولر الٹرا وائلٹ امیجنگ ٹیلی اسکوپ (SUIT) فوٹو سفیئر اور کروموسفیئر امیجنگ- نیرو اور براڈ بینڈ

3 سولر لو انرجی ایکس رے اسپیکٹرومیٹر (SoLEXS)

سافٹ ایکس رے اسپیکٹرومیٹر: سورج کا ایک ستارے کے طور پرمشاہدہ

4 ہائی انرجی L1 گردش کرنے والا ایکس رے اسپیکٹرومیٹر (HEL1OS) ہارڈ ایکس رے اسپیکٹرومیٹر: سورج کا ایک ستارے کے طور پرمشاہدہ

ان سیٹو پے لوڈز 5 آدتیہ سولر ونڈ پارٹیکل ایکسپیریمنٹ (ASPEX) سولر ونڈ/پارٹیکل اینالائزر ۔ پروٹون اور بھاری آئن سمتوں کے ساتھ

6 پلازما اینالائزر پیکج برائے آدتیہ (PAPA) سولر ونڈ/پارٹیکل اینالائزر ۔ الیکٹران اور بھاری آئن سمتوں کے ساتھ

7 ایڈوانسڈ ٹرائی محوری ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل میگنیٹومیٹر ان سیٹو میگنیٹک فیلڈ (Bx، By اور Bz)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uo4l1Gf

جمعرات، 7 ستمبر، 2023

عجیب و غریب پرندے نما ڈائنوسار کی دریافت پر سائنسدان حیران

جنوب مشرقی چین میں 148 سے 150 ملین سال پہلے ایک عجیب، مرغ زریں کے سائز کا لمبی ٹانگوں اور بازوؤں والا پرندوں جیسا ڈائنوسار رہتا تھا۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، اس مخلوق میں ایک حیران کن اناٹومی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ یا تو تیز بھاگنے والا تھا یا جدید لمبی ٹانگوں والے پرندوں جیسا طرز زندگی رکھتا تھا۔

سائنس دانوں نے کہا کہ انہوں نے صوبہ فوجیان میں جوراسک دور کے ایک ڈائنوسار کا فوسل دریافت کیا ہے، جسے انہوں نے ’فوجیانوینیٹر پروڈیگیوسس‘ کہا ہے۔ یہ اہم دریافت پرندوں کی ابتدائی تاریخ کے اہم ارتقائی مرحلے پر روشنی ڈالتی ہے۔

چائنیز اکیڈمی کے انسٹی ٹیوٹ آف ورٹیبریٹ پیلیونٹولوجی اینڈ پیلیو اینتھروپولوجی کے مطالعہ کے رہنما من وانگ، جنہوں نے اس تحقیق کی قیادت کی، نے وضاحت کی کہ فوزیانوینیٹر کی درجہ بندی اس کے عجیب و غریب ڈھانچے کی خصوصیات کے ساتھ ساتھ، اس بات پر منحصر ہے کہ ہم پرندوں کی تعریف کیا کرتے ہیں۔

جب فوزیانوینیٹر کو بیان کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو وانگ نے جواب دیا: "میں 'عجیب' کہوں گا۔ یہ کسی بھی جدید پرندے سے ملتا جلتا نہیں ہے۔"

فوسل، جو گذشتہ اکتوبر میں دریافت ہوا تھا، کافی حد تک مکمل ہے لیکن اس میں جانور کی کھوپڑی اور اس کے پاؤں کے کچھ حصے نہیں ہیں، جس کی وجہ سے اس کی خوراک اور طرز زندگی کی تشریح کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

اس کی لمبی ٹانگوں والی اناٹومی کی بنیاد پر، محققین نے دو ممکنہ طرز زندگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ یا تو دوڑتا تھا یا پھر جدید بگلوں کی طرح دلدلی ماحول میں گھومتا تھا۔ وانگ نے مزید کہا، "میں شرط لگاتا ہوں کہ یہ بھاگنے والا پرندہ تھا۔"

ڈائنوسار کے ارتقاء میں ایک قابل ذکر واقعہ اس وقت پیش آیا جب تھیروپوڈس کے نام سے جانے جانے والے نسب سے چھوٹے پنکھوں والے دو ٹانگوں والے ڈائنوسار نے جراسک کے آخر میں پرندوں کو جنم دیا، جس میں قدیم ترین پرندہ - آرکیوپٹریکس - تقریباً 150 ملین سال پہلے جرمنی میں موجود تھا۔

سائنس دان پرندوں اور غیر ایویئن ڈائنوسار کی اصلیت کے بارے میں بہتر تفہیم کے خواہاں ہیں جن میں پرندوں جیسی خصوصیات تھیں۔

جب کہ پرندوں کی تاریخ کے ابتدائی باب اب بھی فوسلز کی کمی کی وجہ سے مبہم ہیں۔ آرکیوپیٹرکس کے بعد، ایک کوّے کے سائز کے پرندے کے فوسل پہلی بار 19ویں صدی میں ملے تھےجس کے دانت، لمبی ہڈی کی دم اور کوئی چونچ نہیں ہے۔ اس کے بعد کے پرندوں کے فوسل ریکارڈ میں ظاہر ہونے سے پہلے تقریباً 20 ملین سال کا وقفہ ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JsgCpt9

آدتیہ ایل ون نے لی سیلفی، زمین اور چاند کی تصویر بھی کلک کی

نئی دہلی ہندوستانی خلائی تحقیق ایجنسی (اسرو) اپنی منزل کی جانب سفر کر رہا ہے۔ اس نے یہ بتانے کے لیے کہ وہ حسب معلوم کام کر رہا ہے، اپنی سیلفی بھیجی ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس کے تمام کیمرے ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ اس نے زمین اور چاند کی تصویر بھی لی ہیں۔ اسرو نے اس کی ویڈیو شیئر کی ہے۔

آدتیہ ایل ون نے 18 ستمبر تک زمین کے گرد اپنے مدار کو چار بار تبدیل کرے گا۔ اگلی مداری مینیورنگ 10 ستمبر کی رات کو ہوگی۔ ایک بار جب آدتیہ اپنی منزل ایل ون تک پہنچ جائے گا تو وہ روزانہ 1440 تصویریں بھیجے گا۔ تاکہ سورج کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کیا جا سکے۔ یہ تصاویر آدتیہ میں نصب وزیبل ایمیشن لائن کوروناگراف (وی ای ایل سی ) کے ذریعے لی جائیں گی۔

سائنسدانوں کے مطابق پہلی تصویر فروری میں ملے گی۔ وی ایل سی سی کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹرو فزکس نے بنایا ہے۔ اسرو کے سن مشن میں نصب وی ای ایل سی سورج کی ہائی ڈیفینشن تصاویر لے گا۔ زمین کے گرد مدار کو تبدیل کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اتنی رفتار حاصل کر سکے کہ وہ 15 لاکھ کلومیٹر کا طویل سفر مکمل کر سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Q4gKj26

منگل، 5 ستمبر، 2023

اِسرو نے ’چندریان-3‘ مشن پر کوئز مقابلے کا کیا اعلان، اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ملیں گے ایک لاکھ روپے

چاند پر اس وقت رات ہو چکی ہے اور چندریان-3 کا لینڈر ماڈیول (وکرم لینڈر اور پرگیان رووَر) چاند کی جنوبی سطح نیند کے مزے لے رہا ہے۔ اس درمیان اِسرو (انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن) نے چندریان-3 کو لے کر ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس نے کوئز مقابلے کی شروعات کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ہندوستان کا کوئی بھی شہری شامل ہو سکتا ہے۔ دراصل ہندوستان کے چاند تک پہنچنے کے کامیاب سفر کا جشن ہندوستانی عوام کے ساتھ منانے کے مقصد سے اس کوئز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کوئز مقابلے میں اوّل مقام حاصل کرنے والے کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔

اس کوئز کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے اِسرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ چاند کے عجوبوں کی دریافت اور سائنسی تحقیق کے تئیں محبت ظاہر کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ سبھی ہندوستانی شہریوں کو اس کوئز میں حصہ لینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے https://www.mygov.in/ پر اپنا ایک اکاؤنٹ بنانا ہوگا۔ اس میں پروفائل اَپڈیٹ رکھنی ہوگی۔ آدھیادھوری پروفائل والے امیدوار کوئز کے لیے نااہل ہوں گے۔ جیسے ہی شرکا صحیح او ٹی پی درج کرنے کے بعد ’سَبمٹ‘ بٹن پر کلک کرے گا، کوئز شروع ہو جائے گا۔

اس کوئز میں 10 سوالات کے جواب 300 سیکنڈ میں دینے ہوں گے۔ کوئی منفی مارکنگ نہیں ہوگی۔ کوئز میں حصہ لینے کے لیے ایک ہی موبائل نمبر اور ای میل آئی ڈی کا ایک سے زیادہ بار استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ڈپلی کیٹ اندراجات کے معاملے میں پہلی کوشش کا ریکارڈ تشخیص کے لیے قابل قبول مانا جائے گا۔ کوئز میں حصہ لینے کے بعد سبھی شرکاء کو ایک سرٹیفکیٹ دیا جائے گا جسے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ کوئز ختم ہونے کے بعد فاتحین کو نقد انعام دیا جائے گا۔

دی گئی جانکاری کے مطابق اوّل مقام پر رہنے والے کو ایک لاکھ روپے کا نقد انعام، دوسرے مقام پر رہنے والے کو 75 ہزار روپے کا نقد انعام، اور تیسرے مقام پر رہنے والے کو 50 ہزار روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں 100 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں میں سے سبھی کو 2-2 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دیا جائے گا۔ اتنا ہی نہیں، 200 بہترین کارکردگی پیش کرنے والوں کو 1-1 ہزار روپے کا کونسولیشن پرائز دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/eMB1IKT