جمعرات، 1 اگست، 2024

تائیوان: کمپیوٹر چپس صنعت میں اجارہ داری

ڈونلڈ ٹرمپ نے تائیوان پر کمپیوٹر چپس بنانے کے 500 ارب ڈالر کے کاروبار میں امریکہ کا تاج چھیننے کا الزام لگایا ہے۔ سابق امریکی صدر اور ریپبلکن صدارتی امیدوار نے گزشتہ ہفتے بلومبرگ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنے اس دعوے کو دہرایا جو پچھلے سال کیا گیا تھا کہ امریکی اتحادی تائیوان نے امریکہ سے سیمی کنڈکٹر صنعت کا تقریباً 100 فیصد حصہ چھین لیا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کو ایسا کبھی نہیں ہونے دینا چاہئے تھا۔ لیکن صنعت کے ماہرین نے امریکی خبر رساں ادارہ سی این این کو بتایا کہ چوری یا چھننے کے برعکس، تائیوان نے دور اندیشی، محنت اور سرمایہ کاری کے امتزاج کے ذریعے اپنی سیمی کنڈکٹر صنعت کو باضابطہ طور پر بڑھایا ہے۔

تائیوان میں اسکول کے بچے جانتے ہیں کہ ورلڈبیٹنگ چپس شعبے کے بانی مورس چانگ ہیں، ایک 93 سالہ چینی نژاد امریکی، جنہوں نے امریکہ میں سیمی کنڈکٹرز شعبہ میں طویل کیریئر کے بعد 1987 میں 55 سال کی عمر میں تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (ٹی ایس ایم سی) شروع کی تھی۔ اس وقت، صنعت کے رہنما انٹیل، موٹرولا اور ٹیکساس انسٹرومنٹ تھے، جہاں چانگ پہلے کام کرتے تھے۔ لیکن چانگ نے ٹی ایس ایم سی کو بالکل مختلف کاروباری ماڈل کے ساتھ شروع کیا، جو اس وقت مکمل طور پر انقلابی تھا۔

ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا میں کمپیوٹر ہسٹری میوزیم کے لیے ریکارڈ کیے گئے 2007 کے ایک پروجیکٹ کے دوران چانگ نے بتایا کہ تائیوان کے پاس تحقیق اور ترقی اور سرکٹ ڈیزائن میں کوئی زیادہ صلاحیت نہیں تھی۔ ہمارے پاس سیلز اور مارکیٹنگ میں بہت کم صلاحیت تھی، اور ہمارے پاس دانشورانہ املاک میں تقریباً کوئی قوت نہیں تھی۔ تائیوان کے پاس واحد ممکنہ طاقت سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ تھی۔ اس طرح، گاہکوں کی طرف سے فراہم کردہ ڈیزائن کے مطابق سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کا خیال پیدا ہوا۔ حالانکہ اس ماڈل کو اس وقت مسترد کر دیا گیا تھا، کیونکہ تب ان ہاؤس ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ دونوں صلاحیتوں کا ہونا معمول تھا۔

اس نئے نقطہ نظر نے عالمی الیکٹرانکس سیکٹر کے منظر نامے کو نئی شکل دی اور تائیوان کے انڈسٹری لیڈر بننے کی بنیاد ڈالی۔ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ایسوسی ایشن کے مطابق، تائیوان اب دنیا کے 90 فیصد سے زیادہ جدید چپس تیار کرتا ہے۔ 'چِپ وار: دی فائٹ فار دی ورلڈز موسٹ کریٹیکل ٹیکنالوجی' کے مصنف، کرسٹوفر ملر نے کہا کہ اس کی وجہ سے، ٹی ایس ایم سی متعدد مختلف صارفین کے لیے مینوفیکچرنگ پر توجہ مرکوز کر سکا، جس سے کمپنی کی آمدنی بڑھتی گئی۔ زیادہ آمدنی نے چپ پروڈکشن ٹیکنالوجیز کو بہتر بنانے اور مینوفیکچرنگ لاگت کو کم کرنے میں مدد کی، جس سے پورے آپریشن کو زیادہ موثر بنایا گیا۔ آج، اس دیو قامت ٹیک کمپنی کے پاس دنیا کی سب سے جدید ترین چپ پروڈکشن ٹیکنالوجیز ہیں اور اس شعبہ میں مزید سرمایہ کاری جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ گزشتہ جولائی میں ٹی ایس ایم سی نے سنچو میں، جہاں اس کا صدر دفتر ہے، اپنا عالمی تحقیق اور ترقی کا مرکز کھولا تھا۔

ماہرین کے مطابق کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ ماڈل، جو تائیوان نے چپس سے پہلے ٹیکسٹائل اور کنزیومر الیکٹرانکس جیسے دیگر شعبوں میں استعمال کیا تھا، سے خاص طور پر اچھے نتائج برآمد ہوئے۔ ٹی ایس ایم سی کے سابق ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ ڈائریکٹر کونراڈ ینگ نے بتایا کہ بہترین انجینئرز، کم مزدوری اور کام کے طویل اوقات بہتر پیداواری صلاحیت کا باعث بنے۔ اس کے علاوہ، جامع ٹیک ایکو سسٹم تائیوان کی چپ بنانے کی صلاحیت کا ایک اور اہم جز ہے۔ ینگ کے مطابق، ان عوامل کو دوسروں کے لیے نقل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حریف کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ انٹیل اور سام سنگ الیکڑونکس دونوں دوسری کمپنیوں کے لیے چپس بنانے میں ٹی ایس ایم سی کی کامیابی کی تقلید کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

جب تائیوان کے وزیر اعظم چو جنگ تائی سے پوچھا گیا کہ اگر واشنگٹن تائیوان پر اپنی چپ سے متعلق تحقیق اور ترقی کے کاموں میں سے کچھ کو امریکہ منتقل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے تو حکومت کیا کرے گی، چو نے کہا کہ تائیوان کا اپنی پالیسی کو تبدیل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تائیوان میں بہت اچھا ٹیک ٹیلنٹ اور تحقیق، ترقی اور سرمایہ کاری کا ماحول ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ تائیوان میں جدید ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی کو برقرار رکھنا ان اداروں کے لیے بہترین انتخاب ہے۔

دریں اثنا، بلومبرگ انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ اشارہ بھی دیا کہ تائیوان کو اپنے دفاع کی قیمت ادا کرنی چاہیے۔ ’تائیوان ہمیں دفاع کے لیے ادائیگی کرے۔ آپ جانتے ہیں، ہم انشورنس کمپنی سے مختلف نہیں ہیں۔ تائیوان ہمیں کچھ نہیں دیتا‘۔ یہ بتاتے ہوئے کہ تائیوان امریکہ سے 9500 میل دور ہے، اور چین سے 68 میل دور ، ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو تائیوان کی دوری کی وجہ سے دفاع کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ لیکن تائیوان کے اندر، ٹرمپ کے ان ریمارکس کا موازنہ 'تحفظ فیس' کے مطالبات سے کیا جا رہا ہے اور وہاں بے چینی پیدا کی ہے کہ اگر ریپبلکن امیدوار صدر منتخب ہوتے ہیں تو وہ تائیوان اور اس کے سب سے اہم حفاظتی ضامن امریکہ کے تعلقات کو کس طرح متاثر کر سکتے ہیں، وہ بھی ایسے وقت میں جب چین کے تائیوان پر حملہ کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

آبنائے تائیوان میں مسلسل کشیدگی نے ٹی ایس ایم سی پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تائیوان سے باہر پھیل جائے تاکہ اس کی پیداواری بنیاد کو متنوع بنایا جا سکے۔ امریکہ کے اندر، کووِڈ-19 وبائی مرض کے دوران چپ کی کمی نے امریکہ چین دشمنی کی وجہ سے صنعت کی تزویراتی اہمیت کے علاوہ، مقامی سطح پر چپ مینوفیکچرنگ کو بحال کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ 2022 میں، صدر جو بائیڈن نے چپس اور سائنس ایکٹ پر دستخط کیے، جس کا مقصد چپس کی گھریلو پیداوار کو بڑھانا ہے، جو کہ عالمی سپلائی کا تقریباً 10فیصد ہے، اور تائیوان اور جنوبی کوریا پر انحصار کو کم کرنا ہے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ ٹرمپ کی ممکنہ صدارت کا تائیوان کے لیے کیا مطلب ہو سکتا ہے، ینگ کا کہنا ہے کہ چپ فرموں کو باہمی طور پر فائدہ مند تعلقات کے لیے مل کر کام کرنے کا ایک بہتر طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خاص طور پر ٹی ایس ایم سی کے لیے اہم ہے، جو ایریزونا میں تین فیکٹریاں بنا رہی ہے لیکن مختلف لیبر قوانین سے لے کر ورک کلچر تک کی وجوہات کی وجہ سے اسے اپنی سہولیات کو ٹریک پر لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کمپنی جہاں کہیں بھی کمپیوٹر چپس بنانے کے پلانٹس تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اسے ایک ایسا مینوفیکچرنگ سسٹم قائم کرنے کا طریقہ تلاش کرنا ہوگا جو مقامی ثقافت کے مطابق ہو ۔ ایسا کرنا ٹی ایس ایم سی کو صحیح معنوں میں ایک عالمی کمپنی بنا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hoVCyGO

بدھ، 24 جولائی، 2024

آذربائیجان کا ایک ارب ڈالر موسمیاتی فنڈ کا ہدف

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس COP29 کے میزبان آذربائیجان نے 19 جولائی کو اعلان کیا کہ وہ ایک نیا کلائمیٹ یا موسمیاتی فنڈ شروع کرے گا جس کا مقصد ترقی پذیر ممالک کے نئے قومی آب و ہوا کے اہداف کی حمایت کے لیے ایک ارب ڈالر جمع کرنا ہے۔ آذربائیجان کو امید ہے کہ دارالحکومت باکو میں قائم ہونے والے اس فنڈ کی نگرانی ایک کثیر قومی بورڈ آف شیئر ہولڈرز کے ذریعے کی جائے گی، اور اس کا سرمایہ 10 جیواشم ایندھن (فوسل فیول) پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ ساتھ تیل اور گیس کمپنیوں سے لیا جائے گا۔ آذربائیجان نے ابتدائی طور پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے جیواشم ایندھن کی پیداوار پر محصول لگانے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن کچھ ممالک کی مزاحمت کے بعد اس نے حکمت عملی تبدیل کر دی۔

اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہی اجلاس کے نامزد صدر اور آذری وزیر برائے ماحولیات اور قدرتی وسائل، مختار بابائیف نے کہا کہ قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں سب سے آگے ہونا چاہیے۔ انہوں نے عطیہ دہندگان سے مطالبہ کیا کہ وہ آذربائیجان کے ساتھ شامل ہوں تاکہ عزائم کو فروغ دینے اور عمل کو فعال کرنے کے لیے COP29 کے منصوبے کو پورا کیا جا سکے۔ نومبر میں باکو میں ہونے والے موسمیاتی مذاکرات میں فنانس کا مسئلہ حاوی رہے گا، جہاں ممالک موسمیاتی فنانس کے لیے ایک نئے عالمی ہدف پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے جسے امیر ممالک 2025 سے ہر سال غریب ممالک کو منتقل کریں گے۔ آذری وزیر نے یہ نہیں بتایا کہ کن کن ڈونر ممالک یا کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا ہے لیکن کہا کہ آذربائیجان ابھی تک طے شدہ ابتدائی شراکت کے ساتھ بانی شراکت دار ہوگا۔ فنڈ اپنے شراکت داروں سے سالانہ عطیات وصول کرے گا، اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا 20 فیصد ایک ریپڈ ریسپانس فنڈنگ کی سہولت کے لیے وقف کرے گا جس سے سب سے زیادہ کمزور ممالک کو موسمیاتی آفات سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

آذری حکام کے مطابق یہ فنڈ کثیر جہتی ترقیاتی بینکوں اور دیگر عالمی سہولیات کے مقابلے میں زیادہ متحرک ہوگا کیونکہ شیئر ہولڈر براہ راست فیصلہ کریں گے کہ کن منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں، آذربائیجان ماہرین اقتصادیات اور دیگر ماہرین کا ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیگا تاکہ ممکنہ عطیہ دہندگان کے لیے ایک فارمولہ تیار کیا جا سکے جس سے یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ وہ کتنا حصہ ڈالیں گے اور دوسرے یہ واضح ہو سکے کہ ترقی پذیر ممالک اس فنڈ تک کیسے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ آذری حکام نے بتایا کہ ممالک کے نئے قومی آب و ہوا کے منصوبے جو انہیں اگلے سال اقوام متحدہ میں جمع کرانے ہیں، جنہیں NDCs کے نام سے جانا جاتا ہے، عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود کرنے کے لیے پیرس معاہدے کے ہدف کے مطابق ہونا چاہیے لیکن بعض فوسل فیول کے منصوبوں کی مالی اعانت کو مسترد نہیں کیا۔

گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی سربراہی کانفرنس ایک عالمی معاہدے کے ساتھ ختم ہوئی جس میں 2050 تک خالص صفر اخراج تک پہنچنے کے لیے فوسل فیول سے دوری اختیار کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی سربراہ سائمن اسٹیل کے مطابق COP29 میں کامیابی کا انحصار موسمیاتی فنانس بڑھانے پر ہے، باکو میں پیشرفت صرف نئے سبز نمبروں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ موسمیاتی فنانس کی فراہمی کو بہتر بنانے کے بارے میں ہے تاکہ یہ ترقی پذیر ممالک کی اب اور مستقبل میں ضروریات کو پورا کر سکے۔

کلائمیٹ فنانس ایکشن فنڈ ان 14 اقدامات کے پیکج میں سے ایک ہے جس کا اعلان آذربائیجان نے COP29 ایکشن ایجنڈا کے تحت کیا ہے جس کا مقصد خواہشات کو بڑھانا اور کارروائی کو قابل عمل بنانا ہے۔ یہ ایک پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ فنڈ ہوگا، جو نجی شعبے کو متحرک کرے گا اور سرمایہ کاری کو خطرے سے پاک کرے گا۔ اس فنڈ میں رعایتی اور گرانٹ پر مبنی امداد کے ساتھ خصوصی سہولیات بھی ہوں گی تاکہ ضرورت مند ترقی پذیر ممالک میں قدرتی آفات کے نتائج کو تیزی سے حل کیا جا سکے۔

یہ فنڈ چھوٹے اور درمیانے درجے کے قابل تجدید توانائی پیدا کرنے والوں کے لیے آف ٹیک معاہدے کی ضمانتیں اور سبز صنعتی منصوبوں کے لیے پہلے نقصان کا سرمایہ فراہم کرے گا۔ اس فنڈ میں خوراک اور زراعت کے شعبے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ معاش کے تحفظ اور خالص صفر اخراج کو حاصل کیا جا سکے۔ منصوبوں سے حاصل ہونے والے منافع کو فنڈ میں دوبارہ لگایا جائے گا۔ یہ ابتدائی فنڈ ریزنگ راؤنڈ کے اختتام پر فعال ہو جائے گا۔ اس فنڈ کا ہدف ایک ارب ڈالر ہے، اور اس میں 10 تعاون کرنے والے ممالک حصص یافتگان کے طور پر کام کریں گے۔

سرمائے کا پچاس فیصد حصہ ترقی پذیر ممالک میں آب و ہوا کے ان منصوبوں میں لگایا جائے گا جو تخفیف، موافقت، اور تحقیق و ترقی میں معاونت پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کو فروغ دیں گے، توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے اور جدید ٹیکنالوجی کی ترقی میں سہولت فراہم کریں گے۔

پچاس فیصد شراکتیں ممبران کی اگلی نسل کی قومی سطح پر طے شدہ شراکت (NDCs) کو پورا کرنے میں مدد کے لیے مختص کی جائیں گی تاکہ 1.5 سیلسیس درجہ حرارت کے ہدف کو پہنچ کے اندر رکھا جا سکے ۔ آذری حکومت نے مثالی رہنمائی کا عہد کیا ہے، وہ 1.5 سے منسلک NDC پیش کرنے کے لیے کام کر رہی ہے، اور COP29 کی صدارت کے فرائض انجام دیتے ہوئے تمام جماعتوں کو اسی طرح کے منصوبوں کے ساتھ آگے آنے کی ترغیب دے رہی ہے۔

سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بیس فیصد ریپڈ ریسپانس فنڈنگ فیسیلٹی (2R2F) میں جمع کیا جائے گا جو انتہائی رعایتی اور گرانٹ پر مبنی مدد فراہم کرے گا۔ یہ سہولت چھوٹے جزیروں کی ترقی پذیر ریاستوں، کم ترقی یافتہ ممالک، اور ضرورت کے مطابق دیگر کمزور ترقی پذیر کمیونٹیز میں قدرتی آفات کے نتائج سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر قابل رسائی فنڈنگ کی پیشکش کرے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Y6gL0J1

جمعہ، 19 جولائی، 2024

مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروس میں خرابی، دنیا بھر میں لیپ ٹاپ ٹھپ ہو گئے، ایئرلائنز بھی متاثر

مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ میں اچانک خرابی پیدا ہو جانے کی وجہ سے پوری دنیا کو تکنیکی خرابی کا سامنا ہے اور دنیا بھر کی ایئرلائنز اس سے متاثر ہوئی ہیں۔ صارفین کو مائیکروسافٹ 360، مائیکروسافٹ ونڈوز، مائیکروسافٹ ٹیمز، مائیکروسافٹ ایزور، مائیکروسافٹ اسٹور اور مائیکروسافٹ کلاؤڈ سے چلنے والی خدمات میں مسائل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مائیکرو سافٹ کے سرورز ڈاؤن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں ونڈوز لیپ ٹاپ کام نہیں کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے ایئر لائنز بھی متاثر ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی صارفین اس حوالے سے شکایت کر رہے ہیں۔

اسپائس جیٹ اور انڈیگو کو بھی اسی طرح کے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ ایئر لائنز کا کہنا ہے کہ سرور کے مسائل کی وجہ سے خدمات روک دی گئی ہیں۔ ہوائی اڈے پر چیک ان اور چیک آؤٹ کا نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ بکنگ سروس بھی متاثر ہوئی ہے۔

کئی ممالک میں نہ صرف ایئر لائنز بلکہ بینکنگ سروسز، ٹکٹ بکنگ اور اسٹاک ایکسچینج بھی متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے امریکی ایئرلائنز سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ امریکہ کے کئی حصوں میں ایمرجنسی سروس 911 بھی متاثر ہوئی ہے اور ہنگامی کال سینٹر کی خدمات میں دشواری پیدا ہو گئی۔

کمپنی کے فورم پر پن کی گئی رپورٹس اور پیغامات کے مطابق بہت سے ونڈوز صارفین کو حالیہ کراؤڈ اسٹرائیک اپ ڈیٹ کے بعد بلیو اسکرین آف ڈیتھ کی خرابی (بی ایس او ڈی ایرر) کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ کو تقریباً 10:30 کے بعد بہت سے صارفین کے لیپ ٹاپ دوبارہ شروع (ری اسٹارٹ) ہونے لگے۔ شروع میں ایسا لگتا تھا کہ یہ ایک عام اپڈیٹ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ لیکن یہ حالت تقریباً تمام ونڈوز لیپ ٹاپس میں یکے بعد دیگرے دیکھی گئی۔ اس کے بعد لیپ ٹاپ پر نیلی اسکرین نظر آ رہی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/6LWQkBu

اتوار، 14 جولائی، 2024

ٹائٹینک: جہاز کے ملبے کی ڈیجیٹل فوٹوگرافی

امیجنگ ماہرین، سائنس دانوں اور مورخین کی ایک ٹیم 12جولائی کو سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے لیے روانہ ہوئی ہے تاکہ تباہ شدہ جہاز کے ملبے کا اب تک کا سب سے تفصیلی فوٹوگرافی کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا سکے۔ یہ ٹیم ٹائٹینک کے ڈوبنے کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کے لیے جہاز کے ہر کونے کو اسکین کرنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرے گی۔ پچھلے سال اوشین گیٹ سانحے کے بعد ٹائٹینک کا یہ پہلا تجارتی مشن ہے۔ اس مشن میں کھوئے ہوئے جہاز کو دیکھنے کی کوشش کے دوران ایک آبدوز میں سوار پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اوشین گیٹ سانحے کے مہلوکین اور 1500 مسافروں اور عملے کے لیے جو 1912 میں ٹائٹینک کے ساتھ ڈوب گئے تھے، آنے والے دنوں میں سمندر میں ایک مشترکہ یادگاری تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔

نئی مہم اٹلانٹا، جارجیا میں مقیم آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈ نامی امریکی کمپنی کی طرف سے انجام دی جا رہی ہے جس کے پاس ٹائٹینک سے اشیاء کی بازیابی کے حقوق ہیں اور جس نے آج تک ٹائٹینک کے ملبے سے تقریباً 5500 اشیاء نکالی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ تازہ ترین مہم خالصتاً ایک جائزہ مشن ہے۔ جس میں دو روبوٹک گاڑیاں لاکھوں ہائی ریزولوشن تصاویر لینے اور تمام ملبے کا تھری ڈی ماڈل بنانے کے لیے سمندر کی تہہ میں غوطہ لگائیں گی۔ بی بی سی نے مہم کے ارکان سے امریکی شہر پروویڈنس، رہوڈ آئی لینڈ کی بندرگاہ پر ملاقات کی، جس کے دوران شریک مہم کے سربراہ ڈیوڈ گیلونے بتایا کہ ان کی ٹیم ملبے کو ایک ایسی وضاحت اور درستگی کے ساتھ دیکھنا چاہتی ہے جیسے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ لاجسٹک جہاز ڈینو چوئسٹ شمالی بحر اوقیانوس میں اس آپریشن کے لیے اڈہ کے طور پر استعمال ہوگا۔ موسم نے اجازت دی تولاجسٹک جہاز 3800 میٹر نیچے پانی میں پڑے ٹائٹینک کے ملبے کے اوپر 20 دن گزارے گا ۔ ٹیم کو امید ہے کہ یہ چند ہفتے پُرجوش ثابت ہوں گے۔

اوشین گیٹ آبدوز پر ہلاک ہونے والوں میں سے ایک فرانسیسی پال ہنری نارجیولیٹ تھے۔ وہ آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈ میں تحقیق کے ڈائریکٹر تھے اور اس مہلک مہم کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے اعزاز میں سمندری تہہ پر ایک تختی رکھی جائے گی۔ پال ہینری کے دوست اور مورخ روری گولڈن، جو ڈنو چوئسٹ پر چیف مورال افسر ہوں گے نے بتایا کہ ایکسپلوریشن مشکل کام ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ایک مہم ہے جس میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی خواہش رہتی ہے۔ اور ہم یہ سب اس جذبے سے کر رہے ہیں کہ پال ہینری مسلسل تلاش کا جذبہ رکھتے تھے۔

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو 15 اپریل 1912 کی رات کو مشہور جہاز ٹائٹینک کے ڈوبنے کی کہانی اور اس کے کینیڈا کے مشرق میں واقع ایک برفانی تودے سے ٹکرانے سے واقف نہ ہوں۔ اس سانحہ کے بارے میں بے شمار کتابیں، فلمیں اور دستاویزی فلمیں موجود ہیں۔ اگرچہ 1985 میں دریافت ہونے کے بعد سے ملبے کی جگہ بار بار مطالعہ کا ہدف رہی ہے، لیکن اب بھی ایسا نہیں ہے جسے حتمی نقشہ قرار دیا جا سکے۔ حالانکہ ٹوٹے ہوئے جہاز کے کمان اور سخت حصوں کے متعلق اچھی معلومات ہے، لیکن جہاز کے آس پاس ملبے کے وسیع علاقے ہیں جن کا صرف سرسری معائنہ ہوا ہے۔

نئی مہم کے دوران دو چھ ٹن کی ریموٹ سے چلنے والی گاڑیاں (آر او وی) کام کو انجام دیں گی۔ ایک گاڑی کو الٹرا ہائی ڈیفینیشن آپٹیکل کیمروں اور ایک خصوصی روشنی کے نظام کے ساتھ نصب کیا گیا ہے جب کہ دوسری ایک سینسر پیکیج لے کر جائے گی جس میں لیڈار (لیزر) اسکینر شامل ہے۔ دونوں گاڑیاں ایک ساتھ سمندری فرش کے تقریباً ایک سے سوا کلومیٹر حصے میں آگے پیچھے ٹریک کریں گی۔ امیجنگ پروگرام کے انچارج ایوان کوواکس کہتے ہیں کہ ان کے کیمرہ سسٹم کو ملی میٹر ریزولوشن فراہم کرنا چاہیے۔ اگر موسم ، کمپیوٹر، آر او وی اور کیمرے درست رہتے ہیں، تو ٹائٹینک اور ملبے کی اس حد تک واضح ڈیجیٹل تصاویر حاصل کر سکتے ہیں جن سے ریت کے ذرات کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب آر او وی پر میگنیٹومیٹر نصب کیا گیا ہے جو ملبے کی جگہ پر موجود تمام دھاتوں کا پتہ لگائے گا، یہاں تک کہ اس مواد کو بھی جو تلچھٹ میں نظروں سے اوجھل ہے۔ جیو فزکس کے انجینئر ایلیسن پراکٹر نے کہا کہ سمندر کے نیچے ٹائٹینک کی کمان کے ساتھ کیا ہوا، اس کا تعین کرنا ایک خواب ہے۔ امید ہے کہ ہم یہ اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں گے کہ آیا سمندری تہہ سے ٹکرانے پر کمان چکناچور گئی تھی یا نہیں، یا یہ واقعتاً نیچے تلچھٹ میں سالم دھنس گئی تھی۔

ٹیم کچھ معروف اشیاء کی حالت کا جائزہ لینا چاہتی ہے، جیسے کہ بوائلر جو اس وقت باہر نکلے جب ٹائٹینک دو حصوں میں ٹوٹ گیا تھا۔ ان اشیاء کو تلاش کرنے کی بھی خواہش ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ پچھلے دوروں میں دیکھے گئے تھے۔ ان میں الیکٹرک کینڈیلابرا کے علاوہ اسٹین وے کا گرینڈ پیانوشامل ہے۔ موسیقی کے آلے کا لکڑی کا گھیر بہت پہلے بوسیدہ ہو چکا ہوگا، لیکن کاسٹ آئرن پلیٹ، یا فریم، جس نے تاروں کو پکڑ رکھا تھا، اب بھی موجود ہونا چاہیے، شاید کچھ چابیاں بھی۔ آر ایم ایس ٹائٹینک انکارپوریٹڈکمپنی میں ٹائٹینک کے نوادرات کے ذخیرے کی تیاری میں شامل ٹوماسینا رے نے کہا کہ ان کے لیے مسافروں کا سامان، خاص طور پر ان کے بیگ، سب سے زیادہ دلچسپی کے حامل ہیں۔ یہ ٹائٹینک جہاز کےملبے کی جگہ کا نواں دورہ ہوگا۔ کمپنی نے حالیہ برسوں میں مارکونی ریڈیو آلات کے کچھ حصے کو لانے کی کوشش کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جس نے ٹائٹینک ڈوبنے کی رات کو پریشانی کی کالیں (ڈسٹریس کالز)منتقل کی تھیں۔ لیکن فی الحال یہ اس مہم میں نہیں ۔

بہت سے لوگوں کے لیے ٹائٹینک ان 1500 لوگوں کی قبر ہے جو 1912 میں اس رات مر گئے تھے اور اسے ہاتھ نہیں لگایا جانا چاہیے، خاص طور پر اس کے اندرونی حصہ کو۔ کمپنی کے محقق جیمز پینکا نے تسلیم کیا اور کہا کہ یہ ہمیں معلوم ہے اور ہم لوگوں کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ ہم ٹائٹینک میں غوطہ لگاتے ہیں تاکہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ سیکھ سکیں۔ ایسا ہم انتہائی احترام کے ساتھ کرتے ہیں جیسا کہ کسی بھی آثار قدیمہ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ لیکن ٹائٹینک کو یوں اکیلا چھوڑنا، اس کے مسافروں اور عملے کو تاریخ میں گم کر دینا، یہ سب سے بڑا سانحہ ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ZDsFiVO

جمعرات، 11 جولائی، 2024

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسی سنیتا ولیمس کی ویڈیو آئی سامنے، ہوا میں لہراتے بال اور چہرے پر تھی خوشی

ہند نژاد امریکی خلاباز سنیتا ولیمس اور بوچ ولمور ہفتوں سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انھیں اب تک زمین پر واپس آ جانا چاہیے تھا، لیکن فی الحال کچھ بھی یقینی نہیں کہ وہ کب تک واپس آئیں گے۔ سائنسداں فکر مند ہیں کیونکہ جس کیپسول دونوں کو واپس آنا تھا، اس میں موجود تکنیکی خامی کو دور کرنے کی کوششیں اب تک کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ سنیتا ولیمس اور بوچ ولمور نے ایک پریس کانفرنس کر سبھی کی تشویش کو دور کر دیا ہے۔ اس ویڈیو میں سنیتا ولیمس کے بال لہرا رہے ہیں اور ان کے چہرے پر خوشی ظاہر ہو رہی ہے۔

دراصل بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر ڈاکنگ کے بعد پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سنیتا ولیمس اور ولمور نے کہا کہ انھیں پورا یقین ہے کہ بوئنگ اسٹارلائنر کیپسول انھیں گھر لے آئے گا۔ ولمور نے کہا کہ ’’میں پوری طرح (گھر واپسی کا) یقین کرتا ہوں اور ناکام ہونے کا تو کوئی متبادل ہی نہیں ہے، اس لیے ہم رُک رہے ہیں۔‘‘ اس درمیان ولمور نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ناسا اور بوئنگ کی طرف سے زمین پر تھرسٹر تجربات کی ہو رہی جانچ ان کی واپسی کے لیے بہت اہم ہے۔

واضح رہے کہ ناسا کے دونوں خلائی مسافر 5 جون کو فلوریڈا سے اسٹارلائنر کے ذریعہ زمین سے روانہ ہوئے تھے اور اگلے دن آئی ایس ایس (بین الاقوامی خلائی اسٹیشن) پر انھیں ڈاک کیا گیا۔ وہاں انھیں تقریباً آٹھ دن ہی گزارنے تھے، لیکن اسٹارلائنر میں آئی خامی نے ان کے مشن کو غیر معینہ مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ ان کے خلائی اسٹیشن تک پہنچنے کے دوران اسٹارلائنر کے 28 تھرسٹرس میں سے 5 خراب ہو گئے اور کئی دیگر خرابیاں آ گئی ہیں جن کو ٹھیک کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JF0V83s

جمعہ، 5 جولائی، 2024

انسانی رویے نے مہلک بیکٹیریا کو وبائی مرض میں تبدیل کر دیا: تحقیق

لندن: ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ’سیوڈوموناس ایروگینوسا‘ نامی ماحولیاتی بیکٹیریا پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا افراد میں ملٹی ڈرگ ریزسٹنس انفیکشن (وہ انفیکشن جس پر متعدد ادویات کا اثر نہیں ہوتا) کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ انفیکشن پچھلے 200 سالوں میں تیزی سے تیار ہوا اور پھر پوری دنیا میں پھیل گیا۔

برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی ٹیم نے کہا کہ انسانی رویے میں تبدیلیوں نے بیکٹیریا کو وبائی مرض میں تبدیل کرنے میں مدد کی جو کہ دنیا بھر میں ہر سال 500000 سے زیادہ اموات کے لیے ذمہ دار ہے، جن میں سے 300000 سے زیادہ اینٹی بائیوٹک ریزسٹنس کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

دائمی آبسٹرکٹیو پلمونری ڈزیز (سی او پی ڈی)، تمباکو نوشی کی وجہ سے پھیپھڑوں کو پہنچنے والے نقصان، سسٹک فائبروسس (سی ایف)، اور غیر سی ایف برونکائٹس جیسے حالات والے لوگ خاص طور پر بیکٹیریا کے لیے حساس ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ بیکٹیریا سسٹک فائبروسس کے مریضوں کو کمزور مدافعتی نظام کی وجہ سے متاثر کرتا ہے۔

یہ جانچنے کے لیے کہ کس طرح سیوڈموناس ایروگینوسا ایک ماحولیاتی جاندار سے انسانوں تک پہنچا، سائنسدانوں نے دنیا بھر میں متاثرہ افراد، جانوروں اور ماحول سے لیے گئے تقریباً 10000 نمونوں کے ڈی این اے ڈیٹا کی جانچ کی۔ سائنس کے جریدے میں شائع ہونے والے ان کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ 10 میں سے 7 انفیکشن صرف 21 جینیاتی کلون یا نسل در نسل ہوتا ہے۔ یہ پچھلے 200 سالوں میں تیزی سے تیار ہوا اور پوری دنیا میں پھیل گیا۔

یہ بیکٹیریا بنیادی طور پر اس وقت پھیلا جب لوگوں نے گنجان آباد علاقوں میں رہنا شروع کیا، جہاں فضائی آلودگی کی وجہ سے پھیپھڑے زیادہ حساس ہو گئے۔ سسٹک فائبروسس مریضوں کے درمیان پھیلنے کے علاوہ، یہ دوسرے مریضوں میں بھی آسانی سے پھیل سکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کیمبرج میں ’یوکے سسٹک فائبروسس انوویشن ہب‘ کے ڈائریکٹر پروفیسر اینڈریس فلوٹو نے کہا، ‘‘سیوڈوموناس ایروگینوسا کے مطالعے نے ہمیں سسٹک فائبروسس کی حیاتیات کے بارے میں نئی ​​چیزیں سکھائی ہیں اور وہ اہم طریقے بھی بتائے ہیں جن سے ہم ممکنہ طور پر دیگر حالات میں حملہ آور بیکٹیریا کے خلاف اپنے مدافعتی نظام کو مضبوط بنا سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/H3ghI9i

بدھ، 3 جولائی، 2024

ایکس کا مقابلہ نہیں کر پایا ہندوستانی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’کو‘! بانی نے دی بند کرنے کی اطلاع

نئی دہلی: دیسی سوشل میڈیا کہا جانے والا پلیٹ فارم ’کو‘ اب بند ہونے جا رہا ہے۔ کمپنی کے شریک بانی ایپرمئے رادھا کرشنن نے لنکڈاِن پوسٹ میں اس کی اطلاع دی ہے۔ خبر کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے ’کو‘ کو فروخت کرنے یا اس کے انضمام کی کئی کمپنیوں سے بات چیت ہو رہی تھی جس میں ’ڈیلی ہنٹ‘ بھی شامل ہے۔ بات چیت کامیاب نہیں ہونے کے بعد کمپنی کے بانی نے ’کو‘ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

’کو‘ کو ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ ایپرمئے رادھا کرشنن اور مینک بداوتکا نے 2019 میں ’کو‘ تیار کیا تھا اور مارچ 2020 میں اسے لانچ کیا تھا۔ ’کو‘ اس وقت سب سے زیادہ سرخیوں میں آیا جب دہلی کی سرحدوں پر تین زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کا احتجاج شروع ہوا۔ اس دوران مرکزی حکومت اور ’ایکس‘ کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے احتجاج کی ویڈیوز کو ہٹانے کے معاملے میں تنازعہ پیدا ہو گیا تھا اور حالات ایسے ہو گئے تھے کہ حکومت کی پریس ریلیز بھی ’ایکس‘ کے بجائے ’کو‘ پر آنے لگی تھی۔

’کو‘ کے بانی نے ’لِنکڈاِن‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’’ہماری طرف سے یہ حتمی اپ ڈیٹ ہے۔ شراکت داری کے تعلق سے چل رہی ہماری بات چیت ناکام رہی ہے اور ہم عام لوگوں کے لیے اپنی خدمات بند کرنے جا رہے ہیں۔ ہم نے بڑی انٹرنیٹ کمپنیوں، کارپوریٹ گروپس اور میڈیا ہاؤسز کے ساتھ شراکت داری کے لیے بات چیت کرنے کی کوشش کی لیکن بات چیت کا نتیجہ جیسا ہم چاہتے تھے نہیں نکلا۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’زیادہ تر لوگ صارف کے تیار کردہ مواد کے ساتھ ایک سوشل میڈیا کمپنی سے معاہدہ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ کچھ معاہدے پر دستخط کرنے کے قریب پہنچنے کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔ ہم ‘ایپ‘ کو جاری رکھنا چاہتے تھے  لیکن سوشل میڈیا  ایپ چلانے کے لیے ٹیکنالوجیکل اختراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے ہمیں اس کے بند کرنے کا فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hB4ULMl

منگل، 2 جولائی، 2024

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں چین کی اے آئی سے متعلق قرارداد منظور

بیجنگ: اقوام متحدہ کی 78ویں جنرل اسمبلی نے چین کی جانب سے اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی صلاحیت کو بڑھانے کے حوالے سے پیش کی گئی بین الاقوامی تعاون سے متعلق ایک قرارداد منظور کر لی۔ اس قرارداد پر 140 سے زائد ممالک نے مشترکہ طور پر دستخط کئے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اے آئی کو تیار کرتے وقت انسانوں کو ترجیح دینے، بھلائی کے لیے ترقی کرنے اور عوام کو فائدہ پہنچانے کے اصول کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی تعاون اور ٹھوس کارروائی سے خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اپنی اے آئی صلاحیتوں کو بڑھانے اور عالمی حکمرانی میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی اور آواز کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔ یہ ایک کھلا، منصفانہ اور غیر امتیازی کاروباری ماحول پیدا کرے گا اور بین الاقوامی تعاون میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرے گا۔

قرارداد کا مقصد اے آئی کی شمولیت پر مبنی، جامع اور پائیدار ترقی کو حاصل کرنا اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے لیے 2030 کے ایجنڈے کے حصول کی حمایت کرنا ہے۔ اس قرارداد کی منظوری سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے وسیع تر رکن ممالک کے درمیان بات چیت اور تعاون کے ذریعے اے آئی کی عالمی گورننس کو مضبوط بنانے پر اتفاق رائے ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/A1C8KVH

ہفتہ، 29 جون، 2024

روسی سیٹلائٹ کا 100 سے زائد ٹکڑوں میں ٹوٹنا خطرناک، خلائی مسافروں کو لینی پڑی ایمرجنسی پناہ

روس کا ایک سیٹلائٹ (RESURS-P1) جو کہ خلاء میں غیر فعال تھا، وہ 26 جون 2024 کو ٹوٹ کر 100 سے زیادہ ٹکڑوں میں بکھر گیا۔ اس کے ٹکڑے خلاء میں ہر طرف پھیل چکے ہیں۔ یہ واقعہ انتہائی فکر انگیز اور خطرناک ہے، اس کی وجہ سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلائی مسافروں کو ایمرجنسی پناہ لینی پڑی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ خلاء میں ہوئے اس خوفناک حادثہ کا سب سے زیادہ اثر ہند نژاد امریکی سائنسداں اور خلاباز سنیتا ولیمس پر پڑا ہے۔ سنیتا اس وقت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے مشن کے دوران پھنس گئی ہیں۔ سنیتا ولیمس اپنے ساتھی خلاباز بوچ ولمور کے ساتھ خلائی اسٹیشن میں پناہ لیے ہوئی ہیں جو کہ بوئنگ کے اسٹارلائنر کیپسول میں سوار ہو کر وہاں پہنچی تھیں۔

روسی سیٹلائٹ کے ٹکڑے ہونے کے بعد سنیتا اور ان کے ساتھی خلابازوں کو فوراً بین الاقوائی خلائی اسٹیشن پر پناہ لینی پڑی۔ اس واقعہ کے بعد سنیتا اور ان کے ساتھیوں کو خلا سے زمین پر واپس آنے میں اب کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس حادثہ کے بعد سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی خلائی مسافروں کی زمین پر واپسی سے متعلق غیر یقینی والی حالت بڑھ گئی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ روسی سیٹلائٹ کے ٹوٹنے کے بعد اس کا ملبہ 100 سے بھی زیادہ ٹکڑوں میں بکھر کر ہر طرف پھیل گیا ہے۔ یہ خلا میں بہت تیزی کے ساتھ اِدھر اُدھر بے قابو انداز میں دوڑ رہے ہیں۔ یہ کسی بھی وقت کسی بھی دیگر سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اسے بھی تباہ کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے سنیتا ولیمس کے مشن کی مدت کار کو بڑھا دیا گیا ہے۔ ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیاں روسی سیٹلائٹ کے ملبہ کی نگرانی کر رہی ہیں اور اس مشکل حالت سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/N4gkUOl

جمعہ، 28 جون، 2024

بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا جوانی میں پھیپھڑوں کی صحت کے لیے نقصان دہ: تحقیق

نئی دہلی: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا مستقبل میں پھیپھڑوں کی صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ محققین نے آلودگی کو کم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا (یو ایس سی) کے سائنسدانوں نے پایا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی کا سامنا کرنے والے لوگ جوان میں برونکائٹس کی علامات جیسے دائمی کھانسی، بند ناک یا بلغم کی پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان بیماریوں کا سردی لگنے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

امریکن جرنل آف ریسپریٹری اینڈ کلینکل کیئر میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں 1308 بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا۔ ان کی بالغ ہونے پر تشخیص کے وقت اوسط عمر 32 سال تھی۔ تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ شرکاء میں سے ایک چوتھائی گزشتہ 12 مہینوں میں برونکائٹس کی علامات سے پریشان رہے۔

کیک اسکول آف میڈیسن میں آبادی اور صحت عامہ کے سائنسز کے اسسٹنٹ پروفیسر، ایم ڈی ایریکا گارسیا نے کہا، ’’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بچپن میں فضائی آلودگی سے ہمارے نظام تنفس پر زیادہ لطیف اثرات مرتب ہوتے ہیں، جو جوانی میں بھی ہمیں متاثر کر سکتے ہیں۔‘‘

برونکائٹس کی علامات کی موجودگی پیدائش اور 17 سال کی عمر کے درمیان دو قسم کے آلودگیوں کے سامنے آنے سے وابستہ تھی۔ ایک گروپ میں ہوا میں موجود باریک ذرات جیسے دھول، پولن، جنگل کی آگ سے نکلنے والی راکھ، صنعتی اخراج اور گاڑیوں کے دھوئیں کے ذرات شامل ہیں۔جبکہ دوسرا نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ہے، جو آٹوموبائلز، ہوائی جہازوں، کشتیوں اور پاور پلانٹس میں دہن کی ایک ضمنی پیداوار ہے، جو پھیپھڑوں کے کام کو نقصان پہنچانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

اس تحقیق میں جن بچوں پر توجہ مرکوز کی گئی جو فضائی آلودگی کے اثرات کے حوالے سے خاص طور پر حساس ہوتے ہیں۔ ان کی سانس اور مدافعتی نظام اب بھی ترقی کر رہے ہیں اور وہ بالغوں کے مقابلے میں اپنے جسمانی وزن کے مقابلے میں زیادہ سانس لیتے ہیں۔

ٹیم نے یہ بھی پایا کہ بچپن میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور ذرات کی نمائش سے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہیں، تحقیق کے مطابق، بالغوں میں برونکائٹس کا اثر ان لوگوں میں زیادہ تھا جنہیں بچپن میں دمہ کی تشخیص ہوئی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GuM7IWw

بدھ، 26 جون، 2024

ہندوستان میں 5جی صارفین کی تعداد 2029 تک 84 کروڑ تک پہنچ جائے گی: رپورٹ

نئی دہلی: ہندوستان میں 5جی صارفین کی تعداد 2029 کے آخر تک 84 کروڑ کے قریب پہنچ سکتی ہے، جو موبائل صارفین کی تعداد کا 65 فیصد ہوگی۔ یہ اطلاع بدھ کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں دی گئی ہے۔ ایرکسن موبلٹی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں موبائل صارفین کی تعداد 2029 تک بڑھ کر 1.3 بلین ہونے کا امکان ہے۔

ایرکسن کے ایگزیکٹو وی پی (وائس پریزیڈنٹ) اور ہیڈ آف نیٹ ورکس فریڈرک جیڈلنگ نے کہا کہ جون 2024 کی ایرکسن موبلٹی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 5جی موبائل سبسکرپشنز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اچھے موبائل براڈ بینڈ اور فکسڈ وائرلیس تک رسائی کلیدی استعمال کے معاملات ہیں، جس سے اشارے ملتے ہیں کہ 5جی کی صلاحیتیں سروس فراہم کرنے والوں کو متاثر کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر 2029 کے آخر تک 5جی سبسکرپشنز کی تعداد 5.6 بلین تک پہنچنے کی امید ہے۔ اس رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2029 کے آخر تک عالمی سطح پر کل موبائل صارفین میں سے 60 فیصد 5جی صارفین ہوں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مڈ بینڈ کی تعیناتی بڑے پیمانے پر کی گئی ہے اور 2023 کے آخر تک یہ کوریج 90 فیصد آبادی تک تھی۔ سال 2023 کے آخر تک 5جی صارفین کی تعداد 119 ملین تک پہنچ گئی تھی، جو کہ کل صارفین کا 10 فیصد تھا۔

خیال رہے کہ مرکزی حکومت نے ٹیلی کام خدمات کے لیے 96238.45 کروڑ روپے کے اسپیکٹرم کی نیلامی شروع کر دی ہے۔ اس میں مختلف بینڈز کے 10522.35 میگا ہرٹز کے اسپیکٹرم کی نیلامی کی جائے گی۔ اس نیلامی کے عمل میں بھارتی ایئرٹیل، ووڈافون آئیڈیا اور ریلائنس جیو انفوکام حصہ لے رہی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EBSPNci