اتوار، 29 دسمبر، 2024

آن لائن جرائم پر بین الاقوامی کنونشن منظور

آن لائن جرائم کی روک تھام اور دنیا بھر کے لوگوں کو ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سائبر جرائم کے خلاف کنونشن منظور کر لیا ہے ۔ یہ کنونشن رکن ممالک کی پانچ سالہ کوششوں کے بعد طے پایا گیا۔ اس کے اصول و ضوابط طے کرنے میں سول سوسائٹی، اطلاعاتی تحفظ کے ماہرین اور تعلیمی و نجی شعبے سے آرا بھی لی گئیں ۔ یہ فوجداری انصاف کا پہلا عالمی معاہدہ ہے جس پر تقریباً 20 سال سے بات چیت جاری تھی۔ آئندہ سال ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں اس پر دستخط کیے جائیں گے۔ 40 ممالک کی جانب سے توثیق ملنے کے تین ماہ بعد یہ باقاعدہ طور سے نافذالعمل ہو جائے گا۔ اس کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک اس پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔

اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 24 دسمبر کو اس کنونشن سے متعلق قرارداد کو بغیر رائے شماری کے منظور دے دی۔ یہ کنونشن اطلاعاتی و مواصلاتی ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے جنم لینے والے نمایاں خطرات کو تسلیم کرتا ہے جسے جرائم پیشہ عناصر غیرمعمولی حجم، رفتار اور وسعت کی حامل مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے کام میں لا سکتے ہیں۔ اس میں ریاستوں، کاروباروں اور معاشرے پر ایسے جرائم کے انتہائی منفی اثرات کو بھی واضح کیا گیا ہے۔ کنونشن میں دہشت گردی، انسانوں اور منشیات کی اسمگلنگ اور آن لائن مالیاتی جرائم سے لاحق خطرات اور ان سے تحفظ کی اہمیت تسلیم کی گئی ہے۔ کنونشن کے مطابق سائبر جرائم کے مقابل غیرمحفوظ لوگوں کے لیے انصاف کو ترجیح دینا بہت ضروری ہے، لہٰذا آن لائن جرائم کے خلاف تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی معاونت، صلاحیتوں میں اضافے اور ممالک کے مابین تعاون کو بڑھانا ہوگا۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے مطابق یہ معاہدہ سائبر جرائم کی روک تھام اور ان کا مقابلہ کرنے کی غرض سے بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ممالک کے اجتماعی عزم کا عکاس ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنائے گا۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ اس معاہدہ میں شمولیت اختیار کریں اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ بعد ازاں ان کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ اس معاہدے سے رکن ممالک کو جرائم سے متعلق معلومات اور ثبوتوں کے تبادلے، متاثرین کی حفاظت اور جرائم کی روک تھام اور آن لائن دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کا غیرمعمولی پلیٹ فارم میسر آئے گا۔

جدید اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا انسانی ترقی میں نہایت اہم کردار ہے لیکن اس کے ذریعے سائبر جرائم کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر فائلیمن یانگ نے نئے کنونشن کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے رکن ممالک کو ان جرائم کی روک تھام کے ساتھ عوام کے حقوق کے آن لائن تحفظ کی غرض سے بین الاقوامی تعاون کے ذرائع میسر آئیں گے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر غادہ ولی کے مطابق یہ کنونشن بچوں کے جنسی استحصال، جدید طریقوں سے کیے جانے والے آن لائن فراڈ اور منی لانڈرنگ جیسے سائبر جرائم سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک اہم قدم ہے۔ اس ضمن میں ان کا ادارہ تمام ممالک کو اس کنونشن پر عملدرآمد میں مدد دینے اور انہیں اپنی معیشتوں اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کو سائبر جرائم سے تحفظ کے لیے درکار تمام ذرائع مہیا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

قبل ازیں، سعودی عرب نے دسمبر کے وسط میں ریاض میں 19ویں انٹرنیٹ گورننس فورم کی میزبانی کی۔ اس موقع پر، مصنوعی ذہانت کی ماہر محترمہ ایوانا بارٹولیٹی نے رائے دی کہ کمپنیوں اور حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کے آلات و مصنوعات کے ممکنہ غلط استعمال سے افراد کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید ذمہ داری لینے کی ضرورت ہے۔ وہ ملٹی نیشنل آئی ٹی کمپنی وپرو کی گلوبل چیف پرائیویسی اور اے آئی گورننس آفیسر، اور کونسل آف یورپ کی مشیر اور ویمن لیڈنگ ان اے آئی نیٹ ورک کی شریک بانی ہیں۔

ایک انٹرویو میں، انہوں نے خواتین اور عالمی جنوب کی جانب سے اے آئی صنعت میں نمائندگی کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ یورپ میں اس صنعت میں کام کرنے والوں میں سے صرف 28 فیصد خواتین ہیں۔ ہر اے آئی پروڈکٹ ایسے عناصر پر مبنی ہوتا ہے جنہیں لوگ منتخب کرتے ہیں۔ لہذا، کافی خواتین اور تنوع کا نہ ہونا مسئلہ کا باعث ہے۔ لیکن یہ صرف زیادہ خواتین کوڈرز اور پروگرامرز رکھنے کا معاملہ نہیں ہے، یہ ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ اے آئی اور ٹیکنالوجی میں جانے کے بہت سے طریقے ہیں، اور ضروری نہیں کہ وہ کوڈر ہی بنیں۔

بارٹولیٹی نے دعوی کیا کہ جس طرح سے ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے وہ غیر جانبدار نہیں ہے کیونکہ کوئی فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا ڈیٹا شامل کرنا ہے۔ لہذا، اے آئی کی طرف سے کی گئی پیشین گوئیاں غیر جانبدار نہیں ہیں۔ ہمیں اے آئی کی گورننس، آڈیٹنگ، تحقیقاتی صحافت کے لیے خواتین کے علاوہ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ضرورت ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کیا غلط ہو رہا ہے۔

اے آئی سسٹم کی منصفانہ اور شفاف طریقے سے تعیناتی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف حکومتوں، نجی شعبے، بڑی ٹیک کمپنیوں، کارپوریٹس اور سول سوسائٹی کے درمیان تعاون جاری ہے ۔ لیکن مزید اقدام کی ضرورت ہے، کیونکہ مستقبل میں درستگی اور شفافیت ایک قانونی ضرورت بن سکتی ہے۔ ہر ملک کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اے آئی معاشرے میں موجودہ عدم مساوات کو بڑھاوا نہ دے، یا انٹرنیٹ کو مزید غیر محفوظ نہ بنا دے، جہاں جعلی ویڈیوز، تصاویر اور غلط معلومات پھیلانا بہت آسان ہے۔ اس تناظر میں، اسکولوں میں تعلیم اور اے آئی خواندگی ایک تنقیدی ذہنیت کو تیار کرنے کے لیے اہم ہیں۔ لیکن لوگوں کو یہ بتانا کہ وہ اپنی آن لائن حفاظت کے لیے خود ذمہ دار ہیں سراسر ناانصافی ہے۔ بارٹولیٹی نے تسلیم کیا کہ اے آئی خواندگی بہت اہم ہے، لیکن ذمہ داری مصنوعات بنانے والی بڑی ٹیک کمپنیوں اور ان مصنوعات کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے والی حکومتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/hCwmuLK

ہفتہ، 21 دسمبر، 2024

’اِسرو‘ اور ’ایسا‘ کے درمیان ایک بڑے معاہدہ پر ہوا دستخط، خلائی تحقیق میں مل کر کام کرنے کا راستہ ہموار

ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارہ (اِسرو) اور یوروپی خلائی ایجنسی (ایسا) کے درمیان خلائی شعبہ میں ایک بڑا اہم معاہدہ طے پایا ہے۔ ہفتہ کے روز اِسرو نے اس سلسلے میں جانکاری دی اور بتایا کہ اس معاہدہ کے تحت خلائی مسافر تربیت، مشن پر عمل درآمد اور تحقیقی تجربات سے متعلق سرگرمیوں پر تعاون کیا جائے گا۔ اس معاہدہ پر اِسرو چیف ایس. سومناتھ اور ایسا ڈائریکٹر جوسف ایشبیچنر نے دستخط کیے۔

اِسرو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس معاہدہ کے تحت دونوں ایجنسیاں انسانی تلاش و جستجو اور تحقیق میں تعاون کریں گی۔ خصوصاً خلائی مسافر تربیت، تجربات، بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر ایسا کی سہولیات کا استعمال، انسان اور بایو میڈیکل ریسرچ تجربات پر عمل درآمد، ساتھ ہی تعلیم و عوامی بیداری کی سرگرمیوں پر مل کر کام کیا جائے گا۔ جاری بیان میں یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ ’ایکسیوم-4‘ مشن میں اِسرو کے گگن یاتری اور ایسا کے خلائی مسافر شامل ہیں۔ اس مشن میں ہندوستانی سائنسدانوں کے ذریعہ کی گئی کچھ تحقیق کا استعمال بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کیا جائے گا۔

اس موقع پر سومناتھ نے کہا کہ اِسرو نے انسانی خلائی پرواز کے لیے ایک خاکہ تیار کیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان اپنے سودیشی خلائی اسٹیشن بی ایس ایس (بھارتیہ انترکش اسٹیشن) بھی بنانے جا رہا ہے اور اس سے ایسا کے ساتھ تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔ علاوہ ازیں ایسا ڈائریکٹر ایشبیچنر نے اس معاہدے کو دونوں ایجنسیوں کے لیے بہت اہم بتایا اور اِسرو کی تعریف بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ اس معاہدہ سے دونوں کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EuPwtKf

پیگاسس معاملہ: امریکی عدالت نے ہیکنگ کے لیے این ایس او گروپ کو قصوروار قرار دیا، وہاٹس ایپ کی ہوئی جیت

پیگاسس معاملے میں وہاٹس ایپ کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ این ایس او گروپ ٹیکنالوجی کو ہیکنگ کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعہ کو آیا اور اسے 'میٹا' کے میسجنگ ایپ کے ذریعہ 2019 میں امریکہ میں دائر ہائی پروفائل مقدمے میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اسپائی ویئر متاثرین کے لیے بھی بڑی جیت ہے۔

واضح ہو کہ پیگاسس شروع سے ہی کسی فون یا الیکٹرونک ڈیوائس پر خفیہ طریقے سے نظر رکھنے اور جانکاریاں جمع کرنے کے لیے جانا جاتا ہے اور اس اسپائی ویئر کا اس دوران وہاٹس ایپ کے ذریعہ لوگوں سے جڑی جانکاری چرانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

اس معاملے کی سماعت کے دوران یو ایس ڈسٹرکٹ جج فلیس ہیملٹن نے وہاٹس ایپ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے این ایس او گروپ کو ریاست اور وفاقی ہیکنگ قوانین کی خلاف ورزی کے لیے قصوروار قرار پایا۔ عدالت نے یہ بھی تسلیم کیا کہ این ایس او گروپ نے وہاٹس ایپ کی خدمات شرائط اور امریکی کمپیوٹر فراڈ اور ابیوز ایکٹ کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت کے اس فیصلے سے اس سافٹ ویئر کو بنانے والی کمپنی اور اس کے مالک کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔

اپنا فیصلہ سناتے ہوئے جج ہیملٹن نے کہا کہ این ایس او گروپ نے قانونی عمل میں خلل پیدا کی ہے۔ ایسا اس لیے بھی کیونکہ اس نے وہاٹس ایپ کو اسپائی ویئر کا سورس کوڈ نہیں دیا ہے۔ جبکہ عدالت نے اسے 2024 کی شروعات تک یہ کوڈ دینے کے لیے کہا تھا۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ عدالت کے حکم کے بعد بھی کمپنی نے کوڈ یہاں نہیں دیا اور اس کی بجائے کمپنی نے کوڈ کو صرف اسرائیل میں دستیاب کرایا اور اس کا جائزہ صرف اسرائیلی شہریوں تک محدود رکھا۔ ہمارے مطابق یہ پوری طرح سے اصول کے خلاف ہے۔

امریکی عدالت کے اس فیصلے سے یہ تو صاف ہو گیا ہے کہ پیگاسس آج کے دور میں کسی کے بھی موبائل میں گھس کر ضروری معلومات نکال سکتا ہے۔ ساتھ ہی جس طرح سے اسپائی ویئر کو بنانے والی کمپنی نے امریکی عدالت کی بات نہ مانتے ہوئے متعلقہ کوڈ میٹا کو دستیاب نہیں کرایا، اس سے یہ بھی صاف ہو جاتا ہے کہ پیگاسس کسی بھی ملک کے قانون اور وہاں کی عدالت کے حکم کو اپنے اوپر نافذ نہیں کرتا ہے۔ امریکی عدالت کے ذریعہ قصوروار قرار دیے جانے کے بعد اب دنیا کے کئی ملک بھی پیگاسس پر اپنی نظر رکھیں گے اور ذرا بھی شبہہ ہونے پر وہ اس کی جانچ کرانے کے لیے امریکی عدالت کے حکم کو بنیاد بنا سکتے ہیں.



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IFK7ZOl

بدھ، 18 دسمبر، 2024

ناسا نے سنیتا ولیمس اور بچ ولمور کی واپسی میں مزید تاخیر کی تصدیق کی، فروری میں زمین پر واپس آنا ممکن نہیں

ہند نژاد امریکی خلا باز سنیتا ولیم کی خلا سے واپسی ایک بار پھر ٹل گئی ہے۔ اس سلسلے میں خلائی ایجنسی 'ناسا' نے منگل کو ایک اَپڈیٹ جاری کیا۔ اس کے مطابق خلا سے انہیں واپس لانے کے مشن میں مزید تاخیر ہوگی۔ اب انہیں کم سے کم مارچ کے آخر تک وہیں رہنا ہوگا۔ واضح ہو کہ گزشتہ کئی مہینوں سے سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی بُچ ولمور انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ دونوں فروری میں زمین پر لوٹنے والے تھے۔

سینئر خلا باز سنیتا ولیمس اور بُچ ولمور جون میں بوئنگ کے اسٹار لائنر اسپیس کرافٹ پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ یہ مشن صرف 8 دن کا تھا لیکن وہاں پہنچنے سے پہلے ہی اسٹار لائنر میں تکنیکی خرابی آ گئی اور ان کی واپسی نہیں ہو سکی۔ اب 'ناسا' نے اپنے ایک بلاگٹ پوسٹ میں واپسی کے لیے مزید انتظار کرنے کی خبر دی ہے۔ اس سے 8 دنوں کا یہ مشن 9 مہینے سے زیادہ کا ہو جائے گا۔

سنیتا ولیمس اور ان کے ساتھی کی واپسی کے لیے ایک دوسرا طیارہ خلا میں بھیجا گیا تھا۔ کرو-9 کے دو خلائی مسافر ستمبر میں ڈریگن اسپیس کرافٹ کے ذریعہ آئی ایس ایس پہنچے تھے۔ اس میں سنیتا ولیمس اور ولمور کے لیے دو خالی سیٹیں تھیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ فروری 2025 میں چاروں واپس گھر لوٹ آئیں گے۔ حالانکہ 'ناسا' نے منگل کو کہا کہ کرو-10 جو کہ کرو-9 اور ان دونوں خلائی مسافروں کو لے کر آئے گا، اب مارچ 2025 سے پہلے لانچ نہیں ہو پائے گا۔

وہیں پیر کو سنیتا ولیمس بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کرسمس مناتی ہوئی نظر آئی تھیں۔ 'ناسا' نے اس کی تصویریں سوشل میڈیا پر ساجھا کی تھیں، جس سے سنیتا ولیمس کے مداحوں کو کافی خوشی ہوئی تھی۔ اب لوگوں کو سنیتا ولیمس کی خلا سے زمین پر جلد سے جلد واپسی کا انتظار ہے، حالانکہ ان کا انتظار مزید طویل ہو گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/EdesMBK

ہفتہ، 14 دسمبر، 2024

اوپن اے آئی کے ناقد ہند-امریکی انجینئر سُچیر بالاجی کی پراسرار موت، ایلون مسک کا اظہارِ افسوس

اوپن اے آئی پر سوال کھڑے کرنے والے ہند نژاد امریکی اے آئی ریسرچر سُچیر بالاجی کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی ہے۔ سین فرانسسکو کے بُچانن اسٹریٹ واقع فلیٹ میں 26 سال کے سُچیر کی لاش پائی گئی۔ سُچیر بالاجی 4 سال تک اوپن اے آئی کے ساتھ جڑے تھے۔ اس کے علاوہ وہ چَیٹ جی پی ٹی کے ڈیولپمنٹ کے لیے بھی کام کر چکے ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے اوپن اے آئی پر بڑے الزامات لگائے تھے۔

جانچ افسروں نے بتایا کہ سُچیر کو دوپہر قریب 1 بجے مردہ حالت میں پایا گیا۔ میڈیکل اکزامینر نے موت کی وجہ کے بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا ہے۔ پولیس نے صرف اتنا اشارہ دیا ہے کہ یہ قتل نہیں ہے بلکہ خودکشی کا معاملہ نظر آ رہا ہے۔ سُچیر کی موت سے ہر کوئی حیران ہے۔ دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلن مسک نے بھی سچیر کی موت پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا 'ایکس' پر اپنے ایک پوسٹ میں ان کی تصویر ساجھا کرتے ہوئے غم کا اظہار کیا ہے۔ ویسے اوپن اے آئی کے سی ای او سیم آلٹمین کے ساتھ مسک کا بھی لمبے وقت سے تنازعہ چلا آ رہا ہے۔

واضح ہو کہ کچھ دنوں قبل سُچیر نے کہا تھا کہ چَیٹ جی پی ٹی کے لیے بغیر اجازت کے ہی پروگرامروں اور صحافیوں، فن کاروں کے کاپی رائٹ میٹیریل کا دھڑلے سے استعمال کیا گیا۔ اس سے ان کے کاروبار پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ سُچیر کے اس بیان کے بعد اوپن اے آئی پر بڑے سوال کھڑے ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ قانونی طور پر بھی اوپن اے آئی مشکل میں آ گیا۔

23 اکتوبر کو نیو یارک ٹائمز کے انٹرویو میں سُچیر نے کہا تھا کہ اوپن اے آئے انٹرپرینیور اور کاروباریوں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہی لگتا تھا کہ مجھے فوراً یہ کمپنی چھوڑ دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس انٹرویو کے لیے نیویارک ٹائمز ان کے پاس نہیں آیا بلکہ اتنا ضروری خلاصہ کرنے کے لیے انہوں نے خود میڈیا کو بلایا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/lDGzFqS

منگل، 10 دسمبر، 2024

سال 2024: تاریخ کا سب سے گرم سال، قدرتی آفات میں اضافہ

یورپی یونین کی ’کاپرنکس کلائمیٹ چینج سروس‘ (سی3ایس) کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کو تاریخ کا سب سے گرم سال قرار دیا گیا ہے۔ جنوری سے نومبر تک عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے (1850-1900) کے مقابلے میں 1.5 ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے قبل سال 2023 کو سب سے گرم سال کے طور پر مانا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہ بڑھتی ہوئی گرمی انسان کی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

سال 2024 میں دنیا بھر میں قدرتی آفات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اٹلی اور جنوبی امریکہ کو شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ نیپال، سوڈان اور یورپ میں طوفانی بارشوں اور سیلابوں نے تباہی مچائی۔ میکسیکو، مالی اور سعودی عرب میں گرمی کی لہر کے باعث ہزاروں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اسی طرح امریکہ اور فلپائن میں تباہ کن طوفانوں نے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا۔

کاپر نکس کے ماہر جولیئن نکولس نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو بڑھتا ہوا درجہ حرارت دنیا کو مزید خطرات سے دو چار کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق فوسل فیول کے استعمال اور کاربن کے اخراج کو کم کرنا از حد ضروری ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو دنیا ایک دن بھٹی کی مانند جل اٹھے گی۔

ماہرین کے مطابق، ماحولیاتی پیٹرنز جیسے ال نینو اور لا نینا درجہ حرارت کو متاثر کرتے ہیں۔ امپیریل کالج لندن کے ماہر فریڈرک اوٹو نے کہا کہ آئندہ سال لا نینا کی وجہ سے درجہ حرارت میں عارضی کمی کا امکان ہے، لیکن یہ معمول پر آنے کا اشارہ نہیں۔ آئندہ سالوں میں بھی ہیٹ ویو، خشک سالی، جنگلات کی آگ اور طوفان جیسے خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ سال 2024 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ اگرچہ کئی ممالک نے اسے کم کرنے کا عزم کیا تھا لیکن ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/E7ho9iJ

ہفتہ، 7 دسمبر، 2024

تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ: ٹاپ-10 ممالک کی فہرست میں 3 مسلم ممالک سب سے آگے، امریکہ، جاپان اور چین کو بھی چھوڑا پیچھے

ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بغیر انٹرنیٹ کے آپ کوئی کام نہیں کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اس کی رفتار کی بھی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار سے متعلق حالیہ دنوں میں ورلڈ بینک نے ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ٹاپ-10 ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹاپ 10 ممالک میں سرفہرست ٹاپ 3 مسلم ممالک ہیں۔ متحدہ عرب عمارات فہرست میں پہلے درجہ پر ہے جبکہ قطر اور کویت بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر ہے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے والے 10 سرفہرست ممالک کون کون ہیں۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں ٹاپ پر ہے متحدہ عرب عمارات (یو اے ای)۔ وہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 398.5 ایم بی پی ایس ہے۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر قطر ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 344.3 ایم بی پی ایس ہے۔ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر کویت ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 239.83 ایم بی پی ایس بتائی گئی ہے۔ چوتھے نمبر پر جنوبی کوریا ہے۔ وہاں کے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 141.23 ایم بی پی ایس ہے۔ فہرست میں پانچواں مقام نیدرلینڈ کو حاصل ہوا ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 133.44 ایم بی پی ایس ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 130.05 ایم بی پی ایس موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ ڈنمارک نے فہرست میں چھٹی پوزیشن حاصل کی ہے۔ 128.77 ایم بی پی ایس کے ساتھ ناروے ساتویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب 122.28 ایم بی پی ایس موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ آٹھویں مقام پر ہے۔ فہرست میں نویں مقام پر بلغاریہ ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 117.64 ایم بی پی ایس ہے۔ اس فہرست میں دسویں نمبر پر لکژمبرگ کو جگہ ملی ہے۔ وہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 114.42 ایم بی پی ایس ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1VYq0US

اسمارٹ فون اسکرین کے ’گرین لائن‘ مسئلے کے لیے ون پلس نے متعارف کرائی لائف ٹائم وارنٹی

موبائل کمپنی ’ون پلس‘ نے ہندوستان میں اپنے صارفین کے لیے اسمارٹ فونز کی اسکرینوں میں گرین لائن کے مسئلے کے لیے لائف ٹائم وارنٹی متعارف کرائی ہے۔ یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ ون پلس اپنے صارفین کی ضروریات اور ان کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک اس بات کا سامنا کرنے والے صارفین کی تعداد زیادہ تھی جو اپنے ڈیوائسز میں ’گرین لائن‘ یعنی اسکرین پر سبز رنگ کی لائن دیکھنے کی شکایت کرتے تھے اور اس کو ٹھیک کرنے کے لیے انہیں اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ نیا اقدام ’گرین لائن-وری فری سلوشن‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ اس کا مقصد اسکرین کی AMOLED پینلز کو زیادہ مستحکم اور محفوظ بنانا ہے۔ اس کے لیے ون پلس نے جدید پی وی ایکس مٹیریل استعمال کیا ہے جو اسکرین کے کناروں کو مزید مضبوط بناتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ پانی اور آکسیجن جیسے عوامل سے بچاؤ بھی فراہم کرتا ہے جو اسکرین کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ اس نئے سسٹم کو ایک سخت معیار کی جانچ سے گزارا گیا ہے جس میں 85 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت اور 85 فیصد نمی کے تحت اسکرینز کو ٹیسٹ کیا گیا۔

ون پلس کی اس نئی حکمت عملی کا مقصد اپنے صارفین کے اعتماد کو مزید بڑھانا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ لائف ٹائم وارنٹی خاص طور پر ہندوستانی مارکیٹ کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جہاں انتہائی گرم اور مرطوب موسم میں اسکرین کی خرابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ون پلس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رابن لیو نے اس پیش رفت کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کمپنی نے ہمیشہ سے ہی تکنیکی ترقی کے ذریعے صارفین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کہنا تھا، ’’ہم نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنی مصنوعات میں شامل کیا ہے تاکہ ہم اپنے صارفین کی توقعات پر پورا اتر سکیں۔‘‘

یہ وارنٹی اس وقت شروع کی جا رہی ہے جب ون پلس نے اپنے ’پروجیکٹ اسٹار لائٹ‘ کے تحت ہندوستانی مارکیٹ میں 6000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعے کمپنی اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NBHZyP4

جمعرات، 5 دسمبر، 2024

جیریڈ آئزاک مین ہوں گے 'ناسا' کے نئے سربراہ، ٹرمپ نے باندھے تعریفوں کے پُل

امریکی انتخاب جیتنے والے ریپبلکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو 47ویں صدر کے طور پر حلف لیں گے۔ حلف برداری سے قبل انہوں نے کئی اہم محکموں کے سربراہوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب انہوں نے امریکہ میں 'ناسا' کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے جیریڈ آئزاک مین کو 'ناسا' کے سربراہ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ جیرڈ آئزاک مین ٹرمپ کی نئی حکومت میں نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن یعنی ناسا کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے۔

ٹرمپ نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ کے ذریعہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ جیریڈ کو 'ناسا' کا سربراہ نامزد کرنے پر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ ایک بہترین بزنس لیڈر، پائلٹ، ایسٹروناٹ اور ایک قابل رہنما ہیں۔ جیریڈ آئزاک مین نے 25 برس سے اینٹگریٹیڈ پمنٹس اور کامرس ٹیکنالوجی کمپنی شفٹ4 کے بانی اور سی ای او کے طور بخوبی اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

ایک دہائی سے زیادہ وقت تک جیریڈ نے ڈریکن انٹرنیشنل کے سی ای او اور شریک بانی کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ یہ اپنی غیر معمولی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پوسٹ میں بتایا کہ جیریڈ کو خلاء اور ریسرچ میں کافی دلچسپی ہے۔ ایک خلاباز کے طور پر ان کا تجربہ اور تندہی سے کام کرنا 'ناسا' کو بڑی اونچائیوں تک لے جائے گا۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کی اہم ذمہ داری ملنے سے جیریڈ آئزاک مین کافی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناسا کی قیادت کرنے کے لیے وہ پُرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا "میرے آخری خلائی مشن پر میرے عملہ اور میں نے زمین سے کافی دور تک سفر کیا تھا۔ یہ اتنی زیادہ دوری تھی کہ جتنی گزشتہ نصف صدی میں کی ہوگی۔ انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ موجودہ وقت میں دوسرے خلائی عہد کی شروعات ہے۔ ایسے میں مینوفیکچرنگ، بایو ٹیکنالوجی، کھدائی اور شاید توانائی کے نئے ذرائع کے لیے کامیابی کے بہت سے امکانات ہیں۔

واضح ہو کہ امریکی ارب پتی صنعت کار جیریڈ کو خلا میں چلنے والے پہلے غیر پیشہ ور خلائی مسافر کا اعزاز حاصل ہے۔ پہلے خلائی مشن کے علاوہ 2021 میں انہوں نے زمین کا چکر لگانے والی پہلی پرائیویٹ اسپیس جیٹ فلائٹ میں ٹیم مینجمنٹ اور قیادت کی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/r4xFNZu

اتوار، 17 نومبر، 2024

وی پی این کے استعمال پر پاکستانی اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ، غیر رجسٹرڈ استعمال کو گناہ قرار دیا

پاکستان میں مذہبی معاملات سے متعلق ملک کے اعلیٰ مشاورتی ادارے نے ایک فرمان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ممنوعہ مواد دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والا ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ پاکستانی حکام نے 15 نومبر کو فائر وال تعینات کرنے اور انٹرنیٹ کی نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ صارفین کو وی پی این پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹر کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے یہ اقدام سائبر سکیورٹی کو مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدام کے طور پر اٹھایا ہے۔

وی پی این کے استعمال پر اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ جاری کرنے کی اصل وجہ سامنے آئی ہے۔ کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال غیر اخلاقی یا غیر قانونی مقاصد کے لیے کرنا اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کونسل کے صدر راغب نعیمی نے کہا کہ وی پی این کا استعمال گناہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال غلط معلومات پھیلانے، دہشت گردی کی حمایت اور سماج میں انتشار کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی ڈھانچے پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سماج میں اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔

وی پی این کا غلط استعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ معاشرتی اخلاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ کونسل نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرتی بگاڑ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے عوامی زندگی میں انتشار اور بے راہ روی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، وی پی این کے ذریعے مختلف غیر قانونی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہیں جو اسلامی معاشرت کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

وی پی این کے استعمال کے حوالے سے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اسے دہشت گردانہ سرگرمیوں، مالی جرائم اور فحش مواد تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے اسے قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے پی ٹی اے کو غیر قانونی وی پی این کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدام آزادی پر متضاد کنٹرول کی علامت ہے، حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے لحاظ سے ضروری اور مؤثر ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FHb97jD

ادویات: کم ہوتی تاثیر پر مشترکہ اقدامات کا عہد

اینٹی مائکروبیل رزسٹنس (اے ایم آر) پر دو روزہ چوتھی عالمی وزارتی کانفرنس16 نومبر کو سعودی شہر جدہ میں اس پیچیدہ طبی مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہر شعبے میں قابل ِعمل اقدامات سے متعلق اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے کہا کہ کانفرنس میں لیے جانے والے فیصلے رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو جراثیمی مزاحمت کے خلاف ٹھوس اقدامات میں مدد دیں گے۔ یہ اعلامیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 'اے ایم آر' کے حوالے سے منظور کردہ سیاسی اعلامیہ کا تسلسل ہے۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب میں 'اے ایم آر' کے حوالے سے آگاہی کا مرکز (ون ہیلتھ لرننگ حب) اور جراثیم کش ادویات تک رسائی اور ان کے انتظام و اہتمام کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کا مقصد ضروری جراثیم کش ادویات اور اس مسلئے سے متعلقہ طبی تشخیص تک رسائی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا۔

جدہ اعلامیہ میں 'اے ایم آر' پر چار رخی مشترکہ سیکرٹریٹ کے اہم کردار کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ سیکرٹریٹ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ)، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور جانوروں کی صحت سے متعلق عالمی ادارے (ڈبلیو او اے ایچ) پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک نیا 'بائیوٹیک برِج' بنانے کی بات بھی کی گئی ہے جس کی بدولت اس عالمگیر خطرے پر قابو پانےکے لیے تحقیق و ترقی اور اختراع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

جدہ اعلامیہ کا خیرمقدم کرتے ہوئےیونیپ میں کیمیائی مادوں اور صحت کے شعبے کی سربراہ جیکولین الواریز نے کہا ہے کہ یہ کامیاب کثیرفریقہ طریقہ کار اور مختلف شعبوں کے مشترکہ کام سے حاصل ہونے والے فوائد کی مثال ہے۔ جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت سے نمٹنے اور اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے پاس مختلف قسم کی صلاحتیں ہیں۔ کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا اور سبھی ممالک کا اکٹھے آگے بڑھنا یقینی بنانا ہو گا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ناصرف روایتی طریقے سے کام لینا ہو گا بلکہ مزید تحقیق کے مواقع تخلیق کرنے اور مسائل کے ماحول دوست اور پائیدار حل نکالنے کی کوشش بھی کرنا ہو گی تاکہ سبھی کو یہ محسوس ہو کہ ان کے پاس خود کو تحفظ دینے کے مواقع موجود ہیں۔

اینٹی مائکروبیل رزسٹنس یا جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور پیراسائٹ پر اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ چونکہ ادویات کے خلاف مزاحمت اینٹی بائیوٹِکس اور دیگر جراثیم کش علاج کو غیر موثر بناتی ہے اور انفیکشن کے علاج کو مزید مشکل یا ناممکن بنا دیتی ہے اس سے سپر بگ پیدا ہو سکتے ہیں جن کو ادویات کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا جو ان جراثیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے پہلا انتخاب ہیں۔ نتیجتاً بیماری کے پھیلاؤ، اس کی شدت میں اضافے، معذوری اور موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

قبل ازیں، کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سنجیدہ صورتحال پر اپنے تجزیہ میں کہا کہ اے ایم آر سے صرف دوائیوں کو کم موثر بنانے کا محض خطرہ نہیں ہے بلکہ اب ایسا ہو رہا ہے۔ جس تشویش پر بات کی جا رہی ہے وہ صرف سپر بگ انفیکشن کی وجہ سے لوگوں کے مرنے کا محض خطرہ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سال 13 لاکھ لوگ مر رہے ہیں۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس ’کاپ29 ‘ میں شرکت کے بعد سعودی عرب پہنچنے پر ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اے ایم آر کے خلاف ایکشن بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے کارروائی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے اے ایم آر سے متعلق سیاسی اعلامیہ میں واضح اہداف طے کیے گئے ہیں اور اب اس عہد کو کارروائی میں تبدیل کرنا ہے۔ خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے اس اعلان پر عمل درآمد کے لیے انہوں نے تین ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ سب سے پہلے، ملکی اور بین الاقوامی دونوں ذرائع سے پائیدار فنانسنگ میں اضافہ۔ دوسرا، تحقیق، ترقی، اور اختراع میں اضافہ اور تیسرا، مناسب استعمال کو یقینی بناتے ہوئے معیاری اینٹی مائکروبیلز تک مساوی رسائی میں اضافہ۔ انہوں نے کہا، اے ایم آر کی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ جراثیم کش ادویات کے نامناسب استعمال سے پھیلتی ہے ۔ لوگوں کے بڑی تعداد میں مرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ان ادویات تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اے ایم آر پر کارروائی کو تیز کریں، تعاون کا عہد کریں، اور جانوں کی حفاظت کرنے والی ادویات کی حفاظت کریں۔

سعودی وزیر صحت فہد الجلاجیل نے اپنے خطاب میں شرکاء کو متنبہ کیا کہ اے ایم آر زندگی کے تمام پہلوؤں پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور صحت عامہ، معاشی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ چیلنج کوئی سرحد نہیں جانتا اور ہر عمر اور گروہ کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وزارتی میٹنگ میں شریک تمام ممالک اس چیلنج کی شدت سے بخوبی واقف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اس ضمن میں 'جدہ اعلامیہ' میں اہم سعودی اقدامات شامل ہیں، جیسے کہ اینٹی مائکروبیل مزاحمت کی حمایت کے لیے ایک عالمی سائنسی کمیٹی کی تشکیل، تحقیق اور ترقی میں مدد کے لیے 'بائیو ٹیکنالوجی پُل' کا قیام، اور ایک مجوزہ علمی مرکز جس کا مقصد اے ایم آر کے بارے میں عوامی بیداری کو بڑھانا ہے۔ سعودی وزیر صحت نے زور دے کر کہا کہ اعلامیہ کانفرنس کی تھیم ، 'اعلان سے عمل درآمد تک' پر مرکوز ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیاسی اعلامیہ میں طے پانے والے معاہدوں کو پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثر اینٹی بایوٹک کے بغیر ہمیں جدید ادویات کے فوائد سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس قیمتی تحفے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔

اس موقع پر مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان البالخی نے کہا کہ امن میں اے ایم آر سے نمٹنے کی کوششیں ایک مشکل ایجنڈا ہے، اور جنگ و تنازعات میں یہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے پاس خود کو محفوظ رکھنے اور جراثیم کش مزاحمت کے لیے افزائش گاہ بنانے سے بچنے کے لیے مناسب حفظان صحت اور صحت کے آلات کی کمی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او ایسے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو اے ایم آر کے پھیلاؤ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور کھلے میں رفع حاجت کے چیلنجوں کو کم کرنا ان میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایف اے او کے ایک اہلکار کے مطابق تقریباً 70 فیصد اینٹی بائیوٹِکس مویشیوں کی پیداوار، آبی زراعت اور پودوں کی پیداوار میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اے ایم آر مسئلے پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے جڑ سے قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ممالک، کسان، نجی شعبے، تعلیمی ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو کاشتکاری میں اینٹی مائکروبیلز پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ ہمیں خوراک کی پیداوار کے طریقے تبدیل کر کے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آج 8 ارب کے مقابلے 2050 تک ہم 10 ارب لوگوں کو خوراک فراہم کرا سکیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bAFXP52

ہفتہ، 16 نومبر، 2024

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ابتدائی مراحل میں جگر کی بیماری کی تشخیص ممکن

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جگر کی خطرناک بیماری مَیٹابولک-ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کے ابتدائی مراحل میں تشخیص اب ممکن ہوچکی ہے۔ یہ بات ایک امریکی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ یہ بیماری جگر میں چربی کے درست انداز میں نہ جم سکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ایم اے ایس ایل ڈی جگر کی دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دائمی بیماریوں میں سے ایک ہے، جو اکثر موٹاپے، ذیابیطس اور غیرمعمولی کولیسٹرول جیسی دیگر بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ بیماری اکثر بغیر کسی ظاہری علامت کے شروع ہوتی ہے، جس کے باعث اس کا ابتدائی مرحلے میں پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے ذریعے اے آئی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے 834 مریضوں میں اس بیماری کے نشانات کا پتہ چلایا گیا۔ تاہم، ان میں سے صرف 137 مریضوں کے ریکارڈ ہی مکمل طور پر دستیاب تھے، اور 83 فیصد کیسز میں بیماری کی بروقت تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جگر کے دیگر مسائل مثلاً فائبروسس، نان-الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی)، اور ہیپاٹوسیلولر کینسر کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق لِیور میٹنگ کے دوران پیش کی جائے گی، جس کا انعقاد امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے تحت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں ایک نیا انقلابی قدم ہے، جو مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OSdUbpy

جمعہ، 15 نومبر، 2024

اسرو نے مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ملایا ہاتھ، امریکہ سے لانچ ہوگا ہندوستانی سیٹلائٹ جی سیٹ-20

ہندوستانی خلائی ایجنسی 'اسرو' نے مشہور صنعت کار ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خاص دوست اور دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اگلے ہفتہ کی شروعات میں فالکن 9 راکیٹ سے ہندوستان کے سب سے جدید مواصلاتی سیٹلائٹ جی سیٹ-20 (جی سیٹ این-2) کو خلا میں لے جائے گی۔

اسرو اور اسپیس ایکس کے درمیان کئی سودے ہوئے ہیں۔ جی سیٹ-این2 کو امریکہ کے کیپ کینا ویرل سے لانچ کیا جائے گا۔ یہ 4700 کلوگرام کا سیٹلائٹ ہندوستانی راکیٹوں کے لیے بہت وزنی تھا، اس لیے اسے غیر ملکی کمرشیل لانچ کے لیے بھیجا گیا۔ ہندوستان کا اپنا راکیٹ 'دی باہو بلی' یا لانچ وہیکل مارک-3 زیادہ سے زیادہ 4000 سے 4100 کلو گرام تک کے وزن کو خلائی مدار میں لے جا سکتا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان اب تک اپنے زیادہ وزنی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کے لیے ایرین اسپیس پر منحصر تھا، لیکن حال میں اس کے پاس کوئی بھی چالو راکیٹ نہیں ہے اور ہندوستان کے پاس واحد قابل اعتماد متبادل اسپیس ایکس کے ساتھ جانا تھا کیونکہ یوکرین جنگ کے سبب روس بھی اپنے راکیٹ کو کاروباری طور پر لانچ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس سے اپنا سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے انہیں اچھی ڈیل ملی ہے۔ اسپیس ایکس اپنے طاقتور راکیٹ فالکن سے ہندوستانی سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجے گا۔

اسرو کے ذریعہ تیار جی سیٹ این-2 سیٹلائٹ 14 سال تک کام کرے گا۔ یہ ایک تجارتی لانچ ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے ہندوستان میں نیٹ ورک بہتر ہوگا اور ہوائی خدمات کے دوران بھی انٹرنیٹ کنکٹیویٹی مل سکے گی۔ ایسا اندازہ ہے کہ جی سیٹ این-2 کی لانچنگ میں فالکن 9 راکیٹ کے اس کمرشیل لانچ پر 6 سے 7 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایلن مسک کے سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ خدمات میں اسٹار لنک کو لائسنس دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IBFkCra