جمعرات، 23 اکتوبر، 2025

آٹومیشن کے بڑھتے رجحان کا نتیجہ! میٹا نے ’اے آئی‘ ٹیم کے 600 ملازمین کو کیا برطرف

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال نے عالمی سطح پر ملازمتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ تازہ مثال میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی مالک کمپنی ’میٹا‘ نے اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) شعبے سے 600 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ قدم اپنے کام کے عمل کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانے کے منصوبے کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹا نے کچھ عرصہ قبل اسی شعبے میں بڑی تعداد میں تقرریاں کی تھیں، مگر اب یہی محکمہ کمپنی کی تنظیمِ نو کی پالیسی کے تحت کٹوتی کا شکار بن گیا ہے۔ اس فیصلے نے متاثرہ ملازمین کے لیے غیر یقینی صورتِ حال اور روزگار کے بحران کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ملازمین کی برطرفی سے اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر کام کرنے والے ملازمین متاثر ہوں گے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے بتایا کہ کمپنی اپنے بڑے اور اہم منصوبوں کو متاثر کیے بغیر یہ تبدیلی کرنا چاہتی ہے۔ میٹا متاثرہ ملازمین کو دیگر محکموں میں جگہ دینے کے امکان پر بھی غور کر رہی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کام کی رفتار کو بہتر بنانے اور فیصلہ سازی میں تیزی لانے کے مقصد سے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق میٹا نے حالیہ مہینوں میں کئی نئی تقرریاں کی تھیں جس سے ٹیم کے سائز میں نمایاں اضافہ ہوا تھا۔ اب کمپنی ٹیم کو مزید جامع اور نتائج پر مبنی بنانا چاہتی ہے۔ میٹا کے چیف اے آئی آفیسر الیگزینڈر وانگ نے کہا کہ اس اقدام کا مطلب ہے مستقبل میں کم میٹنگ اور بات چیت ہوں گی، جس سے فیصلے جلدی لئے جا سکیں گے۔

مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے بڑھتے استعمال کی وجہ سے عالمی سطح پر ملازمتوں کا خطرہ لگاتار بڑھ رہا ہے۔ حال ہی میں نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی ’ایمیزون‘ نے اپنے گوداموں میں کام کرنے کے لیے روبوٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ہزاروں ملازمتیں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Lhv70Vk

منگل، 14 اکتوبر، 2025

بغیر پائلٹ کے میدانِ جنگ میں گولہ-بارود پہنچائے گا امریکی جنگی ہیلی کاپٹر ’بلیک ہاک‘

دنیا کا سب سے مشہور جنگی ہیلی کاپٹر ’بلیک ہاک‘ اب بغیر پائلٹ کے بھی پرواز کر سکتا ہے۔ امریکی کمپنی سکورسکی نے واشنگٹن میں جاری اے یو ایس اے 2025 کانفرنس میں اپنا نیا ہیلی کاپٹر ایس-70یو اے ایس یو-ہاک پیش کیا ہے۔ یہ یو ایچ-60ایل بلیک ہاک کا ایک مکمل طور سے آٹومیٹک ورژن ہے، جو بغیر کسی انسان کے لاجسٹکس (سامان پہنچانا)، نگرانی اور لڑائی کا کام کر سکتا ہے۔ آسان لفظوں میں کہا جائے تو یہ ایک بڑا ڈرون ہیلی کاپٹر ہے، جو فوجیوں کی جان بچانے کے ساتھ ساتھ طویل مشن بھی انجام دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ بلیک ہاک ہیلی کاپٹر امریکی فوج کا پرانا دوست ہے۔ 1970 کی دہائی سے یہ فوجیوں کو لے جاتا ہے، سامان پہنچاتا ہے اور جنگ میں مدد کرتا ہے۔ لیکن اب جنگ کے میدان میں خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس لیے سکورسکی نے اسے بدل دیا ہے، انہوں نے کاکپیٹ (پائلٹ کا کیبن)، سیٹیں اور کریو اسٹیشن ہٹا دیے۔ اس کی جگہ آگے کی جانب کلیمشیل ڈور (جھپٹے دار دروازے) اور پیچھے کارگو ریمپ (سامان اتارنے کا ریمپ) لگا دیا۔ اس سے اندر کا اسپیس 25 فیصد بڑھ گیا ہے، یہ تبدیلی 10 ماہ میں مکمل ہو پائی ہے۔ سکورسکی کمپنی کے وائس چیئرمین رچ بنٹن کہتے ہیں کہ ہم نے بلیک ہاک کا ڈی این اے لیا اور اسے نئی طاقت دی۔ یہ صرف ڈیمو نہیں۔ بلکہ سستی آٹومیٹک تکنیک کا بلیو پرنٹ ہے۔

یہ ہیلی کاپٹر ’میٹرکس‘ نامی آٹو میٹک سسٹم سے چلتا ہے۔ یہ سسٹم اپنا راستہ خود بناتا ہے، رکاوٹوں سے بچتا ہے اور ریئل ٹائم میں فیصلہ لیتا ہے۔ ایک آپریٹر ٹیبلیٹ سے انجن اسٹارٹ سے مشن ختم کر سب کنٹرول کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی پائلٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

یو-ہاک کی خصوصیات:

  • کوئی کاک پیٹ نہیں: مکمل طور سے انکروڈ (بغیر کریو ممبر کے)، جو پائلٹوں کو خطروں سے بچاتا ہے۔

  • ماڈیولر ڈیزائن: پرانے بلیک ہاک کو آسانی سے اپگریڈ کیا جا سکتا ہے۔ سکورسکی انوویشن کے ڈائریکٹر ایگور چیریپنسکی کہتے ہیں کہ ہماری توجہ ریٹروفٹ پر ہے۔ موجودہ ہیلی کاپٹروں کو نیا بنا سکتے ہیں۔

  • فلائی بائی وائر سسٹم: تیسری نسل کا سستا کنٹرول سسٹم، جو کمپیوٹر کی مدد سے پرواز کا استعمال کرتا ہے۔

  • کارگو لوڈنگ: آگے کے دروازوں سے سامان براہ راست ڈرائیو-آن-ڈرائیو-آف (گاڑی چڑھا کر اتارنا) ہو جاتا ہے۔ کوئی ہاتھ سے اٹھانے کی ضرورت نہیں۔

  • مشن فلیکسیبلیٹی: لاجسٹکس آئی ایس آر (خفیہ نگرانی)، ڈرون لانچ اور گراؤنڈ وہیکل ڈپلائمنٹ۔ یہ ہیلی کاپٹر ہائی رسک جگہوں پر کام کرے گا، جیسے دشمن علاقوں میں سامان پہنچانا۔

واضح رہے کہ سکورسکی کمپنی کا منصوبہ ہے کہ 2026 میں پہلی پرواز ہو۔ پھر اسے امریکی آرمی کے 2 ہزار سے زیادہ بلیک ہاک میں اپگریڈ کریں گے۔ پنٹاگن کی پالیسی میں آٹونامس لاجسٹکس اہم ہے، خاص کر چین یا روس جیسے دشمنوں سے جنگ کے دوران یو-ہاک ثابت کرے گا کہ پرانی مشینیں نئی تکنیک سے مزید بہتر ہو سکتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/zsWrd6Z

پیر، 13 اکتوبر، 2025

اسپیس ایکس کی اسٹار شپ کا کامیاب لانچ، چاند اور مریخ کی راہ ہوئی آسان

 ایلون مسک کی کمپنی ’اسپیش ایکس‘ نے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ پیر کے روز کمپنی نے اپنے اسٹارشپ ورژن۔2 راکٹ کا 11 واں اور آخری ٹیسٹ مشن کامیابی سے مکمل کیا۔ یہ پرواز تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی اور اس نے اپنے تمام اہداف پورے کر لیے۔

ٹیکساس کے اسٹاربیس سینٹر سے لانچ کیے گئے اس مشن کے دوران سپر ہیوی بوسٹر نے پرواز کے10 منٹ بعد ہی میکسیکو کی خلیج میں محفوظ لینڈنگ کی۔ وہیں خلا تک پہنچنے کے بعد ا سٹار شپ نے ڈمی اسٹار لنک سیٹلائٹ چھوڑے اور انجن کو دوبارہ شروع کرنے کا کامیاب تجربہ کیا، جو چاند اور مریخ کے مشن کے لیے انتہائی اہم ہے۔

راکٹ جب زمین پر واپس آیا تو اس نے ماحول کی گرمی کو برداشت کیا اور بحر ہند میں محفوظ طریقے اسپلیش ڈاؤن کیا۔ اس سلسلے میں ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ اس مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو اگلے ماڈل کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ بتادیں کہ رواں سال کے شروع میں اسٹار شپ کے کئی ٹیسٹ ناکام ہوئے تھے لیکن مسلسل دوسری کامیابی نے ٹیم کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔ اب کمپنی اسٹارشپ ورژن 3 لانچ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جو پچھلے ورژن سے زیادہ طاقتور ہوگا۔

ورژن 3 تقریباً 408 فٹ (124.4 میٹر) اونچا ہو گا، جب کہ ’فیوچر اسٹار شپ‘ جسے ایلون مسک نے مئی 2025 کی ایک پریزنٹیشن میں دکھایا تھا، زمین سے 466 فٹ (142 میٹر) بلند ہو گا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ’فیوچر اسٹار شپ‘ کا ورژن 4 ہے، جسے مسک نے 2027 میں لانچ کرنے کی بات کہی ہے۔

’اسپیش ایکس‘ اس راکٹ کو ناسا کے آرٹیمس پروگرام کے لیے بھی تیار کر رہا ہے جو کہ 2027 تک انسانوں کو دوبارہ چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔اس مشن کو کمپنی کے مریخ مشن کی جانب ایک بڑا قدم بھی سمجھا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/49eAUSW

ہفتہ، 11 اکتوبر، 2025

ہندوستانی سائنسدانوں نے تیار کی کوانٹم فزکس پر مبنی نئی ٹیکنالوجی، او ٹی پی ہیکنگ پر لگے گی لگام!

اگر آپ کا فون ہیک ہونے یا سائبر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں رقم گنوانے کا خدشہ رہتا ہے، تو اب راحت کی خبر ہے۔ بنگلورو کے رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آر آئی آئی) اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) کے سائنسدانوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ دو سے تین برس میں ایسی ٹیکنالوجی عام ہو جائے گی جس سے او ٹی پی ہیکنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔

بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق، یہ نئی ٹیکنالوجی کوانٹم فزکس کے اصولوں پر مبنی ہے، جو بینکنگ، دفاع اور محفوظ کمیونیکیشن کے میدان میں انقلابی تبدیلی لا سکتی ہے۔

رمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی کوانٹم انفارمیشن اینڈ کمپیوٹنگ (کیو آئی سی) لیب کی سربراہ پروفیسر اُربسی سنہا نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے ’ڈیوائس انڈیپنڈنٹ رینڈم نمبر جنریشن‘ نامی نظام تیار کیا ہے، جو او ٹی پی اور دیگر حساس ڈیٹا کے لیے استعمال ہونے والے نمبروں کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنائے گا۔

انہوں نے کہا، ’’یہ ٹیکنالوجی موبائل فون کے کام کرنے کے طریقے، او ٹی پی کی تخلیق اور ڈیوائس سکیورٹی کے نظام کو بدل دے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ رینڈم نمبر جنریشن کا عمل کسی بھی آلے پر منحصر نہ ہو۔‘‘ یہ نظام لیبارٹری میں کامیابی سے آزمایا جا چکا ہے، اور اب اسے عملی طور پر نافذ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

آئی آئی ایس کی پروفیسر انِندا سنہا کے مطابق فی الحال یہ نظام ایک آپٹیکل ٹیبل پر تجرباتی سطح پر کام کرتا ہے لیکن جلد ہی اسے ایک پوٹ ایبل ڈیوائس یعنی چھوٹے باکس کی شکل میں ڈھالا جائے گا، جسے کہیں بھی نصب کیا جا سکے گا۔ ان کے مطابق، یہ ڈیوائس گیگا بٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے کوانٹم رینڈم بٹس تیار کرے گا، جنہیں او ٹی پی اور خفیہ مواصلات کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

یہ ریسرچ آر آر آئی، آئی آئی ایس اور کینیڈا کی کیلگری یونیورسٹی کے درمیان تعاون کا نتیجہ ہے اور اسے ’فرنٹیئرز اِن کوانٹم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی‘ نامی جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔

پروفیسر اُربسی سنہا نے مثال دیتے ہوئے کہا، ’’جیسے ایک فریج وقت کے ساتھ اپنی کارکردگی کھو دیتا ہے، ویسے ہی موجودہ رینڈم نمبر جنریٹرز بھی وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتے ہیں۔ ان میں موجود معمولی خامیوں کا فائدہ اٹھا کر ہیکرز حملہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک ایسا نظام چاہیے جو ان کمزوریوں سے آزاد ہو۔‘‘

اسی سوچ کے تحت محققین نے ’ڈیوائس-اِنڈیپنڈنٹ رینڈم نمبر جنریشن‘ کا نیا طریقہ تیار کیا ہے۔ اس میں ’لیگیٹ-گرگ اِن ایکوالٹیز‘ جیسے کوانٹم اصول استعمال کیے گئے ہیں، جو کسی بھی آلے کی کارکردگی پر منحصر نہیں رہتے۔

پروفیسر انِندا سنہا کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم ایک ’رینڈمنیس باکس‘ تیار کر رہی ہے، جو مکمل طور پر مقامی سطح پر بنایا جائے گا۔ اگرچہ اس کا پہلا پروٹو ٹائپ مہنگا ہوگا لیکن بڑے پیمانے پر تیاری کے بعد اس کی لاگت کم ہو جائے گی۔ یہ باکس بینکنگ اور دفاعی اداروں کے لیے موزوں ہوگا، جو محفوظ کمیونیکیشن کے لیے رینڈم نمبر تیار کرنے میں مدد دے گا۔

ان کے مطابق، بینکوں کو او ٹی پی بنانے کے لیے صرف ایک چھوٹے یونٹ کی ضرورت ہوگی، جو تصدیق شدہ رینڈم نمبر فراہم کرے گا۔ یہ اس بات کی ضمانت دے گا کہ کسی بھی مرحلے پر ڈیٹا یا نمبر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں۔

انہوں نے بتایا، ’’فی الحال کمرشل رینڈم نمبر جنریٹرز مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں، اس لیے ان میں خطرہ رہتا ہے۔ ہمارا مقصد ایک ایسا نظام لانا ہے جس کے ساتھ نظریاتی طور پر بھی کوئی چھیڑ چھاڑ ممکن نہ ہو۔‘‘ پروفیسر اربسی سنہا کو یقین ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے اگرچہ ڈیوائسز میں کچھ تبدیلیاں کرنی پڑیں گی مگر موبائل فون کے بنیادی ڈھانچے کو نہیں بدلنا پڑے گا۔

اور اگر ہیکرز اس نظام کو توڑنے کی کوشش کریں؟ اس سوال پر پروفیسر انِندا سنہا نے کہا، ’’یہی کوانٹم فزکس کی طاقت ہے۔ اگر کوئی دوسرا آلہ بھی بنا لے، تو وہ کسی اور تصدیق شدہ یونٹ سے رینڈم نمبروں کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی تقریباً ناقابلِ ہیک ہوگی۔‘‘

(مآخذ: بی بی سی ہندی)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/ugIlGf5

منگل، 7 اکتوبر، 2025

دنیا کے کسی کونے میں محض ایک گھنٹے میں پہنچے گا سامان، خلا سے ہوگی ڈیلیوری

 اس وقت دنیا میں ’کویک کامرس‘ کمپنیوں نے دھوم مچا رکھی ہے۔ کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو 10 سے 15 منٹ میں آپ کے گھر سامان پہنچا دیتی ہیں۔ وہیں کچھ ایسی بھی کمپنیاں ہیں جو ایک سے دو دن میں سامان ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچاتی ہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی پارسل کی ڈیلیوری میں 5 سے 15 دن لگتے ہیں۔ ان حالات میں اگر کوئی صرف ایک گھنٹے میں دنیا کے کسی بھی کونے میں سامان پہنچا سکے تو کیا ہوگا؟ یہ سروس لاجسٹکس کی دنیا میں ایک انقلاب کے طور پر آئی ہے جسے ’اسپیس ڈیلیوری وہیکل‘ کے ذریعے پورا کیا جائے گا۔ ’انورسن‘ نامی ایک امریکی کمپنی یہ سروس لے کر آئی ہے۔

ایرو اسپیس اور دفاعی شعبوں میں کام کرنے والی  انورسن نے دنیا کی پہلا خلائی ڈیلیوری وہیکل تیار کیا ہے۔ یہ گاڑی صرف 60 منٹ میں خلا کے راستے زمین کے کسی بھی شہر میں سامان پہنچا سکتی ہے۔ یہ کام کمپنی کی آرک گاڑی انجام دیتی ہے۔ آرک ایک ’ری انٹری‘ گاڑی ہے ۔ یعنی یہ خلا میں جا سکتی ہے اور زمین پر واپس آ سکتی ہے۔ آرک گاڑی ایک خلائی جہاز کی طرح ہے جو 8 فٹ لمبی اور 4 فٹ چوڑی ہے۔ یہ ایک بار میں 227 کلوگرام تک کا سامان لے جا سکتی ہے۔

اس کے بعد آرک گاڑی زمین سے 1000 کلومیٹر اوپر خلا میں جائے گی۔ وہاں سے یہ پرواز کرے گی اور ڈیلیوری پوائنٹ پر پہنچنے کے بعد زمین پر واپس آئے گی۔ فضا میں داخل ہونے کے بعد یہ پیراشوٹ کے ذریعے لینڈ کرے گی۔ آرک گاڑی 25000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسپیس ڈیلیوری وہیکل کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ جنگ کے دوران بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے. آرک گاڑی خلا میں بھی رہ سکتی ہے۔ کمپنی کے مطابق خلائی ترسیل کی یہ گاڑی 5 سال تک خلا میں رہ سکتی ہے جو اسے جنگی میدان میں بڑا مددگاربناتی ہے۔

اس سلسلے میں کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آٹونومس اسپیس کرافٹ دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اور سستا ہے۔ ایک بار اس سے سامان بھیجنے کے بعد اسے دوبارہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ اس سروس کی قیمت کتنی ہوگی اور اسے کب سے شروع کیا جائے گا ، فی الحال اس بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/745QjNC

اتوار، 5 اکتوبر، 2025

خلاء میں زندگی کا خواب قریب تر

خلاء میں زندگی کا تصور انسانیت کے لیے ایک چیلنج اور شاندار مقصد بن چکا ہے۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے آرٹیفیشل انٹلیجنس اور روبوٹکس کا استعمال بہت مددگار ثابت ہو گا، خاص طور پر خلاء میں خودکار نظاموں کے لیے۔ دوسرے خلاء میں خوراک کی پیداوار اور پانی کے وسائل کو دوبارہ پیدا کرنے کے لئے بایوٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ تیسرے چاند یا مریخ کی مٹی کو تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال کرنے کی ٹیکنالوجیز بھی خلاء میں آبادکاری کے لئے اہم ہو سکتی ہیں۔ علاوہ ازیں، خلاء میں زندگی کے منصوبے کی کامیابی کے لیے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے کیونکہ مختلف ممالک کے خلاء بازوں، سائنسدانوں اور ماہرین کو ایک ساتھ آنا ہوگا تاکہ اس مشترکہ مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔

خلاء میں زندگی کے چیلنجز

خلاء میں زندگی گزارنے کے لیے توانائی کا مستقل ذریعہ ضروری ہے۔ سورج کی توانائی کو خلاء میں سیٹلائٹس یا چاند پر قائم بیسوں میں تبدیل کرنا ایک اہم قدم ہوگا۔ خلاء میں پانی، خوراک اور ہوا کا مسلسل انتظام کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں ایسی ٹیکنالوجیز کی ضرورت ہوگی جو ان وسائل کی پیداوار کو ممکن بنائیں اور انہیں برقرار رکھیں۔ خلاء میں طویل عرصہ گزارنے سے انسانوں کی ذہنی حالت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تنہائی اور جغرافیائی دوری ذہنی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے، جس سے خلاء بازوں کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگرچہ خلاء میں زندگی کا تصور ابھی ایک خواب کی مانند لگتا ہے، لیکن انسانیت نے جو تحقیق اور ترقی کی ہے، اس نے ہمیں اس خواب کے قریب کر دیا ہے۔

اس ضمن میں 6 دسمبر 1999 کو، اقوام متحدہ نے عالمی خلائی ہفتہ کا اعلان کیا، تاکہ انسانیت کی بہتری کے لئے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کے کردار کو سراہا جا سکے۔ تب سے، عالمی خلائی ہفتہ دنیا کا سالانہ خلائی ایونٹ بن چکا ہے، جو نئی نسل کو حوصلہ دیتا ہے، طلباء کو متحرک کرتا ہے، عوام کو خلائی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، اور خلائی رابطے اور تعلیم میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔

ہر سال اقوام متحدہ کے آفس آف آؤٹر اسپیس افیئرز (او او ایس اے) کے تعاون سے عالمی خلائی ہفتہ کے لیے ایک تھیم منتخب کی جاتی ہے۔ یہ تھیم عالمی خلائی ہفتہ کے شرکاء کو اپنے پروگراموں کے مواد کے حوالے سے وسیع رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس تھیم کا مقصد عالمی خلائی ہفتہ کے اثرات کو مزید بڑھانا ہے، تاکہ یہ دنیا بھر میں یکساں تھیم کے ذریعے انسانیت پر زیادہ اثر ڈال سکے۔

خلاء میں زندگی

انسانیت زمین سے آگے، آسمان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ دنیا کو دعوت دیتا ہے کہ وہ تصور کرے کہ زمین کے باہر زندگی کیسی ہو سکتی ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ 2025 کے لیے منتخب تھیم ہے "خلاء میں زندگی"۔ یہ تھیم انسانیت کے اس سفر کا جائزہ لیتی ہے جس میں خلاء کو ایک رہائشی جگہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور اس میں انوکھی ٹیکنالوجیز، چیلنجز، تعاون کی کوششیں اور بین الاقوامی قوانین کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے جو اس وژن کو حقیقت بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

دنیا بھر میں ایونٹ منیجرز کو ’خلاء میں زندگی‘ کے تھیم کو اپنے عالمی خلائی ہفتہ کے ایونٹس میں شامل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ان کی سرگرمیوں میں تعلیمی ورکشاپس اور انٹرایکٹو سیشنز سے لے کر پینل ڈسکشنز اور مشترکہ منصوبوں تک شامل ہیں، جن کا مقصد جدید ماحولیاتی حلوں کو فروغ دینا ہے۔ عالمی خلائی ہفتہ کی سالانہ تقریب 4 سے 10 اکتوبر تک منائی جاتی ہے، جو دو تاریخی سنگ میلوں کو نشان زد کرتی ہے: 1957 میں اسپوتنک 1 کی لانچ، جو دنیا کا پہلا مصنوعی سیارہ تھا، اور 1967 کا آؤٹر اسپیس معاہدہ، جو بین الاقوامی خلائی قانون کی بنیاد ہے۔

آج، 90 سے زائد ممالک سیٹلائٹس لانچ کرتے ہیں، اور 2030 تک عالمی خلائی معیشت کا تخمینہ 730 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے آفس فار آؤٹر اسپیس افیئرز کی ڈائریکٹر آرتی ہولا-مائنی کے مطابق، ’’خلاء کوئی دور کی بات نہیں ہے، یہ پہلے ہی ایک مشترکہ حقیقت بن چکا ہے۔ اگر ہم مل کر کام کریں تو یہ ہمیں زمین کے سب سے زیادہ توجہ طلب مسائل حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔‘‘

جدت اور روزمرہ زندگی

اس سال کی تھیم عوام کو زمین کے باہر زندگی کا تصور کرنے کی دعوت دیتی ہے، چاند کی بنیادوں سے لے کر طویل مدتی مدار مشنوں تک۔ لیکن وہ بہت سی ٹیکنالوجیز جو سیاروں سے باہر زندگی کو ممکن بناتی ہیں، پہلے ہی زمین پر روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ سولر پینلز سے لے کر پانی کی صفائی کے نظام تک، خلاء کی تحقیق سے پیدا ہونے والی جدتوں نے صنعتوں اور گھریلو زندگی کو تبدیل کر دیا ہے۔ سیٹلائٹ پر مبنی جی پی ایس، موسم کی نگرانی، اور ٹیلی کمیونیکیشنز اب ناگزیر بن چکے ہیں۔

تاہم، خلاء دن بدن مزید بھیڑ بھاڑ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ 2024 تک، 45 ہزار سے زیادہ انسانوں کی بنائی ہوئی اشیاء زمین کے مدار میں گردش کر رہی ہیں، جن میں فعال سیٹلائٹس سے لے کر غیر فعال خلائی جہاز اور ان کے حصے شامل ہیں۔ آنے والے برسوں میں ہزاروں مزید اشیاء کے لانچ ہونے کا منصوبہ ہے، جس سے تصادم کا خطرہ اور خلاء میں کچرے میں اضافہ ہو رہا ہے۔اس پس منظر میں، اقوام متحدہ کا آفس فار آؤٹر اسپیس افیئرز ممالک کو مدد فراہم کرتا ہے تاکہ ملبہ کم کرنے اور ’خلائی ٹریفک مینجمنٹ‘ کیا جا سکے۔ یہ آفس مدار میں گردش کرنے والی اشیاء کی رجسٹری برقرار رکھتا ہے اور ان قومی قوانین کی حمایت کرتا ہے جو بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق ہوں، تاکہ خلائی وسائل تک محفوظ اور منصفانہ رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ایک چاند سب کے لیے

چاند پر جاری تلاش ایک اور بڑھتا ہوا شعبہ ہے۔ 2030 تک 100 سے زائد مشنز کا منصوبہ ہے، جو سائنسی تحقیق سے لے کر تجارتی منصوبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے آفس فار آؤٹر اسپیس افیئرز کی "ایک چاند سب کے لیے" مہم ان کوششوں کو ہم آہنگ کرتی ہے تاکہ خلاء کی تلاش محفوظ، پرامن اور جامع ہو سکے۔ ہولا-مائنی کے مطابق، یہ مشنز علم اور ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتے ہیں، مگر انہیں احتیاط اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

ترقی کے لیے خلاء

اس صورتحال میں، خلاء تیزی سے ترقی کے لیے ایک آلہ بنتی جا رہی ہے، اور یہ صرف امیر ممالک تک محدود نہیں ہے۔ اقوام متحدہ نے کینیا، نیپال، اور گوئٹے مالا جیسے ممالک کی مدد کی ہے تاکہ وہ اپنے پہلے سیٹلائٹس بنا سکیں، اور حکومتوں کو خلاء کے ڈیٹا کو قدرتی آفات سے نمٹنے، موسمیاتی نگرانی، اور غذائی تحفظ کے لیے استعمال کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔ سیٹلائٹ امیجری ماحول کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے، جو ممالک کو غیر قانونی ماہی گیری سے لڑنے، جنگلات کی آگ کی نگرانی کرنے اور جنگلات کی کٹائی کو روکنے میں مدد دیتی ہے۔

مستقبل کی حفاظت

کثیر جہتی تعاون خلاء کو تنازعات سے پاک اور سب کے لیے قابل رسائی رکھنے کے لیے اہم ہے، خاص طور پر ایسے ماحول میں جب نجی کمپنیاں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ہر رکن ملک، چاہے وہ خلاء کا سفر کرنے والا ہو یا نہ ہو، کی اپنی آواز ہونی چاہیے۔ یہ تعاون کی روح پہلے ہی مدار میں آزمایا جا چکا ہے۔ ناسا کے سابقہ خلاء باز اور اقوام متحدہ کے خلائی چیمپئن اسکاٹ کیلی، جنہوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر 520 دن گزارے، نے اسے انسانیت کی اجتماعی کامیابی کی سب سے بڑی مثال قرار دیا۔ ان کے مطابق، خلائی اسٹیشن وہ سب سے مشکل کام ہے جو ہم نے کبھی کیا ہے... اگر ہم یہ کر سکتے ہیں، تو ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کیلی نے زور دیا کہ عالمی تعاون ہی انسانیت کی سب سے غیر معمولی کوششوں کو ممکن بناتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bHU9WPi

جمعہ، 26 ستمبر، 2025

غزہ میں جاسوسی کے الزامات پر مائیکروسافٹ کا ایکشن، اسرائیل کے لیے کلاؤڈ اور اے آئی سروسز بند

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ نے ایک اہم اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کو فراہم کی جانے والی کچھ اہم سروسز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جاسوسی کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج مائیکروسافٹ کی کلاؤڈ سروسز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پلیٹ فارمز کا استعمال کر رہی ہے۔ کمپنی کے صدر اور نائب چیئرمین بریڈ اسمتھ نے اپنے آفیشل بلاگ پوسٹ میں اس فیصلے کی تفصیلات شیئر کیں۔

بریڈ اسمتھ نے بتایا کہ مائیکروسافٹ نے اسرائیلی وزارت دفاع کو مطلع کر دیا ہے کہ کچھ مخصوص کلاؤڈ سٹوریج، اے آئی سروسز اور دیگر ٹیکنالوجیز کے سبسکرپشنز کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمپنی نے اپنے اندرونی جائزے کے دوران برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ اور اسرائیلی میگزین ’+972‘ کی مشترکہ تحقیقاتی رپورٹ کے کچھ پہلوؤں کو درست پایا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس یونٹس مائیکروسافٹ کے ’ازورے‘ پلیٹ فارم کا استعمال کر کے فلسطینیوں کی نگرانی کر رہی ہیں۔

رپورٹ میں غزہ اور مغربی کنارے کے لاکھوں فلسطینیوں کی جاسوسی پر مائیکروسافٹ پر تنقید کی گئی اور کمپنی کے کچھ ملازمین نے بھی اس عمل کی مخالفت کی۔ کئی ملازمین نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، جبکہ کچھ کو کمپنی نے برطرف کر دیا کیونکہ انہوں نے کمپنی کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائی۔

مائیکروسافٹ نے ابتدائی طور پر ان الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ کسی بھی ملک کو جاسوسی کے لیے سروسز فراہم نہیں کرتی۔ تاہم، رپورٹس کے بعد کمپنی نے اندرونی تحقیقات شروع کیں۔

بریڈ اسمتھ نے اپنے بلاگ میں کہا کہ انہوں نے ’دی گارڈین‘ کی تحقیقاتی رپورٹنگ کی تعریف کی کیونکہ اس سے کمپنی کو اپنے جائزے میں مدد ملی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مائیکروسافٹ نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ اپنے فیصلے کا جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ کمپنی کی سروسز عام شہریوں کی جاسوسی کے لیے استعمال نہ ہوں۔

اسمتھ نے یہ بھی واضح کیا کہ مائیکروسافٹ کا اندرونی جائزہ ابھی جاری ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اس سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ شفافیت اور ذمہ داری کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور اپنی سروسز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IyoJ1Ut

ہفتہ، 20 ستمبر، 2025

کیا مصنوعی ذہانت انسان کو غیر ضروری بنا دے گی؟

مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی آج دنیا میں ایک ایسا موضوع ہے جس نے ہر طرف تہلکہ مچا رکھا ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانی ترقی کی معراج قرار دیتے ہیں تو کچھ اس کے خطرناک نتائج سے خوفزدہ ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں کتنی نوکریاں ختم کرے گی اور انسان کو کہاں لے جائے گی۔ ابھی اس کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مصنوعی ذہانت تیزی سے ہر شعبۂ زندگی میں داخل ہو رہی ہے اور انسانی کردار کو بدل رہی ہے۔

اسی تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک غیرمعمولی خبر سامنے آئی ہے کہ یورپ کے ملک البانیہ نے دنیا کی پہلی مصنوعی ذہانت پر مبنی وزیر کو تقرری دے دی ہے جس کا نام "ڈیئلا" رکھا گیا ہے۔ یہ خبر محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ سیاسی و سماجی سطح پر ایک انقلاب کی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈیئلا نے اپنے پہلے ہی خطاب میں کہا،"میں کسی کی جگہ لینے نہیں آئی ہوں۔ میری کوئی شہریت نہیں ہے، میرے کوئی ذاتی مقاصد یا اہداف نہیں ہیں۔ میں یہاں صرف انسانوں کی مدد کرنے آئی ہوں۔"

یہ بیان بظاہر تسلی بخش لگتا ہے مگر اس کے ساتھ ہی کئی خدشات بھی جنم لیتے ہیں۔ اگر ایک ملک اپنی حکومت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کر سکتا ہے تو کیا آنے والے برسوں میں پارلیمان، عدلیہ اور انتظامیہ بھی روبوٹس کے سپرد ہو جائیں گے؟ اور اگر ایسا ہوا تو انسانی کردار کہاں باقی رہے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل ہے اور دنیا میں جو بھی ترقی ہوگی وہ اسی کے گرد گھومے گی۔ سرجری کے پیچیدہ آپریشنز سے لے کر فیکٹری کے پروڈکشن یونٹس تک، ریسٹورینٹ میں کھانا تیار کرنے سے لے کر سرو کرنے تک، اور عدلیہ میں مقدمات کی سماعت سے لے کر فیصلے سنانے تک  یعنی ہر جگہ اے آئی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ مستقبل میں وکیلوں اور شاید جج حضرات کا کام بھی اے آئی روبوٹس کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں انسانی کردار محدود ہوتا جائے گا اور مشینوں پر انحصار بڑھتا جائے گا۔

اس وقت جو روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں وہ جذبات سے عاری ہیں۔ وہ وہی کچھ کریں گے جو ان میں فیڈ کیا گیا ہوگا۔ بظاہر اس کے کئی فائدے ہیں۔ بدعنوانی ختم ہو جائے گی، سرکاری دفتروں میں تاخیر نہیں ہوگی، اسپتالوں کے غیر ضروری بلوں سے چھٹکارا ملے گا، عدالتوں کے فیصلے وقت پر ہوں گے اور کھانے کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ سب کب تک اور کس قیمت پر؟

سب سے بڑا خطرہ اسی انسان کو ہے جس نے یہ ٹیکنالوجی بنائی ہے۔ کیونکہ جب انسان کا کردار ختم ہونے لگے گا تو سب سے بڑا نقصان بھی اسی کو ہوگا۔ انسان اپنی آسانی اور سہولت کے لیے جو راستہ اختیار کر رہا ہے وہ بظاہر روشن اور پرکشش لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ راستہ ایک ایسے گڑھے کی طرف لے جا رہا ہے جس کا اندازہ آج شاید کسی کو نہیں۔ آنے والی نسلیں ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولیں گی جہاں ترقی تو ہوگی مگر انسانی فیصلہ سازی اور جذبات کے لیے شاید کوئی جگہ باقی نہ بچے۔

البانیہ میں ڈیئلا کی تقرری کو سیاسی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا پہلا عملی قدم کہا جا سکتا ہے۔ یہ ایک تجربہ ہے جو کامیاب بھی ہو سکتا ہے اور ناکام بھی۔ اگر یہ کامیاب ہوا تو ممکن ہے کہ دوسرے ممالک بھی اسی راستے پر چل پڑیں اور سیاست سے انسانی عمل دخل بتدریج کم ہوتا جائے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کرپشن ختم ہو جائے گا، فیصلے شفاف اور بروقت ہوں گے۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ ہمارے سیاست دان کہاں جائیں گے؟ کیا وہ خود کو اس نئے نظام کے مطابق ڈھال سکیں گے یا تاریخ کے حاشیے پر چلے جائیں گے؟

یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ترقی کی اس دوڑ میں کہاں تک دوڑنا ہے اور کہاں رک جانا ہے۔ ترقی اچھی چیز ہے لیکن اگر وہ انسان کو غیر ضروری بنا دے تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے مستقبل میں بے شمار امکانات ہیں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایک ایسا توازن قائم رکھیں جس میں انسان اپنی حیثیت، اپنے جذبات اور اپنی اخلاقیات کے ساتھ باقی رہے۔ بصورت دیگر، ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسی دنیا چھوڑ جائیں گے جو بظاہر ترقی یافتہ تو ہوگی مگر جذبات اور انسانیت سے خالی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1QvZsmr

جمعرات، 18 ستمبر، 2025

آئی فون 17 کا جنون: دہلی اور ممبئی میں ایپل اسٹورز کے باہر آدھی رات سے قطاریں

ٹیکنالوجی کی دنیا میں آج ایک اور تاریخی لمحہ آیا جب ایپل نے بالآخر اپنا نیا اسمارٹ فون آئی فون 17 متعارف کرا دیا۔ ہندوستان میں اس فون کا جنون اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لانچ سے کئی گھنٹے پہلے ہی دہلی اور ممبئی کے مختلف اسٹورز کے باہر خریداروں کی لمبی قطاریں نظر آئیں۔

دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع سلیکٹ سٹی واک مال کے باہر درجنوں لوگ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات سے ہی لائن میں لگے ہوئے تھے۔ رات کے ٹھیک 12 بجے قطاروں کی صورت میں یہ مناظر اس بات کی عکاسی کر رہے تھے کہ صارفین کے لیے یہ نیا فون محض ایک گیجٹ نہیں بلکہ ایک اسٹیٹس سمبل بھی بن چکا ہے۔ کئی خریدار اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے فون لانچ ہوتے ہی اسے ہاتھ میں لینے کے خواہش مند دکھائی دیے۔

اسی طرح ممبئی کے باندرہ-کرلا کمپلیکس (بی کے سی) میں واقع ایپل کے آفیشل اسٹور کے باہر بھی علی الصبح سے ہی لوگوں کا ہجوم دیکھنے کو ملا۔ رپورٹوں کے مطابق کچھ لوگ 7 سے 8 گھنٹے سے انتظار کر رہے تھے، جبکہ کئی ایسے صارفین بھی موجود تھے جنہوں نے پہلے سے فون کی بُکنگ نہیں کی تھی لیکن پھر بھی امید میں قطار میں لگے رہے کہ شاید انہیں بھی نیا ماڈل مل جائے۔

ماہرین کے مطابق ہندوستان میں ایپل کے اسمارٹ فونز کے حوالے سے بڑھتا ہوا جنون عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ اور بزنس کلاس صارفین، فون کی نئی ٹیکنالوجی، مضبوط بیٹری بیک اپ، اعلیٰ معیار کے کیمرے اور دلکش رنگوں کے ویرینٹ کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر نظر آ رہے ہیں۔

نئے ماڈل کی سب سے بڑی کشش اس کے نئے اور منفرد رنگ قرار دیے جا رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ یہ رنگ فون کو مزید پرکشش اور نمایاں بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہتر کارکردگی اور جدید فیچرز نے اس کی مانگ کو اور بڑھا دیا ہے۔

ٹیکنالوجی مبصرین کا ماننا ہے کہ آئی فون 17 کی لانچنگ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہندوستان ایپل کے لیے ایک بڑا اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا بازار ہے۔ یہاں کے صارفین مہنگے ہونے کے باوجود ان مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں اور ہر نئے ماڈل کے ساتھ یہ شوق اور بھی بڑھتا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/L6WY2em

بدھ، 17 ستمبر، 2025

ڈرون کے ضابطے کے لیے الگ قانون بنایا جائے گا، بل کا مسودہ جاری

نئی دہلی: حکومت ملک میں ڈرون کے آپریشن کے لیے ایک الگ قانون بنانے کی تیاری میں ہے، جس میں ڈرون کی خرید و فروخت، آپریشن، قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سزا اور جرمانہ، تیسرے فریق کا بیمہ اور ہرجانہ تک کے ضابطے طے ہوں گے۔

شہری ہوابازی کی وزارت نے ’نیشنل ڈرون (ترقی و ضابطہ) بل 2025‘ کا مسودہ جاری کیا ہے، جسے پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیے جانے کی امید ہے۔ وزارت نے عوام، صنعت اور دیگر فریقین سے 30 ستمبر تک اس مسودے پر رائے اور تجاویز طلب کی ہیں۔

مسودے میں قوانین کی خلاف ورزی پر جیل کی سزا اور جرمانے کا التزام ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہر ڈرون کا ایک منفرد شناختی نمبر(یو آئی این) لازمی ہوگا اور اسے متعلقہ اتھارٹی کے طے کردہ سکیورٹی معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔

مرکز اور ریاستی حکومتوں یا ان کی مجاز ایجنسیوں کو کسی علاقے کو ڈرون آپریشن کے لیے ریڈ زون یا یلو زون قرار دینے کا اختیار ہوگا۔ ریڈ زون میں ڈرون اڑانے کے لیے مرکز اور متعلقہ ایجنسی دونوں کی اجازت ضروری ہوگی جبکہ یلو زون میں ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی) افسر کی منظوری لازمی ہوگی۔ اس ضابطے کی خلاف ورزی کو سنگین اور ناقابلِ مفاہمت جرم مانا جائے گا، جس کی سزا تین سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگی۔

ساتھ ہی ہر ڈرون کے لیے تیسرے فریق کا بیمہ بھی لازمی ہوگا۔ اگر ڈرون کے باعث کسی حادثے میں کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو اس کے قانونی وارث کو ڈھائی لاکھ روپے کا معاوضہ بیمہ کمپنی دے گی۔ کسی شخص کے شدید زخمی ہونے کی صورت میں ایک لاکھ روپے کا ہرجانہ ملے گا۔ ہرجانے کے لیے دعویٰ حادثے کے چھ ماہ کے اندر داخل کرنا ہوگا۔ اس کے لیے موٹر حادثہ کلیم ٹریبونل کو دعویٰ اتھارٹی بنایا جائے گا، جس کے پاس سول کورٹ کے اختیارات ہوں گے۔

بل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ڈرون کے لیے ایک ایئرسپیس میپ تیار کیا جائے گا، جس کے باہر ان کا آپریشن نہیں ہوسکے گا۔ یہ نقشہ ایک مقررہ آن لائن پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا۔ ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا یا اس کی مجاز ایجنسی کو فضائی حدود کے انتظامی نظام کی ذمہ داری دی جائے گی۔

ڈرون کے ذریعے کسی شخص، اسلحہ، خطرناک مواد یا ایسی کسی چیز کو لے جانا ممنوع ہوگا، جس کے دوسرے ذرائع سے لے جانے پر بھی پابندی ہے۔ ڈرون کو بطور ہتھیار یا کسی جرم میں استعمال کرنا بھی غیرقانونی قرار دیا گیا ہے۔

کسی مجاز ایجنسی کے ہدایات کی خلاف ورزی پر پہلی بار 50 ہزار روپے جرمانہ یا تین ماہ قید یا دونوں کی سزا ہوگی، چاہے اس جرم کے لیے الگ سزا کا ذکر نہ ہو۔ جرم دہرانے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور چھ ماہ قید یا دونوں کا التزام کیا گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Rx8uPDF

منگل، 16 ستمبر، 2025

ای-سِم ٹیکنالوجی: کیا سِم کارڈ کا دور ختم ہونے جا رہا ہے؟

ایپل ایک بار پھر اسمارٹ فون کی دنیا میں نئی راہیں ہموار کرنے جا رہا ہے۔ حال ہی میں کمپنی نے اپنا نیا آئی فون ایئر متعارف کرایا ہے جو دنیا کا پہلا ایسا ماڈل ہے جو صرف ای-سِم کے ساتھ دستیاب ہوگا۔ اس اعلان کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا ہے کہ کیا سِم کارڈ کا دور اب ختم ہونے جا رہا ہے؟

سِم کارڈ سے ای-سِم تک کا سفر

سِم کارڈ یعنی سبسکرائبر آئیڈینٹیٹی ماڈیول، ایک چھوٹی سی چپ ہے جو ہمیں موبائل نیٹ ورک سے جوڑتی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے دنیا بھر کے صارفین اسی چھوٹے پلاسٹک کارڈ پر انحصار کرتے رہے ہیں لیکن اب ٹیکنالوجی نے نیا رخ اختیار کیا ہے۔ ای-سم اسی سم کارڈ کا ڈیجیٹل ورژن ہے، جو فون کے اندر ہی نصب ہوتا ہے اور اسے کسی ٹرے میں ڈالنے یا نکالنے کی ضرورت نہیں رہتی۔

ایپل نے سب سے پہلے امریکہ میں 2022 سے صرف ای-سم والے آئی فون فروخت کرنے شروع کیے تھے۔ اب آئی فون ایئر کے ذریعے یہ سہولت عالمی سطح پر متعارف ہو رہی ہے۔

مارکیٹ پر اثرات

ایپل کا یہ قدم محض ایک فون کا نیا فیچر نہیں بلکہ ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ’سِم کارڈ کے خاتمے کی ابتدا‘ ہے۔ سی سی ایس انسائٹ کے اندازوں کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 103 کروڑ اسمارٹ فون ای-سم استعمال کر رہے تھے اور 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر 301 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔

سیم سنگ اور گوگل جیسی دیگر کمپنیاں بھی ای-سم کو اپنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں، تاہم فی الحال وہ سِم کارڈ کے ساتھ ساتھ ای-سم کا آپشن بھی دیتی ہیں لیکن مستقبل میں یہ صورتحال یکسر بدل سکتی ہے۔

صارفین کو کیا فائدہ ہوگا؟

ای-سِم ٹیکنالوجی کئی طرح کے فوائد فراہم کرتی ہے:

جگہ کی بچت: فون میں سم ٹرے ختم کرنے سے اضافی جگہ بچتی ہے جسے بڑی بیٹری یا دیگر فیچرز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ماحول دوست قدم: پلاسٹک کے سم کارڈ ختم ہونے سے ماحول پر مثبت اثر پڑے گا۔

بین الاقوامی سہولت: بیرونِ ملک سفر کرنے والے صارفین فوری طور پر لوکل نیٹ ورک کے ای-سم پیکج ایکٹیویٹ کر سکتے ہیں، انہیں سم کارڈ بدلنے کی جھنجھٹ نہیں ہوگی۔

کمپنیوں کے ساتھ نیا تعلق: اب صارفین کو سِم لینے کے لیے کسی بڑی دکان پر جانے کی ضرورت نہیں، سب کچھ ڈیجیٹل طور پر ممکن ہوگا۔

چیلنجز اور خدشات

اگرچہ ای-سِم کو جدید سہولت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے لیکن یہ ہر صارف کے لیے فوری طور پر آسان ثابت نہیں ہوگی۔ خاص طور پر بڑی عمر کے افراد یا وہ لوگ جو ٹیکنالوجی سے زیادہ واقف نہیں ہیں، انہیں یہ تبدیلی مشکل محسوس ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کمپنیوں کو صارفین کو ای-سم استعمال کرنے کے طریقے سمجھانے کے لیے کافی محنت کرنی ہوگی۔

مزید یہ کہ کئی ممالک میں موبائل آپریٹرز ابھی تک ای-سم انفراسٹرکچر مکمل طور پر تیار نہیں کر پائے ہیں۔ اس وجہ سے کچھ وقت تک سم کارڈ اور ای-سم دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہیں گے۔

مستقبل کی جھلک

ایپل کا نیا آئی فون ایئر یہ واضح پیغام دیتا ہے کہ آنے والے برسوں میں سِم ٹرے رفتہ رفتہ ختم ہو جائے گی۔ ٹیکنالوجی تجزیہ کار پاؤلو پیسکاتورے کے مطابق ’’یہ صرف وقت کی بات ہے، آخرکار ہر فون ای-سم پر منتقل ہو جائے گا۔‘‘

یوں لگتا ہے کہ چند برس بعد جب ہم نیا اسمارٹ فون خریدیں گے تو اس میں سِم ڈالنے کے لیے کوئی چھوٹی ٹرے موجود نہیں ہوگی۔ ای-سم صرف ایک فیچر نہیں بلکہ مستقبل کی حقیقت ہے اور ’ایپل‘ اس سفر کی قیادت کر رہی ہے۔

(مآخذ: بی بی سی ہندی)



from Qaumi Awaz https://ift.tt/jlHBhMO

ہفتہ، 13 ستمبر، 2025

ڈئیلا: دنیا کی پہلی اے آئی وزیر، بدعنوانی پر لگائے گی سخت لگام

دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ اب اس کا استعمال ہر شعبے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب اس کی انٹری سیاست اور حکومت میں بھی ہو گئی ہے۔ البانیہ نے بدعنوانی سے نپٹنے کے لیے اپنی حکومت میں اے آئی وزیر کی تقرری کی ہے۔ اس طرح البانیہ ورچوئل وزیر کی تقرری کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ اس خاتون وزیر (اے آئی) کا نام ’ڈئیلا‘ ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے ’سورج‘۔

البانیہ کے وزیر اعظم ایڈی راما نے کہا کہ ڈئیلا کابینہ کی ایسی رکن ہوں گی جو جسمانی طور سے موجود نہیں ہیں بلکہ انہیں ورچوئلی بنایا گیا ہے۔ اے آئی جنریٹیڈ باٹ یہ یقینی کرنے میں مدد کرے گا کہ حکومت کے ٹھیکے 100 فیصد بدعنوانی سے پاک ہوں۔ اس سے حکومت کو پوری شفافیت کے ساتھ کام کرنے میں مدد ملے گی۔ البانیہ کی نیشنل ایجنسی فار انفارمیشن سوسائٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ڈئیلا اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے اَپڈیٹڈ اے آئی ماڈلس اور ٹیکرکس کا استعمال کرتی ہیں۔

ڈئیلا کو جنوری میں اے آئی آپریٹڈ ڈیجیٹل اسسٹنٹ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ اسے روایتی البانیائی کپڑے پہنے ایک خاتون جیسا دکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شہریوں کو سرکاری ای-البانیہ پلیٹ فارم پر نیوی گیٹ کرنے میں مدد کرنا تھا۔ یہ پلیٹ فارم دستاویزوں اور خدمات تک پہنچ مہیا کراتا ہے۔

ڈئیلا نے اب تک 36600 ڈیجیٹل دستاویزوں کو جاری کرنے میں سہولت فراہم کی ہے اور پلیٹ فارم کے ذریعہ تقریباً 1000 سروسز دی ہیں۔ البانیہ میں سرکاری ٹھیکوں میں بدعنوانی کے معاملے بار-بار سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملک ڈرگس اور اسلحوں کی اسمگلنگ سے کمائے گئے پیسوں کو صاف کرنے والے بین الاقوامی مجرموں کا اہم مرکز بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی بدعنوانی حکومت کے اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچ چکی ہے۔

مسلسل چوتھی مرتبہ اقتدار پر قابض ہونے والے ایڈی راما سے امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی پارلیمنٹ میں اپنی نئی کابینہ پیش کریں گے۔ البانیہ کے صدر باجرام بیگاج نے راما کو نئی حکومت بنانے کا کام دیا ہے۔ جب صحافیوں نے پوچھا کہ کیا اے آئی وزیر کی تقرری آئین کے خلاف ہے، تو صدر نے سیدھے طور پر اس کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ راما کی سوشلسٹ پارٹی نے 11 مئی کو ہوئے انتخابات میں 140 میں سے 83 سیٹیں جیت کر چوتھی مرتبہ حکومت بنائی ہے۔ پارٹی اکیلے حکومت بنا سکتی ہے۔ زیادہ تر قانون پاس کر سکتی ہے لیکن آئین بدلنے کے لیے اسے 93 سیٹیں چاہئیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8KovcTJ

اتوار، 7 ستمبر، 2025

فورس اور پریشر کی کہانی، روزمرہ زندگی سے جڑی آسان وضاحت

ہم اپنی گفتگو میں فورس (طاقت) اور پریشر (دباؤ) کے الفاظ کو مختلف معنوں میں استعمال کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ آج کل مجھ پر کام کا پریشر ہے یا یہ کہ دشمن نے جنگ میں اپنی پوری فورس جھونک دی۔ ان جملوں میں فورس اور پریشر ذہنی یا جسمانی دباؤ کے طور پر سمجھے جاتے ہیں لیکن سائنس میں ان کا مطلب بالکل مختلف ہے۔ سائنس کے مطابق فورس اور پریشر کا تعلق حرکت، رفتار اور توازن سے ہے۔

جب ہم کسی چیز کو دھکا دیتے ہیں یا کھینچتے ہیں تو ہم اس پر فورس لگاتے ہیں۔ اس فورس کے نتیجے میں وہ چیز اپنی جگہ بدلتی ہے، اس کی رفتار اور سمت میں تبدیلی آتی ہے یا وہ مڑ جاتی ہے اور کبھی ٹوٹ بھی سکتی ہے۔ یعنی فورس ہمیشہ کسی نہ کسی تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہے۔ عظیم سائنسدان نیوٹن نے فورس کے استعمال کو غور سے دیکھا اور اسے حرکت کے قوانین میں بیان کیا۔ ان قوانین سے یہ واضح ہوا کہ کسی بھی جسم پر فورس لگے گی تو اس میں حرکت پیدا ہوگی، اور اگر وہ پہلے سے حرکت میں ہے تو اس کی رفتار یا سمت میں تبدیلی آئے گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہ فورس کو ناپا جا سکتا ہے، اور وہ کسی جسم کے ماس کو اس میں پیدا ہونے والی ایکسیلریشن سے ضرب دینے پر حاصل ہوتی ہے۔ اگر فورس صفر ہو تو ایکسیلریشن بھی صفر ہوگا، اور ایک ہی فورس ہلکی چیز پر زیادہ اثر ڈالے گی جبکہ بھاری چیز پر کم۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی وقت میں کسی جسم پر کئی فورس لگ رہی ہوتی ہیں۔ اگر یہ سب ایک دوسرے کو متوازن کر دیں تو کل فورس صفر ہوجاتا ہے اور جسم اپنی حالت پر قائم رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کار سیدھی سڑک پر برابر رفتار سے چل رہی ہے تو اس کے انجن کی فورس، ہوا کے دباؤ اور ٹائروں کے رگڑ کے برابر ہوتی ہے۔ اس توازن کی وجہ سے کل فورس صفر ہے اور کار یکساں رفتار سے چلتی رہتی ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر کل فورس صفر ہو تو وہ یا تو ساکن رہے گا یا برابر رفتار سے چلتا رہے گا۔

پریشر کا تعلق بھی فورس سے ہے مگر دونوں میں فرق بھی ہے۔ پریشر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی سطح پر لگنے والی فورس کو اس کے ایریا سے تقسیم کیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر فورس ایک جیسی رہے لیکن ایریا بڑھا دیا جائے تو پریشر کم ہوگا اور اگر ایریا کم کر دیا جائے تو پریشر بڑھ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی فورس مختلف ایریا پر لگنے سے الگ الگ اثر ڈالتی ہے۔

اس بات کو ہم کئی روزمرہ مثالوں سے سمجھ سکتے ہیں۔ انجکشن کی سوئی کی نوک بہت باریک ہوتی ہے، اس لیے اس کا ایریا کم ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ذرا سا دباؤ ڈالنے پر بھی زیادہ پریشر پیدا ہوتا ہے اور سوئی آسانی سے جلد میں داخل ہوجاتی ہے۔ تیز دھار والے چاقو میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ اس کی دھار کا ایریا بہت کم ہوتا ہے، اس لیے تھوڑی سی طاقت سے ہی پریشر بڑھ جاتا ہے اور چیز آسانی سے کٹ جاتی ہے۔ جب دھار کند ہو جاتی ہے تو ایریا بڑھ جاتا ہے اور پریشر کم ہونے کی وجہ سے کاٹنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے دھار کو بار بار تیز کرنا پڑتا ہے۔

سرد علاقوں میں جھیلوں پر برف جم جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص عام جوتے پہن کر برف پر چلے تو اس کے وزن کا زور چھوٹے ایریا پر لگتا ہے، نتیجہ یہ کہ پریشر بڑھ جاتا ہے اور برف ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک بھاری کشتی برف پر اس لیے ٹکی رہتی ہے کہ اس کا وزن بڑے ایریا پر تقسیم ہوجاتا ہے اور پریشر کم ہوجاتا ہے۔ اسی اصول پر برف پر چلنے کے لیے خاص جوتے بنائے جاتے ہیں جن کا ایریا بڑا ہوتا ہے تاکہ وزن زیادہ رقبے پر تقسیم ہو اور پریشر کم ہوجائے۔

اسی وجہ سے برفیلے پہاڑوں پر اسکیئنگ کے جوتے لمبے ہوتے ہیں تاکہ انسان کا وزن بڑے ایریا پر پھیلے اور وہ برف میں نہ دھنسے۔ جانوروں میں بھی یہی اصول پایا جاتا ہے۔ ہاتھی، پولر بھالو اور پینگوئن کے پاؤں چوڑے اور بڑے ہوتے ہیں تاکہ ان کا وزن نرم زمین یا برف پر زیادہ ایریا پر تقسیم ہو اور وہ آسانی سے نہ دھنسیں۔

یوں فورس اور پریشر دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہیں لیکن الگ الگ خصوصیات رکھتے ہیں۔ فورس بنیادی طاقت ہے جو حرکت پیدا کرتی ہے یا سمت بدلتی ہے، جبکہ پریشر وہ اثر ہے جو اس فورس کے کسی سطح پر لگنے سے پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ایک ہی فورس بیکار لگتی ہے اور کبھی حیرت انگیز نتائج دیتی ہے، اور یہ سب کچھ اس پر منحصر ہے کہ وہ کس ایریا پر لگ رہی ہے۔

فورس اور پریشر کا علم صرف کتابوں کی حد تک نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ چاقو سے سبزی کاٹنے سے لے کر انجکشن لگوانے، گاڑی چلانے یا برف پر چلنے تک ہر جگہ یہ اصول کارفرما ہیں۔ سائنس ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ دنیا کے یہ عام مگر اہم اصول کیسے ہماری زندگی کو متاثر کرتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0mx3bzR