اتوار، 1 فروری، 2026

مصنوعی ذہانت: ٹیکنالوجی نہیں انسانیت کا امتحان

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بارے میں عوامی بحث اکثر دو انتہاؤں پر مبنی ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کی تباہی کا پیش خیمہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے محض ایک اور تکنیکی ترقی قرار دیتے ہیں۔ لیکن اس شور اور خوف سے پرے، اقوام متحدہ ایک اہم اور "عوام پر مبنی" مکالمے کو فروغ دے رہا ہے جو ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار کے تابع رکھنے پر مرکوز ہے۔ اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کو منظم کرنے کے نقطہ نظر سے چند مؤثر اور حیران کن انکشافات کو اجاگر کیا ہے۔

ملازمتوں کا خاتمہ نہیں، بلکہ کام کی تبدیلی

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق 41 فیصد آجر مصنوعی ذہانت کی وجہ سے افرادی قوت میں کمی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے ایک زیادہ پیچیدہ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔اس تنظیم کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت تقریباً ہر چار میں سے ایک ملازمت کرنے کے طریقے کو نمایاں طور پر تبدیل کرے گی، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے ملازمتوں میں مجموعی طور پر کمی آئے۔ مستقبل کے کرداروں میں منفرد انسانی مہارتوں جیسے تخلیقی صلاحیت، اخلاقی استدلال، اور پیچیدہ فیصلہ سازی کی ضرورت ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ کارکنوں کے لیے مسلسل سیکھنے اور خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنے کی ذہنیت اپنانا ضروری ہوگا۔

بچوں کو تشویشناک خطرہ

اقوام متحدہ نے بچوں کو نشانہ بنانے والے نقصان دہ، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آن لائن مواد سے متعلق ایک فوری بحران کی نشاندہی کی ہے۔ چائلڈ لائٹ گلوبل چائلڈ سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کا ایک چونکا دینے والا اعداد و شمار یہ ہے کہ امریکہ میں ٹیکنالوجی کی مدد سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز 2023 میں 4,700 سے بڑھ کر 2024 میں 67,000 سے زیادہ ہو گئے۔

کوسماس زوازاوا، جو بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (آئی ٹی یو) کے ایک ڈائریکٹر ہیں، نے ان خطرات کی ایک تشویشناک فہرست پیش کی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مجرم بچے کے رویے کا تجزیہ کرکے انہیں پھنسانے (گرومِنگ) اور جنسی استحصال کے لیے جعلی تصاویر (ڈیپ فیکس) بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہے ہیں۔

تعلیم میں مزید اساتذہ کی ضرورت

اقوام متحدہ کی ایک غیر متوقع دلیل یہ ہے کہ تعلیم کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کرنے سے زیادہ اہم انسانی اساتذہ میں سرمایہ کاری کرنا ہے۔ یونیسکو کے اعداد و شمار اس کی تائید کرتے ہیں کہ "عالمی تعلیمی نظام کو 2030 تک 4 کروڑ 40 لاکھ اساتذہ کی ضرورت ہوگی۔" شفیقہ آئزکس، جو یونیسکو (اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم) میں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی سربراہ ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ "ہمارا ماننا ہے کہ یہ دلیل دینا ایک غلطی ہے کہ ہمیں اساتذہ میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجیز میں زیادہ سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔" ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت ڈیٹا کی منتقلی کا انتظام کر سکتی ہے، لیکن یہ انسانی ترقی کا انتظام نہیں کر سکتی، تعلیم بنیادی طور پر ایک سماجی، انسانی اور ثقافتی تجربہ ہے نہ کہ کوئی تکنیکی ڈاؤن لوڈ۔

انسانی حقوق مصنوعی ذہانت کی لازمی بنیاد

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ انسانیت کی تقدیر کو "کبھی بھی کسی الگورتھم کے 'بلیک باکس' کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جانا چاہیے"۔ یہی اصول یونیسکو کی 2021 کی "مصنوعی ذہانت کی اخلاقیات پر سفارش" کی بنیاد ہے۔ اس کی مرکزی دلیل یہ ہے کہ انسانی حقوق کوئی اختیاری خصوصیت نہیں ہو سکتے؛ انہیں تمام پائیدار مصنوعی ذہانت کے نظاموں کے لیے "لازمی بنیاد" ہونا چاہیے۔ اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی مصنوعی ذہانت کا ٹول جو انسانی وقار، مساوات، یا آزادی کے لیے خطرہ ہو، اسے محدود یا ممنوع قرار دیا جانا چاہیے، اور حکومتوں کو اس معیار کو نافذ کرنا چاہیے۔

حکومتیں کی جانب سے سخت اقدامات

یہ صرف نظریاتی باتیں نہیں ہیں بلکہ دنیا بھر کی حکومتیں عملی اقدامات کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا 2025 کے آخر تک 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کرنے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ حکومت نے اس کی وجہ ایک کمیشنڈ رپورٹ کو قرار دیا جس میں بتایا گیا کہ 10 سے 15 سال کی عمر کے تقریباً دو تہائی بچوں نے سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، پرتشدد یا پریشان کن مواد دیکھا تھا اور نصف سے زیادہ سائبر بلینگ کا شکار ہوئے تھے۔ یہ کوئی الگ تھلگ کیس نہیں ہے؛ ملیشیا، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا جیسے دیگر ممالک بھی اسی طرح کے ضوابط پر غور کر رہے ہیں۔

سلیکون ویلی کی تباہی اور یوٹوپیا کی بحثوں سے پرے، اقوام متحدہ ایک زیادہ گہرا سچ سامنے لا رہا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق، مصنوعی ذہانت کا چیلنج تکنیکی نہیں، بلکہ انسانی ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا جواب 'گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ' جیسے اقدامات کے ذریعے دیا جا رہا ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے نئی مہارتوں، کمزوروں کے لیے مضبوط تحفظ، اور عالمی انسانی حقوق پر مبنی ایک بنیاد کی ضرورت ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/gAL0W2d

اتوار، 25 جنوری، 2026

مصنوعی ذہانت کی ترقی جوہری توانائی پر منحصر

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی، بجلی کی بے مثال عالمی طلب پیدا کر رہی ہے۔ بجلی کی یہ طلب عالمی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک سنگین چیلنج میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہ چیلنج اُن ممالک کے لیے ایک اسٹریٹجک موقع بھی فراہم کرتا ہے جو مصنوعی ذہانت کے لیے درکار وسیع اور صاف توانائی کو محفوظ بنا کر فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ صورتحال ٹیکنالوجی میں سبقت رکھنے والے ممالک کے لیے ایک نئی اور سنگین کمزوری کو بھی جنم دیتی ہے، جو ڈیجیٹل دور میں توانائی کی سلامتی کو قومی سلامتی کی اولین ترجیح بنا دیتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کی توانائی کی طلب کا پیمانہ بہت بڑا ہے، جیسا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) اور دیگر اداروں کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ سال 2030 تک عالمی بجلی کی طلب میں متوقع اضافہ 10 ہزار ٹیراواٹ-گھنٹے سے زیادہ ہے، جو آج تمام ترقی یافتہ معیشتوں کی کل کھپت کے برابر ہے۔ سال 2023 اور 2024 کے درمیان ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب میں تین چوتھائی سے زیادہ اضافہ ہوا۔ سال 2030 تک ، ترقی یافتہ معیشتوں میں بجلی کی طلب میں ہونے والے اضافے کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ ڈیٹا سینٹرز کا ہوگا۔ اور اس دہائی کے آخر تک، صرف امریکہ میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی ڈیٹا پروسیسنگ کی بجلی کی کھپت ایلومینیم، اسٹیل، سیمنٹ اور کیمیائی پیداوار کی مشترکہ کھپت سے تجاوز کر جائے گی۔

مصنوعی ذہانت کے لیے اس قدر توانائی اس لیے درکار ہے کیونکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے دسیوں ہزار سینٹرل پروسیسنگ یونٹس (سی پی یو) کو ہفتوں یا مہینوں تک مسلسل چلانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ، زراعت، اور تعلیم جیسے شعبوں میں اے آئی کا روزمرہ استعمال مسلسل توانائی استعمال کرتا ہے۔ ہر سیمولیشن میں بجلی کی ایک قابل ذکر مقدار خرچ کرتی ہے۔

توانائی کی یہ بڑھتی ہوئی طلب ایک بنیادی اسٹریٹجک سوال پیدا کرتی ہے کہ اس بے پناہ توانائی کو کہاں سے قابل اعتماد اور پائیدار طریقے سے حاصل کیا جائے گا؟ جواب جوہری توانائی میں پوشیدہ ہے۔

جوہری توانائی اے آئی انقلاب کا لازمی پارٹنر

مصنوعی ذہانت کی بے لگام اور مخصوص توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جوہری توانائی سب سے زیادہ قابل عمل اور اعلیٰ پیداواری حل کے طور پر ابھرتی ہے۔ اس کی اسٹریٹجک اہمیت ایک مستحکم، کاربن سے پاک توانائی کے ذریعہ کے طور پر ہے جو 24/7 کام کر سکتی ہے، جو ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔ شمسی اور ہوا جیسی قابل تجدید توانائی کے برعکس، جوہری توانائی موسمی حالات سے متاثر نہیں ہوتی، جو اسےاے آئی کے لیے ایک مثالی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

صنعت کے ماہرین اس نتیجے کی توثیق کرتے ہیں۔ گوگل کے ایک سینئر مینیجر، مینوئل گریسنگر، جو اے آئی پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، نے اس ضرورت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں صاف، مستحکم، صفر-کاربن بجلی کی ضرورت ہے جو چوبیس گھنٹے دستیاب ہو۔ یہ بلاشبہ ایک انتہائی بلند معیار ہے، اور یہ صرف ہوا اور شمسی توانائی سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اے آئی مستقبل کا انجن ہے، لیکن ایندھن کے بغیر انجن تقریباً بیکار ہے۔ جوہری توانائی نہ صرف ایک آپشن ہے، بلکہ مستقبل کے توانائی کے ڈھانچے کا ایک ناگزیر بنیادی جزو بھی ہے۔"

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل، مینوئل گروسی، اس بات سے متفق ہیں اور جوہری توانائی کو اے آئی انقلاب کا لازمی توانائی پارٹنر قرار دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، "صرف جوہری توانائی ہی کم کاربن بجلی کی پیداوار، چوبیس گھنٹے قابل اعتمادی، انتہائی اعلیٰ توانائی کی کثافت، گرڈ کے استحکام اور حقیقی توسیع پذیری جیسی پانچ ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔"

جوہری-مصنوعی ذہانت کی برتری کے لیے سیاسی دوڑ

اے آئی انقلاب میں جوہری توانائی کے کلیدی کردار نے ایک شدید جغرافیائی سیاسی مقابلے کو جنم دے دیا ہے۔ اس نئے توانائی کے منظر نامے میں قیادت غالباً 21ویں صدی میں تکنیکی اور معاشی غلبے کا تعین کرے گی۔ دنیا بھر کی بڑی طاقتیں اپنی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے حکمت عملی بنا رہی ہیں۔

امریکہ اس وقت ایک رہنما کی حیثیت رکھتا ہے، جس کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ، 94 جوہری پلانٹس موجود ہیں اور 10 نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ ملک دنیا کی صف اول کی اے آئی کمپنیوں کا مرکز بھی ہے۔ مائیکروسافٹ کا 20 سالہ بجلی کی خریداری کا معاہدہ، جس نے تھری مائل آئی لینڈ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی، محض ایک مثال نہیں، بلکہ عوامی-نجی شراکت داری کا ایک بلیو پرنٹ ہے جو امریکہ کے ٹیک اور جوہری شعبوں کو براہ راست جوڑ کر اس کی موجودہ برتری کو مستحکم کرتا ہے۔

روس جوہری توانائی کے شعبے میں دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہونے کی وجہ سے ایک منفرد پوزیشن رکھتا ہے۔ ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں اپنی مضبوط تحقیقی بنیاد کے ساتھ، روس جدید ری ایکٹر ٹیکنالوجی کا ایک سرکردہ آپریٹر اور ڈویلپر ہے۔ یہ کردار نہ صرف روس کے لیے اقتصادی فائدہ مند ہے، بلکہ یہ خریدار ممالک کے لیے اسٹریٹجک انحصار پیدا کرتا ہے اور ماسکو کو طویل مدتی جغرافیائی سیاسی اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔

چین ایک ابھرتے ہوئے چیلنجر کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین کا اے آئی اور جوہری توانائی دونوں میں بیک وقت "بڑی کامیابیاں" حاصل کرنا ایک سوچی سمجھی، ریاستی سرپرستی میں چلنے والی دوہری حکمت عملی ہے جس کا مقصد مستقبل کی معیشت کے دماغ (اے آئی) اور جسم (توانائی) دونوں پر قابو پا کر مغرب کو پیچھے چھوڑنا ہے۔ اپنے’اے آئی بوم‘ کے دوران، چین نے زیر تعمیر نئے جوہری ری ایکٹرز کی تعداد میں دنیا میں پہلا درجہ حاصل کر لیا ہے۔

یورپ، جو دنیا کے "سب سے گنجان ڈیجیٹل کوریڈورز" (فرینکفرٹ، ایمسٹرڈیم اور لندن) کا گھر ہے، اس دوڑ میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ مضبوط کر رہا ہے۔ فرانس اور برطانیہ جیسی روایتی جوہری طاقتیں جوہری توانائی کی تعمیر پر "دگنی محنت" کر رہی ہیں، جبکہ پولینڈ جیسے ابھرتے ہوئے ممالک بھی اپنے پروگراموں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل معیشت کی توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔

نئے مراکز بھی اس دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ جاپان بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اپ گریڈیشن میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ مغربی ایشیا میں، متحدہ عرب امارات نے ایک جوہری توانائی پروگرام قائم کیا ہے اور خود کو ایک علاقائی اے آئی مرکز کے طور پر ابھارا ہے، جو توانائی کی سلامتی کے ذریعے معاشی تنوع حاصل کرنے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ جغرافیائی سیاسی منظر نامہ مسلسل ان تکنیکی جدتوں سے تشکیل پا رہا ہے جو اس مقابلے کے اگلے مرحلے کی وضاحت کریں گی۔

چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز کے اسٹریٹجک فوائد

روایتی بڑے ری ایکٹرز کے علاوہ، جوہری توانائی سے چلنے والے اے آئی کا مستقبل تکنیکی جدت طرازی، خاص طور پر چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (ایس ایم آر)سے متعین ہوگا۔ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز ایک انقلابی ٹیکنالوجی کے طور پر ابھر رہے ہیں کیونکہ یہ اے آئی صنعت کو لچکدار، محفوظ اور موثر توانائی فراہم کرتے ہیں۔

اس میدان میں پہل کرنے والوں نے پہلے ہی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ گوگل نے ایک معاہدہ کیا ہے تاکہ متعدد چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز سے جوہری توانائی خریدی جا سکے، جو 2030 تک کام کرنا شروع کر سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، گوگل کی جانب سے خلا پر مبنی شمسی نیٹ ورکس جیسے غیر روایتی حل کی تلاش اس طویل مدتی، کثیر نسلی اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا واضح اشارہ ہے جو معروف ٹیک کمپنیاں توانائی پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کر رہی ہیں، تاکہ زمینی حدود کے خلاف خود کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ تکنیکی پیشرفت اس بات کی نشاندہی ہے کہ اے آئی کے لیے توانائی کا مستقبل نہ صرف بڑا ہے، بلکہ ہوشیار، زیادہ لچکدار اور زیادہ تقسیم شدہ بھی ہوگا۔

مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی کا امتزاج

ہمارے دور میں مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی بے پناہ توانائی کی طلب ایک اہم چیلنج ہے، اور جوہری توانائی واحد قابل توسیع، قابل اعتماد اور صاف توانائی کا حل ہے جو اس طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جو قومیں اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہیں اور اس پر عمل کر رہی ہیں، وہ 21ویں صدی کی تکنیکی اور معاشی تقدیر کی تشکیل کریں گی۔ ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہ ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے کہ وہ ایک دوہری حکمت عملی میں جارحانہ سرمایہ کاری کریں: روایتی جوہری صلاحیت کو بڑھائیں اور ساتھ ہی ساتھ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز جیسی جدید ٹیکنالوجیز میں پیش قدمی کریں۔ یہ صرف توانائی پیدا کرنے کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ تکنیکی خودمختاری، اقتصادی مسابقت، اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے بارے میں بھی ہے۔

مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی کا امتزاج محض ایک ابھرتا ہوا رجحان نہیں، بلکہ یہ وہ مرکزی ستون بن چکا ہے جس پر 21ویں صدی کے بقیہ حصے میں جغرافیائی سیاسی اور معاشی طاقت کی تعمیر اور مقابلہ کیا جائے گا۔ جو قومیں اس امتزاج میں مہارت حاصل کریں گی، وہ مستقبل کے اصول لکھیں گی؛ اور جو ناکام رہیں گی، وہ ان اصولوں کے تابع ہوں گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5osDjWK

بدھ، 21 جنوری، 2026

اے آئی کے مواقع غیر مساوی، صلاحیت سازی کے بغیر خطرات بڑھیں گے: آئی ایم ایف چیف

مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ملازمت کے شعبے میں پائی جارہی تشویش کے دوران انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ اے آئی (مصنوعی ذہانت) کی وجہ سے لیبر مارکیٹ یعنی ملازمت کے شعبے میں سونامی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کچھ ملازمتوں کو بہتر بنا رہا ہے تو وہیں کچھ نوکریوں کی جگہ بھی لے رہا ہے۔

داؤس میں منعقد ورلڈ اکنامک فورم ڈبلیو ای ایف) کے سالانہ اجلاس کے دوران ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے جارجیوا نے کہا کہ دنیا اب اے آئی کے دور میں داخل ہو چکی ہے لیکن انہیں اس بات پر تشویش ہے کہ اے آئی کی جانب سے پیش کیے جانے والے مواقع ہر جگہ ایک جیسے نہیں ہیں۔ کہیں زیادہ مواقع ہیں تو کہیں بہت کم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی تیزی سے معیشتوں کو تبدیل کر رہا ہے۔ کچھ کام بڑھ رہے، کچھ ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں لوگوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کرنے اور معاشرے کو اس کے لیے تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف سربراہ نے بتایا کہ اے آئی کی وجہ سے ترجمہ، زبان سمجھنے اور تحقیق سے متعلق کاموں میں پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ ان شعبوں میں اے آئی لوگوں کی مدد کر رہا ہے، ان کی جگہ نہیں لے رہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے ان کمیونٹیز کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا جہاں اے آئی ابھی تک ناقابل رسائی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق دنیا میں اوسطاً 40 فیصد ملازمتیں اے آئی سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ان میں کچھ ملازمتیں بہتر بن رہی ہیں، کچھ بدل رہی ہیں اور کچھ ختم بھی ہوسکتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ اثر تقریباً 60 فیصد نوکریوں پر ہے جبکہ غریب ممالک میں یہ 20 سے 26 فیصد کے درمیان ہے۔ جارجیوا نے کہا کہ اے آئی کی وجہ سے عالمی اقتصادی ترقی پر 0.1 سے 0.8 فیصد تک تک کا اثرپڑتا ہے۔ اگر پیداواری صلاحیت میں 0.8 فیصد اضافہ ہوتا ہے تو دنیا کی معاشی نمو کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔

اس سیشن میں ہندوستان کے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ صرف بڑا اے آئی ماڈل بنانا ہی کسی ملک کو طاقتور نہیں بناتا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانچویں صنعتی انقلاب کی معیشت کو سمجھنا ہوگا۔ اس دور میں حقیقی طاقت آراو آئی یعنی سرمایہ کاری پر ملنے والے فوائد سے آئے گی۔ سب سے کم لاگت میں سب سے زیادہ پانے والی ٹیکنالوجی ہی کامیاب ہوگی۔

سعودی عرب کی وزارت سرمایہ کاری میں وزیر خالد الفالح نے کہا کہ اے آئی کے حوالے سے عالمی سطح پر شدید مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ ہر ملک اس کے لیے ضروری انفراسٹرکچر بنانا چاہتا ہے لیکن اے آئی کی اصل طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب یہ ہر کسی کے لیے آسانی سے قابل رسائی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی کا پھیلاؤ صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے پوری دنیا میں پھیلنا چاہیے۔ خالد الفالح نے یہ بھی کہا کہ ٹیکنالوجی اور اے آئی سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/PVnZDBe

اتوار، 18 جنوری، 2026

اے آئی کے بڑھتے استعمال سے 7 میں سے 10 پیشہ وروں کو اپنی ملازمت کے کردار میں تبدیلی کی توقع: رپورٹ

نئی دہلی: کام کی جگہوں پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے تیزی سے بڑھتے استعمال نے پیشہ ورانہ دنیا میں بے چینی اور توقعات دونوں کو جنم دیا ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق آئندہ دو سے تین برسوں میں بڑی تعداد میں پیشہ ور افراد اپنی ملازمت کی نوعیت، ذمہ داریوں اور کام کے طریقۂ کار میں نمایاں تبدیلی کی توقع کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی ٹولس اور نئے ورک فلو معمول بنتے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں روایتی کردار بدلنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

اس مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ 71 فیصد پیشہ ور افراد کا ماننا ہے کہ آنے والے برسوں میں ان کی ذمہ داریوں میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔ رپورٹ نومبر 2025 میں مختلف شعبوں سے وابستہ 1,704 پیشہ وروں کے آن لائن سروے پر مبنی ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کو اپنانے کی رفتار تو تیز ہے، مگر اداروں کی جانب سے مناسب تربیت اور رہنمائی کی فراہمی اس رفتار کے مطابق نہیں ہو پا رہی۔

سروے میں شامل 61 فیصد افراد نے کہا کہ ان کی کمپنیوں نے انہیں اے آئی کے مؤثر استعمال کے بارے میں خاطر خواہ رہنمائی فراہم نہیں کی۔ صرف 37 فیصد پیشہ وروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں مناسب تربیت دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس منظم معاونت کی کمی نے کام کی جگہوں پر اے آئی کے بارے میں ملازمین کے رویّے کو متاثر کیا ہے اور کئی مقامات پر غیر یقینی کیفیت پیدا کی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ 55 فیصد پیشہ ور افراد کے نزدیک اے آئی کو مجبوری کے تحت اپنایا جا رہا ہے، جبکہ 37 فیصد کا خیال ہے کہ ادارے حقیقی کاروباری ضرورت سے زیادہ رجحانات کے زیر اثر اے آئی کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ بہت سے ادارے اپنے عملے کو مکمل طور پر تیار کیے بغیر نئی ٹیکنالوجی متعارف کرا رہے ہیں۔

ان خدشات کے باوجود اے آئی کا عملی استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تقریباً 67 فیصد جواب دہندگان نے بتایا کہ وہ روزمرہ کے کاموں کو آسان یا خودکار بنانے کے لیے اے آئی ٹولس استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم تجربات یکساں نہیں رہے۔ 69 فیصد نے کہا کہ اے آئی سے ان کے کام کے عمل میں آسانی آئی، جب کہ 25 فیصد کے نزدیک اس سے پیچیدگی میں اضافہ ہوا۔

اے آئی پر اعتماد کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ صرف 49 فیصد پیشہ وروں نے کہا کہ وہ اے آئی سے حاصل ہونے والی معلومات پر بغیر دستی جانچ کے بھروسا کرتے ہیں۔ تقریباً 36 فیصد نے واضح کیا کہ وہ ایسی معلومات پر بالکل اعتماد نہیں کرتے، جبکہ 15 فیصد کے مطابق ان کا اعتماد کام کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ رپورٹ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اے آئی کا مستقبل تربیت، اعتماد اور مؤثر نفاذ سے جڑا ہوا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/WtCP1GS

آرٹیمس 2: انسان کی چاند پر واپسی کی تیاری

امریکی خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کا طاقتور ترین راکٹ فلوریڈا کے لانچ پیڈ پر پہنچ چکا ہے، جو پچاس سال سے زائد عرصے کے بعد چاند کی جانب پہلے انسانی مشن کی تیاریوں کا اہم سنگ میل ہے۔ آرٹیمس 2 نامی یہ دس روزہ مشن چار خلابازوں کو زمین کے مدار سے نکال کر چاند کے گرد چکر لگوائے گا تاکہ مستقبل میں وہاں اترنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ اسپیس لانچ سسٹم راکٹ کی منتقلی کے بعد اب ایندھن اور کاؤنٹ ڈاؤن کی مشقیں کی جائیں گی، جبکہ اس کی روانگی فروری 2026 کے اوائل میں متوقع ہے۔ اس مہم میں استعمال ہونے والا ’اورین‘ خلائی جہاز یورپی ساختہ ماڈیول پر انحصار کرتا ہے جو عملے کے لیے بجلی، آکسیجن اور پانی فراہم کرے گا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اس مشن میں خلابازوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے، اسی لیے لانچ سے قبل تمام تکنیکی پہلوؤں کی باریک بینی سے جانچ کی جا رہی ہے۔

اپولو 17 مشن کے 50 سال سے زائد عرصے بعد، 1972 کے بعد پہلی بار انسانیت ایک نئے قمری دور کا آغاز کر رہی ہے۔ ناسا کے ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ، اور کینیڈین خلائی ایجنسی کے جیریمی ہینسن پر مشتمل عملہ چاند کی طرف روانہ ہونے والا ہے۔ لیکن اس نئے آرٹیمس 2 مشن کی تفصیلات میں کئی ایسے حیران کن حقائق پوشیدہ ہیں جن سے زیادہ تر لوگ واقف نہیں۔ ذیل میں اس تاریخی کوشش کے سب سے زیادہ مؤثر اور غیر متوقع پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک خلائی جہاز کا زمین پر سست سفر

یہ جان کر حیرت ہوتی ہے کہ 98 میٹر بلند اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) راکٹ کو لانچ پیڈ تک صرف 6.5 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً 12 گھنٹے لگے۔ اسے ایک دیوہیکل مشین، جسے کرالر-ٹرانسپورٹر کہا جاتا ہے، نے صرف 1.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے منتقل کیا۔ یہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ خلا کے سفر کو شروع کرنے کے لیے کس قدر بڑی اور وزنی مشینری کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آسمانی کامیابیوں سے پہلے زمینی چیلنجز پر قابو پانا کتنا ضروری ہے۔

چاند پر اُترنا نہیں، چکر لگانا مقصد

لوگوں کے گمان کے برعکس، 10 روزہ آرٹیمس 2 مشن چاند پر نہیں اترے گا۔ اس کا اصل مقصد چاند کے گرد سفر کرنا ہے تاکہ مستقبل کے آرٹیمس 3 مشن کے لیے راہ ہموار کی جا سکے۔ چاند کے گرد پرواز کے دوران، عملے کو چاند کے مشاہدے کے لیے تین گھنٹے وقف کیے جائیں گے، جس میں وہ تصاویر لیں گے اور اس کی ارضیات کا مطالعہ کریں گے تاکہ چاند کے جنوبی قطب پر مستقبل میں اترنے کی تیاری کی جا سکے۔ ناسا کے مطابق آرٹیمس 3 مشن 2027 سے پہلے چاند پر نہیں اترے گا۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ 2028 اس مشن کے لیے زیادہ حقیقت پسندانہ تاریخ ہو سکتی ہے، جو خلائی تحقیق میں درپیش پیچیدگیوں کی عکاسی کرتی ہے۔

زمین کا ایک نیا نظارہ

چاند کے گرد چکر لگانے کے اس محتاط منصوبے سے بھی پہلے، مشن کا ایک اور حیران کن مرحلہ ہے جو ہمارے اپنے سیارے یعنی زمین پر مرکوز ہے۔ مشن کے پہلے دو دنوں کے لیے ایک منفرد منصوبہ بنایا گیا ہے۔ چاند کی طرف روانہ ہونے سے پہلے، عملہ زمین کے گرد ایک بلند مدار میں وقت گزارے گا، جو تقریباً 64 ہزار 4سو کلومیٹر (40ہزار میل) کی دوری تک پہنچے گا۔ یہ فاصلہ چاند تک کے راستے کا تقریباً پانچواں حصہ ہے۔ اس مرحلے کی اہمیت واضح کرتے ہوئے خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "ہماری کھڑکی سے پوری زمین ایک واحد کرے کی صورت میں دکھائی دے گی، ایک ایسا نظارہ جو ہم میں سے کسی نے اس زاویے سے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔" یہ مرحلہ نہ صرف تکنیکی جانچ کا موقع ہے بلکہ عملے کے لیے انسانیت کے مشترکہ گھر کو ایک ایسے تناظر میں دیکھنے کا ایک موقع بھی ہے جو زمین پر ہمارے وجود کی نزاکت کو اجاگر کرتا ہے۔

امریکی مشن کا یورپی ماڈیول

اس تاریخی مشن پر روانہ ہونے والے ’اورین‘ خلائی جہاز کا ایک اہم جزو، یورپی سروس ماڈیول، ناسا نے نہیں بنایا ہے۔ یہ ماڈیول جرمنی کے شہر بریمن میں ایئربس نے یورپی خلائی ایجنسی کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ یہ ماڈیول انتہائی اہم کام انجام دیتا ہے: چاند تک پہنچنے کے لیے پروپلشن فراہم کرنا، تمام برقی توانائی پیدا کرنا، اور عملے کو زندہ رکھنے کے لیے ہوا (آکسیجن اور نائٹروجن) اور پانی فراہم کرنا۔ ایئربس کی انجینئر سیان کلیور کے مطابق، "یورپی سروس ماڈیول بہت اہم ہے - بنیادی طور پر ہم اس کے بغیر چاند تک نہیں پہنچ سکتے۔"

خلا بازوں کا پرسکون رویہ

کئی سال کی تاخیر کے بعد اس مشن کو شروع کرنے کے لیے ناسا پر بے پناہ دباؤ ہے۔ اس دباؤ کے برعکس، خلا بازوں کا رویہ انتہائی پرسکون ہے۔ خلا باز کرسٹینا کوچ کہتی ہیں کہ "لانچ کے دن خلا باز سب سے پرسکون لوگ ہوتے ہیں۔ اور میرے خیال میں... ایسا اس لیے محسوس ہوتا ہے کیونکہ ہم اس مشن کو پورا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوتے ہیں جس کے لیے ہم یہاں آئے ہیں، جس کی ہم نے تربیت حاصل کی ہے۔" اس تیاری اور حفاظت کے عزم کو آرٹیمس مشن مینجمنٹ ٹیم کے چیئر جان ہنی کٹ کے الفاظ سے مزید تقویت ملتی ہے۔ ان کے مطابق، "ہم تب ہی پرواز کریں گے جب ہم تیار ہوں گے... عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہوگی۔"

آرٹیمس 2 مشن صرف ایک راکٹ کا لانچ نہیں ہے؛ یہ محتاط منصوبہ بندی، بین الاقوامی تعاون، اور گہرے انسانی نقطہ نظر کی کہانی ہے۔ جیسا کہ کینیڈین خلا باز جیریمی ہینسن نے کہا، یہ مشن مزید لوگوں کو چاند کو غور سے دیکھنے پر مجبور کرے گا۔ جب انسانیت ایک بار پھر ستاروں کی طرف اپنی نظریں اٹھا رہی ہے، تو یہ نیا چاند کا سفر ہمیں کائنات اور خود اپنے بارے میں کیا سکھائے گا... یہ تو آنے والے وقت ہی بتائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NiRnkMp

جمعرات، 15 جنوری، 2026

اے آئی چپس پر ٹرمپ حکومت کا فیصلہ، 25 فیصد ٹیرف، عالمی سپلائی چین کے لیے چیلنج

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں حکومت نے منتخب جدید کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق چپس پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد قومی سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امریکہ کی سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت وہ ہائی اینڈ اے آئی چپس براہ راست متاثر ہوں گی جنہیں امریکی کمپنیاں چین کو فراہم کرنے کی تیاری میں تھیں۔

حکومتی وضاحت کے مطابق ٹیرف کا اطلاق ’این ویڈیا‘ کے ایچ ٹو 100اے آئی پروسیسر اور اے ایم ڈی کی ایم آئی 325 ایکس جیسی جدید چپس پر ہوگا۔ یہ وہ مصنوعات ہیں جو تکنیکی طور پر نہایت حساس سمجھی جاتی ہیں اور جن کی تیاری زیادہ تر تائیوان میں ہوتی ہے۔ اگر ان چپس کو چین کو فروخت کیا جاتا ہے تو متعلقہ کمپنیوں کو اضافی پچیس فیصد محصول ادا کرنا ہوگا۔

یہ قدم محض مالی محصول تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق اس بندوبست کے ذریعے حکومت کو آمدنی حاصل ہوگی جبکہ محدود شرائط کے تحت بعض چپس کی فروخت کی اجازت بھی دی جائے گی جن پر پہلے پابندیاں عائد تھیں۔ اس حکمت عملی کو مکمل پابندی کے بجائے کنٹرول شدہ اجازت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنی سیمی کنڈکٹر ضرورت کا بڑا حصہ بیرونی سپلائی چین سے حاصل کرتا ہے، جو اقتصادی اور سلامتی دونوں زاویوں سے تشویش کا باعث ہے۔ اسی لیے ہائی اینڈ چپس پر ابتدائی طور پر محدود دائرے میں ٹیرف نافذ کیا گیا ہے، تاہم مستقبل میں مزید سخت اقدامات کے اشارے بھی دیے گئے ہیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ امریکی ڈیٹا سینٹرز، اسٹارٹ اپس، شہری صنعتی استعمال اور عوامی شعبے کے لیے درآمد کی جانے والی چپس اس فیصلے سے مستثنیٰ رہیں گی۔ این ویڈیا نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ منظور شدہ تجارتی سرگرمیوں کے ذریعے امریکی صنعت کا مسابقتی رہنا ناگزیر ہے۔ مجموعی طور پر یہ فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں تجارت، سلامتی اور جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑتے جا رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Hw6vmtL

منگل، 6 جنوری، 2026

ہندوستان چاول کی پیداوار میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچا

نئی دہلی: مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے کہا ہے کہ ہندوستان چاول کی پیداوار کے معاملے میں چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں پہلے مقام پر پہنچ گیا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان نے 150.18 ملین ٹن چاول پیدا کیا، جبکہ چین کی پیداوار 145.28 ملین ٹن رہی۔ وزیر زراعت نے یہ معلومات قومی دارالحکومت میں منعقدہ ایک پروگرام کے دوران فراہم کیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے کہا کہ چاول کی پیداوار میں یہ پیش رفت اعلیٰ پیداوار دینے والے بیجوں کی ترقی، زرعی تحقیق اور کسانوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان اب نہ صرف دنیا کا سب سے بڑا چاول پیدا کرنے والا ملک ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایک اہم چاول برآمد کنندہ بھی بن چکا ہے۔ وزیر کے مطابق اس کامیابی میں سائنسی تحقیق اور جدید زرعی طریقوں کا اہم کردار رہا ہے۔

مرکزی وزیر نے اسی موقع پر ہندوستانی زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے تیار کی گئی 25 فصلوں کی 184 نئی اور بہتر اقسام کو بھی جاری کیا۔ ان میں اناج، دالیں، تیل دار اجناس، چارہ فصلیں، گنا، کپاس، جیوٹ اور تمباکو کی اقسام شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ ان اقسام کو اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ وہ کسانوں کو زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کی فصل حاصل کرنے میں مدد دے سکیں۔

شیو راج سنگھ چوہان نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ ان نئی اقسام کو جلد از جلد کسانوں تک پہنچایا جائے تاکہ وہ ان سے عملی فائدہ حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق بہتر بیج کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزیر زراعت نے زرعی سائنس دانوں سے یہ بھی کہا کہ وہ دالوں اور تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دیں، تاکہ ملک کو ان شعبوں میں خود کفیل بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے گزشتہ گیارہ برسوں میں 3,236 اعلیٰ پیداوار والی اقسام کو منظوری دی گئی، جو کہ زرعی تحقیق میں تیزی کی عکاس ہے۔

مرکزی وزیر کے مطابق نئی اقسام کو موسمیاتی تبدیلی، مٹی کے زیادہ نمکین ہونے، خشک سالی اور دیگر حیاتیاتی و غیر حیاتیاتی دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاکہ زرعی شعبہ مستقبل کے چیلنجوں کا بہتر انداز میں سامنا کر سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Eyf3O6a

پیر، 22 دسمبر، 2025

دنیا کا سب سے بھاری تجارتی سیٹلائٹ کل ہوگا لانچ، اسرو تاریخ رقم کرنے کو تیار

ہندوستانی خلائی تحقیقاتی ادارہ (اسرو) بدھ کے روز ایک تاریخی تجارتی خلائی مشن انجام دینے جا رہا ہے، جس کے تحت دنیا کا اب تک کا سب سے بھاری تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس مشن کے لیے بھاری لفٹ راکٹ ایل وی ایم 3-ایم6 کی لانچ کے سلسلے میں الٹی گنتی منگل کی صبح تقریباً 8 بج کر 55 منٹ پر شروع کر دی گئی ہے۔

ادارے کے مطابق، یہ راکٹ بدھ کی صبح 8 بج کر 24 منٹ پر آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں واقع دوسرے لانچ پیڈ سے روانہ ہوگا۔ لانچ کے تقریباً 16 منٹ بعد سیٹلائٹ کو زمین کے نچلے فضائی مدار میں کامیابی کے ساتھ نصب کر دیا جائے گا۔ یہ سیٹلائٹ وزن اور جسامت کے اعتبار سے اب تک نچلے فضائی مدار میں بھیجا جانے والا سب سے بڑا تجارتی مواصلاتی سیٹلائٹ ہوگا۔

لانچ ہونے والا یہ سیٹلائٹ نئی نسل کے مواصلاتی سیٹلائٹس کا حصہ ہے، جن کا مقصد خلا سے براہِ راست عام موبائل فونز کو سیلولر براڈبینڈ سہولت فراہم کرنا ہے۔ اس نظام کے ذریعے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں بھی ویڈیو کالنگ، انٹرنیٹ استعمال اور تیز رفتار موبائل رابطہ ممکن ہو سکے گا اور اس کے لیے کسی خصوصی آلے یا اضافی ہارڈویئر کی ضرورت نہیں ہوگی۔

الٹی گنتی کے دوران راکٹ کے مائع اور کرائیوجینک مراحل میں ایندھن بھرنے کا عمل جاری ہے، جب کہ تمام ذیلی نظاموں کی حتمی تکنیکی جانچ بھی کی جا رہی ہے تاکہ لانچ کو ہر اعتبار سے محفوظ اور کامیاب بنایا جا سکے۔ یہ مشن ایل وی ایم 3 راکٹ کی چھٹی آپریشنل پرواز ہے اور اسے مکمل طور پر ایک مخصوص تجارتی مشن کے طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔

ایل وی ایم 3 ایک تین مرحلوں پر مشتمل بھاری لفٹ راکٹ ہے، جس میں دو ٹھوس موٹرز، ایک مائع مرکزی مرحلہ اور ایک کرائیوجینک بالائی مرحلہ شامل ہے۔ یہ راکٹ اس سے قبل بھی کئی اہم خلائی مشن کامیابی کے ساتھ انجام دے چکا ہے، جن میں چاند سے متعلق مشن اور عالمی مواصلاتی سیٹلائٹس کی لانچ شامل ہے۔ تازہ ترین مشن گزشتہ ماہ کامیابی سے مکمل کیا گیا تھا۔

اس تجارتی لانچ کے ذریعے نہ صرف ہندوستان کی خلائی صلاحیت کا عالمی سطح پر اعتراف مضبوط ہوگا بلکہ عالمی تجارتی خلائی مارکیٹ میں اسرو کی پوزیشن بھی مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/pdBzNvP

سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان کی وجہ سے بچوں میں بے صبری بڑھ رہی ہے: سروے

بدلتے ہوئے طرز زندگی میں بچوں سمیت ہر کوئی اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارتا ہے۔ درحقیقت، بچے موبائل فون، ٹیبلیٹ اور کمپیوٹر پر بھی کافی وقت گزار رہے ہیں۔ اس سے سوشل میڈیا، ویڈیوز اور آن لائن گیمنگ کی لت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات تازہ ترین لوکل سرکلز سروے (2024) میں سامنے آئی ہے۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ 66 فیصد شہری والدین کا خیال ہے کہ ان کے 9 سے 17 سال کی عمر کے بچے سوشل میڈیا، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور گیمنگ کے عادی ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے  بے صبری، غصہ، اور سستی جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ سروے میں 70,000 سے زائد والدین نے حصہ لیا ۔ اس نے پایا کہ 47فیصد بچے روزانہ تین گھنٹے یا اس سے زیادہ وقت اسکرین پر گزارتے ہیں۔ دریں اثنا، 10فیصدبچے اسکرین پر 6 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لت کووڈ 19 وبائی مرض کے بعد آن لائن کلاسز کے ساتھ شروع ہوئی اور جاری ہے۔ بچے زیادہ وقت ویڈیوز دیکھنے، گیم کھیلنے اور سوشل میڈیا استعمال کرنے میں صرف کرتے ہیں جس سے ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔

سروے میں انکشاف ہوا کہ 58 فیصد والدین نے کہا کہ ان کے بچے غصہ والے  ہو گئے ہیں۔49فیصدنے بے صبری میں اضافے کی اطلاع دی ہے۔ 49فیصد بچوں میں سستی میں اضافے کی اطلاع دی ہے جبکہ 42 فیصد نے ڈپریشن کی علامات ظاہر کی ہیں اور 30فیصدبچے ہائپر ایکٹیو ہو گئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق زیادہ اسکرین ٹائم دماغ پر منفی اثر ڈالتا ہے، جس سے توجہ کی کمی اور بے صبری جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔ نئی دہلی کے میکس ہسپتال میں سائیکاٹری کے سربراہ ڈاکٹر سمیر ملہوترا کے مطابق اسکرین ٹائم ہارمون ڈوپامین کے اخراج کو بڑھاتا ہے جو کہ نشہ آور ہے۔ اس سے بچے حقیقی زندگی میں بے صبری کا شکار ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ توجہ کھو دیتے ہیں اور غصے میں آ جاتے ہیں۔ مزید برآں، اسکرین کی لت 9-17 سال کی عمر کے بچوں میں جذباتی مسائل کو بڑھا رہی ہے۔ بے صبری مطالعہ اور تعلقات کو متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں، ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم نیند میں خلل ڈالتی ہے، جس سے بے صبری بڑھ جاتی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اسکرین کا وقت روزانہ 1-2 گھنٹے تک محدود کرنا ضروری ہے،بیرونی کھیل، پڑھنے، اور خاندان کے وقت میں اضافہ کرنا ضروری ہے،والدین کو چاہیے کہ وہ خود اسکرین ٹائم کو محدود کریں، اچھی نیند اور صحت مند غذا کی حوصلہ افزائی لازمی ہےاوراگر مسئلہ برقرار رہے تو ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/V5Av2Hw

جمعرات، 18 دسمبر، 2025

ناسا اسپیس ایپس چیلنج 2025 میں ہندوستانی ٹیم کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ کانسپٹ اول، عالمی سطح پر نمایاں کامیابی

واشنگٹن: نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) کے 2025 انٹرنیشنل اسپیس ایپس چیلنج میں ہندوستان کی ایک ٹیم نے عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کر کے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ اس ٹیم نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے متعلق ایک ایسا تصور پیش کیا، جس کا مقصد دور دراز اور محروم علاقوں تک تیز رفتار اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔

چنئی سے تعلق رکھنے والی ٹیم فوٹونکس اوڈیسی کو مقابلے میں موسٹ انسپائریشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ٹیم کا بنیادی تصور یہ تھا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کو محض نجی کمپنیوں کی تجارتی خدمت کے بجائے ایک عوامی سہولت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، تاکہ ڈیجیٹل عدم مساوات کو کم کیا جا سکے۔

ناسا اسپیس ایپس کے مطابق اس منصوبے کا ہدف ہندوستان کے تقریباً سات سو ملین ایسے افراد کو انٹرنیٹ سے جوڑنا ہے، جو اب تک براڈبینڈ جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ ٹیم کے اراکین میں منیش ڈی، ایم کے، پرشانت جی، راجالنگم این، راشی ایم اور شکتی آر شامل ہیں، جنہوں نے جدید فوٹونکس اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کو سماجی ضرورت سے جوڑنے کی ایک جامع حکمتِ عملی پیش کی۔

ناسا نے بتایا کہ 2025 کے اس عالمی ہیکاتھون میں 167 ممالک اور خطوں میں 551 مقامی ایونٹس منعقد ہوئے، جن میں ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد شرکا نے حصہ لیا۔ مجموعی طور پر 11500 سے زیادہ پروجیکٹس جمع کرائے گئے، جن میں سے کامیاب ٹیموں کا انتخاب ناسا اور اس کے شراکت دار اداروں کے ماہرین نے کیا۔

ناسا کے ارتھ سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر کیرن سینٹ جرمین نے کہا کہ اسپیس ایپس چیلنج ناسا کے کھلے اور مفت ڈیٹا کو دنیا بھر کے افراد کے لیے قابلِ رسائی بناتا ہے، تاکہ حقیقی مسائل کے لیے سائنسی اور تکنیکی حل سامنے آ سکیں۔

اسی مقابلے میں ’بیسٹ یوز آف ڈیٹا ایوارڈ‘ امریکی ٹیم ‘ریزننٹ ایکسوپلینیٹس‘ کو ملا، جبکہ ہند نژاد طلبہ پر مشتمل ٹیم ’ایسٹرو سویپرز‘ کو ’گیلیکٹک امپیکٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ ناسا اسپیس ایپس چیلنج کا آغاز 2012 میں ہوا تھا اور یہ ہر سال عالمی سطح پر سائنسی اختراع کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیا جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UzXfsN3

منگل، 2 دسمبر، 2025

ہندوستان نژاد امر سبرامنیا کو ایپل نے بنایا کمپنی میں اے آئی کا نائب صدر

کیلیفورنیا: ٹیک کمپنی ایپل نے اعلان کیا ہے کہ مشہور ہندوستانی نژاد اے آئی محقق امرسبرامنیا نے ایپل میں اے آئی کے نائب صدر کے طور پر شمولیت اختیار کی ہے اور وہ براہ راست کریگ فیڈریگی کو رپورٹ کریں گے۔ ایپل کے مطابق کمپنی کے مشین لرننگ اوراے آئی اسٹریٹیجی کے سینئر نائب صدر جان گیاننڈریا ریٹائر ہو رہے ہیں۔ فی الحال وہ 2026 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک کمپنی کے مشیر کا کردار ادا کریں گے۔

سبرامنیا کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کے مطابق وہ کمپنی میں ایپل فاؤنڈیشن ماڈلس،ایم ایل ریسرچ، اے آئی سیفٹی ایویلیوایشن جیسے اہم شعبوں کی قیادت کریں گے۔ وہ ایپل میں اپنے بہترین تجربے کے ساتھ  شامل ہورہے ہیں۔ اس سے قبل وہ مائیکرو سافٹ میں اے آئی کے کارپوریٹ نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ مائیکروسافٹ سے پہلے وہ 16 سال تک گوگل میں کام کرچکے ہیں جہاں انہوں نے گوگل جیمنی اسسٹنٹ کے لیے ہیڈ آف انجینئرنگ کے عہدے پرخدمات انجام دی ہیں۔

اس سلسلے میں ایپل کا کہنا ہے کہ سبرامنیا کا اے آئی اورایم ایل ریسرچ اوراس ریسرچ کو پروڈکٹس اور فیچرس میں ضم کرنے کو لے کر وسیع تجربہ کمپنی کے موجودہ انوویشن اورمستقبل کے ایپل انٹیلی جنس فیچرس کے لئے کافی اہم ہونے والا ہے۔ ایپل کے سی ای او ٹم کک نےامر کے بارے میں کہا کہ اے آئی طویل عرصے سے ایپل کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور ہم ان کے غیر معمولی اے آئی تجربے کو لانے کے ساتھ کریگ کی زیر قیادت ٹیم میں ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

جان گیاننڈریا نے ایپل میں 2018 سے اپنی شمولیت کے بعد کمپنی کی اے آئی اور مشین لرننگ کی حکمت عملی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایپل میں ایک عالمی معیار کی ٹیم بنائی اور اس ٹیم کواہم اے  ٹیکنالوجی کو ڈیولپ کرنے اور تعینات کرنے کے لیے تیار کیا۔ یہ ٹیم فی الحال ایپل فاؤنڈیشن ماڈلز، سرچ اینڈ نالج، مشین لرننگ ریسرچ اوراے آئی انفراسٹرکچر کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔

اس موقع پرٹم کک نے کہا کہ ہمارے اے آئی ورک کو لے کر جان کے کردار کے لئے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے۔ انہوں نے ایپل کو اختراع کرنے اور صارفین کی زندگیوں کو بہتر بنانے میں کمپنی کی مدد کی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/f7emx8Z

پیر، 1 دسمبر، 2025

موبائل فون میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی قرار، سرکاری احکام پر حزبِ اختلاف برہم، رازداری پر حملہ قرار دیا

شعبۂ ٹیلی مواصلات نے ملک میں فروخت ہونے والے تمام نئے موبائل فونز کے لیے یہ ہدایت جاری کی ہے کہ ان میں ’سنچار ساتھی‘ ایپ لازمی طور پر پری انسٹال ہو اور اسے کسی بھی صورت میں ہٹایا یا غیر فعال نہ کیا جا سکے۔ سرکاری حکم نامے کے مطابق یہ ایپ پہلے سیٹ اپ کے دوران صاف طور پر نظر آئے، فعال حالت میں ہو اور اس کے کسی بھی فیچر کو نہ تو چھپایا جا سکے گا اور نہ ہی محدود کیا جا سکے گا۔

موبائل ساز کمپنیوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 90 دن اور مکمل رپورٹ داخل کرنے کے لیے 120 دن کی مہلت دی گئی ہے، جبکہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود ماڈلز کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے اس ایپ کو شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس قدم کا بنیادی مقصد ڈپلیکیٹ آئی ایم ای آئی، جعلی ڈیوائسز، چوری شدہ موبائل کی دوبارہ فروخت اور سائبر فراڈ جیسے بڑھتے ہوئے مسائل کو روکنا ہے۔ ’سنچار ساتھی‘ پورٹل اور ایپ کے ذریعے صارفین اپنے موبائل کے آئی ایم ای آئی نمبر کی مدد سے ڈیوائس کی اصلیت کی جانچ کر سکتے ہیں، یہ دیکھ سکتے ہیں کہ فون بلیک لسٹ تو نہیں اور دھوکہ دہی والی کال یا پیغام کی رپورٹ بھی کر سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اس ایپ میں ایسے ٹولز بھی شامل ہیں جن سے صارف اپنے نام پر جاری تمام کنیکشنز کی فہرست دیکھ سکتا ہے، اور کسی کھوئے یا چوری ہوئے فون کی اطلاع بھی درج کرا سکتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیلی کام سکیورٹی کو مضبوط کرنے اور شہریوں کو محفوظ مواصلاتی ماحول فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا۔

تاہم اپوزیشن نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس سمیت کئی جماعتوں نے اسے شہریوں کی پرائیویسی پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ کانگریس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک ایسا ایپ جسے حذف یا بند نہ کیا جا سکے، شہریوں کی معلومات اور حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کا ذریعہ بن سکتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل رازداری کے حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔

بعض رہنماؤں نے تو حکومت پر ’بِگ برادر‘ ذہنیت اپنانے اور شہریوں کی نگرانی کا نظام کھڑا کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اگر حکومت واقعی سائبر فراڈ روکنا چاہتی ہے تو اسے ایسے اقدامات اختیار کرنے چاہئیں جن سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں۔

ادھر وزارت نے وضاحت کی ہے کہ ’سنجار ساتھی‘ نگرانی کا نہیں بلکہ صارفین کے تحفظ کا آلہ ہے اور اس میں کوئی ایسا فیچر شامل نہیں جو ذاتی گفتگو یا ڈیٹا تک رسائی دے۔ وزارت کے مطابق اس طرح کے خدشات بے بنیاد ہیں اور اس منصوبے کا مقصد صرف ٹیلی کام سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/xZfIQsC

ہفتہ، 29 نومبر، 2025

ڈی جی سی اے کا اے 320 طیاروں کی لازمی تجدید کا حکم، ملک میں درجنوں پروازیں متاثر

نئی دہلی: ملک میں ایئر بس اے 320 فیملی کے طیاروں میں پائی گئی تکنیکی خرابی کے بعد سول ایوی ایشن ریگولیٹر ڈی جی سی اے نے ان طیاروں کے لیے لازمی سافٹ ویئر اور ہارڈویئر تجدید کا حکم جاری کر دیا ہے۔ یہ حکم یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) کی تازہ ترین ہدایات کے بعد جاری ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ہندوستان میں درجنوں پروازیں تاخیر اور آپریشنل مسائل سے دوچار ہیں۔

ڈی جی سی اے کے مطابق اے319، اے320 اور اے321 طیاروں کے ان تمام ماڈلز میں ای ایل اے سی کنٹرول سسٹم سے متعلق اہم موڈیفکیشن کرنا ضروری ہے، جن میں سورج کی شعاعوں سے فلائٹ کنٹرول ڈیٹا متاثر ہونے کا خطرہ پایا گیا تھا۔ ریگولیٹر نے واضح کیا ہے کہ بغیر مکمل موڈیفکیشن کے کوئی طیارہ اڑان نہیں بھر سکے گا۔

ملک میں اے 320 فیملی کے فعال طیاروں کی تعداد 179 ہے۔ ایئر انڈیا کے بیڑے میں 104، ایئر انڈیا ایکسپریس کے پاس 40 اور انڈیگو کے پاس 35 طیارے شامل ہیں۔ ان میں سے قابلِ ذکر تعداد کو فوری طور پر گراؤنڈ یا محدود آپریشن پر رکھا گیا ہے، جس سے پروازوں کے شیڈول متاثر ہو رہے ہیں۔

ایئر انڈیا نے کہا ہے کہ اس کے انجینئرز 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور اب تک 40 فیصد متاثرہ طیاروں میں ضروری تجدید مکمل ہو چکی ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پروازوں کی منسوخی سے بچنے کی پوری کوشش کر رہی ہے، اگرچہ تاخیر ناگزیر ہے۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ روانگی سے قبل ویب سائٹ یا کسٹمر کیئر سے تازہ معلومات ضرور حاصل کریں۔

ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی تصدیق کی کہ اس کے زیادہ تر طیارے براہِ راست متاثر نہیں، تاہم عالمی سطح پر جاری ری کال کی وجہ سے مختلف ممالک میں پروازیں تاخیر یا منسوخی کا شکار ہو رہی ہیں۔ انڈیگو نے کہا ہے کہ وہ ڈی جی سی اے کی ہدایات پر پورا عمل کر رہی ہے اور ترجیحی بنیاد پر اپنے طیاروں کو اپ ڈیٹ کر رہی ہے۔

یہ حکم اس واقعے کے بعد آیا ہے جس میں 30 اکتوبر کو جیٹ بلو کی پرواز 1230 دورانِ پرواز قابو سے باہر ہو گئی تھی اور 15 مسافر زخمی ہوئے تھے۔ بعد کی تحقیقات میں ای ایل اے سی کنٹرول سسٹم میں خرابی سامنے آئی، جس پر ای اے ایس اے نے عالمی ہدایات جاری کیں اور اب ہندوستان میں اس پر سختی سے عمل ہو رہا ہے۔ ڈی جی سی اے کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد پروازوں کی حتمی حفاظت کو یقینی بنانا اور آئندہ کسی بھی تکنیکی خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/wGESo6t