ہفتہ، 7 دسمبر، 2024

تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ: ٹاپ-10 ممالک کی فہرست میں 3 مسلم ممالک سب سے آگے، امریکہ، جاپان اور چین کو بھی چھوڑا پیچھے

ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ بغیر انٹرنیٹ کے آپ کوئی کام نہیں کر سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ اس کی رفتار کی بھی کافی اہمیت ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار سے متعلق حالیہ دنوں میں ورلڈ بینک نے ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ رپورٹ میں انٹرنیٹ فراہم کرنے والے ٹاپ-10 ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹاپ 10 ممالک میں سرفہرست ٹاپ 3 مسلم ممالک ہیں۔ متحدہ عرب عمارات فہرست میں پہلے درجہ پر ہے جبکہ قطر اور کویت بالترتیب دوسرے اور تیسرے مقام پر ہے۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں کہ تیز رفتار انٹرنیٹ فراہم کرنے والے 10 سرفہرست ممالک کون کون ہیں۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق فہرست میں ٹاپ پر ہے متحدہ عرب عمارات (یو اے ای)۔ وہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 398.5 ایم بی پی ایس ہے۔ فہرست میں دوسرے نمبر پر قطر ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 344.3 ایم بی پی ایس ہے۔ اس فہرست میں تیسرے نمبر پر کویت ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 239.83 ایم بی پی ایس بتائی گئی ہے۔ چوتھے نمبر پر جنوبی کوریا ہے۔ وہاں کے موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 141.23 ایم بی پی ایس ہے۔ فہرست میں پانچواں مقام نیدرلینڈ کو حاصل ہوا ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 133.44 ایم بی پی ایس ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 130.05 ایم بی پی ایس موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ ڈنمارک نے فہرست میں چھٹی پوزیشن حاصل کی ہے۔ 128.77 ایم بی پی ایس کے ساتھ ناروے ساتویں نمبر پر ہے۔ سعودی عرب 122.28 ایم بی پی ایس موبائل انٹرنیٹ کی رفتار کے ساتھ آٹھویں مقام پر ہے۔ فہرست میں نویں مقام پر بلغاریہ ہے جہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 117.64 ایم بی پی ایس ہے۔ اس فہرست میں دسویں نمبر پر لکژمبرگ کو جگہ ملی ہے۔ وہاں موبائل انٹرنیٹ کی رفتار 114.42 ایم بی پی ایس ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/1VYq0US

اسمارٹ فون اسکرین کے ’گرین لائن‘ مسئلے کے لیے ون پلس نے متعارف کرائی لائف ٹائم وارنٹی

موبائل کمپنی ’ون پلس‘ نے ہندوستان میں اپنے صارفین کے لیے اسمارٹ فونز کی اسکرینوں میں گرین لائن کے مسئلے کے لیے لائف ٹائم وارنٹی متعارف کرائی ہے۔ یہ قدم اس بات کا غماز ہے کہ ون پلس اپنے صارفین کی ضروریات اور ان کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اب تک اس بات کا سامنا کرنے والے صارفین کی تعداد زیادہ تھی جو اپنے ڈیوائسز میں ’گرین لائن‘ یعنی اسکرین پر سبز رنگ کی لائن دیکھنے کی شکایت کرتے تھے اور اس کو ٹھیک کرنے کے لیے انہیں اضافی لاگت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

یہ نیا اقدام ’گرین لائن-وری فری سلوشن‘ کے نام سے جانا جائے گا۔ اس کا مقصد اسکرین کی AMOLED پینلز کو زیادہ مستحکم اور محفوظ بنانا ہے۔ اس کے لیے ون پلس نے جدید پی وی ایکس مٹیریل استعمال کیا ہے جو اسکرین کے کناروں کو مزید مضبوط بناتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ پانی اور آکسیجن جیسے عوامل سے بچاؤ بھی فراہم کرتا ہے جو اسکرین کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ اس نئے سسٹم کو ایک سخت معیار کی جانچ سے گزارا گیا ہے جس میں 85 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت اور 85 فیصد نمی کے تحت اسکرینز کو ٹیسٹ کیا گیا۔

ون پلس کی اس نئی حکمت عملی کا مقصد اپنے صارفین کے اعتماد کو مزید بڑھانا ہے۔ کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ یہ لائف ٹائم وارنٹی خاص طور پر ہندوستانی مارکیٹ کے لیے متعارف کرائی گئی ہے جہاں انتہائی گرم اور مرطوب موسم میں اسکرین کی خرابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

ون پلس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رابن لیو نے اس پیش رفت کو ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کمپنی نے ہمیشہ سے ہی تکنیکی ترقی کے ذریعے صارفین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا کہنا تھا، ’’ہم نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کو اپنی مصنوعات میں شامل کیا ہے تاکہ ہم اپنے صارفین کی توقعات پر پورا اتر سکیں۔‘‘

یہ وارنٹی اس وقت شروع کی جا رہی ہے جب ون پلس نے اپنے ’پروجیکٹ اسٹار لائٹ‘ کے تحت ہندوستانی مارکیٹ میں 6000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ اس اقدام کے ذریعے کمپنی اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/NBHZyP4

جمعرات، 5 دسمبر، 2024

جیریڈ آئزاک مین ہوں گے 'ناسا' کے نئے سربراہ، ٹرمپ نے باندھے تعریفوں کے پُل

امریکی انتخاب جیتنے والے ریپبلکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو 47ویں صدر کے طور پر حلف لیں گے۔ حلف برداری سے قبل انہوں نے کئی اہم محکموں کے سربراہوں کا اعلان کر چکے ہیں۔ اب انہوں نے امریکہ میں 'ناسا' کے نئے سربراہ کے نام کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نے جیریڈ آئزاک مین کو 'ناسا' کے سربراہ کے طور پر نامزد کیا ہے۔ جیرڈ آئزاک مین ٹرمپ کی نئی حکومت میں نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن یعنی ناسا کے سربراہ کے طور پر کام کریں گے۔

ٹرمپ نے 'ایکس' پر ایک پوسٹ کے ذریعہ اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ جیریڈ کو 'ناسا' کا سربراہ نامزد کرنے پر مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے۔ یہ ایک بہترین بزنس لیڈر، پائلٹ، ایسٹروناٹ اور ایک قابل رہنما ہیں۔ جیریڈ آئزاک مین نے 25 برس سے اینٹگریٹیڈ پمنٹس اور کامرس ٹیکنالوجی کمپنی شفٹ4 کے بانی اور سی ای او کے طور بخوبی اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

ایک دہائی سے زیادہ وقت تک جیریڈ نے ڈریکن انٹرنیشنل کے سی ای او اور شریک بانی کے طور پر بھی کام کیا ہے۔ یہ اپنی غیر معمولی صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پوسٹ میں بتایا کہ جیریڈ کو خلاء اور ریسرچ میں کافی دلچسپی ہے۔ ایک خلاباز کے طور پر ان کا تجربہ اور تندہی سے کام کرنا 'ناسا' کو بڑی اونچائیوں تک لے جائے گا۔

ناسا کے ایڈمنسٹریٹر کی اہم ذمہ داری ملنے سے جیریڈ آئزاک مین کافی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ناسا کی قیادت کرنے کے لیے وہ پُرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا "میرے آخری خلائی مشن پر میرے عملہ اور میں نے زمین سے کافی دور تک سفر کیا تھا۔ یہ اتنی زیادہ دوری تھی کہ جتنی گزشتہ نصف صدی میں کی ہوگی۔ انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ موجودہ وقت میں دوسرے خلائی عہد کی شروعات ہے۔ ایسے میں مینوفیکچرنگ، بایو ٹیکنالوجی، کھدائی اور شاید توانائی کے نئے ذرائع کے لیے کامیابی کے بہت سے امکانات ہیں۔

واضح ہو کہ امریکی ارب پتی صنعت کار جیریڈ کو خلا میں چلنے والے پہلے غیر پیشہ ور خلائی مسافر کا اعزاز حاصل ہے۔ پہلے خلائی مشن کے علاوہ 2021 میں انہوں نے زمین کا چکر لگانے والی پہلی پرائیویٹ اسپیس جیٹ فلائٹ میں ٹیم مینجمنٹ اور قیادت کی تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/r4xFNZu

اتوار، 17 نومبر، 2024

وی پی این کے استعمال پر پاکستانی اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ، غیر رجسٹرڈ استعمال کو گناہ قرار دیا

پاکستان میں مذہبی معاملات سے متعلق ملک کے اعلیٰ مشاورتی ادارے نے ایک فرمان جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ممنوعہ مواد دیکھنے کے لیے استعمال ہونے والا ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) اسلامی قانون کے خلاف ہے۔ پاکستانی حکام نے 15 نومبر کو فائر وال تعینات کرنے اور انٹرنیٹ کی نگرانی بڑھانے کے ساتھ ساتھ صارفین کو وی پی این پی ٹی اے کے ساتھ رجسٹر کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت نے یہ اقدام سائبر سکیورٹی کو مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اقدام کے طور پر اٹھایا ہے۔

وی پی این کے استعمال پر اسلامی نظریاتی کونسل کا فتویٰ جاری کرنے کی اصل وجہ سامنے آئی ہے۔ کونسل نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی ٹیکنالوجی کا استعمال غیر اخلاقی یا غیر قانونی مقاصد کے لیے کرنا اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ کونسل کے صدر راغب نعیمی نے کہا کہ وی پی این کا استعمال گناہ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال غلط معلومات پھیلانے، دہشت گردی کی حمایت اور سماج میں انتشار کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرتی ڈھانچے پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات سماج میں اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے کے مترادف ہیں۔

وی پی این کا غلط استعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ معاشرتی اخلاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کا سبب بن رہا ہے۔ کونسل نے یہ بھی کہا کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال معاشرتی بگاڑ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے عوامی زندگی میں انتشار اور بے راہ روی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق، وی پی این کے ذریعے مختلف غیر قانونی سرگرمیاں سرانجام دی جا رہی ہیں جو اسلامی معاشرت کے اصولوں سے متصادم ہیں۔

وی پی این کے استعمال کے حوالے سے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اسے دہشت گردانہ سرگرمیوں، مالی جرائم اور فحش مواد تک رسائی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت داخلہ نے اسے قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے پی ٹی اے کو غیر قانونی وی پی این کو بلاک کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم، ناقدین کا خیال ہے کہ یہ اقدام آزادی پر متضاد کنٹرول کی علامت ہے، حالانکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی کے لحاظ سے ضروری اور مؤثر ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FHb97jD

ادویات: کم ہوتی تاثیر پر مشترکہ اقدامات کا عہد

اینٹی مائکروبیل رزسٹنس (اے ایم آر) پر دو روزہ چوتھی عالمی وزارتی کانفرنس16 نومبر کو سعودی شہر جدہ میں اس پیچیدہ طبی مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہر شعبے میں قابل ِعمل اقدامات سے متعلق اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ ختم ہوئی۔ اس موقع پر سعودی وزیر صحت فہد الجلاجل نے کہا کہ کانفرنس میں لیے جانے والے فیصلے رکن ممالک اور بین الاقوامی اداروں کو جراثیمی مزاحمت کے خلاف ٹھوس اقدامات میں مدد دیں گے۔ یہ اعلامیہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر 'اے ایم آر' کے حوالے سے منظور کردہ سیاسی اعلامیہ کا تسلسل ہے۔ علاوہ ازیں، سعودی عرب میں 'اے ایم آر' کے حوالے سے آگاہی کا مرکز (ون ہیلتھ لرننگ حب) اور جراثیم کش ادویات تک رسائی اور ان کے انتظام و اہتمام کے مراکز قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کا مقصد ضروری جراثیم کش ادویات اور اس مسلئے سے متعلقہ طبی تشخیص تک رسائی اور عالمی تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا۔

جدہ اعلامیہ میں 'اے ایم آر' پر چار رخی مشترکہ سیکرٹریٹ کے اہم کردار کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ سیکرٹریٹ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یونیپ)، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور جانوروں کی صحت سے متعلق عالمی ادارے (ڈبلیو او اے ایچ) پر مشتمل ہے۔ اس میں ایک نیا 'بائیوٹیک برِج' بنانے کی بات بھی کی گئی ہے جس کی بدولت اس عالمگیر خطرے پر قابو پانےکے لیے تحقیق و ترقی اور اختراع میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

جدہ اعلامیہ کا خیرمقدم کرتے ہوئےیونیپ میں کیمیائی مادوں اور صحت کے شعبے کی سربراہ جیکولین الواریز نے کہا ہے کہ یہ کامیاب کثیرفریقہ طریقہ کار اور مختلف شعبوں کے مشترکہ کام سے حاصل ہونے والے فوائد کی مثال ہے۔ جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ جراثیمی مزاحمت سے نمٹنے اور اس معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کے لیے خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک کے پاس مختلف قسم کی صلاحتیں ہیں۔ کسی کو پیچھے نہیں چھوڑا جا سکتا اور سبھی ممالک کا اکٹھے آگے بڑھنا یقینی بنانا ہو گا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں اضافے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ناصرف روایتی طریقے سے کام لینا ہو گا بلکہ مزید تحقیق کے مواقع تخلیق کرنے اور مسائل کے ماحول دوست اور پائیدار حل نکالنے کی کوشش بھی کرنا ہو گی تاکہ سبھی کو یہ محسوس ہو کہ ان کے پاس خود کو تحفظ دینے کے مواقع موجود ہیں۔

اینٹی مائکروبیل رزسٹنس یا جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہ بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور پیراسائٹ پر اپنا اثر کھو دیتی ہیں۔ چونکہ ادویات کے خلاف مزاحمت اینٹی بائیوٹِکس اور دیگر جراثیم کش علاج کو غیر موثر بناتی ہے اور انفیکشن کے علاج کو مزید مشکل یا ناممکن بنا دیتی ہے اس سے سپر بگ پیدا ہو سکتے ہیں جن کو ادویات کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا جو ان جراثیم کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے لیے پہلا انتخاب ہیں۔ نتیجتاً بیماری کے پھیلاؤ، اس کی شدت میں اضافے، معذوری اور موت کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

قبل ازیں، کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے سنجیدہ صورتحال پر اپنے تجزیہ میں کہا کہ اے ایم آر سے صرف دوائیوں کو کم موثر بنانے کا محض خطرہ نہیں ہے بلکہ اب ایسا ہو رہا ہے۔ جس تشویش پر بات کی جا رہی ہے وہ صرف سپر بگ انفیکشن کی وجہ سے لوگوں کے مرنے کا محض خطرہ نہیں ہے، بلکہ ایک حقیقت ہے کہ ہر سال 13 لاکھ لوگ مر رہے ہیں۔ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں جاری اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس ’کاپ29 ‘ میں شرکت کے بعد سعودی عرب پہنچنے پر ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ اے ایم آر کے خلاف ایکشن بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ موسمیاتی تبدیلی کے تعلق سے کارروائی۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی طرف سے اے ایم آر سے متعلق سیاسی اعلامیہ میں واضح اہداف طے کیے گئے ہیں اور اب اس عہد کو کارروائی میں تبدیل کرنا ہے۔ خاص طور پر کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے اس اعلان پر عمل درآمد کے لیے انہوں نے تین ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ سب سے پہلے، ملکی اور بین الاقوامی دونوں ذرائع سے پائیدار فنانسنگ میں اضافہ۔ دوسرا، تحقیق، ترقی، اور اختراع میں اضافہ اور تیسرا، مناسب استعمال کو یقینی بناتے ہوئے معیاری اینٹی مائکروبیلز تک مساوی رسائی میں اضافہ۔ انہوں نے کہا، اے ایم آر کی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ جراثیم کش ادویات کے نامناسب استعمال سے پھیلتی ہے ۔ لوگوں کے بڑی تعداد میں مرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ان ادویات تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ انہوں نے اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ اے ایم آر پر کارروائی کو تیز کریں، تعاون کا عہد کریں، اور جانوں کی حفاظت کرنے والی ادویات کی حفاظت کریں۔

سعودی وزیر صحت فہد الجلاجیل نے اپنے خطاب میں شرکاء کو متنبہ کیا کہ اے ایم آر زندگی کے تمام پہلوؤں پر گہرا اثر ڈالتی ہے اور صحت عامہ، معاشی استحکام اور عالمی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ یہ چیلنج کوئی سرحد نہیں جانتا اور ہر عمر اور گروہ کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وزارتی میٹنگ میں شریک تمام ممالک اس چیلنج کی شدت سے بخوبی واقف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اے ایم آر سے نمٹنے کے لیے نئے اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا اس ضمن میں 'جدہ اعلامیہ' میں اہم سعودی اقدامات شامل ہیں، جیسے کہ اینٹی مائکروبیل مزاحمت کی حمایت کے لیے ایک عالمی سائنسی کمیٹی کی تشکیل، تحقیق اور ترقی میں مدد کے لیے 'بائیو ٹیکنالوجی پُل' کا قیام، اور ایک مجوزہ علمی مرکز جس کا مقصد اے ایم آر کے بارے میں عوامی بیداری کو بڑھانا ہے۔ سعودی وزیر صحت نے زور دے کر کہا کہ اعلامیہ کانفرنس کی تھیم ، 'اعلان سے عمل درآمد تک' پر مرکوز ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیاسی اعلامیہ میں طے پانے والے معاہدوں کو پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موثر اینٹی بایوٹک کے بغیر ہمیں جدید ادویات کے فوائد سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔ اس قیمتی تحفے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے ۔

اس موقع پر مشرقی بحیرہ روم کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان البالخی نے کہا کہ امن میں اے ایم آر سے نمٹنے کی کوششیں ایک مشکل ایجنڈا ہے، اور جنگ و تنازعات میں یہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ لوگوں کے پاس خود کو محفوظ رکھنے اور جراثیم کش مزاحمت کے لیے افزائش گاہ بنانے سے بچنے کے لیے مناسب حفظان صحت اور صحت کے آلات کی کمی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او ایسے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو اے ایم آر کے پھیلاؤ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور کھلے میں رفع حاجت کے چیلنجوں کو کم کرنا ان میں شامل ہیں۔ دوسری جانب ایف اے او کے ایک اہلکار کے مطابق تقریباً 70 فیصد اینٹی بائیوٹِکس مویشیوں کی پیداوار، آبی زراعت اور پودوں کی پیداوار میں استعمال ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اے ایم آر مسئلے پر قابو پانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے جڑ سے قابو کرنے کی ضرورت ہے۔ لہذا ممالک، کسان، نجی شعبے، تعلیمی ادارے اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو کاشتکاری میں اینٹی مائکروبیلز پر انحصار کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ ہمیں خوراک کی پیداوار کے طریقے تبدیل کر کے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ آج 8 ارب کے مقابلے 2050 تک ہم 10 ارب لوگوں کو خوراک فراہم کرا سکیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bAFXP52

ہفتہ، 16 نومبر، 2024

مصنوعی ذہانت کے ذریعے ابتدائی مراحل میں جگر کی بیماری کی تشخیص ممکن

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے جگر کی خطرناک بیماری مَیٹابولک-ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹوٹک لیور ڈیزیز (ایم اے ایس ایل ڈی) کے ابتدائی مراحل میں تشخیص اب ممکن ہوچکی ہے۔ یہ بات ایک امریکی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔ یہ بیماری جگر میں چربی کے درست انداز میں نہ جم سکنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ مزید خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

ایم اے ایس ایل ڈی جگر کی دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دائمی بیماریوں میں سے ایک ہے، جو اکثر موٹاپے، ذیابیطس اور غیرمعمولی کولیسٹرول جیسی دیگر بیماریوں سے جڑی ہوتی ہے۔ یہ بیماری اکثر بغیر کسی ظاہری علامت کے شروع ہوتی ہے، جس کے باعث اس کا ابتدائی مرحلے میں پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔

امریکہ کی واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز کے ذریعے اے آئی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے 834 مریضوں میں اس بیماری کے نشانات کا پتہ چلایا گیا۔ تاہم، ان میں سے صرف 137 مریضوں کے ریکارڈ ہی مکمل طور پر دستیاب تھے، اور 83 فیصد کیسز میں بیماری کی بروقت تشخیص ممکن نہ ہو سکی۔

تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت جگر کے دیگر مسائل مثلاً فائبروسس، نان-الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی)، اور ہیپاٹوسیلولر کینسر کی تشخیص میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق لِیور میٹنگ کے دوران پیش کی جائے گی، جس کا انعقاد امریکن ایسوسی ایشن فار دی اسٹڈی آف لیور ڈیزیز کے تحت ہوگا۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت جگر کی بیماریوں کی تشخیص میں ایک نیا انقلابی قدم ہے، جو مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/OSdUbpy

جمعہ، 15 نومبر، 2024

اسرو نے مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے ملایا ہاتھ، امریکہ سے لانچ ہوگا ہندوستانی سیٹلائٹ جی سیٹ-20

ہندوستانی خلائی ایجنسی 'اسرو' نے مشہور صنعت کار ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے۔ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے خاص دوست اور دنیا کے امیر ترین کاروباری ایلن مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اگلے ہفتہ کی شروعات میں فالکن 9 راکیٹ سے ہندوستان کے سب سے جدید مواصلاتی سیٹلائٹ جی سیٹ-20 (جی سیٹ این-2) کو خلا میں لے جائے گی۔

اسرو اور اسپیس ایکس کے درمیان کئی سودے ہوئے ہیں۔ جی سیٹ-این2 کو امریکہ کے کیپ کینا ویرل سے لانچ کیا جائے گا۔ یہ 4700 کلوگرام کا سیٹلائٹ ہندوستانی راکیٹوں کے لیے بہت وزنی تھا، اس لیے اسے غیر ملکی کمرشیل لانچ کے لیے بھیجا گیا۔ ہندوستان کا اپنا راکیٹ 'دی باہو بلی' یا لانچ وہیکل مارک-3 زیادہ سے زیادہ 4000 سے 4100 کلو گرام تک کے وزن کو خلائی مدار میں لے جا سکتا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان اب تک اپنے زیادہ وزنی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کے لیے ایرین اسپیس پر منحصر تھا، لیکن حال میں اس کے پاس کوئی بھی چالو راکیٹ نہیں ہے اور ہندوستان کے پاس واحد قابل اعتماد متبادل اسپیس ایکس کے ساتھ جانا تھا کیونکہ یوکرین جنگ کے سبب روس بھی اپنے راکیٹ کو کاروباری طور پر لانچ کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔ اسرو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس سے اپنا سیٹلائٹ بھیجنے کے لیے انہیں اچھی ڈیل ملی ہے۔ اسپیس ایکس اپنے طاقتور راکیٹ فالکن سے ہندوستانی سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجے گا۔

اسرو کے ذریعہ تیار جی سیٹ این-2 سیٹلائٹ 14 سال تک کام کرے گا۔ یہ ایک تجارتی لانچ ہے۔ اس سیٹلائٹ کی مدد سے ہندوستان میں نیٹ ورک بہتر ہوگا اور ہوائی خدمات کے دوران بھی انٹرنیٹ کنکٹیویٹی مل سکے گی۔ ایسا اندازہ ہے کہ جی سیٹ این-2 کی لانچنگ میں فالکن 9 راکیٹ کے اس کمرشیل لانچ پر 6 سے 7 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ایلن مسک کے سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ خدمات میں اسٹار لنک کو لائسنس دینے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/IBFkCra

منگل، 12 نومبر، 2024

کمزور نظر آنے والی تصویر وائرل ہونے پر سنیتا ولیمس کی صحت کے بارے میں وضاحت

خلا میں کئی مہینوں سے پھنسی ہند نژاد امریکی خؒلا باز سنیتا ولیمس کی صحت کو لے کر کافی باتیں ہونے لگی ہیں۔ جب سے ایک تصویر جاری ہوئی ہے جس میں ان کے گال دھنسے ہوئے ہیں اور وہ کافی کمزور دکھائی دے رہی ہیں، تب سے ہی ان کے تئیں لوگوں کی فکر بڑھ گئی ہے۔ اس درمیان خبر ہے کہ خود سنیتا ولیمس نے اپنی صحت کے سلسلے میں اَپڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی طبیعت ٹھیک ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی ایسی تصویر کی وجہ بھی بتائی ہے۔

ہندوستان ٹائمس کی ایک رپورٹ کے مطابق ولیمس نے اپنی تازہ صحت کی وجہ فلوئڈ شفٹس کو بتایا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی صحت کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

منگل کو نیو انگلینڈ اسپورٹس نیٹ ورک کلب ہاؤس کڈس شو سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا "ساتھیوں! خلا میں آپ جانتے ہیں کہ ان کے سر تھوڑے بڑے لگنے لگتے ہیں، کیونکہ فلوئڈس جسم کے ساتھ یکساں طور سے پھیل جاتے ہیں"۔ انہوں نے آگے کہا کہ وہ پہلے کی طرح ہی صحت مند ہیں اور وزن میں بھی کسی طرح کی کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خلا میں طویل وقت تک رہنے کے بعد ان کا وزن بڑھ گیا ہے اور ساتھ ہی جانگھیں بھی تھوڑی بڑھ گئی ہیں۔

ناسا کے ترجمان جمی رسل کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ "ناسا کے سبھی خلاباز کی مستقل طبی جانچ ہوتی ہے، ان کے پاس فلائٹ سرجن ہوتے ہیں جو ان کی نگرانی کرتے ہیں اور ان سبھی کی صحت بہتر ہے۔" حالانکہ ولیمس کے مشن میں سیدھے طور پر شامل رہے ناسا کے ایک ملازم نے دعویٰ کیا تھا کہ خلاباز مسافر کا وزن کافی کم ہو گیا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9H1SpCA

بدھ، 23 اکتوبر، 2024

حکومت کا نیا اسپیم ٹریکنگ سسٹم، فرضی بین الاقوامی کالز کو کرے گا بلاک

نئی دہلی: حکومت ہند نے ایک نیا اسپیم ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا ہے جو ہندوستانی نمبروں کے طور پر ظاہر ہونے والی ان کمینگ بین الاقوامی کالز کی شناخت کر کے انہیں بلاک کر سکتا ہے۔ اس سسٹم کا نام 'انٹرنیشنل ان کمینگ اسپوفڈ کالز پریوینشن سسٹم' ہے، جسے ٹیلی کام کے وزیر جیوترادتیہ سندھیا نے پیش کیا ہے۔

سائبر مجرم ایک نئے طریقۂ واردات میں بین الاقوامی کالز کو ہندوستان کے مقامی نمبر (+91 سے شروع ہونے والا) کے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ کالنگ لائن آئیڈینٹیٹی (سی ایل آئی) کے تحت فون نمبر کا ظاہر ہونا ضروری ہے، مگر مجرم سی ایل آئی میں ہیر پھیر کر کے کال کو ہندوستان سے آئی ہوئی کال کی شکل میں دکھاتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ کال ہندوستان کے باہر سے کی جا رہی ہوتی ہے۔

سائبر مجرم اس طرح کے فرضی مقامی نمبر سے متاثرہ شخص کا اعتماد جیتتے ہیں اور پھر مالی دھوکہ دہی یا دوسرے خطرناک مقاصد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سرکاری اہلکار، قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر یا متاثرہ شخص کے خاندان کا رکن بن کر پیسہ یا ذاتی ڈیٹا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کئی مرتبہ یہ مجرم متاثرہ شخص پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہیں تاکہ اسے گرفتار ہونے کے خوف سے مالی ادائیگی پر مجبور کیا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ فرضی کالوں کا استعمال مالی فراڈ، سرکاری اہلکاروں کے طور پر دھمکانے اور مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کر کے متاثرہ افراد کو لوٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں مجرم فرضی موبائل نمبروں کے ذریعے سیکس ریکٹ میں گرفتاری، ڈرگ اسمگلنگ اور پولیس کی طرف سے دھمکیاں دے کر لوگوں سے پیسے نکلوا چکے ہیں۔

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ نیا سسٹم ایسے جعلی نمبروں کی شناخت کر کے انہیں بلاک کرتا ہے، اس سے پہلے کہ سائبر مجرم متاثرہ شخص تک پہنچ پائیں۔ نئے سسٹم نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں تقریباً 1.35 کروڑ کالوں کی اسپوف کالز کے طور پر شناخت کی اور بلاک کیا، جو آنے والی بین الاقوامی کالوں کا 90 فیصد ہے۔ اس سسٹم کے نفاذ سے انڈین ٹیلی کمیونیکیشن صارفین کو +91 نمبر والی فرضی کالوں میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/8xtgd1l

اتوار، 20 اکتوبر، 2024

عالمی آبی چکر میں عدم توازن

زمین پر زندگی کے لیے پانی ایک لازمی ضرورت ہے اور پانی ہمیشہ حرکت میں رہتا ہے۔ واٹر سائیکل یا آبی چکر زمین کےاندر اور ماحول میں پانی کی حرکت ہے اور اس میں پانی کے بخارات اور ورن (بارش) جیسے عمل شامل ہیں۔ آج ہونے والی بارش شاید دنوں پہلے کسی دور دراز سمندر کاپانی رہی ہو ۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی دریا کا پانی کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی پر برف کی شکل میں رہا ہو۔ پانی فضا میں، زمین پر، سمندر میں اور زیر زمین ہے۔ یہ واٹر سائیکل کے ذریعے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ بدل رہا ہے۔

عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے بخارات کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ بخارات اوسطاً زیادہ بارش کا سبب بنتے ہیں، اور اس صدی کے دوران آب و ہوا کے گرم ہونے پر ان کے اثرات میں اضافہ متوقع ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا مطلب دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کا بدلنا ہے۔ یہ زیادہ شدید موسمی واقعات کا باعث بن رہا ہے جس کے اثرات انسانی صحت پر پڑ سکتے ہیں، پینے کے صاف پانی، خوراک اور پناہ گاہ تک رسائی اور گرمی، خشک سالی یا سیلاب سے نمٹنے کی لوگوں کی صلاحیت کو متاثر کرسکتا ہے۔

زیادہ بخارات کی وجہ سے ہوا میں زیادہ پانی ہوتا ہے لہذا طوفان کچھ علاقوں میں زیادہ شدید بارشیں پیدا کر سکتے ہیں اور سیلاب کا سبب بن سکتے ہیں۔ زیادہ بخارات پانی کو بھاپ میں بدل دیتے ہیں اور کچھ علاقوں میں خشک سالی کا سبب بنتے ہیں۔ خشک سالی کا شکار جگہوں کے اگلی صدی میں مزید خشک ہونے کی توقع ہے۔ اسی طرح، سمندر کی سطح کا گرم پانی سمندری طوفانوں کو تیز کر سکتا ہے، جس سے مزید خطرناک حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ یہ طوفان مستقبل میں مزید طاقتور اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔

دنیا کے زیادہ علاقوں میں گرمی کی لہریں عام ہو گئی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ 2020 کی دہائی تک، سمندر کی سطح ایک صدی پہلے کی نسبت 0.1- 0.2 میٹر (0.30-0.75 فٹ) زیادہ ہو گئی ہے۔ 21ویں صدی میں، اگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج متوقع سطح پر جاری رہا تو سطح سمندر میں 1.1 میٹر (3.6 فٹ) تک اضافے کی توقع ہے۔

سطح سمندر میں اضافہ دو طریقوں یا وجوہات سے ہوتا ہے۔ پہلا، پگھلتے ہوئے گلیشیئرز سے پانی دریاؤں میں بہتا ہے اور سمندر میں شامل ہو جاتا ہے۔ پچھلے 100 سالوں میں پہاڑی گلیشیئرز، آرکٹک گلیشیرز اور گرین لینڈ کی برف کے سائز میں ڈرامائی طور پر کمی آئی ہے۔ دوسرا، سمندر کا پانی گرم ہونے کے ساتھ پھیلتا ہے، اس کے حجم میں اضافہ ہوتا ہے، اس لیے سمندر میں پانی زیادہ جگہ لیتا ہے اور سطح سمندر بلند ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، سمندر کا پانی گرم ہو رہا ہے اور اس میں تیزابیت بڑھ رہی ہے۔ پچھلی چند دہائیوں میں اتھلے سمندروں میں گرم پانی دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی مرجان کی چٹانوں کی موت کا سبب بنا ہے۔ سمندری برف کا سکڑنا ایک اور عنصر ہے جو زیادہ گرمی کا باعث بنتا ہے۔ ہر سال، سمندری برف کی مقدار جو آرکٹک اوقیانوس کا احاطہ کرتی ہے سردیوں میں بڑھتی ہے اور پھر گرمیوں میں اس کے کناروں پر پگھل جاتی ہے۔ لیکن حال ہی میں، گرم درجہ حرارت کی وجہ سے گرمیوں میں زیادہ برف پگھلی ہے اور سردیوں میں برف کم جمی ہے۔

16 اکتوبر 2024 کو شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، دنیا کا آبی چکر انسانی تاریخ میں پہلی بار توازن سے باہر ہوا ہے، جو پانی کی بڑھتی ہوئی تباہی کو ہوا دے رہا ہے جو معیشتوں، خوراک کی پیداوار اور زندگیوں کو تباہ کر دے گا۔ گلوبل کمیشن آن دی اکنامکس آف واٹر یا پانی کی اقتصادیات پر عالمی کمیشن کے ماہرین نے اس عدم توازن کی وجہ کئی دہائیوں کی اجتماعی بدانتظامی اور پانی کی کم قدر کو قرار دیا۔ یہ کمیشن نیدرلینڈز کی حکومت سے وابستہ ہے اور اسے آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ یا اقتصادی تعاون اور ترقی کی تنظیم نے سہولت فراہم کی ہے، جو دنیا کے امیر ترین ممالک کا ایک گروپ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے اجتماعی مستقبل کے لیے میٹھے پانی کی دستیابی پر مزید اعتماد نہیں کر سکتے۔ آبی چکر میں رکاوٹیں پہلے ہی مصائب کا باعث بن رہی ہیں۔ تقریباً 3 ارب لوگوں کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 1,000 بچے روزانہ غیر محفوظ پانی اور صفائی ستھرائی سے متعلق بیماریوں سے مرتے ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ کھانے پینے کے نظام میں تازہ پانی ختم ہو رہا ہے اور شہر دھس رہے ہیں کیونکہ ان کے نیچے موجود پانی خشک ہو رہا ہے۔ اور یہ مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ دنیا کی خوراک کی پیداوار کا نصف سے زیادہ حصہ ایسے علاقے میں ہے جہاں پانی کی سپلائی میں کمی متوقع ہے۔ فوری کارروائی کے بغیر اس کے نتائج اور بھی تباہ کن ہوں گے۔ رپورٹ میں موجودہ طرز عمل میں تبدیلی نہ ہونے کی صورت میں شدید اقتصادی اثرات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان مسائل کے مشترکہ اثرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے زیادہ آمدنی والے ممالک کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرح 2050 میں اوسطاً 8 فیصد اور کم آمدنی والے ممالک میں 10 سے 15 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے شریک مصنف جوہان راکسٹروم نے کہا کہ بارش تمام میٹھے پانی کا ذریعہ ہے اور اس پر مزید بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں 'نیلے پانی'، جیسے جھیلوں، دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی اور 'سبز پانی' یا مٹی اور پودوں میں موجود نمی کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ سبز پانی کی فراہمی کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا ہے لیکن یہ آبی چکر کے لیے اہم ہے کیونکہ جب پودے پانی کے بخارات چھوڑتے ہیں تو یہ فضا میں واپس آجاتا ہے، جو زمین پر ہونے والی تمام بارشوں کا نصف حصہ پیدا کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آبی چکر میں رکاوٹیں موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ گہرے طور پر جڑی ہوئی ہیں۔ سبز پانی کی فراہمی پودوں کی مدد کے لیے ضروری ہے جو زمین کو گرم کرنے والے کاربن کو ذخیرہ کر سکتی ہے۔ لیکن گیلی زمینوں اور جنگلات کو تباہ کرکے انسان اسے نقصان پہنچاتے ہیں، جس کے سبب یہ کاربن سنکس ختم ہو رہے ہیں اور گلوبل وارمنگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نتیجے میں ، موسمیاتی تبدیلی سے خشکی بڑھ رہی ہے، نمی کم کر رہی ہے اور آگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

انگلینڈ کی ریڈنگ یونیورسٹی میں کلائمیٹ سائنس کے پروفیسر رچرڈ ایلن نے کہا کہ یہ رپورٹ عالمی آبی چکر میں انسانی وجہ سے ہونے والی رکاوٹ کی ایک سنگین تصویر پیش کرتی ہے، یہ سب سے قیمتی قدرتی وسیلہ ہے جو بالآخر ہماری روزی روٹی کو برقرار رکھتا ہے۔ انہوں نے سی این این کو بتایا، قدرتی وسائل کے بہتر انتظام اور سیارے کو گرم کرنے والی آلودگی میں بڑے پیمانے پر کمی کے ذریعے ہی بحران سے نمٹا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں عالمی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ آبی چکر کو ایک 'مشترکہ بھلائی' کے طور پر تسلیم کریں اور اسے اجتماعی طور پر حل کریں۔ ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں، نہ صرف سرحدوں پر پھیلی جھیلوں اور دریاؤں کے ذریعے، بلکہ فضا میں موجود پانی کی وجہ سے بھی، جو بہت زیادہ فاصلہ طے کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ملک میں کیے گئے فیصلے دوسرے ملک میں بارش میں خلل ڈال سکتے ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر جنرل اور رپورٹ شائع کرنے والے کمیشن کی شریک چیئرمین، نگوزی اوکونجو-ایویلا نے کہا کہ پانی کا عالمی بحران ایک المیہ ہے لیکن یہ پانی کی معاشیات کو تبدیل کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔ پانی کی صحیح قدر کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کی کمی اور اس کے بہت سے فوائد کو پہچانا جا سکے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/UrtRgiD

جمعرات، 10 اکتوبر، 2024

زمین سے ٹکرایا شمسی طوفان، امریکی ایجنسیاں پریشان، بلیک آؤٹ کا خطرہ

لاس اینجلس: یو ایس نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کے مطابق جمعرات کو ایک طاقتور شمسی طوفان زمین سے ٹکرا گیا۔ ایجنسیوں کو خدشہ ہے کہ یہ سمندری طوفان ہیلن اور ملٹن سے نمٹنے کے لیے کی جا رہی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

این او اے اے کے اسپیس ویدر پریڈکشن سینٹر (ایس ڈبلیو پی سی) کے مطابق، منگل کی شام کو سورج سے کورونل ماس ایجیکشن (سی ایم ای) پھوٹ پڑا اور جمعرات کی صبح 11:15 (ای ایس ٹی) پر تقریباً 1.5 ملین میل فی گھنٹہ (2.4 ملین کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے زمین پر پہنچا۔

نیوز ایجنسی نے ایس ڈبلیو پی سی کے حوالے سے بتایا کہ طوفان جی-4 (شدید) سطح پر پہنچ گیا۔ اسے جی-4 جیو میگنیٹک اسٹارم واچ کے طور پر درجہ بند کیا گیا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کو جی-4 یا اس سے زیادہ جیو میگنیٹک اسٹارم واچ فعال رہا۔ ایس ڈبلیو پی سی جیو میگنیٹک طوفان کے حالات کے بارے میں انتباہات جاری کرتا ہے۔

این او اے اے کے مطابق، یہ طوفان ہیلن اور ملٹن سمندری طوفانوں کے لیے جاری بحالی کی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، جس میں ریڈیو بلیک آؤٹ، پاور گرڈ پر دباؤ، اور جی پی ایس سروسز کی تنزلی شامل ہیں۔

سی ایم ای سورج کے کورونا سے مقناطیسی میدانوں اور پلازما ماس کے بڑے پیمانے پر اخراج ہیں۔ جب یہ زمین کی طرف آتا ہے تو یہ زمین کے مقناطیسی میدان میں بڑے خلل پیدا کرتا ہے جسے جیو میگنیٹک طوفان کہا جاتا ہے۔ اس سے ریڈیو بلیک آؤٹ اور بجلی کی کٹوتی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/y25fRve

منگل، 1 اکتوبر، 2024

بیرون ملک جانے کے بعد 30 ہزار ہندوستانی ’سائبر غلامی‘ کا شکار، زیادہ تر کا پنجاب، مہاراشٹر اور تمل ناڈو سے تعلق

نئی دہلی: سائبر فراڈ کے حوالے سے ایک بڑی معلومات سامنے آئی ہے، سیاحتی ویزا پر گئے تقریباً 30 ہزار ہندوستانی واپس نہیں آئے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو ’سائبر غلام‘ بنایا گیا ہے اور ان پر دباؤ ڈال کر سائبر جرائم کیے جا رہے ہیں۔

وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والے بیورو آف امیگریشن (بی او آئی) نے ایک ڈیٹا تیار کیا، جس کے مطابق جنوری 2022 سے مئی 2024 کے درمیان 73138 لوگوں نے ہندوستان سے وزیٹر ویزے پر کمبوڈیا، تھائی لینڈ، میانمار اور ویتنام کا سفر کیا۔ ان میں سے 29466 ابھی تک ہندوستانی واپس نہیں آئے ہیں۔ اس میں 20-39 سال کی عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً نصف یعنی 17115 ہے۔ یہ اطلاع انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے ملی ہے۔ اس میں 90 فیصد لوگ مرد ہیں۔

ہندوستان واپس نہ آنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب (3667)، مہاراشٹر (3233) اور تمل ناڈو ریاست (3124) سے ہے۔ دوسری ریاستوں سے جانے والوں کی تعداد کافی کم ہے۔ اطلاعات کے مطابق شبہ ہے کہ ان لوگوں پر ہندوستان میں رہنے والے لوگوں کے ساتھ سائبر فراڈ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ ان لوگوں کو نوکریوں کا لالچ دے کر سائبر غلام بنایا گیا ہے۔

سائبر غلامی کے تحت کام کرنے والے لوگوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اس میں انٹرنیٹ پر دستیاب پلیٹ فارمز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہندوستانی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ ہندی اور مقامی زبان بول سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ دھوکہ دہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اب تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ان لوگوں کی تفصیلات کی تصدیق اور جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں ہندوستان میں سائبر فراڈ کے کئی کیسز سامنے آئے ہیں، جہاں لوگوں کو مختلف دھوکے دے کر لوٹا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/5nTtpvL