منگل، 25 جون، 2024

خلائی تحقیق کے میدان میں چین نے رقم کی تاریخ، چاند کے قطب جنوبی سے نمونے لانے والا پہلا ملک بنا

چینی خلائی مشن چینگ،ای-6 کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس لوٹ آیا ہے۔ مشن اپنے ساتھ چاند کے قطب جنوبی سے قمری مٹی اور چٹانوں کے نمونے لے کر آیا ہے، جس کے ساتھ چین چاند کے قطب جنوب سے نمونے زمین پر لانے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

چینگ،ای-6 مشن کا ری انٹری کیپسول اندرونی منگولیا کے خطے سیزوانگ بینر میں نمونوں کے ساتھ لینڈ کر گیا۔ چاند کے قیمتی نمونوں کے ساتھ زمین پر واپسی چینی خلائی پروگرام کے لیے بہت بڑی پیشرفت ہے۔ خیال رہے کہ 3 مئی کو چینگ ای مشن چاند کی جانب روانہ ہوا تھا اور 2 جون کو چاند کی اس سائیڈ پر اترا جو زمین سے کبھی نظر نہیں آتی۔

رپورٹ کے مطابق چینگ،ای-6 مشن کا لینڈر چاند کے قطب جنوبی کے شمال مشرقی خطے میں واقع پول ایٹکن بیسن پر لینڈ ہوا اور 2 دن تک وہاں کی سطح اور چٹانوں سے نمونے جمع کرتا رہا۔ نمونے جمع کرنے کے بعد مشن کے لینڈر نے چاند کی سطح سے پرواز کر کے چاند کے مدار میں موجود آربٹر سے جڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد مشن نے زمین پر واپسی کا سفر شروع کیا اور 20 دنوں میں یہ مکمل کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ پہلی بار ہے جب چاند کے تاریک حصے سے نمونوں کو زمین پر لایا گیا ہے۔ اس سے پہلے امریکہ، سوویت یونین اور چین کے مشن چاند سے نمونے زمین پر لا چکے ہیں لیکن یہ تمام اس سطح سے نمونے لائے تھے جو زمین سے نظر آتی ہے۔ چینگ،ای-6 کے ذریعے زمین پر واپس لائے گئے نمونوں سے چاند اور زمین کی ابتدائی تاریخ سے جڑے راز جاننے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کے مطابق ان نمونوں سے یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ چاند کے بننے کا عمل کب شروع ہوا تھا۔

چینگ،ای-6 مشن کے سے ہٹ کر بھی چین کی جانب سے رواں دہائی کے دوران کئی مشنز چاند پر بھیجے جائیں گے، جن میں چینگ،ای-7 روبوٹیک مشن کو چاند کے قطب جنوبی پر بھیجا بھی شامل ہے۔ یہ مشن وہاں برف کے آثار دریافت کرے گا جبکہ خطے کے ماحول اور موسم کی جانچ پڑتال بھی کرے گا۔ چینگ،ای-8 مشن سے چینگ،ای مشن کا اختتام ہوگا جو وہاں ممکنہ طور پر ریسرچ اسٹیشن کے قیام کے لیے بھیجا جائے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/rh2f90O

جمعرات، 20 جون، 2024

امریکہ میں روسی کمپنی کسپرسکی کے اینٹی وائرس سافٹ ویئر پر پابندی عائد

واشنگٹن: امریکہ نے ماسکو میں قائم سائبر سیکورٹی کمپنی کسپرسکی کے بنائے گئے اینٹی وائرس سافٹ ویئر کی فروخت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ تجارت نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ امریکہ میں کمپنی کی کارروائیاں ’روسی حکومت کی جارحانہ سائبر صلاحیتوں اور کسپرسکی کے آپریشنز پر اثر انداز ہونے یا اس کی ہدایت کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے‘ قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہیں۔

بیان میں کہا گیا، ’’کسپرسکی اب معمول کی دیگر سرگرمیوں کے علاوہ امریکہ میں اپنا سافٹ ویئر فروخت نہیں کر سکے گی اور نہ ہی اسے پہلے سے استعمال میں آنے والے سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔‘‘

محکمہ نے کہا کہ کسپرسکی کے وسیع پیمانے پر انسٹال کردہ اینٹی وائرس سافٹ ویئرز کے ذاتی اور پیشہ ور صارفین کو خطرات کی وجہ سے متبادل تلاش کرنا چاہئے۔

یو ایس سکریٹری آف کامرس جینا ریمنڈو نے کہا، ’’روس نے بارہا یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ کسپرسکی لیب جیسی روسی کمپنیوں کا استحصال کرنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتا ہے، تاکہ وہ حساس امریکی معلومات کو جمع کر سکے اور اسے ہتھیار بنا سکے۔ ہم امریکی قومی سلامتی اور امریکی عوام کی حفاظت کے لیے اپنے پاس موجود ہر آلے کا استعمال جاری رکھیں گے۔‘‘

خیال رہے کہ امریکہ میں کسپرسکی سافٹ ویئر کی فروخت پر 20 جولائی سے پابندی عائد کر دی جائے گی اور روس کی یہ ملٹی نیشنل کمپنی 29 ستمبر تک موجودہ صارفین کو سافٹ ویئر اپ ڈیٹ فراہم کر سکے گی۔ کسپرسکی کا سافٹ ویئر صارفین کو ٹروجن ہورس، اسپائی ویئر اور دیگر سائبر خطرات سے بچانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

امریکہ میں سرکاری آلات پر اس کی تنصیب پر 2017 سے پابندی عائد ہے۔ جرمنی میں بھی وفاقی دفتر برائے انفارمیشن سیکورٹی نے سافٹ ویئر کے استعمال کے خلاف خبردار کیا ہے۔ تاہم، کسپرسکی نے اس کی مصنوعات سے کوئی طرح کا خطرہ لاحق ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک نجی عالمی سائبر سیکورٹی کمپنی ہے جس کا روسی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/yYxsXQj

ہفتہ، 15 جون، 2024

جوہری توانائی کے بغیر کاربن سے چھٹکارا ناممکن

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں 2023 کی اقوام متحدہ کی آب و ہوا کی کانفرنس (کاپ 28) میں جوہری توانائی کی شبیہہ کو اس وقت تقویت ملی، جب 198 ممالک نے جوہری توانائی کو کم اخراج والی ٹیکنالوجیز کی فہرست میں شامل کیا، جن کو بڑھانے کی ضرورت ہے اگر دنیا فوسل فیول(جیواشم ایندھن) پر انحصار ختم کرنا چاہتی ہے ۔ اس کانفرنس سے جوہری توانائی کی ضرورت اور افادیت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا۔ لیکن جوہری پاور پلانٹس میں توانائی پیدا کرنے کے عمل سے پیدا ہونے والا انتہائی تابکار فضلہ، اور خرچ شدہ ایندھن (جوہری توانائی کے حصول میں صرف ہونے والا ایندھن) کا مسئلہ وقتاً فوقتاً تشویش کا باعث رہا ہے۔

خرچ شدہ ایندھن کے محفوظ انتظام سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے پہلے، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے جوہری توانائی کی نمو ، اور اس توانائی کو سمجھنے میں کاپ28 کے اعلامیہ سے جو فرق پڑ سکتا ہے پر گفتگو کرتے ہوئے ’اقوام متحدہ خبر نامہ‘ کو بتایا کہ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی کے حصول میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ جوہری توانائی کو عام کیے بغیر کاربن کے اخراج پر قابو پانا ممکن نہیں، تاہم اس مقصد کے لیے حکومتوں کو اس توانائی سے وابستہ منفی تاثر کو دور کرنا ہو گا۔ جوہری توانائی کئی طرح کی قابل تجدید توانائی سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔ دنیا کو اصل خطرہ معدنی ایندھن سے ہے جو کرہ ارض کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔

اگرچہ جوہری توانائی زیادہ تر بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن اس کے بارے میں تاثر کچھ اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ 1985 میں موجودہ یوکرین کے علاقے چرنوبل اور 2011 میں جاپان کے شہر فوکوشیما میں پیش آنے والے جوہری حادثات ہیں۔ علاوہ ازیں، یوکرین پر روس کے حملے کے بعد وہاں ژیپوریژیا جوہری پلانٹ کو لاحق خطرات نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا ہے۔

گروسی کے مطابق عوامی تاثر، پالیسی اور جوہری توانائی کے بارے میں سمجھ بوجھ کے حوالے سے دبئی اعلامیے کی بہت اہمیت ہے۔ جوہری توانائی ماحول دوست توانائی کے حصول میں پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آج دنیا میں جتنی ماحول دوست اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سے پاک توانائی پیدا ہو رہی ہے اس میں ایک تہائی سے زیادہ حصہ جوہری توانائی کا ہے۔ آج یورپ میں پیدا ہونے والی مجموعی توانائی میں نصف حصہ جوہری توانائی کا ہے۔ اسی لیے ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی سال تک چرنوبل اور پھر فوکوشیما کی وجہ جوہری توانائی کے بارے میں بہت سی غلط اطلاعات عام رہی ہیں جنہوں نے اس توانائی کے فروغ کی راہ میں رکاوٹ بھی پیدا کی ہے۔

اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں بھی جوہری توانائی کے خلاف مزاحمتی رویہ دیکھنے کو ملا ہے حتیٰ کہ اسے سرے سے مسترد بھی کیا گیا ہے۔ اسی لیےکاپ 28میں جوہری توانائی کو قابل تجدید توانائی قرار دیا جانا ایک بڑا قدم تھا۔ اس موقع پر بہت سے اہم ممالک نے اپنی ہاں پیدا ہونے والی توانائی میں جوہری توانائی کی شرح تین گنا بڑھانے کے وعدے بھی کیے۔ گروسی نے اسے حقیقت پسندی سے تعبیر کیا۔ علاوہ ازیں موسمیاتی تبدیلی پر سائنس دانوں کے بین الاقوامی پینل نے اعتراف کیا ہے کہ جوہری توانائی کے بغیر 2050 تک کاربن کا خاتمہ ممکن نہیں ہو گا۔ اسی لیے جوہری توانائی کی پیداوار بڑھے گی اورآئی اے ای اے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنائے گا کہ یہ اضافہ محفوظ طریقے سے ہو اور اس کے نتیجے میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔

جوہری توانائی کے بارے میں پھیلی غلط اطلاعات کی مثال دیتے ہوئے گروسی نےکہا کہ ایک عام سوچ یہ ہے کہ فوکوشیما جوہری حادثے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اس وقت جاپان میں آنے والے سونامی سے ہزاروں افراد ہلاک ہوئے لیکن تابکاری سے ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اعدادوشمار کے مطابق جوہری توانائی کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد دیگر طرح کی قابل تجدید توانائی کے مقابلے میں کہیں کم ہیں۔ گروسی نے دلیل دی کہ بہت سے لوگ فضائی حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں لیکن لوگ جہازوں پر سفر کرنا ترک نہیں کرتے۔ لہذا حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا جوہری توانائی پر 100 فیصد انحصار کرنے لگے، بلکہ بیک وقت کئی طرح کی توانائی سے موثر طور پر کام لینا ہوگا جس میں جوہری توانائی کو بنیادی حیثیت حاصل ہو۔

گروسی نے اعتراف کیا اگرچہ اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنسوں میں ایک اہم مسئلہ ترقی پذیر ممالک کو قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے مالی مدد دینا ہے لیکن جوہری بجلی گھروں کے لیے خطیر رقم درکار ہے اور اس وقت عالمی سطح پر جوہری توانائی کے لیے مالیاتی وسائل کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تاہم اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ان پالیسیوں پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ گروسی کے مطابق ہندوستان سے چین، ارجنٹائن سے برازیل، میکسیکو، بنگلہ دیش اور جنوبی افریقہ تک دنیا کے جنوبی حصے میں جوہری توانائی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ افریقہ کے متعدد ممالک بھی اس میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ ماڈیولر ری ایکٹروں کی بدولت یہ توانائی ان ممالک کے لیے زیادہ سستی ہے۔

آئی اے ای اے جوہری توانائی کے فوائد اور اس کے امکانات کی بات کرتا ہے۔ ساتھ ہی ادارہ جوہری سلامتی کا بھی ذمہ دار ہے۔ دونوں ذمہ داریاں بظاہر ایک دوسرے سے متضاد ہیں لیکن گروسی اسے کسی اور زاویے سے دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یوکرین میں جوہری تنصیبات (ژیپوریژیا جوہری پاور پلانٹ) پر قبضہ ہو چکا ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ دراصل جنگ ہے جو اس پلانٹ کے ارد گرد ہو رہی ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت تقریباً 440 جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں جن میں کبھی کوئی مسئلہ نہیں آیا۔ اسی لیے آئی اے ای اے یوکرین میں کسی حادثے سے بچنے کے لیے اتنی فعال رہی ہے۔ کسی بھی اہم صنعتی سرگرمی کی طرح جوہری توانائی کا حصول بھی خطرات مول لینے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ جوہری فضلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ اسے ٹھکانے لگانے کا اچھی طرح انتظام کیا جاتا ہے اور اس کی مقدار محدود ہوتی ہے۔ تجارتی بنیادوں پر 70 سال سے جاری کام میں کبھی اس فضلے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ اس کے بجائے معدنی ایندھن کرہ ارض کو لاحق بہت بڑے خطرات کا سبب ہے۔

آئی اے ای اےکی لیبارٹریوں میں سائنسی اور جوہری تحقیق جاری ہے۔ ایجنسی اونکولوجی اور ریڈیو تھراپی جیسے شعبوں میں ترقی پذیر ممالک کی جوہری ٹیکنالوجی سے کام لینے کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مدد مہیا کرتی ہے۔ جوہری توانائی ایریڈی ایشن (شعاع ریزی) ٹیکنالوجی کے ذریعے غذائی تحفظ بھی مہیا کر رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی فصلوں کو گلنے سڑنے سے بچانے، خشک سالی کا مقابلہ کرنے والے بیجوں کی تیاری، کیڑے مکوڑوں کا خاتمہ کرنے اور زکا وائرس یا ملیریا کے خطرات کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ کووڈ۔19 وبا کے بعد جرثوموں اور جانوروں سے پھیلنے والے وائرس اور امراض کی بروقت نشاندہی کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ آئی اے ای اے کا دوسرا رخ ہے جہاں جوہری توانائی سے ترقی کے کام میں مدد لی جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/aPqjstg

ہفتہ، 8 جون، 2024

چین کا قمری مشن واپسی سفر پر روانہ

چین کا بغیر عملے کاچینگ 6 مشن مسلسل تاریخ رقم کر رہا ہے۔ اس نے چاند کے دور یا تاریک پہلو جو زمین سے نظر نہیں آتا، سے پہلی مرتبہ نمونے اکٹھے کیے ہیں اور ان نمونوں کو مدار میں خلائی جہاز کے درمیان منتقل کیا ہے۔ یہ منتقلی نمونوں کے سفر کے اگلے مرحلے یعنی زمین پر واپسی کے لیے ضروری تھی ۔ مشن کے دو خلائی جہازوں نے 6 جون کو قمری مدار میں ڈوکنگ کی اور حاصل کئے گئے نمونے زمین پر واپسی کے ماڈیول میں کامیابی سے منتقل کیے۔ ’چینگ 6 پراب‘ کے ایسنڈر اور اس کے آربیٹر ماڈیول کی کامیاب ملاقات اور ڈوکنگ مقامی وقت دوپہر 2:48 بجے ہوئی۔ چائنا نیشنل اسپیس ایڈمنسٹریشن (سی این ایس اے) کے مطابق چاند کے نمونے کے کنٹینر کی محفوظ منتقلی 3:24 بجے تک مکمل ہو گئی۔ یہ دوسرا موقع تھا جب کسی چینی خلائی جہاز نے چاند کے مدار میں ملاپ اور ڈوکنگ حاصل کی تھی۔ اس سے قبل چینگ 5 نے یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ چینگ 6 ڈوکنگ کی فوٹیج سی این ایس اے نے اپنے ویبو اکاؤنٹ پر شائع کی اور سوشل میڈیا (ٹویٹر) کے ذریعے شیئر کی ہے۔

سی این ایس اے کا تازہ ترین مشن تاریخ رقم کرنے والا کوئی پہلا مشن نہیں ہے۔ 2 جون کوچینگ 6 غیر دریافت شدہ اپولو بیسن کریٹر میں اترا، جو کہ چاند کے دور کی طرف بڑے جنوبی قطب ایٹکن بیسن کے اندر واقع ہے۔ اس وقت چاند کے دور یا تاریک سمت کی طرف سافٹ لینڈنگ کرنے والا یہ صرف دوسرا مشن بن گیا۔ اس مشکل آپریشن کو انجام دینے کا پچھلا مشن چینگ4 روبوٹک لینڈر اور روور تھا - یعنی اب تک، چین واحد ملک ہے جس نے چاند کے دور یا تاریک سمت پر کامیابی سے سافٹ لینڈنگ کی ہے۔

چینگ 6 راکٹ - جو مشن کے لینڈر کو بھی چاند کی سطح پر لے گیا - 4 جون کی صبح نمونے حاصل کرنے کے بعد چاند کے گرد مدار میں داخل ہوا۔ اس کے بعد، یہ مدار کے تقریباً 9.3 میل (15 کلومیٹر) کے فاصلے پر پہنچا۔ ایسنڈر ( نمونہ لے جانے والے راکٹ) اور آربیٹر کے درمیان وزن کے وسیع فرق کی وجہ سے ملاقات اور ڈوکنگ کے دوران دونوں خلائی جہازوں کے درمیان ٹکراؤ سے بچنے کے لیے بہت احتیاط برتنی پڑی۔

سی این ایس اے کے مطابق دونوں خلائی جہازوں نے ملاقات اور ڈوکنگ کے لئےایک 'ہینڈ شیک' اور 'ہولڈ ٹائیٹ' طریقہ اپنایا جسے مکمل ہونے میں تقریباً 21 سیکنڈ لگے۔ کیپچر کے لیے صرف 1 سیکنڈ کا استعمال کیا جاتا ہے، 10 سیکنڈ دونوں خلائی جہاز کی سیدھ کو درست کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، اور آخری 10 سیکنڈ دونوں کو ایک ساتھ لاک کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ملاقات اور ڈوکنگ مکمل کرنے کے بعد، ایسنڈر نے چاند کی مٹی کا نمونہ منتقل کیا۔ منتقلی کے طریقہ کار کی مدد سے نمونہ کا کنٹینر 200 سے 300 ملی میٹر چوڑے ایک تنگ چینل سے گزرا جسے ریٹرنر نےپکڑ لیا۔ نمونے کی منتقلی کو مکمل کرنے کے بعد، ایسنڈر الگ کر دیا گیاجب کہ دوسرا حصہ آربیٹر چاند کے گرد پرواز کرتا رہے گا، زمین کے گرد مدار میں منتقل ہونے کے لیے مناسب موقع کے انتظار میں۔ چاند کے گرد انتظار کا یہ وقت تقریباً 14 دن تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ ایک بار زمین کا چکر لگانے کے بعد، چینگ 6 آربیٹر نمونہ ریٹرنر کینسٹر کو بھیج سکتا ہے، جس کے 25 جون کو پیراشوٹ کے ذریعے چین کے اندرونی منگولیا کے ریگستانوں میں زمین پر واپس آنے کی امید ہے۔

سائنسی برادری کا ردعمل

لیسٹر یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن بارسٹو نے کہا کہ یہ ایک بہت اہم کامیابی ہے۔ صرف امریکہ اور روس نے چاند سے نمونے برآمد کیے ہیں، لینڈنگ اور پھر ٹیک آف۔ یہ چین کے خلائی پروگرام میں ایک متاثر کن صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ چاند سے اڑان بھرنا ایک تکنیکی کارنامہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ مشکل ہے جب یہ کارنامہ چاند کے دور یا زمین سے اس کی مخالف سمت سے کیا جائے۔ مانچسٹر یونیورسٹی کے ڈاکٹر رومین ٹارٹیز نےاس بات سے اتفاق کیا اور کہا اب تک، چینگ 6 منصوبوں کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ بہت پرجوش ہے کیونکہ ہر قدم ہمیں ان نمونوں کو زمین پر واپس لانے کے قریب لے جارہا ہے۔ امید ہے کہ ان نمونوں کا گہرا مطالعہ سائنسدانوں کو چاند کے نصف کرہ کے بارے میں دیرپا اسرار کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو مستقل طور پر خلا میں رہتا ہے۔ چاند کا دور کا حصہ - جسے کبھی کبھی 'ڈارک سائیڈ' کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ زمین سے نظر نہیں آتا ہے – قیاس کیا جاتا ہے کہ یہ تحقیق کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’چینگ 6 پراب‘ کے ذریعے واپس لائے گئے نمونے چاند اور نظام شمسی کی تشکیل اور ارتقاء کے بارے میں بے مثال معلومات فراہم کر سکتے ہیں، اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ چاند کے قریب اور دور سمتوں کے اطراف اتنے مختلف کیوں ہیں، اور سراغ فراہم کرتے ہیں کہ زمین زندگی کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔ بارسٹو نے کہا، وہ نہیں جانتے کہ چین نمونے شیئر کرنے کا کوئی منصوبہ ہے، لیکن پر امید ہیں کہ برطانیہ کو ان پر کام کرنے کا موقع ملے گا۔ یہ مریخ سے نمونے کی واپسی کے ہمارے منصوبوں کے ساتھ بہت اچھا رہے گا۔ ٹارٹیز نے کہا کہ وہ اور مانچسٹر یونیورسٹی میں ان کے ساتھی بھی چینگ 6 کے نمونوں پر کام کرنے کی امید کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بیجنگ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک بین الاقوامی کنسورشیم میں شامل تھے تاکہ چاند کے نمونوں کا مطالعہ کیا جا سکے جو چین کے پہلے چاند مشن، چینگ 5 کے ذریعے واپس آئے تھے۔

سائنسدانوں نے خبردار کیاہے کہ چینگ 6 مشن ابھی تک نامکمل ہے، اسے کامیاب اور مکمل اسی صورت قرار دیا جا سکتا ہےجب چاند کے نمونے لے کر آنے والا کنٹینر 25 جون کے قریب زمین پر واپس آئے گا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/DryAK3e

اتوار، 2 جون، 2024

واٹس ایپ نے اپریل میں ہندوستان میں 71 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس بند کر دئے

نئی دہلی: واٹس ایپ نے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اپریل کے مہینے میں ہندوستان میں 71 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کر دئے۔ کمپنی نے ہفتے کے روز کہا، ’’بین کئے گئے 7182000 واٹس ایپ اکاؤنٹس میں سے 1,302,000 کو صارفین کی جانب سے کوئی رپورٹ موصول ہونے سے پہلے ہی فعال طور پر بلاک کر دیا گیا تھا۔‘‘

خیال رہے کہ میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ کے ہندوستان میں 55 کروڑ سے زیادہ صارفین ہیں۔ اسے ملک بھر سے 10,554 شکایات موصول ہوئیں اور جن پر کارروائی کی گئی ان کی تعداد صرف چھ تھی۔ نئے انڈین آئی ٹی رولز 2021 کے تحت اپنی ماہانہ تعمیل رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ کو ملک میں شکایت اپیلاٹ کمیٹی سے بھی دو آرڈر موصول ہوئے اور اس نے دونوں کی تعمیل کی۔

کمپنی نے کہا کہ ’’ہم اپنے کام میں شفافیت برقرار رکھیں گے۔ ہم مستقبل کی رپورٹس میں اپنی کوششوں کے بارے میں معلومات شامل کریں گے۔‘‘

واضح رہے کہ مارچ میں واٹس ایپ نے ہندوستان میں 79 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مارچ میں پلیٹ فارم کو ریکارڈ 12,782 شکایات موصول ہوئیں اور ان میں سے 11 پر کارروائی کی گئی۔

کمپنی ان کوششوں کی نگرانی کے لیے انجینئرز، ڈیٹا سائنسدانوں، تجزیہ کاروں، محققین، اور قانون کے نفاذ، آن لائن سیکورٹی اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ماہرین کی ایک ٹیم کی تقرری کرتی ہے۔

واٹس ایپ کا کہنا تھا، ’’ہم صارفین کے فیڈ بیک پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ غلط معلومات کو روکنے، سائبرسیکوریٹی کو فروغ دینے اور انتخابی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے ماہرین کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہیں۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/fw7X01O

ہفتہ، 1 جون، 2024

لوگ اسپیس ایکس کے ذریعے چاند اور مریخ پر آسانی سے جا سکیں گے: ایلون مسک

اسپیس ایکس کی مدد سے لوگ مستقبل میں آسانی سے چاند اور مریخ کا سفر کر سکیں گے۔ یہ بیان کمپنی کے سی ای او ایلون مسک نے ہفتے کے روز دیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے، مسک نے کہا کہ وقت کے ساتھ اسپیس ایکس اس طرح کی صلاحیت پیدا کر لے گا جس کی مدد سے آسانی سے کوئی بھی شخص مریخ اور چاند کا سفر کر سکے گا۔

ٹیک بزنس مین نے مزید کہا کہ اس سال مجھے امید ہے کہ اسپیس ایکس پورے پے لوڈ کا 90 فیصد لو ارتھ مدار میں لے جائے گا۔فی الحال، اسپیس ایکس کے راکٹ فالکن کو 80 فیصد تک دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کمپنی کے سب سے بڑے راکٹ 'اسٹار شپ' کو دوبارہ 100 فیصد دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ 2026 میں آرٹیمیس 3 مشن کے تحت خلابازوں کو اسٹار شپ سے چاند پر بھیجا جائے گا۔ اس خلائی گاڑی کی اب تک تین سے زائد آزمائشی پروازیں ہو چکی ہیں اور چوتھی پرواز بھی جلد ہونے کا امکان ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ریگولیٹرز سے اجازت ملے گی۔ 5 جون کو ہم چوتھی آزمائشی پرواز شروع کریں گے۔

سٹار شپ کی تیسری آزمائشی پرواز نے دوبارہ قابل استعمال راکٹ کی وشوسنییتا میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ کمپنی نے مزید کہا کہ چوتھی آزمائشی پرواز میں، ہماری توجہ مدار میں واپس جانے سے ہٹ کر اسٹارشپ اور سپر ہیوی کو دوبارہ استعمال کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے پر مرکوز ہوگی۔

مزید وضاحت کی کہ اس کا بنیادی مقصد خلیج میکسیکو میں سپر ہیوی بوسٹر کے ساتھ لینڈنگ برن اور سافٹ سپلیش ڈاؤن کرنا اور اسٹار شپ کی کنٹرولڈ انٹری حاصل کرنا ہے۔ خیال رہے کہ مسک کی سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروس اسٹار لنک 99 ممالک تک پہنچ چکی ہے اور 30 ​​لاکھ سے زیادہ لوگ اسے استعمال کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انڈونیشیا اور فجی میں اسٹار لنک سروس شروع کی گئی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/AO0vG1d

جمعرات، 30 مئی، 2024

آئس لینڈ کے متحرک آتش فشاں

آئس لینڈ دنیا میں سب سے زیادہ فعال آتش فشاں والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ دسمبر کے بعد، 29 مئی کو جنوب مغربی آئس لینڈ میں ایک آتش فشاں پانچویں بار پھٹ پڑا، بڑے پیمانے پر لاوے کا بہاؤ شروع ہوا جس سے گرنڈاوک قصبے کے منقطع ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا اور عالمی شہرت یافتہ بلیو لیگون سے انخلاء شروع ہو گیا۔

آئس لینڈ کے پبلک براڈکاسٹر( آر یو وی) کےمطابق دھماکہ سندھنکس کریٹر پر آنے والے زلزلے کے بعد مقامی وقت دوپہر ایک بجے کے قریب شروع ہوا۔ آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات نے پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ کریٹر پرشدید زلزلہ کی سرگرمی اور اس کے زیر زمین ذخائر میں میگما جمع ہونے کے بعد آتش فشاں پھٹنے کا امکان ہے۔ موقع پر شوٹ کی گئیں ڈرامائی ویڈیو اور تصاویر میں جزیرہ نما ریکجنز پر واقع ماؤنٹ ہاگافیل کے قریب 3.4 کلومیٹر (دو میل) چوڑے شگاف سے سرخ گرم لاوے کےفوارے دیکھے گئےجو آسمان میں 165 فٹ بلند ہوئے۔

آئس لینڈ کے محکمہ موسمیات نے بتایا کہ لاوا کے بہاؤ نے ابتدائی طور پر ماہی گیری کے شہر گرنڈاوک کی طرف جانے والی تین سڑکوں میں سے دو کو کاٹ دیا تھا اور شہر اور کلیدی انفراسٹرکچر کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے بنائی گئی ایک دفاعی دیوار کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا تھا۔ گرنڈاوک کے میئر نےبتایا کہ اگلے روز صورتحال بہتر ہو گئی تھی۔ جب کہ آریووی نے رپورٹ کیا کہ قصبہ بجلی کے بغیر ہے، لیکن پائپنگ کے نظام کو کوئی واضح نقصان نہ ہونے کی وجہ سے گرم اور ٹھنڈا پانی دونوں چل رہے ہیں۔ میٹ آفس کے مطابق لاوے کے پھٹنے کا آغاز پچھلی مرتبہ کے مقابلے میں زیادہ زوردار تھا، لیکن لاوے میں راتوں رات نمایاں کمی ہوئی ۔

دوسری جانب آئس لینڈ کے سول ڈیفنس سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار رینسن نے آریووی کو بتایا کہ گرنڈاوک کی دفاعی دیواروں کے باہر کئی جگہوں پر لاوا بہہ رہا ہے، اورسوارتسینگی میں بھی لاوا دیواروں کے باہر بہنا شروع ہو گیا ہے۔ گرنڈاویک کے مکمل طور پر کٹ جانے کا خطرہ تھا، حالانکہ قصبےمیں دفاعی رکاوٹیں کھڑی ہیں۔رینسن کے مطابق مغرب اور دور دراز علاقوں میں مکانات لاوے کے نیچے چلے جاتے اگر یہ دفاعی دیواریں نہ ہوتیں۔

گزشتہ دسمبر میں لاوا پھٹنے سے پہلے تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل قصبہ گرنڈاوک کو زیادہ تر خالی کر دیا گیا تھا۔ رہائشیوں اور رسپانس ٹیم کے ارکان جو قصبے میں رک گئے تھے انہیں تاکید کیا گیا ہے کہ اب وہ اپنی جگہیں چھوڑ دیں ۔ دوسری جانب توانائی کمپنی نے بتایا کہ گرنڈاوک کی بجلی لاوا پھٹنے کے روز حفاظتی اقدام کے طور پر کاٹ دی گئی کیونکہ لاوے کا بہاؤ ہائی وولٹیج لائنوں اور زمین میں گرم اور ٹھنڈے پائپوں کے قریب پہنچ گیا تھا۔ اس وقت زیادہ تر ہائی وولٹیج لائنیں ختم ہو چکی ہیں۔

میٹ آفس سے تعلق رکھنے والے بینیڈکٹ اوفیگسن نے بتایا کہ چیمبر میں زیادہ میگما جمع ہونے کی وجہ سے اس کے پھٹنے کا آغاز پہلے سے زیادہ طاقتور تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ لاوے کا بہاؤ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم نے پہلے دیکھا ہے۔ آئس لینڈ کی وزارت خارجہ نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ بین الاقوامی یا گھریلو پروازوں میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ لیکن گزشتہ دو مہینوں میں تیسری بار ملک کے مشہور جیوتھرمل سپا اور سیاحتی مقام بلیو لیگون کو خالی کر دیا گیاہے۔ آئس لینڈ کے دارالحکومت اور سب سے بڑے شہر ریکجاوک سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر، بلیو لیگون ملک کے مشہور سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ سائٹ جنوب مغربی آئس لینڈ کے جزیرہ نما ریکجینس کا حصہ ہے ۔ ہوا کے معیار کے میٹر پورے آئس لینڈ میں ’سبز‘ ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لاواپھٹنے سے فی الحال کوئی فضائی آلودگی نہیں ہوئی ہے۔ پولیس نے رہائشیوں سے کہا ہےکہ وہ آن لائن فضائی آلودگی کی حقیقی سطح کی نگرانی کرتے رہیں۔

گرنڈاوک قصبہ آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکجاوک سے تقریباً 50 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے۔ یہاں نومبر میں آنے والے زلزلوں نے 18 دسمبر کے ابتدائی لاوا پھٹنے سے پہلے ہی لوگوں کو انخلاء پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے بعد ہونے والے دھماکے نے کچھ دفاعی دیواروں کو لپیٹ میں لے لیاتھا اور کئی عمارتوں کو کھا گیاتھا۔ یہ علاقہ سوارتسینگی آتش فشاں نظام کا حصہ ہے جو دوبارہ بیدار ہونے سے پہلے تقریباً 800 سال تک غیر فعال تھا۔ اس سال فروری اور مارچ میں آتش فشاں دوبارہ پھٹ پڑاتھا۔

آئس لینڈ شمالی بحر اوقیانوس میں آتش فشاں والےمقام کے اوپر واقع ہے اور باقاعدگی سے لاوا کےپھٹنے اور ان سے نمٹنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سب سے زیادہ خلل ڈالنے والا ’ایجف جلاجوکل‘ آتش فشاں 2010 میں پھٹا تھا، جس نے فضا میں راکھ کے بڑے بادل اڑا دیےتھے اور یورپ پر وسیع پیمانے پر فضائی حدود کی بندش کا باعث بنا تھا۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/GhiwDmr

بدھ، 29 مئی، 2024

مصریوں نے چار ہزار سال پہلے کینسر کا علاج کرنے کی کوشش کی تھی!

نئی دہلی: چار ہزار سال پرانی دو کھوپڑیوں پر کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ قدیم مصریوں نے کینسر کے علاج کی کوشش کی تھی۔ مصری تہذیب کو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت وہاں کے لوگ بیماریوں اور تکلیف دہ چوٹوں کی تشخیص کے ساتھ ساتھ مصنوعی اعضاء بنانے اور دانت بھرنے کے لیے جانے جاتے تھے۔

محققین کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس بارے میں مزید جاننے کے لیے دو انسانی کھوپڑیوں کا مطالعہ کیا کہ قدیم مصری کتنے قابل تھے۔ یہ دونوں کھوپڑیاں ہزاروں سال پرانی تھیں۔ ان میں سے ایک عورت اور ایک مرد کی ہے۔ جرنل فرنٹیئرز ان میڈیسن میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں، انہوں نے کہا کہ کھوپڑیوں پر کٹے ہوئے نشانات قدیم مصریوں کے ذریعے کیے جانے والے تکلیف دہ اور آنکولوجیکل علاج کی حد کو ظاہر کرتے ہیں۔

اسپین کی یونیورسٹی آف سینٹیاگو ڈی کمپوسٹیلا کے ماہر امراضیات کے ماہر ایڈگارڈ کیمروس نے اس دریافت کو اس بات کا منفرد اور غیر معمولی ثبوت قرار دیا کہ کس طرح قدیم مصری طب نے چار ہزار سال قبل کینسر کا علاج کرنے کا اسے جاننے کی کوشش کی ہوگی۔

وہ دو کھوپڑیاں جو تحقیق کے لیے لی گئیں، ان میں سے ایک 2687 اور 2345 قبل مسیح کے درمیان کا ہے۔ یہ اس شخص کی کھوپڑی ہے جس کی عمر 30 سے ​​35 سال کے درمیان ہوگی۔ وہیں، 663 اور 343 قبل مسیح کے درمیان حیات رہنے والی ایک خاتون کی کھوپڑی ہے، جس کی عمر 50 سال سے زیادہ ہوگی۔

آدمی کی کھوپڑی کے خوردبینی مشاہدے سے ایک بڑے زخم کا انکشاف ہوا، جسے نیوپلاسم کہا جاتا ہے، جو کہ ضرورت سے زیادہ خلیوں کی تباہی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ خاتون کی کھوپڑی میں تقریباً 30 چھوٹے اور گول میٹاسٹاسائزڈ زخم بھی دکھائی دے رہے تھے جن پر دھاتی آلے جیسی تیز دھار چیز کے نشانات تھے۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف ٹوبینگن کی ایک محقق تاتیانا ٹونڈینی نے کہا کہ جب ہم نے پہلی بار خوردبین کے نیچے کٹے ہوئے نشانات کو دیکھا تو ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ انہوں نے کہا، ’’خاتون کی کھوپڑی کے تجزیے سے کینسر کے ٹیومر سے مطابقت رکھنے والے ایک بڑے زخم کا بھی انکشاف ہوا جس کی وجہ سے ہڈیوں کی تباہی ہوئی تھی۔‘‘

ٹیم نے کہا، ’’یہ اس بات کی نشاندہی کر سکتا ہے کہ آج کے طرز زندگی اور ماحولیاتی نمائش سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے لیکن ماضی میں یہ ایک عام بیماری تھی۔‘‘



from Qaumi Awaz https://ift.tt/0JFdNEn

پیر، 27 مئی، 2024

سال 2023 میں ہندوستانی کمپنیوں پر روزانہ اوسطاً 9 ہزار آن لائن حملے: رپورٹ

نئی دہلی: سال 2023 میں ہندوستانی کمپنیوں پر سائبر مجرموں کی طرف سے روزانہ اوسطاً 9000 سائبر حملے کیے گئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف پیر کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ سائبر سیکورٹی کمپنی کاسپرسکی کے مطابق 2023 میں جنوری سے دسمبر کے درمیان سائبر مجرموں کی جانب سے ہندوستانی کمپنیوں پر 30 لاکھ سے زیادہ حملے کیے گئے۔ اس میں 2022 کے مقابلے میں 47 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

کاسپرسکی انڈیا کے جنرل منیجر جے دیپ سنگھ نے کہا کہ حکومت مقامی ڈیجیٹل معیشت اور بنیادی ڈھانچے پر بہت زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ آن لائن حملوں کے پیش نظر ہندوستانی کمپنیوں کو سائبر سیکورٹی کو ترجیح کے طور پر لینا ہوگا۔ مزید کہا کہ اگر کمپنیاں سائبر سیکورٹی کو ترجیح دینے میں ناکام رہتی ہیں، تو وہ ڈیجیٹلائزیشن کے فوائد کو پوری طرح سے حاصل نہیں کر پائیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ فعال اقدامات کیے جائیں اور ممکنہ سائبر خطرات سے بچایا جائے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ویب پر مبنی خطرات اور آن لائن حملے سائبر سیکورٹی کے تحت ایک زمرہ ہیں۔ اس کی مدد سے بہت سے سائبر مجرم کمپنیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ آخری صارف یا ویب سروس ڈویلپر/آپریٹر کی لاپرواہی کی وجہ سے ویب اٹیک کا خطرہ ہو سکتا ہے۔

سنگھ نے مزید کہا کہ ہندوستانی کمپنیوں کو 2024 میں اپنی سائبر سیکورٹی کی سطح میں اضافہ کرنا ہوگا۔ وہ دن گئے جب سائبر سیکورٹی آسانی سے فائر بال اور اینڈ پوائنٹس سولوشن کے ذریعے آسانی سے کی جا سکتی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے سائبر حملے ان تنظیموں کے امیج کو بہت نقصان پہنچا سکتے ہیں جن کے پاس ڈیٹا کی بڑی مقدار ہوتی ہے۔ انہیں بھاری مالی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ آج کے وقت میں تمام تنظیموں کو سائبر سیکورٹی سولوشن اور خدمات کی ضرورت ہوتی ہے جو سازگار ہوں اور انٹیلی جنس اپروچ والی ہوں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/FI9VXjl

جمعہ، 24 مئی، 2024

انسانی وجہ سے موسمیاتی بحران

ایک تازہ ترین تحقیق نے بدترین موسم میں انسانی وجہ سے عالمی حرارت میں اضافہ کے کردار کا جائزہ لیا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی وجہ سے عالمی حرارت میں اضافہ کے اثرات بہت شدید ہیں، جبکہ پچھلے چار سالوں میں درجہ حرارت قبل از صنعتی دور سطح سے اوسط صرف1.2 سینٹی گریڈ بڑھا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ شدید گرمی کا امکان ہندوستان میں 45 گنا زیادہ اور اسرائیل اور فلسطین میں پانچ گنا زیادہ ہے۔ سائنسدانوں نے کہا کہ بلند درجہ حرارت نے غزہ میں پہلے سے ہی سنگین انسانی بحران کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، جہاں جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لوگ بھیڑ بھری پناہ گاہوں میں رہ رہے ہیں اور جہاں پانی تک رسائی مشکل ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اپریل میں فلپائن کو جھلسانے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر موسمیاتی بحران کے بغیر ناممکن تھی۔ اپریل میں پورے ایشیا میں 40 سینٹی گریڈ سے زیادہ گرمی پڑی، جس سے اموات، پانی کی قلت، فصلوں کے نقصانات اور اسکولوں کی بڑے پیمانے پر بندش ہوئی۔ مارچ کے آخر میں ایک اور ہیٹ ویو نے مغربی افریقہ اور ساحل کے علاقہ کو نشانہ بنایا، جس سے دوبارہ اموات ہوئیں، اور مالی میں درجہ حرارت 48.5 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ بہت سے ممالک میں شدید گرمی سے ہونے والی اموات کم ریکارڈ کی جاتی ہیں لیکن ماضی میں کی گئی تحقیق بتاتی ہے کہ پچھلی دو دہائیوں کے دوران لاکھوں لوگ مر چکے ہیں۔ یورپ میں، جہاں ریکارڈنگ بہتر ہے، گزشتہ دہائی میں گرمی سے ہونے والی اموات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ایشیا میں شدید گرمی

سائنسدانوں نے آنے والے بدتر حالات سے خبردار کیا ہے۔ اگر عالمی درجہ حرارت 2 سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے تو، فلپائن میں ہر دو سے تین سال بعد اور اسرائیل، فلسطین اور قریبی ممالک میں ہر پانچ سال بعد اپریل کی شدید گرمی کا اعادہ متوقع ہے۔ دنیا کے سیکڑوں اعلی آب و ہوا کے سائنسدانوں نے حال ہی میں برطانوی اخبار گارجین کو بتایا کہ وہ جیواشم ایندھن (فوسل فیول) کے جلانے کو ختم کرنے میں عالمی سطح پر عدم فعالیت کی توقع کرتے ہیں جس کے نتیجے میں کم از کم 2.5 سینٹی گریڈ حرارت بڑھےگی۔

امپیریل کالج لندن میں ڈاکٹر فریڈریک اوٹو، ورلڈ ویدر اکاونٹبلٹی (ڈبلیو ڈبلیو اے) اسٹڈی ٹیم کے ایک رکن نے کہا کہ غزہ سے دہلی اور منیلا تک، ایشیا میں اپریل کے درجہ حرارت میں اضافے کے بعد لوگوں کو تکلیف ہوئی اور اموات ہوئیں۔ تیل، گیس اور کوئلے کے اخراج سے پیدا ہونے والی اضافی گرمی بہت سے لوگوں کی موت کا باعث بن رہی ہے۔

ریڈ کراس ریڈ کریسنٹ کلائمیٹ سینٹر میں گرمی کے خطرے سے متعلق کنسلٹنٹ ڈاکٹر کیرولینا پیریرا مرغیدان نے کہا کہ گرمی نے واقعی غزہ میں پہلے سے ہی سنگین انسانی بحران کو بڑھا دیا ہے، جہاں بے گھر ہونے والی آبادی کو خوراک، پانی، صحت کی دیکھ بھال اور عام طور پر رہنے والوں تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ وہاں بھیڑ بھری پناہ گاہیں جو گرم ہیں، یا لوگ باہر رہتے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو اے کی تحقیق میں تین علاقوں کا جائزہ لیا گیا جو اپریل میں شدید گرمی کا شکار تھے۔ عالمی حرارت نے اسرائیل، فلسطین، شام، لبنان اور اردن میں درجہ حرارت 1.7 سینٹی گریڈ اور فلپائن میں 1 سینٹی گریڈ زیادہ گرم کر دیا، جہاں 4000 اسکول بند کر دیے گئے۔ جنوبی ایشیائی خطے کا جائزہ لیا بشمول بنگلہ دیش، میانمار، لاؤس، ویت نام، تھائی لینڈ ، کمبوڈیا اور ہندوستان ، جہاں درجہ حرارت 46 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا۔

ڈاکٹر فریڈریک اوٹو کے مطابق، جب شدید گرمی کی بات آتی ہے تو موسمیاتی تبدیلی ایک گیم چینجر ہے۔ اس مطالعے میں آج کے گرم آب و ہوا اور انسانی وجہ سے حرارت کے بغیر آب و ہوا میں ہیٹ ویو کے امکانات کا موازنہ کرنے کے لیے موسم کے اعداد و شمار اور آب و ہوا کے ماڈلز کا استعمال کیا گیا۔ محققین نے پایا کہ موجودہ’ الـنینو‘ موسمیاتی سائیکل، جو عالمی درجہ حرارت کو بڑھاتا ہے، گرمی کی لہروں کے بڑھتے ہوئے امکانات پر بہت کم اثر ڈالتا ہے۔

ڈاکٹر کیرولینا پیریرا مرغیدان نے کہا کہ ایشیا میں دنیا کے سب سے بڑے اور تیزی سے ترقی کرنے والے شہر شامل ہیں۔ اس تیزی سے شہری کاری نے بہت سے معاملات میں غیر منصوبہ بند ترقی، شہروں میں کنکریٹ میں اضافہ، اور بہت سے شہروں میں سبز جگہ کو انتہائی نقصان پہنچایا ہے۔ آؤٹ ڈور ورکرز جیسے کاشتکار اور اسٹریٹ وینڈرز اور غیر رسمی رہائش میں رہنے والے افراد خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں ۔

مطالعاتی ٹیم کا حصہ رہی امپیریل کالج لندن کی ڈاکٹر مریم زکریا کے مطابق، سینکڑوں انتساب کے مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کس طرح گلوبل ہیٹنگ پہلے ہی دنیا بھر میں انتہائی موسم کو سپرچارج کر رہی ہے، اور جب تک دنیا اخراج کو کم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر، بے مثال اقدامات نہیں کرتی(یعنی درجہ حرارت 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنا) شدید گرمی ایشیا میں اور بھی زیادہ مصائب کا باعث بنے گی۔

امریکہ میں طوفان کا موسم

دریں اثنا، کم دباؤ سے مشرقی کناڈا اور شمال مشرقی امریکہ میں درجہ حرارت میں اضافے کی توقع ہے، جب کہ مغرب میں درجہ حرارت گر جائے گا۔ حالیہ ہفتوں میں وقفے وقفے کے بعد، امریکہ میں طوفان کا موسم دوبارہ شروع ہوا۔ 19 مئی کو کنساس میں 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں اور ٹینس بال کے سائز کے اولےگرے۔ شدید طوفانوں کے لحاظ سے اب تک یہ ایک مصروف موسم رہا ہے۔ وسطی امریکہ میں کم دباؤ کا ایک علاقہ، خلیج میکسیکو سے آنے والی نمی کے ساتھ مل کر، ممکنہ طور پر متعدد ریاستوں میں طوفان اور بڑے اولوں کا خطرہ جاری رکھے گا۔

اس ہفتے کے آخر میں یہ کم دباؤ نہ صرف پورے امریکہ میں شدید موسم کا باعث بن سکتا ہے، بلکہ پورے امریکہ اور کناڈا میں درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے ۔ مشرقی کناڈا اور شمال مشرقی امریکہ میں، درجہ حرارت اوسط سے زیادہ 10 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اوٹاوا اور ڈیٹرائٹ جیسے شہروں میں دن کے وقت زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30سینٹی گریڈہو سکتا ہے۔

اس کے باوجود کناڈا اور امریکہ کے مغربی علاقوں میں درجہ حرارت تقریباً 20 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے گا۔ اس ہفتے زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت دو ہندسوں تک پہنچنے کی توقع ہے، اس سے پہلے کہ شمالی امریکہ براعظم کے تمام حصوں میں درجہ حرارت اوسط کے قریب پہنچ جائے۔

جنوبی امریکہ میں درجہ حرارت اسی طرح بدلتا رہے گا۔ جب کہ برازیل اور پیراگوئے کے کچھ حصوں میں درجہ حرارت اوسط سے 6 سے 8 سینٹی گریڈ زیادہ ہو جائے گا، چلی اور ارجنٹائن کے بڑے حصے اس ہفتے کے آخر میں موسم سرما کا پہلا ذائقہ لیں گے کیونکہ درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

جنوبی کوریا میں برف باری

جنوبی کوریا کے مشرقی گینگون صوبے کے پہاڑی علاقوں میں اس ماہ کے شروع میں غیر معمولی طور پر شدید برف باری ہوئی تھی۔ 8 اور 9 مئی کے دوران، سیورکسان نیشنل پارک کے سوچیونگ پناہ گاہ میں 40 سینٹی میٹر تک برف گری، جب کہ اس کے جنگچیونگ پناہ گاہ میں 20 سینٹی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ پہاڑوں پر فصل کی کٹائی سے پہلے اس غیر متوقع برف باری نے نقصان پہنچایا۔ دوسری جانب جنوب مغربی آسٹریلیا میں، 10 مئی کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کا طاقتور طوفان بنبری شہر سے ٹکرایا۔ طوفان کے باعث علاقے میں کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور بجلی کی تاریں گر گئیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/m7d6QAR

ایکس پر ماہانہ متحرک صارفین 60 کروڑ تک پہنچ گئے

نئی دہلی: ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے جمعہ کو کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ماہانہ متحرک صارفین (ایم اے یو) کی تعداد 60 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔

مسک کو 2022 میں 44 بلین ڈالر میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کو حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ساتھ ایک سپر ایپ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر آپ فلموں اور ٹی وی شوز کے ساتھ ڈیجیٹل ادائیگی بھی کر سکتے ہیں۔

ارب پتی ٹیک بزنس مین نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا، ’’ایکس پر ماہانہ متحرک صارفین کی تعداد 60 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف روزانہ ایکس استعمال کر رہے ہیں۔‘‘ مسک کی پوسٹ پر ردعمل دیتے ہوئے صارفین نے کہا کہ ایکس شاید اس وقت دنیا کا بہترین سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے۔ خیال رہے کہ مسک ایکس میں مسلسل تبدیلیاں کر رہے ہیں اور ایپ میں کئی نئے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔

حصول کے بعد ایکس پر بلیو ٹک حاصل کرنے کے لیے سبسکرپشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اداروں کی تصدیق کے لیے گولڈن ٹک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایکس پر وائس اور ویڈیو کالنگ کا فیچر بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین آسانی سے وائس اور ویڈیو کالنگ کی سہولت سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ حال ہی میں مسک نے کہا تھا کہ ایکس پر لائیو مواد میں سپر چیٹ فیچر آ رہا ہے۔

اب سبسکرائب شدہ صارفین فلمیں، ٹی وی سیریز اور پوڈ کاسٹ وغیرہ پوسٹ کر کے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایکس کی جانب سے مشتہرین کے لیے ایک نیا اے آئی ٹول بھی لایا جا رہا ہے، جو چند سیکنڈ میں اشتہارات کے لیے کارآمد صارفین کی فہرست تیار کرے گا۔

مسک نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ موجودہ اے آئی کے ذریعے صارفین آسانی سے ’آر یو اے بوٹ؟‘ پاس کر سکتے ہیں۔ مسک نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ اب نئے صارفین کو ایکس پر پوسٹ کرنے کے لیے پیسے ادا کرنا ہوں گے۔ کمپنی اکتوبر 2023 سے ایکس پلیٹ فارم استعمال کرنے کے لیے نیوزی لینڈ اور فلپائن میں صارفین سے ایک ڈالر سالانہ چارج کر رہی ہے۔ مسک نے بتایا کہ اس قدم کے ذریعے ہی ہم ایکس پلیٹ فارم پر بوٹس کو روک سکتے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/mdlXF7w

منگل، 14 مئی، 2024

اوپن اے آئی کا نیا ڈیمو شرمندہ کرنے والا: ایلون مسک

نئی دہلی: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے ایک بار پھر منگل کو اوپن اے آئی پر تنقید کی۔ سیم آلٹ مین کی قیادت والی کمپنی کے نئے ماڈل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ شرمناک ہے۔ دراصل، مصنف ایشلے سینٹ کلیئر نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اوپن اے آئی کے ساتھ انسان اب ریئل ٹائم میں اے آئی کی حقیقت کا احساس کر سکتا ہے۔ اور ’’ہم نے شاید بعد از حقیقی دور کو مزید بدتر دور میں تبدیل کر دیا ہے۔

اس کے جواب میں ایلون مسک نے کہا، ’’نیا ڈیمو شرمناک ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ایلون مسک کو اوپن اے آئی کا سخت ناقد سمجھا جاتا ہے۔ اسی دوران ایک اور ایکس صارف نے تبصرے میں لکھا کہ ہم گورک کے ڈیمو ورژن (ایکس کی جانب سے تیار کیا جا رہا اے آئی ماڈل) کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

مسک کی جانب سے مارچ میں اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او آلٹ مین کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ یہ مقدمہ اے آئی کے معاہدے کی شرائط کو توڑنے سے متعلق تھا۔ اوپن اے آئی نے بھی اس مقدمے کا جواب دیا اور کہا، ’’مسک چاہتے ہیں کہ ہم ٹیسلا کے ساتھ ضم ہو جائیں یا وہ کمپنی کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیں۔‘‘ آلٹ مین نے کہا، ’’مسک نے یہ سوچ کر اوپن اے آئی‘ چھوڑ دیا کہ کمپنی ناکام ہو جائے گی۔‘‘

چیٹ جی پی ٹی چلانے والے اوپن اے آئی کی جانب سے پیر کو جی پی ٹی-4او کی نقاب کشائی کی گئی تھی۔ یہ ایک فلیگ شپ ماڈل ہے جو کہ جی پی ٹی 4 کی سطح کی ذہانت فراہم کرتا ہے۔ اس کی وجہ سے اے آئی ماڈلز کے ٹیکسٹ، آواز اور وژن میں پہلے سے زیادہ تیزی اور بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی 50 سے زیادہ زبانوں میں دستیاب ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/c2okTrH

اتوار، 12 مئی، 2024

بچوں کے موبائل اور کمپیوٹر سے چپکے رہنے سے والدین پریشان، 89 فیصد ہندوستانی مائیں تشویش میں مبتلا، رپورٹ میں انکشاف

والدین بچوں کے موبائل اور کمپیوٹر سے چپکے رہنے سے کافی پریشان رہتے ہیں اور ایک بار عادی ہونے کے بعد بچوں کو اس طرح کے آلات سے دور کر پانا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ہندوستان کی بیشتر مائیں بچوں کی اس عادت سے تشویش میں مبتلا ہیں۔ مارکیٹ ریسرچ کمپنی ’ٹیک آرک‘ کی مدر ڈے کے موقع پر یہ تشویشناک رپورٹ سامنے آئی، جس میں کہا گیا ہے کہ 89 فیصد ہندوستانی مائیں بچوں کے اسکرین ٹائم کی وجہ سے حد درجہ فکر مند ہیں۔ اتوار (12 مئی، مدر ڈے) کو جاری اس رپورٹ میں ایسی 600 کام کرنے والی ماؤں کے درمیان کیے گئے سروے کا نتیجہ پیش کیا گیا ہے جن کا کم از کم ایک بچہ تیسری سے چوتھی جماعت میں پڑھتا ہے۔

سروے کرنے والی کمپنی ’ٹیک آرک‘ نے ان خواتین سے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام میں ان کے خدشات، ان کو درپیش چیلنجس، ان کی دلچسپیوں اور ان کی ترجیحات کے بارے میں سوال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماؤں کا خیال ہے کہ اسکرین ٹائم میں اضافہ ان کے بچوں کی تعلیم کو متاثر کرتا ہے اور ان کی ذہنی و جسمانی نشو نما نیز سماجی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماؤں کے سب سے بڑے خدشات میں سے پرائیویسی (81 فیصد)، نامناسب مواد (72 فیصد)، نوعمروں کو متاثر کرنے والے (45 فیصد) اور ڈیپ فیک (26 فیصد) ہیں۔ ان ماؤں کا خیال ہے کہ مستقبل میں ڈیپ فیک اور زین اے آئی والدین کے لیے ایک بڑی تشویش بن جائے گی۔ ڈیوائسیز کی بات کریں تو مستقبل کے لیے سب سے بڑی تشویش و ی آر ہیڈ سیٹ ہے، خاص طور پر ایپل ورژن پرو کی لانچنگ کے بعد۔

سروے کے دوران حالانکہ ماؤں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پانچ سال قبل کے بالمقابل آج کی ڈیجیٹل دنیا بچوں کے لیے زیادہ مفید اور ان کے مزاج سے ہم آہنگ ہے۔ رپورٹ کے مطابق 60 فیصد سے زائد مائیں اپنے بچوں کے لیے جتنی رقم خرچ کرتی ہیں اس کا 51 سے 85 فیصد حصہ آن لائن شاپنگ پر خرچ کرتی ہیں۔ جبکہ 20 فیصد ڈیجیٹل خدمات حاصل کرنے والی خواتین کے معاملے میں یہ تعداد 85 فیصد سے زیادہ ہے۔ وہ اپنے بچوں کے لیے سب سے زیادہ خریداری ایمیزون پر، سویگی پر کھانوں کے آرڈر دینے اور ہاٹ اسٹار پر تفریحی پیکجز خریدنے میں کرتی ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/CdmvT5V