اتوار، 13 جولائی، 2025

موسمیاتی تبدیلی: ریت، دھول کے طوفان سے نصف آبادی متاثر

دنیا کی تقریباً نصف آبادی دھول کی اس سطح کا سامنا کر رہی ہے جو عالمی ادارہ صحت کی حفاظت کی حد سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کی ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کی ایک نئی رپورٹ بتاتی ہے کہ ریت اور مٹی کے طوفان موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 'قبل از وقت اموات' کا باعث بن رہے ہیں، جس سے 150 ممالک میں 33 کروڑ سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

12 جولائی کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ریت اور دھول کے طوفانوں سے نمٹنے کا عالمی دن منایا اور 2025-2034 تک کے دس سالوں کو ریت اور دھول کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کی دہائی کے طور پر منسوب کیا۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں اسمبلی صدر فلیمون یانگ نے کہا کہ موجودہ دور میں طوفان سب سے زیادہ نظر انداز کئے گئے لیکن اب وہ دور رس عالمی چیلنجوں میں سے ایک بن رہے ہیں۔ وہ آب و ہوا کی تبدیلی، زمین کے تنزلی اور غیر پائیدار طریقوں کے سبب رونما ہو رہے ہیں۔ ان طوفانوں کے سبب ہوا سے نکلنے والے ذرات سالانہ 70 لاکھ قبل از وقت اموات کا باعث بنتے ہیں اور سانس اور قلبی امراض کو جنم دیتے ہیں اور فصل کی پیداوار میں 25 فیصد تک کمی کرتے ہیں، جس سے بھوک اور نقل مکانی ہوتی ہے۔

ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل سیلسٹی ساؤلو نے کہا کہ ریت اور دھول کے طوفان کا مطلب صرف گندی کھڑکیاں اور دھندلا آسمان نہیں ہے۔ وہ لاکھوں لوگوں کی صحت اور معیار زندگی کو نقصان پہنچاتے ہیں؛ اور ان کی وجہ سے فضائی اور زمینی نقل و حمل، زراعت اور شمسی توانائی کی پیداوار میں رکاوٹ کی قیمت دسیوں لاکھ ڈالر ہوتی ہے۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح صحت کے خطرات اور معاشی اخراجات بڑھ رہے ہیں - اور کس طرح دھول کی ابتدائی انتباہات اور تخفیف اور کنٹرول میں سرمایہ کاری بڑے منافع حاصل کرنے میں معاون ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ریت اور مٹی کے طوفان کے تعلق سے ’ سب کے لیے ابتدائی انتباہات‘ نامی پہل ترجیحات میں سے ایک ہے۔

ڈبلیو ایم او کی اقوام متحدہ کی نمائندہ لورا پیٹرسن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو بتایا کہ سالانہ تقریباً 2 ارب ٹن دھول خارج ہوتی ہے جو کہ مصر میں گیزا کے 300 عظیم اہراموں کے برابر ہے۔ دنیا کی 80 فیصد سے زیادہ دھول شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا کے صحراؤں سے آتی ہے، لیکن اس کا عالمی سطح پر اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ ذرات سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کلومیٹر براعظموں اور سمندروں میں سفر کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے مغربی ایشیا کے سربراہ و انڈر سیکرٹری جنرل رولا دشتی نے اسمبلی کو بتایا کہ طوفانوں کے معاشی اخراجات 'حیران کن' ہیں۔ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں، دھول اور ریت کے طوفانوں سے نمٹنے کے لیے سالانہ 150 ارب ڈالر، مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 2.5 فیصد خرچ ہوتا ہے۔ دشتی نے شدید طوفانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف اس موسم بہار میں ہی عرب خطے نے شدید خلل کا سامنا کیا جس نے عراق میں ہسپتالوں کو سانس کے کیسز سے بھر دیا اور کویت اور ایران میں طوفانوں کی وجہ سے اسکول اور دفتر بند ہو گئے۔ انہوں نے کہا، افریقہ کے صحرائے صحارا سے نکلنے والی دھول کیریبین اور فلوریڈا تک پہنچی ۔ سائنسی جریدے نیچر کی ایک تحقیق کے مطابق، دھول اور ہوا کے کٹاؤ نے 2017 میں امریکہ کو 154 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا، جو کہ 1995 کے مقابلے چار گنا زیادہ ہے۔

ڈبلیو ایم او اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے یہ بھی متنبہ کیا کہ صحت کا بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس میں 3.8 ارب لوگ – تقریباً نصف عالمی آبادی – 2018 اور 2022 کے درمیان ڈبلیو ایچ او کی حفاظتی حد سے زیادہ دھول کی سطح سے دوچار ہیں، جو کہ 2003 سے 2007 کے درمیان متاثر ہونے والے 2.9 ارب افراد سے زیادہ ہے۔

سال 2024 میں ریت اور دھول کے بڑے طوفان

کینری جزائر- شمال مغربی افریقہ کے ایک وسیع علاقے میں تیز ہارمٹن ہواؤں کا ایک طوفان دسمبر میں مغربی صحرائے صحارا سے اسپین کے کینری جزائر تک گیا اور اس علاقے پر اثر انداز ہوا جہاں زیادہ تر لوگ رہتے ہیں۔

مشرقی ایشیا- ریت اور دھول کے 14 طوفان ، زیادہ تر موسم بہار میں آئے۔ مارچ کے آخر میں، ایک مضبوط منگولائی طوفان سے آنے والی تیز ہواؤں نے شمالی چین کے گنجان آباد علاقوں میں بڑی مقدار میں دھول اڑا ئی۔ بیجنگ میں مرئیت ایک کلومیٹر تک گر گئی۔ جون میں بیجنگ اور شمالی چین ریت اور دھول کے طوفان کی زد میں آئے ۔ منگولیا میں موسم بہار میں اعلی درجہ حرارت اور خشک سالی کی وجہ سے پودوں کی ناقص نشوونما نے ایک بڑا کردار ادا کیا، جس نے بدلتی ہوئی آب و ہوا میں شدید موسم کی وجہ سے موسم گرما میں دھول کے طوفانوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کی طرف عوام کی توجہ مبذول کرائی۔

مغربی ایشیاء- عراق، کویت، قطر، اور جزیرہ نما عرب دسمبر میں موسم سرما کے ایک غیر معمولی طوفان سے متاثر ہوئے۔ اس کے دور رس سماجی و اقتصادی نتائج برآمد ہوئے، جن میں پروازوں کی منسوخی، اسکولوں کی بڑے پیمانے پر بندش اور عوامی تقریبات کا ملتوی ہونا شامل ہے۔

طوفان کی وارننگ، ایڈوائزری اور اسسمنٹ سسٹم

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) کے ذریعے 2007 میں قائم کیے گئے ریت اور دھول کے طوفان کی وارننگ، ایڈوائزری اور اسسمنٹ سسٹم کا مقصد بین الاقوامی ریت اور دھول کی تحقیق کو مربوط بنانا ہے۔ اس وقت چار خطوں میں اس کے علاقائی مراکز ماحولیات، صحت اور معیشتوں پر پڑنے والے اثرات کو کم کرنے کے لیے مربوط انداز میں دنیا کے لیے آپریشنل پیشن گوئی اور انتباہی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پہلاخلیج تعاون کونسل کا علاقہ ہے،جس کا علاقائی مرکز جدہ، سعودی عرب میں ہے؛ دوسرا شمالی افریقہ-مغربی ایشیا-یورپ کا علاقہ، جس کا مرکز بارسلونا، اسپین میں ہے؛ تیسرا ایشیا ہے، جس کا مرکز بیجنگ، چین میں ہے؛ اور چوتھا شمالی و جنوبی امریکہ کا علاقہ، جس کا مرکز برج ٹاؤن، بارباڈوس میں ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/qIoA10y

ہفتہ، 12 جولائی، 2025

شبھانشو شکلا نے زمین کے لگائے 230 چکر، خلا میں کیے کئی کامیاب تجربے، جلد ہوگی آئی سی سی سے واپسی

 ایکسیوم-04 مشن کے تحت بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) گئے ہندوستانی خلاباز شبھانشو شکلا جلد ہی زمین پر واپسی کر سکتے ہیں۔ ہندوستانی خلائی تحقیقی تنظیم (اسرو) نے ان کے واپس آنے کی اطلاع دی ہے۔ اسرو کے مطابق شبھانشو 14 جولائی کو خلا سے واپسی کریں گے اور وہ 15 جولائی کو زمین پر پہنچ جائیں گے۔ شبھانشو کے ساتھ آئی ایس ایس میں گئے باقی 3 خلائی مسافر بھی اسپیس ایکس کے ڈریگن اسپیس کرافٹ سے واپس آئیں گے۔

اسرو نے سوشل میڈیا پر شبھانشو کی واپسی کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ آئی ایس ایس سے ڈریگن اسپیس کرافٹ کی اَن ڈاکنگ کے بعد سبھی خلائی مسافر امریکہ کے کیلیفورنیا کے پاس موجود ساحل پر 15 جولائی 2025 کو دوپہر 3 بجے (ہندوستانی وقت کے مطابق) پہنچیں گے۔

شبھانشو شکلا 14 دن کے مشن پر آئی سی سی کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ وہ آئی سی سی پر جانے والے پہلے ہندوستانی ہیں۔ وہیں ہندوستانی خلا باز ونگ کمانڈر راکیش شرما کے بعد وہ خلا میں جانے والے دوسرے ہندوستانی بن گئے ہیں۔

خلائی اسٹیشن میں شبھانشو نے کئی طرح کے تجربے بھی کیے ہیں۔ اس کی اطلاع دیتے ہوئے اسرو نے کہا کہ شبھاشنو شکلا نے ہندوستان کے ایکسکیو-04 مشن کے تحت 7 مائیکرو گریویٹی تجربے کیے ہیں۔ ان میں سے 4 تجربے کامیاب ہو گئے ہیں اور باقی 3 تجربے بھی کامیابی کے بے حد قریب ہیں۔

اتوار یعنی کل سبھی خلائی مسافر اپنے تجربے کے نمونے پیش کرنا شروع کریں گے۔ فلائٹ سرجن کی دیکھ-ریکھ  میں سبھی زمین پر واپسی کی تیاری کریں گے۔ شبھانشو کی واپسی کا پورا ملک بے حد بے صبری سے انتظار کر رہا ہے۔

وہیں مشن کے 15ویں دن تک شکلا نے زمین کے 230 چکر لگا لیے تھے۔ اس دوران انہوں نے 60 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ کی دوری طے کی۔ یہ دوری زمین اور چاند کے درمیان کی دوری کی تقریباً ڈیڑھ گنا سے زیادہ ہے۔ زمین سے تقریباً 400 کلومیٹر والے اوپری مدار میں چکر لگا رہے آئی ایس ایس میں شکلا نے زیادہ تر وقت اپنے تجربات اور مکالمے میں گزارے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://www.qaumiawaz.com/science/shئbhanshu-shukla-has-conducted-several-successful-experiments-in-space-will-return-to-earth-soon

اتوار، 6 جولائی، 2025

آکسیجن کی کہانی: فطرت کا خاموش تحفہ اور ہماری بقا کی بنیاد

یہ مضمون آکسیجن سے متعلق کچھ ایسی باتوں پر روشنی ڈالے گا جو شاید ہر ایک کو معلوم نہ ہوں۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ آکسیجن ہماری سانس کے لیے ناگزیر ہے لیکن شاید یہ نہ معلوم ہو کہ ہماری سانس میں جانے والی ہوا کا بیشتر حصہ دراصل نائٹروجن پر مشتمل ہوتا ہے، جو ایک بے اثر گیس ہے۔ یہ گیس جسم میں داخل ہو کر بغیر کسی استعمال کے واپس خارج ہو جاتی ہے، جبکہ سانس کے ذریعے اندر جانے والی آکسیجن کا صرف 5 فیصد ہی جسم میں استعمال ہوتا ہے۔

نظامِ شمسی میں زمین واحد سیارہ ہے جس کے گرد ایسا فضائی غلاف ہے جو زندگی کے لیے موزوں ہے۔ اس فضا میں تقریباً 78 فیصد نائٹروجن، 21 فیصد آکسیجن اور صرف ایک فیصد دیگر گیسیں شامل ہیں۔ یعنی آکسیجن صرف فضا کا پانچواں حصہ ہے۔ زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے یہ فضائی غلاف زمین کے گرد قائم ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ غلاف لا متناہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہوا کا 99 فیصد حصہ زمین سے صرف 100 کلومیٹر کی بلندی تک محدود ہے۔ اس حد کو ’کرمان لائن‘ کہا جاتا ہے۔ اگر زمین کو ایک سنترے کے برابر مانا جائے تو فضائی غلاف صرف اس کے چھلکے کے برابر ہوگا۔

سورج کی روشنی میں پیڑ پودے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کر کے آکسیجن اور اپنی غذا تیار کرتے ہیں۔ اس عمل کو ’فوٹو سنتھیسس‘ کہا جاتا ہے۔ ہماری بقا کے لیے درکار ساری آکسیجن پیڑ پودے ہی پیدا کرتے ہیں۔ آکسیجن ایک فعال عنصر ہے جو آسانی سے دوسرے عناصر کے ساتھ مل کر آکسائیڈ مرکبات بناتی ہے۔ اگر پیڑ پودے مسلسل آکسیجن نہ بنائیں تو فضا کی ساری آکسیجن جلد ہی مختلف مرکبات میں بدل جائے گی اور سانس لینے کے لیے کچھ باقی نہ بچے گا۔ اس سے ایک دلچسپ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر کسی سیارے پر آکسیجن موجود ہے تو وہاں پیڑ پودے بھی ضرور ہوں گے۔

بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آکسیجن میں آگ لگتی ہے، شاید اس وجہ سے کہ اسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر پر ’ہوشیار! آگ لگنے کا خطرہ‘ لکھا ہوتا ہے اور وہاں سگریٹ نوشی کی سخت ممانعت ہوتی ہے۔ اگر کوئی آکسیجن سے بھرے کمرے میں سگریٹ جلائے تو وہ چند لمحوں میں راکھ ہو سکتی ہے لیکن کمرے کی گیس خود آگ نہیں پکڑتی۔

امریکہ کے قمری مشن اپولو-1 میں بھی اسی نوعت کا حادثہ پیش آیا تھا۔ یہ خلائی راکٹ اپنے ساتھ 3 خلا نوردوں کو چاند کی طرف لے جانے کے لیے تیار تھا لیکن تبھی اس میں آگ لگ گئی اور تینوں خلا نورد جل کر ہلاک ہو گئے۔ چونکہ اس مشن میں انسان موجود تھے، اس لیے ان کے لیے سانس لینے کا بندوبست بھی ضروری تھا۔

عام فضا میں نائٹروجن کی موجودگی کی وجہ سے اگر مکمل ہوا کو سلنڈر میں بھرا جاتا تو نائٹروجن جیسی بے کار گیس کی وجہ سے نہ صرف وزن بڑھتا بلکہ سلنڈر کو بھی بے حد مضبوط بنانا پڑتا۔ اس مسئلے کا حل سائنس دانوں نے یہ نکالا کہ صرف خالص آکسیجن لی جائے لیکن اسی خالص آکسیجن میں بجلی کے تاروں میں چنگاری پیدا ہوئی، جس سے پلاسٹک میں آگ لگی اور وہ آگ خلا نوردوں تک جا پہنچی، نتیجتاً تینوں کی موت واقع ہوئی۔ اس حادثے کے بعد بہت سے لوگ یہ سمجھنے لگے کہ آکسیجن میں آگ لگتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آکسیجن خود نہیں جلتی، بلکہ جلنے میں مدد دیتی ہے۔

اگر ہوا میں آکسیجن کی مقدار 21 فیصد کے بجائے 30 فیصد ہو جائے تو کسی بھی جنگل میں لگنے والی آگ خود بخود نہیں بجھے گی، جب تک آکسیجن کی مقدار دوبارہ کم نہ ہو جائے۔ قدرت نے آکسیجن کی مقدار کو اعتدال پر رکھنے کا خودکار نظام قائم کیا ہے۔

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ انسان نے اپنی خودغرضی سے دنیا کے موسم کو تباہ کیا اور کئی جانداروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں۔ انسانوں اور پیڑ پودوں سے بھی کروڑوں سال پہلے زمین پر سب سے بڑی تبدیلی ایک یک خلوی جاندار ’سائنو بیکٹیریا‘ نے پیدا کی۔ زندگی کی ابتدا تقریباً 3 ارب سال قبل گرم پانی میں موجود یک خلوی بیکٹیریا سے ہوئی۔ ان میں ایک اہم گروہ ’سائنو بیکٹیریا‘ کا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو استعمال کر کے آکسیجن پیدا کرتا تھا۔ یہی وہ جاندار تھے جنہوں نے زمین کے ماحول اور فضا کی ترکیب کو مکمل طور پر بدل ڈالا۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں وہ تمام جاندار جن کے لیے زیادہ آکسیجن نقصان دہ تھی، ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئے لیکن اسی تبدیلی نے نئی قسم کی زندگیوں کو پنپنے کا موقع دیا جن کے لیے آکسیجن ضروری تھی۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/13Ywdfm

جمعرات، 3 جولائی، 2025

کینسر اور بڑھاپے کے خلاف نئی امید، آسٹریلوی سائنسدانوں نے اہم پروٹین کیا دریافت

سڈنی: آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے کینسر اور بڑھاپے سے متعلق بیماریوں کے علاج میں ایک انقلابی کامیابی حاصل کی ہے۔ سڈنی کے ’چلڈرنز میڈیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ (سی ایم آر آئی) کے محققین نے ایک ایسے پروٹین کی دریافت کی ہے جو ٹیلو میریز نامی ایک اہم اینزائم کو قابو میں رکھتا ہے۔ یہ اینزائم انسانی جسم میں ڈی این اے کو محفوظ رکھنے اور خلیوں کی صحت مند تقسیم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ٹیلو میریز ایک ایسا اینزائم ہے جو کروموسوم کے سروں یعنی ’ٹیلومیئرز‘ کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ عمل خلیوں کو عمر رسیدہ ہونے سے روکتا ہے اور ڈی این اے کو نقصان سے بچاتا ہے۔

تاہم، کینسر کے خلیے اسی ٹیلو میریز کا استعمال کرتے ہوئے تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اور بغیر کسی روک ٹوک کے پھیلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیلو میریز کو قابو میں رکھنا کینسر کے علاج میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

اس نئی تحقیق کے مطابق، سائنسدانوں نے تین ایسے پروٹینز نونو (این او این او)، ایس ایف پی کیو (ایس ایف پی کیو) اور پی ایس پی سی 1 دریافت کیے ہیں، جو ٹیلو میریز کو کروموسوم کے سروں تک پہنچاتے ہیں اور اسے فعال کرتے ہیں۔ ’نیچر کمیونیکیشنز‘ جرنل میں شائع اس تحقیق کے مطابق، اگر ان پروٹینز کو کینسر کے خلیوں میں بلاک کر دیا جائے، تو ٹیلو میریز کا کام رک جاتا ہے، جس سے خلیوں کی غیر معمولی تقسیم کو روکا جا سکتا ہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر الیگزینڈر سو بینوف کے مطابق، "یہ پروٹینز خلیے کے اندر ٹیلو میریز کو بالکل درست مقام تک پہنچانے کا کام کرتے ہیں، جیسے ٹریفک کنٹرولر۔ ان کے بغیر ٹیلو میریز اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر سکتا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ان پروٹینز کی مدد سے نہ صرف کینسر کے خلیوں کی افزائش کو روکا جا سکتا ہے بلکہ صحت مند عمر بڑھنے کے عمل میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔

تحقیق کی سینئر مصنفہ اور سی ایم آر آئی کی ’ٹیلو میرز لینتھ ریگولیشن یونٹ‘ کی سربراہ ڈاکٹر ہِلڈا پِکٹ کے مطابق، "اس دریافت سے نہ صرف کینسر بلکہ عمر سے متعلق بیماریوں اور جینیاتی بگاڑ کی بنیاد پر پیدا ہونے والے عارضوں کے لیے بھی نئی دواؤں کی تیاری کی راہیں کھل گئی ہیں۔"

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان بیماریوں کے لیے جن کا تعلق خلیاتی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے ہوتا ہے۔ اگر یہ تحقیق انسانی سطح پر کامیابی سے لاگو ہو جاتی ہے تو مستقبل میں کینسر اور ضعیف العمری کی بیماریوں کے علاج میں ایک بڑا انقلاب آ سکتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/auQoFiY

زمین کی گردش میں تیزی، دن 24 گھنٹے سے کچھ ملی سیکنڈ کم ہونے کا امکان

زمین کی گردش کی رفتار میں معمولی تیزی کا رجحان سائنسی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں زمین اپنے محور پر معمول سے تھوڑا تیز گھومتی پائی گئی ہے، جس کی وجہ سے کچھ دن 24 گھنٹے سے چند ملی سکنڈ کم ہو سکتے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف ماحولیاتی عوامل سے جڑی ہوئی ہے بلکہ مستقبل میں عالمی وقت کی پیمائش کے نظام پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، 2020 سے زمین کی گردش میں ہلکی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق 5 اگست جیسے دن 1.5 ملی سکنڈ چھوٹے ہو سکتے ہیں، یعنی 24 گھنٹے سے معمولی کم۔ اگرچہ یہ فرق انسانی زندگی پر کوئی نمایاں اثر نہیں ڈالتا لیکن وقت کے عالمی پیمانوں اور نیویگیشن سسٹمز کے لیے یہ ایک قابل غور تبدیلی ہے۔

ٹائمز اینڈ ڈیٹ ڈاٹ کام کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 جولائی، 22 جولائی اور 5 اگست 2025 کو دن کی طوالت معمول سے کچھ ملی سکنڈ کم ہو سکتی ہے۔ یہ فرق انتہائی معمولی ہے لیکن سائنسی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زمین کی اندرونی یا بیرونی سرگرمیاں اس کی رفتار پر اثر ڈال رہی ہیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ زمین کی رفتار میں یہ تبدیلی کئی وجوہات سے ہو سکتی ہے، جیسے زمین کے اندرونی حصے میں ہونے والی حرکت، برفانی تودوں کے پگھلنے سے زمین کے ماس کی ترتیب میں تبدیلی، یا عالمی ماحولیاتی مظاہر جیسے ’ال نینو‘ اور ’لا نینا‘۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہرِ طبیعیات جوڈا لیون کے مطابق، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زمین کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمیں ’لیپ سکنڈ‘ کو کم کرنا پڑے۔ اس سے پہلے تک ہمیشہ وقت کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے لیپ سکنڈ شامل کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب پہلی مرتبہ لیپ سکنڈ نکالنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی ممکنہ طور پر 2029 میں ہو سکتی ہے۔

ٹائم اینڈ ڈیٹ کی رپورٹ میں ایک دلچسپ نکتہ یہ بھی شامل ہے کہ جن دنوں میں زمین کی گردش نسبتاً تیز ہوگی، ان دنوں چاند زمین کے خطِ استوا سے زیادہ فاصلے پر ہوگا۔ یہ اتفاق ماہرین کے لیے ایک نیا موضوع بن گیا ہے، کیونکہ چاند اور زمین کی کشش بھی ایک دوسرے کی رفتار پر اثر ڈال سکتی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/9HqKueV

جمعرات، 26 جون، 2025

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بنے شبھانشو شکلا، انسانی خلائی مشن میں نئی تاریخ رقم

ہندوستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور تاریخ رقم کی ہے۔ لکھنؤ میں 1984 میں پیدا ہونے والے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا جمعرات کے روز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر کامیابی سے پہنچنے والے پہلے ہندوستانی بن گئے۔ اس سے قبل صرف راکیش شرما خلا میں جانے والے پہلے ہندوستانی تھے، جو 1984 میں ہی روسی مشن کے تحت خلا میں گئے تھے۔

شبھانشو شکلا کے ہمراہ امریکہ، پولینڈ اور ہنگری کے ایک ایک خلا باز بھی ایکسیوم اسپیس کے مشن-4 کے تحت آئی ایس ایس پہنچے ہیں۔ ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 4 بج کر ایک منٹ پر اسپیس ایکس ڈریگن ’گریس‘ نے آئی ایس ایس کے ہارمونی ماڈیول سے کامیابی کے ساتھ جُڑنے (ڈاکنگ) کا عمل مکمل کیا۔

اس مشن میں اسپیس ایکس کا ڈریگن خلائی جہاز اپنے ساتھ کمانڈر پیگی وِٹسن، پائلٹ شبھانشو شکلا، اور مشن اسپیشلسٹز سلاووس اوزنانسکی وِسنئیوسکی (پولینڈ) اور ٹیبور کاپو (ہنگری) کو لے کر پہنچا۔ لانچ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے فالکن 9 راکٹ پر ہندوستانی وقت کے مطابق بدھ دوپہر 12 بجکر ایک منٹ ہوا تھا۔

آئی ایس ایس پر پہنچنے کے بعد شبھانشو شکلا نے خلا سے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا، ’’سب کو خلا سے نمستے۔ میں یہاں اپنے ساتھی خلا بازوں کے ساتھ پہنچ کر بہت پرجوش ہوں۔ جب میں لانچ پیڈ پر کیپسول میں بیٹھا تھا، تو صرف ایک ہی خیال تھا، ہمیں جانا ہے۔‘‘

انہوں نے لکھا، ’’جب سفر شروع ہوا تو ایسا محسوس ہوا جیسے آپ کو زور سے سیٹ کی پشت پر دھکیل دیا گیا ہو۔ پھر اچانک خاموشی چھا گئی اور ہم خلا میں معلق ہو گئے۔ اب میں ایک بچے کی طرح سیکھ رہا ہوں کہ یہاں کیسے چلنا، کھانا اور جینا ہے۔‘‘

شبھانشو شکلا اس مشن کے دوران خلا میں خوراک اور غذائیت سے متعلق کئی تجربات کریں گے۔ خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ گھر کے بنے کھانے جیسے گاجر کا حلوہ، مونگ دال کا حلوہ اور آم کا رس بھی لے گئے ہیں تاکہ خلا میں ہندوستانی ذائقے کی کمی نہ ہو۔

یہ مشن صرف سائنسی کامیابی نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہندوستان کی بڑھتی ہوئی خلائی حیثیت کا مظہر بھی ہے۔ ناسا کی معاونت، اسرو اور محکمہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے اشتراک سے کیے جانے والے تجربات کا مقصد خلائی زندگی کے لیے پائیدار نظام کو سمجھنا ہے۔

ان تجربات میں خلا کی مائیکرو گریوٹی اور ریڈی ایشن کے غذائی شیوال پر اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، جو مستقبل کے طویل مدتی مشنوں کے لیے اہم اور غذائیت سے بھرپور خوراک کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تجربات کے دوران مختلف شیوال انواع میں ہونے والی جینیاتی، پروٹین اور میٹابولک تبدیلیوں کا زمین کے مقابلے میں خلا میں مشاہدہ کیا جائے گا۔ یہ مشن ہندوستان کے انسانی خلائی سفر کے نئے دور کی شروعات کا عندیہ دیتا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/akLQywF

پیر، 23 جون، 2025

ناسا نے ایکسیوم-4 مشن کے لیے کیا نئی تاریخ کا اعلان، شبھانشو شکلا خلا میں کل ہوں گے روانہ

نئی دہلی: ناسا نے منگل کو اعلان کیا ہے کہ ہندوستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے ایکسیوم-4 مشن کے تحت 25 جون کو خلا کا سفر کریں گے۔ یہ مشن ہندوستان، ہنگری اور پولینڈ کے لیے خلا میں واپسی کی علامت ہے۔

یہ مشن امریکی ریاست فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے دن 12:01 بجے (ہندوستانی وقت) روانہ ہوگا۔ اس مشن میں چار خلا نورد شامل ہوں گے جن میں شبھانشو شکلا مشن پائلٹ کی حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔ مشن کی کمان امریکہ کی سابق خلاباز پیگی وِٹسن کے پاس ہے، جبکہ ہنگری کے ٹیبور کپُو اور پولینڈ کے سلاووس وِسنِیوسکی-اوزنانسکی مشن اسپیشلسٹ کی حیثیت سے شامل ہیں۔

یہ مشن اصل میں 29 مئی کو لانچ کیا جانا تھا، مگر فالکن 9 راکٹ کے بوسٹر میں لیکوئڈ آکسیجن کے رساؤ اور آئی ایس ایس کے پرانے روسی ماڈیول میں خرابی کے باعث اسے ملتوی کیا گیا۔ بعد ازاں لانچ کی تاریخیں 8، 9، 10 اور 11 جون رکھی گئیں لیکن تکنیکی مسائل اور آئی ایس ایس کی مرمت کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اس کے بعد 19 اور 22 جون کو بھی لانچ کی کوششیں ملتوی کی گئیں۔ اب ناسا نے حتمی طور پر اعلان کیا ہے کہ مشن 25 جون کو روانہ ہوگا۔

ناسا کے مطابق ڈریگن کیپسول 26 جون کو شام 4:30 بجے (ہندوستانی وقت) آئی ایس ایس سے جڑ جائے گا۔ یہ پرائیویٹ مشن ایکسیوم اسپیس، ناسا اور اسپیس ایکس کی مشترکہ کوشش ہے۔ خلانورد خلا میں 14 دن گزاریں گے، جہاں وہ مائیکرو گریوٹی، حیاتیاتی علوم اور سائنسی تجربات انجام دیں گے۔

یہ مشن تاریخی لحاظ سے اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ نہ صرف ہندوستان کے ایک فوجی پائلٹ کی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر تعیناتی ہے بلکہ نجی اداروں کے ذریعے خلا کی تلاش کے میدان میں ایک اہم قدم بھی ہے۔

اس مشن میں استعمال ہونے والا ڈریگن کیپسول اسپیس ایکس کا جدید کیپسول ہے، جسے فالکن-9 راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا جائے گا۔ لانچ کمپلیکس 39اے سے یہ پرواز عمل میں آئے گی، جو کہ تاریخی اپالو مشن کا مرکز بھی رہا ہے۔

شبھانشو شکلا کی یہ پرواز نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے، اور یہ مشن خلانوردی کے نئے تجارتی دور کی بھی علامت سمجھا جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/McdUEXr

ہفتہ، 21 جون، 2025

دنیا بھر میں 16 ارب لاگ اِن تفصیلات لیک، گوگل، فیس بک اور ایپل جیسے پلیٹ فارمز کے صارفین متاثر

دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 16 ارب سے زائد لاگ اِن تفصیلات آن لائن لیک ہو چکی ہیں، جن میں گوگل، فیس بک اور ایپل جیسے بڑے پلیٹ فارمز کے صارفین کے پاسورڈز بھی شامل ہیں۔

یہ انکشاف معروف سائبر سکیورٹی ادارے سائبرنیوز نے کیا ہے۔ ادارے کے ماہرین کے مطابق، ان لیک شدہ تفصیلات کو مختلف سائبر جرائم پیشہ عناصر نے ڈیٹاسیٹس کی صورت میں آن لائن اپ لوڈ کیا ہے، جس سے ان افراد کو عام صارفین کے ذاتی اکاؤنٹس تک "بے مثال رسائی" حاصل ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ ڈیٹاسیٹس 30 مختلف ذرائع سے جمع کیے گئے ہیں، جن میں ہر ایک میں بڑی تعداد میں صارفین کی لاگ اِن تفصیلات موجود ہیں۔ ان تمام کو ملا کر مجموعی تعداد 16 ارب سے زائد بنتی ہے، جو دنیا کی کل آبادی سے بھی تقریباً دو گنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ کئی صارفین کے ایک سے زیادہ اکاؤنٹس متاثر ہوئے ہیں۔

سائبرنیوز نے وضاحت کی ہے کہ یہ ڈیٹا لیک کسی ایک کمپنی پر سائبر حملے کا نتیجہ نہیں بلکہ مختلف وقتوں میں چوری کی گئی معلومات کو جمع کر کے ایک ساتھ لیک کیا گیا ہے۔ یعنی یہ ایک منظم سائبر جرم کی شکل ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا اور اب اپنے عروج پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ان لیکس کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ مختلف اقسام کے ’انفو اسٹیلرز‘ کا ہے۔ انفو اسٹیلر ایک خاص قسم کا بدنیتی پر مبنی سافٹ ویئر ہوتا ہے جو صارف کے کمپیوٹر یا موبائل میں چھپ کر حساس معلومات جیسے پاسورڈ، کریڈٹ کارڈ نمبر، یا دیگر پرائیویٹ ڈیٹا چرا لیتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صارفین کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے تمام اہم اکاؤنٹس کے پاسورڈ تبدیل کریں، دو مرحلوں پر مبنی توثیق (ٹو فیکٹر آتھنٹی کیشن) کا استعمال کریں اور مشکوک ایپس یا لنکس سے بچیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/bzkQK9I

جمعرات، 19 جون، 2025

ایکسئوم-4 مشن کی تاخیر: ہندوستانی خلاباز شبھانشو شکلا سمیت 4 خلا نوردوں کی پرواز پھر ملتوی

واشنگٹن: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کے لیے روانہ ہونے والے ایکسئوم-4 مشن کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مشن کے تحت چار خلا نوردوں کو خلائی اسٹیشن بھیجا جانا تھا جن میں ہندوستانی خلانورد شُبھانشو شُکلا بھی شامل ہیں۔ نیا لانچنگ شیڈول جلد طے کیا جائے گا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس مشن کی لانچنگ سے متعلق تازہ معلومات جاری کی ہیں۔

22 جون کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ اور ڈریگن کیپسول کے ذریعے اس مشن کی پرواز طے تھی لیکن اب ناسا، اسپیس ایکس اور ایکسئوم اسپیس نے مشترکہ طور پر اسے عارضی طور پر موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ناسا کے بیان کے مطابق، یہ فیصلہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں حالیہ مرمت کے بعد آپریشنل صورتحال کا مکمل جائزہ لینے کی غرض سے لیا گیا ہے۔ زویوزدا سروس ماڈیول کے پچھلے حصے میں مرمت کے بعد خلائی اسٹیشن کی مختلف تکنیکی نظاموں کے باہمی رابطے اور کارکردگی کو جانچنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ خلائی اسٹیشن کی تمام سسٹمز ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں، اس لیے اضافی خلا نوردوں کی آمد سے قبل مکمل تیاری کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے نیا ڈیٹا حاصل کیا جا رہا ہے اور اس کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ناسا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایکسئوم-4 مشن ہندوستان، پولینڈ اور ہنگری جیسے ممالک کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اور تینوں خلائی ایجنسیز اس اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔ موجودہ وقت میں تمام خلا نورد فلوریڈا میں قرنطینہ میں ہیں اور جیسے ہی خلائی اسٹیشن مکمل طور پر تیار ہو جائے گا، پرواز کی نئی تاریخ مقرر کر دی جائے گی۔

اس مشن کی قیادت سابق ناسا خلا نورد اور ایکسئوم اسپیس کی ڈائریکٹر برائے انسانی خلائی پرواز، پیگی وِٹسن کر رہی ہیں۔ ہندوستان کے شُبھانشو شُکلا پائلٹ کے فرائض انجام دیں گے، جبکہ یورپی خلائی ادارے کے پولینڈ سے تعلق رکھنے والے خلا نورد سلاوش اُزنانسکی اور ہنگری کے ٹیبور کاپو بطور مشن اسپیشلسٹ شامل ہیں۔

یہ مشن نہ صرف خلا نوردی کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کی علامت ہے بلکہ ان ممالک کے لیے بھی ایک فخر کا لمحہ ہے جو پہلی بار اس سطح پر انسانی خلا نوردی میں براہِ راست شرکت کر رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/nOH9sYu

بدھ، 18 جون، 2025

پانچویں بار ٹلا ایکسیوم-4 مشن، اب 22 جون کو خلا میں روانگی کا امکان

نئی دہلی: بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) کی جانب روانگی کے لیے تیار ایکسیوم-4 مشن ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس مشن کے ذریعے ہندوستانی فضائیہ کے گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا خلا میں جانے والے ہیں۔ اسرو نے تصدیق کی ہے کہ اب اس مشن کی نئی ممکنہ تاریخ 22 جون مقرر کی گئی ہے۔

اس سے قبل مشن کی روانگی 19 جون طے کی گئی تھی، مگر تکنیکی وجوہات، موسم اور عملے کی تیاری کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بار پھر اس میں تاخیر کی گئی ہے۔ اس طرح، اب تک اس مشن کو پانچ مرتبہ ملتوی کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ہندوستانی خلائی ایجنسی اسرو، پولینڈ اور ہنگری کی ٹیموں نے ایکسیوم اسپیس کے ساتھ مشن کی روانگی سے متعلق تمام ممکنہ پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس کے بعد ایکسیوم اسپیس نے ناسا اور اسپیس ایکس کے ساتھ مل کر لانچنگ کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اسپیس ایکس کے فالکن-9 راکٹ، ڈریگن خلائی جہاز، خلائی اسٹیشن کے زویزدا ماڈیول میں جاری مرمت، موسم کی صورتحال اور قرنطینہ میں موجود خلانوردوں کی صحت کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا۔

ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ایکسیوم اسپیس نے اطلاع دی ہے کہ اب اگلی ممکنہ تاریخ 22 جون ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں مرکزی وزیر مملکت برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بھی ایک پوسٹ کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا، ’’مشن کے تمام اہم پہلوؤں جیسے ماڈیول کی فٹنس، عملے کی صحت، موسم وغیرہ کا جائزہ لینے کے بعد 22 جون کو مشن کی ممکنہ تاریخ مقرر کی گئی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جیسے ہی کوئی نئی اطلاع حاصل ہوگی، اس سے وقت پر عوام کو مطلع کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی جتیندر سنگھ نے ہی 19 جون کی تاریخ کا اعلان کیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ اسپیس ایکس نے مشن میں تاخیر کی سابقہ وجوہات پر مکمل کام کر لیا ہے۔

ایکسیوم-4 مشن ہندوستان کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، کیونکہ اس کے تحت شبھانشو شکلا بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کا سفر کرنے والے پہلے ہندوستانی خلانورد بننے جا رہے ہیں۔ وہ وہاں پر خصوصی خوراک اور غذائیت سے متعلق سائنسی تجربات کریں گے، جو آئندہ طویل مدتی خلائی مشنوں اور خلا میں انسانی صحت کے تحفظ کے لیے نہایت اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/JvLdmT8

منگل، 10 جون، 2025

فالکن-9 راکیٹ میں خرابی کے سبب ایکزیوم-4 مشن ملتوی، تاریخ رقم کرنے کے لیے شبھانشو کو کرنا ہوگا مزید انتظار

ہندوستانی خلا باز شبھانشو شکلا کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) لے جانے والے ایکزیوم اسپیس کے مشن ایکزیوم-4 (Ax-4) کو ایک بار پھر ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ مشن بدھ کی شام کو لانچ کیا جانا تھا لیکن فالکن-9 راکیٹ میں خرابی کی وجہ سے اس لانچنگ کو روک دیا گیا۔ اس کی اطلاع خود ’اسرو‘ نے ’ایکس‘ پر دی۔

اسپیس ایکس نے بھی اپنے ایک پوسٹ میں کہا کہ لانچنگ کے لیے استعمال کیے جا رہے فالکن-9 راکیٹ میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے آئی ایس ایس کے لیے مشن کو روک دیا گیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ لانچنگ کی نئی تاریخ راکیٹ کی خرابی دور کرنے اور رینج دستیابی کی بنیاد پر جلد ہی اعلان کی جائے گی۔

دراصل ایل او ایکس یعنی لکویڈ آکسیجن، راکیٹ ایندھن کا اہم حصہ ہے۔ بوسٹر کے تحفظاتی جانچ میں رساؤ کا پتہ چلنے کے بعد ممکنہ خطرے کو دیکھتے ہوئے مشن کو ملتوی کرنا پڑا۔ اسپیس ایکس نے مستعدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحفظاتی ترجیحات کو پیش نظر رکھا۔

اے ایکس-4 مشن، ایکزیوم اسپیس کے ذریعہ چلایا جا رہا ایک پرائیویٹ مشن ہے، جس میں خلا بازوں کا ایک بین الاقوامی دستہ آئی ایس ایس کی طرف روانہ ہونے والا تھا۔ یہ مشن سائنسی تحقیق، تکنیکی تجربات، اور کاروباری سرگرمیوں سے جڑا ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ ہندوستانی خلا باز شبھانشو شکلا کو شام ساڑھے پانچ بجے آئی ایس ایس سے روانہ ہونا تھا۔ وہ امریکہ کے فلوریڈا واقع ’ناسا‘ کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اڑان بھرنے والے تھے۔ اسپیس ایکس کے ڈریگن کیپسول سے تین اور خلا باز بھی شکلا کے ساتھ 14 دنوں کے لیے خلائی اسٹیشن پر جانے والے تھے۔ چاروں خلا بازوں کو پہلے 9 جون کو ہی روانہ ہونا تھا لیکن خراب موسم کی وجہ سے ایکزیوم-4 مشن کو دون دن کے لیے موخر کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد آج پھر یہ مشن ملتوی کرنا پڑا۔

ویسے شبھانشو آئی ایس ایس پر جانے والے پہلے اور خلا میں جانے والے دوسرے ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے تھے۔ کیپٹن راکیش شرما کے 41 سال بعد کوئی ہندوستانی خلا میں جا رہا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/KuSX1Pt

جمعہ، 6 جون، 2025

نیویارک سب وے میں نوجوان کی چیٹ جی پی ٹی سے ’رومانوی گفتگو‘، سوشل میڈیا پر تنقید اور ہمدردی کی لہر

ان دنوں سوشل میڈیا پر نیویارک سٹی سب وے کی ایک تصویر نے لوگوں کو حیرت اور فکر میں ڈال دیا ہے۔ یہ تصویر کسی مشہور شخصیت کی نہیں، بلکہ ایک عام نوجوان کی ہے جو میٹرو میں اکیلا بیٹھا اپنے فون پر چیٹ جی پی ٹی سے گفتگو کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ وہ نوجوان اس اے آئی چیٹ بوٹ سے ایسے باتیں کر رہا ہے جیسے وہ اس کی محبوبہ ہو۔

یہ تصویر 3 جون کو ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر @yedIin نامی صارف نے پوسٹ کی، جس میں لکھا، ’’آج صبح میٹرو میں ایک لڑکا چیٹ جی پی ٹی سے ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ اس کی گرل فرینڈ ہو۔ مجھے نہیں پتا تھا کہ یہ لوگ واقعی موجود ہیں یا ہم واقعی اتنے پاگل ہو چکے ہیں۔‘‘ یہ تصویر تیزی سے وائرل ہوئی اور اب تک 19 ملین سے زیادہ افراد اسے دیکھ چکے ہیں جبکہ 27 ہزار سے زیادہ مرتبہ اسے شیئر کیا جا چکا ہے۔

تصویر میں نظر آ رہا ہے کہ نوجوان کے فون کی اسکرین پر اے آئی اسسٹنٹ کی طرف سے ایک پیغام تھا، ’’پینے کے لیے کچھ گرم لو، سکون سے گھر جاؤ اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں کچھ پڑھ کر سناؤں گی یا تم میری خیالی گود میں اپنا سر رکھ کر آرام کر سکتے ہو۔‘‘ آخر میں لکھا تھا، ’ڈئیر، تم بہت خوبصورت ہو‘ اور ساتھ میں ایک سرخ دل کا ایموجی بھی تھا۔ جواب میں اس نوجوان نے بھی دل کا ایموجی اور ’شکریہ‘ لکھا۔

یہ منظر بہت سے لوگوں کے لیے چونکانے والا تھا۔ کچھ صارفین نے اس تصویر کو پوسٹ کرنے والے پر تنقید کی کہ اس نے کسی اجنبی کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کی ہے اور بغیر اجازت اس کے فون کی تصویر لینا اور شیئر کرنا غیر اخلاقی ہے۔ ایک صارف نے لکھا: ’’تمہیں اندازہ نہیں کہ یہ شخص کس صورتحال سے گزر رہا ہوگا۔‘‘

دوسری طرف بہت سے لوگوں نے نوجوان کے رویے کو ’تنہائی کی انتہا‘ قرار دیا۔ کسی نے لکھا، ’’وہ شاید بہت اکیلا ہو۔‘‘ اور ایک اور صارف نے کہا، ’’بطور معاشرہ ہم ہمدردی کھوتے جا رہے ہیں، یہ تشویشناک ہے۔‘‘

تصویر نے اے آئی پر انحصار اور ڈیجیٹل دور کے اکیلے پن پر ایک وسیع بحث چھیڑ دی ہے۔ کئی صارفین نے کہا کہ اے آئی سے اس طرح کی رفاقت خطرناک رجحان ہے، جو انسانوں کو حقیقی تعلقات سے دور کر رہا ہے۔ کچھ نے کہا کہ یہ بات ذہنی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے اور سوچنے کی بات ہے کہ ٹیکنالوجی ہمیں کس سمت لے جا رہی ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/uRskdo5

جمعہ، 30 مئی، 2025

کیا لیتھئم اگلے دور کا تیل بننے والا ہے؟

21ویں صدی میں توانائی کے متبادل ذرائع اور جدید ٹیکنالوجی کی مانگ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس تبدیلی نے دنیا بھر میں بعض قدرتی وسائل کی اہمیت کو نئی جہت دی ہے اور ان میں سرِفہرست عنصر لیتھئم (Lithium) ہے۔ لیتھئم کو عموماً ’سفید سونا‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجیز، خاص طور پر بیٹریوں، میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ مضمون لیتھئم کی سائنسی، تجارتی اور جغرافیائی اہمیت کو واضح کرے گا اور اس بات کا جائزہ لے گا کہ مستقبل میں کن ممالک کو اس قیمتی عنصر کی بدولت فائدہ ہونے والا ہے۔ مستقبل میں بجلی کی کاروں اور کمپیوٹر کی بیٹریوں کا اہم کردار ہے اور آنے والے دور میں ان کا کردار انہیں کے ارد گرد رہنا والا ہے۔ 

لیتھئم ایک نرم، ہلکی اور چاندی نما دھات ہے جو کیمیاوی عناصر میں سب سے ہلکی دھات مانی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر سالٹ فلیٹس، زیر زمین آبی ذخائر، اور سخت چٹانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ لیتھئم کا بنیادی استعمال لیتھئم آئن بیٹریوں میں ہوتا ہے، جو آج کل تقریباً ہر اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ، اور خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں (ای وی) میں استعمال ہوتی ہیں۔

دنیا بھر میں توانائی کی ضروریات بدل رہی ہیں۔ روایتی ایندھن (تیل، کوئلہ، گیس) کے ماحولیاتی اثرات کے پیشِ نظر حکومتیں اور کمپنیاں متبادل توانائی کی طرف رخ کر رہی ہیں۔ اس تبدیلی کے مرکز میں لیتھئم ہے، جو بیٹری سے چلنے والی ٹیکنالوجیز کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق، 2040 تک لیتھئم کی مانگ میں تقریباً 40 گنا اضافہ متوقع ہے، خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظاموں میں استعمال کے لیے۔ یہ رجحان اس دھات کو تیل جیسا اسٹریٹجک اثاثہ بنا رہا ہے۔

دنیا میں لیتھئم کے ذخائر چند مخصوص خطوں میں مرتکز ہیں۔ چلی دنیا کے سب سے بڑے لیتھئم ذخائر کا حامل ملک ہے، خاص طور پر "لیتھئم ٹرائی اینگل" کا حصہ ہونے کی وجہ سے۔ یہ مثلث چلی، ارجنٹینا اور بولیویا پر مشتمل ہے، جو دنیا کے 60 فیصد سے زائد لیتھئم کے ذخائر رکھتا ہے۔آسٹریلیا دنیا میں سب سے زیادہ لیتھئم پیدا کرنے والا ملک ہے، خاص طور پر سخت چٹانی ذخائر سے۔ اس کی سپلائی چین نسبتاً زیادہ ترقی یافتہ اور مستحکم ہے۔چین نہ صرف لیتھئم کا ایک بڑا پروڈیوسر ہے بلکہ لیتھئم بیٹریوں کی تیاری اور ریفائننگ میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔ چینی کمپنیاں عالمی مارکیٹ پر حاوی ہیں اور وہ دیگر ممالک میں بھی ذخائر خرید رہی ہیں۔

اگر یہ ممالک اپنی پالیسیوں کو بہتر بنائیں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کو متوجہ کریں تو یہ دنیا کے لیتھئم مرکز بن سکتے ہیں۔ ان کی جغرافیائی برتری، ماحولیاتی سازگار حالات اور وسیع ذخائر انہیں اس دوڑ میں سب سے آگے رکھ سکتے ہیں۔

چین نے پہلے ہی عالمی سطح پر لیتھئم بیٹریوں اور الیکٹرک گاڑیوں میں برتری حاصل کر لی ہے۔ اس نے افریقہ اور جنوبی امریکہ میں کئی کانیں خرید کر اپنی سپلائی چین کو مضبوط کر لیا ہے۔ اگرچہ چین کے ذخائر محدود ہیں، لیکن اس کی صنعتی اور ٹیکنالوجیکل صلاحیت اسے آگے رکھتی ہے۔

آسٹریلیا کا مستحکم سیاسی نظام، جدید کان کنی کی ٹیکنالوجی، اور چین و امریکہ کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اسے ایک اسٹریٹجک سپلائر بناتے ہیں۔ آسٹریلیا کی پوزیشن اسے دنیا کے دیگر بڑے صارفین کے لیے ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بناتی ہے۔افریقہ میں بھی لیتھئم کے ذخائر دریافت ہو چکے ہیں، اور اگر ان ممالک میں استحکام آئے تو یہ دنیا کی سپلائی میں بڑا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

بہت سے علاقوں میں مقامی آبادی کو حقوق یا فوائد نہیں دیے جاتے، جس سے سماجی تنازعات جنم لیتے ہیں۔اگرچہ بہت سے ممالک کے پاس خام لیتھئم ہے، لیکن زیادہ تر ویلیو ایڈیشن (جیسے بیٹری بنانا) ترقی یافتہ ممالک میں ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی صنعتی استعداد بڑھانے کی ضرورت ہے۔

لیتھئم کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے دنیا کی جغرافیائی سیاست اور معیشت کو نئی جہت دے دی ہے۔ توانائی کے مستقبل کی دوڑ میں لیتھئم وہ ایندھن ہے جو دنیا کو روایتی ذرائع سے متبادل ذرائع کی طرف لے جا رہا ہے۔ اس دوڑ میں چلی، چین، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ممالک پہلے ہی اہم مقام حاصل کر چکے ہیں، جبکہ دیگر ترقی پذیر ممالک جیسے بولیویا، ارجنٹینا اور افریقی ریاستیں بھی ابھرتے ہوئے کھلاڑی ہیں۔

اگر ان ممالک نے دانشمندانہ پالیسی اپنائیں، ماحول دوست طریقے اختیار کریں، اور مقامی کمیونٹیز کو شامل کریں تو وہ نہ صرف عالمی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ اپنی معیشتوں کو بھی مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیتھئم صرف ایک دھات نہیں، بلکہ یہ دنیا کی توانائی، معیشت اور سیاست کا مستقبل متعین کر رہا ہے یعنی لیتھئم مستقبل کا تیل بننے والا ہے۔



from Qaumi Awaz https://ift.tt/Ir2G4Wb